كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌ ۟ۚكَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ
دیکھو یہ (قرآن) نصیحت ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
No! Indeed, these verses are a reminder;
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌ ۟ۚكَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ
دیکھو یہ (قرآن) نصیحت ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
No! Indeed, these verses are a reminder;
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
Read the whole surah · Surah Abasa
ہرگز نہیں، یہ تو ایک نصیحت ہے
دیکھو یہ (قرآن) نصیحت ہے
یہ ٹھیک نہیں قرآن تو نصیحت (کی چیز) ہے
ہرگزا یسا نہیں چاہیے۔ یہ قرآن تو ایک نصیحت ہے۔
یوں نہیں یہ تو سمجھانا ہے
(اے حبیبِ مکرّم!) یوں نہیں بیشک یہ (آیاتِ قرآنی) تو نصیحت ہیں،
ایسا ہرگز نہیں چاہیے، یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے۔
ایسا ہرگز نہیں چاہیے۔ یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے
ہرگز نہیں، یہ تو ایک یاددہانی ہے
(ایسا) ہرگز نہیں بلاشبہ یہ (قرآن) ایک عظیم الشان نصیحت ہے
ہرگز ایسا نہ کیجئے۔ قرآن تو بس ایک نصیحت ہے
ایسا ہرگز نہ کیجیے یہ تو ایک یاد دہانی ہے۔
دیکھو یہ قرآن نصیحت ہے
No indeed; this is only a Reminder.
Never! (you should never act in this way,) Indeed this (Qur‘an) is an advice.
Never! (you should never act in this way,) Indeed this (Qur‘an) is an advice.
Nay; indeed it is an admonition.
Nay, but verily it is an Admonishment,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
No! Indeed, these verses are a reminder;
These verses are a reminder
Nay! surely it is an admonishment.
By no means! Verily it is an admonition.
By no means (should it be so)! For it is indeed a Message of instruction:
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–16
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ ﷺ چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
سورة عَبَس 3 یعنی ایسا ہرگز نہ کرو۔ خدا کو بھولے ہوئے اور اپنی دنیوی وجاہت پر پھولے ہوئے لوگوں کو بےجا اہمیت نہ دو۔ نہ اسلام کی تعلیم ایسی چیز ہے کہ جو اس سے منہ موڑے اس کے سامنے اسے بالحاح پیش کیا جائے، اور نہ تمہاری یہ شان ہے کہ ان مغرور لوگوں کو اسلام کی طرف لانے کے لیے کسی ایسے اندازے سے کوشش کرو جس سے یہ اس غلط فہمی میں پڑجائیں کہ تمہاری کوئی غرض ان سے اٹکی ہوئی ہے، یہ مان لیں گے تو تمہاری دعوت فروغ پا سکے گی ورنہ ناکام ہوجائے گی۔ حق ان سے اتنا ہی بےنیاز ہے جتنے یہ حق سے بےنیاز ہیں۔ سورة عَبَس 4 مراد ہے قرآن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–12
(آیت) لَعَلَّهٗ يَزَّكّىٰٓ ۙاَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰى، یعنی آپ کو کیا معلوم کہ یہ صحابی جو بات دریافت کر رہے تھے اس کا فائدہ متیقن تھا کہ آپ ان کو تعلیم دیتے تو یہ اس کے ذریعہ اپنے نفس کا تذکیہ کرلیتے اور کمال حاصل کرلیتے اور یہ بھی نہ ہوتا تو کم از کم اس ذکر اللہ سے وہ ابتدائی نفع اٹھاتے کہ اس سے انکے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور خوف کی ترقی ہوجاتی۔ لفظ ذکریٰ کے معنے کثرت ذکر کے ہیں (کذافی الصحاح) یہاں قرآن کریم نے دو جملے اختیار فرمائے یزکی اور یذکر، پہلے کے معنے پاک صاف ہوجانے کے ہیں اور دوسرے کے معنے نصیحت حاصل کرنے اور ذکر سے متاثر ہونے کے ہیں۔ پہلا مقام ابرار واتقیاء…
