Nooh 71:2

Nooh · from ayah 2

71:2

قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ ۟ۙقَالَ يٰقَوۡمِ اِنِّىۡ لَـكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌۙ

انہوں نے کہا کہ اے قوم! میں تم کو کھلے طور پر نصیحت کرتا ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "O my people, indeed I am to you a clear warner,

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Nooh

All translations of 71:2

ا س نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، میں تمہارے لیے ایک صاف صاف خبردار کردینے والا (پیغمبر) ہوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

انہوں نے کہا کہ اے قوم! میں تم کو کھلے طور پر نصیحت کرتا ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

(نوح علیہ السلام نے) کہا اے میری قوم! میں تمہیں صاف صاف ڈرانے واﻻ ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(چنانچہ) انہوں نے (اپنی قوم سے) کہا کہ : اے میری قوم ! میں تمہارے لیے ایک صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس نے فرمایا اے میری قوم! میں تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اُنہوں نے کہا: اے میری قوم! بے شک میں تمہیں واضح ڈر سنانے والا ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا اے میری قوم ! بلاشبہ میں تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

انہوں نے کہا : اے میری قوم ! بلاشبہ میں تمہارے لیے صاف طور پر ڈرانے والا ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے پکارا کہ اے نبی قوم کے لوگو ! میں تمہارے لیے ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

چناچہ انہوں نے (پوری صراحت و وضاحت سے اور درد بھرے انداز میں ان سے) کہا اے میری قوم کے لوگوں بلاشبہ میں تمہارے لئے خبردار کرنے والا ہوں کھول کر (حق اور حقیقت کو)

— مولانا اسحاق مدنی

انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم میں تمہارے لئے صاف صاف ڈرانے والا ہوں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ ؑ نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! میں تمہارے لیے واضح طور پر ایک خبردار کرنے والا ہوں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

انہوں نے کہا کہ بھائیو ! میں تمہیں کھلے طور پر نصیحت کرتا ہوں

— محترمہ رفعت اعجاز

Noah said: “My people, I have certainly been sent as a clear warner to you,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :O my people, I openly warn you

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :O my people, I openly warn you

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "O my people! Verily, I am a plain warner to you,"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: O my people! Lo! I am a plain warner unto you

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "O my people, indeed I am to you a clear warner,

— Saheeh International

Noah said, "My people, I am warning you plainly.

— Muhammad Sarwar

He said: O my people! Surely I am a plain warner to you:

— Muhammad Habib Shakir

He said: O my people! verily I am Unto you a warner manifest.

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "O my People! I am to you a Warner, clear and open:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 71:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–4

عذاب سے پہلے نوح ؑ کا قوم سے خطاب اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے حضرت نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف اپنا رسول ﷺ بنا کر بھیجا اور حکم دیا کہ عذاب کے آنے سے پہلے اپنی قوم کو ہوشیار کردو اگر وہ توبہ کرلیں گے اور اللہ کی طرف جھکنے لگیں گے تو اللہ کا عذاب ان سے اٹھ جائے گا، حضرت نوح ؑ نے اللہ کا پیغام اپنی امت کو پہنچا دیا اور صاف کہہ دیا کہ دیکھو میں کھلے لفظوں میں تمہیں آگاہ کئے دیتا ہوں، میں صاف صاف کہہ رہا ہوں کہ اللہ کی عبادت اس کا ڈر اور میری اطاعت لازمی چیزیں ہیں جو کام رب نے تم پر حرام کئے ہیں ان سے بچو گناہ کے کاموں سے الگ تھلگ رہو جو میں کہوں بجا لاؤ جس سے روکوں رک جاؤ میری رسالت کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–2

سورة نُوْح 1 یعنی ان کو اس بات سے آگاہ کر دے کہ جن گمراہیوں اور اخلاقی خرابیوں میں وہ مبتلا ہیں وہ ان کو خدا کے عذاب کا مستحق بنادیں گی اگر وہ ان سے باز نہ آئے، اور ان کو بتادے کہ اس عذاب سے بچنے کے لیے انہیں کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–3

