Nooh 71:4

Nooh · from ayah 4

71:4

یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَیُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ— اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ ۘ— لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۟يَغۡفِرۡ لَـكُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِكُمۡ وَيُؤَخِّرۡكُمۡ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى‌ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا يُؤَخَّرُ‌‌ۘ لَوۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ

وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور (موت کے) وقت مقررہ تک تم کو مہلت عطا کرے گا۔ جب خدا کا مقرر کیا ہوگا وقت آجاتا ہے تو تاخیر نہیں ہوتی۔ کاش تم جانتے ہوتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah will forgive you of your sins and delay you for a specified term. Indeed, the time [set by] Allah, when it comes, will not be delayed, if you only knew.' "

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Nooh

All translations of 71:4

اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں ایک وقت مقرر تک باقی رکھے گا حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آ جاتا ہے تو پھر ٹالا نہیں جاتا کاش تمہیں اِس کا علم ہو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور (موت کے) وقت مقررہ تک تم کو مہلت عطا کرے گا۔ جب خدا کا مقرر کیا ہوگا وقت آجاتا ہے تو تاخیر نہیں ہوتی۔ کاش تم جانتے ہوتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تو وه تمہارے گناه بخش دے گا اور تمہیں ایک وقت مقرره تک چھوڑ دے گا۔ یقیناً اللہ کا وعده جب آجاتا ہے تو مؤخر نہیں ہوتا۔ کاش کہ تمہیں سمجھ ہوتی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ تمہارے گناہوں کی مغفرت فرمائے گا، اور تمہیں ایک مقرر وقت تک باقی رکھے گا۔ بیشک جب اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آجاتا ہے تو پھر وہ موخر نہیں ہوتا۔ کاش کہ تم سمجھتے ہوتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ تمہارے کچھ گناہ بخش دے گا اور ایک مقرر میعاد تک تمہیں مہلت دے گا بیشک اللہ کا وعدہ جب آتا ہے ہٹایا نہیں جاتا کسی طرح تم جانتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں مقررہ مدت تک مہلت عطا کرے گا، بے شک اﷲ کی (مقرر کردہ) مدت جب آجائے تو مہلت نہیں دی جاتی، کاش! تم جانتے ہوتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ تمہیں تمہارے گناہ معاف کردے گا اور ایک مقرر وقت تک تمہیں مہلت دے گا۔ یقینا اللہ کا مقرر کردہ وقت جب آجائے تو مؤخر نہیں کیا جاتا، کاش کہ تم جانتے ہوتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تمہیں ایک مقررہ مدت تک مہلت دے گا اور جب اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آجائے تو اس میں تاخیر نہ ہوگی۔ کاش تم یہ بات جان لو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ تمہارے (پچھلے گناہ) معاف کر دے گا اور تم کو مہلت دے گا ایک معین مدت تک۔ بیشک اللہ کی مقرر کی ہوئی مدت جب آجائے گی تو وہ ٹالے نہیں ٹلے گی۔ کاش کہ تم اسے کو سمجھتے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس پر درگزر فرما لے گا وہ (غفور رحیم) تمہارے گناہوں میں سے اور مہلت عطا فرما دے گا تم کو ایک مقرر وقت تک بلاشبہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آ پہنچتا ہے تو پھر اسے ٹالا نہیں جاسکتا کاش کہ تم لوگ جان لیتے

— مولانا اسحاق مدنی

وہ تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تمہیں وقت مقرر تک مہلت دے گا بیشک اللہ کا مقرر کیا ہواوقت جب آجائے گا ٹلے گا نہیں کاش تم جان لیتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ تمہارے کچھ گناہ معاف کر دے گا اور تمہیں مہلت دے دے گا ایک وقت معین تک۔ اللہ کا مقرر کردہ وقت جب آجائے گا تو اسے موخر نہیں کیا جاسکے گا۔ کاش کہ تمہیں معلوم ہوتا !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور موت کے مقررہ وقت تک تم کو مہلت دے گا جب اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آجاتا ہے تو تاخیر نہیں ہوتی کاش تم جانتے ہوتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He will forgive your sins and will grant you respite until an appointed term. Indeed when Allah's appointed term comes, it cannot be deferred; if you only knew!”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and Allah will forgive you your sins, and will respite you to an appointed term. Indeed when Allah‘s term comes, it is not deferred, if you only know!

— Muhammad Taqi Usmani

and Allah will forgive you your sins, and will respite you to an appointed term. Indeed when Allah‘s term comes, it is not deferred, if you only know!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"He will forgive you of your sins and respite you to an appointed term. Verily, the term of Allah when it comes, cannot be delayed, if you but know."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That He may forgive you somewhat of your sins and respite you to an appointed term. Lo! the term of Allah, when it cometh, cannot be delayed, if ye but knew.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah will forgive you of your sins and delay you for a specified term. Indeed, the time [set by] Allah, when it comes, will not be delayed, if you only knew.' "

— Saheeh International

He will forgive your sins and give you a respite for an appointed time. When the time which God has appointed arrives, none will be able to postpone it. Would that you knew this!"