Read the full tafseer →پیغمبر کی اصل ذمہ داری: ’کَلَّا‘ یعنی اس طرح کے ناقدروں سے اس طرح چمٹنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ یہ قرآن بس ایک یاد دہانی ہے۔ جس کا جی چاہے اس سے فائدہ اٹھائے اور جس کا جی نہ چاہے وہ اس انجام سے دوچار ہونے کے لیے تیار رہے جس سے یہ لوگوں کو آگاہ کر رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پیغمبر پر ذمہ داری لوگوں تک اس یاددہانی کو پہنچا دینے کی ہے۔ یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں اس کو اتار بھی دے۔ اس پر ذمہ داری انذار کی ہے نہ کہ ایک ایک کی نازبرداری کی! ’اِنَّھَا‘ میں ضمیر کا مرجع ’ذِکْرٰی‘ ہے جو آیت ۴ میں ہے۔ اور ’ذَکَرَہ‘ میں بھی مرجع وہی ہے لیکن یہاں لحاظ معنی کا ہے اس وجہ سے ضمیر مذکر آئی۔ چونکہ…
Read the full tafseer →11۔ 1 یعنی غریب سے یہ روگردانی اور اصحاب حیثیت کی طرف خصوصی توجہ، یہ ٹھیک نہیں۔ مطلب ہے کہ، آئندہ ایسا دوبارہ نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1: یہ آیات ایک خاص واقعے میں نازل ہوئی تھیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک دن حضور سرور دو عالم ﷺ قریش کے کچھ بڑے بڑے سرداروں کو اسلام کی تبلیغ فرما رہے تھے، اور ان سے گفتگو میں مشغول تھے کہ اتنے میں آپ کے ایک نابینا صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ وہاں آگئے، اور چونکہ وہ نابینا تھے، اس لیے یہ نہ دیکھ سکے کہ آپ کن کے ساتھ گفتگو میں مصروف ہیں، چنانچہ انہوں نے آتے ہی آنحضرت ﷺ سے کچھ سکھانے کی درخواست شروع کردی۔ آنحضرت ﷺ کو ان کا یہ طریقہ پسند نہ آیا کہ دوسروں کی بات کاٹ کر انہوں نے بیچ میں مداخلت شروع کردی۔ اس لیے آپ کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار ظاہر ہوئے، اور آپ نے ان کی بات کا جواب دینے کے بجائے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
انھا تذکرة ................................ کرام بررة (11:80 تا 16) ” یہ تو ایک نصیحت ہے ، جس کا جی چاہے اسے قبول کرے۔ یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں ، بلند مرتبہ ہیں ، پاکیزہ ہیں ، معزز اور نیک کاتبوں کے ہاتھوں میں رہتے ہیں “۔ گویا یہ دعوت ہر لحاظ سے ایک قابل قدر دعوت ہے۔ اس کے صحیفے بھی مکرم ہیں۔ بلند مرتبہ اور پاکیزہ ہیں اور عالم بالا میں ان کا انتظام اور ان کی تبلیغ ایسے ہاتھوں میں دیا گیا ہے جو نیک اور معزز ہیں۔ لہٰذا دعوت اسلامی کے ساتھ جو بھی منسلک ہے ، دور سے یا نزدیک سے ، وہ مکرم اور نیک ہے اور اس دعوت کو ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں ہے ، جو اس سے منہ موڑتے ہوں اور بےپروائی برتتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
3 یعنی متکبر اغنیاء اگر قرآن کو نہ پڑھیں اور اس نصیحت پر کان نہ دھریں تو اپنا ہی برا کریں گے۔ قرآن کو ان کی کچھ پروا نہیں۔ نہ آپ کو اس درجہ ان کے درپے ہونے کی ضرورت ہے۔ ایک عام نصیحت تھی سو کردی گئی جو اپنا فائدہ چاہے اس کو پرکھے اور سمجھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
