Abasa 80:28

Abasa · from ayah 28

80:28

وَّعِنَبًا وَّقَضْبًا ۟ۙوَّ عِنَبًا وَّقَضۡبًا

اور انگور اور ترکاری

— Fateh Muhammad Jalandhari

And grapes and herbage

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Abasa

All translations of 80:28

اور انگور اور ترکاری

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور انگور اور ترکاری

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور انگور اور ترکاریاں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور انگور اور چارہ،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور انگور اور ترکاری،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انگور اور ترکاری۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور انگور اور ترکاریاں

— مولانا اسحاق مدنی

اور انگور اور مختلف ترکاریاں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور انگور اور ترکاری

— محترمہ رفعت اعجاز

together with grapes and vegetables,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And grapes and Qadb,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And grapes and herbage

— Saheeh International

grapes, vegetables,

— Muhammad Sarwar

And grapes and clover,

— Muhammad Habib Shakir

And grapes and vegetables

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 80:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–32

ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کردیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ؟ اس نے انسان کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 26–31

سورة عَبَس 19 زمین کو پھاڑنے سے مراد اس کو اس طرح پھاڑنا ہے کہ جو بیج یا گھٹلیاں یا نباتات کی پنیریاں انسان اس کے اندر بوئے، یا جو ہواؤں اور پرندوں کے ذریعہ سے، یا کسی اور طریقے سے اس کے اندر پہنچ جائیں، وہ کونپلیں نکال سکیں۔ انسان اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتا کہ زمین کو کھودتا ہے یا اس میں ہل چلاتا ہے اور جو تخم خدا نے پیدا کردیے ہیں، انہیں زمین کے اندر اتار دیتا ہے، اس کے سوا سب کچھ خدا کا کام ہے۔ اسی نے بیشمار اقسام کی نباتات کے تخم پیدا کیے ہیں۔ اسی نے ان تخموں میں یہ خاصیت پیدا کی ہے کہ زمین میں پہنچ کر وہ پھوٹیں اور ہر تخم سے اسی کی جنس کی نباتات اگے۔ اور اسی نے زمین میں یہ صلاحیت پیدا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–32

كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ اَمَرَهٗ ، اس میں تخلیق انسانی کی ابتدا و انتہا اور ان میں حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور انعامات کا ذکر کرنے کے بعد منکر انسان کو تنبیہ کی گئی کہ ان آیات الیہہ اور انعامات کا تقاضا تھا کہ انسان ان میں غور کرکے اللہ پر ایمان لاتا اور اسکے احکام کی تعمیل کرتا مگر اس بدنصیب نے ایسا نہیں کیا، آگے پھر ان انعامات الیہہہ کا تذکر ہے جو تخلیق انسانی کی ابتداء و انتہا کے درمیانی زمانے میں انسانی پر مبذول ہوتے ہیں کہ انسان کا رزق کس طرح پیدا کیا جاتا ہے کہ آسمان سے پانی برستا ہے، بیج اور دانہ جو زمین میں مدفون ہے یہ بارش اس میں ایک حیات نباتی پیدا کرتی ہے جس کے ذریعہ ایک نحیف…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 27–29

زمین کی بعض برکتیں: آسمان و زمین یا بالفاظ دیگر بارش اور زمین کے باہمی تفاعل سے اللہ تعالیٰ کی پروردگاری کی جو برکتیں اہل زمین کے لیے ظہور میں آتی ہیں یہ ان میں بعض ایسی نمایاں چیزوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے جن سے قرآن کے اول مخاطب واقف بھی تھے اور جو انسان کی غذائی ضروریات میں بنیادی اہمیت رکھنے والی بھی ہیں۔ سب سے پہلے بعض ان چیزوں کی طرف توجہ دلائی جو زمین سے لگی ہوئی یا اس پر بچھی ہوئی پیدا ہوتی ہیں اور جن کو دیکھنے کے لیے نظر اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑتی، مثلاً غلّہ، انگور اور ترکاریاں۔ غلّہ غذائی چیزوں میں بنیادی اہمیت رکھنے والا ہے۔ دوسری ساری چیزیں اس کے تحت ہیں۔ اس وجہ سے اس کا ذکر سب سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 25–33

