Nooh 71:6

Nooh · from ayah 6

71:6

فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا ۟فَلَمۡ يَزِدۡهُمۡ دُعَآءِىۡۤ اِلَّا فِرَارًا

لیکن میرے بلانے سے وہ اور زیادہ گزیر کرتے رہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But my invitation increased them not except in flight.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Nooh

All translations of 71:6

مگر میری پکار نے اُن کے فرار ہی میں اضافہ کیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

لیکن میرے بلانے سے وہ اور زیادہ گزیر کرتے رہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

مگر میرے بلانے سے یہ لوگ اور زیاده بھاگنے لگے

— مولانا محمد جوناگڑہی

لیکن میری دعوت کا اس کے سوا کوئی نتیجہ نہیں ہوا کہ وہ اور زیادہ بھاگنے لگے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو میرے بلانے سے انہیں بھاگنا ہی بڑھا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

لیکن میری دعوت نے ان کے لئے سوائے بھاگنے کے کچھ زیادہ نہیں کیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو میرے بلانے نے دور بھاگنے کے سوا ان کو کسی چیز میں زیادہ نہیں کیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

مگر میری دعوت سے ان کے فرار ہی میں اضافہ ہوا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

لیکن میری پکار نے ان کے گریز ہی میں اضافہ کیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر میری اس دعوت (و پکار) سے وہ اور بھی (بدکتے اور) بھاگتے گئے (راہ حق و صواب سے)

— مولانا اسحاق مدنی

سو میرے بلاوے نے ان کا گریز اور بڑھا ہی دیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

لیکن میری اس دعوت نے ان میں کچھ اضافہ نہیں کیا سوائے فرار کے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

لیکن میرے بلانے سے وہ اور زیادہ گریز کرتے رہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

but the more I called, the farther they fled.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

but my call added only to their flight (from the truth) .

— Muhammad Taqi Usmani

but my call added only to their flight (from the truth) .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But all my calling added nothing but to (their) flight.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But all my calling doth but add to their repugnance;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But my invitation increased them not except in flight.

— Saheeh International

but it has had no effect on them except to make them run away.

— Muhammad Sarwar

But my call has only made them flee the more:

— Muhammad Habib Shakir

And my calling hath only increased them in fleeing.

— Abdul Majid Daryabadi

"But my call only increases (their) flight (from the Right).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 71:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 5–20

نو سو سال صدا بصحرا کے بعد بھی ایک پیغمبرانہ کوشش یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ساڑھے نو سو سال تک کی لمبی مدت میں کس کس طرح حضرت نوح نبی نے اپنی قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا قوم نے کس کس طرح اعراض کیا کیسی کیسی تکلیفیں اللہ کے پیارے پیغمبر کو پہنچائیں اور کس طرح اپنی ضد پر اڑ گئے، تو حضرت نوح ؑ بطور شکایت کے جناب باری میں عرض کرتے ہیں کہ الٰہی میں نے تیرے حکم کی پوری طرح سرگرمی سے تعمیل کی، تیرے فرمان عالیشان کے مطابق نہ دن کو دن سمجھا، نہ رات کو رات، بلکہ مسلسل ہر وقت انہیں راہ راست کی دعوت دیتا رہا لیکن کیا کروں کہ جس دل سوزی سے میں انہیں نیکی کی طرف بلاتا رہا وہ اسی سختی سے مجھ سے بھاگتے رہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة نُوْح 8 یعنی جتنا جتنا میں ان کو پکارتا گیا اتنے ہی زیادہ دور بھاگتے چلے گئے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–14

معارف و مسائل r ۙيَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ ، حرف من اکثر تبعین یعنی جزئمت بتلانے کے لئے آتا ہے اگر یہ معنے لئے جاویں تو مطلب یہ ہے کہ ایمان لانے سے تمہارے سے وہ گناہ مغاف ہوجائیں گے جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے کیونکہ حقوق العباد کی معافی کے لئے ایمان لانے کے بعد بھی یہ شرط ہے کہ جو حقوق ادائیگی کے قابل ہیں ان کو ادا کرے جیسے مالی واجبات، اور جو قابل ادائیگی نہیں جیسے زبان یا ہاتھ سے کسی کو ایذاء پہنچائی اس سے معاف کرائے۔ حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ ایمان لانے سے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں اس میں بھی حقوق العباد کی ادائیگی یا معافی شرط ہے اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ حرف من اس جگہ زائد…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 5–6

