Explained with ayahs 5–20
نو سو سال صدا بصحرا کے بعد بھی ایک پیغمبرانہ کوشش
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ساڑھے نو سو سال تک کی لمبی مدت میں کس کس طرح حضرت نوح نبی نے اپنی قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا قوم نے کس کس طرح اعراض کیا کیسی کیسی تکلیفیں اللہ کے پیارے پیغمبر کو پہنچائیں اور کس طرح اپنی ضد پر اڑ گئے، تو حضرت نوح ؑ بطور شکایت کے جناب باری میں عرض کرتے ہیں کہ الٰہی میں نے تیرے حکم کی پوری طرح سرگرمی سے تعمیل کی، تیرے فرمان عالیشان کے مطابق نہ دن کو دن سمجھا، نہ رات کو رات، بلکہ مسلسل ہر وقت انہیں راہ راست کی دعوت دیتا رہا لیکن کیا کروں کہ جس دل سوزی سے میں انہیں نیکی کی طرف بلاتا رہا وہ اسی سختی سے مجھ سے بھاگتے رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
سورة نُوْح 9
اس میں خود بخود یہ مضمون شامل ہے کہ وہ نافرمانی کی روش چھوڑ کر معافی کے طلب گار ہوں، کیونکہ اسی صورت میں ان کو اللہ تعالیٰ سے معافی مل سکتی تھی۔
سورة نُوْح 10
منہ ڈھانکنے کی غرض یا تو یہ تھی کہ وہ حضرت نوح ؑ کی بات سننا تو درکنار، آپ کی شکل بھی دیکھنا پسند نہ کرتے تھے، یا پھر یہ حرکت وہ اس لیے کرتے تھے کہ آپ کے سامنے سے گزرتے ہوئے منہ چھپا کر نکل جائیں اور اس کی نوبت ہی نہ آنے دیں کہ آپ انہیں پہچان کر ان سے بات کرنے لگیں۔ یہ ٹھیک وہی طرز عمل تھا جو کفار مکہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اختیار کر رہے تھے۔ سورة ہود آیت 5 میں ان کے اس رویے کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے۔ " دیکھو یہ لوگ اپنے سینوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–14
معارف و مسائل r
ۙيَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ ، حرف من اکثر تبعین یعنی جزئمت بتلانے کے لئے آتا ہے اگر یہ معنے لئے جاویں تو مطلب یہ ہے کہ ایمان لانے سے تمہارے سے وہ گناہ مغاف ہوجائیں گے جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے کیونکہ حقوق العباد کی معافی کے لئے ایمان لانے کے بعد بھی یہ شرط ہے کہ جو حقوق ادائیگی کے قابل ہیں ان کو ادا کرے جیسے مالی واجبات، اور جو قابل ادائیگی نہیں جیسے زبان یا ہاتھ سے کسی کو ایذاء پہنچائی اس سے معاف کرائے۔
حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ ایمان لانے سے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں اس میں بھی حقوق العباد کی ادائیگی یا معافی شرط ہے اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ حرف من اس جگہ زائد…
Read the full tafseer →’ثُمَّ إِنِّیْٓ اَعْلَنْتُ لَہُمْ وَأَسْرَرْتُ لَہُمْ إِسْرَارًا‘۔ یعنی جہاں ڈنکے کی چوٹ بات کہنے کی ضرورت ہوئی وہاں میں نے بے دریغ ڈنکے کی چوٹ اپنی بات سنائی تاکہ بہروں تک بھی میری آواز پہنچ جائے اور جہاں دیکھا کہ ان کے اندر گھس کر کچھ سنانے سمجھانے کا موقع ہے تو میں نے یہ طریقہ بھی آزمایا تاکہ جن میں زندگی کی کچھ رمق باقی ہے وہ چاہیں تو فیصلہ کی گھڑی آنے سے پہلے پہلے اپنے انجام کی فکر کر لیں۔ غرض میں نے نرم و گرم اور پوشیدہ و علانیہ ہر پہلو سے لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کی ہے تاکہ فرض بلاغ میں کوئی کوتاہی نہ رہ جائے۔
’اَعْلَنْتُ لَہُمْ‘ کے بعد بھی میرے نزدیک مصدر محذوف ہے جس طرح اوپر…
