وَهُوَ یَخْشٰى ۟ۙوَهُوَ يَخۡشٰى
اور (خدا سے) ڈرتا ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
While he fears [Allah],
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
وَهُوَ یَخْشٰى ۟ۙوَهُوَ يَخۡشٰى
اور (خدا سے) ڈرتا ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
While he fears [Allah],
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
Read the whole surah · Surah Abasa
اور وہ ڈر رہا ہوتا ہے
اور (خدا سے) ڈرتا ہے
اور وه ڈر (بھی) رہا ہے
اور وہ دل میں اللہ کا خوف رکھتا ہے۔
اور وہ ڈر رہا ہے
اور وہ (اپنے رب سے) ڈرتا بھی ہے،
اور وہ ڈر رہا ہے۔
اور وہ ڈرتا ہے
اور وہ خدا سے ڈرتا بھی ہے
جب کہ وہ ڈر رہا ہوتا ہے
اور ہو خشیت رکھتا ہے
اور اس کے دل میں خشیت بھی ہے۔
اور اللہ سے ڈرتا ہے۔
and fears (Allah),
while he fears (Allah) ,
while he fears (Allah) ,
And is afraid.
And hath fear,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
While he fears [Allah],
and who has fear of God,
And he fears,
And he feareth'-
And with fear (in his heart),
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–16
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–9
سورة عبس 1 اس پہلے فقرے کا انداز بیان عجیب لطف اپنے اندر رکھتا ہے۔ اگرچہ بعد کے فقروں میں براہ راست رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا گیا ہے جس سے یہ بات خود ظاہر ہوجاتی ہے کہ ترش روئی اور بےرخی برتنے کا یہ فعل حضور ہی سے صادر ہوا تھا لیکن کلام کی ابتدا اس طرح کی گئی ہے کہ گویا حضور نہیں بلکہ کوئی اور شخص ہے جس سے اس فعل کا صدور ہوا ہے۔ اس طرز بیان سے ایک نہایت لطیف طریقے پر رسول اللہ ﷺ کو احساس دلایا گیا ہے کہ یہ ایسا کام تھا جو آپ کے کرنے کا نہ تھا۔ آپ کے اخلاق عالیہ کو جاننے والا اسے دیکھتا تو یہ خیال کرتا کہ یہ آپ نہیں ہیں بلکہ کوئی اور ہے جو اس رویے کا مرتکب ہو رہا ہے۔ جن نابینا کا یہاں ذکر کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–12
(آیت) لَعَلَّهٗ يَزَّكّىٰٓ ۙاَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰى، یعنی آپ کو کیا معلوم کہ یہ صحابی جو بات دریافت کر رہے تھے اس کا فائدہ متیقن تھا کہ آپ ان کو تعلیم دیتے تو یہ اس کے ذریعہ اپنے نفس کا تذکیہ کرلیتے اور کمال حاصل کرلیتے اور یہ بھی نہ ہوتا تو کم از کم اس ذکر اللہ سے وہ ابتدائی نفع اٹھاتے کہ اس سے انکے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور خوف کی ترقی ہوجاتی۔ لفظ ذکریٰ کے معنے کثرت ذکر کے ہیں (کذافی الصحاح) یہاں قرآن کریم نے دو جملے اختیار فرمائے یزکی اور یذکر، پہلے کے معنے پاک صاف ہوجانے کے ہیں اور دوسرے کے معنے نصیحت حاصل کرنے اور ذکر سے متاثر ہونے کے ہیں۔ پہلا مقام ابرار واتقیاء…
Read the full tafseer →’وَھُوَ یَخْشٰی‘۔ یہ مقابل میں ہے ’اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰی‘ کے۔ یعنی ایک تو وہ لوگ ہیں جو اس دنیا کی مطلوبات و مرغوبات میں اس طرح کھوئے ہوئے ہیں کہ انھیں کبھی یہ فکر ستاتی ہی نہیں کہ اس زندگی کے بعد بھی کوئی زندگی ہے اور اس کے لیے بھی کوئی تیاری ضروری ہے۔ دوسرے وہ ہیں جو اپنے اندر آخرت کی پیشی کا خوف رکھتے ہیں۔ اسی گروہ سے یہ توقع ہو سکتی ہے کہ وہ آپ کی باتیں سنے اور ان کو حرز جاں بنائے نہ کہ پہلے گروہ سے، لیکن آپ کا حال یہ ہے کہ آپ پتھروں میں جونک لگانے کے لیے تو رات دن سرگرم ہیں لیکن جن کے اندر اثرپذیری کی صلاحیت ہے ان کی طرف پوری توجہ کرنے کی فرصت آپ کو نہیں ملتی۔
