Nooh 71:3

Nooh · from ayah 3

71:3

اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاتَّقُوْهُ وَاَطِیْعُوْنِ ۟ۙاَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ وَاتَّقُوۡهُ وَاَطِيۡعُوۡنِۙ

کہ خدا کی عبات کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہا مانو

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Saying], 'Worship Allah, fear Him and obey me.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Nooh

All translations of 71:3

(تم کو آگاہ کرتا ہوں) کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہ خدا کی عبات کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہا مانو

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو اور میرا کہا مانو

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہ اللہ کی عبادت کرو، اور اس سے ڈرو، اور میرا کہنا مانو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میرا حکم مانو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کہ تم اﷲ کی عبادت کرو اور اُس سے ڈرو اور میری اِطاعت کرو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہ تم اللہ کی عبادت کرو، اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہ اللہ کی بندگی کرو، اس کے حدود کی پابندی کرو اور میری بات مانو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(میرا پیغام یہ ہے) کہ تم لوگ بندگی کرو (ایک) اللہ کی اسی سے ڈرو اور میرا کہا مانو

— مولانا اسحاق مدنی

(یہ یاد دلا کر) کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو اور میرا کہنا مانو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کہ تم لوگ اللہ کی بندگی کرو اس کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

that you serve Allah and fear Him, and follow me;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

that you must worship Allah, and fear Him, and obey me,

— Muhammad Taqi Usmani

that you must worship Allah, and fear Him, and obey me,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"That you should worship Allah, and have Taqwa of Him, and obey me,"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Bidding you): Serve Allah and keep your duty unto Him and obey me,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Saying], 'Worship Allah, fear Him and obey me.

— Saheeh International

Worship God, have fear of Him and obey me.

— Muhammad Sarwar

That you should serve Allah and be careful of (your duty to) Him and obey me:

— Muhammad Habib Shakir

Worship Allah, and fear Him, and obey me.

— Abdul Majid Daryabadi

"That ye should worship Allah, fear Him and obey me:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 71:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–4

عذاب سے پہلے نوح ؑ کا قوم سے خطاب اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے حضرت نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف اپنا رسول ﷺ بنا کر بھیجا اور حکم دیا کہ عذاب کے آنے سے پہلے اپنی قوم کو ہوشیار کردو اگر وہ توبہ کرلیں گے اور اللہ کی طرف جھکنے لگیں گے تو اللہ کا عذاب ان سے اٹھ جائے گا، حضرت نوح ؑ نے اللہ کا پیغام اپنی امت کو پہنچا دیا اور صاف کہہ دیا کہ دیکھو میں کھلے لفظوں میں تمہیں آگاہ کئے دیتا ہوں، میں صاف صاف کہہ رہا ہوں کہ اللہ کی عبادت اس کا ڈر اور میری اطاعت لازمی چیزیں ہیں جو کام رب نے تم پر حرام کئے ہیں ان سے بچو گناہ کے کاموں سے الگ تھلگ رہو جو میں کہوں بجا لاؤ جس سے روکوں رک جاؤ میری رسالت کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة نُوْح 2 یہ تین باتیں تھیں جو حضرت نوح ؑ نے اپنی رسالت کا آغاز کرتے ہوئے اپنی قوم کے سامنے پیش کیں۔ ایک، اللہ کی بندگی۔ دوسرے، تقوی۔ تیسرے، رسول کی اطاعت۔ اللہ کی بندگی کا مطلب یہ تھا کہ دوسروں کی بندگی و عبادت چھوڑ کر اور صرف اللہ ہی کو اپنا معبود تسلیم کر کے اسی کی پرستش کرو اور اسی کے احکام بجا لاؤ۔ تقوی کا مطلب یہ تھا کہ ان کاموں سے پرہیز کرو جو اللہ کی ناراضی اور اس کے غضب کے موجب ہیں، اور اپنی زندگی میں وہ روش اختیار کرو جو خدا ترس لوگوں کو اختیار کرنی چاہیے۔ رہی تیسری بات کہ " میری اطاعت کرو "، تو اس کا مطلب یہ تھا کہ ان احکام کی اطاعت کرو جو اللہ کا رسول ہونے کی حیثیت سے میں تمہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–3

