Nooh 71:7

Nooh · from ayah 7

71:7

وَاِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَاَصَرُّوْا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا ۟ۚوَاِنِّىۡ كُلَّمَا دَعَوۡتُهُمۡ لِتَغۡفِرَ لَهُمۡ جَعَلُوۡۤا اَصَابِعَهُمۡ فِىۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَاسۡتَغۡشَوۡا ثِيَابَهُمۡ وَاَصَرُّوۡا وَاسۡتَكۡبَرُوا اسۡتِكۡبَارًا‌ ۚ‏

جب جب میں نے ان کو بلایا کہ (توبہ کریں اور) تو ان کو معاف فرمائے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور کپڑے اوڑھ لئے اور اڑ گئے اور اکڑ بیٹھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed, every time I invited them that You may forgive them, they put their fingers in their ears, covered themselves with their garments, persisted, and were arrogant with [great] arrogance.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Nooh

All translations of 71:7

اور جب بھی میں نے اُن کو بلایا تاکہ تو اُنہیں معاف کر دے، انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لیے اور اپنی روش پر اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب جب میں نے ان کو بلایا کہ (توبہ کریں اور) تو ان کو معاف فرمائے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور کپڑے اوڑھ لئے اور اڑ گئے اور اکڑ بیٹھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

میں نے جب کبھی انہیں تیری بخشش کے لیے بلایا انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور اپنے کپڑوں کو اوڑھ لیا اور اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور میں نے جب بھی انہیں دعوت دی، تاکہ آپ ان کی مغفرت فرمائیں تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دے لیں، اپنے کپڑے اپنے ا وپر لپیٹ لیے، اپنی بات پر اڑ رہے، اور تکبر ہی تکبر کا مظاہرہ کرتے رہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور میں نے جتنی بار انہیں بلایا کہ تو ان کو بخشے انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے اور ہٹ کی اور بڑا غرور کیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور میں نے جب (بھی) اُنہیں (ایمان کی طرف) بلایا تاکہ تو انہیں بخش دے تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دے لیں اور اپنے اوپر اپنے کپڑے لپیٹ لئے اور (کفر پر) ہٹ دھرمی کی اور شدید تکبر کیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بیشک میں نے جب بھی انھیں دعوت دی، تاکہ تو انھیں معاف کردے، انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے اور اڑ گئے اور تکبر کیا، بڑا تکبر کرنا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور میں نے جب بھی انہیں بلایا تاکہ تو انہیں معاف کر دے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں اور اپنے کپڑوں سے اپنے منہ ڈھانپ لیے، اپنی روش پر اڑ گئے اور تکبر کی انتہا کردی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور میں نے جب جب ان کو توبہ کی دعوت دی کہ تو ان کو بخشے تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں، اپنی چادریں اپنے اور لپیٹ لیں، اپنی ضد پر اڑ گئے اور نہایت گھمنڈ کا اظہار کیا ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور میں نے جب بھی ان کو بلایا کہ تو بخشش فرما دے ان کی (اے میرے مالک !) تو انہوں نے ٹھونس دیں اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں اور لپیٹ لئے (اپنے اوپر) اپنے کپڑے اور وہ اڑ گئے (اپنے کفر و باطل پر) اور بپھر گئے اپنی (جھوٹی) بڑائی کے گھمنڈ میں بہت بری طرح سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور میں نے جب کبھی انہیں بلایا تاکہ تو انہیں بخش دے تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دے لیں اور (اپنے اوپر) اپنے کپڑے لپیٹ لئے اور اڑے رہے اور نہایت درجہ کا تکبر کرتے رہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور میں نے جب بھی انہیں پکارا تاکہ تو ان کی مغفرت فرما دے تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑے بھی اپنے اوپر لپیٹ لیے اور وہ ضد پر اَڑ گئے اور انہوں نے استکبار کیا بہت بڑا استکبار۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب میں نے ان کو بلایا کہ توبہ کرو اور تو ان کو معاف فرمائے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور کپڑے اوڑھ لیے اڑ گئے اور بڑا غرور کیا

— محترمہ رفعت اعجاز

And every time I called them so that You might forgive them, they thrust their fingers into their ears and wrapped up their faces with their garments and obstinately clung to their attitude, and waxed very proud.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Whenever I called them, so that You might forgive them, they put their fingers into their ears, and wrapped their clothes around themselves, and grew obstinate, and waxed proud in extreme arrogance.

— Muhammad Taqi Usmani

Whenever I called them, so that You might forgive them, they put their fingers into their ears, and wrapped their clothes around themselves, and grew obstinate, and waxed proud in extreme arrogance.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And verily, every time I called unto them that You might forgive them, they thrust their fingers into their ears, covered themselves up with their garments, and persisted, and magnified themselves in pride.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And lo! whenever I call unto them that Thou mayst pardon them they thrust their fingers in their ears and cover themselves with their garments and persist (in their refusal) and magnify themselves in pride.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And indeed, every time I invited them that You may forgive them, they put their fingers in their ears, covered themselves with their garments, persisted, and were arrogant with [great] arrogance.