33۔ 1 یعنی قیامت وہ ایک نہایت سخت چیخ کے ساتھ واقع ہوگی جو کانوں کو بہرہ کر دے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 26–32

8: ایک ننھے سے پودے کی کونپل اتنی بھاری زمین کو پھاڑ کر جس طرح باہر نکل آتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان لانے کے لیے کافی ہونی چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وعنبا وقضبا (28:80) ” انگور اور ترکاریاں “۔ انگور تو مشہور ہیں۔ قصب ان سبزیوں کو کہا جاتا ہے جو سبزی کے طور پر کھائی جاتی ہیں۔ اور ان کو بار بار کاٹا اور چنا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 27–32

15 یعنی بعض چیزیں تمہارے کام آتی ہیں اور بعض تمہارے جانوروں کے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 26–31

آیت 26{ ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا۔ } ”پھر ہم نے زمین کو پھاڑا جیسے کہ وہ پھٹتی ہے۔“ زمین پھٹتی ہے اور اس میں سے کو نپلیں برآمد ہوتی ہیں ‘ جو رفتہ رفتہ پورے پودے بلکہ تناور درخت کی صورت اختیار کرلیتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 26–31

17 بارش کا زمین پر اثر : یعنی انسان اگر اپنے کھانے کی چیزوں میں ہی غور کرلیتا تو اسے اپنے پروردگار کی ناشکری کی کبھی جرأت نہ ہوسکتی تھی۔ انسان کا کام صرف اتنا ہے کہ وہ زمین میں سطح زمین سے تھوڑا سا نیچے بیج اتار دے۔ بس اس کے بعد اس کا کام ختم ہوجاتا ہے۔ خواہ انسان یہ کام زمین میں ہل چلا کر کرے یا کسی دوسرے ذریعہ سے کرے۔ زمین پر بارش برسانا اللہ کا کام ہے۔ یہی بارش کا پانی کبھی ندی نالوں، دریاؤں اور نہروں سے حاصل ہوتا ہے اور کبھی چشموں اور کنووں سے۔ بہرحال وہ بارش ہی کا جمع شدہ پانی ہوتا ہے۔ خ زمین میں بالیدگی :۔ پانی اور زمین کی اوپر کی سطح جب مل جاتے ہیں تو ایسی مٹی میں اللہ تعالیٰ نے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 25–32

12۔ گویا نباتیات کا یہ سارا نظام، انسان بلکہ اس کے خادم چوپایوں ہی کی خدمت اور ضرورت کے لئے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–36

ثم اماتہ فاقبرہ تخلیق انسانی کی ابتداء بیان کرنے کے بعد اس کی انتہاء کو بیان فرمایا کہ اس کی انتہاء موت اور قبر ہے، اس کا ذکر بسلسلہ انعامات فرمایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی موت درحقیقت کوئی مصیبت نہیں، نعمت ہی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا ’ تحفۃ المئومن الموت “ کہ مومن کا تحفہ موت ہے اور اس میں مجموعہ عالم کے اعتبار سے بڑی حکمتیں ہیں فاقبرہ پھر اس کو قبر میں داخل کیا یہ بھی ایک انعام ہے کہ انسان کو حق تعالیٰ نے عام جانوروں کی طرح نہیں رکھا کہ مرگیا تو وہیں زمین پر پڑا سڑتا اور پھولتا پھٹتا رہے، بلکہ اس کا اکرام یہ کیا گیا کہ اس کو نہلا کر نئے اور پاک صاف کپڑوں میں ملبوس کر کے احترام کے ساتھ قبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واغبا و قضبا . اور انگور اور ساگ۔ قَضْبٌ اصل میں مصدر ہے کاٹنا۔ قَضَبَہٗ اس کو کاٹ دیا۔ ساگ بھی بار بار کاٹا جاتا ہے اس لیے اس کو قضب کہا جاتا ہے۔ صحاح جوہری میں ہے کہ قضب کا استعمال سبزی میں ہوتا ہے۔ قاموس میں ہے قضب وہ درخت ہے جس کی شاخیں لمبی اور پھیلی ہوئی ہوں۔ کوئی درخت ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 25–32

