Explained with ayahs 1–4
عذاب سے پہلے نوح ؑ کا قوم سے خطاب
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے حضرت نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف اپنا رسول ﷺ بنا کر بھیجا اور حکم دیا کہ عذاب کے آنے سے پہلے اپنی قوم کو ہوشیار کردو اگر وہ توبہ کرلیں گے اور اللہ کی طرف جھکنے لگیں گے تو اللہ کا عذاب ان سے اٹھ جائے گا، حضرت نوح ؑ نے اللہ کا پیغام اپنی امت کو پہنچا دیا اور صاف کہہ دیا کہ دیکھو میں کھلے لفظوں میں تمہیں آگاہ کئے دیتا ہوں، میں صاف صاف کہہ رہا ہوں کہ اللہ کی عبادت اس کا ڈر اور میری اطاعت لازمی چیزیں ہیں جو کام رب نے تم پر حرام کئے ہیں ان سے بچو گناہ کے کاموں سے الگ تھلگ رہو جو میں کہوں بجا لاؤ جس سے روکوں رک جاؤ میری رسالت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة نُوْح 1
یعنی ان کو اس بات سے آگاہ کر دے کہ جن گمراہیوں اور اخلاقی خرابیوں میں وہ مبتلا ہیں وہ ان کو خدا کے عذاب کا مستحق بنادیں گی اگر وہ ان سے باز نہ آئے، اور ان کو بتادے کہ اس عذاب سے بچنے کے لیے انہیں کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
خلاصہ تفسیر
ہم نے نوح ؑ کو ان کی قوم کے پاس (پیغمبر بنا کر) بھیجا تھا کہ تم اپنی قوم کو (وبال کفر سے) ڈراؤ قبل اس کے کہ ان پر درد ناک عذاب آوے (یعنی ان سے کہو کہ اگر ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر عذاب الیم آوے گا، خواہ نیوی یعنی طوفان یا اخروی یعنی دوزخ غرض) انہوں نے (اپنی قوم سے) کہا کہ اے میری قوم میں تمہاری لئے صاف صاف ڈرانے والا ہوں (اور کہتا ہوں) کہ تم اللہ کی عبادت (یعنی توحید اختیار) کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہنا مانو وہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا (من ذنوبکم کی تحقیق سورة احقاف میں گزر چکی) اور تم کو وقت مقرر (یعنیوقت موت) تک (بلاعقوبت) مہلت دے گا (یعنی ایمان نہ لانے پر جس عذاب کا مرنے سے…
Read the full tafseer →قوموں کے معاملہ میں سنت الٰہی:
یہ اس سنت الٰہی کا بیان ہے جس کی وضاحت قرآن مجید میں جگہ جگہ ہوئی ہے کہ جب کسی قوم کا اخلاقی فساد اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کن عذاب کی مستحق ہو گئی ہے تو عذاب بھیجنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر اپنا ایک رسول بھیج کر اس پر اپنی حجت تمام کر دی ہے تاکہ کسی کے پاس گمراہی میں پڑے رہنے کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ اسی سنت کے مطابق اس نے قوم نوح پر عذاب بھیجنے سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام کو رسول بنا کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اچھی طرح آگاہ کر دیں کہ اللہ کا عذاب آیا ہی چاہتا ہے۔ اس سے نجات مطلوب ہے تو لوگ اپنی گمراہی کی روش چھوڑ کر اس…
Read the full tafseer →1۔ 1 حضرت نوح ؑ جلیل القدر پیغمبروں میں سے ہیں، صحیح مسلم وغیرہ کی حدیث شفاعت میں ہے کہ یہ پہلے رسول ہیں، نیز کہا جاتا ہے کہ انہی کی قوم سے شرک کا آغاز ہوا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی قوم کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا۔
1۔ 2 قیامت کے دن عذاب یا دنیا میں عذاب آنے سے قبل، جیسے اس قوم پر طوفان آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1: اس سورت میں صرف حضرت نوح ؑ کی تبلیغی جدوجہد اور ان کی دعاؤں کا تذکرہ فرمایا گیا ہے، آپ کا مفصل واقعہ سورة یونس (10: 17) اور سورة ہود (11: 36) میں گزرچکا ہے۔
Read the full tafseer →انا ارسلنا ................................ کنتم تعلمون
سورت کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ رسالت اور نبوت کا سرچشمہ کیا ہے اور یہ نظریہ اور عقیدہ کہاں سے آرہا ہے۔