خلاصہ تفسیر ہم نے نوح ؑ کو ان کی قوم کے پاس (پیغمبر بنا کر) بھیجا تھا کہ تم اپنی قوم کو (وبال کفر سے) ڈراؤ قبل اس کے کہ ان پر درد ناک عذاب آوے (یعنی ان سے کہو کہ اگر ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر عذاب الیم آوے گا، خواہ نیوی یعنی طوفان یا اخروی یعنی دوزخ غرض) انہوں نے (اپنی قوم سے) کہا کہ اے میری قوم میں تمہاری لئے صاف صاف ڈرانے والا ہوں (اور کہتا ہوں) کہ تم اللہ کی عبادت (یعنی توحید اختیار) کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہنا مانو وہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا (من ذنوبکم کی تحقیق سورة احقاف میں گزر چکی) اور تم کو وقت مقرر (یعنیوقت موت) تک (بلاعقوبت) مہلت دے گا (یعنی ایمان نہ لانے پر جس عذاب کا مرنے سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

حضرت نوح علیہ السلام کا انذار: ’نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ‘ کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے۔؂۱ حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنی قوم کو آگاہ کیا کہ جس طرح ایک نذیر عریاں اپنی قوم کو حملہ آور دشمن سے آگاہ کرتا ہے اسی طرح میں تمہارے لیے ایک نذیر مبین ہوں اور اللہ نے مجھے تمہاری طرف اس لیے بھیجا ہے کہ میں تمہیں اس عذاب سے ہوشیار کر دوں جو تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ ؂۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن، جلد سوم، صفحہ ۳۸۶؛ تدبر قرآن جلد چہارم، صفحہ ۴۰۴۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2۔ 1 اللہ کے عذاب سے اگر تم ایمان نہ لائے اسی لیے عذاب سے نجات کا نسخہ تمہیں بتلانے آیا ہوں جو آگے بیان ہو رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–3

1: اس سورت میں صرف حضرت نوح ؑ کی تبلیغی جدوجہد اور ان کی دعاؤں کا تذکرہ فرمایا گیا ہے، آپ کا مفصل واقعہ سورة یونس (10: 17) اور سورة ہود (11: 36) میں گزرچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قال یقوم .................................... تعلمون (4) (17 : 2 تا 4) ” اس نے کہا : ” اے میری قوم کے لوگو ! میں تمہارے لئے ایک صاف صاف خبردار کردینے والا (پیغمبر) ہوں۔ (تم کو آگاہ کرتا ہوں) کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں ایک وقت مقرر تک باقی رکھے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آجاتا ہے تو پھر ٹالا نہیں جاتا ، کاش تمہیں اس کا علم ہو “۔ قال یقوم ............................ مبین (17 : 2) ” اے میری قوم کے لوگو ، میں تمہارے لئے صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں “۔ آپ اپنی دعوت میں جس بات کی وضاحت کرتے ہیں وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 2–4

10 یعنی اللہ سے ڈر کر کفر و معصیت چھوڑو اور طاعت و عبادت کا راستہ اختیار کرو۔ 11 یعنی ایمان لے آؤ گے تو اس سے پہلے اللہ کے جو حقوق تلف کیے ہیں وہ معاف کر دے گا، اور کفر و شرارت پر جو عذاب آنا مقدر ہے ایمان لانے کی صورت میں وہ نہ آئے گا۔ بلکہ ڈھیل دی جائے گی کہ عمر طبعی تک زندہ رہو۔ حتی کہ جانداروں کی موت وحیات کے عام قانون کے موافق اپنے مقرر وقت پر موت آئے۔ کیونکہ اس سے تو بہرحال کسی نیک و بد کو چارہ نہیں۔ 1 یعنی ایمان نہ لانے کی صورت میں عذاب کا جو وعدہ ہے اگر وہ سر پر آکھڑا ہوا تو کسی کے ٹالے نہیں ٹلے گا نہ ایک منٹ کی ڈھیل دی جائے گی۔ یا یہ مطلب ہو کہ موت کا وقت معین پر آنا ضروری ہے اس میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

