ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ ۟ۚضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ
خنداں و شاداں (یہ مومنان نیکو کار ہیں)
— Fateh Muhammad Jalandhari
Laughing, rejoicing at good news.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ ۟ۚضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ
خنداں و شاداں (یہ مومنان نیکو کار ہیں)
— Fateh Muhammad Jalandhari
Laughing, rejoicing at good news.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
Read the whole surah · Surah Abasa
ہشاش بشاش اور خوش و خرم ہوں گے
خنداں و شاداں (یہ مومنان نیکو کار ہیں)
(جو) ہنستے ہوئے اور ہشاش بشاش ہوں گے
ہنستے، خوشی مناتے ہوئے۔
ہنستے خوشیاں مناتے
(وہ) مسکراتے ہنستے (اور) خوشیاں مناتے ہوں گے،
ہنستے ہوئے، بہت خوش۔
ہنستے ہوئے خوش و خرم
ہشاش بشاش !
وہ ہنستے ہوں گے اور ان پر خوشیاں کھیلتی ہوں گی
ہنستے ہوئے بشاش ہوں گے۔
مسکراتے ہوئے خوش و خرم۔
خوش باش۔ (ہنستے مسکراتے) یہ نیکو کار ہیں
and be cheerful and joyous.
laughing, rejoicing,
laughing, rejoicing,
Laughing, rejoicing at good news.
Laughing, rejoicing at good news;
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Laughing, rejoicing at good news.
laughing and joyous
Laughing, joyous.
Laughing, rejoicing.
Laughing, rejoicing.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 33–42
ننگے پاؤں، ننگے بدن۔۔ پسینے کا لباس حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ صاختہ قیامت کا نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نفخہ کی آواز اور ان کا شور و غل کانوں کے پردے پھاڑ دیگا۔ اس دن انسان اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو دیکھے گا لیکن بھاگتا پھرے گا کوئی کسی کے کام نہ آئیگا، میاں بیوی کو دیکھ کر کہے گا کہ بتا تیرے ساتھ میں نے دنیا میں کیسا کچھ سلوک کیا وہ کہے گی کہ بیشک آپ نے میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا بہت پیار محبت سے رکھا یہ کہے گا کہ آج مجھے ضرورت ہے صرف ایک نیکی دے دو تاکہ اس آفت سے چھوٹ جاؤں، تو وہ جواب دے گی کہ سوال تھوڑی سی چیز کا ہی ہے مگر کیا کروں یہی ضرورت مجھے درپیش ہے اور اسی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
سورة عَبَس 23 احادیث میں مختلف طریقوں اور سندوں سے یہ روایت آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " قیامت کے روز سب لوگ ننگے بچے اٹھیں گے "۔ آپ کی ازواج مطہرات میں سے کسی نے (بروایت بعض حضرت عائشہ نے، اور برویت بعض حضرت سودہ نے اور بروایت بعض ایک خاتون نے) گھبرا کر پوچھا، یا رسول اللہ کیا ہمارے ستر اس روز سب کے سامنے کھلے ہوں گے ؟ حضور نے یہی آیت تلاوت فرما کر بتایا کہ اس روز کسی کو کسی کی طرف دیکھنے کا ہوش نہ ہوگا (نسائی، ترمذی، ابن ابی حاتم، ابن جریر، طبرانی، ابن مردویہ، بہیقی، حاکم)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–42
يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ ، یہ محشر میں سب کے جمع ہونے کے وقت کا بیان ہے کہ ہر شخص اپنے اپنے فکر میں اور نفسی نفسی کے عالم میں ہوگا، دنیا میں جو رشتے ناتے ایسے ہیں کہ لوگ ایک دوسرے پر اپنی جان تک قربان کردیتے ہیں اس عالم میں ہر شخص اپنی اپنی ایسی فکر میں مبتلا ہوگا کہ کوئی کسی کی خبر نہ لے سکے گا بلکہ سامنے دیکھے گا تو بھی گریز کریگا۔ انسان اپنے بھائی سے ماں باپ سے بیوی اور اولاد سے منہ چھپاتا بھاگتا پھریگا، دنیا میں تعاون و تناصر اور امداد باہمی بھائیوں میں ہوتی ہے اس سے زیادہ ماں باپ کی امداد واعانت کی فکر ہوتی ہے طبعی طور پر ان سے بھی زیادہ بیوی اور اولاد سے تعلق ہوجاتا ہے اس…
Read the full tafseer →اس دن اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان جو فرق ان کے چہروں سے نمایاں ہو گا، یہ آخر میں بالاجمال اس کی طرف اشارہ کر دیا تاکہ ان کے اس ظاہر سے ان کے باطن کا کچھ اندازہ ہو سکے کہ اہل ایمان کے دل اس دن کن امیدوں اور حوصلوں سے معمور ہوں گے اور اہل کفر کے دلوں پر اس دن کیا گزر رہی ہو گی۔ ’ضَاحِکَۃٌ‘ بھی مسرت اور خوشی کی تعبیر ہے یعنی ان کے چہرے ہسنتے ہوئے ہوں گے۔ ’مُّسْتَبْشِرَۃٌ‘۔ یعنی ہشاش بشاش ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
39۔ 1 یہ اہل ایمان کے چہرے ہونگے، جنہیں ان کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں ملیں گے، جس سے انہیں اپنی آخروی سعادت و کامیابی کا یقین ہوجائے گا، جس سے ان کے چہرے خوشی سے ٹمٹماتے رہے ہونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
9: اس سے مراد قیامت ہے جس کا آغاز صور کی آواز سے ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
وجوہ ................................ مستبشرة (39) ” کچھ چہرے اس روز دمک رہے ہوں گے ، ہشاش بشاش اور خوش وخرم ہوں گے “۔ یہ چہرے روشن چہرے ہوں گے ، ان سے نور برس رہا ہوگا ، خوش ہوں گے ، ہنس رہے ہوں گے ، اپنے رب سے امیدیں وابستہ کیے ہوں گے ، وہ مطمئن ہوں گے کہ ان کا رب ان سے راضی ہے ، یہ اس سخت ہولناک آواز کے خوف سے نجات پاچکے ہوں گے۔ یہ آواز تو ایسی ہوگی کہ سنتے ہی سب خوشیاں کافور ہوجائیں گی لیکن ان کو چونکہ ان کا انجام بتا دیا جائے گا اس لئے وہ ان ہولناکیوں کے باوجود خوش وخرم اور مطمئن ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
2 یعنی مومنین کے چہرے نور ایمان سے روشن اور غایت مسرت سے خنداں وفرحاں ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
آیت 38{ وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَۃٌ۔ } ”کچھ چہرے اس دن روشن ہوں گے۔“ یہ مضمون اس سے پہلے سورة القیامہ کی ان آیات میں بھی آچکا ہے : { وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ - اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ - وَوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍم بَاسِرَۃٌ - تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِہَا فَاقِرَۃٌ۔ } ”بہت سے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے ‘ وہ اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے۔ اور بہت سے چہرے اس روز اترے ہوئے ہوں گے۔ ان کو یقین ہوگا کہ اب ان کے ساتھ کمر توڑ سلوک ہوگا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
21 ننگے بدن حشر :۔ اس آیت کی بہترین تفسیر درج ذیل حدیث پیش کرتی ہے۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : لوگ میدان حشر میں ننگے سر، ننگے بدن اور بےختنہ اکٹھے کیے جائیں گے۔ ایک عورت (سیدہ عائشہ ؓ نے پوچھا : کیا پھر وہ ایک دوسرے کے ستر نہ دیکھیں گے ؟ آپ نے فرمایا : اے فلاں (عورت) اس دن ہر شخص کو اپنی اپنی پڑی ہوگی جو اسے (دوسروں سے) غافل کر دے گی۔ (ترمذی۔ کتاب التفسیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