(25۔ 32) اب اس تحویل کو بیان کرتا ہے کہ ہم نے عجیب طور سے زمین پر پانی برسایا اور پھر نباتات کے ذریعے سے پھاڑا پھر ہم نے اس زمین میں ہمہ قسم کے غلے اور انگور اور ترکاریاں اور زیتون اور کھجور اور گنجان باغ اور میوے اور چارہ پیدا کیا، غلے تمہارے فائدے کے لیے اور چارہ تمہارے جانوروں کے لیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 27–28

(فانبتنا فیھا حباً …:”قضباً“ ”قضب یقضب“ (ض) (کاٹنا) کا مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، یعنی زمین کی وہ پیدا وار جو سال میں کئی مرتبہ کاٹی جاتی ہے، مراد ترکاری ہے۔ وہ چاریبھی اس میں آجاتے ہیں جو بار بار کاٹے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 26–28

ثم شققناالارض شقا، فانبتنا فیھا حبا، وعنباوقضبا۔ ہم نے زمین کو نباتات سے پھاڑا پھر ہم نے اس میں گندم، جو وغیرہ، جن چیزوں کو کاٹا جاتا ہے اور ذخیرہ کیا جاتا ہے، اور ان کو اگایا، جوقت، (ایک دانا جو صحراء میں ہوتا ہے لوگ اسے کوٹ کر کھاتے ہیں) اور چارہ ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا، اسے قضب اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس کے ظہور کے بعد اسے بار بار کاٹا جاتا ہے۔ قتبی اور ثعلب نے کہا، اہل قت کو قضب کہتے ہیں، حضرت ابن عباس نے کہا، اس سے مراد تر کھجوریں ہیں کیونکہ انہیں کھجور کے درخت سے کاٹا جاتا ہے کیونکہ اس سے پہلے عنب کا ذکر کیا، ان سے یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد فصفحہ یہ ترقت ہوتا ہے، خلیل نے کہا، قضب سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 25–29

19۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انا صببنا الماء صبا کہ ہم نے اوپر سے مینہ برسایا۔ یعنی بارش آیت ثم شققنا الرض شقا پھر ہم نے زمین کو چیر کر پھاڑا یعنی نباتات کے ساتھ۔ 20۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وقضبا۔ اور ترکاریاں یعنی سبز گھاس اگائی آیت وحدائق غلبا۔ اور گھنے باغ یعنی لمبے باغ آیت وفاکۃ وابا۔ اور میوے اور گھاس یعنی تازہ پھل اگائے۔ 21۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حدائق سے مراد ہے گھنے اور جڑے ہوئے باغات اور غلب سے مراد ہے جو موٹے ہوں اور الاب سے مراد ہے جو زمین اگاتی ہے ان چیزوں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّعِنَبًا وَّقَضْبًا؛اور انگور اور ترکاری ] ق ض ب [قَضْبًا : (ض) لمبے اور پھیلے ہوئے درخت اگنا۔ کاٹنا۔] [ قَضْبٌ ہر وہ درخت جس کی شاخیں لمبی ہو کر لٹک جائیں۔ سبزی ترکاری۔ زیرمطالعہ آیت۔ 28 ۔]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 24–31

ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہ نے انسان کو غور و فکر کرنے کا حکم دیا ہے، ارشاد فرمایا کہ انسان اپنے کھانے کی چیزوں میں غور کرے، یہ چیزیں زمین سے نکلتی ہیں۔ ان میں غلے بھی ہیں اور پھل بھی، انگور بھی ہیں اور زیتون بھی، کھجوریں بھی ہیں اور سبزیاں ترکاریاں بھی، نیز فواکہ بھی ہیں جنہیں بطور تفکہ کھاتے ہیں اور گھاس پھوس بھی ہے جو جانوروں کا چارہ بن جاتا ہے، جن درختوں پر پھل آتے ہیں وہ صرف یہی نہیں کہ اکا دُكا کوئی درخت کہیں نکل آیا بلکہ ان کے باغ ہیں جن میں بڑے بڑے درخت ہیں، ان میں خوب کثرت سے پھل پیدا ہوتے ہیں، لفظ حدائق حدیقہ کی جمع ہے جس باغ کی چار دیواری بنا دی گئی ہو وہ حدیقہ ہے اور جس کی چار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–42

ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 24–32

8:۔ ” فلینظر الانسان “ یہ ثبوت قیامت پر عقلی دلیل ہے۔ ” قضبا “ ترکاریاں۔ ” غلبا “ گنجان۔ ” ابا “ گھاس۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے کھانے پینے کی اشیاء کو دیکھئے کس طرح ہم نے ان کو پیدا کیا ہے ہم نے آسمان سے مینہ برسایا، پھر زمین کو شق کردیا اور اس میں غلے انگور، ترکاریاں، زیتون، کھجوریں، ہر قسم کے گنجان باغات، میوہ جات اور گھاس پیدا کی۔ یہ تمام چیزیں تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے لیے سامان زندگی ہیں۔ یہ سارے انعامات کس نے عطاء کیے ہیں ذرا غور تو کرو اور بتاؤ جو مردہ زمین کو زندہ کر کے اس میں انواع و اقسام نبات پیدا کرسکتا ہے کیا وہ مردوں کو دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا ضرور کرسکتا ہے اور کرے گا اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–32

(گذشتہ سے پیوسنہ ) اس سورة مبارکہ کا پہلا حصہ تمہید ہے اس آخر ی حصے کی جو سورة کا اصل موضوع ہے۔ ایک نابینا شخص جو بظاہر محتاج ہے ۔ ظاہری خوبصورتی سے بھی محروم ہے ۔ مگر وہ حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اور غوروفکر کرتا ہے ۔ اسکے تعلق اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو عتاب کے طریق پر فرمایا کہ ایسے شخص سے روگردانی نہیں کرنی چاہئیے ۔ اس کے برخلاف جو ظاہر میں مہذب شائستہ خوشحال ۔ آسودہ حال اور خوبصورت ہیں آپ ان کی طرف زیادہ توجہ فرماتے ہیں ۔ حالانکہ وہ ہدایت کے طالب ہی نہیں ۔ البتہ یہ نابینا شخص طلب گار بن کر آیا ہے اس کے سینے میں جذبہ ہے ، اور نیت بھی درست ہے یہ توجہ کا زیادہ مستحق ہے۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّعِنَبًا وَّقَضْبًا۝ 28 ۙ عنب العِنَبُ يقال لثمرة الکرم، وللکرم نفسه، الواحدة : عِنَبَةٌ ، وجمعه : أَعْنَابٌ. قال تعالی: وَمِنْ ثَمَراتِ النَّخِيلِ وَالْأَعْنابِ [ النحل/ 67] ، وقال تعالی: جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَعِنَبٍ [ الإسراء/ 91] ، وَجَنَّاتٍ مِنْ أَعْنابٍ [ الرعد/ 4] ، ( عن ن ب ) العنب ( انگور ) یہ انگور کے پھل اور نفس کے لئے بھی بولا جات ا ہے اس کا واحد عنبۃ ہے اور جمع اعناب قرآن میں ہے : وَمِنْ ثَمَراتِ النَّخِيلِ وَالْأَعْنابِ [ النحل/ 67] اور کھجور اور انگور کے میووں سے بھی ۔ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَعِنَبٍ [ الإسراء/ 91] کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو ۔ وَجَنَّاتٍ مِنْ أَعْنابٍ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 24–32