آیت 3{ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاتَّـقُوْہُ وَاَطِیْعُوْنِ۔ } ”کہ تم لوگ اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔“ یہاں نبی علیہ السلام اور رسول علیہ السلام میں فرق کے حوالے سے یہ نکتہ نوٹ کر لیجیے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے اپنی اطاعت کا مطالبہ اللہ کے ”رسول“ کی حیثیت سے کیا تھا۔ کسی نبی علیہ السلام نے اپنی قوم سے کبھی یہ نہیں کہا کہ تم لوگ میری اطاعت کرو۔ سورة یوسف علیہ السلام میں ہم حضرت یوسف علیہ السلام کے تفصیلی حالات پڑھ چکے ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نبی تھے۔ آپ علیہ السلام نے مصر کے بادشاہ کو یہ نہیں کہا کہ میں نبی ہوں ‘ تم میری اطاعت کرو ‘ اور نہ ہی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–2

1 سیدنا نوح (علیہ السلام) کا ذکر :۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) کا ذکر قرآن میں پہلے بہت سے مقامات پر گزر چکا ہے۔ یہ سورت پوری کی پوری آپ کے ذکر پر مشتمل ہے۔ اس سورت میں آپ کی زندگی کے پورے واقعات مذکور نہیں ہیں۔ بلکہ اس کا اکثر حصہ سیدنا نوح کی اپنے پروردگار سے فریاد اور دعاؤں پر مشتمل ہے۔ آپ کی شبانہ روز کی تبلیغ اور پورے ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کے نتیجہ میں قوم نے آپ کی تبلیغ سے جیسا اثر قبول کیا، اسی کا شکوہ سیدنا نوح اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرکے بیان فرماتے ہیں۔ آپ کا مرکز تبلیغ عراق میں دجلہ و فرات کا درمیانی علاقہ تھا۔ سیدنا آدم اور سیدنا نوح کے درمیان پانچ ہزار سال کا طویل عرصہ حائل ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 2–4

2۔ یعنی یہ حقائق جو میں بیان کررہا ہوں کاش تم پر بھی روشن ہوگئے ہوتے ! (آیت) ” ان اعبدوا اللہ “۔ یعنی پر ستش صرف حق تعالیٰ کی کرو۔ اپنے سارے جھوٹے معبودوں، ٹھاکروں، مورتیوں کو ٹھکرا کر۔ (آیت) ” واتقوہ “۔ یعنی خوف اپنے دلوں میں اس خدائے واحد کا جماؤ نہ کہ اپنے گڑھے ہوئے معبودوں کا۔ (آیت) ” واطیعون “۔ پیغمبر کی اطاعت میں اطاعت الہی بھی ہوتی ہے۔ (آیت) ” یغفر ..... یؤخر یعنی موت طبعی جو کفر وعدم ایمان کا ثمرہ نہیں، وہ تو بہرحال اپنے وقت موعود ومقرر پر آکر رہے گی، البتہ عذاب جو ثمرہ ہے کفر کا اس سے تم ایمان لا کر محفوظ ہوجاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–2

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، یقینا ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرائو قبل اس کے کہ ان پر دنیا و آخرت میں دردناک عذاب آئے اگر وہ ایمان نہ لائے، نوح (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم ! میں تمہیں صاف صاف ڈرانے والا ہوں بایں طور کہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اللہ کی بندگی کرو اور اسی سے ڈرو اور میری بات مانو وہ تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا من زائدہ ہے بلاشبہ اسلام کے ذریعہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں یا من تبعیضیہ ہے حقوق العباد کو خارج کرنے کے لئے اور تم کو بلا عذاب مہلت دے گا موت کے مقررہ وقت تک یقینا تم پر اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال یقوم انی لکم نذیر مبین . میں کھول کر بیان کرنے والا نذیر ہوں یعنی تم کو ڈراتا ہوں اور کھول کر بیان کرتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 2–3