Read the full tafseer →9۔ 1 خدا کا خوف بھی اس کے دل میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1: یہ آیات ایک خاص واقعے میں نازل ہوئی تھیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک دن حضور سرور دو عالم ﷺ قریش کے کچھ بڑے بڑے سرداروں کو اسلام کی تبلیغ فرما رہے تھے، اور ان سے گفتگو میں مشغول تھے کہ اتنے میں آپ کے ایک نابینا صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ وہاں آگئے، اور چونکہ وہ نابینا تھے، اس لیے یہ نہ دیکھ سکے کہ آپ کن کے ساتھ گفتگو میں مصروف ہیں، چنانچہ انہوں نے آتے ہی آنحضرت ﷺ سے کچھ سکھانے کی درخواست شروع کردی۔ آنحضرت ﷺ کو ان کا یہ طریقہ پسند نہ آیا کہ دوسروں کی بات کاٹ کر انہوں نے بیچ میں مداخلت شروع کردی۔ اس لیے آپ کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار ظاہر ہوئے، اور آپ نے ان کی بات کا جواب دینے کے بجائے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
جاءک یسعی (8:80) نہایت مطیع فرمان ہوکر اور اللہ کی خشیت رکھتا ہے تو
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
1 یعنی اللہ سے ڈرتا ہے یا ڈر لگا ہے کہ آپ ﷺ کی ملاقات میسر ہو یا نہ ہو۔ پھر اندھا ہے کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ اندیشہ ہے کہیں راستہ میں ٹھوکر لگے یا کسی چیز سے ٹکرا جائے یا یہ سمجھ کر کہ آپ ﷺ کے پاس جا رہا ہے دشمن ستانے لگیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
آیت 5{ اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰی۔ } ”لیکن وہ جو بےنیازی دکھاتا ہے۔“ ایک ایسا شخص جو آپ ﷺ کی بات سننے کو تیار نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
5 یعنی اندھا ہونے کے باوجود کوشش کرکے محض اسلام کی باتیں سمجھنے کے لیے آپ تک پہنچا ہے۔ اس کا کوئی ہاتھ پکڑنے والا بھی نہیں تھا۔ اسے یہ بھی اندیشہ تھا کہ کہیں کسی گڑھے میں نہ گرجائے یا کسی چیز سے ٹکرا کر گرپڑے۔ یا راہ میں اسلام دشمن لوگ اسے ستائیں تو وہ کیا کرے گا محض وہ طلب حق کی خاطر اور اللہ سے ڈرتے ہوئے آپ تک پہنچا ہے تو آپ کو اس کی اس محنت اور طلب صادق کی قدر کرنا چاہیے تھی اور اس کی طرف پہلے متوجہ ہونا چاہیے تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
4۔ رسول اللہ ﷺ افضل البشر اور اعلم الناس تھے۔ آپ ﷺ نے انتہائی اجتہاد بشری سے کام لے کر یہ خیال فرمایا، اور بالکل صحیح طور پر، کہ کلی گمراہی، جزئی ناواقفیت سے کہیں زیادہ اہم ہے اور اصول فروع پر کہیں مقدم ہیں۔ قرآن میں آپ ﷺ کو علم بشری محدود نہیں، علم الہی غیر محدود تنبیہ کررہا ہے کہ ایک میں تو اصلاح کی طلب تھی، وہ خود دوڑتا ہوا حاضر ہوا تھا، دوسرا فریق سرے سے اپنی ضرورت اصلاح سے غافل اور آپ کے مصلح ہونے ہی کا منکر تھا۔ اس لیے آپ کو چاہیے تھا کہ آپ اپنی توجہ اسی پہلے شخص کے حق میں مقدم رکھتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
وما علیک الایز کی، اگر یہ لوگ ایمان نہ لائیں تو آپ ﷺ کا کام تو صرف تبلیغ ہے اس لئے اس قسم کے کفار کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →وھو یخشی . اور (اللہ کے عذاب سے) ڈرتا ہوا آپ کے پاس آتا ہے۔ یسعٰی حال ہے اور وھو یخشٰی بھی حال مرادف یا حال متداخل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–16