خلاصہ تفسیر ہم نے نوح ؑ کو ان کی قوم کے پاس (پیغمبر بنا کر) بھیجا تھا کہ تم اپنی قوم کو (وبال کفر سے) ڈراؤ قبل اس کے کہ ان پر درد ناک عذاب آوے (یعنی ان سے کہو کہ اگر ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر عذاب الیم آوے گا، خواہ نیوی یعنی طوفان یا اخروی یعنی دوزخ غرض) انہوں نے (اپنی قوم سے) کہا کہ اے میری قوم میں تمہاری لئے صاف صاف ڈرانے والا ہوں (اور کہتا ہوں) کہ تم اللہ کی عبادت (یعنی توحید اختیار) کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہنا مانو وہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا (من ذنوبکم کی تحقیق سورة احقاف میں گزر چکی) اور تم کو وقت مقرر (یعنیوقت موت) تک (بلاعقوبت) مہلت دے گا (یعنی ایمان نہ لانے پر جس عذاب کا مرنے سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ اس انذار کی تفصیل ہے کہ اللہ کی بندگی کرو، اس کے مقرر کردہ حدود کی خلاف ورزی سے بچو اور میری اطاعت کرو۔ ’اَنِ اعْبُدُوا اللَّہَ‘۔ یعنی اپنے خود تراشیدہ معبودوں کی (جن کی تفصیل اسی سورہ میں آگے آ رہی ہے) پوجا چھوڑو اور اپنے رب حقیقی، اللہ واحد کی بندگی کرو۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ’وَاتَّقُوْہُ‘۔ یعنی اللہ نے جو حدود و قیود تمہاری زندگی کی رہنمائی کے لیے مقرر کیے ہیں ان کی پابندی کرو کہ اس کے غضب سے محفوظ رہو۔ ’تقویٰ‘ کا اصل مفہوم، جیسا کہ ہم اس کتاب میں جگہ جگہ واضح کر چکے ہیں، یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے، زندگی کے ہر شعبہ میں، اپنی شریعت کے ذریعہ سے جو حدود قائم فرما دیے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2۔ 1 اور شرک چھوڑ دو ، صرف اسی کی عبادت کرو۔ 2۔ 2 اللہ کی نافرمانیوں سے اجتناب کرو، جن سے تم عذاب الٰہی کے مستحق قرار پاسکتے ہو، 2۔ 3 یعنی میں تمہیں جن باتوں کا حکم دوں اس میں میری اطاعت کرو، اس لئے کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول اور اس کا نمائندہ بن کر آیا ہوں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–3

1: اس سورت میں صرف حضرت نوح ؑ کی تبلیغی جدوجہد اور ان کی دعاؤں کا تذکرہ فرمایا گیا ہے، آپ کا مفصل واقعہ سورة یونس (10: 17) اور سورة ہود (11: 36) میں گزرچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

حضرت نوح (علیہ السلام) جو دعوت پیش کررہے تھے ، وہ بھی سادہ اور سیدھی ہے۔ ان اعبدو .................... واطیعون (17 : 3) ” کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو “۔ یعنی اللہ وحدہ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ، اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرو ، تمہارے شعور و سلوک پر یہ بات چھائی ہوئی ہو ، اور رسول اللہ کی اطاعت وہ بات ہے جس سے نظام زندگی پھوٹتا ہے اور زندگی کے تفصیلی قواعد وضع ہوتے ہیں جس کی تعبیر سنت رسول سے کی جاتی ہے۔ بس تمام ادیان سماوی کے یہی خطوط ہیں۔ اللہ کا حکم اور رسول اللہ کی اطاعت۔ انہی خطوط پر دین استوار ہوتا ہے۔ تفصیلات ہر دور کے حالات کے مطابق ہوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 2–4