— Muhammad Sarwar

He will forgive you some of your faults and grant you a delay to an appointed term; surely the term of Allah when it comes is not postponed; did you but know!

— Muhammad Habib Shakir

He will forgive you your sins, and will defer you to an appointed term. Verily the term of Allah when it cometh shall not be deferred, if ye but knew.

— Abdul Majid Daryabadi

"So He may forgive you your sins and give you respite for a stated Term: for when the Term given by Allah is accomplished, it cannot be put forward: if ye only knew."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 71:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–4

عذاب سے پہلے نوح ؑ کا قوم سے خطاب اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے حضرت نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف اپنا رسول ﷺ بنا کر بھیجا اور حکم دیا کہ عذاب کے آنے سے پہلے اپنی قوم کو ہوشیار کردو اگر وہ توبہ کرلیں گے اور اللہ کی طرف جھکنے لگیں گے تو اللہ کا عذاب ان سے اٹھ جائے گا، حضرت نوح ؑ نے اللہ کا پیغام اپنی امت کو پہنچا دیا اور صاف کہہ دیا کہ دیکھو میں کھلے لفظوں میں تمہیں آگاہ کئے دیتا ہوں، میں صاف صاف کہہ رہا ہوں کہ اللہ کی عبادت اس کا ڈر اور میری اطاعت لازمی چیزیں ہیں جو کام رب نے تم پر حرام کئے ہیں ان سے بچو گناہ کے کاموں سے الگ تھلگ رہو جو میں کہوں بجا لاؤ جس سے روکوں رک جاؤ میری رسالت کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة نُوْح 3 اصل الفاظ یغفر لکم من ذنوبک۔ اس فقرے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تمہارے گناہوں میں سے بعض کو معاف کر دے گا، بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان تین باتوں کو قبول کرلو جو تمہار سامنے پیش کی جا رہی ہیں تو اب تک جو گناہ تم کرچکے ہو ان سب سے وہ درگزر فرمائے گا۔ یہاں من تبعیض کے لیے نہیں بلکہ عن کے معنی میں ہے۔ سورة نُوْح 4 یعنی اگر تم نے یہ تین باتیں مان لیں تو تمہیں دنیا میں اس وقت تک جینے کی مہلت دے دی جائے گی جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری طبعی موت کے لیے مقرر کیا ہے۔ سورة نُوْح 5 اس دوسرے وقت سے مراد وہ وقت ہے جو اللہ نے کسی قوم پر عذاب نازل کرنے کے لیے مقرر کردیا ہو۔ اس کے متعلق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–14

معارف و مسائل r ۙيَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ ، حرف من اکثر تبعین یعنی جزئمت بتلانے کے لئے آتا ہے اگر یہ معنے لئے جاویں تو مطلب یہ ہے کہ ایمان لانے سے تمہارے سے وہ گناہ مغاف ہوجائیں گے جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے کیونکہ حقوق العباد کی معافی کے لئے ایمان لانے کے بعد بھی یہ شرط ہے کہ جو حقوق ادائیگی کے قابل ہیں ان کو ادا کرے جیسے مالی واجبات، اور جو قابل ادائیگی نہیں جیسے زبان یا ہاتھ سے کسی کو ایذاء پہنچائی اس سے معاف کرائے۔ حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ ایمان لانے سے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں اس میں بھی حقوق العباد کی ادائیگی یا معافی شرط ہے اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ حرف من اس جگہ زائد…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

زبان کی ایک بحث: یعنی اگر تم نے میری یہ تینوں باتیں مان لیں تو اللہ تعالیٰ تمہارے ان جرائم کو معاف کر دے گا جن کے سبب سے تم مستحق عذاب قرار پائے ہو اور ایک معین مدت تک کے لیے تم کو اس دنیا میں کھانے بلسنے کی مہلت مل جائے گی۔ ’یَغْفِرْ لَکُمْ مِّنْ ذُنُوبِکُمْ‘ میں حرف ’مِنْ‘ کو بعض لوگوں نے زائد قرار دیا ہے اور بعض لوگوں نے اس کو ’عَنْ‘ کے معنی میں لیا ہے لیکن یہ دونوں رائیں عربیت کے خلاف ہیں۔ قرآن میں کوئی حرف بھی زائد نہیں ہے۔ اگر کہیں کوئی حرف بظاہر زائد نظر آتا ہے تو وہ بھی زبان کے معروف ضابطہ کے تحت کسی خلا کو بھرنے کے لیے آیا ہے۔ اس طرح کے حروف مخصوص ہیں۔ ہر حرف کو بغیر کسی سند کے زائد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

4۔ 1 اس کے معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ایمان لانے کی صورت میں تمہاری موت کی جو مدت مقرر ہے اس کو مؤخر کرکے تمہیں مذید مہلت عمر عطا فرمائے گا اور وہ عذاب تم سے دور کردے گا جو عدم ایمان کی صورت میں تمہارے لیے مقدر تھا۔ بلکہ لامحالہ واقع ہو کر رہنا ہے اسی لیے تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ ایمان واطاعت کا راستہ فورا اپنا لو تاخیر خطرہ ہے کہ وعدہ عذاب الہی کی لپیٹ میں نہ آجاؤ۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–13