14۔ اور یہ اثر طاعت کا، اور یہ برکت ایمان کی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ مردہ انسان کو دفن کرنا واجب ہے۔ لکل امریء منھم یومئذ شان یغنیہ، آپ ﷺ نے فرمایا کہ سب لوگ میدان محشر میں ننگے بدن، ننگے پیر اور غیر مختون ہوں گے، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے آپ ﷺ سے معلوم کیا اس طرح شرمگاہوں پر نظریں نہیں پڑیں گی ؟ آپ ﷺ نے اس کے جواب میں یہاں یہ تلاوت فرمائی اور فرمایا اس روز کسی کو کسی کی طرف دیکھنے کا ہوش نہ ہوگا۔ (نسائی، ترمذی وغیرہ)
Read the full tafseer →ضاحکۃ مستبشرۃ ہنستے ہوئے اور شگفتہ ہوں گے۔ یہ تینوں صفات وُجُوْہٌ کی ہیں۔ اصل میں فرحت ‘ شگفتگی تو چہروں والوں کو ہوگی۔ مجازاً ان کو چہروں کی صفت قرار دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
(37۔ 42) قیامت کے دن ان میں ہر ایک شخص کو اپنا ہی فکر ہوگا جو اس کو اور طرف متوجہ نہ ہونے دے گا، سچے مومنین قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی وجہ سے روشن اور شاداں ہوں گے اور کافروں اور منافقوں کی صورتوں پر قیامت کے دن ظلمت ہوگی اور ان پر کدورت اور پسماندگی چھائی ہوگی۔ یہی لوگ کافر و فاجر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(وجوہ یومئذ مسفرۃ…: چہروں کی یہ روشنی اور خوشی اعمال نامے دائیں ہاتھ میں دیئے جانے کے بعد ہوگی، جیسا کہ فرمایا :(فاما من اوتی کتبہ بیمینہ، فسوف بحاسب حساباً یسیراً ، وینقلب الی اھلہ مسروراً ، (الانشقاق : 8 تا 9)”تو اس وقت جس شخص کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اس کا حساب آسان لیا جائے گا اور وہ خوش خوش اپنے گھر والوں کی طرف واپس آئے گا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
وجوہ یومئذ مسفرہ۔ ضاحکۃ مستبشرہ۔ کچھ چہرے چمکدار اور روشن ہوں گے انہیں اپنی کامیابی اور مقدر نعمتوں کا علم ہوچکا ہوگا۔ یہ مومنوں کے چہرے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں جس کرامت سے نوازا ہوگا اس کی وجہ سے خوش وخرم ہوں گے عطاخراسانی نے کہا، وہ طویل عرصہ تک اللہ کی راہ میں غبارآلود ہوتے رہے اس وجہ سے وہ روشن ہوں گے ابونعیم نے اس کا ذکر کیا ضحاک نے کہا وضو کے آثار کی وجہ سے وہ روشن ہوں گے حضرت ابن عباس نے کہا، راتوں کو عبادت کرنے کی وجہ سے روشن ہوں گے حدیث میں ہے جس کی رات کی نماز زیادہ ہوجاتی ہے دن کے وقت اس کا چہرہ حسین ہوجاتا ہے، یہ جملہ بولا جاتا ہے، اسفر الصبح جب صبح خوب روشن ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–42
3۔ الطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے سودہ بنت زمعہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمای سب لوگ اس حال میں اٹھائے جائیں گے کہ وہ ننگے پاؤں، ننگے بدن، بغیر ختنہ کیے ہوئے ہوں گے۔ ان کو پسینے نے لگا میں دے رکھی ہوں گی اور کانوں کی لو تک پہنچے گا میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہائے شرم گاہ کہ ہمارا بعض بعض کی طرف دیکھے گا۔ آپ نے فرمایا : لوگ اس سے غافل ہوں گے اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت یوم یفر المر من اخیہ وامہ وابیہ وصاحبتہ وبنیہ لکل امء منہم یومئذ شان یغنیہ جس دن آدمی اپنے بھائی اور اپنی ماں اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا۔ ہر شخص کی ایسی حالت ہوگی جو اس کو اوروں کی طرف سے…