— Saheeh International

Evert time I invite them to Your (guidance) so that You can forgive them, they put their fingers into their ears, cover their heads with their clothes, persist in their disbelief and display extreme arrogance.

— Muhammad Sarwar

And whenever I have called them that Thou mayest forgive them, they put their fingers in their ears, cover themselves with their garments, and persist and are puffed up with pride:

— Muhammad Habib Shakir

And verily so oft as I call them, that Thou mayest forgive them, they place their fingers into their ears, and wrap themselves with their garments, and persist, and are stiff-necked.

— Abdul Majid Daryabadi

"And every time I have called to them, that Thou mightest forgive them, they have (only) thrust their fingers into their ears, covered themselves up with their garments, grown obstinate, and given themselves up to arrogance.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 71:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 5–20

نو سو سال صدا بصحرا کے بعد بھی ایک پیغمبرانہ کوشش یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ساڑھے نو سو سال تک کی لمبی مدت میں کس کس طرح حضرت نوح نبی نے اپنی قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا قوم نے کس کس طرح اعراض کیا کیسی کیسی تکلیفیں اللہ کے پیارے پیغمبر کو پہنچائیں اور کس طرح اپنی ضد پر اڑ گئے، تو حضرت نوح ؑ بطور شکایت کے جناب باری میں عرض کرتے ہیں کہ الٰہی میں نے تیرے حکم کی پوری طرح سرگرمی سے تعمیل کی، تیرے فرمان عالیشان کے مطابق نہ دن کو دن سمجھا، نہ رات کو رات، بلکہ مسلسل ہر وقت انہیں راہ راست کی دعوت دیتا رہا لیکن کیا کروں کہ جس دل سوزی سے میں انہیں نیکی کی طرف بلاتا رہا وہ اسی سختی سے مجھ سے بھاگتے رہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 7–11

سورة نُوْح 9 اس میں خود بخود یہ مضمون شامل ہے کہ وہ نافرمانی کی روش چھوڑ کر معافی کے طلب گار ہوں، کیونکہ اسی صورت میں ان کو اللہ تعالیٰ سے معافی مل سکتی تھی۔ سورة نُوْح 10 منہ ڈھانکنے کی غرض یا تو یہ تھی کہ وہ حضرت نوح ؑ کی بات سننا تو درکنار، آپ کی شکل بھی دیکھنا پسند نہ کرتے تھے، یا پھر یہ حرکت وہ اس لیے کرتے تھے کہ آپ کے سامنے سے گزرتے ہوئے منہ چھپا کر نکل جائیں اور اس کی نوبت ہی نہ آنے دیں کہ آپ انہیں پہچان کر ان سے بات کرنے لگیں۔ یہ ٹھیک وہی طرز عمل تھا جو کفار مکہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اختیار کر رہے تھے۔ سورة ہود آیت 5 میں ان کے اس رویے کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے۔ " دیکھو یہ لوگ اپنے سینوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–14

معارف و مسائل r ۙيَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ ، حرف من اکثر تبعین یعنی جزئمت بتلانے کے لئے آتا ہے اگر یہ معنے لئے جاویں تو مطلب یہ ہے کہ ایمان لانے سے تمہارے سے وہ گناہ مغاف ہوجائیں گے جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے کیونکہ حقوق العباد کی معافی کے لئے ایمان لانے کے بعد بھی یہ شرط ہے کہ جو حقوق ادائیگی کے قابل ہیں ان کو ادا کرے جیسے مالی واجبات، اور جو قابل ادائیگی نہیں جیسے زبان یا ہاتھ سے کسی کو ایذاء پہنچائی اس سے معاف کرائے۔ حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ ایمان لانے سے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں اس میں بھی حقوق العباد کی ادائیگی یا معافی شرط ہے اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ حرف من اس جگہ زائد…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

دعوت سے قوم کے فرار کی تصویر: یہ قوم کے گریز و استکبار کی تصویر ہے اور پیش نظر قوم کے مستکبرین ہیں۔ فرمایا کہ میں نے جب جب ان کو پکارا کہ وہ توبہ و استغفار کریں تاکہ تو ان کی مغفرت فرمائے تو انھوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں، اپنے اوپر اپنی چادریں لپیٹ لیں، اپنی بات پر اڑ گئے اور نہایت گھمنڈ کا اظہار کیا۔ ’دَعَوْتُہُمْ لِتَغْفِرَ لَہُمْ‘ میں کلام کا کچھ حصہ بتقاضائے بلاغت حذف ہے۔ اس کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہو گی کہ جب جب میں نے لوگوں کو توبہ و استغفار کی دعوت دی تاکہ وہ استغفار کر کے تیری مغفرت کے مستحق بنیں تو انھوں نے اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ٹھونس لیں۔ لیکن یہ بات یوں کہنے کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 7–8

7۔ 1 یعنی ایمان اور اطاعت کی طرف، جو سبب مغفرت ہے۔ 7۔ 2 تاکہ میری آواز سن سکیں۔ تاکہ میرا چہرہ نہ دیکھ سکیں یا اپنے سروں پر کپڑے ڈال دیے تاکہ میرا کلام نہ سن سکیں 7۔ 3 یعنی کفر پر مصر رہے، اس سے باز نہ آئے اور توبہ نہیں کی۔ 7۔ 4 قبول حق اور امتثال امر سے انہوں نے سخت تکبر کیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–13