2: یعنی جب تک تمہاری زندگی مقدر ہے، اس وقت تک تمہیں زندہ رکھے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یغفرلکم ........................ اجل مسمی (17 : 4) ” اور تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں ایک وقت مقرر تک باقی رکھے گا “۔ اور یہ باقی رکھنا ، اس بات کے عوض میں ہوگا کہ تم اللہ کی بندگی کرو گے ، اللہ سے ڈرو گے اور رسول خدا کی اطاعت کرو گے ، اور اس کے بدلے اللہ مزید یہ کرے گا کہ تمہارے سابقہ گناہ بھی معاف کردے گا اور تمہارا حساب و کتاب اس وقت تک موخر ہوجائے گا جو اللہ نے مقرر کررکھا ہے یعنی یوم الاخرت تک۔ اور اس طرح دنیا میں تم پر جو تباہ کن عذاب آنے والا ہے ، وہ موخر ہوجائے گا۔ (عنقریب حضرت نوح (علیہ السلام) پیش کریں گے کہ اللہ نے ان لوگوں کے ساتھ اور بھی وعدے فرمائے تھے) ۔ اس کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 2–4

10 یعنی اللہ سے ڈر کر کفر و معصیت چھوڑو اور طاعت و عبادت کا راستہ اختیار کرو۔ 11 یعنی ایمان لے آؤ گے تو اس سے پہلے اللہ کے جو حقوق تلف کیے ہیں وہ معاف کر دے گا، اور کفر و شرارت پر جو عذاب آنا مقدر ہے ایمان لانے کی صورت میں وہ نہ آئے گا۔ بلکہ ڈھیل دی جائے گی کہ عمر طبعی تک زندہ رہو۔ حتی کہ جانداروں کی موت وحیات کے عام قانون کے موافق اپنے مقرر وقت پر موت آئے۔ کیونکہ اس سے تو بہرحال کسی نیک و بد کو چارہ نہیں۔ 1 یعنی ایمان نہ لانے کی صورت میں عذاب کا جو وعدہ ہے اگر وہ سر پر آکھڑا ہوا تو کسی کے ٹالے نہیں ٹلے گا نہ ایک منٹ کی ڈھیل دی جائے گی۔ یا یہ مطلب ہو کہ موت کا وقت معین پر آنا ضروری ہے اس میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4{ یَغْفِرْ لَــکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ } ”اللہ تمہارے کچھ گناہ معاف کر دے گا“ یہاں پر حرف مِنْ تبعیضیہ بہت معنی خیز ہے۔ یعنی سب کے سب گناہ معاف ہونے کی ضمانت نہیں ‘ البتہ کچھ گناہ ضرور معاف ہوجائیں گے۔ اس کی تاویل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حقوق تو جسے چاہے گا اور جب چاہے گا معاف کر دے گا ‘ لیکن حقوق العباد کے تنازعات کے حوالے سے وہ انصاف کے تقاضے پورے کرے گا۔ اس کے لیے روز محشر متعلقہ فریقوں کے درمیان باقاعدہ لین دین کا اہتمام کرایا جائے گا۔ مثلاً کسی شخص نے اگر کسی کا حق غصب کیا ہوگا ‘ کسی کی عزت پر حملہ کیا ہوگا یا کسی بھی طریقے سے کسی پر ظلم کیا ہوگا تو ایسے ظالم کی نیکیوں کے ذریعے سے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 3–5

2 نوح کی دعوت کے نکات :۔ جب کوئی نبی مبعوث کیا جاتا ہے تو سب سے پہلے وہ خود اپنی نبوت پر ایمان لاتا ہے۔ بعد ازاں وہ اپنی قوم کے سامنے اپنی نبوت کا اعلان کرتا ہے۔ اپنے اس تعارف کے بعد وہ لوگوں کو اللہ کا پیغام سناتا ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے بھی اپنی نبوت کا اعلان ان الفاظ میں فرمایا۔ (اِنِّىْ لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ ۝ ۙ ) 71 ۔ نوح :2) پھر اس کے بعد تین باتیں ارشاد فرمائیں۔ (1) صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور بتوں کی عبادت چھوڑ دو ، (2) ڈرو تو صرف اللہ سے ڈرو، بتوں سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ تمہارا یہ کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے۔ اللہ سے ڈرتے ہوئے اس کے احکام بجا لاؤ، (3) اور اللہ کے احکام بجا لانے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 2–4

2۔ یعنی یہ حقائق جو میں بیان کررہا ہوں کاش تم پر بھی روشن ہوگئے ہوتے ! (آیت) ” ان اعبدوا اللہ “۔ یعنی پر ستش صرف حق تعالیٰ کی کرو۔ اپنے سارے جھوٹے معبودوں، ٹھاکروں، مورتیوں کو ٹھکرا کر۔ (آیت) ” واتقوہ “۔ یعنی خوف اپنے دلوں میں اس خدائے واحد کا جماؤ نہ کہ اپنے گڑھے ہوئے معبودوں کا۔ (آیت) ” واطیعون “۔ پیغمبر کی اطاعت میں اطاعت الہی بھی ہوتی ہے۔ (آیت) ” یغفر ..... یؤخر یعنی موت طبعی جو کفر وعدم ایمان کا ثمرہ نہیں، وہ تو بہرحال اپنے وقت موعود ومقرر پر آکر رہے گی، البتہ عذاب جو ثمرہ ہے کفر کا اس سے تم ایمان لا کر محفوظ ہوجاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 3–20