حضرت نوحؑ کی دعوت کا دوسرا مرحلہ: یہاں سے حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کے دوسرے مرحلہ کا بیان آ رہا ہے جب آپ نے اپنے رب سے استغاثہ کیا ہے کہ ان کی شب و روز کی ساری تگ و دو جو دعوت کی راہ میں انھوں نے کی وہ قوم پر بالکل بے اثر رہی۔ یہ امر واضح رہے کہ جتنی طویل مدت تک حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو دعوت دی ہے اس کی کوئی مثال معلوم نہیں ہے۔ قرآن میں تصریح ہے کہ ’فَلَبِثَ فِیْہِمْ أَلْفَ سَنَۃٍ إِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا‘ (العنکبوت ۲۹: ۱۴) (پس وہ اپنی قوم کے اندر پچاس سال کم ایک ہزار سال رہا)۔ ’دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْْلاً وَنَہَارًا‘ کے الفاظ میں بھی ظاہر ہے کہ کسی مبالغے کا شائبہ نہیں ہو سکتا۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

6۔ 1 یعنی میری پکار سے یہ ایمان سے اور زیادہ دور ہوگئے ہیں۔ جب کوئی قوم گمراہی کے آخری کنارے پر پہنچ جائے تو پھر اس کا یہی حال ہوتا ہے، اسے جتنا اللہ کی طرف بلاؤ، وہ اتنا ہی دور بھاگتی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–13

2: یعنی جب تک تمہاری زندگی مقدر ہے، اس وقت تک تمہیں زندہ رکھے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 5–6

قال رب انی ............................ سبلا فجاجا یہ تھی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کارکردگی اور یہ رہی ان کی رپورٹ۔ اس طویل عرصہ کارکردگی میں وہ اپنے رب کے سامنے اپنا حساب پیش فرماتے ہیں۔ آپ کی رپورٹ میں جو چیز نمایاں ہے ، وہ آپ کی جہد مسلسل ہے۔ انی دعوت .................... ونھارا (17 : 5) ” اے میرے رب ! میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو شب وروز پکارا “۔ انہوں نے ہمت نہ ہاری ، وقفہ نہیں کیا ، اور وہ لوگوں کو مسلسل اعراض اور اصرار کے باوجود مایوس نہیں ہوئے لیکن فلم یزدھم ................ فرار (17 : 6) ” لیکن میری پکار نے ان کے فرار ہی میں اضافہ کیا “۔ یعنی وہ داعی الی اللہ سے بھاگتے رہے اور شیطان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 5–6

3 یعنی نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو برس تک ان کو سمجھاتے رہے جب امید کی کوئی جھلک باقی نہ رہی تو مایوس اور تنگدل ہو کر بارگاہ الٰہی میں عرض کیا کہ بار خدایا میں نے اپنی طرف سے دعوت و تبلیغ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ رات کی تاریکی میں اور دن کے اجالے میں برابر ان کو تیری طرف بلاتا رہا۔ مگر نتیجہ یہ ہوا کہ جوں جوں تیرے طرف آنے کو کہا گیا یہ بدبخت اور زیادہ ادھر سے منہ پھیر کر بھاگے اور جس قدر میری طرف سے شفقت و دلسوزی کا اظہار ہوا، ان کی جانب سے نفرت اور بیزاری بڑھتی گئی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 5–6

آیت 6{ فَلَمْ یَزِدْہُمْ دُعَآئِ یْٓ اِلَّا فِرَارًا۔ } ”لیکن میری اس دعوت نے ان میں کچھ اضافہ نہیں کیا سوائے فرار کے۔“ یعنی میری اس شب و روز کی دعوتی مساعی کے نتیجے میں ان کے گریز اور فرار ہی میں اضافہ ہوا۔ جتنا جتنا میں ان کو پکارتا گیا اتنے ہی زیادہ یہ دور بھاگتے گئے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

