Nooh 71:8

Nooh · from ayah 8

71:8

ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا ۟ۙثُمَّ اِنِّىۡ دَعَوۡتُهُمۡ جِهَارًا

پھر میں ان کو کھلے طور پر بھی بلاتا رہا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then I invited them publicly.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Nooh

All translations of 71:8

پھر میں نے ان کو ہانکے پکارے دعوت دی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر میں ان کو کھلے طور پر بھی بلاتا رہا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر میں نے انہیں بﺂواز بلند بلایا

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر میں نے انہیں پکار پکار کر دعوت دی

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر میں نے انہیں علانیہ بلایا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر میں نے انہیں بلند آواز سے دعوت دی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر بیشک میں نے انھیں بلند آواز سے دعوت دی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر میں نے انہیں برملا دعوت دی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر میں ان کو ڈنکے کی چوٹ پکارا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر بھی میں ان کو (حق کی) دعوت دی ہانکے پکارے

— مولانا اسحاق مدنی

پھر (بھی) میں نے ان کو بآواز بلند بھی بلایا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر (اے پروردگار) میں نے انہیں بلند آواز سے بھی پکارا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر میں ان کو کھلے طور پر بھی بلاتا رہا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then I called them loudly,

— Muhammad Taqi Usmani

Then I called them loudly,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then verily, I called to them openly (aloud).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And lo! I have called unto them aloud,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then I invited them publicly.

— Saheeh International

"I preached to them aloud, in public.

— Muhammad Sarwar

Then surely I called to them aloud:

— Muhammad Habib Shakir

Then verily have called Unto them publicly:

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 71:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 5–20

نو سو سال صدا بصحرا کے بعد بھی ایک پیغمبرانہ کوشش یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ساڑھے نو سو سال تک کی لمبی مدت میں کس کس طرح حضرت نوح نبی نے اپنی قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا قوم نے کس کس طرح اعراض کیا کیسی کیسی تکلیفیں اللہ کے پیارے پیغمبر کو پہنچائیں اور کس طرح اپنی ضد پر اڑ گئے، تو حضرت نوح ؑ بطور شکایت کے جناب باری میں عرض کرتے ہیں کہ الٰہی میں نے تیرے حکم کی پوری طرح سرگرمی سے تعمیل کی، تیرے فرمان عالیشان کے مطابق نہ دن کو دن سمجھا، نہ رات کو رات، بلکہ مسلسل ہر وقت انہیں راہ راست کی دعوت دیتا رہا لیکن کیا کروں کہ جس دل سوزی سے میں انہیں نیکی کی طرف بلاتا رہا وہ اسی سختی سے مجھ سے بھاگتے رہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 7–11

سورة نُوْح 9 اس میں خود بخود یہ مضمون شامل ہے کہ وہ نافرمانی کی روش چھوڑ کر معافی کے طلب گار ہوں، کیونکہ اسی صورت میں ان کو اللہ تعالیٰ سے معافی مل سکتی تھی۔ سورة نُوْح 10 منہ ڈھانکنے کی غرض یا تو یہ تھی کہ وہ حضرت نوح ؑ کی بات سننا تو درکنار، آپ کی شکل بھی دیکھنا پسند نہ کرتے تھے، یا پھر یہ حرکت وہ اس لیے کرتے تھے کہ آپ کے سامنے سے گزرتے ہوئے منہ چھپا کر نکل جائیں اور اس کی نوبت ہی نہ آنے دیں کہ آپ انہیں پہچان کر ان سے بات کرنے لگیں۔ یہ ٹھیک وہی طرز عمل تھا جو کفار مکہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اختیار کر رہے تھے۔ سورة ہود آیت 5 میں ان کے اس رویے کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے۔ " دیکھو یہ لوگ اپنے سینوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–14