ان اعبدوا اللہ واتقوہ و اطیعون حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی تبلیغ کا آغاز ان تین باتوں سے فرمایا ایک یہ کہ اللہ بندگی، دوسرے تقویٰ ، تیسرے رسول کی اطاعت، مطلب یہ کہ اگر تم ان تین باتوں کو قبول کرلو تو اب تک جو گناہ تم سے ہوچکے ہیں ان سے وہ درگزر فرمائے گا، یغفرلکم من ذنوبکم و یوخر کم الی اجل مسمی الخ میں بعض مفسرین نے حقوق العباد کو خارج کرنے کے لئے من کو تبعیض کا لیا ہے، اسلام اور ایمان لانے سے حقوق اللہ معاف ہوجائیں گے مگر حقوق العباد سے معافی کے لئے صاحب حق سے معافی ضروری ہوگی، بعض مفسرن نے یہاں من زائدہ یا بمعنی عن لیا ہے مطلب یہ کہ ایمان لانے سے تمہارے سب گناہ معاف ہوجائیں گے مگر دوسری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یغفرلکم . ایمان و اطاعت مغفرت کا سبب ہے اس لیے یہ جملہ امر مذکور کا جواب ہے یعنی اگر تم اطاعت کرو گے تو اللہ تمہاری مغفرت کر دے گا۔ حضرت عمرو بن عاص کا قول ہے میں نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! دست مبارک پھیلائیے ‘ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ حضور ﷺ نے دایاں ہاتھ پھیلا دیا۔ مگر میں نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا ‘ فرمایا : عمرو ! کیا بات ہے ؟ میں نے عرض کیا ‘ کچھ شرط رکھنا چاہتا ہوں۔ فرمایا : شرط بیان کرو۔ میں نے عرض کیا : شرط بیعت یہ ہے کہ میرے گناہ بخش دیئے جائینگے۔ فرمایا : عمرو ! کیا تم کو نہیں معلوم کہ اسلام گزشتہ گناہ ڈھا دیتا ہے اور ہجرت بھی پہلے گناہ گرا دیتی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

وہ توحید اور توبہ کی وجہ سے تمہارے گناہ معاف کردے گا اور موت تک بغیر عذاب کے مہلت دے گا عذاب خداوندی اگر آگیا تو وہ ٹلے گا نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یغفرلکم من ذنوبکر :”من“ کا معنی عام طور پر ”بعض“ ہوتا ہے، اس صورت میں معنی ہوگا ”اور وہ تمہارے کچھ گناہ معاف کر دے گا۔“ مگر اس پر یہ سوال وارد ہوتا ہے کہ کچھ گناہ تو پھر بھی باقی رہ گئے، ان کا کیا بنے گا ؟ اس کا ایک جواب وہ ہے جو امام ابن جریر طبری ؒ نے دیا ہے کہ یہاں ”من“ ”عن“ کی جگہ آیا ہے اور ”جمیع“ کا معنی دے رہا ہے، گویا ”یغفر“ کے ضمن میں ”یصفح“ اور ”یعفو“ کا معنی ملحظو ہے : ای یعفولکم عن جمیع ذنوبکم،“ یعنی وہ تمہارے سب گناہ معاف کر دے گا۔“ دوسرا یہ ہے کہ ”من“ ”بعض“ ہی کے معنی میں ہے اور مراد یہ ہے کہ اگر تم میری دعوت قبول کر کے ایمان لے آؤ گے تو تمہارے پہلے گناہ معاف ہوجائیں گے، کیونکہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ویوخرکم الی اجل مسمی حضرت ابن عباس نے کہا : تمہاری عمروں میں مہلت دے گا۔ اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی تخلیق سے پہلے ہی فیصلہ کردیا تھا کہ اگر وہ ایمان لائے تو اللہ تعالیٰ ان کی عمروں میں برکت ڈال دے گا۔ اگر وہ ایمان نہ لائے تو ان پر عذاب کو جلدی لے آئے گا۔ مقاتل نے کہا : تمہاری عمر کے آخری حص تک صحت و سلامتی کے ساتھ تمہیں ملہت دے گا اور قحط وغیرہ کے ساتھ سزا نہیں دے گا۔ اس تاویل کی بنا پر معنی یہ بنے گا تمہاری عمروں کے اختتام تک تمہیں عقوبات اور شدائد سے محفوظ رکھے گا۔ زجاج نے کہا : عذاب سے تمہیں مہلت دے گا تم کو ایسی موت نہیں مارے گا جو عذاب کے ساتھ جڑ کو ہی ختم کر دے، اس وجہ سے فرمایا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 4–5

4۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت یغفرلکم من ذنوبکم اللہ تعالیٰ گناہ معاف کردے گا۔ یعنی شرک کو ویوخرکم الی اجل مسمی اور تمہیں ایک وقت تک مہلت دے گا بغیر سزا دئیے آیت ان اجل اللہ اذا جاء لا یوخر۔ بیشک اللہ کا وقت مقرر ہے جب آئے گا تو اس میں تاخیر نہ ہوگی یعنی موت کا وقت۔ 5۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان اجل اللہ اذا جاء لا یوخر سے مراد ہے کہ موت کا مقرر وقت لکھا جا چکا ہے جب اللہ کا مقرر وقت آئے گا تو موخر نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يَغْفِرْ لَكُمْ : تو وہ بخش دے گا تمہارے لیے ] [مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ : تمہارے گناہوں میں سے ] [وَيُؤَخِّرْكُمْ : اور وہ پیچھے کرے گا (مہلت دے گا) تم کو ] [اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى: ایک مقررہ مدت تک ] [اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ : بیشک اللہ کا (مقرر کردہ) وقت ] [اِذَا جَاۗءَ : جب آجائے ] [لَا يُؤَخَّرُ : تو وہ مؤخر نہیں کیا جاتا ] [لَوْ كُنْتم تَعْلَمُوْنَ : کاش تم لوگ جانتے ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 4 ۔ میں حضرت نوح کی دعوت کے تین بنیادی ارکان بیان ہوتے ہیں، توحید، شریعتِ الٰہی کی پابندی اور رسول کی اطاعت۔ انہی تین ارکان پر تمام رسولوں کی دعوت مبنی رہی ہے۔ اس حوالہ سے آگے آیت۔ 4 ۔ میں فرمایا کہ اگر تم نے میری…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–20

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے خطاب، نعمتوں کی تذکیر، توحید کی دعوت، قوم کا انحراف اور باغیانہ روش یہاں سے سورة ٴ نوح شروع ہو رہی ہے اور بھی کئی سورتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا اور ان کی قوم کی نافرمانی کا اور قوم کے انجام کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے تقریباً ایک ہزار سال کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی وہ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے ان لوگوں میں بت پرستی پھیل گئی تھی۔ بت بنا لیتے تھے اور ان کے نام بھی تجویز کرلیتے تھے جو اس سورت کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں، حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں طرح طرح سے سمجھایا توحید کی اور اللہ وحدہ لاشریک لہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–20

و توحید خالق ارض وسماء : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انآ ارسلنا نوحا الی قومہ ........ الی ......... سبلا فجاجا “۔ (ربط) اس سے قبل سورة معارج میں قیامت اور قیامت کے احوال شدیدہ کا ذکر تھا اور یہ کہ اس روز مجرمین اور نافرمانوں کی پریشانی اور بدحالی انسان کے تصور سے بھی بڑھ کر ہوگی تو اب اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر ہے جن کو حق تعالیٰ نے عالم میں سب سے پہلا وہ رسول بنا کر بھیجا جو شرک وبت پرستی کا رد کرنے والے تھے انکی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ قوم کی یہ کس قدر بدنصیبی تھی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرایا اور بڑی ہی گستاخی کے ساتھ شرک وبت پرستی پر ڈٹے رہے ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

3:۔ ” یغفرلکم “ مجزوم بوجہ جواب امر۔ اگر تم ایمان لے آؤ گے تو اللہ تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اجل مسمی یعنی موت تک تم کو بلا عذاب مہلت دے گا۔ لیکن اگر تم ایمان نہ لائے تو خدا کا عذاب آجائے گا اور پھر کسی صورت ٹل نہیں سکے گا۔ اجل مسمی سے مراد موت ہے۔ اور اجل اللہ سے دنیوی عذاب کا معین وقت مراد ہے (جلالین) ۔ فرشتوں کے یہاں بطور تقدیر معلق لکھا ہوتا ہے کہ اگر مان لیں تو بہتر، ورنہ ان پر فلاں وقت میں عذاب نازل ہوگا۔ ومعناہ ان اللہ تعالیٰ کان قضی قبل خلقہم انھم ان امنوا بارک فی اعمارھم، وان لم یومنوا عوجلوا بالعذاب (قرطبی ج 18 ص 299) ۔ لوکنتم تعلمون اگر تم جانتے ہوتے کہ ایمان نہ لانے کی صورت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

کوائف اور مضامین : اس سے پہلی سورة معراج تھی جس میں زیادہ تر قیامت کا ذکر تھا ، تاہم ضمناََ توحید و رسالت کا بیان بھی تھا۔ اس سورة کا نام حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس دعوت الیٰ الحق اور دعوت توحید کا ذکر فرمایا ہے جو انہوں نے اپنی قوم کو دی اس دعوت کے مختلف طریقے اور اس کاروائی کا بیان ہے جو نوح (علیہ السلام) نے اس سلسلہ میں سرانجام دی گویا دعوت الی الحق کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو بطور نمونہ پیش کیا ہے۔ سابقہ سورة سے ربط۔ گزشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو صبر جمیل کی نصیت فرمائی۔ کفار و مشرکین آپ کی طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتے تھے۔ ٹھٹا اور تمسخر کرتے تھے۔ آپ کے گرد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى۝ 0 ۭ اِنَّ اَجَلَ اللہِ اِذَا جَاۗءَ لَا يُؤَخَّرُ۝ 0 ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝ 4 غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 2–7