10 یعنی اللہ سے ڈر کر کفر و معصیت چھوڑو اور طاعت و عبادت کا راستہ اختیار کرو۔ 11 یعنی ایمان لے آؤ گے تو اس سے پہلے اللہ کے جو حقوق تلف کیے ہیں وہ معاف کر دے گا، اور کفر و شرارت پر جو عذاب آنا مقدر ہے ایمان لانے کی صورت میں وہ نہ آئے گا۔ بلکہ ڈھیل دی جائے گی کہ عمر طبعی تک زندہ رہو۔ حتی کہ جانداروں کی موت وحیات کے عام قانون کے موافق اپنے مقرر وقت پر موت آئے۔ کیونکہ اس سے تو بہرحال کسی نیک و بد کو چارہ نہیں۔ 1 یعنی ایمان نہ لانے کی صورت میں عذاب کا جو وعدہ ہے اگر وہ سر پر آکھڑا ہوا تو کسی کے ٹالے نہیں ٹلے گا نہ ایک منٹ کی ڈھیل دی جائے گی۔ یا یہ مطلب ہو کہ موت کا وقت معین پر آنا ضروری ہے اس میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

آیت 3{ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاتَّـقُوْہُ وَاَطِیْعُوْنِ۔ } ”کہ تم لوگ اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔“ یہاں نبی علیہ السلام اور رسول علیہ السلام میں فرق کے حوالے سے یہ نکتہ نوٹ کر لیجیے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے اپنی اطاعت کا مطالبہ اللہ کے ”رسول“ کی حیثیت سے کیا تھا۔ کسی نبی علیہ السلام نے اپنی قوم سے کبھی یہ نہیں کہا کہ تم لوگ میری اطاعت کرو۔ سورة یوسف علیہ السلام میں ہم حضرت یوسف علیہ السلام کے تفصیلی حالات پڑھ چکے ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نبی تھے۔ آپ علیہ السلام نے مصر کے بادشاہ کو یہ نہیں کہا کہ میں نبی ہوں ‘ تم میری اطاعت کرو ‘ اور نہ ہی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 3–5

2 نوح کی دعوت کے نکات :۔ جب کوئی نبی مبعوث کیا جاتا ہے تو سب سے پہلے وہ خود اپنی نبوت پر ایمان لاتا ہے۔ بعد ازاں وہ اپنی قوم کے سامنے اپنی نبوت کا اعلان کرتا ہے۔ اپنے اس تعارف کے بعد وہ لوگوں کو اللہ کا پیغام سناتا ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے بھی اپنی نبوت کا اعلان ان الفاظ میں فرمایا۔ (اِنِّىْ لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ ۝ ۙ ) 71 ۔ نوح :2) پھر اس کے بعد تین باتیں ارشاد فرمائیں۔ (1) صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور بتوں کی عبادت چھوڑ دو ، (2) ڈرو تو صرف اللہ سے ڈرو، بتوں سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ تمہارا یہ کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے۔ اللہ سے ڈرتے ہوئے اس کے احکام بجا لاؤ، (3) اور اللہ کے احکام بجا لانے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 2–4

2۔ یعنی یہ حقائق جو میں بیان کررہا ہوں کاش تم پر بھی روشن ہوگئے ہوتے ! (آیت) ” ان اعبدوا اللہ “۔ یعنی پر ستش صرف حق تعالیٰ کی کرو۔ اپنے سارے جھوٹے معبودوں، ٹھاکروں، مورتیوں کو ٹھکرا کر۔ (آیت) ” واتقوہ “۔ یعنی خوف اپنے دلوں میں اس خدائے واحد کا جماؤ نہ کہ اپنے گڑھے ہوئے معبودوں کا۔ (آیت) ” واطیعون “۔ پیغمبر کی اطاعت میں اطاعت الہی بھی ہوتی ہے۔ (آیت) ” یغفر ..... یؤخر یعنی موت طبعی جو کفر وعدم ایمان کا ثمرہ نہیں، وہ تو بہرحال اپنے وقت موعود ومقرر پر آکر رہے گی، البتہ عذاب جو ثمرہ ہے کفر کا اس سے تم ایمان لا کر محفوظ ہوجاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 3–20