(2۔ 3) انہوں نے کہا کہ اے میری قوم میں صاف صاف ڈرانے والا رسول ہوں، توحید خداوندی کے قائل ہوجاؤ اور اللہ سے ڈرو کفر و شرک سے توبہ کرو میرے حکم و دین اور وصیت کی پیروی کرو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 2–3

قال یقوم انی لکم نذیر مبین…: نوح ؑ نے اپنی قوم کو تین باتوں کا حکم دیا، پہلی یہ کہ بت پرستی اور ہر قسم کا شرک چھوڑ کر اکیلے اللہ کی عبادت کرو۔ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو، یعنی ہر کام کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھو۔ اس کے بھیجے ہوئے احکام کی پابندی کرو۔ تیسری بات یہ کہ میرا حکم مانو، کیونکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اللہ کی عبادت بھی وہی قبول ہے جو میرے بتائے ہوئے طریقے پر ہوگی۔ تینوں کا خلاصہ توحید، شریعت الٰہی کی پابندی اور اطاعت رسول ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 2–3

قال یقوم انی لکم نذیر یعنی میں تمہیں ڈرانے والا ہوں۔ مبین۔ میں تمہارے سامنے تمہاری اس زبان میں اظہار کرنے والا ہوں جسے تم پہچانتے ہو۔ ان اعبدواللہ واتقوہ ان مفسرہ ہے جس طرح ان انذر میں گزر چکا ہے۔ اعبدوا اس کی وحدانیت کا اظہار کرو۔ واتقوہ تم ڈرو۔ واطیعون۔ جس چیز کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں اس میں میری اطاعت کرو۔ میں تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ یغفرلکم من ذنوبکم جواب ام رکی وجہ سے یغفر کو جزم دی گئی ہ۔ من زائد ہے۔ کلام کا معنی ہے وہ تمہارے لئے تمہارے گناہ بخش دے، یہ سدی کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا زائدہ ہونا صحیح نہیں کیونکہ من کا واجب میں اضافہ نہیں کیا جاتا (2) ۔ یہ یہاں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–2

1۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ یہ سورة انا ارسلنا نوحا مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ الحاکم نے ابن عباس ؓ سے رسول اللہ ﷺ تک مرفوع حدیث بیان کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نوح کو اور اس کی قوم کو قیامت کے دن لوگوں میں سب سے پہلے بلائیں گے۔ اور ان سے فرمائیں گے تم نے نوح (علیہ السلام) کو کیا جواب دیا تھا ؟ تو وہ کہیں گے کہ اس نے ہم کو نہ دعوت دی اور نہ ہم کو آپ کا پیغام پہنچایا اور ہم کو نصیحت کی، نہ ہم کو حکم دیا، اور نہ ہم کو برے کاموں سے روکا۔ اس کے جواب میں نوح (علیہ السلام) کہیں گے۔ اے میرے رب ! میں نے ان کو ایسی دعوت دی تھی جو اولین وآخرین میں پھیلی ہوئی ہے۔ ایک امت کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ يٰقَوْمِ : انھوں نے کہا اے میری قوم ] [اِنِّىْ لَكُمْ : بیشک میں تمہارے لیے ] [نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ: ایک واضح خبردار کرنے والا ہوں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–20

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے خطاب، نعمتوں کی تذکیر، توحید کی دعوت، قوم کا انحراف اور باغیانہ روش یہاں سے سورة ٴ نوح شروع ہو رہی ہے اور بھی کئی سورتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا اور ان کی قوم کی نافرمانی کا اور قوم کے انجام کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے تقریباً ایک ہزار سال کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی وہ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے ان لوگوں میں بت پرستی پھیل گئی تھی۔ بت بنا لیتے تھے اور ان کے نام بھی تجویز کرلیتے تھے جو اس سورت کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں، حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں طرح طرح سے سمجھایا توحید کی اور اللہ وحدہ لاشریک لہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–20