ترکیب : ان انذر ان معنی ای ویجوزان یکون مصدریۃ ‘ من قبل متعلق بانذر قال یا قوم قوم بکسرالمیم اصلہ قومی حذفت الیاء والکسرۃ دلیل علیھا والجملۃ مستانفۃ ان اعبدواللہ ان تفسیریۃ لنذیرا وھی مصدریۃ یغفر مجذوم علی انہ جواب الاوامرا لثلاثۃ و من للتبعیض وقال الاخفش زائدۃ ویؤخر معطوف علے یغفر لیلا ونہارا ظرفان لدعوت الافرارا الاستثناء مفرغ۔ لتغفر واللام للسییۃ جعلوا جواب کلہا۔ تفسیر : یہ سورة مبارکہ بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی۔ قریش کی سرکشی اور اخیر نبی (علیہ السلام) کی ہدایتوں پر تمسخر اور وعدوں کی تکذیب اور تکبر حد کو پہنچ گیا تھا۔ اس لیے ان لوگوں کی مثل سرکش اور نافرمان قوم کا عبرتناک واقعہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 2–4

قَالَ یٰـقَوْمِ اِنِّیْ لَـکُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ۔ اَنِ اعْبُدُوْا اللّٰہَ وَاتَّـقُوْہُ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ یَغْفِرْلَـکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ وَیُؤَخِّرْکُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّے ط اِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ اِذَا جَـآئَ لاَ یُؤَخَّرُ م لَوْکُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ (نوح : 2 تا 4) (انھوں نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں تمہارے لیے ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں ایک وقت مقرر تک مہلت دے گا، بیشک اللہ کی مقرر کی ہوئی مدت جب آجائے گی تو وہ ٹالے نہیں ٹلے گی، کاش تم اس کو سمجھو۔ ) حضرت نوح…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–9

فہم القرآن ربط کلام : نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بار بار سمجھایا کہ اے میری قوم شرک اور اللہ کی نافرمانی سے تائب ہو کر اللہ کی بندگی کرو اور میری اطاعت کرتے رہو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تمہارے گناہ معاف فرمائے گا اور تمہیں عافیت کی زندگی عطا کرے گا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اور ہر قسم کے شرک سے باز آؤ اور میری اطاعت قبول کرو۔ اس کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تمہیں وقت مقررہ تک مہلت دے گا۔ وقت مقرر سے مراد ہر انسان کی موت ہے اگر اس سے مراد کسی قوم یا برادری اور جماعت کا مقرر وقت سمجھا جائے تو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

4 : یَغْفِرْلَکُمْ (وہ معاف کردے گا) یہ امرکا جواب ہے مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ (تمہارے گناہ) مِنْ بیانیہ ہے جیسا کہ اس آیت میں فاجتنبوا الرجس من الاوثان نمبر 2۔ من تبعیضیہ ہے۔ کیونکہ حقوق اللہ معاف ہوجاتے ہیں جو مخلوق کے حقوق ہوتے ہیں وہ اسلام کے بعد بھی قابل مواخذہ ہیں۔ مثلاً قصاص (کذا فی شرح التاویلات) وَیُؤَ خِّرْ کُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی (اور تم کو وقت مقررہ تک مہلت دے گا) اجل مسمی سے وقت موت مراد ہے۔ اِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ اِذَا جَآ ئَ لَایُؤَخَّرُ لَوْکُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آجائے گا تو ٹلے گا نہیں۔ کیا خوب ہوتا اگر تم سمجھتے) اجل اللہ ؔ سے موت مراد ہے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

1۔ 4۔ یہ اوپر گزر چکا ہے کہ چالیس برس کی عمر میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو نبوت ہوئی اور طوفان سے پہلے ساڑھے نو سو برس تک وہ اپنی قوم کو نصیحت کرتے رہے اور ساٹھ برس طوفان کے بعد زندہ رہے اس حساب سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر ایک ہزار پچاس برس کے قریب ہوئی۔ یہ بھی گزر چکا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح کی قوم کے ابتدائی زمانہ تک لوگ دنیا میں بت پرستی نہیں کرتے تھے۔ شیطان کے بہکانے سے پہلے پہل اس قوم نے دنیا میں بت پرستی جس طرح شروع کی اس کا ذکر آگے آتا ہے اس شرک کے مٹانے کے لئے حضرت نوح (علیہ السلام) کی اطاعت اور فرمانبرداری فرض تھی۔ اسی واسطے حضرت نوح (علیہ السلام) کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–6

