Explained with ayahs 5–20
نو سو سال صدا بصحرا کے بعد بھی ایک پیغمبرانہ کوشش
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ساڑھے نو سو سال تک کی لمبی مدت میں کس کس طرح حضرت نوح نبی نے اپنی قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا قوم نے کس کس طرح اعراض کیا کیسی کیسی تکلیفیں اللہ کے پیارے پیغمبر کو پہنچائیں اور کس طرح اپنی ضد پر اڑ گئے، تو حضرت نوح ؑ بطور شکایت کے جناب باری میں عرض کرتے ہیں کہ الٰہی میں نے تیرے حکم کی پوری طرح سرگرمی سے تعمیل کی، تیرے فرمان عالیشان کے مطابق نہ دن کو دن سمجھا، نہ رات کو رات، بلکہ مسلسل ہر وقت انہیں راہ راست کی دعوت دیتا رہا لیکن کیا کروں کہ جس دل سوزی سے میں انہیں نیکی کی طرف بلاتا رہا وہ اسی سختی سے مجھ سے بھاگتے رہے…
Read the full tafseer →سورة نُوْح 7
بیچ میں ایک طویل زمانے کی تاریخ چھوڑ کر اب حضرت نوح ؑ کی وہ عرضداشت نقل کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنی رسالت کے آخری دور میں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–14
معارف و مسائل r
ۙيَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ ، حرف من اکثر تبعین یعنی جزئمت بتلانے کے لئے آتا ہے اگر یہ معنے لئے جاویں تو مطلب یہ ہے کہ ایمان لانے سے تمہارے سے وہ گناہ مغاف ہوجائیں گے جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے کیونکہ حقوق العباد کی معافی کے لئے ایمان لانے کے بعد بھی یہ شرط ہے کہ جو حقوق ادائیگی کے قابل ہیں ان کو ادا کرے جیسے مالی واجبات، اور جو قابل ادائیگی نہیں جیسے زبان یا ہاتھ سے کسی کو ایذاء پہنچائی اس سے معاف کرائے۔
حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ ایمان لانے سے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں اس میں بھی حقوق العباد کی ادائیگی یا معافی شرط ہے اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ حرف من اس جگہ زائد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
حضرت نوحؑ کی دعوت کا دوسرا مرحلہ: یہاں سے حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کے دوسرے مرحلہ کا بیان آ رہا ہے جب آپ نے اپنے رب سے استغاثہ کیا ہے کہ ان کی شب و روز کی ساری تگ و دو جو دعوت کی راہ میں انھوں نے کی وہ قوم پر بالکل بے اثر رہی۔ یہ امر واضح رہے کہ جتنی طویل مدت تک حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو دعوت دی ہے اس کی کوئی مثال معلوم نہیں ہے۔ قرآن میں تصریح ہے کہ
’فَلَبِثَ فِیْہِمْ أَلْفَ سَنَۃٍ إِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا‘ (العنکبوت ۲۹: ۱۴)
(پس وہ اپنی قوم کے اندر پچاس سال کم ایک ہزار سال رہا)۔
’دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْْلاً وَنَہَارًا‘ کے الفاظ میں بھی ظاہر ہے کہ کسی مبالغے کا شائبہ نہیں ہو سکتا۔…
Read the full tafseer →5۔ 1 یعنی تیرے حکم کی تعمیل میں، بغیر کسی کوتاہی کے رات دن میں نے تیرا پیغام اپنی قوم کو پہنچایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–13
2: یعنی جب تک تمہاری زندگی مقدر ہے، اس وقت تک تمہیں زندہ رکھے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
قال رب انی ............................ سبلا فجاجا
یہ تھی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کارکردگی اور یہ رہی ان کی رپورٹ۔ اس طویل عرصہ کارکردگی میں وہ اپنے رب کے سامنے اپنا حساب پیش فرماتے ہیں۔ آپ کی رپورٹ میں جو چیز نمایاں ہے ، وہ آپ کی جہد مسلسل ہے۔
انی دعوت .................... ونھارا (17 : 5) ” اے میرے رب ! میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو شب وروز پکارا “۔ انہوں نے ہمت نہ ہاری ، وقفہ نہیں کیا ، اور وہ لوگوں کو مسلسل اعراض اور اصرار کے باوجود مایوس نہیں ہوئے لیکن