و توحید خالق ارض وسماء : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انآ ارسلنا نوحا الی قومہ ........ الی ......... سبلا فجاجا “۔ (ربط) اس سے قبل سورة معارج میں قیامت اور قیامت کے احوال شدیدہ کا ذکر تھا اور یہ کہ اس روز مجرمین اور نافرمانوں کی پریشانی اور بدحالی انسان کے تصور سے بھی بڑھ کر ہوگی تو اب اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر ہے جن کو حق تعالیٰ نے عالم میں سب سے پہلا وہ رسول بنا کر بھیجا جو شرک وبت پرستی کا رد کرنے والے تھے انکی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ قوم کی یہ کس قدر بدنصیبی تھی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرایا اور بڑی ہی گستاخی کے ساتھ شرک وبت پرستی پر ڈٹے رہے ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–3

2:۔ ” انا ارسلنا “ دلیل نقلی تفصیلی از نوح علیہ السلام۔ ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا تاکہ وہ اپنی قوم کو سمجھائیں کہ دردناک عذاب کے آنے سے پہلے ہی دعوت توحید کو مان لو۔ ” قال یقوم “ چناچہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ میں تم کو واضح اور کھلے لفظوں میں خبردار کرنے آیا ہوں کہ ” اعبدو اللہ واتقوہ “ تم صرف اللہ کی عبات کرو۔ صرف اسی کو برکات دہندہ سمجھو اور حاجات و مصائب میں صرف اسی کو پکارو۔ اس کے عذاب سے ڈرو اور میری اطاعت کرو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو مسئلہ سمجھایا مگر انہوں نے نہ مانا آخر ہلاک کردئیے گئے۔ اے اہل مکہ، آؤ مسئلہ مان لو ورنہ تم پر بھی خدا کا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

کوائف اور مضامین : اس سے پہلی سورة معراج تھی جس میں زیادہ تر قیامت کا ذکر تھا ، تاہم ضمناََ توحید و رسالت کا بیان بھی تھا۔ اس سورة کا نام حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس دعوت الیٰ الحق اور دعوت توحید کا ذکر فرمایا ہے جو انہوں نے اپنی قوم کو دی اس دعوت کے مختلف طریقے اور اس کاروائی کا بیان ہے جو نوح (علیہ السلام) نے اس سلسلہ میں سرانجام دی گویا دعوت الی الحق کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو بطور نمونہ پیش کیا ہے۔ سابقہ سورة سے ربط۔ گزشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو صبر جمیل کی نصیت فرمائی۔ کفار و مشرکین آپ کی طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتے تھے۔ ٹھٹا اور تمسخر کرتے تھے۔ آپ کے گرد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ يٰقَوْمِ اِنِّىْ لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ۝ 2 ۙ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ النذیر والنَّذِيرُ : المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2] ( ن ذ ر ) النذیر النذیر کے معنی منذر یعنی ڈرانے والا ہیں ۔ اور اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں خوف پایا جائے خواہ وہ انسان ہو یا کوئی اور چیز چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 2–7

ترکیب : ان انذر ان معنی ای ویجوزان یکون مصدریۃ ‘ من قبل متعلق بانذر قال یا قوم قوم بکسرالمیم اصلہ قومی حذفت الیاء والکسرۃ دلیل علیھا والجملۃ مستانفۃ ان اعبدواللہ ان تفسیریۃ لنذیرا وھی مصدریۃ یغفر مجذوم علی انہ جواب الاوامرا لثلاثۃ و من للتبعیض وقال الاخفش زائدۃ ویؤخر معطوف علے یغفر لیلا ونہارا ظرفان لدعوت الافرارا الاستثناء مفرغ۔ لتغفر واللام للسییۃ جعلوا جواب کلہا۔ تفسیر : یہ سورة مبارکہ بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی۔ قریش کی سرکشی اور اخیر نبی (علیہ السلام) کی ہدایتوں پر تمسخر اور وعدوں کی تکذیب اور تکبر حد کو پہنچ گیا تھا۔ اس لیے ان لوگوں کی مثل سرکش اور نافرمان قوم کا عبرتناک واقعہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 2–4