2: یعنی جب تک تمہاری زندگی مقدر ہے، اس وقت تک تمہیں زندہ رکھے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–8

وانی کلما ........................ استکبار (17 : 7) ” اور جب بھی میں ان نے ان کو بلایا تاکہ تو انہیں معاف کردے ، انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لئے اور اپنی روش پر اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا “۔ یہ ہے انداز داعی حق کا کہ وہ اپنی دعوت پر اصرار کرتا ہے او جونہی اور جب بھی اسے موقعہ ملے وہ کلمہ حق کہہ دیتا ہے جبکہ اہل کفر کے اصرار کی بھی یہ ایک مثال ہے کہ جب وہ ہٹ دھرمی پر اترآئیں تو منہ بھی چھپالیتے ہیں۔ اس دعوت اور اس انکار سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی ایام میں جبکہ بشریت عہد طفولیت میں تھی۔ دعوت کے شب وروز کیا تھے کہ لوگ کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے تھے اور سروں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 کیونکہ میری بات سننا ان کو گوارا نہیں۔ چاہتے ہیں کہ یہ آواز کان میں نہ پڑے۔ 5 تا وہ میری اور میں ان کی صورت نہ دیکھوں۔ نیز انگلیاں اگر کسی وقت کانوں میں ڈھیلی پڑجائیں تو کچھ کپڑوں کی روک رہے غرض کوئی بات کسی عنوان سے دل میں اترنے نہ پائے۔ یعنی کسی طرح اپنے طریقہ سے ہٹنا نہیں چاہتے اور ان کا غرور اجازت نہیں دیتا کہ میری بات کی طرف ذرا بھی کان دھریں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7{ وَاِنِّیْ کُلَّمَا دَعَوْتُہُمْ لِتَغْفِرَلَہُمْ جَعَلُوْٓا اَصَابِعَہُمْ فِیْٓ اٰذَانِہِمْ } ”اور میں نے جب بھی انہیں پکارا تاکہ تو ان کی مغفرت فرما دے تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں“ { وَاسْتَغْشَوْا ثِیَابَہُمْ } ”اور اپنے کپڑے بھی اپنے اوپر لپیٹ لیے“ { وَاَصَرُّوْا وَاسْتَکْبَرُوا اسْتِکْبَارًا۔ } ”اور وہ ضد پر اَڑ گئے ‘ اور انہوں نے استکبار کیا بہت بڑا استکبار۔“ اَصَرَّ یُصِرُّ اِصْرَارًاکے معنی اپنی روش پر اَڑ جانے کے ہیں۔ کفر کی روش پر اَڑ جانے اور جم جانے کے علاوہ ان کا رویہ اپنے رسول علیہ السلام کے ساتھ از حد متکبرانہ تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ہم کیسے آپ کو اپنا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 7–8

4 یعنی اگر وہ اللہ پر ایمان لے آئیں اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں تو اللہ یقیناً ان کے گناہ معاف کردے گا۔ لیکن ان بدبختوں نے میری بات سننا بھی گوارا نہ کیا۔ بلکہ اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور دوسرا کام وہ یہ کرتے ہیں کہ جہاں کہیں مجھے دیکھتے ہیں اپنا منہ ڈھانپ لیتے ہیں کہ میں انہیں دیکھ کر بلا نہ لوں یا پھر انہیں مجھ سے اتنی نفرت ہے کہ وہ میری شکل دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے اور اپنے منہ پر کپڑا ڈال لیتے ہیں۔ یہ ہے ان کی ضد اور نفرت کی انتہا انہوں نے تو تیرے احکام کے سامنے اکڑ جانے میں حد کردی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

4۔ (قبول حق سے اور میری تعلیمات کی پذیرائی سے) (آیت) ” کلما دعوتھم “۔ یعنی جب جب انہیں مسلک توحید وراہ ایمان کی دعوت دی (آیت) ” لتغفرلھم “۔ یعنی تاکہ یہ ایمان لے آئیں اور مغفرت اس پر قدرۃ مرتب ہوجائے۔ (آیت) ” جعلوا .... ثیابھم “۔ یہ سب کچھ انہوں نے غایت نفرت وکراہت سے کیا، یعنی تاکہ نہ داعی حق کی آواز انکے کانوں تک پہنچے، اور نہ یہ داعی حق کو دیکھیں اور نہ وہ ان کو دیکھ سکے ! (آیت) ” استغشواثیابھم “۔ قدیم قوموں کا لباس، یاد رہے کہ بالکل ڈھیلا ڈھالا ہوتا تھا، دھوتی یا تہمد اور چادر وغیرہ، فرنگیوں کے موجودہ دچست کوٹ واسکٹ، پتلون وغیرہ پر اسے نہ قیاس کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 3–20