فلم یزدھم ................ فرار (17 : 6) ” لیکن میری پکار نے ان کے فرار ہی میں اضافہ کیا “۔ یعنی وہ داعی الی اللہ سے بھاگتے رہے اور شیطان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
3 یعنی نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو برس تک ان کو سمجھاتے رہے جب امید کی کوئی جھلک باقی نہ رہی تو مایوس اور تنگدل ہو کر بارگاہ الٰہی میں عرض کیا کہ بار خدایا میں نے اپنی طرف سے دعوت و تبلیغ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ رات کی تاریکی میں اور دن کے اجالے میں برابر ان کو تیری طرف بلاتا رہا۔ مگر نتیجہ یہ ہوا کہ جوں جوں تیرے طرف آنے کو کہا گیا یہ بدبخت اور زیادہ ادھر سے منہ پھیر کر بھاگے اور جس قدر میری طرف سے شفقت و دلسوزی کا اظہار ہوا، ان کی جانب سے نفرت اور بیزاری بڑھتی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
آیت 6{ فَلَمْ یَزِدْہُمْ دُعَآئِ یْٓ اِلَّا فِرَارًا۔ } ”لیکن میری اس دعوت نے ان میں کچھ اضافہ نہیں کیا سوائے فرار کے۔“
یعنی میری اس شب و روز کی دعوتی مساعی کے نتیجے میں ان کے گریز اور فرار ہی میں اضافہ ہوا۔ جتنا جتنا میں ان کو پکارتا گیا اتنے ہی زیادہ یہ دور بھاگتے گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
2 نوح کی دعوت کے نکات :۔ جب کوئی نبی مبعوث کیا جاتا ہے تو سب سے پہلے وہ خود اپنی نبوت پر ایمان لاتا ہے۔ بعد ازاں وہ اپنی قوم کے سامنے اپنی نبوت کا اعلان کرتا ہے۔ اپنے اس تعارف کے بعد وہ لوگوں کو اللہ کا پیغام سناتا ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے بھی اپنی نبوت کا اعلان ان الفاظ میں فرمایا۔ (اِنِّىْ لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ ۙ ) 71 ۔ نوح :2) پھر اس کے بعد تین باتیں ارشاد فرمائیں۔ (1) صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور بتوں کی عبادت چھوڑ دو ، (2) ڈرو تو صرف اللہ سے ڈرو، بتوں سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ تمہارا یہ کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے۔ اللہ سے ڈرتے ہوئے اس کے احکام بجا لاؤ، (3) اور اللہ کے احکام بجا لانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
3۔ یہ سب عرض ومعروض آپ (علیہ السلام) نے اس وقت کی ہے جب آپ (علیہ السلام) ہر ممکن تبلیغ و دعوت اور صدہاسال کے تجربہ کے بعد اپنی قوم کی طرف سے بالکل مایوس ہوچکے ہیں اور برابر یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ جتنی بھی کوشش آپ (علیہ السلام) کی جانب سے اصلا کی ہوتی رہی، ادھر سے اور ضد، انکار و استکبار ہی بڑھتا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–20
ان اعبدوا اللہ واتقوہ و اطیعون حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی تبلیغ کا آغاز ان تین باتوں سے فرمایا ایک یہ کہ اللہ بندگی، دوسرے تقویٰ ، تیسرے رسول کی اطاعت، مطلب یہ کہ اگر تم ان تین باتوں کو قبول کرلو تو اب تک جو گناہ تم سے ہوچکے ہیں ان سے وہ درگزر فرمائے گا، یغفرلکم من ذنوبکم و یوخر کم الی اجل مسمی الخ میں بعض مفسرین نے حقوق العباد کو خارج کرنے کے لئے من کو تبعیض کا لیا ہے، اسلام اور ایمان لانے سے حقوق اللہ معاف ہوجائیں گے مگر حقوق العباد سے معافی کے لئے صاحب حق سے معافی ضروری ہوگی، بعض مفسرن نے یہاں من زائدہ یا بمعنی عن لیا ہے مطلب یہ کہ ایمان لانے سے تمہارے سب گناہ معاف ہوجائیں گے مگر دوسری…
Read the full tafseer →قال . یہاں کلام میں اختصار کیا گیا ہے۔ پورا کلام یوں تھا کہ نوح نے تبلیغ کی ‘ قوم نے تکذیب کی۔ نوح (علیہ السلام) برابر
دعوت دیتے رہے مگر قوم انکار پر اڑی رہی۔ آخر نوح (علیہ السلام) نے کہا :