آیت 5{ اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰی۔ } ”لیکن وہ جو بےنیازی دکھاتا ہے۔“ ایک ایسا شخص جو آپ ﷺ کی بات سننے کو تیار نہیں ہے۔
Read the full tafseer →6 یعنی قرآن کی عزت و وقعت کا انحصار ایسے مغرور اور سر پھروں کے ماننے پر نہیں ہے۔ اگر یہ لوگ قرآن کی نصیحت پر عمل نہیں کرتے تو اپنا ہی نقصان کریں گے۔ قرآن کو ان کی کیا پروا ہوسکتی ہے اور نہ ہی آپ کو ایسے لوگوں کے پیچھے پڑنے کی ضرورت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
4۔ رسول اللہ ﷺ افضل البشر اور اعلم الناس تھے۔ آپ ﷺ نے انتہائی اجتہاد بشری سے کام لے کر یہ خیال فرمایا، اور بالکل صحیح طور پر، کہ کلی گمراہی، جزئی ناواقفیت سے کہیں زیادہ اہم ہے اور اصول فروع پر کہیں مقدم ہیں۔ قرآن میں آپ ﷺ کو علم بشری محدود نہیں، علم الہی غیر محدود تنبیہ کررہا ہے کہ ایک میں تو اصلاح کی طلب تھی، وہ خود دوڑتا ہوا حاضر ہوا تھا، دوسرا فریق سرے سے اپنی ضرورت اصلاح سے غافل اور آپ کے مصلح ہونے ہی کا منکر تھا۔ اس لیے آپ کو چاہیے تھا کہ آپ اپنی توجہ اسی پہلے شخص کے حق میں مقدم رکھتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
فانت عنہ تلھی، یعنی ایسے شخص کی جن کے دل میں خدا کا خوف ہو جس کی وجہ سے یہ امید ہے کہ وہ آپ ﷺ کی باتوں پر عمل کرے گا اور آپ کی نصیحت اس کیلئے مفید ثابت ہوگی، قدر کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ ان سے بےرخی برتنے کی، ان آیات سے یہ معلوم ہوا کہ دعوت و تبلیغ میں کسی کو خاص نہیں کرنا چاہیے بلکہ اصحاب حیثیت اور بےحیثیت، امیر اور غریب آقا و غلام، مرد و عورت چھوٹے اور بڑے سب کو یکساں حیثیت دی جائے اور سب کو مشترکہ خطاب کیا جائے اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا اپنی حکمت بالغہ کے تحت ہدایت سے نواز دے گا۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →کلا . گزشتہ فعل سے بازداشت ہے یعنی آئندہ کبھی ایسا نہ کرنا۔ انھا تذکرۃ . بلاشبہ قرآن یا آیات قرآن نصیحت ہیں اور یاد خداوندی کا موجب ہیں۔ اِنَّھَا کی ضمیر کا قرآن کی طرف راجع ہونا اس لیے درست ہوگا کہ اس کی خبر مؤنث ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–16
(5۔ 16) سو جو شخص اللہ تعالیٰ سے بےپروائی کرتا ہے آپ اس کی طرف توجہ کرتے ہیں حالانکہ ان کے موحد نہ بننے کا آپ پر کوئی الزام نہیں اور جو شخص نیکی کے شوق میں آپ کے پاس دوڑ کر آتا ہے اور وہ اللہ سے ڈرتا ہے تو آپ اس پر توجہ نہیں کرتے ہیں۔ حالانکہ آپ کو ایسا نہ کرنا چاہیے اور حضرت ابن ام مکتوم پہلے ہی سے مشرف بااسلام ہوچکے تھے، چناچہ اس کے بعد جب حضرت ابن ام مکتوم آپ کے پاس آتے تو آپ ان کی بڑی خاطر و احترام کرتے، امیر ہو یا غریب یہ سورت سب کے لیے اللہ کی طرف سے ایک نصیحت کی چیز ہے لہذا جس کا دل چاہے نصیحت قبول کرے اور یہ قرآن ایسے صحیفوں میں ثبت ہے جو عنداللہ مکرم ہیں۔ رفیع المکان ہیں اور وہ شرک و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
کلا انھا تذکرہ…:”کلا“ ہرگز نہیں ، یعنی جو ہوا سو ہوا، آئندہ ہرگز اس طرح نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ قرآن تو ایک نصیحت ہے جو ہر خاص و عام کے لئے ہے، اس میں کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دی جانی چاہیے، پھر جو چاہے نصیحت قبول کرلے، اس کا اپنا فائدہ ہے اور کوئی متکبر اگر صنیحت سن لینے کے باوجود اسے قبول نہیں کرتا تو آپ کو بھی قبول کرنے والوں کو چھوڑ کر اس کے پیھچے پڑنے کی ضرورت نہیں۔