ان اعبدوا اللہ واتقوہ و اطیعون حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی تبلیغ کا آغاز ان تین باتوں سے فرمایا ایک یہ کہ اللہ بندگی، دوسرے تقویٰ ، تیسرے رسول کی اطاعت، مطلب یہ کہ اگر تم ان تین باتوں کو قبول کرلو تو اب تک جو گناہ تم سے ہوچکے ہیں ان سے وہ درگزر فرمائے گا، یغفرلکم من ذنوبکم و یوخر کم الی اجل مسمی الخ میں بعض مفسرین نے حقوق العباد کو خارج کرنے کے لئے من کو تبعیض کا لیا ہے، اسلام اور ایمان لانے سے حقوق اللہ معاف ہوجائیں گے مگر حقوق العباد سے معافی کے لئے صاحب حق سے معافی ضروری ہوگی، بعض مفسرن نے یہاں من زائدہ یا بمعنی عن لیا ہے مطلب یہ کہ ایمان لانے سے تمہارے سب گناہ معاف ہوجائیں گے مگر دوسری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان اعبدوا اللہ واتقواہ . کہ اللہ کی عبادت کرو ‘ اس سے ڈرو کہ کسی چیز کو (الوہیت اور عبادت میں) اس کا شریک نہ قرار دو ۔ واطیعون . اور توحید وطاعت الٰہی کی بابت جو کچھ میں حکم دے رہا ہوں اس کو مانو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 2–3

(2۔ 3) انہوں نے کہا کہ اے میری قوم میں صاف صاف ڈرانے والا رسول ہوں، توحید خداوندی کے قائل ہوجاؤ اور اللہ سے ڈرو کفر و شرک سے توبہ کرو میرے حکم و دین اور وصیت کی پیروی کرو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 2–3

قال یقوم انی لکم نذیر مبین…: نوح ؑ نے اپنی قوم کو تین باتوں کا حکم دیا، پہلی یہ کہ بت پرستی اور ہر قسم کا شرک چھوڑ کر اکیلے اللہ کی عبادت کرو۔ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو، یعنی ہر کام کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھو۔ اس کے بھیجے ہوئے احکام کی پابندی کرو۔ تیسری بات یہ کہ میرا حکم مانو، کیونکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اللہ کی عبادت بھی وہی قبول ہے جو میرے بتائے ہوئے طریقے پر ہوگی۔ تینوں کا خلاصہ توحید، شریعت الٰہی کی پابندی اور اطاعت رسول ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 2–3

قال یقوم انی لکم نذیر یعنی میں تمہیں ڈرانے والا ہوں۔ مبین۔ میں تمہارے سامنے تمہاری اس زبان میں اظہار کرنے والا ہوں جسے تم پہچانتے ہو۔ ان اعبدواللہ واتقوہ ان مفسرہ ہے جس طرح ان انذر میں گزر چکا ہے۔ اعبدوا اس کی وحدانیت کا اظہار کرو۔ واتقوہ تم ڈرو۔ واطیعون۔ جس چیز کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں اس میں میری اطاعت کرو۔ میں تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ یغفرلکم من ذنوبکم جواب ام رکی وجہ سے یغفر کو جزم دی گئی ہ۔ من زائد ہے۔ کلام کا معنی ہے وہ تمہارے لئے تمہارے گناہ بخش دے، یہ سدی کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا زائدہ ہونا صحیح نہیں کیونکہ من کا واجب میں اضافہ نہیں کیا جاتا (2) ۔ یہ یہاں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

3۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان اعبدوا اللہ واتقوہ واطعیون کہ اللہ کی عبادت کرو اس سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسی حکم کے ساتھ رسولوں کو بھیجا کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے۔ اور اس کی حرام کردہ چیزوں سے بچا جائے اور اس کے حکم کی اطاعت کی جائے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ : کہ تم لوگ بندگی کرو اللہ کی ] [وَاتَّقُوْهُ : اور تقوٰی اختیار کرو اس کا ] [وَاَطِيْعُوْنِ : اور اطاعت کرو میری ] ترکیب : (آیت۔ 3 ۔ 4) اُعْبُدُوْا، اِتَّقُوْا، اَطِیْعُوْا، فعل امر ہیں۔ ان کا جواب امر ہونے کی وجہ سے یَغْفِرْ اور یُؤَخِّرْ مجزوم ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–20

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے خطاب، نعمتوں کی تذکیر، توحید کی دعوت، قوم کا انحراف اور باغیانہ روش یہاں سے سورة ٴ نوح شروع ہو رہی ہے اور بھی کئی سورتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا اور ان کی قوم کی نافرمانی کا اور قوم کے انجام کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے تقریباً ایک ہزار سال کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی وہ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے ان لوگوں میں بت پرستی پھیل گئی تھی۔ بت بنا لیتے تھے اور ان کے نام بھی تجویز کرلیتے تھے جو اس سورت کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں، حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں طرح طرح سے سمجھایا توحید کی اور اللہ وحدہ لاشریک لہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–20