ربی انی دعوت قومی لیلا ونھارا . یعنی ہمیشہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(5۔ 6) اس لیے میری بات تسلیم کرو چناچہ جب حضرت نوح ساڑھے نو سال تک ان کو سمجھاتے رہے اور وہ پھر بھی ایمان نہیں لائے اور نہ ان کی نصیحت کو مانا تو مایوس ہو کر نوح نے دعا فرمائی کہ میرے پروردگار میں نے اپنی قوم کو توبہ اور توحید کی طرف رات کو بھی اور دن کو بھی دعوت دی سو وہ میرے بلانے سے توبہ اور ایمان سے اور زیادہ دور بھاگتے رہے۔
Read the full tafseer →قال رب انی دعوت قومی لیلاً ونھاراً : نوح ؑ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنی قوم کو اللہ کا پیغام پہنچاتے رہے۔ سینکڑوں برس کی تبلیغ کے باوجود جب چند قلیل آدمیوں کے علاوہ کسی نے ایمان قبول نہ کیا اور نوح ؑ ان سے ہر طرح سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ درخواست پیش کی۔ اے میرے رب ! میں نے اپنی قوم کو رات دن دعوت دی، یعنی کوئی وقت نہیں چھوڑا جس میں دعوت نہ دی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ نوح ؑ نے جتنا لمبا عرصہ مسلسل دعوت میں گزارا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، ہر داعی اور عالم کو اسی جذبے اور محنت سے دعوت دینی چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
لیلاً و نھاراً ۔ کا معنی ہے مخفی طریقہ سے اور اعلانیہ طریقہ سے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : میں نے پے در پے دعوت دی۔ فلم یزدھم دعآئی الافرار۔ میری دعوت ایمان سے دور کرتی ہے۔ عام قرأت دعائی میں یاء کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ کوفہ کے قراء، یعقوب اور دوری نے ابو عمر سے اس کے سکون کی روایت نقل کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت یغفرلکم من ذنوبکم اللہ تعالیٰ گناہ معاف کردے گا۔ یعنی شرک کو ویوخرکم الی اجل مسمی اور تمہیں ایک وقت تک مہلت دے گا بغیر سزا دئیے آیت ان اجل اللہ اذا جاء لا یوخر۔ بیشک اللہ کا وقت مقرر ہے جب آئے گا تو اس میں تاخیر نہ ہوگی یعنی موت کا وقت۔
5۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان اجل اللہ اذا جاء لا یوخر سے مراد ہے کہ موت کا مقرر وقت لکھا جا چکا ہے جب اللہ کا مقرر وقت آئے گا تو موخر نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →[قَالَ رَبِّ : انھوں نے کہا اے میرے رب ] [اِنِّىْ دَعَوْتُ قَوْمِيْ : بیشک میں نے بلایا اپنی قوم کو ] [لَيْلًا وَّنَهَارًا : رات میں اور دن میں ]
(آیت۔ 5) لَیْلًا اور نَھَارًا ظرف ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے خطاب، نعمتوں کی تذکیر، توحید کی دعوت، قوم کا انحراف اور باغیانہ روش
یہاں سے سورة ٴ نوح شروع ہو رہی ہے اور بھی کئی سورتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا اور ان کی قوم کی نافرمانی کا اور قوم کے انجام کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے تقریباً ایک ہزار سال کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی وہ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے ان لوگوں میں بت پرستی پھیل گئی تھی۔ بت بنا لیتے تھے اور ان کے نام بھی تجویز کرلیتے تھے جو اس سورت کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں، حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں طرح طرح سے سمجھایا توحید کی اور اللہ وحدہ لاشریک لہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
و توحید خالق ارض وسماء :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انآ ارسلنا نوحا الی قومہ ........ الی ......... سبلا فجاجا “۔
(ربط) اس سے قبل سورة معارج میں قیامت اور قیامت کے احوال شدیدہ کا ذکر تھا اور یہ کہ اس روز مجرمین اور نافرمانوں کی پریشانی اور بدحالی انسان کے تصور سے بھی بڑھ کر ہوگی تو اب اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر ہے جن کو حق تعالیٰ نے عالم میں سب سے پہلا وہ رسول بنا کر بھیجا جو شرک وبت پرستی کا رد کرنے والے تھے انکی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ قوم کی یہ کس قدر بدنصیبی تھی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرایا اور بڑی ہی گستاخی کے ساتھ شرک وبت پرستی پر ڈٹے رہے ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