معارف و مسائل r ۙيَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ ، حرف من اکثر تبعین یعنی جزئمت بتلانے کے لئے آتا ہے اگر یہ معنے لئے جاویں تو مطلب یہ ہے کہ ایمان لانے سے تمہارے سے وہ گناہ مغاف ہوجائیں گے جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے کیونکہ حقوق العباد کی معافی کے لئے ایمان لانے کے بعد بھی یہ شرط ہے کہ جو حقوق ادائیگی کے قابل ہیں ان کو ادا کرے جیسے مالی واجبات، اور جو قابل ادائیگی نہیں جیسے زبان یا ہاتھ سے کسی کو ایذاء پہنچائی اس سے معاف کرائے۔ حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ ایمان لانے سے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں اس میں بھی حقوق العباد کی ادائیگی یا معافی شرط ہے اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ حرف من اس جگہ زائد…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

دعوت کا تیسرا مرحلہ: یہ نہایت بلیغ الفاظ میں حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی دعوت کے تیسرے مرحلہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جب میں نے دیکھا کہ انھوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لی ہیں اور اپنے اوپر اپنی چادریں بھی لپیٹ لی ہیں تو میں نے بھی اپنی دعوت کے لب و لہجہ کو تیز سے تیز تر اور بلند سے بلند تر کر دیا۔ ع حدی را تیز ترمی خواں چو محمل را گراں بینی! حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کا طریق دعوت یہی رہا ہے کہ ان کی قوم کی بیزاری دعوت سے جتنی ہی بڑھتی گئی ہے اتنا ہی ان کا جوش دعوت مضاعف، ان کا لب و لہجہ بلند، جھنجھوڑنے والا اور پرجوش ہوتا گیا ہے۔ حق اور اہل حق کی فطرت یہی ہے۔ مزاحمت کی شدت حق…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 7–8

7۔ 1 یعنی ایمان اور اطاعت کی طرف، جو سبب مغفرت ہے۔ 7۔ 2 تاکہ میری آواز سن سکیں۔ تاکہ میرا چہرہ نہ دیکھ سکیں یا اپنے سروں پر کپڑے ڈال دیے تاکہ میرا کلام نہ سن سکیں 7۔ 3 یعنی کفر پر مصر رہے، اس سے باز نہ آئے اور توبہ نہیں کی۔ 7۔ 4 قبول حق اور امتثال امر سے انہوں نے سخت تکبر کیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–13

2: یعنی جب تک تمہاری زندگی مقدر ہے، اس وقت تک تمہیں زندہ رکھے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–8

وانی کلما ........................ استکبار (17 : 7) ” اور جب بھی میں ان نے ان کو بلایا تاکہ تو انہیں معاف کردے ، انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لئے اور اپنی روش پر اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا “۔ یہ ہے انداز داعی حق کا کہ وہ اپنی دعوت پر اصرار کرتا ہے او جونہی اور جب بھی اسے موقعہ ملے وہ کلمہ حق کہہ دیتا ہے جبکہ اہل کفر کے اصرار کی بھی یہ ایک مثال ہے کہ جب وہ ہٹ دھرمی پر اترآئیں تو منہ بھی چھپالیتے ہیں۔ اس دعوت اور اس انکار سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی ایام میں جبکہ بشریت عہد طفولیت میں تھی۔ دعوت کے شب وروز کیا تھے کہ لوگ کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے تھے اور سروں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 8–9

آیت 9{ ثُمَّ اِنِّیْٓ اَعْلَنْتُ لَہُمْ وَاَسْرَرْتُ لَہُمْ اِسْرَارًا۔ } ”پھر میں نے انہیں علانیہ دعوت بھی دی اور خفیہ طور پر بھی سمجھایا۔“ اَسَرَّ یُسِرُّ اِسْرَارًا کے معنی بھید ہیں چھپانا یا چپکے سے بیان کرنا۔ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم کو کھلم کھلا تبلیغ بھی کرتے اور لوگوں سے تنہائی میں انفرادی ملاقاتیں کر کے بھی ایک ایک کو سمجھاتے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 7–8

