Explained with ayahs 5–20
نو سو سال صدا بصحرا کے بعد بھی ایک پیغمبرانہ کوشش
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ساڑھے نو سو سال تک کی لمبی مدت میں کس کس طرح حضرت نوح نبی نے اپنی قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا قوم نے کس کس طرح اعراض کیا کیسی کیسی تکلیفیں اللہ کے پیارے پیغمبر کو پہنچائیں اور کس طرح اپنی ضد پر اڑ گئے، تو حضرت نوح ؑ بطور شکایت کے جناب باری میں عرض کرتے ہیں کہ الٰہی میں نے تیرے حکم کی پوری طرح سرگرمی سے تعمیل کی، تیرے فرمان عالیشان کے مطابق نہ دن کو دن سمجھا، نہ رات کو رات، بلکہ مسلسل ہر وقت انہیں راہ راست کی دعوت دیتا رہا لیکن کیا کروں کہ جس دل سوزی سے میں انہیں نیکی کی طرف بلاتا رہا وہ اسی سختی سے مجھ سے بھاگتے رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
سورة نُوْح 9
اس میں خود بخود یہ مضمون شامل ہے کہ وہ نافرمانی کی روش چھوڑ کر معافی کے طلب گار ہوں، کیونکہ اسی صورت میں ان کو اللہ تعالیٰ سے معافی مل سکتی تھی۔
سورة نُوْح 10
منہ ڈھانکنے کی غرض یا تو یہ تھی کہ وہ حضرت نوح ؑ کی بات سننا تو درکنار، آپ کی شکل بھی دیکھنا پسند نہ کرتے تھے، یا پھر یہ حرکت وہ اس لیے کرتے تھے کہ آپ کے سامنے سے گزرتے ہوئے منہ چھپا کر نکل جائیں اور اس کی نوبت ہی نہ آنے دیں کہ آپ انہیں پہچان کر ان سے بات کرنے لگیں۔ یہ ٹھیک وہی طرز عمل تھا جو کفار مکہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اختیار کر رہے تھے۔ سورة ہود آیت 5 میں ان کے اس رویے کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے۔ " دیکھو یہ لوگ اپنے سینوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–14
معارف و مسائل r
ۙيَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ ، حرف من اکثر تبعین یعنی جزئمت بتلانے کے لئے آتا ہے اگر یہ معنے لئے جاویں تو مطلب یہ ہے کہ ایمان لانے سے تمہارے سے وہ گناہ مغاف ہوجائیں گے جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے کیونکہ حقوق العباد کی معافی کے لئے ایمان لانے کے بعد بھی یہ شرط ہے کہ جو حقوق ادائیگی کے قابل ہیں ان کو ادا کرے جیسے مالی واجبات، اور جو قابل ادائیگی نہیں جیسے زبان یا ہاتھ سے کسی کو ایذاء پہنچائی اس سے معاف کرائے۔
حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ ایمان لانے سے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں اس میں بھی حقوق العباد کی ادائیگی یا معافی شرط ہے اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ حرف من اس جگہ زائد…
Read the full tafseer →دعوت میں دل سوزی:
یہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی اس دعوت کی وضاحت فرمائی ہے جو نہایت دل سوزی اور محبت سے انھوں نے اپنی قوم کو دی۔ فرمایا کہ میں نے ان کو سمجھایا کہ لوگو، اپنے رب سے اپنے گناہوں کی مغفرت مانگو۔ ہر چند تمہارے گناہ بہت ہیں لیکن اس کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ وہ بڑا ہی مغفرت فرمانے والا ہے۔
’اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا‘ میں یہ مضمون بھی مضمر ہے کہ اس کی مغفرت حاصل کرنے کے لیے اس کی طرف تمہارا رجوع ہی کافی ہے، تمہارے مزعومہ دیویوں دیوتاؤں کی سفارش کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ بڑا ہی غفار ہے۔ صدق دل سے مغفرت مانگنے والوں کو کسی سفارش کے بغیر وہ خود ہی اپنے دامن رحمت میں چھپا لیتا ہے۔
خدا سے…
Read the full tafseer →10۔ 1 یعنی ایمان اور اطاعت کا راستہ اپنالو، اور اپنے رب سے گزشتہ گناہوں کی معافی مانگ لو۔
10۔ 2 وہ توبہ کرنے والوں کے لئے بڑا رحیم و غفار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–13
2: یعنی جب تک تمہاری زندگی مقدر ہے، اس وقت تک تمہیں زندہ رکھے گا۔