Read the full tafseer →9۔ 1 یعنی مختلف انداز اور طریقوں سے انہیں دعوت دی۔ بعض کہتے ہیں، کہ اجتماعات اور مجلسوں میں بھی انہیں دعوت دی اور گھروں میں فرساً فرداً بھی تیرا پیغام پہنچایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–13
2: یعنی جب تک تمہاری زندگی مقدر ہے، اس وقت تک تمہیں زندہ رکھے گا۔
Read the full tafseer →مسلسل دعوت دیتے چلے جانے ، ہر موقعہ سے فائدہ اٹھانے اور ان تھک جدوجہد کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت نوح (علیہ السلام) نے دعوت اسلامی کے لئے ہر انداز بھی اختیار کیا۔ کبھی انہوں نے ببانگ دہل دعوت دی۔ کبھی انہوں نے خفیہ تحریک چلائی۔
ثم انی .................... اسرارا (17 : 9) ” پھر میں نے ان کو ہانکے پکارے دعوت دی۔ پھر میں نے علانیہ بھی ان کو تبلیغ کی اور چپکے چپکے بھی سمجھایا “۔
اس دعوت کے دوران حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کو یہ بھی بتایا کہ اگر تم میری دعوت قبول کرلو تو تمہیں دنیا اور آخرت دونوں جہانوں کی کامیابی نصیب ہوگی۔ اور یہ بھی بتایا کہ اگر تم لوگ اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرو تو وہ تمہیں بخش…
Read the full tafseer →7 یعنی مجمع کے سوا ان سے علیحدگی میں بات کی، صاف کھول کر اور اشاروں میں بھی، زور سے بھی اور آہستہ بھی، غرض نصیحت کا کوئی عنوان اور کوئی رنگ نہیں چھوڑا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
آیت 9{ ثُمَّ اِنِّیْٓ اَعْلَنْتُ لَہُمْ وَاَسْرَرْتُ لَہُمْ اِسْرَارًا۔ } ”پھر میں نے انہیں علانیہ دعوت بھی دی اور خفیہ طور پر بھی سمجھایا۔“
اَسَرَّ یُسِرُّ اِسْرَارًا کے معنی بھید ہیں چھپانا یا چپکے سے بیان کرنا۔ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم کو کھلم کھلا تبلیغ بھی کرتے اور لوگوں سے تنہائی میں انفرادی ملاقاتیں کر کے بھی ایک ایک کو سمجھاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
5 استغفار سے حاصل ہونے والے دنیوی فوائد :۔ اور جہاں تک میرے سمجھانے کا تعلق ہے تو میں ان کی مجلسوں میں بھی جاتا ہوں اور ان کے گھروں میں بھی۔ ان سے نجی محفلیں بھی کرتا ہوں۔ انہیں برملا بھی سمجھاتا ہوں اور خیرخواہی کے لہجہ میں انفرادی ملاقاتوں میں انہیں یہ بات سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ اس وقت جو تم پر قحط مسلط ہے، بارشیں نہیں ہو رہیں، اگر تم اللہ کی طرف رجوع کرلو۔ اور اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لو تو تم پر سے یہ قحط دور ہوجائے گا۔ اللہ کی مہربانی سے خوب بارشیں ہوں گی۔ اور تمہارے اموال اور اولاد میں اللہ تعالیٰ خوب برکت عطا فرمائے گا واضح رہے کہ استغفار کے دنیا میں حاصل ہونے والے ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
5۔ (غرض یہ کہ تبلیغ و دعوت کے سارے ہی طریقے استعمال کر دیکھے) (آیت) ” انی دعوتھم جھارا “۔ یعنی میں نے پبلک تقریریں کیں، اور وعظ وخطاب عام سے کام لیا۔ (آیت) ” انی اعلنت لھم “۔ یعنی میں نے خطاب خاص سے کام لے کر افراد سے الگ الگ بھی کھلم کھلا گفتگو کی۔ (آیت) ” واسررت لھم اسرارا “۔ یعنی بالکل نجی اور تخلیہ کی صحبتوں میں بھی افراد کو الگ الگ سمجھایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–20