(5۔ 16) سو جو شخص اللہ تعالیٰ سے بےپروائی کرتا ہے آپ اس کی طرف توجہ کرتے ہیں حالانکہ ان کے موحد نہ بننے کا آپ پر کوئی الزام نہیں اور جو شخص نیکی کے شوق میں آپ کے پاس دوڑ کر آتا ہے اور وہ اللہ سے ڈرتا ہے تو آپ اس پر توجہ نہیں کرتے ہیں۔ حالانکہ آپ کو ایسا نہ کرنا چاہیے اور حضرت ابن ام مکتوم پہلے ہی سے مشرف بااسلام ہوچکے تھے، چناچہ اس کے بعد جب حضرت ابن ام مکتوم آپ کے پاس آتے تو آپ ان کی بڑی خاطر و احترام کرتے، امیر ہو یا غریب یہ سورت سب کے لیے اللہ کی طرف سے ایک نصیحت کی چیز ہے لہذا جس کا دل چاہے نصیحت قبول کرے اور یہ قرآن ایسے صحیفوں میں ثبت ہے جو عنداللہ مکرم ہیں۔ رفیع المکان ہیں اور وہ شرک و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
(اما من استغنی …:”تصدی“ اصل میں ”تنصدی ‘ اور ”تلھی“ اصل میں ”تتلھی“ فعل مضارع مخاطب ہیں۔ یعنی جسے اپنی دولت اور سرداری کی وجہ سے آپ کی پرواہی نہیں آپ اس کے پیچھے پڑ رہے ہیں، حالانکہ اگر وہ کفر کی نجاست سے پاک نہیں ہوتا تو آپ پر کچھ الزام نہیں اور جو کوشش کر کے آیا ہے اور وہ اللہ سے ڈرتا ہے تو آپ سے بےتوجہی کرتے ہیں، حالانکہ آپ کی توجہ کا اصل حق دار وہ ہے جو طلب رکھتا ہے گونادار ہے، وہ نہیں جو بےپروا ہے خواہ سرمایہ دار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
اما من استغنی۔۔۔ تا۔۔۔ عنہ تلھی۔ جوخوشحال وگنی ہے آپ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اس کی بات وجہ سے سنتے ہیں، تصدی کا معنی توجہ سے بات سننا ہے، راعی نے کہا : تصدی لوضاح کان جبینہ، سراج الدجی یحنی الیہ الاساور۔ وہ وضاح کے سامنے آیا گویا اس کی پیشانی تاریکیوں کا چراغ ہے بڑے بڑے سردار اس کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ اس کی اصل تصدد ہے جو صد سے مشتق ہے یہ وہ چیز ہوتی ہے جو تیرے سامنے آئے اور تیرے بالمقابل ہوجائے کہا جاتا ہے، داری صد دددارۃ، میرا گھر اس کے گھر کے سامنے ہے، اسے ظرف کی بنا پر نصب دی گئی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ صدی سے مشتق ہے جس کا معنی پیاس ہے یعنی آپ اس غنی کی طرف اس طرح متوجہ ہوتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–12
12۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت ان جاء ہ الاعمی کے بارے میں روایت کیا کہ بنو فہیر میں سے ایک آدمی آیا جس کا نام عبداللہ بن ام مکتوم ؓ تھا آیت اما من استغنی لیکن وہ جو پرواہ نہیں کرتا اس سے مراد عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف ہے۔ 13۔ ابن سعد وابن المنذر نے ضحاک (رح) سے آیت عبس وتولی کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش کے سرداروں میں سے ایک آدمی سے ملاقات فرمائی اور اس کو اسلام کی طرف بلایا اس درمیان آپ کے پاس عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آگئے۔ اور احکام اسلام کے بارے میں آپ ﷺ سے سوال کرنے لگے۔ تو آپ نے اپنے چہرے پر تیوری چڑھائی تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو عتاب فرمایا…
Read the full tafseer →[وَهُوَ يَخْشٰى: اس حال میں کہ وہ ڈرتا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
﴿ وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ يَسْعٰىۙ008 وَ هُوَ يَخْشٰىۙ009 فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىۚ0010﴾ (اور جو شخص آپ کے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے اور وہ ڈرتا ہے سو آپ اس کی طرف سے بےتوجہی برتتے ہیں) ۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا مقصد نیک تھا مشرکین کے اسلام قبول کرنے کی امید پر ان سے باتیں کرتے رہے اور حضرت ابن ام مکتوم ؓ کی طرف توجہ نہ دی لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا تاکہ اصحاب صفہ کے دل نہ ٹوٹیں اور یہ معلوم ہوجائے کہ فقیر مومن غنی کافر سے بہتر ہے اور مومن کا خیال کرنا اولیٰ ہے اگرچہ فقیر ہو۔ مزید فرماتے ہیں کہ یہ ایسا ہی ہے جیسے سورة الانعام میں ﴿ وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