Read the full tafseer →فقلت .................... غفارا (17 : 01) ” میں نے کہا : ” اپنے رب سے معافی مانگو ، بیشک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے “۔ اور ان کو یہ لالچ بھی دیا کہ اللہ تمہیں وافر رزق بھی دے گا ، بارشوں کے ذریعہ نہریں بہادے گا ، اولاد دے گا ، اموال دے گا ، جو تمہیں بہت عزیز ہیں۔
Read the full tafseer →8 یعنی باوجود سینکڑوں برس سمجھانے کے اب بھی اگر میری بات مان کر اپنے مالک کی طرف جھکو گے اور اس سے اپنی خطائیں معاف کراؤ گے تو وہ بڑا بخشنے والا ہے، پچھلے سب قصور یک قلم معاف کر دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
آیت 1 1{ یُّرْسِلِ السَّمَآئَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا۔ } ”وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا۔“
یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندے بن کر رہو گے تو وہ تمہاری دنیوی زندگی میں بھی تمہارے لیے آسانیاں پیدا کر دے گا اور تمہارے علاقے میں خوب بارشیں برسائے گا ‘ جس سے تمہارے رزق میں اضافہ ہوگا۔ ان الفاظ سے یوں لگتا ہے جیسے حضرت نوح علیہ السلام کی بعثت کے بعد کسی دور میں اس قوم پر خشک سالی اور قحط کا عذاب آیا تھا۔ جیسے قوم فرعون پر قحط اور دوسرے عذاب بھیجے گئے تھے الاعراف : رکوع 16۔ یا جیسے حضور ﷺ کی بعثت کے بعد مکہ میں بہت سخت قحط پڑا تھا سورۃ الدخان : رکوع 1۔ ایسے چھوٹے چھوٹے عذاب دراصل ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
5 استغفار سے حاصل ہونے والے دنیوی فوائد :۔ اور جہاں تک میرے سمجھانے کا تعلق ہے تو میں ان کی مجلسوں میں بھی جاتا ہوں اور ان کے گھروں میں بھی۔ ان سے نجی محفلیں بھی کرتا ہوں۔ انہیں برملا بھی سمجھاتا ہوں اور خیرخواہی کے لہجہ میں انفرادی ملاقاتوں میں انہیں یہ بات سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ اس وقت جو تم پر قحط مسلط ہے، بارشیں نہیں ہو رہیں، اگر تم اللہ کی طرف رجوع کرلو۔ اور اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لو تو تم پر سے یہ قحط دور ہوجائے گا۔ اللہ کی مہربانی سے خوب بارشیں ہوں گی۔ اور تمہارے اموال اور اولاد میں اللہ تعالیٰ خوب برکت عطا فرمائے گا واضح رہے کہ استغفار کے دنیا میں حاصل ہونے والے ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
6۔ یعنی میں نے تو یہ بھی کہہ کہہ کے دیکھ لیا کہ علاوہ نفع اخروی کے وہ مقصود اصلی ہے، تمہیں دنیوی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔ (آیت) ” استغفرواربکم “۔ یہ استغفار ظاہر ہے کہ ایمان کے بعد ہی اور ایمان ہی کے واسطہ سے ممکن تھا۔ (آیت) ” یرسل السمآء .... انھرا “۔ یہ آیت ایمان کی مادی اور دنیوی برکتوں کے باب میں نص ہے۔ (آیت) ” انہ کان غفارا “۔ یعنی یہ نہیں کہ وہ تمہارے گناہ ابھی ہی بخش دے گا۔ بلکہ مغفرت تو اس کی عادت وصفت ہی ہے، اور کچھ آج سے نہیں، ہمیشہ ہی سے رہی ہے۔ کانہ یقول لاتظنوا ان غفاریتہ انما حدثت الان بل ھو ابدا ھکذا کان فکان ھذا بہ حرفتہ وصنعتہ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–20
ان اعبدوا اللہ واتقوہ و اطیعون حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی تبلیغ کا آغاز ان تین باتوں سے فرمایا ایک یہ کہ اللہ بندگی، دوسرے تقویٰ ، تیسرے رسول کی اطاعت، مطلب یہ کہ اگر تم ان تین باتوں کو قبول کرلو تو اب تک جو گناہ تم سے ہوچکے ہیں ان سے وہ درگزر فرمائے گا، یغفرلکم من ذنوبکم و یوخر کم الی اجل مسمی الخ میں بعض مفسرین نے حقوق العباد کو خارج کرنے کے لئے من کو تبعیض کا لیا ہے، اسلام اور ایمان لانے سے حقوق اللہ معاف ہوجائیں گے مگر حقوق العباد سے معافی کے لئے صاحب حق سے معافی ضروری ہوگی، بعض مفسرن نے یہاں من زائدہ یا بمعنی عن لیا ہے مطلب یہ کہ ایمان لانے سے تمہارے سب گناہ معاف ہوجائیں گے مگر دوسری…
Read the full tafseer →فقلت . یہ دعوت کا بیان ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ قوم نوح جب حضرت نوح کی تکذیب مدت دراز تک کرتی رہی تو اللہ
نے بارش روک دی اور چالیس برس تک پیدائش نسل بند کردی ‘ اس طرح انکے مال اور چوپائے تباہ ہوگئے۔ اس وقت حضرت نوح نے فرمایا :