4:۔ ” قال رب “ حضرت نوح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی تبلیغی جدو جہد اور مشرکین کے عناد و تعنت کا ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی قوم کو دعوت توحید دینے میں نہ دن دیکھا ہے، نہ رات، جب انہیں موقع ملا انہوں نے ان کو سمجھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ مگر میں جتنا ان کو توحید کی طرف بلاتا ہوں وہ اتنا ہی دور بھاگتے ہیں۔ ” وانی کلما دعوتہم “ میں نے جب بھی ان کو توحید کی طرف دعوت دی تاکہ وہ ایمان لے آئیں اور تو ان کے گناہ معاف فرما دے تو غور سے سننے اور ماننے کے بجائے انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں تاکہ وہ میری آواز سن ہی نہ پائیں اور اپنے معبودوں کی توہین نہ سن سکیں اور اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
کوائف اور مضامین :
اس سے پہلی سورة معراج تھی جس میں زیادہ تر قیامت کا ذکر تھا ، تاہم ضمناََ توحید و رسالت کا بیان بھی تھا۔ اس سورة کا نام حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس دعوت الیٰ الحق اور دعوت توحید کا ذکر فرمایا ہے جو انہوں نے اپنی قوم کو دی اس دعوت کے مختلف طریقے اور اس کاروائی کا بیان ہے جو نوح (علیہ السلام) نے اس سلسلہ میں سرانجام دی گویا دعوت الی الحق کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو بطور نمونہ پیش کیا ہے۔
سابقہ سورة سے ربط۔
گزشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو صبر جمیل کی نصیت فرمائی۔ کفار و مشرکین آپ کی طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتے تھے۔ ٹھٹا اور تمسخر کرتے تھے۔ آپ کے گرد…
Read the full tafseer →قَالَ رَبِّ اِنِّىْ دَعَوْتُ قَوْمِيْ لَيْلًا وَّنَہَارًا 5 ۙ
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
ترکیب : ان انذر ان معنی ای ویجوزان یکون مصدریۃ ‘ من قبل متعلق بانذر قال یا قوم قوم بکسرالمیم اصلہ قومی حذفت الیاء والکسرۃ دلیل علیھا والجملۃ مستانفۃ ان اعبدواللہ ان تفسیریۃ لنذیرا وھی مصدریۃ یغفر مجذوم علی انہ جواب الاوامرا لثلاثۃ و من للتبعیض وقال الاخفش زائدۃ ویؤخر معطوف علے یغفر لیلا ونہارا ظرفان لدعوت الافرارا الاستثناء مفرغ۔ لتغفر واللام للسییۃ جعلوا جواب کلہا۔
تفسیر : یہ سورة مبارکہ بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی۔ قریش کی سرکشی اور اخیر نبی (علیہ السلام) کی ہدایتوں پر تمسخر اور وعدوں کی تکذیب اور تکبر حد کو پہنچ گیا تھا۔ اس لیے ان لوگوں کی مثل سرکش اور نافرمان قوم کا عبرتناک واقعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلاً وَّ نَھَارًا۔ فَلَمْ یَزِدْھُمْ دُعَـآئِ یْٓ اِلاَّ فِرَارًا۔ (نوح : 5، 6)
(حضرت نوح (علیہ السلام) نے عرض کی، اے میرے رب ! میں نے اپنی قوم کو شب و روز پکارا۔ مگر میری پکار نے ان کے فرار ہی میں اضافہ کیا۔ )
حضرت نوح (علیہ السلام) کی عرضداشت
سابقہ آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کا ایک حصہ نقل کیا گیا ہے جس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کے بنیادی ارکان کیا تھے۔ اور آپ ( علیہ السلام) نے کس حکمت، محنت اور ہمدردی اور خیرخواہی سے اس کام کو آگے بڑھایا اور مسلسل سالہاسال تک اسی دھن میں لگے رہے جس کا مجموعی دورانیہ تقریباً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
فہم القرآن