ان اعبدوا اللہ واتقوہ و اطیعون حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی تبلیغ کا آغاز ان تین باتوں سے فرمایا ایک یہ کہ اللہ بندگی، دوسرے تقویٰ ، تیسرے رسول کی اطاعت، مطلب یہ کہ اگر تم ان تین باتوں کو قبول کرلو تو اب تک جو گناہ تم سے ہوچکے ہیں ان سے وہ درگزر فرمائے گا، یغفرلکم من ذنوبکم و یوخر کم الی اجل مسمی الخ میں بعض مفسرین نے حقوق العباد کو خارج کرنے کے لئے من کو تبعیض کا لیا ہے، اسلام اور ایمان لانے سے حقوق اللہ معاف ہوجائیں گے مگر حقوق العباد سے معافی کے لئے صاحب حق سے معافی ضروری ہوگی، بعض مفسرن نے یہاں من زائدہ یا بمعنی عن لیا ہے مطلب یہ کہ ایمان لانے سے تمہارے سب گناہ معاف ہوجائیں گے مگر دوسری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانی کلما دعوتھم لتغفرلھم . یعنی جب بھی میں نے ان کو ایمان کی دعوت دی کہ ایمان کے ذریعہ سے تو ان کو معاف فرما دے۔ جعلوا اصابعھم فی اذانھم . تو انہوں نے میری دعوت کو سننے سے کان بند کرلیے۔ واستغشوا اثیابھم . اور کپڑے اوڑھ لیے تاکہ آنکھوں سے بھی نہ دیکھیں۔ واصروا . اور کفر و معصیت پر جمے رہے۔ واستکبروا استکبارا . اور سخت مغرور بن گئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

میں نے جب کبھی توبہ اور توحید کی طرف بلایا تاکہ اس کی وجہ سے آپ ان کو بخش دیں تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں تاکہ میری بات اور دعوت کو نہ سنیں اور اپنے سروں کو اپنے کپڑوں سے چھپا لیا تاکہ مجھے نہ دیکھیں اور نہ میری آواز سنی اور کفر اور بتوں کی پرستش پر جمے رہے اور سب نے ایک آواز ہو کر کہا اے نوح ہم تیرے اوپر ایمان نہیں لائیں گے اور ایمان و توبہ سے غایت درجہ کا تکبر کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) وانی کلما دعوتھم لتغفرلھم…: اس آیت میں تھوڑا سا حصہ حذف ہے، یعنی میں نے جب بھی انہیں دعوت دی کہ ایمان لے آئیں، تاکہ اس کے نتیجے میں) تو انہیں معاف فرما دے تو انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں، منہ سر کپڑوں میں لپیٹ لئے اور اپنی بات پر اڑ گئے …۔ یعنی ان کے پاس نوح ؑ کی دعوت کو رد کرنے کا کوئی جواز نہ تھا اور نہ ہی آپ کے دلائل کا سامنا کرنے کی ہمت تھی، ادھر وہ شرک چھوڑنے پر بھی تیار نہیں تھے اور نہ اپنی بڑائی سے دستبردار ہونے پر تیا تھے۔ نوح علیہ اسللام کی بات ماننے میں ان کی سرداری، بڑائی اور چودھراہٹ میں فرق آتا تھا، اس لئے ان کی کوشش یہ تھی کہ نوح ؑ کی بات کانوں میں پڑے اور نہ ان کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

میں نے جب انہیں سبب مغفرت یعنی تیری ذات پر ایمان اور تیری طاعت کی طرف بلایا انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں تاکہ وہ میری دعوت کو نہ سن سکیں، انہوں نے اپنے چہروں کو اپنے کپڑوں سے ڈھانپ لیا تاکہ وہ مجھے دیکھ ہی نہ سکیں۔ حضرت ابن عباس نے کہا، انہوں نے اپنے کپڑے اپنے سروں پر ڈال لئے تاکہ وہ کلام نہ سن سکیں۔ کپڑوں کے استغشاء کا مطلب ہے کہ کانوں کو بند کرنے میں زیادتی کرنا تاکہ وہ اس آواز کو نہ سنیں یا اپنے آپ کو اجنبی بنانے کے لئے یہاں تک کہ وہ خاموش ہوجائے یا آپ سے اپنے اعراض کو ظاہر کرنے کے لئے ایسا کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ عداوت و دشمنی سے کنایہ ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

7۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت جعلوا اصابعہم فی اذنہم انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں رکھ لیں تاکہ آپ جو کہتے ہیں اس کو نہ سن سکیں۔ آیت واستغشوا ثیابہم اور انہوں نے اپنے کپڑے اوڑھ لیے۔ تاکہ وہ ان کے لیے ان جان ہوجائیں اور وہ ان کو نہ پہچان سکیں۔ آیت واستکبرا واستکبارا اور بہت بڑا تکبر کیا یعنی انہوں نے توبہ کرنا چھوڑ دی۔ 8۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واستغشوا ثیابہم یعنی انہوں نے اپنے چہروں کو ڈھانک لیا تاکہ وہ نوح (علیہ السلام) کو نہ دیکھیں اور نہ ہی آپ کا کلام سنیں۔ 9۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت واسغشوا ثیابہم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاِنِّىْ كُلَّمَا : اور بیشک میں نے جب بھی ] [دَعَوْتُهُمْ : بلایا ان کو ] [لِتَغْفِرَ لَهُمْ : تاکہ تو بخش دے ان کے لیے (ان کے گناہ)] [جَعَلُوْٓا اَصَابِعَهُمْ : تو وہ رکھ لیتے ہیں اپنی انگلیاں ] [فِيْٓ اٰذَانهِمْ : اپنے کانوں میں ] [وَاسْتَغْشَوْا : اور خود کو ڈھانپتے ہیں ] [ثِيَابَهُمْ : اپنے کپڑوں سے ] [وَاَصَرُّوْا : اور اڑ جاتے ہیں ] [وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا : اور بڑائی چاہتے ہیں جیسے بڑائی کا حق ہے ] (آیت۔ 7) کُلَّمَا شرط ہے اس لیے اس کے آگے آنے والے افعال ماضی کا ترجمہ حال میں ہوگا۔ اِسْتِکْبَارًا کی نصب مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–20