3 یعنی میں نے اپنی امکانی حد تک لوگوں کو تیرا پیغام پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ حتیٰ کہ دن رات ایک کردیا۔ مگر یہ قوم کچھ اس قدر ضدی واقع ہوئی ہے کہ ہر سیدھی بات کا الٹا ہی مطلب لیتی ہے۔ میں نے جتنی بھی کوشش کی کہ انہیں اپنے قریب لاسکوں اتنا ہی یہ مجھ سے دور رہنے اور بھاگنے کی کوشش کرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 5–6

3۔ یہ سب عرض ومعروض آپ (علیہ السلام) نے اس وقت کی ہے جب آپ (علیہ السلام) ہر ممکن تبلیغ و دعوت اور صدہاسال کے تجربہ کے بعد اپنی قوم کی طرف سے بالکل مایوس ہوچکے ہیں اور برابر یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ جتنی بھی کوشش آپ (علیہ السلام) کی جانب سے اصلا کی ہوتی رہی، ادھر سے اور ضد، انکار و استکبار ہی بڑھتا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 3–20

ان اعبدوا اللہ واتقوہ و اطیعون حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی تبلیغ کا آغاز ان تین باتوں سے فرمایا ایک یہ کہ اللہ بندگی، دوسرے تقویٰ ، تیسرے رسول کی اطاعت، مطلب یہ کہ اگر تم ان تین باتوں کو قبول کرلو تو اب تک جو گناہ تم سے ہوچکے ہیں ان سے وہ درگزر فرمائے گا، یغفرلکم من ذنوبکم و یوخر کم الی اجل مسمی الخ میں بعض مفسرین نے حقوق العباد کو خارج کرنے کے لئے من کو تبعیض کا لیا ہے، اسلام اور ایمان لانے سے حقوق اللہ معاف ہوجائیں گے مگر حقوق العباد سے معافی کے لئے صاحب حق سے معافی ضروری ہوگی، بعض مفسرن نے یہاں من زائدہ یا بمعنی عن لیا ہے مطلب یہ کہ ایمان لانے سے تمہارے سب گناہ معاف ہوجائیں گے مگر دوسری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلم یزدھم دعاء ی الا فرارا . دعاء زیادت فراء کا سبب تھی ‘ اس لیے دعاء کو فراء میں اضافہ کرنے والا قرار دیا۔ یعنی میری دعوت نے ایمان وطاعت سے بھاگنے میں اور اضافہ کردیا (گویا زیادہ کرنے کی دعوت کی طرف نسبت مجازی ہے حقیقی فاعل تو خدا ہے مگر دعوت سبب ہے اور سبب کو فاعل قرار دینا مجازاً ہوتا ہے) جیسے آیت : فزادتھم ایمانا اور زادتھم رحبا میں اسناد مجازی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 5–6

(5۔ 6) اس لیے میری بات تسلیم کرو چناچہ جب حضرت نوح ساڑھے نو سال تک ان کو سمجھاتے رہے اور وہ پھر بھی ایمان نہیں لائے اور نہ ان کی نصیحت کو مانا تو مایوس ہو کر نوح نے دعا فرمائی کہ میرے پروردگار میں نے اپنی قوم کو توبہ اور توحید کی طرف رات کو بھی اور دن کو بھی دعوت دی سو وہ میرے بلانے سے توبہ اور ایمان سے اور زیادہ دور بھاگتے رہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فلم یردھم دعآء ی الا فراراً : مگر ان پر لاٹا اثر ہوا، وہ ایمانق بول کرنے کے بجائے اور زیادہ دور بھاگنے لگے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 5–6

لیلاً و نھاراً ۔ کا معنی ہے مخفی طریقہ سے اور اعلانیہ طریقہ سے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : میں نے پے در پے دعوت دی۔ فلم یزدھم دعآئی الافرار۔ میری دعوت ایمان سے دور کرتی ہے۔ عام قرأت دعائی میں یاء کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ کوفہ کے قراء، یعقوب اور دوری نے ابو عمر سے اس کے سکون کی روایت نقل کی ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