و توحید خالق ارض وسماء : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انآ ارسلنا نوحا الی قومہ ........ الی ......... سبلا فجاجا “۔ (ربط) اس سے قبل سورة معارج میں قیامت اور قیامت کے احوال شدیدہ کا ذکر تھا اور یہ کہ اس روز مجرمین اور نافرمانوں کی پریشانی اور بدحالی انسان کے تصور سے بھی بڑھ کر ہوگی تو اب اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر ہے جن کو حق تعالیٰ نے عالم میں سب سے پہلا وہ رسول بنا کر بھیجا جو شرک وبت پرستی کا رد کرنے والے تھے انکی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ قوم کی یہ کس قدر بدنصیبی تھی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرایا اور بڑی ہی گستاخی کے ساتھ شرک وبت پرستی پر ڈٹے رہے ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–3

2:۔ ” انا ارسلنا “ دلیل نقلی تفصیلی از نوح علیہ السلام۔ ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا تاکہ وہ اپنی قوم کو سمجھائیں کہ دردناک عذاب کے آنے سے پہلے ہی دعوت توحید کو مان لو۔ ” قال یقوم “ چناچہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ میں تم کو واضح اور کھلے لفظوں میں خبردار کرنے آیا ہوں کہ ” اعبدو اللہ واتقوہ “ تم صرف اللہ کی عبات کرو۔ صرف اسی کو برکات دہندہ سمجھو اور حاجات و مصائب میں صرف اسی کو پکارو۔ اس کے عذاب سے ڈرو اور میری اطاعت کرو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو مسئلہ سمجھایا مگر انہوں نے نہ مانا آخر ہلاک کردئیے گئے۔ اے اہل مکہ، آؤ مسئلہ مان لو ورنہ تم پر بھی خدا کا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

کوائف اور مضامین : اس سے پہلی سورة معراج تھی جس میں زیادہ تر قیامت کا ذکر تھا ، تاہم ضمناََ توحید و رسالت کا بیان بھی تھا۔ اس سورة کا نام حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس دعوت الیٰ الحق اور دعوت توحید کا ذکر فرمایا ہے جو انہوں نے اپنی قوم کو دی اس دعوت کے مختلف طریقے اور اس کاروائی کا بیان ہے جو نوح (علیہ السلام) نے اس سلسلہ میں سرانجام دی گویا دعوت الی الحق کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو بطور نمونہ پیش کیا ہے۔ سابقہ سورة سے ربط۔ گزشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو صبر جمیل کی نصیت فرمائی۔ کفار و مشرکین آپ کی طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتے تھے۔ ٹھٹا اور تمسخر کرتے تھے۔ آپ کے گرد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَنِ اعْبُدُوا اللہَ وَاتَّقُوْہُ وَاَطِيْعُوْنِ۝ 3 ۙ عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 2–7

ترکیب : ان انذر ان معنی ای ویجوزان یکون مصدریۃ ‘ من قبل متعلق بانذر قال یا قوم قوم بکسرالمیم اصلہ قومی حذفت الیاء والکسرۃ دلیل علیھا والجملۃ مستانفۃ ان اعبدواللہ ان تفسیریۃ لنذیرا وھی مصدریۃ یغفر مجذوم علی انہ جواب الاوامرا لثلاثۃ و من للتبعیض وقال الاخفش زائدۃ ویؤخر معطوف علے یغفر لیلا ونہارا ظرفان لدعوت الافرارا الاستثناء مفرغ۔ لتغفر واللام للسییۃ جعلوا جواب کلہا۔ تفسیر : یہ سورة مبارکہ بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی۔ قریش کی سرکشی اور اخیر نبی (علیہ السلام) کی ہدایتوں پر تمسخر اور وعدوں کی تکذیب اور تکبر حد کو پہنچ گیا تھا۔ اس لیے ان لوگوں کی مثل سرکش اور نافرمان قوم کا عبرتناک واقعہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 2–4