استغفروا ربکم . کفر و معصیت سے توبہ کر کے پچھلے گناہوں پر نادم ہو کر اپنے رب سے گناہوں کی مغفرت
کے طلبگار ہو کیونکہ
انہ کان غفارا . وہ توبہ کرنے والوں کے گناہ بہت زیادہ معاف کردینے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
(8۔ 10) پھر میں نے بآواز بلند ان کی دعوت دی اور کھول کھول کر سمجھایا اور ان کو خفیہ طور پر بھی سمجھایا اور میں نے ان سے کہا کہ تم اپنے پروردگار کی توحید کے قائل ہوجاؤ کیونکہ جو کفر سے توبہ کرے اور اس پر ایمان لائے وہ اسے بڑا بخشنے والا ہے۔
Read the full tafseer →فقلت استغفرواربکم…: چناچہ میں نے ان سے ہا کہ اپنے رب سے بخشش مانگو، (ظاہر ہے ایمان لانے کے بعد ہی بخشش مانگنے کا مرحلہ آتا ہے) یقیناً وہ بہت ہی بخشنے والا ہے۔”کان“ دوام اور استمرار کے لئے ہے، یعنی بخشنا اور معاف کرنا ہمیشہ سے اس کی صفت رہی ہے، پھر کسی واسطے یا وسیلے سے مانگنے کی کیا ضرورت ہے، اپنے رب سے خود ہی معافی ماگن لو، وہ تمہیں بخش دے گا۔ جب معافی مل گئی تو آخرت میں سزا سے بچ جاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
اس میں تین مسائل ہیں۔
استغفار کی فضیلت
مسئلہ نمبر 1 :۔ فقلت استغفروا ربکم ایمان کے اخلاص کے ساتھ اپنے سابقہ گناہوں سے مغفرت کا سوال کرو۔ انہ کان غفاراً ۔ یہ اس کی جانب سے توبہ میں ترغیب ہے۔ حضرت حذیفہ بن یمان نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے فرمایا : الاستغفار ممعاۃ للذنوب (2) استغفار گناہوں کو مٹانے والی ہے۔ فضیل نے کہا : بندہ کہتا ہے : استغفر اللہ اس کی تفسیر اقلنی ہے یعنی میری غلطیوں سے درگزر فرما۔
توبہ کی فضیلت
مسئلہ نمبر 2۔ یرسل السمآء علیکم مدراراً ۔ وہ آسمان کا پانی برساتا ہے۔ اس کلام میں اضمار ہے۔ اصل یہ ہے یرسل ماء السماء۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : السماء کا معنی ہی بارش ہے (1) ۔ شاعر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
استغفار کی کثرت اور اس کے فوائد
1۔ ابن مردویہ نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا استغفار کی کثر کرو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم کو استغفار کی تعلیم اس لیے دی کہ وہ تمہاری مغفرت کرنا چاہتا ہے۔
Read the full tafseer →[فَقُلْتُ : تو میں نے کہا ] [اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ : تم لوگ مغفرت مانگو اپنے رب سے ] [اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًا : بیشک وہ بہت بخشنے والا ہے ]
(آیت۔ 10) کَانَ کی خبر ہونے کی وجہ سے غَفَّارًا حالت نصب میں ہے۔ کَانَ کا ترجمہ حال میں ہوگا کیونکہ یہ آفاقی صداقت کا بیان ہے (دیکھیں آیت ۔ 2:49 نوٹ۔ 2)
نوٹ۔ 4: آیت۔ 10 تا 12 ۔ جو بات کہی گئی ہے کہ اللہ سے مغفرت کے طلبگار بنو تو اللہ تعالیٰ تمہیں معیشت اور افرادی قوت کی فراوانی عطا فرمائے گا، یہ بات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر مختلف پیرائے میں بیان کی گئی ہے۔ مثلاً المائدہ۔ 66، الاعراف۔ 96، ھود۔ 3 ۔ 52، طٰہٰ ۔ 124 ۔ وغیرہ۔ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے خطاب، نعمتوں کی تذکیر، توحید کی دعوت، قوم کا انحراف اور باغیانہ روش
یہاں سے سورة ٴ نوح شروع ہو رہی ہے اور بھی کئی سورتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا اور ان کی قوم کی نافرمانی کا اور قوم کے انجام کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے تقریباً ایک ہزار سال کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی وہ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے ان لوگوں میں بت پرستی پھیل گئی تھی۔ بت بنا لیتے تھے اور ان کے نام بھی تجویز کرلیتے تھے جو اس سورت کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں، حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں طرح طرح سے سمجھایا توحید کی اور اللہ وحدہ لاشریک لہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
