فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰی ۟ؕفَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰىؕ
اسے سختی میں پہنچائیں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
We will ease him toward difficulty.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz
فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰی ۟ؕفَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰىؕ
اسے سختی میں پہنچائیں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
We will ease him toward difficulty.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Lail
اس کو ہم سخت راستے کے لیے سہولت دیں گے
اسے سختی میں پہنچائیں گے
تو ہم بھی اس کی تنگی ومشکل کے سامان میسر کر دیں گے
تو ہم اس کو تکلیف کی منزل تک پہنچنے کی تیاری کرا دیں گے۔
تو بہت جلد ہم اسے دشواری مہیا کردیں گے
تو ہم عنقریب اسے سختی (یعنی عذاب کی طرف بڑھنے) کے لئے سہولت فراہم کر دیں گے (تاکہ وہ تیزی سے مستحقِ عذاب ٹھہرے)،
تو یقینا ہم اسے مشکل راستے کے لیے سہولت دیں گے۔
تو ہم اسے تنگی کی راہ پر چلنے کی سہولت دیں گے
اس کو ہم ڈھیل دیں گے کٹھن منزل کے لیے
تو ہم اس کو آسانی مہیا کردیں گے اس بڑے سخت راستے کی
سو ہم اس کے لئے مصیبت کی چیز آسان کردیں گے۔
تو اس کو ہم رفتہ رفتہ مشکل منزل (جہنم) تک پہنچا دیں گے۔
اسے سختی میں پہنچائیں گے
We shall facilitate for him the way to Hardship,
We will facilitate for him the way to extreme distress.
We will facilitate for him the way to extreme distress.
We will make smooth for him the path to evil.
Surely We will ease his way unto adversity.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
We will ease him toward difficulty.
We shall facilitate the path to affliction
We will facilitate for him the difficult end.
Unto him therefore We shall Indeed make easy the path to hardship.
We will indeed make smooth for him the path to Misery;
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–11
نیکی کے لیے قصد ضروری ہے : مسند احمد میں ہے حضرت علقمہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جاکر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو حضرت ابو الدرداء سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو حضرت علقمہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے ؟ میں نے کہا والذکر والانثٰی پڑھتے تھے، حضرت ابو الدرداء فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں حضور ﷺ کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو…
Read the full tafseer →سورة الَّیْل 5 اس راستے کو سخت اس لیے کہا گیا ہے کہ اس پر چلنے والا اگرچہ مادی فائدوں اور دنیوی لذتوں اور ظاہری کامیابیوں کے لالچ میں اس کی طرف جاتا ہے، لیکن اس میں ہر وقت اپنی فطرت سے، اپنے ضمیر سے، خالق کائنات کے بنائے ہوئے قوانین سے، اور اپنے گرد و پیش کے معاشرے سے اس کی جنگ برپا رہتی ہے۔ صداقت، امانت، شرافت اور عفت و عصمت کی اخلاقی حدوں کو توڑ کر جب وہ ہر طریقے سے اپنی اغراض اور خواہشات کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے، جب اس کی ذات سے خلق خدا کو بھلائی کے بجائے برائی ہی پہنچتی ہے، اور جب وہ دوسروں کے حقوق اور ان کی عزتوں پر دست درازیاں کرتا ہے، تو اپنی نگاہ میں وہ خود ذلیل و خوار ہوتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
خلاصہ تفسیر قسم ہے رات کی جبکہ وہ آفتاب کو اور دن کو) چھپالے، اور (قسم ہے) دن کی جبکہ وہ روشن ہوجاوے (اور قسم ہے) اس (ذات) کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا (مراد اللہ تعالیٰ ہے آگے جواب قسم ہے) کہ بیشک تمہاری کوششیں (یعنی اعمال) مختلف ہیں (اور اسی طرح ان کے ثمرات بھی مختلف ہیں) سو جس نے (اللہ کی راہ میں مال) دیا اور اللہ سے ڈرا اور اچھی بات (یعنی ملت اسلام) کو سچا سمجھا تو ہم اس کو راحت کی چیز کے لئے سامان دیدیں گے (راحت کی چیز سے نیک عمل اور بواسطہ نیک عمل کے جنت مراد ہے کہ یسر کا سبب اور محل ہے اسی لئے یسریٰ کہہ دیا گیا ورنہ یسریٰ کے معنی ہیں آسان چیز) اور جس نے (حقوق واجبہ سے) بخل کیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