انا ارسلنا ............ قومہ (17 : 1) ” ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف بھیجا “۔ گویا سرچشمہ ہدایت و رسالت ذات باری تعالیٰ ہے۔ تمام انبیاء اپنے عقائد اور ہدایات اللہ سے لیتے ہیں ، اللہ انسانوں کا بھی خالق ہے۔ اس کائنات کا بھی خالق ہے اور اللہ ہی ہے جس نے افسانوں کی فطرت کے اندر معرفت رب کی استعداد رکھی ۔ اور جب بھی انسانوں نے راہ فطرت اور اللہ کی ہدایت سے منہ موڑا ، اللہ نے کوئی نہ کوئی رسول بھیج دیا۔ اور تمام رسول ہمیشہ گم…
Read the full tafseer →8 یعنی اس سے پہلے کہ کفر و شرارت کی بدولت دنیا میں طوفان کے اور آخرت میں دوزخ کے عذاب کا سامنا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
آیت 3{ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاتَّـقُوْہُ وَاَطِیْعُوْنِ۔ } ”کہ تم لوگ اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔“
یہاں نبی علیہ السلام اور رسول علیہ السلام میں فرق کے حوالے سے یہ نکتہ نوٹ کر لیجیے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے اپنی اطاعت کا مطالبہ اللہ کے ”رسول“ کی حیثیت سے کیا تھا۔ کسی نبی علیہ السلام نے اپنی قوم سے کبھی یہ نہیں کہا کہ تم لوگ میری اطاعت کرو۔ سورة یوسف علیہ السلام میں ہم حضرت یوسف علیہ السلام کے تفصیلی حالات پڑھ چکے ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نبی تھے۔ آپ علیہ السلام نے مصر کے بادشاہ کو یہ نہیں کہا کہ میں نبی ہوں ‘ تم میری اطاعت کرو ‘ اور نہ ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 سیدنا نوح (علیہ السلام) کا ذکر :۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) کا ذکر قرآن میں پہلے بہت سے مقامات پر گزر چکا ہے۔ یہ سورت پوری کی پوری آپ کے ذکر پر مشتمل ہے۔ اس سورت میں آپ کی زندگی کے پورے واقعات مذکور نہیں ہیں۔ بلکہ اس کا اکثر حصہ سیدنا نوح کی اپنے پروردگار سے فریاد اور دعاؤں پر مشتمل ہے۔ آپ کی شبانہ روز کی تبلیغ اور پورے ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کے نتیجہ میں قوم نے آپ کی تبلیغ سے جیسا اثر قبول کیا، اسی کا شکوہ سیدنا نوح اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرکے بیان فرماتے ہیں۔ آپ کا مرکز تبلیغ عراق میں دجلہ و فرات کا درمیانی علاقہ تھا۔ سیدنا آدم اور سیدنا نوح کے درمیان پانچ ہزار سال کا طویل عرصہ حائل ہے اور…
Read the full tafseer →1۔ (ان کے کفر و طغیان کی پاداش میں خواہ اسی دنیا میں خواہ آخرت میں) (آیت) ” انا ..... قومہ “۔ لوح اور قوم نوح پر مفصل حاشیے سورة ہود (پ 12) وغیرہ میں گزر چکے۔ انسانی نسل کا مستقل اور غیر منقطع سلسلہ آپ (علیہ السلام) ہی کے وقت سے چلا ہے۔ اور اس لئے آپ (علیہ السلام) کی شخصیت تاریخ انبیاء میں ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔ (آیت) ” ان انذر قومک “۔ یعنی کفر و طغیان کے وبال وپاداش سے ڈرائیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، یقینا ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرائو قبل اس کے کہ ان پر دنیا و آخرت میں دردناک عذاب آئے اگر وہ ایمان نہ لائے، نوح (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم ! میں تمہیں صاف صاف ڈرانے والا ہوں بایں طور کہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اللہ کی بندگی کرو اور اسی سے ڈرو اور میری بات مانو وہ تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا من زائدہ ہے بلاشبہ اسلام کے ذریعہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں یا من تبعیضیہ ہے حقوق العباد کو خارج کرنے کے لئے اور تم کو بلا عذاب مہلت دے گا موت کے مقررہ وقت تک یقینا تم پر اللہ…
Read the full tafseer →انا ارسلنا نوحا الی قومہ . آغاز کلام میں اِنَّ (تحقیقیہ) لانے سے واقعہ کی اہمیت کو ظاہر کرنا مقصود ہے۔