Read the full tafseer →[ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ: ہنسنے والے ہیں خوشی منانے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
ان آیات میں روز قیامت کے بعض مناظر بیان فرمائے ہیں۔ الصاخہ سخت آواز سے بولنے والی چیز کو کہتے ہیں اور بعض حضرات نے یہ فرمایا ہے کہ ایسی سخت آواز کو کہتے ہیں جو کانوں کو بہرا کر دے اس سے نفخہ ثانیہ مراد ہے جب یہ سخت آؤاز آئے گی تو انسان اپنی مصیبت میں ایسا مبتلا ہوگا کہ اسے کسی کی طرف کوئی توجہ نہ ہوگی جو خاص اپنے لوگ تھے ان سے بھی بھاگے گا ہر شخص کا اپنا حال جدا ہوگا۔ ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے نیک بندوں کے چہرے روشن ہوں گے ان کی صورتوں سے بشاشت اور خوشی ظاہر ہو رہی ہوگی اور جن نالائقوں نے دنیا میں خدا کو فراموش کیا ایمان اور اعمال صالحہ کے نور سے علیحدہ رہے اور کفر و فجور کی سیاہی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
10:۔ ” جوہ یومئذ “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ ” مسفرۃ “ مضیئۃ، روشن، تاباں۔ قیامت کے دن کچھ چہرے روشن ہوں گے اور مسرت و شادمانی سے کھلے ہوں گے یہ مومنین کے چہرے کھلے۔ ” ووجوہ یومئذ علیہا غبرۃ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” غبرۃ “ گرد و غبار، اداسی اور مردنی سیاہی، ذلت و رسوائی۔ اور کچھ چہرے ایسے ہوں گے جن پر مایوسی اور مردنی چھائی ہوگی اور ذلت و رسوائی سے سیاہ پڑجائیں گے یہ کون ہوں گے ؟ یہ کفار و فجار ہوں گے جنہوں نے دنیا میں اسلام کی دعوت کو ٹھکرایا اور خدا کے احکام سے بغاوت کی۔ غبرۃ غبار و دخان، قترۃ ذلۃ و شدۃ (قرطبی) ۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ سورة عبس ختم ہوئی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
(گذشتہ سے پیوستہ) اس سورة مبارکہ میں پہلے ایک نابینا شخص کا حال بیان کر کے نبی کریم ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کی توجہ اس بات کی طرف دلائی گئی ۔ کہ کمزروں اور ناداروں کا خیال رکھنا مقدم ہے ۔ کیونکہ وہ ہدایت کے طالب ہیں اور کمال شوق سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ برخلاف اس کے سرمایہ دارحضرات ناشکرگذرای کرتے ہیں ۔ ہدایت کے طالب نہیں ۔ لہذا ان کی طرف زیادہ توجہ نہ دیجائے ۔ یہی لوگ ہیں جو بےپروا اور متکبر ہیں ۔ انہیں تزکیہ حاصل کرنے کا بھی شوق نہیں ہے ۔ پچھلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے متعلق فرمایا ” ھل لک الی ان تزکی “ کیا تیرے اندر اس بات کی رغبت ہے کہ تو پاک ہوجائے ۔ اور تاکہ…
Read the full tafseer →ضَاحِكَۃٌ مُّسْتَبْشِرَۃٌ 39 ۚ ضحك الضَّحِكُ : انبساطُ الوجه وتكشّر الأسنان من سرور النّفس، ولظهور الأسنان عنده سمّيت مقدّمات الأسنان الضَّوَاحِكِ. قال تعالیٰ “ وَامْرَأَتُهُ قائِمَةٌ فَضَحِكَتْ [هود/ 71] ، وضَحِكُهَا کان للتّعجّب بدلالة قوله : أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ [هود/ 73] ، ويدلّ علی ذلك أيضا قوله : أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ إلى قوله : عَجِيبٌ [هود/ 72] ، وقول من قال : حاضت، فلیس ذلک تفسیرا لقوله : فَضَحِكَتْ كما تصوّره بعض المفسّرين «1» ، فقال : ضَحِكَتْ بمعنی حاضت، وإنّما ذکر ذلک تنصیصا لحالها، وأنّ اللہ تعالیٰ جعل ذلک أمارة لما بشّرت به، فحاضت في الوقت ليعلم أنّ حملها ليس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