Read the full tafseer →کلاانھاتذکرہ۔۔۔ تا۔۔۔۔ برررہ۔ کلا انھاتذکرہ۔ کلایہ ردع اور زجر کا کلمہ ہے جس طرح آپ نے دونوں فریقوں کے ساتھ رویہ اپنایا ہے معاملہ ایسا نہیں یعنی اس کے بعد آپ ایسانہ کریں کہ آپ غنی کی طرف متوجہ ہوں اور مومن فقیر سے اعراض کریں نبی کریم سے جو رویہ ظاہر ہوا وہ ترک اولی کے ضمن میں آتا ہے جس طرح پہلے یہ بحث گزرچکی ہے اگر اسے گناہ صغیرہ پر محمول کیا جائے تو یہ بھی بعید نہیں، یہ قشیری کا قول ہے، اس صورت میں کلا سے ابتداء کی جائے گی جو حقا کے معنی میں ہے انھا میں ضمیر سے مراد سورت اور قرآن کی آیات ہیں، تذکرہ سے مراد نصیحت ہے یعنی مخلوق کے لیے نصیحت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–12
12۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت ان جاء ہ الاعمی کے بارے میں روایت کیا کہ بنو فہیر میں سے ایک آدمی آیا جس کا نام عبداللہ بن ام مکتوم ؓ تھا آیت اما من استغنی لیکن وہ جو پرواہ نہیں کرتا اس سے مراد عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف ہے۔ 13۔ ابن سعد وابن المنذر نے ضحاک (رح) سے آیت عبس وتولی کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش کے سرداروں میں سے ایک آدمی سے ملاقات فرمائی اور اس کو اسلام کی طرف بلایا اس درمیان آپ کے پاس عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آگئے۔ اور احکام اسلام کے بارے میں آپ ﷺ سے سوال کرنے لگے۔ تو آپ نے اپنے چہرے پر تیوری چڑھائی تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو عتاب فرمایا…
Read the full tafseer →[كَلَّآ انهَا : ہرگز نہیں ! بیشک یہ (قرآن)][ تَذْكِرَةٌ: ایک یاددہانی ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
اس کے بعد فرمایا ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ0011 ﴾ آپ ہرگز ایسا نہ کیجیے کہ جو شخص آپ کے پاس دینی باتیں معلوم کرنے آئے اس کی طرف سے بےتوجہی کریں کیونکہ قرآن ایک نصیحت کی چیز ہے جس کا جی چاہے اسے قبول کرے آپ کے ذمہ صرف پہنچانا ہے جو قرآن اور اس کی نصیحت قبول نہ کرے اس کا وبال اسی پر ہے، آپ پر کوئی ضرر نہیں اس کے بعد قرآن کے اوصاف بیان فرمائے کہ وہ ایسے صحیفوں میں ہے جو اللہ کے یہاں مکرم ہیں اور بلند اور مقدس ہیں، کیونکہ شیاطین وہاں تک نہیں پہنچ سکتے اور یہ صحیفے ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں رہتے ہیں جو باعزت اور نیک ہیں (فرشتے چونکہ لوح محفوظ سے قرآن مجید کو نقل کرتے ہیں اس لیے ﴿…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
ترغیب ملاطفت باضعفاء مومنین استغناء وبے نیازی ازاہل دنیا و متکبرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عبس وتولی ان جآء ہ الاعمی ..... الی ...... اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت اور احوال قیامت کا ذکر تھا، اور بعث بعد الموت کا مضمون بیان کرتے ہوئے آخر سورت میں نجات و کامیابی کا یہ معیار بیان کیا گیا کہ وہ خشیت وتقوی، فکر آخرت اور نفس کو خواہشات سے روکنا ہے یہی انسان کی عزت و عظمت ہے اس کے برعکس غرور وتکبر اور سرکشی خدا کی نظر میں نہایت ہی بدترین اور ذلیل خصلت ہے تو اس سورت میں یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ملاطفت اور دلجوئی کا برتاؤ کرنا چاہئے اور ان کے مقابلہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