مقابل گروہ کے انجام کا بیان: یہ مقابل گروہ یعنی ان لوگوں کا بیان ہے جو اسی دنیا کی زندگی کو کل زندگی سمجھتے ہیں۔ جو اپنے مال پر مارگنج بن کر بیٹھے اور آخرت سے بالکل نچنت ہیں، جو نہ کسی جزا و انعام کے قائل اور نہ اس کے لیے کوئی بازی کھیلنے کا حوصلہ رکھتے۔ فرمایا کہ ان کا حشر مذکورہ بالا گروہ سے بالکل مختلف ہو گا۔ ان کو اللہ تعالیٰ اس راہ پر چلنے کے لیے ڈھیل دے دے گا جو ان کو نہایت کٹھن منزل پر لے جا چھوڑے گی۔ یہاں بھی’عُسْرٰی‘ کا موصوف محذوف ہے اور ’تیسیر‘ امہال یعنی ڈھیل دینے کے مفہوم میں ہے۔ قرآن میں یہ سنت الٰہی جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ جو لوگ نیکی کی راہ اختیار کرنے کا حوصلہ نہیں کرتے اللہ…
Read the full tafseer →10۔ 1 تنگی سے مراد کفر و معصیت اور طریق شر ہے، یعنی ہم اس کے لیے نافرمانی کا راستہ آسان کردیں گے، جس سے اس کے لیے خیر وسعادت کے راستے مشکل ہوجائیں گے، قرآن مجید میں یہ مضمون کئی جگہ بیان کیا گیا ہے کہ جو خیر و رشد کا راستہ اپناتا ہے اس کے صلے میں اللہ اسے خیر و توفیق سے نوازتا ہے اور جو شر و معصیت کو اختیار کرتا ہے اللہ اس کو اس کے حال پر چھوڑتا ہے یہ اس کی تقدیر کے مطابق ہوتا ہے جو اللہ نے اپنے علم سے لکھ رکھی ہے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
4: تکلیف کی منزل سے مراد دوزخ ہے، کیونکہ حقیقی تکلیف وہیں کی ہے، اور تیاری کرانے سے مراد یہ ہے کہ وہ جس جس گناہ میں مبتلا ہونا چاہے گا، اسے مبتلا ہونے دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے نیکی کی توفیق نہیں ہوگی، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس ہولناک وعید سے محفوظ رکھیں۔ آمین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ان علینا .................................... یرضی اللہ نے محض اپنے فضل وکرم کی وجہ سے اپنے اوپر یہ بات فرض کردی کہ لوگوں کی اس فطرت کے سامنے اور لوگوں کو دی ہوئی قوت مدرکہ کے سامنے ہدایت کا راستہ واضح طور پر بیان فرمادیں۔ اسی طرح تمام رسولوں کا بھی یہ فرض قرار دیا گیا کہ وہ دعوت اسلامی کی تشریح کریں اور تمام دعوتی تحریکات اور تمام کتب سماوی اور معجزات بھی اس غرض کے لئے لائے گئے تاکہ کسی کے پاس کوئی بہانہ نہ رہے اور نہ کسی کے اوپر کوئی ظلم ہو۔ ان علینا للھدی (12:92) ” بیشک راستہ بتانا ہماری ذمہ داری ہے “۔ یہ تو تھی پہلی حقیقت۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ یہاں ایک قوت قاہرہ ہے ، جس نے تمام لوگوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
11 یعنی جس نے خدا کی راہ میں خرچ نہ کیا، اس کی خوشنودی اور آخرت کے ثواب کی پروانہ کی اور اسلام کی باتوں اور اللہ کے وعدوں کو جھوٹ جانا، اس کا دل روز بروز تنگ اور سخت ہوتا چلا جائے گا۔ نیکی کی توفیق سلب ہوتی جائے گی اور آخرکار آہستہ آہستہ عذاب الہٰی کی انتہائی سختی میں پہنچ جائے گا۔ یہی اللہ کی عادت ہے کہ سعداء جب نیک عمل اختیار کرتے ہیں اور اشقیاء جب بد عمل کی طرف چلتے ہیں تو دونوں کے لئے وہی راستہ آسان کردیا جاتا ہے جو انہوں نے تقدیر الہٰی کے موافق اپنے ارادہ اور اختیار سے پسند کرلیا ہے۔ (كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ مِنْ عَطَاۗءِ رَبِّكَ ۭ وَمَا كَانَ عَطَاۗءُ رَبِّكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
آیت 10{ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْعُسْرٰی۔ } ”تو اس کو ہم رفتہ رفتہ مشکل منزل جہنم تک پہنچا دیں گے۔“ یہ ہیں انسانی کوشش اور مشقت کے دو رخ۔ گویا پہلی تین شرائط کو اپنانے کا راستہ صدیقین اور شہداء کا راستہ ہے۔ اگر کسی نے کوشش کی لیکن وہ مذکورہ تینوں شرائط کو کماحقہ پورا نہ کرسکا تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی کوشش اور اخلاص کے مطابق ہوگا۔ لیکن جس بدقسمت شخص کی کوشش اور محنت میں ان تینوں اوصاف کا فقدان ہوا اور وہ ان کے مقابلے میں عمر بھر دوسرے راستے بخل ‘ استغناء اور تکذیب پر گامزن رہا ‘ ظاہر ہے اس کا شمار ان بدترین لوگوں کے گروہ میں ہوگا جس کے سرغنہ ابولہب اور ابوجہل ہیں۔ یہاں ضمنی طور پر…