و توحید خالق ارض وسماء :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انآ ارسلنا نوحا الی قومہ ........ الی ......... سبلا فجاجا “۔
(ربط) اس سے قبل سورة معارج میں قیامت اور قیامت کے احوال شدیدہ کا ذکر تھا اور یہ کہ اس روز مجرمین اور نافرمانوں کی پریشانی اور بدحالی انسان کے تصور سے بھی بڑھ کر ہوگی تو اب اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر ہے جن کو حق تعالیٰ نے عالم میں سب سے پہلا وہ رسول بنا کر بھیجا جو شرک وبت پرستی کا رد کرنے والے تھے انکی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ قوم کی یہ کس قدر بدنصیبی تھی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرایا اور بڑی ہی گستاخی کے ساتھ شرک وبت پرستی پر ڈٹے رہے ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
6:۔ ” فقلت استغفروا “ یہ ترغیب ہے۔ ” مدرارا یرسل “ کا مفعول مطلق ہے۔ من غیر لفظہ یا یہ صیغہ مبالغہ ہے اور السماء سے حال ہے السماء سے مراد بادل یا بارش ہے (مظہری، روح) ۔ میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ ایمان لے آؤ اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو، وہ معاف کرنے والا ہے وہ تم پر موسلا دھار بارانِ رحمت نازل فرمائے گا۔ ” ویمددکم باموال “ تمہارے مال واولاد میں برکت عطاء فرمائے گا، تمہارے لیے پھلوں اور میووں کے سرسبز و شاداب باغات پیدا فرمائے گا اور نہریں جاری کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
گذشتہ سے پیوستہ :
یہ سورة نوح ہے۔ اور ان دروس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو دعا کا ذکر ہے جو انہوں نے تھک ہار کر بار گاہ الہٰی میں پیش کی کہ یعنی اے پروردگار میں نے پانی قوم کو شب و روز دعوت دی مگر میرے بلانے پر وہ اور زیادہ بھاگنے لگے۔ انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور کپڑے سمیٹ لیے ، اصرار ، اور تکبر کیا۔ میں نے ان کو برملا بھی دعوت دی اور پوشیدہ طور پر بھی نصیحت کی۔ اعلی الاعلان بھی تبلیغ حق کی مگر انہوں نے میری کسی بات کو نہیں مانا۔
استغفار کی ترغیب :
آخر میں میں نے انہیں یہ بھی کہا اپنے رب سے استغفار کرو۔ معافی مانگو کیونکہ وہ بہت بخشش کرنے والا ہے۔ استغفار کا معنی بخشش…
Read the full tafseer →فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ 0 ۭ اِنَّہٗ كَانَ غَفَّارًا 10 ۙ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
استغفار
الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس،
والاسْتِغْفَارُ : طلب ذلک بالمقال والفعال، وقوله : اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10]
( غر ) الغفر
( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے
اور استغفار کے معنی قول اور عمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
ترکیب : جھارا منصوب علی المصدریۃ لان الدعاء یکون جھارا وغیر جھار فالجھاراحد نوعیہ ویجوزان یکون مصدرا فی موضع الحال ای مجاھرا اوذاجھارا وصفۃ مصدر محذوف بمعنی دعاء جھارا ای مجاھرابہ ‘ اسرارا مفعول مطلق من اسررت یرسل وکذاما بعدہ یمدو یجعل مجزوم علی انہ جواب الامرای استغفروا والمدار الدرورھو التحلب بالمطروانتصابہ اماعلی الحال من السماء ولم یؤنث لان مفعا لایذکرو یونث اوانہ نعت لمصدر محذوف ای ارسالا مدارا۔
تفسیر… : کسریٰ نے مدائن میں طاق بنایا اور خلفائِ بنی العباس کے عہد میں بغداد شہر کی عمارات چنی گئیں اور کوفہ اور بصرہ بھی آباد ہوا تھا۔ الغرض حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بت پرستی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
فَـقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّـکُمْ ط اِنَّـہٗ کَانَ غَفَّارًا۔ یُّرْسِلِ السَّمَـآئَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا۔ وَّیُمْدِدْکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَیَجْعَلْ لَّـکُمْ جَنّٰتٍ وَّیَجْعَلْ لَّـکُمْ اَنْھٰرًا۔ (نوح : 10 تا 12)