ان اعبدوا اللہ واتقوہ و اطیعون حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی تبلیغ کا آغاز ان تین باتوں سے فرمایا ایک یہ کہ اللہ بندگی، دوسرے تقویٰ ، تیسرے رسول کی اطاعت، مطلب یہ کہ اگر تم ان تین باتوں کو قبول کرلو تو اب تک جو گناہ تم سے ہوچکے ہیں ان سے وہ درگزر فرمائے گا، یغفرلکم من ذنوبکم و یوخر کم الی اجل مسمی الخ میں بعض مفسرین نے حقوق العباد کو خارج کرنے کے لئے من کو تبعیض کا لیا ہے، اسلام اور ایمان لانے سے حقوق اللہ معاف ہوجائیں گے مگر حقوق العباد سے معافی کے لئے صاحب حق سے معافی ضروری ہوگی، بعض مفسرن نے یہاں من زائدہ یا بمعنی عن لیا ہے مطلب یہ کہ ایمان لانے سے تمہارے سب گناہ معاف ہوجائیں گے مگر دوسری…
Read the full tafseer →ثم انی اعلنت لھم واسررت لھم اسررار . لفظ ثم (تراخی کے لیے آتا ہے یعنی ثم کے بعد والا فعل
قبل والے فعل سے کچھ دیر بعد کو ہوتا ہے) کا اس جگہ استعمال دعوت کے مختلف طریقوں پر دلالت کر رہا ہے کیونکہ سری دعوت سے جہری دعوت زیادہ سخت ہوتی ہے اور صرف سری یا صرف جہری سے سری اور جہری دعوتوں کا مجموعہ زیادہ سخت ہوتا ہے۔ اس طرح دعوت کی ہر (ترتیبی) صورت اوّل صورت سے بعد کو آتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
(8۔ 10) پھر میں نے بآواز بلند ان کی دعوت دی اور کھول کھول کر سمجھایا اور ان کو خفیہ طور پر بھی سمجھایا اور میں نے ان سے کہا کہ تم اپنے پروردگار کی توحید کے قائل ہوجاؤ کیونکہ جو کفر سے توبہ کرے اور اس پر ایمان لائے وہ اسے بڑا بخشنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ثم انی دعوتھم جھاراً …: جب ان کے کانوں میں انگلیاں لے لینے اور منہ سر کپڑوں میں چھپا لینے تک نوبت پہنچ گئی تو پھر بھی میں نے انہیں سمجھانا نہیں چھوڑا، بلکہ پھر انہیں مزید بلند آواز سے دعوت دی۔ پھر انہیں کھلم کھلا مجمع عام میں بھی سمجھایا اور لوگوں سے چھپا کر ایک ایک کو نجی طور پر بھی سمجھایا، غرض جس طرح دن رات ہر وقت دعوت دی جاسکتی تھی، اسی طرح ہر طریقے سے دعوت دی۔
Read the full tafseer →ثم انی اعلنت لھم و اسررت لھم اسراراً ۔ میں نے کوئی صورت نہ چھوڑی۔ مجاہد نے کہا : اعلنت کا معنی ہے میں نے چیخ کر دعوت دی اور میں نے اپنی دعوت کو ان میں سے ایک دوسرے سے مخفی رکھا (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسررت لھم میں ان کے گھروں میں گیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف سے یہ سب کچھ ان کو دعوت دینے میں مبالغہ کے لئے تھا اور دعوت میں نرمی اور مہربانی کے طور پر تھا۔ حرم کے قاریوں اور ابو عمرو نے ان کی یاء کو فتحہ دیا ہے اور باقی قراء نے اسے سکو ندیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
10۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ثم انی دعوتہم جہارا پھر میں ان کو کھلم کھلا بھی بلایا یعنی اعلانیہ طور پر ثم انی اعلنت لہم پھر میں نے انہیں اعلانیہ بھی کہا یعنی میں نے ان کو بلند آواز کے ساتھ دعوت دی۔ آیت واسررت لہم اسرارا اور مخفی طور پر کہا یعنی ان کو چپکے چپکے بھی دعوت دی۔
Read the full tafseer →[ثُمَّ اِنِّىْٓ اَعْلَنْتُ لَهُمْ : پھر بیشک میں نے اعلان کیا ان کے لیے ] [وَاَسْرَرْتُ لَهُمْ : اور میں نے چپکے سے کہا ان سے ] [اِسْرَارًا : جیسے چپکے سے کہتے ہیں ]
(آیت۔ 9) اِسْرَارًا مفعول مطلق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے خطاب، نعمتوں کی تذکیر، توحید کی دعوت، قوم کا انحراف اور باغیانہ روش