5:۔ ” کلا “ حرف ردع ہے۔ یوں تو نہیں چاہئے تھا۔ یہ بمعنی ” حقا “ ہے اور ما بعد سے متعلق ہے یعنی یقیناً ۔ یہ آیت قرآنیہ ہر ایک کے لیے عبرت و نصیحت ہیں جو بھی چاہے انہیں پڑھ سن کر ان سے نصیحت حاصل کرے۔ ” فی صحف “ اس سے مراد وہ صحیفے اور تختیاں ہیں جن پر فرشتے لوح محفوظ سے کلام اللہ کو نقل کرتے ہیں وہ صحیفے اللہ کے نزدیک قابل تکریم ہیں، قدر و منزلت میں بہت بلند اور پاکیزہ ہیں کہ فرشتوں کے سوا کسی کا ہاتھ ان کو نہیں لگا۔ وہ صحیفے ایسے فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت والے ہیں اور گناہوں سے پاک اور اللہ تعالیٰ کے نہایت فرمانبردار ہیں۔ اکثر مفسرین کے نزدیک ” سفرۃ “ سے صحابہ کرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
(پس منظر) اکثرمفسرین کرام (ب 1 روح المعانی ص 39 ج 30 و تفسیر کبیرص 54 ج 31 تفسیر ابن کثیر ص 470 ج 4 دغیرہ ) فرماتے ہیں کہ اس سورة کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تنبیہ فرمائی ہے ۔ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ مکی زندگی میں حضور ﷺ ایک موقع پر صنادید اور سرداران قریش کو اسلام کی باتیں سمجھا رہے تھے ۔ درمنثور (ب 2 درمثورص 314 ج 6 وروح المعانی ص 39 ج 30) والے نے ان کے نام ابوجہل عتبہ ، شیبہ وغیرہ بتائے ہیں ۔ اس دوران حضور ﷺ کا ایک نابینا صحابی حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم ؓ آگیا ۔ وہ قرآن کریم کی تعلیم کرنا چاہتا تھا ۔ چناچہ اس شخص نے حضور ﷺ کو آواز دینی شروع کی کہ اے اللہ کے رسول ! علمنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
فَاَنْتَ عَنْہُ تَلَہّٰى 10 ۚ كَلَّآ اِنَّہَا تَذْكِرَۃٌ 11 ۚ تلهّى: فيه إعلال بالقلب شأنه شأن استغنی، وفيه حذف إحدی التاء ین تخفیفا . كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77-…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1 ؎ مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ کفار کو سمجھا رہے تھے اور ان کے بےجا سوالات اور کم بختیوں سے ملول ہو رہے تھے کہ اتنے میں ایک اندھا جس کا نام عبداللہ بن ام مکتوم ؓ تھا آیا اور آپ سے قرآن سننے کی التجا کی۔ آنحضرت ﷺ اس کی طرف ملتفت نہ ہوئے اور اشراف قریش ہی کی طرف مخاطب رہے اور اس کے بار بار سوال کرنے سے چیں بچیں ہوئے جس پر یہ سورة نازل ہوئی جس میں آنحضرت ﷺ پر قدرے تہدید ہے کہ ہمارے نزدیک طالب صادق مرغوب سے دولت مند اور مفلس کا کچھ لحاظ نہیں۔ آپ نے طالب صادق سے اعراض کیا اور منہ بنایا۔ آپ کو کیا معلوم کہ یہ اندھا سدھر جاتا اور اس کا تقربات میں مرتبہ بالا ہوجاوے اور دین کے بڑے بڑے ہادیوں میں سے ہوجاوے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