رسالت نوح کو صرف آپ کی قوم کے ساتھ مقید کرنا بتارہا ہے کہ آپ کی نبوت تمام آدمیوں کے لیے عمومی نہ تھی۔ حضرت جابر کی روایت کردہ حدیث بھی اس پر دلالت کر رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا فرمائی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں ہوئیں۔ ایک ماہ کی راہ کی مسافت سے میرا رعب (دشمنوں پر) ڈال کر میری مدد کی گئی (تمام) زمین کو میرے لیے مسجد اور طاہر قرار دیا گیا۔ اس لیے میری امت کے کسی آدمی کو روا ہے کہ جہاں نماز (کا وقت) آجائے وہیں پڑھ لے۔ میرے لیے مال غنیمت حلال کیا…
Read the full tafseer →ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ تم اپنی قوم کو ڈراؤ اس سے پہلے کہ ان پر پانی کا دردناک عذاب آجائے۔
Read the full tafseer →(انا ارسلنا نوحاً الی قومہ…: نوح ؑ کی قوم جس شرک اور بت پرستی میں گرفتار تھی اس کا لازمی نتیجہ دنیا اور آخرت میں عذاب الیم تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ آگاہ کرنے اور ڈرانے کے بغیر عذاب نہیں دیتا۔ (دیکھیے بنی اسرائیل : 15) سو اس عذاب الیم سے ڈرانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔
Read the full tafseer →سورة اعراف میں یہ بحث گزر چکی ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) فرد ہیں جنہیں رسول بنا کر مبعوث کیا گیا۔ قتادہ نے اسے حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں : ” پہلے رسول جنہیں مبعوث کیا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں اور انہیں تمام اہل زمین کی طرف مبعوث کیا گیا۔ “ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے کفر کیا تو اللہ تعالیٰ نے تمام اہل زمین کو ہلاک کردیا۔ ان کا نسب یہ ہے حضرت نوح بن لامک بن متوشلخ بن اخنوخ یہی حضرت ادریس ہیں بن یردبن مہلایل بن انوش بن قینان بن شیث بن آدم (علیہ السلام)
وہب نے کہا، یہ سب مومن تھے۔ انہیں اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا جبکہ ان کی عمر پچاسسال تھی۔ حضرت ابن عباس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ یہ سورة انا ارسلنا نوحا مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ الحاکم نے ابن عباس ؓ سے رسول اللہ ﷺ تک مرفوع حدیث بیان کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نوح کو اور اس کی قوم کو قیامت کے دن لوگوں میں سب سے پہلے بلائیں گے۔ اور ان سے فرمائیں گے تم نے نوح (علیہ السلام) کو کیا جواب دیا تھا ؟ تو وہ کہیں گے کہ اس نے ہم کو نہ دعوت دی اور نہ ہم کو آپ کا پیغام پہنچایا اور ہم کو نصیحت کی، نہ ہم کو حکم دیا، اور نہ ہم کو برے کاموں سے روکا۔ اس کے جواب میں نوح (علیہ السلام) کہیں گے۔ اے میرے رب ! میں نے ان کو ایسی دعوت دی تھی جو اولین وآخرین میں پھیلی ہوئی ہے۔ ایک امت کے…
Read the full tafseer →[اِنَّآ اَرْسَلْنَا : بیشک ہم نے بھیجا ] [نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖٓ: نوح کو ان کی قوم کی طرف ] [اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ : کہ آپ خبردار کریں اپنی قوم کو ] [مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَهُمْ : اس سے پہلے کہ پہنچے ان کے پاس ] [عَذَابٌ اَلِيْمٌ: ایک دردناک عذاب ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے خطاب، نعمتوں کی تذکیر، توحید کی دعوت، قوم کا انحراف اور باغیانہ روش