قَالَ یٰـقَوْمِ اِنِّیْ لَـکُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ۔ اَنِ اعْبُدُوْا اللّٰہَ وَاتَّـقُوْہُ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ یَغْفِرْلَـکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ وَیُؤَخِّرْکُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّے ط اِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ اِذَا جَـآئَ لاَ یُؤَخَّرُ م لَوْکُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ (نوح : 2 تا 4) (انھوں نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں تمہارے لیے ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں ایک وقت مقرر تک مہلت دے گا، بیشک اللہ کی مقرر کی ہوئی مدت جب آجائے گی تو وہ ٹالے نہیں ٹلے گی، کاش تم اس کو سمجھو۔ ) حضرت نوح…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–2

فہم القرآن ربط سورت : سورة المعارج کے آخر میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو برے لوگوں کو ختم کر کے نیک لوگ لے آئے۔ سورة نوح میں اس کا عملی ثبوت دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کو کس طرح ہلاک کیا اور نیک لوگوں کو آباد فرمایا اور انہیں ترقی دی۔ اس لیے المعارج کے بعد سورة نوح کو رکھا گیا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا نسب نامہ اس طرح ہے نوح (علیہ السلام) بن لامک بن متوشلخ بن خنوخ ( ادریس (علیہ السلام) بن یرد بن مھلا ییل بن قینن بن انوش بن شیث بن آدم (علیہ السلام) ۔ حضرت ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اللہ کے رسول ﷺ سے عرض کی کہ آدم (علیہ السلام) نبی تھے ؟ آپ نے فرمایا ہاں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نوح ( علیہ السلام) کا قوم کو خطاب : 2 : قَالَ یٰقَوْمِ (انہوں نے کہا اے میری قوم) اظہار شفقت کیلئے ان کو اپنی قوم کہہ کر پکارا۔ اِنِّیْ لَکُمْ نَذِیْرٌ (میں تمہارے لئے ڈرانے والا ہوں) نذیر بمعنی مخوف ہے مُّبِیْنٌ (صاف صاف) میں اللہ تعالیٰ کے پیغامات کو تمہاری جانی پہچانی زبان میں بیان کرتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

1 ۔” انا ارسلنا نوحا الی قومہ ان انذر قومک “…” بان انذر قومک من قبل ان یاتیھم عذاب الیم “ معنی بیشک ہم نے ان کو بھیجا تاکہ وہ ان کو عذاب سے ڈرائیں اگر وہ ایمان نہ لائیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

1۔ 4۔ یہ اوپر گزر چکا ہے کہ چالیس برس کی عمر میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو نبوت ہوئی اور طوفان سے پہلے ساڑھے نو سو برس تک وہ اپنی قوم کو نصیحت کرتے رہے اور ساٹھ برس طوفان کے بعد زندہ رہے اس حساب سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر ایک ہزار پچاس برس کے قریب ہوئی۔ یہ بھی گزر چکا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح کی قوم کے ابتدائی زمانہ تک لوگ دنیا میں بت پرستی نہیں کرتے تھے۔ شیطان کے بہکانے سے پہلے پہل اس قوم نے دنیا میں بت پرستی جس طرح شروع کی اس کا ذکر آگے آتا ہے اس شرک کے مٹانے کے لئے حضرت نوح (علیہ السلام) کی اطاعت اور فرمانبرداری فرض تھی۔ اسی واسطے حضرت نوح (علیہ السلام) کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–2