کَلَّآ اِنَّھَا تَذْکِرَۃٌ۔ فَمَنْ شَآئَ ذَکَرَہٗ ۔ (عبس : 11، 12) (ہرگز نہیں، یہ تو ایک نصیحت ہے۔ پس جس کا جی چاہے اسے قبول کرے۔ ) پیغمبر کی اصل ذمہ داری ہرگز نہیں، سے مراد یہ ہے کہ آپ جس طرح اللہ تعالیٰ کے دین سے بےنیاز لوگوں اور آپ کی تبلیغ و دعوت سے منہ پھیرنے والوں کو محض ان کی خیرخواہی اور اسلام کی توسیع و اشاعت کے لیے اہمیت دے رہے ہیں اور آپ کے اندر یہ خواہش کروٹیں لے رہی ہے کہ کاش یہ لوگ اسلام کے دست وبازو بنیں، اس کی کشتی کے کھینے والے ہوں اور اس شمع کو دنیا میں عام کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ اس خواہش کے نیک اور خوبصورت ہونے میں کوئی کلام نہیں۔ لیکن یہ لوگ ایسے بدمست ہیں کہ یہ آپ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
فہم القرآن ربط کلام :” اللہ تعالیٰ “ سے ڈرنے اور ہدایت پانے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن مجید کی نصیحت پر عمل کیا جائے۔ قرآن مجید سے بڑھ کر کوئی نصیحت بہتر نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو نصیحت کے طور پر نازل فرمایا ہے۔ اس میں ہدایت اور گمراہی کو پوری طرح واضح کردیا ہے۔ ہدایت پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے دل میں ہدایت کی طلب پیدا کرے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے جو شخص ہدایت کا طالب نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ اسے ہدایت نہیں دیتا کیونکہ اس کا فرمان ہے جو چاہے ہدایت حاصل کرے اور جو چاہے اپنے آپ کو گمراہی کے حوالے کیے رکھے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے ہدایت اور کفر کا راستہ واضح…
Read the full tafseer →11 : کَلَّآ اِنَّھَا تَذْکِرَۃٌ ( ہرگز ایسا نہ کیجئے قرآن نصیحت کی چیز ہے) کلاؔ یہ ردع کیلئے ہے ایسا دوبارہ مت کریں۔ اِنَّھَا (بیشک یہ) سورت یا آیات تَذْکِرَۃٌ (نصیحت ہے) جس سے نصیحت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اور اس کے مطابق عمل کرنا لازم ہے۔
Read the full tafseer →10 ۔” فانت عنہ تلھیٰ “ مشغول ہوتے ہیں اور اعراض کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1۔ 16۔ ترمذی 2 ؎ صحیح ابن حبان مستدرک حاکم تفسیر عبد الرزاق وغیرہ میں حضرت عائشہ اور حضرت انس ؓ سے جو روایتیں ہیں جن کو ترمذی نے حسن اور حاکم نے صحیح قرار 3 ؎ دیا ہے۔ حاصل ان روایتوں کا یہ ہے کہ ابن خلف ایک شخص مشرک کو ایک روز آنحضرت ﷺ کچھ اسلام کی خوبی کی باتیں سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبد اللہ بن ام مکتوم صحابی نے آ کر آنحضرت ﷺ سے قرآن شریف کی ایک آیت پوچھی۔ آنحضرت ﷺ کو عبد اللہ بن ام مکتوم کا یہ قطع کلام ذرا شاق گزرا اور آپ ﷺ نے تیوری چڑھائی۔ اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائی ان آیتوں کے نازل ہونے کے بعد سے جب عبد اللہ بن ام مکتوم آنحضرت ﷺ کے پاس آیا کرتے تھے تو آنحضرت ﷺ ان کی خاطر کیا…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالی فرماتے ہیں (كَلَّآ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌ) دیکھو یہ نصیحت ہے، یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کردی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کردیا ہے۔