ترکیب ¦ فاذا حرف الشرط جاءت فعل الصاخۃ فاعلہ والجملۃ شرطیۃ والجواب محذوف یدل علیہ الکلام الاتی وھو لکل امری منہم الخ الصاخۃ الصیحۃ وسمیت بھا لشدۃ صو تھا کانھا تصخ الاذان ای تصمھا فلا تسمع واصل الکلمۃ من الصخ وھو الطعن والصک بقال صخ راسہ بحجرای شدخہ والغراب یصخ بمنقارہ فی وبرالبعیر ای یطعن وھی النفخۃ الاخیرۃ والفاء للدلالۃ علی ترتیب مابعدھا علی ما قبلھا یوم منصوب بمقدر ای اعنی ویکون تفسیراً للصاخۃ اوبدل من اذا جاءت لکل امری منہم خبر شان یغنیہ مبتدء یومئذ ظرف لہ والجملۃ مستانفۃ مسوقۃ لبیان سبب الفرار۔ وجوہ مبتداء والنکرۃ لوقوعھا فی مقام التفصیل والتوزیع صلحت للابتداء یومئذ متعلق بہ مسفرۃ خبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَۃٌ۔ ضَاحِکَۃٌ مُّسْتَبْشِرَۃٌ۔ وَوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ عَلَیْھَا غَبَرَۃٌ۔ تَرْھَقُھَا قَتَرَہٌ۔ اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْـکَفَرَۃُ الْفَجَرَۃُ ۔ (عبس : 38 تا 42) (کچھ چہرے اس دن روشن ہوں گے۔ ہشاش بشاش، خوش و خرم۔ اور کچھ چہروں پر اس دن خاک اڑ رہی ہوگی۔ اور کلونس چھائی ہوگی۔ یہ کافر و فاجر لوگ ہوں گے۔ ) مُسْفِرَۃٌ … روشن اور تابناک۔ یہ اَسْفَرَالصُّبْحُ کے محاورے سے ماخوذ ہے۔ ضَاحِکَۃٌ مسکرانے والے چہرے، کیونکہ یہ وُجُوْہٌ کی صفت ہے۔ مُسْتَبْشِرَۃٌ … ہشاش بشاش۔ قیامت کے روز کافر اور مومن الگ الگ کردیئے جائیں گے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے وَامْتَازُوا الْیَوْمُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے انسان کو اس کی تخلیق اور اس کی خوراک کا حوالہ دے کر اس کا قیامت کے دن زندہ ہونا ثابت کیا اور اب محشر کے دن دوسرے نفخہ کے بعد لوگوں کی حالت بیان کی جاتی ہے۔ سورت النّازعات کی آیت 34 میں قیامت کو ایک بڑی آفت قرار دیا گیا ہے قیامت کے بنیادی طور پر دو مرحلے ہوں گے۔ پہلے مرحلے میں ہر چیز تباہ کردی جائے گی اور اس کے بعد نامعلوم کتنے عرصے کے بعد قیامت کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگا۔ دوسرے مرحلہ کی ابتدا بھی اسرافیل کے صور پھونکنے پر ہوگی جس سے ایک مرتبہ پھر پوری زمین ہل جائے گی اور لوگ اپنے اپنے مدفن سے نکل کر محشر کے میدان میں اکٹھے ہوجائیں گے جس کی تفصیل قرآن مجید اور…
Read the full tafseer →39 : ضَاحِکَۃٌ مُّسْتَبْشِرَۃٌ (شاداں ہونگے) ان چہروں والے شاداں ہونگے یہ مومن ہیں جو مسرور وخوش باش ہونگے۔
Read the full tafseer →38 ۔” وجوہ یومئذ مسفرۃ “ چمک دار روشن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–42
32۔ 41۔ اوپر کی آیتوں میں انسان کے پیدا کرنے اور اس کی زیست بھر کے چند انتظاموں کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ انسان کی پیدائش اور اس کی زیست بھر کے انتظام اسی انجام کے لئے ہیں کہ مرنے کے بعد ایک دفعہ اس کو پھر زندہ کیا جائے اور دنیا کے سب نیک و بد کا حساب و کتاب ہو کر ہر ایک کی جزا و سزا کا فیصلہ اخیر صادر ہوجائے۔ حاصل یہ کہ دنیا فیصلہ اخیر کی روداد جمع ہوجانے کے لئے ہے اور قیامت کا دن اس روداد کے موافق فیصلہ اخیر صادر کرنے کی پیشی کی تاریخ ہے اور تمام دنیا کے مختلف روداد کے مقدمات کا فیصلہ اخیر ایک ہی وقت ہوگا اس لئے دنیا کے ختم کے بعد کی یہ وسیع تاریخ پیشی…