اللہ تبارک وتعالی نے اس سورة مبارکہ میں حضرت نوح کے اپنی قوم کے اندر، ایک طویل زمانے تک رہنے، ان کو بار بار دعوت توحید دینے اور شرک سے روکنے کی بنا پر ان کا الگ قصہ بیان کیا اللہ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت نوح کو قوم پر رحم کرتے ہوئے انکو دردناک عذاب سے متنبہ کرتے ہوئے اور ان کو اپنے کفر پر جمے رہنے سے ڈراتے ہوئے حضرت نوح کو ان کی طرف مبعوث فرمایا، مبادا اللہ تعالیٰ ان کو ابدی ہلاکت اور سرمدی عذاب میں مبتلا کردے۔ حضرت نوح نے سرتسلیم خم کردیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کے لیے آگے بڑھے اور فرمایا یقوم انی لکم نذیر مبین) یعنی میں انداز اور تنبیہ کو واضح کرکے کھول کھول کر بیان کرتا ہوں۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–2

1 ۔ اللہ تعالیٰ کی ایک سنت اور دستور کا ذکر وبیان : سو حضرت نوح (علیہ السلام) سے ارشاد فرمایا گیا کہ خبردار کرو اپنی قوم کو قبل سے اسے کہ آپہنچے ان کو ایک دردناک عذاب، جس کے یہ لوگ اپنے کفر و انکار اور تکذیب و استکبار کی بناء پر مستحق ہوچکے ہیں۔ خواہ وہ دنیا میں ان پر آئے طوفان و تباہی وغیرہ کی شکل میں یا آخرت میں آئے جہنم و جحیم کی صورت میں (بیان القرآن، وغیرہ) والعیاذ باللہ۔ سو یہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کے قانون و دستور کا بیان ہے کہ جب کسی قوم کا اخلاقی فساد و بگاڑ اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ عذاب کی مستحق قرار پاجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ عذاب بھیجنے سے پہلے ان کے اندر اپنا رسول بھیج کر ان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–14

سیدنانوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مقصد تشریح :۔ جیسا کہ کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے کہ سیدناآدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی اکرم ﷺ تک جتنے بھی نبی انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے سب نے توحید ہی کی تعلیم دی کیونکہ توحید ہی ایسا عقیدہ ہے جو انسان کو ہر قسم کے شر و فساد اور شیطان کے قبضہ سے نکال کر امن و سکون اور اللہ کی راہ دکھاتا ہے۔ معمول کے مطابق توحید کی تعلیمات آہستہ آہستہ مٹتی گئیں اور بت پرستی بڑھتی گئی تب اللہ تعالیٰ نے سیدنانوح (علیہ السلام) کو ہدایت دینے کے لیے نبی بنا کر انکی قوم کی طرف بھیجا۔ سیدنانوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تین باتوں کی تعلیم دی۔ پہلی اللہ کی بندگی دوسری تقویٰ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–20

سورة نوح۔ آیات 1 تا 20۔ اسرارومعارف۔ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا کہ ان کا کردار ایسا مسخ ہوچکا تھا کہ عذاب الٰہی واقع ہونے کا خطرہ تھا لہذا نوح (علیہ السلام) انہیں بروقت باخبر کرنے کے لیے تشریف لائے کہ اللہ کے دردناک عذاب سے بچنے کا طریقہ سکھائیں لہذا انہوں نے اپنی بعثت کا اعلان فرمایا کہ اللہ نے مجھے تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے اور تم اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اور اس کی نافرمانی سے باز رہو۔ نبی کا لایا ہوا نظام۔ اس کی اطاعت یہ ہے کہ جو میں کہتا ہوں وہ کرو یعنی اپنی زندگی میں میرا دیا ہوا نظام رائج کرو تو تم سے جو گناہ ہوچکے ہیں اللہ اپنی رحمت سے معاف فرمائیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 2–3

ف 5 ” اور اسی کے بندے بن کر رہو۔ “ ” عبادت “ کے لفظ میں پوجا اور بندگی دونوں کا مفہوم شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(71:2) قال یقوم انی لکم نذیر مبین : قال یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) نے خدا وند تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں اپنی قوم سے مخاطب ہوکر کہا۔ لکم میں لام تقویت کے لئے ہے یا تعلیل کے لئے ۔ ای لاجل نفعکم (تمہارے فائدہ کے لئے) یقوم اصل میں قومی تھا۔ ی کو حذف کیا گیا ہے نذیر مبین موصوف اور صفت۔ صاف صاف کھول کھول کر ڈر سنانے والا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–28