Read the full tafseer →(9) پیغمبر کی اصل ذمہ داری کے لیے تنبیہ و توضیح : سو ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر کی اصل ذمہ داری کی تحدید و توضیح کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ہرگز نہیں، یعنی ایسا ہرگز نہیں کرنے کا ایسے طالب صادق سے تو منہ موڑیں، اور ایسے لاپرواہ اور متکبر لوگوں کے پیچھے لگیں جو ہدایت چاہتے ہی نہیں۔ کیونکہ ہمارے یہاں اصل قدروقیمت صدق و اخلاص اور طلب صادق ہی کی ہے (جامع البیان وغیرہ) یہ قرآن بہرحال ایک عظیم الشان تذکیر اور یاد دہانی ہے، جو لوگوں کو آگاہ کرتی ہے ان کے مقصد حیات سے اور ان کو آگاہ کرتی ہے ان کے انجام اور طریق نجات و فلاح سے، اب جس کا جی چاہے اس کو مان کر اور اپنا کر اپنے لیے دارین کی سعادت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
رویہ درست رکھنے کا حکم اور فضیلت قرآن تشریح : ہم لوگ کیونکہ خدائے واحد ' قھار و جبار اور رحمن و رحیم کے بندے ہیں ' ہمیں ڈر ہے تو صرف اس سے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ ہم لوگ دنیوی جاہ و جلال ' عزت اور دولت سے بالکل مرعوب نہیں ہوتے۔ ہم لوگ اللہ پر پورا بھروسہ کرتے ہوئے زندگی کا ہر مرحلہ گزارتے ہیں اور ہمارا فرض سب سے پہلا اور آخری یہی ہے کہ احکامات الٰہی کو سمجھیں عمل کریں اور دوسروں کو سکھائیں۔ یہ احکامات اللہ عزوجل کی طرف سے انتہائی مقدس فرشتے کے ذریعہ انتہائی مقدس نبی کے ذریعے ہمیں پہنچائے گئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس کتاب مقدس قرآن پاک کا کس درجہ تک احترام ہم سب پر لازم ہے تو اس کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
سورة عبس۔ آیات 1 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔ نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
ف 1 یعنی اسے پڑھے لکھنے یاد کرے یا سوچے سمجھے۔ اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں غریب اور امیر دونوں برابر ہیں۔ مالدار کو غریب پر ترجیح نہیں ہے یہی برتائو اس کے رسول (ﷺ) کو بھی کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →(8:11) کلا انھا تذکرۃ : کلا حرف ردع وزجر ہے۔ ایسا ہرگز نہ کرنا چاہیے آئندہ کبھی ایسا نہ کرنا۔ (نیز ملاحظہ ہو 74:32) انھا : ان حرف مشبہ بالفعل ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب اسم ان۔ تذکرۃ اس کی خبر۔ ھا کا مرجع القرآن ہے تانیث خبر کے اعتبار سے ہے۔ بیشک قرآن ایک نصیحت ہے۔ تذکرۃ نصیحت ، یاد دہانی۔ موعظۃ، یاد کرنے کی چیز۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–42
لغات القرآن الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
(ف 1) شان نزول : سورة عبس میں ایک سوتیس کلمے ، پانچ سو تینتیس حروف ہیں نبی ﷺ عتبہ بن ربیعہ ، ابوجہل ہشام اور عباس بن عبدالمطلب اور ابی بن خلف اور امیہ بن خلف اشراف قریش کو اسلام کی دعوت فرما رہے تھے اس درمیان عبداللہ بن ام مکتوم ؓ نابینا صحابی حاضر ہوئے اور اپنی طرف متوجہ کرنے لگے کہ فلاں آیت کیونکر ہے یارسول اللہ مجھے اس میں سے تعلیم فرمائیے، جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے حضور کو ان کا بےوقت کا پوچھنا گراں گذرا، آپ کو خیال ہوا ہوگا کہ یہ قریش کے بڑے بڑے سردار اگر ٹھیک سمجھ کر اسلام لے آئیں تو بہت سے لوگوں کے مسلمان ہونے کی توقع ہے ابن ام مکتوم بہرحال مسلمان ہیں ان کو سمجھنے اور تعلیم حاصل کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
[2] یعنی ایسے ناقدروں کو اہمیت دینے کی ہرگز ضرورت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