4:۔ ” اما من استغنی “ جو ایمان سے اور آپ کی دعوت و تبلیغ سے مستغنی اور بےنیاز ہیں آپ ان کے درپے ہیں اور غور سے ان کی باتیں سنتے ہیں۔ اگر وہ ایمان نہ لائیں اور کفر و شرک سے پاک نہ ہوں تو اس سے آپ پر کوئی گناہ نہیں، کیونکہ آپ کا کام بتانا، سنان اور سمجھانا ہی منوانا آپ کا کام نہیں۔ اس سے مراد صنادید قریش ہیں جو آپ کی دعوت و تبلیغ میں کوئی حقیقی دلچسپی نہیں لیتے تھے۔ واما من جاءک “ لیکن جو شخص یعنی ابن ام مکتوم بڑے شوق سے دوڑتا ہوا آپ کے پاس آتا ہے اور وہ خدا سے ڈرتا بھی ہے۔ ہدایت کا متمنی اور راہ حق کا جو یا بھی ہے آپ اس سے اعراض کرتے اور اس سے غفلت کا برتاؤ فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
(پس منظر) اکثرمفسرین کرام (ب 1 روح المعانی ص 39 ج 30 و تفسیر کبیرص 54 ج 31 تفسیر ابن کثیر ص 470 ج 4 دغیرہ ) فرماتے ہیں کہ اس سورة کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تنبیہ فرمائی ہے ۔ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ مکی زندگی میں حضور ﷺ ایک موقع پر صنادید اور سرداران قریش کو اسلام کی باتیں سمجھا رہے تھے ۔ درمنثور (ب 2 درمثورص 314 ج 6 وروح المعانی ص 39 ج 30) والے نے ان کے نام ابوجہل عتبہ ، شیبہ وغیرہ بتائے ہیں ۔ اس دوران حضور ﷺ کا ایک نابینا صحابی حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم ؓ آگیا ۔ وہ قرآن کریم کی تعلیم کرنا چاہتا تھا ۔ چناچہ اس شخص نے حضور ﷺ کو آواز دینی شروع کی کہ اے اللہ کے رسول ! علمنی…
Read the full tafseer →وَہُوَيَخْشٰى 9 ۙ خشی الخَشْيَة : خوف يشوبه تعظیم، وأكثر ما يكون ذلک عن علم بما يخشی منه، ولذلک خصّ العلماء بها في قوله : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ( خ ش ی ) الخشیۃ ۔ اس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی عظمت کی وجہ سے دل پر طاری ہوجائے ، یہ بات عام طور پر اس چیز کا علم ہونے سے ہوتی ہے جس سے انسان ڈرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ؛۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] اور خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ میں خشیت الہی کے ساتھ علماء کو خاص کیا ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1 ؎ مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ کفار کو سمجھا رہے تھے اور ان کے بےجا سوالات اور کم بختیوں سے ملول ہو رہے تھے کہ اتنے میں ایک اندھا جس کا نام عبداللہ بن ام مکتوم ؓ تھا آیا اور آپ سے قرآن سننے کی التجا کی۔ آنحضرت ﷺ اس کی طرف ملتفت نہ ہوئے اور اشراف قریش ہی کی طرف مخاطب رہے اور اس کے بار بار سوال کرنے سے چیں بچیں ہوئے جس پر یہ سورة نازل ہوئی جس میں آنحضرت ﷺ پر قدرے تہدید ہے کہ ہمارے نزدیک طالب صادق مرغوب سے دولت مند اور مفلس کا کچھ لحاظ نہیں۔ آپ نے طالب صادق سے اعراض کیا اور منہ بنایا۔ آپ کو کیا معلوم کہ یہ اندھا سدھر جاتا اور اس کا تقربات میں مرتبہ بالا ہوجاوے اور دین کے بڑے بڑے ہادیوں میں سے ہوجاوے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰی۔ فَاَنْتَ لَـہٗ تَصَدّٰی۔ وَمَا عَلَیْکَ اَلاَّ یَزَّکّٰی۔ وَاَمَّا مَنْ جَآئَ کَ یَسْعٰی۔ وَھُوَیَخْشٰی۔ فَاَنْتَ عَنْہُ تَلَھّٰی۔ (عبس : 5 تا 10) (رہا وہ شخص جو بےپروائی برتتا ہے۔ تو آپ اس کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ حالانکہ آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں اگر وہ اپنی اصلاح نہ کرے۔ اور رہا وہ شخص جو آپ کے پاس آتا ہے دوڑتا ہوا۔ اور وہ اللہ سے ڈر رہا ہے۔ تو آپ اس سے بےپروائی برتتے ہیں۔ ) اصل تنبیہ یہ ہے وہ اصل تنبیہ جو آنحضرت ﷺ کو فرمائی گئی ہے۔ اور یہ ہے تبلیغِ دین کا وہ اصل نکتہ جس کی طرف آنحضرت ﷺ کو توجہ دلائی گئی ہے۔ اس میں دو شخصوں کا نقشہ کھینچ کر بتایا گیا ہے کہ ایک وہ شخص ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
فہم القرآن ربط سورت : النّازعات کے آخر میں بتلایا ہے کہ قیامت کے دن مجرم محسوس کریں گے کہ ہم دنیا میں چند گھڑیاں ٹھہرے تھے۔ آخرت کے انکار کے پیچھے دنیا کا مفاد اور عجلت پسندی کا عنصر شامل ہوتا ہے اس لیے سورة عبس میں ایک مخصوص واقعہ کی طرف اشارہ فرما کر عجلت پسندی سے منع کیا گیا ہے۔ تمام مفسرین نے اس سورت کے نازل ہونے کا پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک دن سرور دو عالم ﷺ کی مجلس میں چند قریشی سردار حاضر ہو کر آپ سے اسلام کے بارے میں گفتگو کررہے تھے اسی دوران حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آئے اور انہوں نے آپ کی گفتگو میں مداخلت شروع کردی۔ آپ ﷺ نے ناصرف بےتوجہگی اختیار کی بلکہ اس مداخلت کو…
Read the full tafseer →9 : وَھُوَیَخْشٰی (اور وہ ڈرتا ہے) اللہ تعالیٰ سے یا کفار سے۔ نمبر 3۔ لڑکھڑانے سے جیسا کہ اندھوں کی عادت ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →8 ۔” واما من جاء ک یسعیٰ “ چلتا ہوا یعنی ابن ام مکتوم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1۔ 16۔ ترمذی 2 ؎ صحیح ابن حبان مستدرک حاکم تفسیر عبد الرزاق وغیرہ میں حضرت عائشہ اور حضرت انس ؓ سے جو روایتیں ہیں جن کو ترمذی نے حسن اور حاکم نے صحیح قرار 3 ؎ دیا ہے۔ حاصل ان روایتوں کا یہ ہے کہ ابن خلف ایک شخص مشرک کو ایک روز آنحضرت ﷺ کچھ اسلام کی خوبی کی باتیں سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبد اللہ بن ام مکتوم صحابی نے آ کر آنحضرت ﷺ سے قرآن شریف کی ایک آیت پوچھی۔ آنحضرت ﷺ کو عبد اللہ بن ام مکتوم کا یہ قطع کلام ذرا شاق گزرا اور آپ ﷺ نے تیوری چڑھائی۔ اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائی ان آیتوں کے نازل ہونے کے بعد سے جب عبد اللہ بن ام مکتوم آنحضرت ﷺ کے پاس آیا کرتے تھے تو آنحضرت ﷺ ان کی خاطر کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
(اَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰى) یا وہ کسی چیز سے نصیحت پکڑتا جو اسے فائدہ دیتی اور وہ اس نصیحت سے نفع حاصل کرتا ؟ یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور یہی چیز انبیا ورسل کی بعثت، واعظین کے وعظ اور یاد دہانی کرانے والوں کی تذکیر کا مقصد ہے جو شخص اس چیز کا حاجت مند بن کر خود چل کر آیا ہے اس کی طرف آپ کو توجہ دینا زیادہ لائق اور واجب ہے۔ رہا آپ کا اس بےنیاز دولت مند کی ہدایت کے درپے ہونا اور اس سے تعرض کرنا جو بھلائی میں عدم رغبت کی بنا پر سوال کرتا ہے نہ فتوی طلب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اس شخص کو چھوڑ دینا جو اس سے زیادہ اہم ہے آپ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ پر اس کے پاکیزگی اختیار نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