قوم نوح کی ہٹ دھرمی 6۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت فلم یزدہم دعائی الا فرارا پھر وہ میرے بلانے سے اور بھی زیادہ بھاگتے رہے کے بارے میں روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے ایک آدمی اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر نوح (علیہ السلام) کے پاس جاتا تھا۔ اور اپنے بیٹے سے کہتا تھا۔ اس نوح سے بچنا یہ تجھ کو دھوکے میں نہ ڈالے بیشک میرا باپ اسی طرح مجھے لے کر گیا۔ اور اس وقت میں تیری طرح بچہ تھا۔ اور اس سے مجھے ڈرایا تھا جیسے میں نے تجھ کو ڈرارہا جیسے میں تجھ کو ڈرا رہا ہوں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَلَمْ يَزِدْهُمْ : تو زیادہ نہیں کیا ان کو ] [دُعَاۗءِيْٓ: میرے بلانے نے ] [اِلَّا فِرَارًا : سوائے بھاگنے کے ] (آیت۔ 6) لَمْ یَزِدْ کا فاعل دُعَائِ ْی ہے اور اس کا مفعول ھُمْ کی ضمیر ہے۔ جبکہ فِرَ ارًا کی نصب تمیز ہونے کی وجہ سے ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–20

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے خطاب، نعمتوں کی تذکیر، توحید کی دعوت، قوم کا انحراف اور باغیانہ روش یہاں سے سورة ٴ نوح شروع ہو رہی ہے اور بھی کئی سورتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا اور ان کی قوم کی نافرمانی کا اور قوم کے انجام کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے تقریباً ایک ہزار سال کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی وہ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے ان لوگوں میں بت پرستی پھیل گئی تھی۔ بت بنا لیتے تھے اور ان کے نام بھی تجویز کرلیتے تھے جو اس سورت کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں، حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں طرح طرح سے سمجھایا توحید کی اور اللہ وحدہ لاشریک لہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–20

و توحید خالق ارض وسماء : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انآ ارسلنا نوحا الی قومہ ........ الی ......... سبلا فجاجا “۔ (ربط) اس سے قبل سورة معارج میں قیامت اور قیامت کے احوال شدیدہ کا ذکر تھا اور یہ کہ اس روز مجرمین اور نافرمانوں کی پریشانی اور بدحالی انسان کے تصور سے بھی بڑھ کر ہوگی تو اب اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر ہے جن کو حق تعالیٰ نے عالم میں سب سے پہلا وہ رسول بنا کر بھیجا جو شرک وبت پرستی کا رد کرنے والے تھے انکی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ قوم کی یہ کس قدر بدنصیبی تھی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرایا اور بڑی ہی گستاخی کے ساتھ شرک وبت پرستی پر ڈٹے رہے ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 5–7

4:۔ ” قال رب “ حضرت نوح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی تبلیغی جدو جہد اور مشرکین کے عناد و تعنت کا ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی قوم کو دعوت توحید دینے میں نہ دن دیکھا ہے، نہ رات، جب انہیں موقع ملا انہوں نے ان کو سمجھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ مگر میں جتنا ان کو توحید کی طرف بلاتا ہوں وہ اتنا ہی دور بھاگتے ہیں۔ ” وانی کلما دعوتہم “ میں نے جب بھی ان کو توحید کی طرف دعوت دی تاکہ وہ ایمان لے آئیں اور تو ان کے گناہ معاف فرما دے تو غور سے سننے اور ماننے کے بجائے انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں تاکہ وہ میری آواز سن ہی نہ پائیں اور اپنے معبودوں کی توہین نہ سن سکیں اور اپنے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