Read the full tafseer →3 ایک نیک بخت اور ایک بدبخت کے اعمال اور نتائج کا تقابل :۔ دوسرے فریق کی صفات اور عادات پہلے فریق سے بالکل مختلف اور متضاد ہیں یعنی وہ اللہ کی راہ میں ہرگز مال خرچ کرنے کو تیار نہیں ہوتا اور اگر خرچ کرتا ہے تو اپنی ہی ذات پر خرچ کرتا ہے یا ایسے کاموں میں خرچ کرتا ہے جن سے اس کی شہرت یا اس کی فیاضی کا چرچا ہو۔ اپنی زندگی ایسے بسر کرتا ہے جیسے اس کا خالق ومالک اس کے سر پر ہے ہی نہیں اور اگر زبانی اقرار کرتا بھی ہے تو اپنی عملی زندگی میں اس کے احکام سے بالکل بےنیاز رہتا ہے اور ہر بھلائی کی بات کو جھٹلا دیتا ہے (بھلائی کی وضاحت سابقہ حاشیہ میں کی جاچکی ہے) ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ جہنم کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
4۔ یعنی ایسے منکر معاند کو دوزخ ہی کا راستہ آسان معلوم ہونے لگے گا۔ (آیت) ’ ’ من بخل “۔ یعنی جس نے (آیت) ” من اعطی “۔ کے مقابلہ میں ادائے حقوق واجب میں بخل سے کام لیا۔ (آیت) ” واستغنی “۔ یعنی جس نے (آیت) ” من اتقی “۔ کے مقابلہ میں اللہ کی طرف سے بےپروائی کی راہ اختیار کی، اور اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا۔ (آیت) ” للعسری “۔ العسری سے مراد دوزخ ہے، جہاں ہر طرح اور ہر طرف سختیاں ہی سختیاں ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
واما من بخل الخ اس میں دوسرے گروہ کے تین اوصاف کا ذکر فرمایا، (1) راہ خدا میں مال خرچ کرنے سے بخل کرنا (2) خدا سے بےنیازی اختیار کرنا اور (3) اچھی بات یعنی کلمہ ایمان کی تکذیب کرنا، مذکورہ دونوں گروہوں میں سے پہلے گروہ کے بارے میں فرمایا فستنیسرہ للیسریٰ ، یسر کے لفظی معین ہیں آرام دہ چیز جس میں مشقت نہ ہو اور مراد اس سے جنت ہے، اسی طرح اس کے مقابل دوسرے گروہ کے متعلق فرمایا فسنیسرہ للعسری، عسر کے معنی ہیں مشکل اور تکلیف دہ چیز مراد اس سے جہنم ہے، اور معنی دونوں جملوں کے یہ ہیں کہ جو لوگ اپنی سعی اور محنت پہلے تین کاموں میں لگاتے ہیں یعنی اللہ کی راہ میں خرچ اور اللہ سے ڈرنا اور ایمان کی…
Read the full tafseer →فسنیسرہ للعسری . ہم اس کو ایسی خصلتوں کی توفیق دیں گے جو اس کو دشواری ‘ شدت اور دوزخ کی طرف لے جائیں گے۔ یعنی ان اعمال کی توفیق دیں گے جو اللہ کو پسند نہیں ہیں۔ مقاتل نے (عسریٰ کی تشریح میں) کہا : بھلائی کے کام کرنا اس کے لیے دشوار ہوجائے گا۔ حضرت علی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی ایسا نہیں کہ اس کی جنت والی اور دوزخ والی جگہ نہ لکھ دی گئی ہو۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! تو پھر کیا اسی تقدیر لکھے پر اعتماد کر کے ہم عمل نہ چھوڑ دیں ؟ فرمایا : کیے جاؤ ‘ توفیق ہر ایک کو اسی کی ملے گی جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہو۔ جو خوش نصیب ہوگا اس کو اہل سعادت کے اعمال کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
(8۔ 11) اور جس نے اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دینے سے بخل کیا یعنی ولید بن مغیرہ اور حضرت ابو سفیان یہ اس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے اور اللہ سے بےپروائی اختیار کی اور وعدہ خداوندی، یا یہ کہ جنت، یا یہ کہ کلمہ اسلام کو جھٹلایا سو ہم اس کو بارہا نافرمانیوں اور امساک عن الصدقة فی سبیل اللہ میں مبتلا کریں گے اور جو مال اس نے دنیا میں جمع کیا ہے جب وہ مرنے لگے گا یا یہ کہ دوزخ میں گرے گا اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
واما من بخل واستغنی …: یعنی جس میں شر کے یہ تین جامع اوصاف ہیں کہ وہ بخل کرتا ہے، اخروی انجام اور حلال و حرام کی پروا ہی نہیں کرتا اور سب سے اچھی بات یعنی اللہ کے ایک ہونے اور اس کی نازل کردہ باتوں کو جھٹلاتا ہے، تو ہم بھی اسے اس کی خواہش کے مطابق اس راستے پر چلنے دیتے ہیں جو مشکلات و مصائب کا راستہ ہے اور جہنم کی طرف لے جانے والا ہے، یعنی اس کے لئے نیکی کرنا مشکل اور گناہ کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