Read the full tafseer →(ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ) وہ چیرے خنداں و شاداں ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
(31) کامیاب اور فائز المرام لوگوں کے اثرات ان کے چہروں پر : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " کچھ چہرے اس روز چمکتے اور ہنستے مسکراتے ہوں گے "۔ یعنی ان کے اپنے اس نور ایمان اور عمل صالح کی برکت سے، اور اس کے نتیجے میں جس سے وہ اپنی دنیاوی زندگی میں سرفراز رہے ہوں گے۔ اللھم اجعلنا منھم بمحض منک وکرمک، یا ارحم الرحمین۔ سو ان چمکتے دمکتے اور ہنستے مسکراتے چہروں سے ان خوش نصیبوں کے باطن کی کیفیت کا کسی قدر اندازہ ہوسکے گا۔ اللہ نصیب فرمائے آمین۔ " مسفرہ " کا لفظ " اسفر الصبح "۔ " صبح روشن ہوگئی " کے محاورے سے ماخوذ ہے، سو ان خوش نصیبوں کے چہرے اس روز روشن و تابناک ہوں گے، سو اس سے ان کے چہروں کی چمک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–42
انسان کی حیثیت، اللہ کی رحمتیں اور نیک و بد کا فرق تشریح : انسانی پیدائش کا ذکر بہت دفعہ ہوچکا ہے یہاں اس صورت سے کیا گیا ہے کہ بندہ اگر اپنی اوقات کو دیکھے تو اس کا سارا غرور نخوت اور نافرمانی ہوا ہوجائے۔ کیونکہ اس کی ابتدا حیوانات کی ابتدا اور نباتات کے اگنے کا عمل تقریباً ایک جیسا ہی ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ '' تاب پذیر انڈا تین بنیادی طریقوں سے ترقی پذیر ہوتا ہے۔ 1 ۔ زمین کے اندر ' جیسے پودے۔ 2 ۔ ایک انڈے کے خول کے اندر جیسے عام طور پر پرندوں کے بارے میں ہے۔ 3 ۔ رحم مادر میں۔ جیسے انسان اور دودھ پلانے والے جانور۔ اب زرخیز شدہ انڈہ کی تعریف یوں کی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
سورة عبس۔ آیات 1 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔ نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
ف 17 یعنی مومنوں کے چہرے جو نور ایمان سے دمک رہے ہوں گے انتہائی مسرت سے شادماں ہوں گے۔
Read the full tafseer →(80:39) ضاحکۃ : ضحک (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ جس کا مرجع وجوہ ہے۔ ضاحکۃ وجوہ کی خبر ثانی ہے۔ مسفرۃ خبر اول ہنستے ہوئے۔ خنداں۔ مستبشرۃ۔ استبشار (اسفتعال) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث شگفتہ، شاداں۔ خوش۔ ایسی چیز پانیوالے جس سے شگفتگی اور خوشی پیدا ہوجائے یہ وجوہ کی خبر ثالث ہے۔ ترجمہ آیات 38 تا 39:۔ کتنے ہی چہرے اس روز دمکتے ، ہنستے ، شاداں ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
لغات القرآن الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(ف 1) یعنی مومنین کے چہرے نور ایمان سے روشن اور غایت مسرت سے خنداں وفرحاں ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
[10] یعنی اس دن ہر شخص کو اپنی نجات کی فکر پڑی ہوگی اور عزیز سا عزیز کسی کے کام نہ آئے گا اور نہ اس سے ہمدردی کرسکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