4 یعنی اگر وہ اللہ پر ایمان لے آئیں اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں تو اللہ یقیناً ان کے گناہ معاف کردے گا۔ لیکن ان بدبختوں نے میری بات سننا بھی گوارا نہ کیا۔ بلکہ اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور دوسرا کام وہ یہ کرتے ہیں کہ جہاں کہیں مجھے دیکھتے ہیں اپنا منہ ڈھانپ لیتے ہیں کہ میں انہیں دیکھ کر بلا نہ لوں یا پھر انہیں مجھ سے اتنی نفرت ہے کہ وہ میری شکل دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے اور اپنے منہ پر کپڑا ڈال لیتے ہیں۔ یہ ہے ان کی ضد اور نفرت کی انتہا انہوں نے تو تیرے احکام کے سامنے اکڑ جانے میں حد کردی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–9

5۔ (غرض یہ کہ تبلیغ و دعوت کے سارے ہی طریقے استعمال کر دیکھے) (آیت) ” انی دعوتھم جھارا “۔ یعنی میں نے پبلک تقریریں کیں، اور وعظ وخطاب عام سے کام لیا۔ (آیت) ” انی اعلنت لھم “۔ یعنی میں نے خطاب خاص سے کام لے کر افراد سے الگ الگ بھی کھلم کھلا گفتگو کی۔ (آیت) ” واسررت لھم اسرارا “۔ یعنی بالکل نجی اور تخلیہ کی صحبتوں میں بھی افراد کو الگ الگ سمجھایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 3–20

ان اعبدوا اللہ واتقوہ و اطیعون حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی تبلیغ کا آغاز ان تین باتوں سے فرمایا ایک یہ کہ اللہ بندگی، دوسرے تقویٰ ، تیسرے رسول کی اطاعت، مطلب یہ کہ اگر تم ان تین باتوں کو قبول کرلو تو اب تک جو گناہ تم سے ہوچکے ہیں ان سے وہ درگزر فرمائے گا، یغفرلکم من ذنوبکم و یوخر کم الی اجل مسمی الخ میں بعض مفسرین نے حقوق العباد کو خارج کرنے کے لئے من کو تبعیض کا لیا ہے، اسلام اور ایمان لانے سے حقوق اللہ معاف ہوجائیں گے مگر حقوق العباد سے معافی کے لئے صاحب حق سے معافی ضروری ہوگی، بعض مفسرن نے یہاں من زائدہ یا بمعنی عن لیا ہے مطلب یہ کہ ایمان لانے سے تمہارے سب گناہ معاف ہوجائیں گے مگر دوسری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم انی دعوتھم جھارا . جھارًا کا نصب مفعول مطلق ہونے کی بناء پر ہے کیونکہ دعوت کی (دو قسمیں ہیں علی الاعلان اور پوشیدہ طور پر) ایک قسم جہری دعوت بھی ہے یا یہ مصدر محذوف کی صفت ہے (اور وہ مصدر مفعول مطلق ہے) اور جہارا اسم مفعول کے معنی میں ہے یعنی میں نے اعلانیہ دعوت دی یا جہاراً حال ہے اور بمعنی اسم فاعل ہے یعنی اعلان کے ساتھ میں نے انکو بلایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–10

(8۔ 10) پھر میں نے بآواز بلند ان کی دعوت دی اور کھول کھول کر سمجھایا اور ان کو خفیہ طور پر بھی سمجھایا اور میں نے ان سے کہا کہ تم اپنے پروردگار کی توحید کے قائل ہوجاؤ کیونکہ جو کفر سے توبہ کرے اور اس پر ایمان لائے وہ اسے بڑا بخشنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 8–9