تنگی کو آسانی میں بدلنے کی وضاحت۔ مسئلہ نمبر 2۔ فسنیسرہ للعسری۔ ہم اسے خیر اور اصلاح کے اسباب کی طرف ہدایت دیتے ہیں یہاں تک کہ اس کے لیے ان اسباب کو بجالانا آسان ہوجاتا ہے زید بن اسلم نے کہا، یسری سیمراد جنت ہے۔ صحیحین اور ترمذی میں حضرت علی شیر خدا سے مروی ہے، ہم بقیع میں جنازہ میں تھے نبی کریم تشریف لائے آپ بیٹھے اور ہم بھی آپ کے ساتھ بیٹھ گئے آپ کے پاس ایک لکڑی تھی جس کے ساتھ آپ زمین کو کرید رہے تھے رسول اللہ نے اپنا سر آسمان کی طرف بلند کیا، فرمایا، ہر نفس کے داخل ہونے کی جگہ کو لکھ دیا گیا ہے لوگوں نے عرض کی، یارسول اللہ کیا ہم اپنے کیے پر بھروسہ نہ کریں ؟ جو سعادت مند ہوگا تو وہ سعادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
آیت فسنیسرہ للیسری۔ ہم اس کے لیے خیر کی راہیں آسان کردیں گے۔ آیت وامامن بخل واستغنی اور لیکن جس نے بخل کیا اور بےپرواہ رہا یعنی اپنے مال سے بخل کیا اور اپنے رب سے بےپرواہ رہا۔ آیت وکذب بالحسنی اور نیک بات کو جھٹلایا یعنی اللہ کی طرف سے خلیفہ ہونے کو جھٹلایا آیت فسنیسرہ للعسری۔ تو ہم اس کے لیے جہنم کی راہیں آسان کردیں گے۔ یعنی ہم اس کے لیے شر کی راہ آسان کردیں گے اللہ ی طرف سے 16۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاما من اعطی یعنی اس نے اللہ کا حق ادا کیا اس پر تھا۔ آیت واقتی اور اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے بچتا رہا آیت وصدق بالحسنی اور اللہ کے ان ودعوں کی تصدیق کی جو…
Read the full tafseer →[فَسَنُيَسِّرُهٗ : تو ہم پہنچا دیں گے اس کو ][ لِلْعُسْرٰى: اس بڑی سختی تک ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
اس کے بعد اعمال صالحہ اور اعمال سیہٴ کا تذکرہ فرمایا، ارشاد فرمایا : ﴿ فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ005 وَ صَدَّقَ بالْحُسْنٰى ۙ006 فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْيُسْرٰى ؕ007﴾ (سو جس نے دیا اور حسنیٰ یعنی کلمہ لا الہ الا اللہ کی تصدیق کی سو ہم اس کے لیے آرام والی خصلت اختیار کرنا آسان کردیں گے) ﴿ وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ008 وَ كَذَّبَ بالْحُسْنٰى ۙ009 فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰى ؕ0010﴾ (اور جس نے کنجوسی کی اور بےپروائی اختیار کی اور حسنیٰ یعنی کلمہ لا الہ الا اللہ کو جھٹلایا سو ہم اس کے لیے مصیبت والی خصلت اختیار کرنا آسان کردیں گے) ۔ یعنی دنیا میں مصیبتوں میں پڑے گا اور آخرت میں دوزخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
تقسیم جہو عملیہ در حیات انسانی وترتب ثمرات سعادت وشقاوت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والیل اذا یغشی ....... الی ......... ولسوف یرضی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں فوز و فلاح اور شقاوت وبدنصیبی کے اسباب پر کلام تھا اور یہ کہ انسانی نفس اگر طہارت وتزکیہ سے آراستہ ہو تو اس پر دنیا کی عزت وسربلندی اور آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے اور اگر نفس کو شہوات کی گندگی میں آلودہ کرلیا جائے تو انسانی شرف سے محرومی کے بعد دنیا کی تباہی اور عذاب آخرت میں مبتلا ہونے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں ہوتا، اور دنیا میں بڑی سے بڑی طاقت ور قومیں اسی شقاوت وبدنصیبی کا شکار ہو کر ہلاک ہوئیں اور تاریخ عالم اس کی گواہی دیتی ہے، تو اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
4:۔ ” واما من بخل “ یہ سعی عمل کا دوسرا رخ ہے جو شخص بخل کرے اور راہ حق میں مال خرچ نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب وثواب سے مستغنی ہوجائے اور ملت اسلام کو جھٹلائے اس کے لیے ہم تنگی اور شدت کے اسباب آسان کردیں گے اور اس کی سعی عمل کا نتیجہ جہنم کا دردناک عذاب ہوگا۔ ” وما یغنی عنہ مالہ اذا تردی “ وہ مال کو جمع کرتا رہا لیکن راہ حق میں اس کو خرچ نہ کیا تو جب وہ ہلاکت کے گڑھے (جہنم) میں گرے گا اس وقت یہ دولت کام نہ آئے گی کیونکہ اس وقت اس کے ہاتھ خالی ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