آپا دھاپی اور نفسا نفسی 1: غرض یہ ہے کہ آج تو یہ مادیت میں پھنسے ہوئے لوگ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی بوقلموں نعمتوں سے استفادہ کررہے ہیں اور ان چیزوں کو حاصل حیات سمجھے ہوئے ہیں ۔ مگر ایک وقت آنے والا ہے جب کانوں کو بہرہ کردینے والی آواز کا دھماکہ ہوگا اور یہ محسوس کریں گے کہ اب احتساب کی گھڑی قریب تر ہورہی ہے ۔ اس وقت یہ تعلقات جو یہاں گناہ اور معصیت کا سبب بن جاتے ہیں ، منقطع ہوجائیں گے اور ہر شخص آپا دھاپی اور نفسانفسی میں کچھ ایسا منہمک ہوگا کہ دوسروں کی ہمدردی کا خیال بھی اس کے دل میں پیدا نہیں ہوگا ۔ جس بھائی پر وہ جان دیتا تھا اور جن کی وجہ سے کئی ہنگامے اور لڑائیاں اس نے مول لی تھیں ۔ آج…
Read the full tafseer →(39) اور ہنستے اور اظہار مسرت کرتے ہوں گے۔ یعنی ایمان کی وجہ سے چہرے روشن اور مسرت سے خنداں و شاداں ہورہے ہوں گے یہ حضرات اہل ایمان ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–42
ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
آیت 33 تا 42: طامہ حاقہ خاصہ جیسے اسم فاعل کے وزن پر صاخہ بھی مصدر ہے جس کا معنی ایک چیخ اور پکار ہے اور مرد اس سے قیامت ہے۔ جب وہ بپا ہوگی تو اس وقت ماں باپ بھائی بہن بیوی بچے شوہر کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوگی جب ماں باپ جیسے قریبی رشتے کام نہیں دیں گے تو دوستوں یاروں کا قصہ ہی کیا ہے کہ کوئی کسی کے کام آسکے جس طرح دوست یار و رشتہ دار کام نہیں دیں گے اسی طرح پر مال و دولت بھی کام نہیں دیں گے۔ جس پر بھی کوئی سنگین مقدمہ کھڑا ہوا اور جرم ثابت ہوا تو وہ اپنے ماں باپ بیوی یچوں شوہر بہن بھائی اور رشتہ داروں سے بھاگتا پھرے گا کہ کہیں مجھے چھوڑا جائے مجھے کسی سے کیا مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–42
يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ (the Day when one will flee from his brother...80:34). This depicts the scene when all the people will have gathered in the Plain of Gathering. Each person will be worried about himself, and the situation will be so horrifying and tense that it will make people heedless of anything around them. In the world, there are relationships between people that make one willing to lay down his life for the other, but on the Day of Resurrection there will be such horror and chaos that they will be unable to take care of anyone. In fact, even if one sees the other…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
23 A tradition has been reported in the. Hadith by different methods and through different channels, saying that the Holy Prophet (upon whom be peace) said: "On the Day of Resurrection all men will rise up naked." One of his wives (according to some reporters, Hadrat `A'ishah, according to others, Hadrat Saudah, or a woman) asked in bewilderment: "O Messenger of Allah, shall we (women) appear naked on that Day before the people ?° The Holy prophet recited this very verse and explained that on that Day each one will have enough of his own troubles to occupy him, and will be wholly unmindful of…
Read the full tafseer →