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے خطاب، نعمتوں کی تذکیر، توحید کی دعوت، قوم کا انحراف اور باغیانہ روش یہاں سے سورة ٴ نوح شروع ہو رہی ہے اور بھی کئی سورتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا اور ان کی قوم کی نافرمانی کا اور قوم کے انجام کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے تقریباً ایک ہزار سال کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی وہ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے ان لوگوں میں بت پرستی پھیل گئی تھی۔ بت بنا لیتے تھے اور ان کے نام بھی تجویز کرلیتے تھے جو اس سورت کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں، حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں طرح طرح سے سمجھایا توحید کی اور اللہ وحدہ لاشریک لہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–20

و توحید خالق ارض وسماء : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انآ ارسلنا نوحا الی قومہ ........ الی ......... سبلا فجاجا “۔ (ربط) اس سے قبل سورة معارج میں قیامت اور قیامت کے احوال شدیدہ کا ذکر تھا اور یہ کہ اس روز مجرمین اور نافرمانوں کی پریشانی اور بدحالی انسان کے تصور سے بھی بڑھ کر ہوگی تو اب اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر ہے جن کو حق تعالیٰ نے عالم میں سب سے پہلا وہ رسول بنا کر بھیجا جو شرک وبت پرستی کا رد کرنے والے تھے انکی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ قوم کی یہ کس قدر بدنصیبی تھی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرایا اور بڑی ہی گستاخی کے ساتھ شرک وبت پرستی پر ڈٹے رہے ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 5–7

4:۔ ” قال رب “ حضرت نوح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی تبلیغی جدو جہد اور مشرکین کے عناد و تعنت کا ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی قوم کو دعوت توحید دینے میں نہ دن دیکھا ہے، نہ رات، جب انہیں موقع ملا انہوں نے ان کو سمجھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ مگر میں جتنا ان کو توحید کی طرف بلاتا ہوں وہ اتنا ہی دور بھاگتے ہیں۔ ” وانی کلما دعوتہم “ میں نے جب بھی ان کو توحید کی طرف دعوت دی تاکہ وہ ایمان لے آئیں اور تو ان کے گناہ معاف فرما دے تو غور سے سننے اور ماننے کے بجائے انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں تاکہ وہ میری آواز سن ہی نہ پائیں اور اپنے معبودوں کی توہین نہ سن سکیں اور اپنے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

کوائف اور مضامین : اس سے پہلی سورة معراج تھی جس میں زیادہ تر قیامت کا ذکر تھا ، تاہم ضمناََ توحید و رسالت کا بیان بھی تھا۔ اس سورة کا نام حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس دعوت الیٰ الحق اور دعوت توحید کا ذکر فرمایا ہے جو انہوں نے اپنی قوم کو دی اس دعوت کے مختلف طریقے اور اس کاروائی کا بیان ہے جو نوح (علیہ السلام) نے اس سلسلہ میں سرانجام دی گویا دعوت الی الحق کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو بطور نمونہ پیش کیا ہے۔ سابقہ سورة سے ربط۔ گزشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو صبر جمیل کی نصیت فرمائی۔ کفار و مشرکین آپ کی طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتے تھے۔ ٹھٹا اور تمسخر کرتے تھے۔ آپ کے گرد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنِّىْ كُلَّمَا دَعَوْتُہُمْ لِتَغْفِرَ لَہُمْ جَعَلُوْٓا اَصَابِعَہُمْ فِيْٓ اٰذَانِہِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَہُمْ وَاَصَرُّوْا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا۝ 7 ۚ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 2–7