(پھر میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو، بیشک وہ بڑا ہی بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا۔ اور مال و اولاد سے تمہاری مدد کرے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کردے گا۔ )
نرمی اور حکمت سے دعوت کی مثال
یہ دلوں میں اتر کر اور نہایت اعتماد میں لے کر بات کہنے کی مثال ہے کہ میں نے ان سے کہا کہ تم آج کل اپنے حالات کی گرفت میں ہو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے ہوئے اس کے حضور توبہ استغفار کرنے کا حکم دیا، اور اس کے دنیا اور آخرت کے فائدے بتلائے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے توحید و رسالت کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! اللہ سے ڈر جاؤ ! اس سے ڈرنے کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے گناہوں سے توبہ کرے یعنی آئندہ گناہ کرنے سے رک جائے۔ قوم نوح کا سب سے بڑا گناہ ” اللہ “ کے ساتھ شرک کرنا تھا، جس سے حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں بار بار منع کیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو استغفار کا فائدہ بتلاتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے استغفار کرنے پر تمہارا…
Read the full tafseer →10 : فَقُلْتُ اسْتَغفِرُوْا رَبَّکُمْ (میں نے کہا تم اپنے رب سے گناہ بخشوائو) استغفار مغفرت طلب کرنے کو کہتے ہیں اگر استغفار کرنے والا کافر ہو تو کفر سے توبہ کرنا اور معافی مانگنا ہوگا۔ اور اگر گناہ گار مومن ہو۔ تو وہ گناہوں سے استغفار ہوگا یہاں شرک سے استغفار مراد ہے۔ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا (بیشک وہ بڑا بخشنے والا ہے) وہ انابت کرنے والے لوگوں کے گناہ بخشتا چلا آرہا ہے۔
Read the full tafseer →9 ۔” ثم انی اعلنت لھم “ یعنی دعاء کا اعلانیہ تکرار کیا۔ ” واسررت لھم اسرارا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ایک ایک آدمی کو آہستہ دعوت دی، اس کو آپ کی دعوت اور توحید کی طرف بلایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–20
5۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح علیہ اسلام کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم تھا اس کے موافق انہوں نے سالہا سال تک اپنی قوم کو بت پرستی کے وبال سے ڈرایا اور جب ان کی سرکش قوم راہ راست پر نہ آئی تو انہوں نے اپنی قوم کی یہ شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کی جس کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ میں ان لوگوں کو ہر وقت تنہائی میں محفل میں سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوگوں نے میری ایک نہ سنی بلکہ یہ لوگ نصیحت کی بات سے ایسے گھبراتے ہیں کہ جب ان سے کوئی بات نصیحت کی کہی جاتی ہے تو یہ لوگ کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں منہ سر لپیٹ کر کانوں کو کپڑے کے اندر چھپا لیتے ہیں تاکہ نصیحت کی بات سے ان کے کان آشنا…
Read the full tafseer →(فقلت ستغفروا ربکم) یعنی میں انہیں کہا کہ تم جن گناہوں کا ارتکاب کررہے ہو، ان کو چھوڑ دو اور اللہ تعالیٰ سے ان گناہوں کی بخشش طلب کرو۔ (انہ کان غفارا) ۔ جو کوئی توبہ کرکے اس سے بخشش طلب کرتا ہے وہ اسے کثرت سے بخشتا ہے پس اللہ تعالیٰ نے ان کو گناہوں کی بخشش اور اس پر جو ثواب مرتب ہوتا ہے اور جو عذاب دور ہوتا ہے اس کی ترغیب دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
12 طلب مغفرت کی تعلیم و تلقین کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح نے فرمایا کہ میں نے ان سے کہا کہ تم لوگ بخشش مانگو اپنے رب سے : یعنی ایمان لا کر اور سچے دل سے اس کی طرف رجوع ہو کر اور تمہارے گناہ اگرچہ بہت زیادہ اور بہت بڑے ہیں مگر پھر بھی تم اس کی رحمت سے مایوس مت ہوؤ، کہ وہ بڑا ہی بخشنے والا غفار ہے اور اس غفار کی طرف تمہارا اپنا رجوع ہی کافی ہے، تمہارے مزعومہ دیویوں، دیوتاؤں اور تمہارے خود ساختہ معبودوں، سرکاروں اور من گھڑت وسیلوں وا سطوں کی واں کوئی ضرورت نہیں، جیسا کہ تم لوگ اپنے خود ساختہ مشرکانہ فلسفے کی بناء پر کہتے رہتے ہو کہ " ہم ان ھوٹے اور خود ساختہ خداؤں کی پوجا پاٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سیدنانوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مقصد