لغات القرآن۔ لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔ تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔ فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–4

نوح (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا ان سے کہا کہ جاؤ اور اپنی قوم کو ڈراؤ دھمکاؤ، خدا کے غصہ اور عذاب کی خبرسناؤ، قبل ازاں کہ انکو عذاب الیم دردرساں پہنچے، جب حضرت نوح ان کے پاس آئے تو کہا، اے قوم، میں تم کو خدا کے غصہ سے بچانے کے لیے آیا ہوں اس کا قاصد ہوں اس کا پیغام دے کر ڈراتا ہوں ، صاف صاف تمہارے محاورے میں تم کو سمجھاتا ہوں ، یہ حکم دیتا ہوں کہ خدا کی عبادت کرو توحید مانو اس سے ڈرو، کفر وشرک سے منہ پھیرو، میری اطاعت کرو میرا حکم ، میری وصیت مانو، اگر تم قبول کروگے خدا تمہاری حالت کفر کی توحید توبہ کی برکت سے بخش دے گا اور تم کو ایک وقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–4

[1] یعنی موت تو ہر حال میں آ کر رہے گی، ایمان میں بھی اور کفر میں بھی۔ لیکن دونوں حالتوں میں اتنا فرق ہے کہ حا لت کفر میں علاوہ عذاب آخرت کے دنیا میں بھی عذاب ہوگا اور حالت ایمان میں دنیا و آخرت دونوں عذابوں سے محفوظ رہو گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–6

سورة نوح 2: حضرت نوح ایک بڑے جلیل القدر پیغمبر ہیں ۔ اس سورة میں ان کی تبلیغ و اشاعت کے حالات تفصیل کے ساتھ بیان فرمائے ہیں ۔ کہ وہ جب تشریف لائے ۔ تو کیونکر انہوں نے حق وصداقت کی تلقین کی ۔ اور کس حد تک مخالفین کی تکلیفوں کو برداشت کیا ۔ حل لغات :۔ اجل مسمی ۔ مقررہ وقت ۔ موت ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو خطاب کرتے ہئے فرمایا اے میری قوم میں تم سب کے لئے واضح اور صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 1۔ سورة سابقہ میں موجبات عقوبت کا بیان تھا ان میں سے ایک رسول کی تکذیب ہے، اس سورت میں بضمن قصہ نوح (علیہ السلام) اس کا بیان ہے، و نیز عقوبت اخرویہ مذکورہ سورت سابقہ کے ساتھ اس سورت میں کفر پر استحقاق عقوبت دنیویہ کا بھی اثبات ہے، نیز حضور ﷺ کا اس میں تسلیہ بھی ہے کہ قوم نوح نے بھی تکذیب کی تھی۔ 2۔ یعنی ان سے کہو کہ اگر ایمان نہ لاوگے تو تم پر عذاب الیم آوے گا خواہ دنیوی یعنی طوفان، یا اخری یعنی دوزخ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نوح (علیہ السلام) نے قوم کو کہا کہ میں تمہارے لئے واضح طور پر نصیحت کرنے والا ہوں 2 ؎ نوح (علیہ السلام) نے قوم کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں تم کو عام فہم الفاظ میں اور واضح انداز میں ڈرانے والا بن کر آیا ہوں اور تم کو نصیحت کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو ، توبہ کرو اور اپنے کرتوتوں سے باز آ جائو کہ بس میرا کام تنذیر ہے اور میں تم کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرا رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب عذاب کا اعلان جاری ہوتا ہے تو وہ کسی کے روکے بھی نہیں رکتا بلکہ اس قوم کو تہس نہس کر کے رکھ دیا جائے گا جو اس کے احکام کی نافرمانی کرے گی۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

1 "Warm your people ... ": Warn them that the errors and moral evils that they were involved in, would only earn them Allah's punishment, if they did not desist from them, and tell them what way they should adopt in order to ward off that punishment.

Read the full tafseer →