ترکیب : ان انذر ان معنی ای ویجوزان یکون مصدریۃ ‘ من قبل متعلق بانذر قال یا قوم قوم بکسرالمیم اصلہ قومی حذفت الیاء والکسرۃ دلیل علیھا والجملۃ مستانفۃ ان اعبدواللہ ان تفسیریۃ لنذیرا وھی مصدریۃ یغفر مجذوم علی انہ جواب الاوامرا لثلاثۃ و من للتبعیض وقال الاخفش زائدۃ ویؤخر معطوف علے یغفر لیلا ونہارا ظرفان لدعوت الافرارا الاستثناء مفرغ۔ لتغفر واللام للسییۃ جعلوا جواب کلہا۔ تفسیر : یہ سورة مبارکہ بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی۔ قریش کی سرکشی اور اخیر نبی (علیہ السلام) کی ہدایتوں پر تمسخر اور وعدوں کی تکذیب اور تکبر حد کو پہنچ گیا تھا۔ اس لیے ان لوگوں کی مثل سرکش اور نافرمان قوم کا عبرتناک واقعہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِنِّیْ کُلَّمَا دَعَوْتُھُمْ لِتَغْفِرَلَھُمْ جَعَلُوْٓا اَصَابِعَھُمْ فِٓیْ اٰذَانِھِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِیَابَھُمْ وَاَصَرُّوْا وَاسْتَـکْبَرُوْا اسْتِکْبَارًا۔ (نوح : 7) (میں نے جب بھی ان کو بلایا تاکہ تو انھیں معاف کردے تو انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں۔ اپنی چادریں اپنے اوپر لپیٹ لیں، اپنی روش پر اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا۔ ) مستکبرین کے استکبار کی تصویر یہ اس قوم کے مستکبرین کے گریز و استکبار کی تصویر ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ میں نے جب بھی ان کو پکارا تاکہ تو انھیں بخش دے۔ اس جملے کا اسلوب خود بتارہا ہے کہ یہاں ایک لفظ محذوف ہے جس پر قرینہ دلالت کررہا ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–9

فہم القرآن ربط کلام : نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بار بار سمجھایا کہ اے میری قوم شرک اور اللہ کی نافرمانی سے تائب ہو کر اللہ کی بندگی کرو اور میری اطاعت کرتے رہو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تمہارے گناہ معاف فرمائے گا اور تمہیں عافیت کی زندگی عطا کرے گا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اور ہر قسم کے شرک سے باز آؤ اور میری اطاعت قبول کرو۔ اس کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تمہیں وقت مقررہ تک مہلت دے گا۔ وقت مقرر سے مراد ہر انسان کی موت ہے اگر اس سے مراد کسی قوم یا برادری اور جماعت کا مقرر وقت سمجھا جائے تو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قوم کی کیفیت : 7 : وَاِنِّیْ کُلَّمَا دَعَوْتُہُمْ (اور میں نے جب کبھی ان کو بلایا) تاکہ وہ آپ پر ایمان لائیں۔ لِتَغْفِرَلَھُمْ (تاکہ آپ ان کو بخش دیں) تاکہ وہ ایمان قبول کرلیں اور آپ ان کو بخش دیں۔ یہاں مسبب کے تذکرہ پر اکتفاء کیا گیا۔ جَعَلُوْٓا اَصَابِعَھُمْ فِیْ اٰذَانِھِمْ (تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دے ڈالیں) انہوں نے اپنے کانوں کو بند کرلیا تاکہ وہ میری بات سننے نہ پائیں۔ وَاسْتَغْشَوْا ثِیَا بَہُمْ (اور اپنے کپڑے لپیٹ لیے) انہوں نے اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانپ لیا تاکہ وہ مجھے نہ دیکھ پائیں۔ اس لئے کہ وہ دین کے داعی کے چہرے کو دیکھنا بھی پسند نہ کرتے تھے۔ وَاَصَرُّوْا (اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 5–20

5۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح علیہ اسلام کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم تھا اس کے موافق انہوں نے سالہا سال تک اپنی قوم کو بت پرستی کے وبال سے ڈرایا اور جب ان کی سرکش قوم راہ راست پر نہ آئی تو انہوں نے اپنی قوم کی یہ شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کی جس کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ میں ان لوگوں کو ہر وقت تنہائی میں محفل میں سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوگوں نے میری ایک نہ سنی بلکہ یہ لوگ نصیحت کی بات سے ایسے گھبراتے ہیں کہ جب ان سے کوئی بات نصیحت کی کہی جاتی ہے تو یہ لوگ کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں منہ سر لپیٹ کر کانوں کو کپڑے کے اندر چھپا لیتے ہیں تاکہ نصیحت کی بات سے ان کے کان آشنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–8

(وانی کلما دعوتھم لتغفرلھم) ۔ اور میں نے جب بھی ان کو پکارا تاکہ تو ان کو بخش دے۔ یعنی اس وجہ سے پکارا کہ وہ اس دعوت کو قبول کریں۔ جب وہ دعوت کو قبول کرلیں گے تو ان کو بخش دیا جائے گا اور اس میں محض ان کی مصلحت ہے مگر وہ اپنے باطل پر مصر اور حق سے دور بھاگتے رہے۔ (جعلو اصابعھم فی اذانھم) ۔ انہوں نے کانوں میں انگلیاں دے لیں۔ اس ڈر سے کہ کہیں وہ باتیں ان کے کان میں نہ پڑجائیں جو ان سے ان کا نبی نوح کہتا ہے۔ (واستغشوا ثیابھم) یعنی حق سے بعد اور بغض کی بنا پر، اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانپ کر پردہ کرلیا (واصبروا) اور انہوں نے اپنے کفر اور شر پر اصرار کیا (واستکبروا الستکبارا) پھر میں ان کو کھلے طور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 7–8