تشریح :۔ جیسا کہ کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے کہ سیدناآدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی اکرم ﷺ تک جتنے بھی نبی انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے سب نے توحید ہی کی تعلیم دی کیونکہ توحید ہی ایسا عقیدہ ہے جو انسان کو ہر قسم کے شر و فساد اور شیطان کے قبضہ سے نکال کر امن و سکون اور اللہ کی راہ دکھاتا ہے۔ معمول کے مطابق توحید کی تعلیمات آہستہ آہستہ مٹتی گئیں اور بت پرستی بڑھتی گئی تب اللہ تعالیٰ نے سیدنانوح (علیہ السلام) کو ہدایت دینے کے لیے نبی بنا کر انکی قوم کی طرف بھیجا۔ سیدنانوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تین باتوں کی تعلیم دی۔ پہلی اللہ کی بندگی دوسری تقویٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
سورة نوح۔
آیات 1 تا 20۔
اسرارومعارف۔
ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا کہ ان کا کردار ایسا مسخ ہوچکا تھا کہ عذاب الٰہی واقع ہونے کا خطرہ تھا لہذا نوح (علیہ السلام) انہیں بروقت باخبر کرنے کے لیے تشریف لائے کہ اللہ کے دردناک عذاب سے بچنے کا طریقہ سکھائیں لہذا انہوں نے اپنی بعثت کا اعلان فرمایا کہ اللہ نے مجھے تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے اور تم اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اور اس کی نافرمانی سے باز رہو۔
نبی کا لایا ہوا نظام۔
اس کی اطاعت یہ ہے کہ جو میں کہتا ہوں وہ کرو یعنی اپنی زندگی میں میرا دیا ہوا نظام رائج کرو تو تم سے جو گناہ ہوچکے ہیں اللہ اپنی رحمت سے معاف فرمائیں…
Read the full tafseer →ف 12 یعنی تمہارے گناہ بخش دے گا۔
Read the full tafseer →(71:10) فقلت :حرف عطف ہے۔ سو میں نے (ان سے) کہا۔
استغفروا ربکم : امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر استغفار (استفعال) مصدر۔ تم مغفرت مانگو، تم بخشش چاہو۔
ربکم (مضاف مضاف الیہ) اپنے رب سے۔
غفارا : غفران (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد۔ مبالغہ کا صیغہ بہت بخشنے والا۔ منصوب بوجہ کان کی خبر کے ہے۔ کیونکہ وہ بہت بڑا بخشنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–28
لغات القرآن۔
لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔
تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔
فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–24
حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت کا ذکر۔
(ف 1) اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح کو جس طرح اللہ کا حکم تھا اس کے موافق حضرت نوح نے نو سو برس تک ان کو سمجھاتے رہے جب امید کی کوئی سورت باقی نہ رہی تو مایوس اور تنگ دل ہوکربارگاہ الٰہی میں عرض کیا یا اللہ میں نے اپنی طرف سے دعوت تبلیغ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا رات کی تاریکی اور دن کے اجالے میں برابر ان کو تیری طرف بلاتا رہا، مگر نتیجہ یہ ہوا کہ جوں جوں تیری طرف آنے کو کہا گیا یہ بدبخت اور زیادہ ادھر سے منہ پھیرکربھاگے اور جس قدر میری طرف سے شفقت ودل سوزی کا اظہار ہوا ان کی جانب سے نفرت اور بےزاری بڑھتی گئی سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوں نے میری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–14
[2] یعنی جس اللہ نے تخلیق کے مختلف مراحل سے گزار کر تمہیں مکمل انسان بنایا اور جس کی قدرت کی شانیں تمہارے اپنے وجود کے اندر نظر آتی ہیں اس کے متعلق تم یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ بھی کوئی بڑی ہستی ہوگا۔ تم اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہو، اس کے احکام کی نافرمانیاں کرتے ہو لیکن تمہیں اندیشہ لاحق نہیں کہ وہ تمہیں اس کی سزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