پہلی سورة کے ساتھ ربط اس سورة کا مضمون بھی پہلی سورة کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔ پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھائی تھی کہ مختلف چیزوں کے اثرات پڑنے سے انسان کے دل میں ارادہ پیدا ہوتا ہے اور یہی ارادہ انسانیت کا خلاصہ اور نچوڑ ہے ارادہ اچھا بھی ہوتا ہے اور برا بھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہر نفس میں فطری طور پر تقویٰ اور فجور کا الہام بھی کیا ہے۔ لہٰذا جو لوگ اچھے کام کا ارادہ کریں گے وہ اصحاب تزکیہ میں شمار ہوں گے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے نفوس کو پاک کیا ، برے اعمال اور برے عقیدے سے انہیں بچائے رکھا۔ برخلاف اس کے جو لوگ اپنے نفوس کو برے اعتقاد اور برے عمل سے آلودہ کریں گے۔ ان کا شمار اصحاب…
Read the full tafseer →فَسَنُيَسِّرُہٗ لِلْعُسْرٰى 10 ۭ يسر اليُسْرُ : ضدّ العسر . قال تعالی: يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْراً [ الطلاق/ 7] ، وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنا يُسْراً [ الكهف/ 88] ، فَالْجارِياتِ يُسْراً [ الذاریات/ 3] وتَيَسَّرَ كذا واسْتَيْسَرَ أي تسهّل، قال : فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ [ البقرة/ 196] ، فَاقْرَؤُا ما تَيَسَّرَ مِنْهُ [ المزمل/ 20] أي : تسهّل وتهيّأ، ومنه : أَيْسَرَتِ المرأةُ ، وتَيَسَّرَتْ في كذا . أي : سهَّلته وهيّأته، قال تعالی: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
ترکیب ¦ والیل الواو للقسم اذا العامل فیھا معنی القسم والنھار عطف علیہ وما خلق الخ معطوف علی السابق وما مصدریۃ عند مقاتل والمعنی واقسم خلق الذکر والانثیٰ ۔ وعند الجمھور موصولۃ ای والذی خلقھما وما بمعنی من فقدا قسم بنفسہ الکریمۃ ان سعیکم لشتی جواب القسم ای عملکم مختلف فمنہ عمل للجنۃ ومنہ عمل للنارا ومنکم مومن ومنکم کافر السعی العمل وشتی جمع شتیت کمرضی جمع مریض والشتات ھوالافتراق ومعناہ مختلف لتباعد لبعض عن البعض۔ وسعیکم مصدر مضاف فیفید العموم فھو جمع معنی فاما من الخ شرط سنیسرہ الخ جواب والسین فی الموضعین للتسویف وھو من اللہ محقق والحسنی ای الخصلۃ الحسنیٰ اتشتمل کل فعل محمود من التوحید والایمان…
Read the full tafseer →فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْعُسْرٰی۔ (الیل : 10) (پس ہم آسان کردیں گے اس کو عُسْرٰی کے لیے۔ ) برے اعمال کی سزا عُسْرٰی سے مراد بعض اہل علم کے نزدیک جہنم ہے۔ اور نحوی اعتبار سے یہ صفت مونث ہے اور اس کا موصوف محذوف ہے جو اعمالِ سیئہ، اخلاقِ قبیحہ یا جہنم سب اس کے موصوف ہوسکتے ہیں۔ ویسے اس کا معنی لغوی طور پر ” مشکل “ ہوتا ہے۔ برے اعمال و افعال اور برے اخلاق کو عُسْرٰی اس لیے کہا گیا ہے کہ ان کرتوتوں کو کرتے ہوئے آدمی کو اپنی فطرت اور اپنے مزاج سے جنگ لڑنی پڑتی ہے۔ بار بار اس کا ضمیر اسے ملامت کرتا ہے۔ اس کا نفس لوامہ ہر بری بات پر ٹوکتا ہے۔ ان تمام رکاوٹوں کی وجہ سے ان گناہوں کا ارتکاب ایک خاص وقت تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
فہم القرآن ربط کلام : اچھے فکر وعمل کا ذکر کرنے کے بعد منفی سوچ اور برے عمل کا بیان اور انجام۔ فہم القرآن کا مطالعہ کرنے والے اصحاب یہ حقیقت بالیقین جانتے ہیں کہ قرآن مجید میں اکثر مقامات پر نیکی اور برائی کے درمیان فرق اور ان کے انجام کا بیک مقام پر ذکر کیا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا موقع پر فیصلہ کرپائے کہ اس نے کون سے کام اختیار کرنے ہیں اور کس راستے پر چلنا ہے۔ اسی اصول کے پیش نظر یہاں بھی قرآن مجید نے ایک ہی مقام پر مثبت فکرو عمل اور اس کے مقابلے میں منفی فکر وعمل کا ذکر اور ان کا انجام بیان کیا ہے۔ چناچہ بتلایا ہے کہ جس نے بخل اختیار کیا اور اپنے رب کے خوف سے…