قَالَ یٰـقَوْمِ اِنِّیْ لَـکُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ۔ اَنِ اعْبُدُوْا اللّٰہَ وَاتَّـقُوْہُ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ یَغْفِرْلَـکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ وَیُؤَخِّرْکُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّے ط اِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ اِذَا جَـآئَ لاَ یُؤَخَّرُ م لَوْکُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ (نوح : 2 تا 4) (انھوں نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں تمہارے لیے ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں ایک وقت مقرر تک مہلت دے گا، بیشک اللہ کی مقرر کی ہوئی مدت جب آجائے گی تو وہ ٹالے نہیں ٹلے گی، کاش تم اس کو سمجھو۔ ) حضرت نوح…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–9

فہم القرآن ربط کلام : نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بار بار سمجھایا کہ اے میری قوم شرک اور اللہ کی نافرمانی سے تائب ہو کر اللہ کی بندگی کرو اور میری اطاعت کرتے رہو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تمہارے گناہ معاف فرمائے گا اور تمہیں عافیت کی زندگی عطا کرے گا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اور ہر قسم کے شرک سے باز آؤ اور میری اطاعت قبول کرو۔ اس کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تمہیں وقت مقررہ تک مہلت دے گا۔ وقت مقرر سے مراد ہر انسان کی موت ہے اگر اس سے مراد کسی قوم یا برادری اور جماعت کا مقرر وقت سمجھا جائے تو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

3 : اَنِ اعْبُدُ وا اللّٰہَ (کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو) اس کو وحدہٗ لا شریک مانو۔ فائدہ : اس اَنْ کا حکم دونوں صورتوں میں وہی ہے جو اوپر ان انذر میں بیان ہوا۔ وَاتَّقُوْہُ (اور اس سے ڈرو) اس کی نافرمانی سے ڈرو۔ وَاَطِیْعُوْنِ (اور میرا کہنا مانو ! ان چیزوں میں جن میں میں تمہیں حکم دیتا اور منع کرتا ہوں) یہاں اطاعت کی نسبت اپنی طرف کی کیونکہ کبھی اطاعت غیر اللہ کی عبادت کے علاوہ بھی ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2 ۔” قال یا قوم انی لکم نذیر مبین “ میں تمہیں ڈراتا ہوں اور تمہارے لئے بیان کرتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

1۔ 4۔ یہ اوپر گزر چکا ہے کہ چالیس برس کی عمر میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو نبوت ہوئی اور طوفان سے پہلے ساڑھے نو سو برس تک وہ اپنی قوم کو نصیحت کرتے رہے اور ساٹھ برس طوفان کے بعد زندہ رہے اس حساب سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر ایک ہزار پچاس برس کے قریب ہوئی۔ یہ بھی گزر چکا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح کی قوم کے ابتدائی زمانہ تک لوگ دنیا میں بت پرستی نہیں کرتے تھے۔ شیطان کے بہکانے سے پہلے پہل اس قوم نے دنیا میں بت پرستی جس طرح شروع کی اس کا ذکر آگے آتا ہے اس شرک کے مٹانے کے لئے حضرت نوح (علیہ السلام) کی اطاعت اور فرمانبرداری فرض تھی۔ اسی واسطے حضرت نوح (علیہ السلام) کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

حضرت نوح نے ان کو آگاہ کیا اور اس بارے میں بنیادی چیز کا حکم دیا، چناچہ فرمایا (ان اعبداللہ واتقوہ) ۔ یہ کہ اللہ کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو اور وہ اس طرح کی عبادت توحید میں اللہ تعایل کو یکتا قرار دیا جائے اور شرک کے تمام راستوں اور وسائل سے دور رہا جائے کیونکہ جب وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں گے تو اللہ تعایل ان کے گناہ بخش دے گا جب وہ ان کے گناہ بخش دے گا تو انہیں عذاب سے نجات حاصل ہوجائے گی اور وہ ثواب سے بہرہ مند ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