کوائف اور مضامین : اس سے پہلی سورة معراج تھی جس میں زیادہ تر قیامت کا ذکر تھا ، تاہم ضمناََ توحید و رسالت کا بیان بھی تھا۔ اس سورة کا نام حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس دعوت الیٰ الحق اور دعوت توحید کا ذکر فرمایا ہے جو انہوں نے اپنی قوم کو دی اس دعوت کے مختلف طریقے اور اس کاروائی کا بیان ہے جو نوح (علیہ السلام) نے اس سلسلہ میں سرانجام دی گویا دعوت الی الحق کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو بطور نمونہ پیش کیا ہے۔ سابقہ سورة سے ربط۔ گزشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو صبر جمیل کی نصیت فرمائی۔ کفار و مشرکین آپ کی طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتے تھے۔ ٹھٹا اور تمسخر کرتے تھے۔ آپ کے گرد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَمْ يَزِدْہُمْ دُعَاۗءِيْٓ اِلَّا فِرَارًا۝ 6 «لَمْ» وَ «لَمْ» نفي للماضي وإن کان يدخل علی الفعل المستقبل، ويدخل عليه ألف الاستفهام للتّقریر . نحو : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] ، أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوی [ الضحی/ 6] ( لم ( حرف ) لم ۔ کے بعد اگرچہ فعل مستقبل آتا ہے لیکن معنوی اعتبار سے وہ اسے ماضی منفی بنادیتا ہے ۔ اور اس پر ہمزہ استفہام تقریر کے لئے آنا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] کیا ہم نے لڑکپن میں تمہاری پرورش نہیں کی تھی ۔ زاد الزِّيادَةُ : أن ينضمّ إلى ما عليه الشیء في نفسه شيء آخر، يقال : زِدْتُهُ فَازْدَادَ ، وقوله…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 2–7

ترکیب : ان انذر ان معنی ای ویجوزان یکون مصدریۃ ‘ من قبل متعلق بانذر قال یا قوم قوم بکسرالمیم اصلہ قومی حذفت الیاء والکسرۃ دلیل علیھا والجملۃ مستانفۃ ان اعبدواللہ ان تفسیریۃ لنذیرا وھی مصدریۃ یغفر مجذوم علی انہ جواب الاوامرا لثلاثۃ و من للتبعیض وقال الاخفش زائدۃ ویؤخر معطوف علے یغفر لیلا ونہارا ظرفان لدعوت الافرارا الاستثناء مفرغ۔ لتغفر واللام للسییۃ جعلوا جواب کلہا۔ تفسیر : یہ سورة مبارکہ بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی۔ قریش کی سرکشی اور اخیر نبی (علیہ السلام) کی ہدایتوں پر تمسخر اور وعدوں کی تکذیب اور تکبر حد کو پہنچ گیا تھا۔ اس لیے ان لوگوں کی مثل سرکش اور نافرمان قوم کا عبرتناک واقعہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 5–6

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلاً وَّ نَھَارًا۔ فَلَمْ یَزِدْھُمْ دُعَـآئِ یْٓ اِلاَّ فِرَارًا۔ (نوح : 5، 6) (حضرت نوح (علیہ السلام) نے عرض کی، اے میرے رب ! میں نے اپنی قوم کو شب و روز پکارا۔ مگر میری پکار نے ان کے فرار ہی میں اضافہ کیا۔ ) حضرت نوح (علیہ السلام) کی عرضداشت سابقہ آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کا ایک حصہ نقل کیا گیا ہے جس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کے بنیادی ارکان کیا تھے۔ اور آپ ( علیہ السلام) نے کس حکمت، محنت اور ہمدردی اور خیرخواہی سے اس کام کو آگے بڑھایا اور مسلسل سالہاسال تک اسی دھن میں لگے رہے جس کا مجموعی دورانیہ تقریباً…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–9