9 پیغمبر (علیہ السلام) کے اخلاص و خیر خواہی کا ایک نمونہ و مظہر : سو حضرت نوح نے اپنے رب کے حضور مزید عرض کیا کہ میں نے ان کو جب بھی بلایا تاکہ تو ان کی بخشش فرما دے اے میرے مالک۔ یعنی میری اس دعوت میں میرا ذاتی کوئی مفاد پیش نظر نہیں تھا بلکہ سراسر انہی کی بھلائی اور خیر خواہی مطلوب تھی اور یہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت و تبلیغ کا ایک امتیازی نشان ہوتا ہے کہ تبلیغ حق کے کام میں کوئی ذاتی غرض ان کے پیش نظر نہیں ہوتی اور ان کا صاف اور صریح طور پر اعلان ہوتا ہے " وما اسئلکم علیہ من اجر " " میری قوم کے لوگو ! میں تم سے تبلیغ حق کے اس کام پر کسی طرح کے کسی اجر و صلہ کا کوئی سوال نہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–14

سیدنانوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مقصد تشریح :۔ جیسا کہ کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے کہ سیدناآدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی اکرم ﷺ تک جتنے بھی نبی انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے سب نے توحید ہی کی تعلیم دی کیونکہ توحید ہی ایسا عقیدہ ہے جو انسان کو ہر قسم کے شر و فساد اور شیطان کے قبضہ سے نکال کر امن و سکون اور اللہ کی راہ دکھاتا ہے۔ معمول کے مطابق توحید کی تعلیمات آہستہ آہستہ مٹتی گئیں اور بت پرستی بڑھتی گئی تب اللہ تعالیٰ نے سیدنانوح (علیہ السلام) کو ہدایت دینے کے لیے نبی بنا کر انکی قوم کی طرف بھیجا۔ سیدنانوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تین باتوں کی تعلیم دی۔ پہلی اللہ کی بندگی دوسری تقویٰ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–20

سورة نوح۔ آیات 1 تا 20۔ اسرارومعارف۔ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا کہ ان کا کردار ایسا مسخ ہوچکا تھا کہ عذاب الٰہی واقع ہونے کا خطرہ تھا لہذا نوح (علیہ السلام) انہیں بروقت باخبر کرنے کے لیے تشریف لائے کہ اللہ کے دردناک عذاب سے بچنے کا طریقہ سکھائیں لہذا انہوں نے اپنی بعثت کا اعلان فرمایا کہ اللہ نے مجھے تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے اور تم اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اور اس کی نافرمانی سے باز رہو۔ نبی کا لایا ہوا نظام۔ اس کی اطاعت یہ ہے کہ جو میں کہتا ہوں وہ کرو یعنی اپنی زندگی میں میرا دیا ہوا نظام رائج کرو تو تم سے جو گناہ ہوچکے ہیں اللہ اپنی رحمت سے معاف فرمائیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 مطلب یہ ہے کہ انہوں نے دشمنی پر کمر باندھ لی۔10 یعنی کفر و شرک کو چھوڑنے پر تیار نہ ہوئے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(71:7) وانی کلما دعوتھم لتغفرلہم : واؤ عاطفہ ہے کلما یہ لفظ مرکب ہے کل اور ما سے۔ اکثر کلما کے بعد فعل ماضی آتا ہے۔ کلما جب بھی، جس وقت بھی۔ لتغفر میں لام سببیہ ہے۔ بمعنی تاکہ : تغفر۔ مضارع منصوب (بوجہ عمل لام) واحد مذکر حاضر۔ غفر (باب ضرب) مصدر سے۔ لہم ان کا۔ ترجمہ :۔ تاکہ تو ان کو بخش دے۔ یا معاف کر دے۔ (1) جعلوا اصابعہم فی اذانھم (تو لگے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونسنے) (2) واستغشو اثیابھم (اور لگے اپنے اوپر کپڑوں کو لپیٹنے) (3) واصروا۔ (اور ضد کرنے لگے) (4) واستکبروا استکبارا۔ (اور بڑا گھمنڈ کرنے لگے) یہ چاروں جملے کلما دعوتھم کے جواب میں ہیں۔ اصابعھم : مضاف مضاف الیہ۔ مفعول جعلوا کا۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–28

لغات القرآن۔ لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔ تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔ فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–24

حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت کا ذکر۔ (ف 1) اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح کو جس طرح اللہ کا حکم تھا اس کے موافق حضرت نوح نے نو سو برس تک ان کو سمجھاتے رہے جب امید کی کوئی سورت باقی نہ رہی تو مایوس اور تنگ دل ہوکربارگاہ الٰہی میں عرض کیا یا اللہ میں نے اپنی طرف سے دعوت تبلیغ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا رات کی تاریکی اور دن کے اجالے میں برابر ان کو تیری طرف بلاتا رہا، مگر نتیجہ یہ ہوا کہ جوں جوں تیری طرف آنے کو کہا گیا یہ بدبخت اور زیادہ ادھر سے منہ پھیرکربھاگے اور جس قدر میری طرف سے شفقت ودل سوزی کا اظہار ہوا ان کی جانب سے نفرت اور بےزاری بڑھتی گئی سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوں نے میری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 5–14

[2] یعنی جس اللہ نے تخلیق کے مختلف مراحل سے گزار کر تمہیں مکمل انسان بنایا اور جس کی قدرت کی شانیں تمہارے اپنے وجود کے اندر نظر آتی ہیں اس کے متعلق تم یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ بھی کوئی بڑی ہستی ہوگا۔ تم اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہو، اس کے احکام کی نافرمانیاں کرتے ہو لیکن تمہیں اندیشہ لاحق نہیں کہ وہ تمہیں اس کی سزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 7–9