2 ۔ عبادت و بندگی صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے : اسی لیے حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم لوگ بندی کرو صرف اللہ کی کہ معبود برحق وہی وحدہ لا شریک ہے، پس تم لوگ اسی کی بندگی کرو سچے دل سے اس پر ایمان لاکر، کہ ایمان کے بغیر کوئی عبادت و بندگی منظور نہیں سو اس کی وحدانیت پر صدق دل سے ایمان لانا، اس کے یہاں نجات اور قبولیت کی شرط اولین شرط ہے، سو یہ انزار نوح کی تفصیل ہے کہ تم لوگ بندگی صرف اللہ ہی کی کر وہ کہ معبود برحق بہرحال وہی وحدہ لا شریک ہے، پس تم لوگ اپنے ان تمام خود ساختہ اور خود تراشیدہ معبودوں کی پوجا پاٹ چھوڑ دو ، جس میں تم اب لگے ہوئے ہو کہ ان کی کوئی حقیقت نہیں، اور ان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–14

سیدنانوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مقصد تشریح :۔ جیسا کہ کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے کہ سیدناآدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی اکرم ﷺ تک جتنے بھی نبی انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے سب نے توحید ہی کی تعلیم دی کیونکہ توحید ہی ایسا عقیدہ ہے جو انسان کو ہر قسم کے شر و فساد اور شیطان کے قبضہ سے نکال کر امن و سکون اور اللہ کی راہ دکھاتا ہے۔ معمول کے مطابق توحید کی تعلیمات آہستہ آہستہ مٹتی گئیں اور بت پرستی بڑھتی گئی تب اللہ تعالیٰ نے سیدنانوح (علیہ السلام) کو ہدایت دینے کے لیے نبی بنا کر انکی قوم کی طرف بھیجا۔ سیدنانوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تین باتوں کی تعلیم دی۔ پہلی اللہ کی بندگی دوسری تقویٰ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–20

سورة نوح۔ آیات 1 تا 20۔ اسرارومعارف۔ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا کہ ان کا کردار ایسا مسخ ہوچکا تھا کہ عذاب الٰہی واقع ہونے کا خطرہ تھا لہذا نوح (علیہ السلام) انہیں بروقت باخبر کرنے کے لیے تشریف لائے کہ اللہ کے دردناک عذاب سے بچنے کا طریقہ سکھائیں لہذا انہوں نے اپنی بعثت کا اعلان فرمایا کہ اللہ نے مجھے تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے اور تم اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اور اس کی نافرمانی سے باز رہو۔ نبی کا لایا ہوا نظام۔ اس کی اطاعت یہ ہے کہ جو میں کہتا ہوں وہ کرو یعنی اپنی زندگی میں میرا دیا ہوا نظام رائج کرو تو تم سے جو گناہ ہوچکے ہیں اللہ اپنی رحمت سے معاف فرمائیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 2–3

ف 5 ” اور اسی کے بندے بن کر رہو۔ “ ” عبادت “ کے لفظ میں پوجا اور بندگی دونوں کا مفہوم شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(71:3) ان اعبدوا اللہ واتقوہ ان مصدریہ۔ جملہ متعلقہ نذیر ہے یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) نے نذیر کی حیثیت سے اپنی قوم سے کہا کہ :۔ (1) اللہ کی عبادت کرو۔ (2) اور اس سے ڈرو۔ اتقوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ اتقاء (افتعال) مصدر سے۔ تم ڈرو۔ تم پرہیزگاری اختیار کرو) ۔ (3) اور میری اطاعت کرو۔ یعنی میں جو توحید اور طاعت الٰہی کی بابت تمہیں حکم دے رہا ہوں اس کو مانو۔ اطیعون امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اطاعۃ (افعال) مصدر سے ن وقایہ ہے اور ی ضمیر واحد متکلم محذوف ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–28

لغات القرآن۔ لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔ تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔ فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–4

نوح (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا ان سے کہا کہ جاؤ اور اپنی قوم کو ڈراؤ دھمکاؤ، خدا کے غصہ اور عذاب کی خبرسناؤ، قبل ازاں کہ انکو عذاب الیم دردرساں پہنچے، جب حضرت نوح ان کے پاس آئے تو کہا، اے قوم، میں تم کو خدا کے غصہ سے بچانے کے لیے آیا ہوں اس کا قاصد ہوں اس کا پیغام دے کر ڈراتا ہوں ، صاف صاف تمہارے محاورے میں تم کو سمجھاتا ہوں ، یہ حکم دیتا ہوں کہ خدا کی عبادت کرو توحید مانو اس سے ڈرو، کفر وشرک سے منہ پھیرو، میری اطاعت کرو میرا حکم ، میری وصیت مانو، اگر تم قبول کروگے خدا تمہاری حالت کفر کی توحید توبہ کی برکت سے بخش دے گا اور تم کو ایک وقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–4