Read the full tafseer →طاعت گزار : 10 : فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْعُسْرٰی (ہم اس کو تکلیف کی چیز کیلئے سامان دے دیں گے) ایسی خصلت کیلئے جو بالآخر آگ میں پہنچانے والی ہے۔ پس اس کے لئے طاعت سب سے زیادہ مشکل اور گراں بار ہوگی نمبر 2۔ طریقہ خیر کو یُسرٰی فرمایا کیونکہ اس کا انجام سہولت ہے۔ اور طریقہ شر کو تنگی فرمایا اس لئے کہ اس کا انجام تنگی ہے یا ان دونوں کو بول کر جنت و دوزخ کے راستے مراد لیے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
10-9 ۔…” وکذب بالحسنیٰ ۔ فسنیسرہ للعسری “ ہم عنقریب ان کو شر کے لئے تیار کریں گے۔ بایں طور کہ شرکو اس کے ہاتھ پر جاری کریں گے حتیٰ کہ وہ عمل کرے گا جو اللہ کو پسند نہیں ہیں۔ پس ان کی وجہ سے آگ کا مستحق ہوگا۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں ہم اس پر تنگ کردیں گے کہ وہ خیر کا کام کرے۔ حضرت علی ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں ہے کوئی نفس سانس لینے والا مگر تحقیق اس کا مکان جنت، جہنم میں لکھ دیا گیا ہے تو ایک شخص نے کہا، کیا ہم اپنے لکھے ہوئے پر بھروسہ نہ کرلیں اور عمل چھوڑ دیں ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا نہیں لیکن تم عمل کرو، پس ہر شخص اس کے عمل کی توفیق دیا جاتا ہے جس کے لئے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ 11۔ رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے اور حضرت آدم و حوا اسی طرح ان کی اولاد میں مرد و عورت کے پیدا کرنے کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں لوگوں کے عمل مختلف ہیں کوئی عقبیٰ میں نیک کام کا بدلہ پانے کے یقین اور اسی نیت سے اچھے کام کرتا ہے ایسا شخص اپنی نیکی کا پورا ثمرہ عقبیٰ میں بھی پائے گا اور دنیا میں بھی ایسے شخص کو دن بدن نیکی کی توفیق اللہ کی طرف سے دی جاتی ہے اور کوئی عقبیٰ کی جزا کے انکار کے سبب سے نیک کاموں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا بلکہ نیک کاموں کے کرنے سے بےپروائی ظاہر کرتا ہے ایسا شخص اپنا کیا عقبیٰ میں بھگتے گا۔ اور دنیا میں جبراً اللہ تعالیٰ اس کو…
Read the full tafseer →(فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰى) تو ہم اس کے لیے (گناہ کے) مشکل کام آسان کردیتے ہیں، یعنی حالت نافرمانی کے افعال اس کے لیے مقدر کردیے جائیں گے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →10 ۔ ٹیڑھے لوگوں کے لیے کٹھن راستہ، والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ٹیڑھے لوگوں کے لیے کٹھن راستے کی آسانی دی جائے گی، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے شخص کو ہم آسانی مہیا کردیں گے اس بڑے کٹھن راستے کی، جو کہ فطرت کے خلاف اور اس سے متصادم راستہ ہے، اور یہ اس لیے کہ ایسے شخص نے ہلاکت و تباہی کی جس راہ خود اپنایا ہم نے اس کو اسی پر چھوڑ دیا، کہ ہمارا اصول اور ضابطہ یہی ہے کہ جو کوئی جدھر چلنا چاہے اس کو ہم ادھر ہی چلتا کردیتے ہیں، اور جو حق سے منہ موڑے گا اس کا انجام بہرحال برا اور بہت برا ہوگا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ایسے شخص کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا وَمَنْ يُّشَاقِقِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
اچھی بری نیت اعمال اور بدلہ تشریح : اس سورت میں اللہ تعالیٰ قسم کھاتے ہیں کہ دن رات کی نرو مادہ کی اور خود اپنی ' اس بات کے لیے کہ ہر انسان کی فطرت انداز اور ماحول فرق ہوتا ہے اور انہی حالات کے مطابق سب کا رویہ بھی فرق ہوتا ہے یہ حقیقت ہے کہ ہر شخص کے کام کا انداز فرق ہوتا ہے اور پھر یہ اعمال کا انداز دوراہوں میں منقسم ہے۔ یعنی کچھ تو نیک فطرت ہوتے ہیں ان کو شیطان کتنا ہی بہلائے مگر وہ اس کا شکار نہیں ہوتے یعنی ان کی سرشت میں نیکی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ان کو برا راستہ ' برے کام اور برے لوگ بالکل اچھے نہیں لگتے یعنی ان کو کوئی بھی لالچ برائی پر آمادہ نہیں کرسکتا وہ کہتے ہیں کہ کسی کو دیکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة اللیل۔ آیات 1 تا 21۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے رات کی جب چھاجاتی ہے اور دن کی جب روشن ہوتا ہے اور اس کی جس نے بقائے نسل کے لیے ایک جیسے دو بندوں کو نرومادہ پیدا فرمادیا یعنی یہ سب نظام اس بات پر گواہ ہے کہ تمہاری محنت ومشقت بھی دو طرح سے ہے جس طرح رات کا اثر تاریکی اور دن کا اجالا ہے یانر کا کام الگ اور مادہ کے اوصاف الگ ہیں ایسے ہی تمہارے کردار کے نتائج دو طرح کے ہیں کہ جن لوگوں نے دینے کارویہ اپنایا اور اللہ کی محبت اور قربت کی تلاش میں اپنایا اور ارشادات نبوی کی تصدیق کی دل سے زبان سے اور کردار سے۔ دینے کارویہ۔ زندگی کا مدار دینے پر ہے سورج ، چاند ، ہوا ، بادل ، بارش ، روئیدگی ، پیداوار سب…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی اس کی کوئی مدد نہ کریں گے اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ ایسے کام کرتا رہے گا جو اس کے لئے دنیا و آخرت میں جنجال اور وبال بنیں گے۔ اس کو دوسری آیت میں یوں فرمایا : ونقلب افئدتھم وابصارھم کمالم یومنوا بہ اول مرۃ وندرھم فی طغیانم یعمھون اس طرح ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر دیتے ہیں جس طرح یہ پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔ (انعام :11) ایک حدیث میں ہے آنحضرت نے فرمایا عمل کرو۔ کل میسر لما خلق لہ ہر ایک کو اس کام کے لئے تیار کردیا جاتا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا۔ “ (ابن کثیر بحوالہ صحیح مسلم)
Read the full tafseer →(92:10) فسنیسرہ للعسری۔ ہم اس کے لئے سہولت پیدا کردیتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو 92:7 مذکورہ بالا) للعسری : عسری، شختی، دشواری، سخت چیز۔ مشکل کام۔ عسر سے بروزن فعلی افعل التفضیل کا صیغہ واحد مؤنث ہے اعسر صیغہ واحد مذکر۔ جملہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ کلمہ توحید و رسالت کا انکار کرے اور جھٹلائے تو ہم اس کو ایسی خصلتوں کی توفیق دیں گے جو اس کو دشواری، شدت ، اور دوزخ کی طرف لیجائیں گی۔ مقاتل نے عسری کی تشریح میں کہا :۔ بھلائی کے کام کرنا اس کے لئے دشوار ہوجائے گا۔ الیسری اور العسری کی تفسیر میں علماء کے متعدد اقوال ہیں :۔ (1) یسری سے مراد جنت ہے اور عسری سے مراد دوزخ ہے۔ (2) یسری سے مراد خیر ہے اور عسری سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
لغات القرآن۔ شتی۔ مختلف۔ الگ الگ۔ نیسر۔ ہم آسان کردیں گے۔ العسری۔ تنگی۔ تردی۔ وہ نیچے گرا۔ تلظی۔ بھڑک دار۔ یجنب۔ بچ جائے گا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں رات، دن، نر اور مادہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جس طرح رات دن سے اور نر مادہ سے الگ اور مختلف چیزیں ہیں اسی طرح دنیا میں جتنے بھی انسان، ان کے گروہ اور قومیں ہیں وہ اپنے عمل اور کوششوں میں بہت مختلف ہیں۔ رات کے وقت دن کا تصور اور دن میں رات کا تصور ممکن نہیں ہے۔ نر مادہ ہوسکتا اور مادہ نر نہیں ہوسکتی اسی طرح نیکی اور برائیوں پر چلنے والے بھی اپنے انجام کے اعتبار سے یکساں نہیں ہوسکتے۔ ایک وہ شخص ہے جو نہایت خلوص اور اللہ کی رضا کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
حضرت صدیق اکبر کا ایمان۔ (ف 1) شان نزول۔ روساء مکہ میں سے دو شخص بہت مالدار تھے ایک تو حضرت صدیق اکبرؓ ایک امیہ بن خلف لیکن دونوں کی حالت مختلف تھی ، حضرت ابوبکر صدیق مسلمان اور انبیاء کے بعد سب سے افضل، اور اپنا جان مال راہ خدا میں لٹانے والے تھے اور یہ کم بخت کافر انتہا درجہ کا بخیل اور گستاخ تھا، حضرت بلال اسی کے غلام تھے اور خفیہ ایمان لاچکے تھے ، امیہ بن خلف کو جب اس امر کی اطلاع ہوئی تو غلاموں کو حکم دیا کہ دن چرھے بلال ؓ کے تمام جسم پر ببول کے کانٹے چبھو دیا کرو اور جب دھوپ تیز ہوجائے تو اس کو دھوپ میں چت لٹا کر سرے سے پیر تک گرم پتھر پاٹ دیا کرو کہ ہل نہ سکے، اور گرداگرد آگ سلگادیا…