ثم انی دعوتھم جھاراً …: جب ان کے کانوں میں انگلیاں لے لینے اور منہ سر کپڑوں میں چھپا لینے تک نوبت پہنچ گئی تو پھر بھی میں نے انہیں سمجھانا نہیں چھوڑا، بلکہ پھر انہیں مزید بلند آواز سے دعوت دی۔ پھر انہیں کھلم کھلا مجمع عام میں بھی سمجھایا اور لوگوں سے چھپا کر ایک ایک کو نجی طور پر بھی سمجھایا، غرض جس طرح دن رات ہر وقت دعوت دی جاسکتی تھی، اسی طرح ہر طریقے سے دعوت دی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ثم انی دعوتھم جھاراً ۔ ان کے لئیدعوت کو ظاہر کرتے ہوئے دعوت دی۔ جھاراً ، دعوتھم کی وجہ سے منصوب ہے کیونکہ دعوت میں جھاراً بھی ایک قسم ہے تو اس کو نصب اسی طرح دی گئی ہے جس طرح قرفصاء کو قعد کے ساتھ نصب دی گی کیونکہ یہ بھی قعود کی ایک قسم ہے یا اس لئے کیونکہ دعوتھم سے مراد جاھرتھم ہے یہ بھی جائز ہے کہ یہ دعا فعل کے مصدر کی صفت ہو، تقدیر کلام یہ ہوگی دعاء جھارا، جھاراً یہ مجاھر کے منی میں ہے۔ یہ مصدر حال کی جگہ پر واقع ہے، تقدیر کلام یہ ہوگی دعوتھم مجاھدالھم بالدعوۃ میں نے انہیں دعوت دی اس حال میں کہ میں انہیں ظاہر دعوت دے رہا تھا۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 8–9

10۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ثم انی دعوتہم جہارا پھر میں ان کو کھلم کھلا بھی بلایا یعنی اعلانیہ طور پر ثم انی اعلنت لہم پھر میں نے انہیں اعلانیہ بھی کہا یعنی میں نے ان کو بلند آواز کے ساتھ دعوت دی۔ آیت واسررت لہم اسرارا اور مخفی طور پر کہا یعنی ان کو چپکے چپکے بھی دعوت دی۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ثُمَّ اِنِّىْ دَعَوْتُهُمْ : پھر بیشک میں نے بلایا ان کو ] [جِهَارًا : آواز بلند کرتے ہوئے ] (آیت۔ 8) جِھَارًا حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–20

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے خطاب، نعمتوں کی تذکیر، توحید کی دعوت، قوم کا انحراف اور باغیانہ روش یہاں سے سورة ٴ نوح شروع ہو رہی ہے اور بھی کئی سورتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا اور ان کی قوم کی نافرمانی کا اور قوم کے انجام کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے تقریباً ایک ہزار سال کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی وہ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے ان لوگوں میں بت پرستی پھیل گئی تھی۔ بت بنا لیتے تھے اور ان کے نام بھی تجویز کرلیتے تھے جو اس سورت کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں، حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں طرح طرح سے سمجھایا توحید کی اور اللہ وحدہ لاشریک لہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–20

و توحید خالق ارض وسماء : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انآ ارسلنا نوحا الی قومہ ........ الی ......... سبلا فجاجا “۔ (ربط) اس سے قبل سورة معارج میں قیامت اور قیامت کے احوال شدیدہ کا ذکر تھا اور یہ کہ اس روز مجرمین اور نافرمانوں کی پریشانی اور بدحالی انسان کے تصور سے بھی بڑھ کر ہوگی تو اب اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر ہے جن کو حق تعالیٰ نے عالم میں سب سے پہلا وہ رسول بنا کر بھیجا جو شرک وبت پرستی کا رد کرنے والے تھے انکی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ قوم کی یہ کس قدر بدنصیبی تھی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرایا اور بڑی ہی گستاخی کے ساتھ شرک وبت پرستی پر ڈٹے رہے ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–9