فہم القرآن ربط کلام : نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بار بار سمجھایا کہ اے میری قوم شرک اور اللہ کی نافرمانی سے تائب ہو کر اللہ کی بندگی کرو اور میری اطاعت کرتے رہو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تمہارے گناہ معاف فرمائے گا اور تمہیں عافیت کی زندگی عطا کرے گا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اور ہر قسم کے شرک سے باز آؤ اور میری اطاعت قبول کرو۔ اس کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تمہیں وقت مقررہ تک مہلت دے گا۔ وقت مقرر سے مراد ہر انسان کی موت ہے اگر اس سے مراد کسی قوم یا برادری اور جماعت کا مقرر وقت سمجھا جائے تو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نتیجہ دعوت میں قوم کا فرار : 6 : فَلَمْ یَزِدْ ھُمْ دُعَآئِ یْ اِلَّا فِرَارًا (پس میرے بلانے پر اور زیادہ بھاگتے رہے) آپ کی اطاعت سے دعوت کو سبب فرار قرار دیا گیا۔ حالانکہ دعوت سبب فرار تو نہ تھی۔ کیونکہ دعوت کے نتیجہ میں نفرت پیدا ہو کر فرار اختیار کیا گیا۔ یہ اسی طرح ہے جیسا یہ ارشاد واما الذین فی قلوبھم مرض فزاد تھم رجسًا ] التوبہ : 125[ قرآن مجید زیادہ رجس کا سبب تو نہیں اصل قرآن سن کر نفرت بڑھی اور اس نفرت سے رجس کفر اور زیادہ ہوگئی۔ اس قوم کا حال یہ تھا کہ ایک آدمی نوح (علیہ السلام) کے پاس اپنے بیٹے کو لے جا کر یہ نصیحت کرتا۔ اس سے بچتے رہنا کہیں یہ تمہیں دھوکے میں مبتلا نہ کر دے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 5–20

5۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح علیہ اسلام کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم تھا اس کے موافق انہوں نے سالہا سال تک اپنی قوم کو بت پرستی کے وبال سے ڈرایا اور جب ان کی سرکش قوم راہ راست پر نہ آئی تو انہوں نے اپنی قوم کی یہ شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کی جس کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ میں ان لوگوں کو ہر وقت تنہائی میں محفل میں سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوگوں نے میری ایک نہ سنی بلکہ یہ لوگ نصیحت کی بات سے ایسے گھبراتے ہیں کہ جب ان سے کوئی بات نصیحت کی کہی جاتی ہے تو یہ لوگ کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں منہ سر لپیٹ کر کانوں کو کپڑے کے اندر چھپا لیتے ہیں تاکہ نصیحت کی بات سے ان کے کان آشنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–6

(ویؤخرکم الی اجل مسمی) ۔ یعنی اس دنیا میں تمہیں متمتع کرے گا اور ایک مدت مقررہ تک ہلاکت کو تم سے دور ہٹا دے گا یعنی اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر سے دنیا میں باقی رہنے کی مقدار ایک محدودوقت تک موخر کردی جائے گی اور یہ متاع ابدی نہیں ہے موت کو ضرور آنا ہے اس لیے فرمایا (ان اجل اللہ اذا جاء لا یوخر، لو کنتم تعلمون) ، جب اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا وقت آجاتا ہے تو تاخیر نہیں ہوتی، کاش تم جانتے ہوتے۔ تو تم اللہ کا انکار کرتے نہ حق کے ساتھ عناد رکھتے۔ پس انہوں نے حضرت نوح کی دعوت کو قبول کیا نہ ان کے حکم کی اطاعت کی تو حضرت نوح نے اپنے رب سے شکوہ کرتے ہوئے عرض کیا (رب انی دعوت قومی لیلا ونھارا۔ فلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

8 ۔ قوم نوح کے شدت اعراض و انکار کا ذکر وبیان : سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے میرے میں نے تو ان کو دن رات حق کی طرف بلایا اور پکارا، مگر میری دعوت و پکار سے یہ لوگ اور بھی بدکتے اور بھاگتے گئے، اپنے اس بغض وعناد اور نفرت و استکبار کی بناء پر جو یہ لوگ حق اور اہل حق کے خلاف اپنے باطن میں رکھتے ہیں اور جس سے ان کے سینوں کی بھٹیاں ہمیشہ سلگتی اور بھڑکتی رہتی ہیں، اور یہی خاصہ اور نتیجہ ہوتا ہے حق اور اہل حق کے خلاف بغض وعناد کا، کہ اس سے ایک طرف تو انسان حق سے اور دور اور محروم ہوتا جاتا ہے اور دوسری طرف اس کے باطن میں حق اور اہل حق کے خلاف بغض وعناد کی ایک ایسی غیر مرئی آغ جلنے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–14

سیدنانوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مقصد تشریح :۔ جیسا کہ کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے کہ سیدناآدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی اکرم ﷺ تک جتنے بھی نبی انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے سب نے توحید ہی کی تعلیم دی کیونکہ توحید ہی ایسا عقیدہ ہے جو انسان کو ہر قسم کے شر و فساد اور شیطان کے قبضہ سے نکال کر امن و سکون اور اللہ کی راہ دکھاتا ہے۔ معمول کے مطابق توحید کی تعلیمات آہستہ آہستہ مٹتی گئیں اور بت پرستی بڑھتی گئی تب اللہ تعالیٰ نے سیدنانوح (علیہ السلام) کو ہدایت دینے کے لیے نبی بنا کر انکی قوم کی طرف بھیجا۔ سیدنانوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تین باتوں کی تعلیم دی۔ پہلی اللہ کی بندگی دوسری تقویٰ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–20

سورة نوح۔ آیات 1 تا 20۔ اسرارومعارف۔ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا کہ ان کا کردار ایسا مسخ ہوچکا تھا کہ عذاب الٰہی واقع ہونے کا خطرہ تھا لہذا نوح (علیہ السلام) انہیں بروقت باخبر کرنے کے لیے تشریف لائے کہ اللہ کے دردناک عذاب سے بچنے کا طریقہ سکھائیں لہذا انہوں نے اپنی بعثت کا اعلان فرمایا کہ اللہ نے مجھے تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے اور تم اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اور اس کی نافرمانی سے باز رہو۔ نبی کا لایا ہوا نظام۔ اس کی اطاعت یہ ہے کہ جو میں کہتا ہوں وہ کرو یعنی اپنی زندگی میں میرا دیا ہوا نظام رائج کرو تو تم سے جو گناہ ہوچکے ہیں اللہ اپنی رحمت سے معاف فرمائیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یعنی میرے بلانے پر ایمان تو کیا لاتے ایمان سے انہیں اور زیادہنفرت ہوگئی، گویا میرے بلانے کا ان پر الٹا اثر ہوا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(71:6) فلم یردھم دعائی الافرارا۔بمعنی لیکن : لم یرد مضارع نفی جحد بلم۔ صیغہ واحد مذکر غائب۔ زیادۃ (باب ضرب) مصدر ۔ بمعنی بڑھانا ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب دعاء ی مضاف مضاف الیہ مل کر فاعل : الا فرارا استثناء مفرغ (جس کا مستثنیٰ منہ مذکور نہ ہو) فرارا مفعول ثانی دعوت کا۔ ترجمہ ہوگا :۔ لیکن میری دعوت نے ان میں زیادتی نہ کی مگر فرار کی، یعنی میری دعوت نے ان پر اور تو کوئی اثر نہ کیا سوائے اس کے کہ وہ مجھ سے دور بھاگتے رہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–28

لغات القرآن۔ لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔ تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔ فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–24

حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت کا ذکر۔ (ف 1) اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح کو جس طرح اللہ کا حکم تھا اس کے موافق حضرت نوح نے نو سو برس تک ان کو سمجھاتے رہے جب امید کی کوئی سورت باقی نہ رہی تو مایوس اور تنگ دل ہوکربارگاہ الٰہی میں عرض کیا یا اللہ میں نے اپنی طرف سے دعوت تبلیغ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا رات کی تاریکی اور دن کے اجالے میں برابر ان کو تیری طرف بلاتا رہا، مگر نتیجہ یہ ہوا کہ جوں جوں تیری طرف آنے کو کہا گیا یہ بدبخت اور زیادہ ادھر سے منہ پھیرکربھاگے اور جس قدر میری طرف سے شفقت ودل سوزی کا اظہار ہوا ان کی جانب سے نفرت اور بےزاری بڑھتی گئی سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوں نے میری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 5–14