یہاں سے سورة ٴ نوح شروع ہو رہی ہے اور بھی کئی سورتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا اور ان کی قوم کی نافرمانی کا اور قوم کے انجام کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے تقریباً ایک ہزار سال کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی وہ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے ان لوگوں میں بت پرستی پھیل گئی تھی۔ بت بنا لیتے تھے اور ان کے نام بھی تجویز کرلیتے تھے جو اس سورت کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں، حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں طرح طرح سے سمجھایا توحید کی اور اللہ وحدہ لاشریک لہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
و توحید خالق ارض وسماء :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انآ ارسلنا نوحا الی قومہ ........ الی ......... سبلا فجاجا “۔
(ربط) اس سے قبل سورة معارج میں قیامت اور قیامت کے احوال شدیدہ کا ذکر تھا اور یہ کہ اس روز مجرمین اور نافرمانوں کی پریشانی اور بدحالی انسان کے تصور سے بھی بڑھ کر ہوگی تو اب اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر ہے جن کو حق تعالیٰ نے عالم میں سب سے پہلا وہ رسول بنا کر بھیجا جو شرک وبت پرستی کا رد کرنے والے تھے انکی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ قوم کی یہ کس قدر بدنصیبی تھی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرایا اور بڑی ہی گستاخی کے ساتھ شرک وبت پرستی پر ڈٹے رہے ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
2:۔ ” انا ارسلنا “ دلیل نقلی تفصیلی از نوح علیہ السلام۔ ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا تاکہ وہ اپنی قوم کو سمجھائیں کہ دردناک عذاب کے آنے سے پہلے ہی دعوت توحید کو مان لو۔ ” قال یقوم “ چناچہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ میں تم کو واضح اور کھلے لفظوں میں خبردار کرنے آیا ہوں کہ ” اعبدو اللہ واتقوہ “ تم صرف اللہ کی عبات کرو۔ صرف اسی کو برکات دہندہ سمجھو اور حاجات و مصائب میں صرف اسی کو پکارو۔ اس کے عذاب سے ڈرو اور میری اطاعت کرو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو مسئلہ سمجھایا مگر انہوں نے نہ مانا آخر ہلاک کردئیے گئے۔ اے اہل مکہ، آؤ مسئلہ مان لو ورنہ تم پر بھی خدا کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
کوائف اور مضامین :
اس سے پہلی سورة معراج تھی جس میں زیادہ تر قیامت کا ذکر تھا ، تاہم ضمناََ توحید و رسالت کا بیان بھی تھا۔ اس سورة کا نام حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس دعوت الیٰ الحق اور دعوت توحید کا ذکر فرمایا ہے جو انہوں نے اپنی قوم کو دی اس دعوت کے مختلف طریقے اور اس کاروائی کا بیان ہے جو نوح (علیہ السلام) نے اس سلسلہ میں سرانجام دی گویا دعوت الی الحق کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو بطور نمونہ پیش کیا ہے۔
سابقہ سورة سے ربط۔
گزشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو صبر جمیل کی نصیت فرمائی۔ کفار و مشرکین آپ کی طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتے تھے۔ ٹھٹا اور تمسخر کرتے تھے۔ آپ کے گرد…
Read the full tafseer →اِنَّآ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِہٖٓ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 1
إِنَّ وأَنَ
إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ
[ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ…
Read the full tafseer →اِنَّـآ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖٓ اَنْ اَنْذِرْقَوْمَکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّـاْ تِیَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْم۔ (نوح : 1)
(ہم نے نوح (u کو) ان کی قوم کی طرف رسول بنا کے بھیجا، کہ اپنی قوم کو خبردار کردیں قبل اس کے کہ ان پر ایک دردناک عذاب آئے۔ )
پیغمبر کی بعثت کا مقصد