5:۔ ” ثم انی دعوتہم “ عموم وقت کے بعد عموم کیفیت کا ذکر کرتے ہیں۔ یعنی جس طرح میں نے دعوت کے لیے کوئی وقت نہیں چھوڑا اسی طرح میں نے دعوت و تبلیغ کا ہر طریقہ اور ہر انداز اختیار کیا تاکہ وہ کسی نہ کسی طرح مان لیں۔ چناچہ میں نے منادی کے ذریع ان کو ایک جگہ جمع کر کے بھی ان کے سامنے دعوت توحید پیش کی۔ ” ثم انی اعلنت لہم “ پھر ان کی بھری مجلسوں میں خود جا جا کر بھی ان کو سمجھایا۔ ” واسررت لہم اسرارا “ پھر ایک ایک کو فرداً فرداً سمجھانے کی بھی کوشش کی۔ میں نے دعوت و تبلیغ میں ترغیب و ترہیب سے بھی کام لیا اور عقلی دلائل سے بھی مسئلہ واضح کیا مگر اس کے باوجود وہ ایمان نہیں لاتے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–9

گذشتہ سے پیوستہ : پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا ذکر فرمایا ہے کہ کسی طرح انہوں نے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا۔ دوسرے رکوع میں مشرکین کے شرک اور اس کی مختلف صورتوں کا ذکر ہے اور آکر میں پھر منکرین کے لیے سز کی دعا ہے۔ الغرض اس سورة میں نوح (علیہ السلام) کو بطور نمونہ پیش کیا گیا ہے۔ کہ انہوں نے کس طرح لوگوں تک خدا کا پیغام پہنچایا۔ اور ان کی طرف سے دی گئی ایذائوں اور پریشانیوں کو کس طرح برداشت کیا۔ اس سورة میں حجرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کے پانچ طریقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلے در س میں اس پانچ میں سے دو طریقوں یعنی رات اور دن کی تبلیغ کا بیان آچکا ہے اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ اِنِّىْ دَعَوْتُہُمْ جِہَارًا۝ 8 ۙ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–12

ترکیب : جھارا منصوب علی المصدریۃ لان الدعاء یکون جھارا وغیر جھار فالجھاراحد نوعیہ ویجوزان یکون مصدرا فی موضع الحال ای مجاھرا اوذاجھارا وصفۃ مصدر محذوف بمعنی دعاء جھارا ای مجاھرابہ ‘ اسرارا مفعول مطلق من اسررت یرسل وکذاما بعدہ یمدو یجعل مجزوم علی انہ جواب الامرای استغفروا والمدار الدرورھو التحلب بالمطروانتصابہ اماعلی الحال من السماء ولم یؤنث لان مفعا لایذکرو یونث اوانہ نعت لمصدر محذوف ای ارسالا مدارا۔ تفسیر… : کسریٰ نے مدائن میں طاق بنایا اور خلفائِ بنی العباس کے عہد میں بغداد شہر کی عمارات چنی گئیں اور کوفہ اور بصرہ بھی آباد ہوا تھا۔ الغرض حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بت پرستی اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 8–9

ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُھُمْ جِھَارًا۔ ثُمَّ اِنِّیْٓ اَعْلَنْتُ لَھُمْ وَاَسْرَرْتُ لَھُمْ اِسْرَارًا۔ (نوح : 9) (پھر میں نے ان کو بلایا برملا۔ پھر میں نے ان کو کھلم کھلا بھی سمجھایا اور چھپ کر چپکے چپکے بھی۔ ) سابقہ آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے سربرآوردہ لوگوں کے مخالفانہ رویئے اور آپ کی دعوت کے جواب میں انتہائی تکبر و غرور کا اظہار دیکھ کر یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے انھیں دعوت دینا بند کردیا ہوگا۔ اور آپ اس نتیجے پر پہنچے ہوں گے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ سر کھپانا، سر پھوڑنے کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن حیرانی کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کیسا حوصلہ عطا فرمایا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–9

فہم القرآن ربط کلام : نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بار بار سمجھایا کہ اے میری قوم شرک اور اللہ کی نافرمانی سے تائب ہو کر اللہ کی بندگی کرو اور میری اطاعت کرتے رہو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تمہارے گناہ معاف فرمائے گا اور تمہیں عافیت کی زندگی عطا کرے گا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اور ہر قسم کے شرک سے باز آؤ اور میری اطاعت قبول کرو۔ اس کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تمہیں وقت مقررہ تک مہلت دے گا۔ وقت مقرر سے مراد ہر انسان کی موت ہے اگر اس سے مراد کسی قوم یا برادری اور جماعت کا مقرر وقت سمجھا جائے تو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