(ویؤخرکم الی اجل مسمی) ۔ یعنی اس دنیا میں تمہیں متمتع کرے گا اور ایک مدت مقررہ تک ہلاکت کو تم سے دور ہٹا دے گا یعنی اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر سے دنیا میں باقی رہنے کی مقدار ایک محدودوقت تک موخر کردی جائے گی اور یہ متاع ابدی نہیں ہے موت کو ضرور آنا ہے اس لیے فرمایا (ان اجل اللہ اذا جاء لا یوخر، لو کنتم تعلمون) ، جب اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا وقت آجاتا ہے تو تاخیر نہیں ہوتی، کاش تم جانتے ہوتے۔ تو تم اللہ کا انکار کرتے نہ حق کے ساتھ عناد رکھتے۔ پس انہوں نے حضرت نوح کی دعوت کو قبول کیا نہ ان کے حکم کی اطاعت کی تو حضرت نوح نے اپنے رب سے شکوہ کرتے ہوئے عرض کیا (رب انی دعوت قومی لیلا ونھارا۔ فلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

3 ۔ عبادت و اطاعت کا پہلا اہم ثمرہ مغفرت ذنوب : سو ارشاد فرمایا گیا اور عبادت وتقوی اور اطاعت و فرمانبرداری کے ثمرات کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا سو اطاعت پیغمبر کے ثمران کے بیان کے سلسلے میں پہال نتیجہ وثمرہ یہ فرمایا گیا کہ وہ درگزر فرما دے گا تمہارے گناہوں سے، یعنی تمہارے ان گناہوں سے جو اس سے پہلے تم نے زمانہ کفر کے دور میں کیے ہیں کہ اسلام لانے سے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں، جیسا کہ صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا گیا الاسلام یھدم ما کان قبلہ یعنی اس سے پہلے کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور گناہوں سے یہاں پر مراد وہ گناہ ہیں جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے کیونکہ حقوق العباد اس وقت تک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–14

سیدنانوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مقصد تشریح :۔ جیسا کہ کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے کہ سیدناآدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی اکرم ﷺ تک جتنے بھی نبی انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے سب نے توحید ہی کی تعلیم دی کیونکہ توحید ہی ایسا عقیدہ ہے جو انسان کو ہر قسم کے شر و فساد اور شیطان کے قبضہ سے نکال کر امن و سکون اور اللہ کی راہ دکھاتا ہے۔ معمول کے مطابق توحید کی تعلیمات آہستہ آہستہ مٹتی گئیں اور بت پرستی بڑھتی گئی تب اللہ تعالیٰ نے سیدنانوح (علیہ السلام) کو ہدایت دینے کے لیے نبی بنا کر انکی قوم کی طرف بھیجا۔ سیدنانوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تین باتوں کی تعلیم دی۔ پہلی اللہ کی بندگی دوسری تقویٰ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–20

سورة نوح۔ آیات 1 تا 20۔ اسرارومعارف۔ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا کہ ان کا کردار ایسا مسخ ہوچکا تھا کہ عذاب الٰہی واقع ہونے کا خطرہ تھا لہذا نوح (علیہ السلام) انہیں بروقت باخبر کرنے کے لیے تشریف لائے کہ اللہ کے دردناک عذاب سے بچنے کا طریقہ سکھائیں لہذا انہوں نے اپنی بعثت کا اعلان فرمایا کہ اللہ نے مجھے تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے اور تم اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اور اس کی نافرمانی سے باز رہو۔ نبی کا لایا ہوا نظام۔ اس کی اطاعت یہ ہے کہ جو میں کہتا ہوں وہ کرو یعنی اپنی زندگی میں میرا دیا ہوا نظام رائج کرو تو تم سے جو گناہ ہوچکے ہیں اللہ اپنی رحمت سے معاف فرمائیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” وہ تمہارے گناہ بخش دے گا۔ “ اس صورت میں ” من “ کا لفظ زائد ہوگا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(71:4) یغفر لکم من ذنوبکم ویؤخرکم الی اجل مسمی۔ جواب امر میں ہے متذکرہ بالا تینوں احکام کے جواب ہیں۔ یغفر مضارع مجزوم (بوجہ جواب امر) واحد مذکر غائب۔ مغفرۃ (باب ضرب) مصدر۔ وہ تمہیں بخش دے گا۔ (1) من تبعیضیہ بھی ہوسکتا ہے، وہ تمہارے بعض گناہ معاف کر دے گا۔ یعنی دو گناہ جن کا تعلق اسکی اپنی ذات سے ہے عوام الناس نہیں (2) یا من زائدہ ہے وہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔ ویؤخرکم۔ جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ یؤخر مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ تاخیر (تفعیل) مصدر سے۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تمہیں مہلت دے گا۔ اجل مسمی موصوف و صفت۔ اسم مفعول واحد مذکر تسمیۃ (تفعیل) مصدر سے مدت مقررہ۔ معینہ۔ تعین…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–28

لغات القرآن۔ لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔ تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔ فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–4

نوح (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا ان سے کہا کہ جاؤ اور اپنی قوم کو ڈراؤ دھمکاؤ، خدا کے غصہ اور عذاب کی خبرسناؤ، قبل ازاں کہ انکو عذاب الیم دردرساں پہنچے، جب حضرت نوح ان کے پاس آئے تو کہا، اے قوم، میں تم کو خدا کے غصہ سے بچانے کے لیے آیا ہوں اس کا قاصد ہوں اس کا پیغام دے کر ڈراتا ہوں ، صاف صاف تمہارے محاورے میں تم کو سمجھاتا ہوں ، یہ حکم دیتا ہوں کہ خدا کی عبادت کرو توحید مانو اس سے ڈرو، کفر وشرک سے منہ پھیرو، میری اطاعت کرو میرا حکم ، میری وصیت مانو، اگر تم قبول کروگے خدا تمہاری حالت کفر کی توحید توبہ کی برکت سے بخش دے گا اور تم کو ایک وقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–4