دین فطرت برکت اور دولت ہے
2: ان آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے دین کے متعلق ایک بہت بڑی غلط فہمی کا زالہ فرمایا ہے ۔ عام طور پر دینداری اور مذہب کے معنے یہ ہیں ۔ کہ یہ دنیا میں ترقی اور تقدم کی دشمن ہے ۔ اور اس کی وجہ سے افلاس فخر اور نیکی تقوی اور پاکیزگی قرار پاتی ہے ۔ اس میں حمق ، بےوقوفی معرفت اور دانائی ہے فرمایا ۔ یہ بات قطعاً غلط ہے ۔ اگر تم لوگ اپنے رب سے تعلقات عقیدت وارادت وابستہ کرلو ۔ اور خلوص کے ساتھ اس سے اپنی لغزشوں اور کوتاہیوں کی تلاف چاہو ، تو وہ ایسا نہیں ہے ۔ کہ معاف نہ کرے ۔ اور تم کو اپنے قرب اور حضوری کا موقع نہ بخشے ۔ تم دیندار ہوجاؤ۔ اور اس کی اطاعت کا ربقہ اپنے…
Read the full tafseer →(10) میں نے ان سے کہا کہ تم اپنے پروردگار سے استغفار کرو یعنی گناہ بخشوائو بیشک وہ بڑا بخشے والا ہے۔ یعنی ایمان لے آئو تو تمہارے پہلے گناہ اور خطائیں سب بخش دئیے جائیں گے اور باطنی انعام وکرام اور روحانی ترقی کے ساتھ دنیاوی ترقی و ظاہری منافع سے بھی تم کو مالا مال کردے گا جس کی شکل یہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ف 5۔ مراد اس سے وعظ و خطاب عام ہے جس میں عادة آواز بلند ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →میں نے ان سے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہ معاف کروا لو کہ وہ معاف کرنے والا ہے
10 ؎ اس طرح میں نے ان کو بتایا کہ اگر تم اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو گے تو صرف تمہاری آخرت ہی درست نہیں ہوگی بلکہ وہ تمہاری دنیا بھی سنوار دے گا۔ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی اور نہیں ہے جو گناہوں کو معاف کرنے والا ہو۔ وہی ہے جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جس کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اس طرح نوح (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کو پھیلا کر قوم کے سامنے پیش کیا اور جب انہوں نے ماننے سے انکار کردیا تو وہی باتیں نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب ذوالجلا والاکرام کی بارگاہ میں بطور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–14
Commentary
يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ and Allah will forgive you your sins, 71:4). The particle min is often used to indicate division into parts, that is, to refer to only a part of an amount, group or number. If it is taken in that sense here, it would signify that by embracing the faith only those sins would be forgiven which pertains to the Divine rights because violation of human rights would be forgiven only when the believer fulfills the human rights which he has violated [ such as pecuniary obligations ] and if they cannot be fulfilled [ such as hurting somebody physically or…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
9 "That you might pardon them": that they might give up their attitude of disobedience and beg forgiveness of Allah, for in that way alone they could be forgiven by Allah.
10 They covered their faces either because they did not even like to have a look at the Prophet Noah's face, not to speak of listening to what he said, or they did so in order to hide their own faces from him as they passed by him so that he could not recognize and address them. This precisely was the attitude and conduct which the disbelievers of Makkah were adopting towards the Holy Prophet (upon whom be peace) . In Surah…
Read the full tafseer →