حضرت نوح کی تبلیغ کا اثر 1: حضرت نوح فرماتے ہیں ۔ کہ میں نے ان کو شب وروز حق کی طرف دعوت دی ۔ اور بنایا ۔ مگر تقریباً ایک ہزار سال کی طویل مدت میں اس ساری تبلیغ اشاعت کا اثر یہ ہوا ۔ کہ ان کے دلوں میں اور زیادہ نفرت پیدا ہوگئی ۔ میں نے جب بھی ان سے کہا ۔ کہ حق وصداقت کو مان لو ۔ فلاح دارین پاؤ گے ۔ تو انہوں نے اپنی انگلیاں کانوں میں دے لیں ۔ کپڑے سے منہ ڈھانپ لیا ۔ نافرمانی اور سرکشی پر اصرار کیا ۔ اور ازراہ تکبر ونحوت کا انکار کردیا ۔ میں نے ہر طریق سے سمجھانے کی کوشش کی ۔ کھلے بندوں کہا ۔ علانیہ اور خفیہ ہر طرح پر سمجھایا ۔ مگر سب بےکار ۔ ان کو نہ ماننا تھا ، نہ مانے اور نہ تسلیم کرنا تھا ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) اور میں نے جب بھی ان کو ایمان اور دین حق کی طرف بلایا تاکہ آپ ان کو ایمان کی وجہ سے بخش دیں اور ان کے ایمان لانے کے سبب ان کی مغفرت فرمادیں تو انہوں نے اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑے اپنے اوپر اوڑھ کر سب طرف سے لپیٹ لئے اور اپنی کافرانہ روش پر اصرار کیا اور انتہائی تکبر کا اظہار کیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کپڑا اوڑھنے لگے کہ اس کی بات ہمارے دل میں نہ لگ جائے۔ خلاصہ : یہ کہ میں نے جب بھی ان کو بلایا اور کسی اجتماع میں ان کے جاپہنچا تو انہوں نے اپنے ککانوں میں انگلیاں دے لیں اور اوپر سے کپڑے اوڑھ لئے کہ وہ مجھ کو نہ دیکھیں اور میں ان کو نہ دیکھوں یا کسی وقت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–7

ف 3۔ یعنی ایمان نہ لانے پر جس عذاب کا مرنے سے پہلے وعدہ کیا جاتا ہے، اگر ایمان لے آئے تو وہ عذاب نہ آوے گا۔ 4۔ یعنی موت کا آنا ہر حال میں ضروری ہے، ایمان میں بھی اور کفر میں بھی لیکن دونوں حالتوں میں اتنا فرق ہے کہ ایک حالت میں علاوہ عذاب آجل کے عذاب عاجل بھی ہوگا اور ایک حالت میں مثل عذاب آجل کے عذاب عاجل سے بھی محفوظ رہو گے، اور تخصیص نفی عذاب عاجل میں یہ نکتہ ہے کہ ایمان پر عذاب آج سے تو تحفظ رہتا ہی ہے، مگر بعض اوقات باوجود ایمان کے بھی دنیوی کلفتیں پیش آجاتی ہیں، پس اس کی نفی سے ایمان لانے پر مزید فضل کا وعدہ ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

لاریب میں نے جب بھی ان کو بلایا تو انہوں نے تکبر ہی کا اظہار کیا 7 ؎ نوح (علیہ السلام) نے جو مناجات بدرگاہ رب ذوالجلال والاکرام پیش کرنا شروع کی تھی اس کو جاری رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے میرے رب ! میں نے جب کبھی ان کو تیری طرف سے پیغام پہنچایا ہے اور تیری طرف دعوت دی تاکہ تو ان کو بخش دے تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور اپنے چہروں پر انہوں نے کپڑے ڈال لئے اور اس طرح ضد اور غرور کی حد کردی ، اس کے باوجود میں نے ان کو بلایا لیکن وہ اپنے گناہوں پر اصرار کرنے لگے اور مجھ سے نفرت میں بڑھتے بڑھتے بہت دور نکل گئے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–14

Commentary يَغْفِرْ‌ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ and Allah will forgive you your sins, 71:4). The particle min is often used to indicate division into parts, that is, to refer to only a part of an amount, group or number. If it is taken in that sense here, it would signify that by embracing the faith only those sins would be forgiven which pertains to the Divine rights because violation of human rights would be forgiven only when the believer fulfills the human rights which he has violated [ such as pecuniary obligations ] and if they cannot be fulfilled [ such as hurting somebody physically or…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–11

9 "That you might pardon them": that they might give up their attitude of disobedience and beg forgiveness of Allah, for in that way alone they could be forgiven by Allah. 10 They covered their faces either because they did not even like to have a look at the Prophet Noah's face, not to speak of listening to what he said, or they did so in order to hide their own faces from him as they passed by him so that he could not recognize and address them. This precisely was the attitude and conduct which the disbelievers of Makkah were adopting towards the Holy Prophet (upon whom be peace) . In Surah…

Read the full tafseer →