ترکیب ¦ انا قرء الجمہور بالکسر علی الاستیناف والکوفیوں بالفتح علی انہ بدل من طعامہ الاشتمال لان نزول المطر سبب لحصول الطعام فھو کالمشتمل علیہ او بتقدیر اللام ای لانہ والمعنی فلینظر الانسان الی اناصببنا الماء صباء وعنبا معطوف علی حباء وابنات العنب باعتبار شجرتہ وکذا قضبا فیہ قولان الاول انہ الرطبۃ وھی التی اذایبست سمیت بالقت واھل مکۃ یسمونھا بالقضب واصلہ من القطع وذلک لانہ یقضب مرۃ بعد اخرٰی وھذا قول ابن عباس ؓ والثانیؔ ھو قول المبردانہ العلف بعینہ وبہ قال الحسن البصری (رح) قضیب اقتضاب بریدن واقتصاب الکلام ارتجالہ وقضبہ ای قطعہ قضب وقضبہ سپت مقبضہ سپست زار۔ قضیب شاخ درخت قضبان جمع و نرہ خرد…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 25–32

اَنَّا صَبَبْنَا الْمَـآئَ صَبًّا۔ ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا۔ فَاَنْبَتْنَا فِیْھَا حَبًّا۔ وَّعِنَـبًاوَّقَضْبًا۔ وَّزَیْتُوْنًا وَّنَخْلاً ۔ وَّحَدَآئِقَ غُلْـبًا۔ وَّفَاکِھَۃً وَّاَبًّا۔ مَّتَاعًا لَّـکُمْ وَلِاَنْعَامِکُمْ ۔ (عبس : 25 تا 32) (ہم نے خوب پانی برسایا۔ پھر اچھی طرح زمین کو پھاڑا۔ پھر اس کے اندر غلے اگائے۔ اور انگور اور ترکاریاں۔ اور زیتون اور کھجوریں۔ اور گھنے باغات۔ اور طرح طرح کے پھل اور چارے۔ سامانِ زیست تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے۔ ) سابقہ آیت میں انسان کو اپنے کھانے پر غور کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ اب اس کھانے اور غذا کو بہم پہنچانے کے لیے جس بنیادی چیز کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 24–32

فہم القرآن ربط کلام : انسان کی خوراک سے قیامت کا ثبوت۔ اس سے پہلے انسان کو اس کی تخلیق کے مختلف مراحل کا ذکر فرما کر قیامت کے دن اٹھائے جانے کا ثبوت مہیا فرمایا۔ اب انسان کو اس کی خوراک کے حوالے سے سمجھایا جارہا ہے کہ اے انسان ! تجھے اپنے کھانے پینے پر غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تیری خوراک کا کس طرح بندوبست کرتا ہے ؟ ارشاد ہوا کہ یقیناً ہم نے آسمان سے پانی برسایا اور ہم نے زمین کو پھاڑا، پھر ہم نے اس میں اناج اگایا، اناج میں انگور، سبزیاں، زیتون، کھجوریں، گنجان اور لہلاتے ہوئے باغ، ہر قسم کے پھل اور چارہ پیدا کیا، انہیں تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ انسان کو اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

28 : وَّعِنَبًا وَّقَضْبًا (اور انگور اور ترکاری) عنباًؔ انگورکا پھل یہ طعام اور میوہ دونوں ہیں۔ قضباؔ ترکاری۔ یہ قضب یقضب کا مصدر ہے۔ جس کو بطور تسمیہ استعمال فرمایا۔ اس کو قضب کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کو بار بار کاٹا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–31