یہاں سے سورة ٴ نوح شروع ہو رہی ہے اور بھی کئی سورتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا اور ان کی قوم کی نافرمانی کا اور قوم کے انجام کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے تقریباً ایک ہزار سال کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی وہ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے ان لوگوں میں بت پرستی پھیل گئی تھی۔ بت بنا لیتے تھے اور ان کے نام بھی تجویز کرلیتے تھے جو اس سورت کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں، حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں طرح طرح سے سمجھایا توحید کی اور اللہ وحدہ لاشریک لہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
و توحید خالق ارض وسماء :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انآ ارسلنا نوحا الی قومہ ........ الی ......... سبلا فجاجا “۔
(ربط) اس سے قبل سورة معارج میں قیامت اور قیامت کے احوال شدیدہ کا ذکر تھا اور یہ کہ اس روز مجرمین اور نافرمانوں کی پریشانی اور بدحالی انسان کے تصور سے بھی بڑھ کر ہوگی تو اب اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر ہے جن کو حق تعالیٰ نے عالم میں سب سے پہلا وہ رسول بنا کر بھیجا جو شرک وبت پرستی کا رد کرنے والے تھے انکی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ قوم کی یہ کس قدر بدنصیبی تھی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرایا اور بڑی ہی گستاخی کے ساتھ شرک وبت پرستی پر ڈٹے رہے ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
5:۔ ” ثم انی دعوتہم “ عموم وقت کے بعد عموم کیفیت کا ذکر کرتے ہیں۔ یعنی جس طرح میں نے دعوت کے لیے کوئی وقت نہیں چھوڑا اسی طرح میں نے دعوت و تبلیغ کا ہر طریقہ اور ہر انداز اختیار کیا تاکہ وہ کسی نہ کسی طرح مان لیں۔ چناچہ میں نے منادی کے ذریع ان کو ایک جگہ جمع کر کے بھی ان کے سامنے دعوت توحید پیش کی۔ ” ثم انی اعلنت لہم “ پھر ان کی بھری مجلسوں میں خود جا جا کر بھی ان کو سمجھایا۔ ” واسررت لہم اسرارا “ پھر ایک ایک کو فرداً فرداً سمجھانے کی بھی کوشش کی۔ میں نے دعوت و تبلیغ میں ترغیب و ترہیب سے بھی کام لیا اور عقلی دلائل سے بھی مسئلہ واضح کیا مگر اس کے باوجود وہ ایمان نہیں لاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
گذشتہ سے پیوستہ :
پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا ذکر فرمایا ہے کہ کسی طرح انہوں نے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا۔ دوسرے رکوع میں مشرکین کے شرک اور اس کی مختلف صورتوں کا ذکر ہے اور آکر میں پھر منکرین کے لیے سز کی دعا ہے۔ الغرض اس سورة میں نوح (علیہ السلام) کو بطور نمونہ پیش کیا گیا ہے۔ کہ انہوں نے کس طرح لوگوں تک خدا کا پیغام پہنچایا۔ اور ان کی طرف سے دی گئی ایذائوں اور پریشانیوں کو کس طرح برداشت کیا۔ اس سورة میں حجرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کے پانچ طریقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلے در س میں اس پانچ میں سے دو طریقوں یعنی رات اور دن کی تبلیغ کا بیان آچکا ہے اور…
Read the full tafseer →ثُمَّ اِنِّىْٓ اَعْلَنْتُ لَہُمْ وَاَسْرَرْتُ لَہُمْ اِسْرَارًا 9 ۙ
علن
العَلَانِيَةُ : ضدّ السّرّ ، وأكثر ما يقال ذلک في المعاني دون الأعيان، يقال : عَلَنَ كذا، وأَعْلَنْتُهُ أنا . قال تعالی: أَعْلَنْتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْراراً [ نوح/ 9] ، أي : سرّا وعلانية . وقال :
ما تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَما يُعْلِنُونَ [ القصص/ 69] . وعِلْوَانُ الکتابِ يصحّ أن يكون من : عَلَنَ اعتبارا بظهور المعنی الذي فيه لا بظهور ذاته .