Read the full tafseer →[4] سختی کی جگہ سے مراد ہے دوزخ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة الیل 1 ۔ یعنی جس طرح تاریک رات اور روشن دن میں اختلاف ہے اور خدا کی اس تقسیم میں اختلاف ہے اللہ تعالیٰ نے مرد کو بھی پیدا کیا اور عورت کو بھی ۔ نر کو بھی اور مادہ کو بھی ۔ اسی طرح کفر و ایمان کی مساعی یکساں نہیں ہیں ۔ نہ فطرت اور ساخت کے اعتبار سے اور نہ نتائج وثمرات کے اعتبار سے ۔ کفر ہمہ تاریکی ہے اور ایمان ہمہ روشنی ۔ کفر انوثیت اور نامرادی ہے اور ایمان جرات وجسارت ۔ نتائج وثمرات کے لحاظ سے بھی دونوں مختلف ہیں ۔ وہ شخص جو دولت ایمان سے بہرہ مندی کی وجہ سے اس کی راہ میں اپنا مال صرف کرتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے اور ہر نیک بات کی عمل سے تصدیق کرتا ہے ۔ اس کے لئے تیسیر کی نعمتیں اس کی طرف…
Read the full tafseer →(10) تو ہم اس کو سخت تکلیف دینے والی چیز کے لئے سامان مہیا کردیں گے - یہاں تکلیف سے بدعمل اور بواسطہ بدعمل دوزخ مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو دین کی تکذیب کرے گا اس کا دل روز بروز سخت ہوجائے گا نیکی کی توفیق سلب ہوتی جائے گی اور آخر کار بتدریج دوزخ میں پہنچا دیاجائے گا جو انتہائی مشقت اور تکلیف کا محل ہے یہی عادت اللہ اور طریقہ الٰہی ہے کہ نیک لوگوں کے لئے نیکی کا اور اشقیا کے لئے وہ راستہ جو وہ اختیار کریں آسان کردیا جاتا ہے نیک بندوں کو سرپرستی کی جاتی ہے اور بروں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ ووالمحصنت میں گزر چکا ہے نولہ مالولی اور سورة بنی اسرائیل میں گزر چکا ہے کلا یمد ھولاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
5۔ یعنی دونوں میں ہماری ہی حکومت ہے، اس لئے دنیا میں ہم نے احکام مقرر کئے اور آخرت میں ان کی مخالفت و موافقت پر سزا و جزا دیں گے جس کا بیان دو جگہ فسنیسرہ میں ہوا ہے۔
Read the full tafseer →اسے ہم تکیفچ کا سامان بہم پہنچائیں گے 10 ؎ (عسری) سختی ، دشواری ، سخت چیز ، مشکل کام عسر سے افعل التفعیل کا صیغہ واحد مؤنث اعسر کی تانیث ہے۔ مفسرین نے ( عسرٰی) سے عذاب مراد لیا ہے۔ ( تاج العروس) جن کی مت الٹی ہوجائے اور وہ ہر سیدھی بات کو الٹا اور الٹی بات کو سیدھا سمجھنے لگتے ہیں اس کی وضاحت ہم عروۃ الوثقیٰ ، جلد سوم سورة الانعام کی آیت 125 کے تحت کرچکے ہیں وہاں سے تفصیل ملاحظہ کریں ۔ فرمایا جن کا طریقہ کار ایسا ہو ان کی یہ سزا دی جاتی ہے کہ ان کے دلوں میں ان کر تو توں کی محبت پیدا کردی جاتی ہے جو انہیں جہنم کی طرف کھینچ کرلے جاتے ہیں ۔ بلا شبہ ان کی نیکیوں سے نفرت ہوجاتی ہے اور وہ گندگی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ (We will facilitate for him the way to extreme ease [ i.e. the comforts of Paradise ]....92:7). The word yusra literally denotes 'ease and comfort' or a thing in which there is no difficulty, but here it refers to "Paradise". Likewise, referring to the second group it says: فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ (for him We will facilitate the way to extreme distress...92:10). The opposite of yusra is ` usra which literally denotes 'extreme distress, referring to "Hell". The two statements signify that those who exert their efforts in the first three acts, that is,…
Read the full tafseer →5 This way has been called the hard way, for although the one who follows it, does so for the sake of material benefits, worldly anjoyments and superficial successes, yet while following it he is always at war with his nature his conscience, the laws made by the Creator of the universe and the society in Which he lives. When he transgresses aII moral limits of truth, honesty, nobility, purity and chastity and endeavours to satisfy his interests and desires in every way, when the people feel harmed by him rather than benefiting from him, and when he encroaches upon the rights of others and…
Read the full tafseer →