17۔ 31۔ اوپر ذکر تھا کہ اہل مکہ قرآن کو کلام الٰہی جان چکے تھے مگر بجائے اس کے کہ وہ اللہ کی اس نعمت کا شکریہ ادا کرتے کہ اس نے ان لوگوں کی اصلاح اور ان کے بزرگوار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت ابراہیمی کے پھر دنیا میں قائم ہوجانے کی مصلحت سے اپنے رسول کی معرفت ان لوگوں پر یہ کلام بھیجا۔ ان لوگوں نے یہ ناشکری اور اللہ کے کلام کی یہ ناقدری کی کہ اس کو جھٹلایا اب اس ناشکری کے ذکر کو پورا کرنے کے لئے ان آیتوں میں فرمایا کہ انسان کی ناشکری کچھ اس پر منحصر نہیں ہے جس کا ذکر اوپر گزرا بلکہ انسان تو ایسا بڑا ناشکرا ہے کہ اللہ نے اس کو ناچیز شے ایک پانی کی بوند سے مناسب اعضاء میں بنایا۔ پیدائش کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 26–29

(ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا) پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا (فانبتنا فیھا) اس میں ہمنے مختلف اصناف اگائیں، یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور (حبا) دانے۔ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔ (وعنبا قضبا) اور انگور اور ترکاری۔ (وزیتونا ونخلا) اور زیتون اور کھجور۔ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 26–28

(24) غور و فکر کے لیے صحیح طریقے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا اور غور و فکر کے صحیح طریقے کی تعلیم و تلقین کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " انسان دیکھے کہ کس طرح ہم نے پانی برسایا، پھر کس عجیب و غریب طریقے سے ہم نے پھاڑا زمین کو " جس سے کمزور قسم کی انگوری کی سوئی باہر نکل آتی ہے، اور وہ اپنی زبان حال سے اپنے خالق ومالک کی وحدانیت ویکتائی کی نغمہ سرائی کرتی ہوئی دنیا کو توحید و وحدانیت خداوندی کا سبق سکھاتی ہے۔ اور اپنی زبان بےزبانی سے انسان کو ایسا درس عبرت و بصیرت دیتی ہے کہ اگر وہ اس میں صحیح معنوں میں اور صحیح طور پر غور و فکر سے کام لے تو کفر و شرک کے تمام اندھیرے چھٹ جائیں، مگر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–42

انسان کی حیثیت، اللہ کی رحمتیں اور نیک و بد کا فرق تشریح : انسانی پیدائش کا ذکر بہت دفعہ ہوچکا ہے یہاں اس صورت سے کیا گیا ہے کہ بندہ اگر اپنی اوقات کو دیکھے تو اس کا سارا غرور نخوت اور نافرمانی ہوا ہوجائے۔ کیونکہ اس کی ابتدا حیوانات کی ابتدا اور نباتات کے اگنے کا عمل تقریباً ایک جیسا ہی ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ '' تاب پذیر انڈا تین بنیادی طریقوں سے ترقی پذیر ہوتا ہے۔ 1 ۔ زمین کے اندر ' جیسے پودے۔ 2 ۔ ایک انڈے کے خول کے اندر جیسے عام طور پر پرندوں کے بارے میں ہے۔ 3 ۔ رحم مادر میں۔ جیسے انسان اور دودھ پلانے والے جانور۔ اب زرخیز شدہ انڈہ کی تعریف یوں کی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–42

سورة عبس۔ آیات 1 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔ نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 27–31

ف 12 اب سے مراد دراصل وہ گھاس یا چارہ ہے جسے لوگ نہیں کھاتے بلکہ جانور کھاتے ہیں اور وہ زمین سے آدمی کی کوشش کے بغیر خود بخود پیدا ہوتا ہے۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(80:28) عنبا وقضبا۔ واؤ عاطفہ، عنبا معطوف، واؤ عاطفہ قضبا معطوف ہر دو عنبا، قضبا کا عطف حیا پر ہے۔ عنب بمعنی انگور۔ امام راغب لکھتے ہیں :۔ عنب انگور کو بھی کہتے ہیں اور اس کے درخت کو بھی۔ اس کا واحد وعنبۃ ہے اور جمع اعناب ہے۔ قضبا کھیرا، یا عام سبز ترکاری۔ قضب وقضیب دونوں کے معنی تروتازہ ، لیکن درخت کی تروتازہ شاخوں کو بھی قضیب کہا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–42