ربط کلام : نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بار بار سمجھایا کہ اے میری قوم شرک اور اللہ کی نافرمانی سے تائب ہو کر اللہ کی بندگی کرو اور میری اطاعت کرتے رہو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تمہارے گناہ معاف فرمائے گا اور تمہیں عافیت کی زندگی عطا کرے گا۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اور ہر قسم کے شرک سے باز آؤ اور میری اطاعت قبول کرو۔ اس کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تمہیں وقت مقررہ تک مہلت دے گا۔ وقت مقرر سے مراد ہر انسان کی موت ہے اگر اس سے مراد کسی قوم یا برادری اور جماعت کا مقرر وقت سمجھا جائے تو…
Read the full tafseer →5 : قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّنَھَارًا (نوح (علیہ السلام) نے دعا کی۔ اے میرے رب میں نے اپنی قوم کو دن کو بھی اور رات کو بھی بلایا) یعنی بلا تھکاوٹ محسوس کیے ہمیشہ ان کو بلایا۔
Read the full tafseer →4 ۔” یغفرلکم من ذنوبکم “ من صلہ ہے یعنی ” یغفرلکم ذنوبکم “ اور کہا گیا ہے یعنی جو تمہارے گناہوں میں سے پہلے ہوچکے ایمان لانے کے وقت تک اور یہ ان کے بعض گناہ ہیں۔ ” ویو خرکم الی اجل مسمی “ وہ تمہیں عافیت دے گا تمہاری مدتوں کے ختم ہونے تک۔ پس تم پر عقاب نہ کرے گا۔ ” ان اجل اللہ اذا جاء لایو خرلو کنتم تعلمون “ فرماتے ہیں تم موت سے پہلے ایمان لے آئو عذاب سے محفوظ رہوگے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اجل جب آتا ہے تو موخر نہیں ہوتا اور تمہیں ایمان لانے کی قدر نہ دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–20
5۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح علیہ اسلام کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم تھا اس کے موافق انہوں نے سالہا سال تک اپنی قوم کو بت پرستی کے وبال سے ڈرایا اور جب ان کی سرکش قوم راہ راست پر نہ آئی تو انہوں نے اپنی قوم کی یہ شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کی جس کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ میں ان لوگوں کو ہر وقت تنہائی میں محفل میں سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوگوں نے میری ایک نہ سنی بلکہ یہ لوگ نصیحت کی بات سے ایسے گھبراتے ہیں کہ جب ان سے کوئی بات نصیحت کی کہی جاتی ہے تو یہ لوگ کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں منہ سر لپیٹ کر کانوں کو کپڑے کے اندر چھپا لیتے ہیں تاکہ نصیحت کی بات سے ان کے کان آشنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(ویؤخرکم الی اجل مسمی) ۔ یعنی اس دنیا میں تمہیں متمتع کرے گا اور ایک مدت مقررہ تک ہلاکت کو تم سے دور ہٹا دے گا یعنی اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر سے دنیا میں باقی رہنے کی مقدار ایک محدودوقت تک موخر کردی جائے گی اور یہ متاع ابدی نہیں ہے موت کو ضرور آنا ہے اس لیے فرمایا (ان اجل اللہ اذا جاء لا یوخر، لو کنتم تعلمون) ، جب اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا وقت آجاتا ہے تو تاخیر نہیں ہوتی، کاش تم جانتے ہوتے۔ تو تم اللہ کا انکار کرتے نہ حق کے ساتھ عناد رکھتے۔ پس انہوں نے حضرت نوح کی دعوت کو قبول کیا نہ ان کے حکم کی اطاعت کی تو حضرت نوح نے اپنے رب سے شکوہ کرتے ہوئے عرض کیا (رب انی دعوت قومی لیلا ونھارا۔ فلم…
Read the full tafseer →7 ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا استغاثہ اپنے رب کے حضور : سو ارشاد فرمایا گیا کہ سیدنا نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور عرض کیا، یعنی آنجناب نے اپنی قوم کا استغاثہ اپنے رب کے حضور پیش کیا اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے دعوت دینے کے فورا بعد ہی ان لوگوں کے بارے میں اس طرح کا اظہار فرما دیا نہیں، بلکہ یہاں پر دراصل کم و بیش ایک ہزار برس کی طویل تاریخ کو قرآن حکیم کی بےمثل اعجاز اور ایجاز بیان کی بناء پر ان مختصر الفاظ میں سمیٹ دیا گیا، جس کی طرف اشارہ کرنے کے لیے ہم نے یہاں پر اپنے ترجمے میں بین القوسین کے یہ لفظ بڑھا دیے ہیں، والحمدللہ رب العالمین جل وعلا۔ اور یہاں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سیدنانوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مقصد