[1] یعنی موت تو ہر حال میں آ کر رہے گی، ایمان میں بھی اور کفر میں بھی۔ لیکن دونوں حالتوں میں اتنا فرق ہے کہ حا لت کفر میں علاوہ عذاب آخرت کے دنیا میں بھی عذاب ہوگا اور حالت ایمان میں دنیا و آخرت دونوں عذابوں سے محفوظ رہو گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–6

سورة نوح 2: حضرت نوح ایک بڑے جلیل القدر پیغمبر ہیں ۔ اس سورة میں ان کی تبلیغ و اشاعت کے حالات تفصیل کے ساتھ بیان فرمائے ہیں ۔ کہ وہ جب تشریف لائے ۔ تو کیونکر انہوں نے حق وصداقت کی تلقین کی ۔ اور کس حد تک مخالفین کی تکلیفوں کو برداشت کیا ۔ حل لغات :۔ اجل مسمی ۔ مقررہ وقت ۔ موت ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(3) تم سے کہتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرتے رہو اور میرا کہا مانو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر قرآن میں کئی جگہ آچکا ہے یہ بہت پرانے پیغمبر ہیں۔ کہتے ہیں کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) کے بعداللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کی آبادی کے لئے ان کو رسول بنا کر بھیجا تھا چناچہ انہوں نے تمام بنی نوح انسان کو سمجھانا شروع کیا اللہ کی عبادت اور اپنی اطاعت کا حکم دیا اور توحید و رسالت پر جو ثمرات مرتب ہونے والے ہیں ان سے بھی ان کو آگاہ کیا چناچہ فرمایا اللہ کی عبادت اور تقویٰ اور میری اطاعت اگر تم نے اختیار کی تو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 1۔ سورة سابقہ میں موجبات عقوبت کا بیان تھا ان میں سے ایک رسول کی تکذیب ہے، اس سورت میں بضمن قصہ نوح (علیہ السلام) اس کا بیان ہے، و نیز عقوبت اخرویہ مذکورہ سورت سابقہ کے ساتھ اس سورت میں کفر پر استحقاق عقوبت دنیویہ کا بھی اثبات ہے، نیز حضور ﷺ کا اس میں تسلیہ بھی ہے کہ قوم نوح نے بھی تکذیب کی تھی۔ 2۔ یعنی ان سے کہو کہ اگر ایمان نہ لاوگے تو تم پر عذاب الیم آوے گا خواہ دنیوی یعنی طوفان، یا اخری یعنی دوزخ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہا مانو 3 ؎ سیدنا نوح (علیہ السلام) نے اپنی دعوت تبلیغ کے تین بنیادی اصول قوم کے سامنے پیش کئے ، فرمایا : (1) کفر و شرک چھوڑ دو ، اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کرو یہی وہ نسخہ ہے جس سے تمہارے عقائد درست ہوجائیں گے۔ توہمات اور وسوسوں سے تمہاری عقلیں آزاد ہوجائیں گی اور جب نور توحید چمکے گا تو تمہارا سینہ وادی ، ایمن بن جائے گا اور ہدایت کے قبول کرنے کی صلاحیت تم میں پیدا ہوجائے گی۔ (2) میری دعوت کا دوسرا اصول یہ ہے کہ تم تقویٰ کو اپنا شعار بنا لو جب تم متقی اور پارسا بن جائو گے تو فسق و فجور کی عفونتوں سے تمہارا دامن پاک ہوجائے گا اور اس طرح ظلم و…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

2 The three things which the Prophet Noah presented before his people at the outset of his mission of Prophethood were: (1) Worship of Allah, (2) adoption of piety (tagwa) and (3) obedience of the Messenger. Worship of AIIah meant that they should give up worship and service of all others and should acknowledge Allah alone as their Deity and should worship and carry out His commands alone. Taqwa (piety) meant that they should refrain from alI those works which caused Allah's anger and displeasure, and should instead adopt such attitude in their lives as the God fearing people should adopt. As…

Read the full tafseer →