[1] یعنی موت تو ہر حال میں آ کر رہے گی، ایمان میں بھی اور کفر میں بھی۔ لیکن دونوں حالتوں میں اتنا فرق ہے کہ حا لت کفر میں علاوہ عذاب آخرت کے دنیا میں بھی عذاب ہوگا اور حالت ایمان میں دنیا و آخرت دونوں عذابوں سے محفوظ رہو گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–6

سورة نوح 2: حضرت نوح ایک بڑے جلیل القدر پیغمبر ہیں ۔ اس سورة میں ان کی تبلیغ و اشاعت کے حالات تفصیل کے ساتھ بیان فرمائے ہیں ۔ کہ وہ جب تشریف لائے ۔ تو کیونکر انہوں نے حق وصداقت کی تلقین کی ۔ اور کس حد تک مخالفین کی تکلیفوں کو برداشت کیا ۔ حل لغات :۔ اجل مسمی ۔ مقررہ وقت ۔ موت ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور معاف کردے گا اور ایک مقررہ وقت تک تم کو مہلت دے گا اور جب اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا وقت آجاتا ہے تو پھر اس کو پیچھے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ کاش تم اس بات کو سمجھ لیتے ۔ یعنی اگر تم ایمان لے آئے تو جس عذاب سے تم کو ڈرایا جاتا ہے وہ عذاب نہیں آئے گا اور موت کے وقت تک عذاب سے محفوظ رہوگے بلکہ موت کے بعد جو عذاب ہونے والا ہے ایمان اور تقویٰ کی وجہ سے اس عذاب سے بھی محفوظ رہوگے۔ یعنی عذاب حاصل اور عذاب آجل دونوں سے تمہاری حفاظت ہوگی۔ البتہ موت کا جو وقت مقرر ہے وہ موخر نہیں کیا جاسکتا اس میں مومن اور غیر مومن دونوں یکساں ہیں، ان اجل اللہ اذا جاء لا یوخر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–7

ف 3۔ یعنی ایمان نہ لانے پر جس عذاب کا مرنے سے پہلے وعدہ کیا جاتا ہے، اگر ایمان لے آئے تو وہ عذاب نہ آوے گا۔ 4۔ یعنی موت کا آنا ہر حال میں ضروری ہے، ایمان میں بھی اور کفر میں بھی لیکن دونوں حالتوں میں اتنا فرق ہے کہ ایک حالت میں علاوہ عذاب آجل کے عذاب عاجل بھی ہوگا اور ایک حالت میں مثل عذاب آجل کے عذاب عاجل سے بھی محفوظ رہو گے، اور تخصیص نفی عذاب عاجل میں یہ نکتہ ہے کہ ایمان پر عذاب آج سے تو تحفظ رہتا ہی ہے، مگر بعض اوقات باوجود ایمان کے بھی دنیوی کلفتیں پیش آجاتی ہیں، پس اس کی نفی سے ایمان لانے پر مزید فضل کا وعدہ ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہاری آخرت درست فرما دے گا 4 ؎ غلطیوں اور بھولوں سے اکثر انسانوں کے دامن آلودہ رہتے ہیں اور ان سے تم بھی دوچار ہوتے ہو اس لئے ان کو محو کرانے اور مٹانے کا بھی صرف یہ ایک ہی طریقہ ہے کہ تم اپنی حالت کو درست کرلو کیونکہ سنت الٰہی یہی ہے کہ اللہ ہمیشہ اسی قوم کی حالت کو بدلتا ہے جو قوم خود اپنی حالت کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ؎ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا اس وقت تم کو نظر آئے یا نہ آئے تمہارے گناہوں کا حال یہ ہے کہ تم پر عذاب الٰہی آیا ہی چاہتا ہے اگرچہ اس کے لئے ابھی تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–14

Commentary يَغْفِرْ‌ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ and Allah will forgive you your sins, 71:4). The particle min is often used to indicate division into parts, that is, to refer to only a part of an amount, group or number. If it is taken in that sense here, it would signify that by embracing the faith only those sins would be forgiven which pertains to the Divine rights because violation of human rights would be forgiven only when the believer fulfills the human rights which he has violated [ such as pecuniary obligations ] and if they cannot be fulfilled [ such as hurting somebody physically or…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

3 The sentence yaghfir la-kum min dhunub-i-kum in the original does not mean that Allah will forgive some of their sins, but its correct meaning is: "If you accept and acknowledge the three things which are being presented before you, He will forgive all the sins that you have committed in the past." 4 That is, "If you accepted these three things, you would be given respite to live in the world until the time that Allah has appointed for your natural death." 5 "The appointed time of Allah .. ": the time fixed by Allah for sending down a torment on a people. In this regard the Qur'an has at…

Read the full tafseer →