(7) پیغمبر کی اصل ذمہ داری انذار و تبلیغ اور بس : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " جو بےنیازی اور لاپرواہی برتتا ہے آپ اس کے پیچھے لگتے ہیں حالانکہ آپ پر ایسے شخص کے سدھارنے کی کوئی ذمہ داری نہیں "۔ کہ آپ ﷺ کی اصل اور حقیقی ذمہ داری تو ابلاغ اور تبلیغ حق ہے اور بس، اس کے بعد حق کو منوانا اور قبول کرالینا نہ تو آپ کے بس میں ہے اور نہ ہی یہ آپ کی ذمہ داری ہے، تو پھر ان متکبروں کے درپے ہونے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے ؟ سو پیغمبر کا کام اور ان کی ذمہ داری و شان یہ ہے اور یہی ہونی چاہیے کہ جو کوئی ان کے پاس اپنی اصلاح کا طالب بن کر آئے اور اس کے اندر خدا کے حضور پیشی کا خوف ہو تو اسی پر اپنی توجہ مبذول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
رویہ درست رکھنے کا حکم اور فضیلت قرآن تشریح : ہم لوگ کیونکہ خدائے واحد ' قھار و جبار اور رحمن و رحیم کے بندے ہیں ' ہمیں ڈر ہے تو صرف اس سے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ ہم لوگ دنیوی جاہ و جلال ' عزت اور دولت سے بالکل مرعوب نہیں ہوتے۔ ہم لوگ اللہ پر پورا بھروسہ کرتے ہوئے زندگی کا ہر مرحلہ گزارتے ہیں اور ہمارا فرض سب سے پہلا اور آخری یہی ہے کہ احکامات الٰہی کو سمجھیں عمل کریں اور دوسروں کو سکھائیں۔ یہ احکامات اللہ عزوجل کی طرف سے انتہائی مقدس فرشتے کے ذریعہ انتہائی مقدس نبی کے ذریعے ہمیں پہنچائے گئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس کتاب مقدس قرآن پاک کا کس درجہ تک احترام ہم سب پر لازم ہے تو اس کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
سورة عبس۔ آیات 1 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔ نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
ف 1 یعنی اسے پڑھے لکھنے یاد کرے یا سوچے سمجھے۔ اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں غریب اور امیر دونوں برابر ہیں۔ مالدار کو غریب پر ترجیح نہیں ہے یہی برتائو اس کے رسول (ﷺ) کو بھی کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →(80:9) وھو یخشی۔ جملہ حالیہ ہے من سے۔ اور وہ ڈر رہا ہے۔ یخشی مضارع واحد مذکر غائب۔ خشیۃ (باب سمع) مصدر سے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
لغات القرآن الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
(ف 1) شان نزول : سورة عبس میں ایک سوتیس کلمے ، پانچ سو تینتیس حروف ہیں نبی ﷺ عتبہ بن ربیعہ ، ابوجہل ہشام اور عباس بن عبدالمطلب اور ابی بن خلف اور امیہ بن خلف اشراف قریش کو اسلام کی دعوت فرما رہے تھے اس درمیان عبداللہ بن ام مکتوم ؓ نابینا صحابی حاضر ہوئے اور اپنی طرف متوجہ کرنے لگے کہ فلاں آیت کیونکر ہے یارسول اللہ مجھے اس میں سے تعلیم فرمائیے، جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے حضور کو ان کا بےوقت کا پوچھنا گراں گذرا، آپ کو خیال ہوا ہوگا کہ یہ قریش کے بڑے بڑے سردار اگر ٹھیک سمجھ کر اسلام لے آئیں تو بہت سے لوگوں کے مسلمان ہونے کی توقع ہے ابن ام مکتوم بہرحال مسلمان ہیں ان کو سمجھنے اور تعلیم حاصل کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–10