[2] یعنی جس اللہ نے تخلیق کے مختلف مراحل سے گزار کر تمہیں مکمل انسان بنایا اور جس کی قدرت کی شانیں تمہارے اپنے وجود کے اندر نظر آتی ہیں اس کے متعلق تم یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ بھی کوئی بڑی ہستی ہوگا۔ تم اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہو، اس کے احکام کی نافرمانیاں کرتے ہو لیکن تمہیں اندیشہ لاحق نہیں کہ وہ تمہیں اس کی سزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–6

سورة نوح 2: حضرت نوح ایک بڑے جلیل القدر پیغمبر ہیں ۔ اس سورة میں ان کی تبلیغ و اشاعت کے حالات تفصیل کے ساتھ بیان فرمائے ہیں ۔ کہ وہ جب تشریف لائے ۔ تو کیونکر انہوں نے حق وصداقت کی تلقین کی ۔ اور کس حد تک مخالفین کی تکلیفوں کو برداشت کیا ۔ حل لغات :۔ اجل مسمی ۔ مقررہ وقت ۔ موت ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(6) پر میری دعوت نے ان میں زیادہ نہیں کیا مگر بھاگنا اور بدکنا۔ یعنی عرصہ دراز تک ان کو سمجھاتے رہے ، کہتے ہیں نو سو سال تک حضرت نوح علیہالسلام نے ان کو سمجھایا اور دین حق کی دعوت میں لگے رہے لیکن وہ کفر وشرک سے جب باز آنے پر تیار نہ ہوئے تو تنگ آکر حضرت نوح (علیہ السلام) نے بددعا کی اور اپنی دعوت و تبلیغ کو بارگاہ حق میں پیش کیا کہ رات اور دن ان کو دعوت دیتا رہا لیکن جس قدر بلایا اور سمجھایا اسی قدر ان کی نفرت اور فرار بڑھتے گئے۔ گویا میری دعوت و تبلیغ نے ان میں کچھ نہیں بڑھایا مگر بھاگنے کا اضافہ ہوا آگے اور تفصیل ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–7

ف 3۔ یعنی ایمان نہ لانے پر جس عذاب کا مرنے سے پہلے وعدہ کیا جاتا ہے، اگر ایمان لے آئے تو وہ عذاب نہ آوے گا۔ 4۔ یعنی موت کا آنا ہر حال میں ضروری ہے، ایمان میں بھی اور کفر میں بھی لیکن دونوں حالتوں میں اتنا فرق ہے کہ ایک حالت میں علاوہ عذاب آجل کے عذاب عاجل بھی ہوگا اور ایک حالت میں مثل عذاب آجل کے عذاب عاجل سے بھی محفوظ رہو گے، اور تخصیص نفی عذاب عاجل میں یہ نکتہ ہے کہ ایمان پر عذاب آج سے تو تحفظ رہتا ہی ہے، مگر بعض اوقات باوجود ایمان کے بھی دنیوی کلفتیں پیش آجاتی ہیں، پس اس کی نفی سے ایمان لانے پر مزید فضل کا وعدہ ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

میرے بلانے پر وہ اور زیادہ دور بھاگنے لگے 6 ؎ تو خوب جانتا ہے کہ میرے بلانے اور دعوت دینے نے ان کو پہلے سے بھی زیادہ دور کیا ہے اور وہ روز بروز نفرت میں بڑھتے ہی چلے گئے اور جتنا میں نے ان کے قریب جانے کی کوشش کی اتنے ہی وہ مجھ سے دور ہوگئے اس طرح میری دعوت کا جو اثر ان پر ہوا وہ الٹا ہی ہوا اور وہ میرے قریب آنے کی بجائے مزید دور ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–14

Commentary يَغْفِرْ‌ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ and Allah will forgive you your sins, 71:4). The particle min is often used to indicate division into parts, that is, to refer to only a part of an amount, group or number. If it is taken in that sense here, it would signify that by embracing the faith only those sins would be forgiven which pertains to the Divine rights because violation of human rights would be forgiven only when the believer fulfills the human rights which he has violated [ such as pecuniary obligations ] and if they cannot be fulfilled [ such as hurting somebody physically or…

Read the full tafseer →