لغات القرآن الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 25–32

(ف 2) یعنی ایک گھاس کے تنکے کی کیا طاقت تھی کہ زمین کو چیڑ پھاڑ کر باہرنکل آتا یہ قدرت کا ہاتھ ہے جو زمین کو پھاڑ کر اس سے طرح طرح کے غلہ پھل اور سبزی ترکاریاں وغیرہ باہرنکالتا ہے پھر بعض چیزیں تمہارے کام آتی ہیں اور بعض تمہارے جانوروں کے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–32

[8] زمین کو پھاڑنے کی دو صورتیں ہیں، ایک تو جوتنا دوسرے بیج کا پھوٹنا۔ کیونکہ دونوں کام اللہ کے حکم سے ہوتے ہیں اس لئے فرمایا کہ ہم نے پھاڑا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–36

ف 2: صحف مکرمۃ سے مراد اوراق قرآن ہیں جو عنداللہ مکرم ہیں ۔ اور رفعت اور پاکیزگی میں ممتاز ہیں ۔ اور بایدی سفرۃ سے مقصود صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں صحابہ ہیں جن کے بزرگ اور مقدس ہاتھوں میں ان کی کتابت ہوئی اور جن کی مساعی سے یہ کتاب حکیم ساری دنیا میں اشاعت پذیر ہوئی ۔ حل لغات :۔ لہ تصدی ۔ آپ اس کے درپے ہوئے ۔ اس کی فکر میں پڑتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–42

ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 24–32

آیت 24 تا 32: انسان کو اپنے کھانے پینے اور لباس و دیگر ضروریات زندگی پر خوب اچھی طرح سے غور و فکر کرنا مناسب ہے کہ ہم انہیں کس طرح پیدا کرتے ہیں پہلے پانی بھرے بادل چھا جاتے ہیں پھر موسلا دھار بارش برستی ہے اور زمین کی خشکی دور ہو کر تری پھیلتی ہے پھر بیج پھٹتا ہے اور زمین شق ہوتی ہے اور طرح طرح کی خوشنما اور خوش وضع سبزیاں پیدا ہوتی ہیں جس میں طرح طرح کا دانہ نیچے اوپر چڑھا ہوا پیدا ہوتا ہے جو کہ سٹوں بھٹوں میں محفوظ ہوتا ہے اور انسان اسے محبت بھری نگاہوں سے دیکھتا ہے اور صبح و شام سے اپنی غذا بناتا ہے جیسے گندم جو کئی قسم کی ہوتی ہے اور بےچھلکا جو اور چھلکا دار جو اور مکئی اور باجرہ اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–32

كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَا أَمَرَ‌هُ (No! He has not yet fulfilled what He [ Allah ] had commanded him...80:23). Having mentioned in the preceding verses the beginning and the end of human life, Divine Omnipotence and Divine blessings, the current verses warn the non-believing man that the demand of Divine Signs and blessings was to carefully ponder and believe in Allah, and comply with His injunctions, but the unfortunate creature failed to do so. Further, the Divine favours are mentioned that were conferred on man between the beginning and end of his life. Man is then asked to consider the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 26–31

19 "Cleaving the earth asunder" implies cleaving it in a way that the seeds, or seed-stones, or vegetable seedlings that man sows or plants in it, or which are deposited in it by winds or birds, or by some other means, should sprout up. Man can do nothing more than to dig the soil, or plough it, and bury in it the seeds that God has already created. Beyond this everything is done by God. It is He Who has created the seeds of countless species of vegetable; it is He Who has endowed these seeds with the quality that when they are sown in the soil, they should sprout up and from every seed…

Read the full tafseer →