ف 1: غور کیجئے ۔ واقعہ کے لحاظ سے یہاں کوئی نافرمانی یا معصیت نہیں ہے ۔ بلکہ معاملہ صرف یہ ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ حضور ﷺ ان باتوں میں کہ کون توجہ اور التفات کا زیادہ مستحق ہے ۔ مکہ والے یا یہ نابینا صحابی صحیح اور اولیٰ فیصلہ نہیں کرپائے اور مسئلہ کے ایسے پہلو کو اختیار کرلیا جو عنداللہ معقول تھا ، افضل نہیں تھا ۔ قرآن کی یہ آیات حضور ﷺ کے صادق اور مامور من اللہ ہونے پر بہترین دال ہے ۔ کیونکہ معاذ اللہ اگر آپ اپنے دعویٰ میں سچے نہ ہوتے تو ان آیتوں کو جس میں آپ کو متنبہ کیا گیا ہے کبھی قرآن کے اوراق میں درج نہ فرماتے ۔ یہ واقعہ بجائے خوددعویٰ نبوت میں پیش کیا جاسکتا ہے ۔ کہ اتنی بڑی تنبیہ کہ…
Read the full tafseer →(11) ہرگز ایسا نہ کیجئے کیونکہ قرآن ایک نصیحت کی چیز ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–42
ف 5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ ﷺ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
آیت 1 تا 16 یہ واقعہ جس طرح بھی ہوا اس کا ٹھیک ٹھیک بیان اللہ پاک کا نام لے کر پڑھ جو کہ اپنی ذات میں قائم اور عام و خاص سے مناسب پیار کرتا ہے اور اس کی رحمت بہت بڑی وسیع ہے جسے اس نے سب کے لئے مقدر کر رکھا ہے اور فرشتوں کے بیان میں بھی اس کی وسعت عام ظاہر ہے اور امام راغب نے فرمایا ہے کہ اس کی رحمانیت دنیا میں مومن و کافر سب پر حاوی ہے کوئی اس سے باہر نہیں اور اس کی رحیمیت مومنوں کے لئے آخرت میں مخصوص ہوگی۔ اور امام بخاری نے اپنی صحیح میں فرمایا ہے کہ یہ دونوں اسم رحمت سے مشتق ہیں اور رحیم فعیل کا وزن ہے جو کہ اس جگہ اسم فاعل ( راحم) کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اسم مفعول ( مرحوم) کے معنوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–12
لَعَلَّهُ يَزَّكَّىٰ أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ الذِّكْرَىٰ (May be, [ if you had attended him properly,] he would have attained purity, or have taken to the advice, and the advice would have benefited him....80:3-4). In other words, because Sayyidna ` Abdullah Ibn Umm Maktum ؓ was a genuine believer, any advice given to him would have benefited him and served to purify him. The companion sought enlightenment and its benefit was certain. If the Holy Prophet ﷺ enlightened him on the topic, he would have purified himself and attained perfection. If that did not happen, he would have at…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
3 That is, "You should never do so: do not give undue importance to those who have forgotten God and become proud of their high worldly position. The teaching of Islam is not such that it should be presented solicitously before him who spurns it, nor should a man like you try to invite these arrogant people to Islam in a way as may cause them the misunderstanding that you have a selfish motive connected with them, and that your mission would succeed only if they believed, otherwise not, whereas the fact is that the Truth is as self-sufficient of them as they are of the Truth." 4 The allusion…
Read the full tafseer →