( ع ل ن ) العلانیہ
ظاہر اور آشکار ایہ سر کی ضد ہے اور عام طور پر اس کا استعمال معانی یعنی کیس بات ظاہر ہونے پر ہوتا ہے اور اجسام کے متعلق بہت کم آتا ہے علن کذا کے معنی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
ترکیب : جھارا منصوب علی المصدریۃ لان الدعاء یکون جھارا وغیر جھار فالجھاراحد نوعیہ ویجوزان یکون مصدرا فی موضع الحال ای مجاھرا اوذاجھارا وصفۃ مصدر محذوف بمعنی دعاء جھارا ای مجاھرابہ ‘ اسرارا مفعول مطلق من اسررت یرسل وکذاما بعدہ یمدو یجعل مجزوم علی انہ جواب الامرای استغفروا والمدار الدرورھو التحلب بالمطروانتصابہ اماعلی الحال من السماء ولم یؤنث لان مفعا لایذکرو یونث اوانہ نعت لمصدر محذوف ای ارسالا مدارا۔
تفسیر… : کسریٰ نے مدائن میں طاق بنایا اور خلفائِ بنی العباس کے عہد میں بغداد شہر کی عمارات چنی گئیں اور کوفہ اور بصرہ بھی آباد ہوا تھا۔ الغرض حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بت پرستی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُھُمْ جِھَارًا۔ ثُمَّ اِنِّیْٓ اَعْلَنْتُ لَھُمْ وَاَسْرَرْتُ لَھُمْ اِسْرَارًا۔ (نوح : 9)
(پھر میں نے ان کو بلایا برملا۔ پھر میں نے ان کو کھلم کھلا بھی سمجھایا اور چھپ کر چپکے چپکے بھی۔ )
سابقہ آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے سربرآوردہ لوگوں کے مخالفانہ رویئے اور آپ کی دعوت کے جواب میں انتہائی تکبر و غرور کا اظہار دیکھ کر یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے انھیں دعوت دینا بند کردیا ہوگا۔ اور آپ اس نتیجے پر پہنچے ہوں گے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ سر کھپانا، سر پھوڑنے کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن حیرانی کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کیسا حوصلہ عطا فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
فہم القرآن
ربط کلام : نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بار بار سمجھایا کہ اے میری قوم شرک اور اللہ کی نافرمانی سے تائب ہو کر اللہ کی بندگی کرو اور میری اطاعت کرتے رہو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تمہارے گناہ معاف فرمائے گا اور تمہیں عافیت کی زندگی عطا کرے گا۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اور ہر قسم کے شرک سے باز آؤ اور میری اطاعت قبول کرو۔ اس کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تمہیں وقت مقررہ تک مہلت دے گا۔ وقت مقرر سے مراد ہر انسان کی موت ہے اگر اس سے مراد کسی قوم یا برادری اور جماعت کا مقرر وقت سمجھا جائے تو…
Read the full tafseer →خفیہ اعلانیہ دعوت تھی :
9 : ثُمَّ اِنِّیْ اَعْلَنْتُ لَھُمْ وَاَسْرَرْتُ لَھُمْ اِسْرَارًا (پھر میں نے ان کو علانیہ سمجھایا اور ان کو بالکل خفیہ بھی سمجھایا) میں نے علانیہ دعوت کو خفیہ دعوت کے ساتھ ملا کر کیا۔ حاصل یہ ہے دن رات ان کو خفیہ دعوت دی پھر ان کو بآوازِ بلند دعوت دی۔ پھر ان کو خفیہ اور
علانیہ ملا کر دعوت دی۔ امر بالمعروف کرنے والا اسی طرح کرتا ہے۔ آسان بات سے شروع کرتے پھر سخت سے سخت بات کہتے۔ افتتاح خفیہ نصیحت سے فرماتے۔ جب وہ قبول نہ کرتے تو دوبارہ بلند آواز سے ان کو دعوت دیتے۔ جب اس کا اثر نہ ہوتا تو تیسری بار جہر و سر کو جمع فرماتے۔