حضرت نوح (علیہ السلام) بعض روایات کے مطابق اولادِ آدم کی اصلاح کے لیے مبعوث ہونے والے پہلے صاحب شریعت رسول ہیں۔ دنیا کی اکثر قومیں ان کے نام سے واقف ہیں۔ دنیا پر طوفانِ نوح کے نام سے جو تباہی آئی اس کا تذکرہ بھی تمام قوموں میں پایا جاتا ہے۔ اہل مکہ بھی آپ ( علیہ السلام) کو رسول کی حیثیت سے جانتے تھے۔ اس لیے ان کے سامنے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
فہم القرآن
ربط سورت : سورة المعارج کے آخر میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو برے لوگوں کو ختم کر کے نیک لوگ لے آئے۔ سورة نوح میں اس کا عملی ثبوت دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کو کس طرح ہلاک کیا اور نیک لوگوں کو آباد فرمایا اور انہیں ترقی دی۔ اس لیے المعارج کے بعد سورة نوح کو رکھا گیا ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کا نسب نامہ اس طرح ہے نوح (علیہ السلام) بن لامک بن متوشلخ بن خنوخ ( ادریس (علیہ السلام) بن یرد بن مھلا ییل بن قینن بن انوش بن شیث بن آدم (علیہ السلام) ۔
حضرت ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اللہ کے رسول ﷺ سے عرض کی کہ آدم (علیہ السلام) نبی تھے ؟ آپ نے فرمایا ہاں…
Read the full tafseer →1 : اِنَّآ اَرْسَلْنَا نُوْحًا ایک قول یہ ہے کہ نوح کا معنی سریانی زبان میں ساکن ہے۔ اِلٰی قَوْمِہٖٓ اَنْ اَنْذِرْ
نحو : انذارؔ خوف دلانے کے معنی میں آتا ہے۔ اس کی اصل بان انذر۔ پس جار حذف کر کے اَنْ کو فعل سے ملا دیا۔ خلیل (رح) کے نزدیک یہ محل جر میں واقع ہے۔ اور دیگرنحات کے ہاں منصوب ہے۔ نمبر 2۔ ان مفسرہ ہے جو کہ ای کے معنی میں آتا ہے۔ کیونکہ ارسال میں قول کا معنی متضمن ہے۔ قَوْمَکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْ تِیَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ عذاب الیم سے آخرت کا عذاب یا طوفان نوح مراد ہے۔
Read the full tafseer →سورة نوح
مکی ہے اور اس کی اٹھائیس آیات ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ 4۔ یہ اوپر گزر چکا ہے کہ چالیس برس کی عمر میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو نبوت ہوئی اور طوفان سے پہلے ساڑھے نو سو برس تک وہ اپنی قوم کو نصیحت کرتے رہے اور ساٹھ برس طوفان کے بعد زندہ رہے اس حساب سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر ایک ہزار پچاس برس کے قریب ہوئی۔ یہ بھی گزر چکا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح کی قوم کے ابتدائی زمانہ تک لوگ دنیا میں بت پرستی نہیں کرتے تھے۔ شیطان کے بہکانے سے پہلے پہل اس قوم نے دنیا میں بت پرستی جس طرح شروع کی اس کا ذکر آگے آتا ہے اس شرک کے مٹانے کے لئے حضرت نوح (علیہ السلام) کی اطاعت اور فرمانبرداری فرض تھی۔ اسی واسطے حضرت نوح (علیہ السلام) کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
اللہ تبارک وتعالی نے اس سورة مبارکہ میں حضرت نوح کے اپنی قوم کے اندر، ایک طویل زمانے تک رہنے، ان کو بار بار دعوت توحید دینے اور شرک سے روکنے کی بنا پر ان کا الگ قصہ بیان کیا اللہ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت نوح کو قوم پر رحم کرتے ہوئے انکو دردناک عذاب سے متنبہ کرتے ہوئے اور ان کو اپنے کفر پر جمے رہنے سے ڈراتے ہوئے حضرت نوح کو ان کی طرف مبعوث فرمایا، مبادا اللہ تعالیٰ ان کو ابدی ہلاکت اور سرمدی عذاب میں مبتلا کردے۔ حضرت نوح نے سرتسلیم خم کردیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کے لیے آگے بڑھے اور فرمایا یقوم انی لکم نذیر مبین) یعنی میں انداز اور تنبیہ کو واضح کرکے کھول کھول کر بیان کرتا ہوں۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 ۔ اللہ تعالیٰ کی ایک سنت اور دستور کا ذکر وبیان : سو حضرت نوح (علیہ السلام) سے ارشاد فرمایا گیا کہ خبردار کرو اپنی قوم کو قبل سے اسے کہ آپہنچے ان کو ایک دردناک عذاب، جس کے یہ لوگ اپنے کفر و انکار اور تکذیب و استکبار کی بناء پر مستحق ہوچکے ہیں۔ خواہ وہ دنیا میں ان پر آئے طوفان و تباہی وغیرہ کی شکل میں یا آخرت میں آئے جہنم و جحیم کی صورت میں (بیان القرآن، وغیرہ) والعیاذ باللہ۔ سو یہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کے قانون و دستور کا بیان ہے کہ جب کسی قوم کا اخلاقی فساد و بگاڑ اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ عذاب کی مستحق قرار پاجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ عذاب بھیجنے سے پہلے ان کے اندر اپنا رسول بھیج کر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سیدنانوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مقصد
تشریح :۔ جیسا کہ کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے کہ سیدناآدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی اکرم ﷺ تک جتنے بھی نبی انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے سب نے توحید ہی کی تعلیم دی کیونکہ توحید ہی ایسا عقیدہ ہے جو انسان کو ہر قسم کے شر و فساد اور شیطان کے قبضہ سے نکال کر امن و سکون اور اللہ کی راہ دکھاتا ہے۔ معمول کے مطابق توحید کی تعلیمات آہستہ آہستہ مٹتی گئیں اور بت پرستی بڑھتی گئی تب اللہ تعالیٰ نے سیدنانوح (علیہ السلام) کو ہدایت دینے کے لیے نبی بنا کر انکی قوم کی طرف بھیجا۔ سیدنانوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تین باتوں کی تعلیم دی۔ پہلی اللہ کی بندگی دوسری تقویٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
سورة نوح۔
آیات 1 تا 20۔
اسرارومعارف۔
ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا کہ ان کا کردار ایسا مسخ ہوچکا تھا کہ عذاب الٰہی واقع ہونے کا خطرہ تھا لہذا نوح (علیہ السلام) انہیں بروقت باخبر کرنے کے لیے تشریف لائے کہ اللہ کے دردناک عذاب سے بچنے کا طریقہ سکھائیں لہذا انہوں نے اپنی بعثت کا اعلان فرمایا کہ اللہ نے مجھے تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے اور تم اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اور اس کی نافرمانی سے باز رہو۔
نبی کا لایا ہوا نظام۔
اس کی اطاعت یہ ہے کہ جو میں کہتا ہوں وہ کرو یعنی اپنی زندگی میں میرا دیا ہوا نظام رائج کرو تو تم سے جو گناہ ہوچکے ہیں اللہ اپنی رحمت سے معاف فرمائیں…
Read the full tafseer →ف 3 حضرت نوح پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو شرک کے انجام سے ڈرانے کا حکم دیا۔ ان کے زمانہ اور عجم وغیرہ کے متعلق بحث سورة عنکبوت میں گزر چکی ہے۔4 مراد دوزخ کا عذاب بھی ہوسکتا ہے اور طوفان کا بھی۔
Read the full tafseer →(71:1) انا ارسلنا نوحا الی القومہ : صاحب تفسیر مظہری (رح) لکھتے ہیں :۔
آغاز کلام میں ان (تحقیقیہ) لانے سے واقعہ کی اہمیت کو ظاہر کرنا مقصود ہے۔ الی قومہ ظاہر کر رہا ہے کہ آپ کی رسالت صرف آپ کی قوم تک محدود تھی۔ تمام انسانوں کے لئے عمومی نہ تھی۔
ان انذرقو مک میں ان تفسیر یہ ہے کیونکہ ارسال کے اندر قول کا معنی پوشیدہ ہے (ان مفسرہ ہمیشہ اس فعل کے بعد آتا ہے جس میں کہنے کے معنی پائے جائیں خواہ کہنے کے معنے پر اس فعل کی دلالت لفظی ہو یا معنوی) یعنی یہ کہنے کے لئے بھیجا۔ اس لئے ان انذر قول مخفی کی تشریح ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان مصدر یہ ہو اور قلنا محذوف ہو یعنی ہم نے نوح سے کہا کہ اپنی قوم کو عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–28
لغات القرآن۔
لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔
تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔
فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