تشریح :۔ جیسا کہ کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے کہ سیدناآدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی اکرم ﷺ تک جتنے بھی نبی انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے سب نے توحید ہی کی تعلیم دی کیونکہ توحید ہی ایسا عقیدہ ہے جو انسان کو ہر قسم کے شر و فساد اور شیطان کے قبضہ سے نکال کر امن و سکون اور اللہ کی راہ دکھاتا ہے۔ معمول کے مطابق توحید کی تعلیمات آہستہ آہستہ مٹتی گئیں اور بت پرستی بڑھتی گئی تب اللہ تعالیٰ نے سیدنانوح (علیہ السلام) کو ہدایت دینے کے لیے نبی بنا کر انکی قوم کی طرف بھیجا۔ سیدنانوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تین باتوں کی تعلیم دی۔ پہلی اللہ کی بندگی دوسری تقویٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
سورة نوح۔
آیات 1 تا 20۔
اسرارومعارف۔
ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا کہ ان کا کردار ایسا مسخ ہوچکا تھا کہ عذاب الٰہی واقع ہونے کا خطرہ تھا لہذا نوح (علیہ السلام) انہیں بروقت باخبر کرنے کے لیے تشریف لائے کہ اللہ کے دردناک عذاب سے بچنے کا طریقہ سکھائیں لہذا انہوں نے اپنی بعثت کا اعلان فرمایا کہ اللہ نے مجھے تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے اور تم اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اور اس کی نافرمانی سے باز رہو۔
نبی کا لایا ہوا نظام۔
اس کی اطاعت یہ ہے کہ جو میں کہتا ہوں وہ کرو یعنی اپنی زندگی میں میرا دیا ہوا نظام رائج کرو تو تم سے جو گناہ ہوچکے ہیں اللہ اپنی رحمت سے معاف فرمائیں…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی ایک مدت تک حضرت نوح اپنی قوم کو سمجھاتے رہے لیکن وہ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے۔ اس پر آخر کار حضرت نوح نے دعا کی۔
Read the full tafseer →(71:5) قال۔ یہاں کلام میں اختصار کیا گیا ہے پورا کلام یوں تھا کہ :۔
نوح (علیہ السلام) نے تبلیغ کی۔ قوم نے تکذیب کی، نوح (علیہ السلام) برابر دعوت دیتے رہے مگر قوم انکار پر اڑی رہی۔ آخر نوح (علیہ السلام) نے کہا (تفسیر مظہری)
فائدہ : صاحب ضیاء القرآن یون رقمطراز ہیں :۔
حضرت نوح (علیہ السلام) منصب رسالت پر فائز ہونے کے بعد اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف ہوگئے۔ آپ کو برا بھلا کہا جاتا۔ طعن و تشنیع کے تیر برسائے جاتے، افتراء و بہتان کے طوفان اٹھائے جاتے، حتی کہ آپ کو مار مار کر لہولہان کردیا جاتا۔ آپ پہروں بیہوش پڑے رہتے۔ آپ کو کسی مکان میں بند کردیا جاتا۔
لیکن اس جو روبنفا کے باوجود یہ اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–28
لغات القرآن۔
لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔
تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔
فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–24
حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت کا ذکر۔
(ف 1) اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح کو جس طرح اللہ کا حکم تھا اس کے موافق حضرت نوح نے نو سو برس تک ان کو سمجھاتے رہے جب امید کی کوئی سورت باقی نہ رہی تو مایوس اور تنگ دل ہوکربارگاہ الٰہی میں عرض کیا یا اللہ میں نے اپنی طرف سے دعوت تبلیغ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا رات کی تاریکی اور دن کے اجالے میں برابر ان کو تیری طرف بلاتا رہا، مگر نتیجہ یہ ہوا کہ جوں جوں تیری طرف آنے کو کہا گیا یہ بدبخت اور زیادہ ادھر سے منہ پھیرکربھاگے اور جس قدر میری طرف سے شفقت ودل سوزی کا اظہار ہوا ان کی جانب سے نفرت اور بےزاری بڑھتی گئی سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوں نے میری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–14