ثمکا لفظ حالات کے باہمی بعد کو بیان کر رہا…
Read the full tafseer →8 ۔” ثم انی دعوتھم جھارا “ اس کا معنی ہے دعاء کے ساتھ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اپنی بلند آواز سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–20
5۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح علیہ اسلام کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم تھا اس کے موافق انہوں نے سالہا سال تک اپنی قوم کو بت پرستی کے وبال سے ڈرایا اور جب ان کی سرکش قوم راہ راست پر نہ آئی تو انہوں نے اپنی قوم کی یہ شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کی جس کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ میں ان لوگوں کو ہر وقت تنہائی میں محفل میں سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوگوں نے میری ایک نہ سنی بلکہ یہ لوگ نصیحت کی بات سے ایسے گھبراتے ہیں کہ جب ان سے کوئی بات نصیحت کی کہی جاتی ہے تو یہ لوگ کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں منہ سر لپیٹ کر کانوں کو کپڑے کے اندر چھپا لیتے ہیں تاکہ نصیحت کی بات سے ان کے کان آشنا…
Read the full tafseer →(ثم انی اعلنت لھم واسررت لھم اسرارا) اور ظاہر اور پوشیدہ، ہر طرح سمجھاتا رہا۔ یہ سب ان کے ایمان لانے کی حرص اور ان کی خیرخواہی ہے اور ان پر ہر اس طریقے کا استعمال ہے جس کے ذریعے سے مقصد کے حصول کا گمان ہو۔
Read the full tafseer →11 دعوت حق میں مزید تیزی اور قوت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح نے اپنے خالق ومالک کے حضور اپنی عرض والتجاء میں مزید عرض کیا کہ میں نے ان کو ڈنکے کی چوٹ پر پکارا۔ یعنی ان کے ان خرمستیوں کے باوجود میں ان کی خیر خواہی میں لگا ہی رہا اور ان کو حق و ہدایت کی طرف بلاتا ہی رہا، بلکہ جب میں نے ان کو دیکھا کہ انہوں نے حق سے پوری طرح منہ موڑ لیا ہے، اپنے کانوں میں انہوں نے اپنی انگلیاں ٹھوس دیں اور اپنے اوپر کپڑے لپیٹ دیئے تو میں نے اپنی دعوت کے لب و لہجہ کو تیز سے تیز تر اور بلند سے بلند تر کردیا اور حضرت انبیاء کرام کا طریق دعوت یہی رہا ہے کہ ان کی قوم کی بیزاری دعوت حق سے جتنی بڑھتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سیدنانوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مقصد
تشریح :۔ جیسا کہ کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے کہ سیدناآدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی اکرم ﷺ تک جتنے بھی نبی انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے سب نے توحید ہی کی تعلیم دی کیونکہ توحید ہی ایسا عقیدہ ہے جو انسان کو ہر قسم کے شر و فساد اور شیطان کے قبضہ سے نکال کر امن و سکون اور اللہ کی راہ دکھاتا ہے۔ معمول کے مطابق توحید کی تعلیمات آہستہ آہستہ مٹتی گئیں اور بت پرستی بڑھتی گئی تب اللہ تعالیٰ نے سیدنانوح (علیہ السلام) کو ہدایت دینے کے لیے نبی بنا کر انکی قوم کی طرف بھیجا۔ سیدنانوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تین باتوں کی تعلیم دی۔ پہلی اللہ کی بندگی دوسری تقویٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
سورة نوح۔
آیات 1 تا 20۔
اسرارومعارف۔
ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا کہ ان کا کردار ایسا مسخ ہوچکا تھا کہ عذاب الٰہی واقع ہونے کا خطرہ تھا لہذا نوح (علیہ السلام) انہیں بروقت باخبر کرنے کے لیے تشریف لائے کہ اللہ کے دردناک عذاب سے بچنے کا طریقہ سکھائیں لہذا انہوں نے اپنی بعثت کا اعلان فرمایا کہ اللہ نے مجھے تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے اور تم اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اور اس کی نافرمانی سے باز رہو۔
نبی کا لایا ہوا نظام۔
اس کی اطاعت یہ ہے کہ جو میں کہتا ہوں وہ کرو یعنی اپنی زندگی میں میرا دیا ہوا نظام رائج کرو تو تم سے جو گناہ ہوچکے ہیں اللہ اپنی رحمت سے معاف فرمائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ف 11 یعنی مجمعوں میں دعوت عام کے ذریعے بھی سمجھایا اور انفرادی طور پر ایک ایک شخص کو بھی۔ الغرض ان کے سمجھانے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔
Read the full tafseer →(71:9) اعلنت۔ ماضی واحد متکلم اعلان (افعال) مصدر۔ میں نے کھلم کھلا کہا۔ میں نے اعلانیہ کہا۔
اسررت : ماضی واحد متکلم۔ اسرار (افعال) مصدر۔ میں نے پوشیدہ طور پر کہا اسرار مفعول مطلق تاکید کے لئے آیا ہے۔ اور ان کو بہت چپکے چپکے بھی کہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–28
لغات القرآن۔
لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔
تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔
فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–24
حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت کا ذکر۔
(ف 1) اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح کو جس طرح اللہ کا حکم تھا اس کے موافق حضرت نوح نے نو سو برس تک ان کو سمجھاتے رہے جب امید کی کوئی سورت باقی نہ رہی تو مایوس اور تنگ دل ہوکربارگاہ الٰہی میں عرض کیا یا اللہ میں نے اپنی طرف سے دعوت تبلیغ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا رات کی تاریکی اور دن کے اجالے میں برابر ان کو تیری طرف بلاتا رہا، مگر نتیجہ یہ ہوا کہ جوں جوں تیری طرف آنے کو کہا گیا یہ بدبخت اور زیادہ ادھر سے منہ پھیرکربھاگے اور جس قدر میری طرف سے شفقت ودل سوزی کا اظہار ہوا ان کی جانب سے نفرت اور بےزاری بڑھتی گئی سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوں نے میری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–14
[2] یعنی جس اللہ نے تخلیق کے مختلف مراحل سے گزار کر تمہیں مکمل انسان بنایا اور جس کی قدرت کی شانیں تمہارے اپنے وجود کے اندر نظر آتی ہیں اس کے متعلق تم یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ بھی کوئی بڑی ہستی ہوگا۔ تم اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہو، اس کے احکام کی نافرمانیاں کرتے ہو لیکن تمہیں اندیشہ لاحق نہیں کہ وہ تمہیں اس کی سزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
حضرت نوح کی تبلیغ کا اثر
1: حضرت نوح فرماتے ہیں ۔ کہ میں نے ان کو شب وروز حق کی طرف دعوت دی ۔ اور بنایا ۔ مگر تقریباً ایک ہزار سال کی طویل مدت میں اس ساری تبلیغ اشاعت کا اثر یہ ہوا ۔ کہ ان کے دلوں میں اور زیادہ نفرت پیدا ہوگئی ۔ میں نے جب بھی ان سے کہا ۔ کہ حق وصداقت کو مان لو ۔ فلاح دارین پاؤ گے ۔ تو انہوں نے اپنی انگلیاں کانوں میں دے لیں ۔ کپڑے سے منہ ڈھانپ لیا ۔ نافرمانی اور سرکشی پر اصرار کیا ۔ اور ازراہ تکبر ونحوت کا انکار کردیا ۔ میں نے ہر طریق سے سمجھانے کی کوشش کی ۔ کھلے بندوں کہا ۔ علانیہ اور خفیہ ہر طرح پر سمجھایا ۔ مگر سب بےکار ۔ ان کو نہ ماننا تھا ، نہ مانے اور نہ تسلیم کرنا تھا ۔…