8 : ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُھُمْ جِھَارًا (پھر میں نے ان کو بآواز بلند بلایا) جھار ًاؔ مصدر ہے جو حال کی جگہ لایا گیا ہے۔ ای مجاہر ًا نمبر 2۔ یہ مصدر ہے دعوتہم اس کے اس مثال کی طرح ہے قعدا لقرفصاء۔ کیونکہ جہاد دعوت کی ایک قسم ہے۔ یعنی اظھرت لھم الدعوۃ فی المحافل۔ میں نے محفلوں میں ان کے سامنے کھل کر دعوت دی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7 ۔” وانی کلما دعوتھم “ آپ پر ایمان لانے کی طرف۔ ” لتغفر لھم جعلوا اصابعھم فی آذانھم “ تاکہ وہ میری دعوت نہ سن سکیں۔ ” واستغشوا ثیابھم “ ان کے ذریعے اپنے چہروں کو ڈھانپ لیتے ہیں تاکہ وہ مجھے نہ دیکھیں۔ ” واصبروا “ اپنے کفر پر۔” واستکبروا “ آپ (علیہ السلام) پر ایمان لانے سے ۔ ” استکبارا “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 5–20

5۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح علیہ اسلام کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم تھا اس کے موافق انہوں نے سالہا سال تک اپنی قوم کو بت پرستی کے وبال سے ڈرایا اور جب ان کی سرکش قوم راہ راست پر نہ آئی تو انہوں نے اپنی قوم کی یہ شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کی جس کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ میں ان لوگوں کو ہر وقت تنہائی میں محفل میں سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوگوں نے میری ایک نہ سنی بلکہ یہ لوگ نصیحت کی بات سے ایسے گھبراتے ہیں کہ جب ان سے کوئی بات نصیحت کی کہی جاتی ہے تو یہ لوگ کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں منہ سر لپیٹ کر کانوں کو کپڑے کے اندر چھپا لیتے ہیں تاکہ نصیحت کی بات سے ان کے کان آشنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–8

(وانی کلما دعوتھم لتغفرلھم) ۔ اور میں نے جب بھی ان کو پکارا تاکہ تو ان کو بخش دے۔ یعنی اس وجہ سے پکارا کہ وہ اس دعوت کو قبول کریں۔ جب وہ دعوت کو قبول کرلیں گے تو ان کو بخش دیا جائے گا اور اس میں محض ان کی مصلحت ہے مگر وہ اپنے باطل پر مصر اور حق سے دور بھاگتے رہے۔ (جعلو اصابعھم فی اذانھم) ۔ انہوں نے کانوں میں انگلیاں دے لیں۔ اس ڈر سے کہ کہیں وہ باتیں ان کے کان میں نہ پڑجائیں جو ان سے ان کا نبی نوح کہتا ہے۔ (واستغشوا ثیابھم) یعنی حق سے بعد اور بغض کی بنا پر، اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانپ کر پردہ کرلیا (واصبروا) اور انہوں نے اپنے کفر اور شر پر اصرار کیا (واستکبروا الستکبارا) پھر میں ان کو کھلے طور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 7–8

9 پیغمبر (علیہ السلام) کے اخلاص و خیر خواہی کا ایک نمونہ و مظہر : سو حضرت نوح نے اپنے رب کے حضور مزید عرض کیا کہ میں نے ان کو جب بھی بلایا تاکہ تو ان کی بخشش فرما دے اے میرے مالک۔ یعنی میری اس دعوت میں میرا ذاتی کوئی مفاد پیش نظر نہیں تھا بلکہ سراسر انہی کی بھلائی اور خیر خواہی مطلوب تھی اور یہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت و تبلیغ کا ایک امتیازی نشان ہوتا ہے کہ تبلیغ حق کے کام میں کوئی ذاتی غرض ان کے پیش نظر نہیں ہوتی اور ان کا صاف اور صریح طور پر اعلان ہوتا ہے " وما اسئلکم علیہ من اجر " " میری قوم کے لوگو ! میں تم سے تبلیغ حق کے اس کام پر کسی طرح کے کسی اجر و صلہ کا کوئی سوال نہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–14

سیدنانوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مقصد تشریح :۔ جیسا کہ کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے کہ سیدناآدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی اکرم ﷺ تک جتنے بھی نبی انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے سب نے توحید ہی کی تعلیم دی کیونکہ توحید ہی ایسا عقیدہ ہے جو انسان کو ہر قسم کے شر و فساد اور شیطان کے قبضہ سے نکال کر امن و سکون اور اللہ کی راہ دکھاتا ہے۔ معمول کے مطابق توحید کی تعلیمات آہستہ آہستہ مٹتی گئیں اور بت پرستی بڑھتی گئی تب اللہ تعالیٰ نے سیدنانوح (علیہ السلام) کو ہدایت دینے کے لیے نبی بنا کر انکی قوم کی طرف بھیجا۔ سیدنانوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تین باتوں کی تعلیم دی۔ پہلی اللہ کی بندگی دوسری تقویٰ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–20

سورة نوح۔ آیات 1 تا 20۔ اسرارومعارف۔ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا کہ ان کا کردار ایسا مسخ ہوچکا تھا کہ عذاب الٰہی واقع ہونے کا خطرہ تھا لہذا نوح (علیہ السلام) انہیں بروقت باخبر کرنے کے لیے تشریف لائے کہ اللہ کے دردناک عذاب سے بچنے کا طریقہ سکھائیں لہذا انہوں نے اپنی بعثت کا اعلان فرمایا کہ اللہ نے مجھے تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے اور تم اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اور اس کی نافرمانی سے باز رہو۔ نبی کا لایا ہوا نظام۔ اس کی اطاعت یہ ہے کہ جو میں کہتا ہوں وہ کرو یعنی اپنی زندگی میں میرا دیا ہوا نظام رائج کرو تو تم سے جو گناہ ہوچکے ہیں اللہ اپنی رحمت سے معاف فرمائیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 8–9

ف 11 یعنی مجمعوں میں دعوت عام کے ذریعے بھی سمجھایا اور انفرادی طور پر ایک ایک شخص کو بھی۔ الغرض ان کے سمجھانے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(71:8) ثم حرف عطف ہے، ماقبل سے بعد کے متأخر ہونے پر دلالت کرتا ہے خواہ یہ متاخر ہونا وقتی لحاظ سے ہو (تراخی فی الوقت) خواہ رتبہ (ترتیب) کے لحاظ سے (التراخی فی الرتبہ) ۔ بصورت اول اس کے معنی ہوں گے پھر، اس کے بعد ، صورت دوم میں اس سے بھی بڑھ کر معنی ہوں گے۔ صورت اول کی مثال :۔ وکنتم امواتا فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحیکم ثم الیہ ترجعون (2:28) اور تم بےجان تھے تو اس نے تم کو جان بخشی۔ پھر وہی تم کو مارتا ہے پھر وہی تم کو زندہ کرے گا۔ پھر اسی کی طرف تم لوٹ جاؤ گے۔ صورت دوم کی مثال :۔ حضرت علی کا شعر ہے :َ فعار ثم عار ثم عار - شقاء المرء من اکل الطعام۔ (شرم کی بات ہے بہت شرم کی بات ہے بہت ہی شرم کی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–28

لغات القرآن۔ لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔ تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔ فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–24

حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت کا ذکر۔ (ف 1) اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح کو جس طرح اللہ کا حکم تھا اس کے موافق حضرت نوح نے نو سو برس تک ان کو سمجھاتے رہے جب امید کی کوئی سورت باقی نہ رہی تو مایوس اور تنگ دل ہوکربارگاہ الٰہی میں عرض کیا یا اللہ میں نے اپنی طرف سے دعوت تبلیغ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا رات کی تاریکی اور دن کے اجالے میں برابر ان کو تیری طرف بلاتا رہا، مگر نتیجہ یہ ہوا کہ جوں جوں تیری طرف آنے کو کہا گیا یہ بدبخت اور زیادہ ادھر سے منہ پھیرکربھاگے اور جس قدر میری طرف سے شفقت ودل سوزی کا اظہار ہوا ان کی جانب سے نفرت اور بےزاری بڑھتی گئی سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوں نے میری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 5–14

[2] یعنی جس اللہ نے تخلیق کے مختلف مراحل سے گزار کر تمہیں مکمل انسان بنایا اور جس کی قدرت کی شانیں تمہارے اپنے وجود کے اندر نظر آتی ہیں اس کے متعلق تم یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ بھی کوئی بڑی ہستی ہوگا۔ تم اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہو، اس کے احکام کی نافرمانیاں کرتے ہو لیکن تمہیں اندیشہ لاحق نہیں کہ وہ تمہیں اس کی سزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 7–9

حضرت نوح کی تبلیغ کا اثر 1: حضرت نوح فرماتے ہیں ۔ کہ میں نے ان کو شب وروز حق کی طرف دعوت دی ۔ اور بنایا ۔ مگر تقریباً ایک ہزار سال کی طویل مدت میں اس ساری تبلیغ اشاعت کا اثر یہ ہوا ۔ کہ ان کے دلوں میں اور زیادہ نفرت پیدا ہوگئی ۔ میں نے جب بھی ان سے کہا ۔ کہ حق وصداقت کو مان لو ۔ فلاح دارین پاؤ گے ۔ تو انہوں نے اپنی انگلیاں کانوں میں دے لیں ۔ کپڑے سے منہ ڈھانپ لیا ۔ نافرمانی اور سرکشی پر اصرار کیا ۔ اور ازراہ تکبر ونحوت کا انکار کردیا ۔ میں نے ہر طریق سے سمجھانے کی کوشش کی ۔ کھلے بندوں کہا ۔ علانیہ اور خفیہ ہر طرح پر سمجھایا ۔ مگر سب بےکار ۔ ان کو نہ ماننا تھا ، نہ مانے اور نہ تسلیم کرنا تھا ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) مگر باوجود ان کے متکبرانہ برتائو کے پھر بھی میں نے ان کو دین حق کی طرف بآواز بلند بلایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–11

ف 5۔ مراد اس سے وعظ و خطاب عام ہے جس میں عادة آواز بلند ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر میں ان کو بآواز بلند بلاتاہی رہا 8 ؎ ان کے تکبر کرنے اور مجھ سے اور دور بھاگنے کے باوجود میں نے ان کو زور زور سے پکارنا شروع کردیا لیکن ان پر میرے زور زور سے پکارنے کا بھی کوئی اثر نہ ہوا اور وہ مجھ سے اور دور ہوتے چلے گئے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–14

Commentary يَغْفِرْ‌ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ and Allah will forgive you your sins, 71:4). The particle min is often used to indicate division into parts, that is, to refer to only a part of an amount, group or number. If it is taken in that sense here, it would signify that by embracing the faith only those sins would be forgiven which pertains to the Divine rights because violation of human rights would be forgiven only when the believer fulfills the human rights which he has violated [ such as pecuniary obligations ] and if they cannot be fulfilled [ such as hurting somebody physically or…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–11

9 "That you might pardon them": that they might give up their attitude of disobedience and beg forgiveness of Allah, for in that way alone they could be forgiven by Allah. 10 They covered their faces either because they did not even like to have a look at the Prophet Noah's face, not to speak of listening to what he said, or they did so in order to hide their own faces from him as they passed by him so that he could not recognize and address them. This precisely was the attitude and conduct which the disbelievers of Makkah were adopting towards the Holy Prophet (upon whom be peace) . In Surah…

Read the full tafseer →