نوح (علیہ السلام) کا واقعہ۔
(ف 1) ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا ان سے کہا کہ جاؤ اور اپنی قوم کو ڈراؤ دھمکاؤ، خدا کے غصہ اور عذاب کی خبرسناؤ، قبل ازاں کہ انکو عذاب الیم دردرساں پہنچے، جب حضرت نوح ان کے پاس آئے تو کہا، اے قوم، میں تم کو خدا کے غصہ سے بچانے کے لیے آیا ہوں اس کا قاصد ہوں اس کا پیغام دے کر ڈراتا ہوں ، صاف صاف تمہارے محاورے میں تم کو سمجھاتا ہوں ، یہ حکم دیتا ہوں کہ خدا کی عبادت کرو توحید مانو اس سے ڈرو، کفر وشرک سے منہ پھیرو، میری اطاعت کرو میرا حکم ، میری وصیت مانو، اگر تم قبول کروگے خدا تمہاری حالت کفر کی توحید توبہ کی برکت سے بخش دے گا اور تم کو ایک وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
[1] یعنی موت تو ہر حال میں آ کر رہے گی، ایمان میں بھی اور کفر میں بھی۔ لیکن دونوں حالتوں میں اتنا فرق ہے کہ حا لت کفر میں علاوہ عذاب آخرت کے دنیا میں بھی عذاب ہوگا اور حالت ایمان میں دنیا و آخرت دونوں عذابوں سے محفوظ رہو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة نوح
2: حضرت نوح ایک بڑے جلیل القدر پیغمبر ہیں ۔ اس سورة میں ان کی تبلیغ و اشاعت کے حالات تفصیل کے ساتھ بیان فرمائے ہیں ۔ کہ وہ جب تشریف لائے ۔ تو کیونکر انہوں نے حق وصداقت کی تلقین کی ۔ اور کس حد تک مخالفین کی تکلیفوں کو برداشت کیا ۔
حل لغات :۔ اجل مسمی ۔ مقررہ وقت ۔ موت ۔
Read the full tafseer →(1) بلا شبہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا کہ اے نوح (علیہ السلام) تو اپنی قوم کو کفرو شرک سے ڈرادے اس سے پہلے کہ ان پر درد ناک عذاب آئے۔ یعنی ان کو کہو کہ دیکھو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور نہ خدا کے پیغمبروں کی مخالفت کرو ورنہ یادرکھو کہ تم پر سخت دردناک عذاب نازل ہوگا ، یعنی طوفان میں غرق کردیئے جائو گے یا جہنم میں داخل ہوگے یا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دونوں جگہ عذاب دیئے جائو گے آگے نوح (علیہ السلام) کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 1۔ سورة سابقہ میں موجبات عقوبت کا بیان تھا ان میں سے ایک رسول کی تکذیب ہے، اس سورت میں بضمن قصہ نوح (علیہ السلام) اس کا بیان ہے، و نیز عقوبت اخرویہ مذکورہ سورت سابقہ کے ساتھ اس سورت میں کفر پر استحقاق عقوبت دنیویہ کا بھی اثبات ہے، نیز حضور ﷺ کا اس میں تسلیہ بھی ہے کہ قوم نوح نے بھی تکذیب کی تھی۔
2۔ یعنی ان سے کہو کہ اگر ایمان نہ لاوگے تو تم پر عذاب الیم آوے گا خواہ دنیوی یعنی طوفان، یا اخری یعنی دوزخ۔
Read the full tafseer →بلاشبہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف بھیجا کہ ان پر عذاب نازل ہونے سے قبل سمجھایا جائے
1 ؎ سیدنا آدم (علیہ السلام) کے بعد نوح (علیہ السلام) پہلے نبی و رسول ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ” رسالت “ سے نوازا۔ صحیح مسلم باب شفاعت میں حدیث ہے کہ : (یا نوح انت اول الرسل الی الارض) ” اے نوح ! تو زمین پر سب سے پہلا رسول بنایا گیا ہے “ نوح (علیہ السلام) کا ذکر قرآن کریم کی 26 سورتوں میں آیا ہے اکثر جگہ مختصر ہے لیکن سورة الاعراف ، سورة ہود ، سورة الانبیاء ، سورة الشعراء ، سورة الصاقات اور سورة المؤمن میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے اور سورة نوح تو مکمل طور پر آپ (علیہ السلام) ہی کے ذکر خیر پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 "Warm your people ... ": Warn them that the errors and moral evils that they were involved in, would only earn them Allah's punishment, if they did not desist from them, and tell them what way they should adopt in order to ward off that punishment.
Read the full tafseer →