Read the full tafseer →(9) پھر میں نے ان کو علانیہ بھی سمجھایا اور ان کو بہت پوشیدہ طور پر بھی سمجھایا۔ یعنی جو طریقہ بھی ان کی ہدایت کا ہوسکتا تھا اس کو فروگزاشت نہیں کیا عام مجامع میں تقریروں سے جو بلند آواز سے ہوا کرتی ہیں ان کو میں نے دعوت دی پھر خاص طور پر ان کے گھروں پر جاکر بھی علانیہ اور کھول کھول کر بیان کیا اور خاموشی کے ساتھ چپکے چپکے سرگوشی اور رازدارانہ بھی ان کو ان کے نفع نقصان سے آگاہ کیا اور اسی سمجھانے کے سلسلے میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ف 5۔ مراد اس سے وعظ و خطاب عام ہے جس میں عادة آواز بلند ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →پھر میں نے ان کو اعلانیہ بھی سمجھایا اور چھپ چھپ کر بھی
9 ؎ نوح (علیہ السلام) نے اپنی دعا کو جاری رکھتے ہوئے اپنے پروردگار سے کہا کہ الٰہی ! میں نے ان کو اعلانیہ دعوت دی ، لوگوں کی موجودگی میں بلایا ، جب ان پر کوئی اثر نہ ہوا تو میں نے ان کو چھپ چھپ کر انفرادی طور پر سمجھانا شروع کردیا لیکن وہ میرے اس اس عمل سے بھی نفرت میں بڑھتے ہی چلے گئے۔ ان پر میری کسی تلقین کا مثبت اثر نہ پڑا۔ وہ کہتے تو یہ کہتے کہ ہم آپ کو اپنا پیشوا کیسے مان لیں جب کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ جو لوگ تیری پیروی کرتے ہیں وہ کوئی قابل لوگ نہیں ہیں کہ ان کا نام ہی لیا جاسکے ایسے کمین لوگوں کے ساتھ مل کر تو ہم تیری مجلس میں بیٹھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–14
Commentary
يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ and Allah will forgive you your sins, 71:4). The particle min is often used to indicate division into parts, that is, to refer to only a part of an amount, group or number. If it is taken in that sense here, it would signify that by embracing the faith only those sins would be forgiven which pertains to the Divine rights because violation of human rights would be forgiven only when the believer fulfills the human rights which he has violated [ such as pecuniary obligations ] and if they cannot be fulfilled [ such as hurting somebody physically or…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
9 "That you might pardon them": that they might give up their attitude of disobedience and beg forgiveness of Allah, for in that way alone they could be forgiven by Allah.
10 They covered their faces either because they did not even like to have a look at the Prophet Noah's face, not to speak of listening to what he said, or they did so in order to hide their own faces from him as they passed by him so that he could not recognize and address them. This precisely was the attitude and conduct which the disbelievers of Makkah were adopting towards the Holy Prophet (upon whom be peace) . In Surah…
Read the full tafseer →