[2] یعنی جس اللہ نے تخلیق کے مختلف مراحل سے گزار کر تمہیں مکمل انسان بنایا اور جس کی قدرت کی شانیں تمہارے اپنے وجود کے اندر نظر آتی ہیں اس کے متعلق تم یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ بھی کوئی بڑی ہستی ہوگا۔ تم اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہو، اس کے احکام کی نافرمانیاں کرتے ہو لیکن تمہیں اندیشہ لاحق نہیں کہ وہ تمہیں اس کی سزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة نوح
2: حضرت نوح ایک بڑے جلیل القدر پیغمبر ہیں ۔ اس سورة میں ان کی تبلیغ و اشاعت کے حالات تفصیل کے ساتھ بیان فرمائے ہیں ۔ کہ وہ جب تشریف لائے ۔ تو کیونکر انہوں نے حق وصداقت کی تلقین کی ۔ اور کس حد تک مخالفین کی تکلیفوں کو برداشت کیا ۔
حل لغات :۔ اجل مسمی ۔ مقررہ وقت ۔ موت ۔
Read the full tafseer →(5) نوح (علیہ السلام) نے حضرت حق تعالیٰ کی بارگاہ میں التجا کی اے میرے پروردگار میں اپنی قوم کو رات اور دن توحید کی دعوت دیتا رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
ف 3۔ یعنی ایمان نہ لانے پر جس عذاب کا مرنے سے پہلے وعدہ کیا جاتا ہے، اگر ایمان لے آئے تو وہ عذاب نہ آوے گا۔
4۔ یعنی موت کا آنا ہر حال میں ضروری ہے، ایمان میں بھی اور کفر میں بھی لیکن دونوں حالتوں میں اتنا فرق ہے کہ ایک حالت میں علاوہ عذاب آجل کے عذاب عاجل بھی ہوگا اور ایک حالت میں مثل عذاب آجل کے عذاب عاجل سے بھی محفوظ رہو گے، اور تخصیص نفی عذاب عاجل میں یہ نکتہ ہے کہ ایمان پر عذاب آج سے تو تحفظ رہتا ہی ہے، مگر بعض اوقات باوجود ایمان کے بھی دنیوی کلفتیں پیش آجاتی ہیں، پس اس کی نفی سے ایمان لانے پر مزید فضل کا وعدہ ہوگیا۔
Read the full tafseer →نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب ! میں نے اپنی قوم کو رات دن دعوت دی
5 ؎ مختصر یہ کہ جب قوم کی ہدایت سے سیدنا نوح (علیہ السلام) بالکل مایوس ہوگئے اور اس کی باطل کشی اور عناد و ہٹ دھرمی ان پر واضح ہوگئی کیونکہ ایک لمبی مدت گزرنے کے باوجود ان کی مخالفت میں ذرا بھر فرق نہ آیا انہوں نے ایک کان سے سنی تو دوسرے سے اسی وقت نکال دی۔ قوم نے آپ (علیہ السلام) کو برا بھلا کہنا شروع کردیا اور لعن وتشنیع کے تیرے چلانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تو انہوں نے ایک قدم اور آگے بڑھایا اور نوح (علیہ السلام) پر ہاتھ اٹھانا شروع کردیا اور اس طرح کے واقعات روز بروز بڑھنے لگے تو آپ (علیہ السلام) نے اپنے رب کے سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–14
Commentary
يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ and Allah will forgive you your sins, 71:4). The particle min is often used to indicate division into parts, that is, to refer to only a part of an amount, group or number. If it is taken in that sense here, it would signify that by embracing the faith only those sins would be forgiven which pertains to the Divine rights because violation of human rights would be forgiven only when the believer fulfills the human rights which he has violated [ such as pecuniary obligations ] and if they cannot be fulfilled [ such as hurting somebody physically or…
Read the full tafseer →7 Omitting the history of a long period of preaching, now the Prophet Noah's petition that he made to Allah in the last stage of his worldly mission is being related.
Read the full tafseer →