[1] رسول اللہ ﷺ بعض سرداران قریش کو دین اسلام کے متعلق کچھ سمجھا رہے تھے۔ اتنے میں نابینا صحابی عبداللہ ابن مکتوم ؓ حاضر خدمت ہوئے اور اپنی طرف متوجہ کرنے لگے کہ یارسول اللہ ﷺ فلاں آیت کیونکر ہے اس کے بارے میں مجھے کچھ سکھائیے۔ آپ ﷺ کو ان کا بےوقت پوچھنا ناگوار گزرا۔ آپ کو یہ خیال ہوا ہوگا کہ میں ایک بڑے اہم کام میں مشغول ہوں۔ قریش کے یہ بڑے بڑے سردار اگر ٹھیک سمجھ کر اسلام لے آئیں تو بہت سے لوگوں کے مسلمان ہونے کی توقع ہے۔ ابن مکتوم بہرحال مسلمان ہے۔ اسے سمجھنے اور تعلیم حاصل کرنے کے ہزار مواقع حاصل ہیں۔ اس لئے آپ ترش رو ہوئے اور ان کی طرف التفات نہ کیا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة عبس اور مقام نبوت 1: یہاں اس بات کو بطور اصل اور حقیقت کے ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ مقام نبوت اس سے کہیں بلند وارفع ہے کہ اس کی جانب گناہ یا معصیت کو منسوب کیا جائے ۔ کیونکہ نبوت کے معنی ہی یہ ہیں کہ وہ ایک سیرت ہے جو عام انسانوں سے ممتاز اور برتر ہے اور ایک ایسا کیرکٹر ہے جو عصمت اور عفت کے زیور سے آراستہ ہے ۔ انبیاء (علیہم السلام) کی ساری زندگی بےداغ اور سراسر پاک ہوتی ہے ۔ ان سے اگر بتقاضائے بشریت لغزش کا صدور ہوتا ہے تو محض دوران اجتہاد کے ایسے پہلو اختیار کرلیتے ہیں ۔ جو اولیٰ تو ہوتا ہے ۔ مگر اولیٰ تر نہیں ہوتا اور ان کے مرتبہ ومقام کی بلندی اور رفعت کی وجہ سے اتنی سی بات بھی اللہ…
Read the full tafseer →(9) اور اس کی حالت یہ ہے کہ وہ ڈرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–42
ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
آیت 1 تا 16 یہ واقعہ جس طرح بھی ہوا اس کا ٹھیک ٹھیک بیان اللہ پاک کا نام لے کر پڑھ جو کہ اپنی ذات میں قائم اور عام و خاص سے مناسب پیار کرتا ہے اور اس کی رحمت بہت بڑی وسیع ہے جسے اس نے سب کے لئے مقدر کر رکھا ہے اور فرشتوں کے بیان میں بھی اس کی وسعت عام ظاہر ہے اور امام راغب نے فرمایا ہے کہ اس کی رحمانیت دنیا میں مومن و کافر سب پر حاوی ہے کوئی اس سے باہر نہیں اور اس کی رحیمیت مومنوں کے لئے آخرت میں مخصوص ہوگی۔ اور امام بخاری نے اپنی صحیح میں فرمایا ہے کہ یہ دونوں اسم رحمت سے مشتق ہیں اور رحیم فعیل کا وزن ہے جو کہ اس جگہ اسم فاعل ( راحم) کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اسم مفعول ( مرحوم) کے معنوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–12
لَعَلَّهُ يَزَّكَّىٰ أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ الذِّكْرَىٰ (May be, [ if you had attended him properly,] he would have attained purity, or have taken to the advice, and the advice would have benefited him....80:3-4). In other words, because Sayyidna ` Abdullah Ibn Umm Maktum ؓ was a genuine believer, any advice given to him would have benefited him and served to purify him. The companion sought enlightenment and its benefit was certain. If the Holy Prophet ﷺ enlightened him on the topic, he would have purified himself and attained perfection. If that did not happen, he would have at…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–9
1 The style of this first sentence is elegant and subtle. Although in the following sentences the Holy Prophet (upon whom be peace) has been directly addressed, which by itself shows that the act of frowning and turning aside had issued forth from him, the discourse has been opened in a manner as though it was not he but some one else who had so acted. By this style the Holy Prophet (upon whom be peace) , by a subtle method, has been made to realize that it was an act unseemly for him. Had somebody familiar with his high morals witnessed it, he would have thought that it was not he but some…
Read the full tafseer →