Nooh 71:11

Nooh · from ayah 11

71:11

یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا ۟ۙيُّرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّدۡرَارًا

وہ تم پر آسمان سے لگاتار مینہ برسائے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

He will send [rain from] the sky upon you in [continuing] showers

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Nooh

All translations of 71:11

وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ تم پر آسمان سے لگاتار مینہ برسائے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم پر شراٹے کا (موسلا دھار) مینھ بھیجے گا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ تم پر بڑی زوردار بارش بھیجے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ تم پر بہت برستی ہوئی بارش اتارے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ تم پر اپنے ابر رحمت کے دو نگڑے برسائے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ (اپنی رحمت و عنایت سے) تم پر دھانے کھول دے گا باران رحمت کے

— مولانا اسحاق مدنی

وہ تم پر کثرت سے بارش بھیجے گا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ تم پر آسمان سے مینہ برسائے گا

— محترمہ رفعت اعجاز

He will shower upon you torrents from heaven,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and He will cause the heavens to rain upon you in abundance,

— Muhammad Taqi Usmani

and He will cause the heavens to rain upon you in abundance,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He will send rain to you Midrar,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He will let loose the sky for you in plenteous rain,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He will send [rain from] the sky upon you in [continuing] showers

— Saheeh International

He will send you abundant

— Muhammad Sarwar

He will send down upon you the cloud, pouring down abundance of rain:

— Muhammad Habib Shakir

He will send the heaven upon you copiously;

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 71:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 5–20

نو سو سال صدا بصحرا کے بعد بھی ایک پیغمبرانہ کوشش یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ساڑھے نو سو سال تک کی لمبی مدت میں کس کس طرح حضرت نوح نبی نے اپنی قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا قوم نے کس کس طرح اعراض کیا کیسی کیسی تکلیفیں اللہ کے پیارے پیغمبر کو پہنچائیں اور کس طرح اپنی ضد پر اڑ گئے، تو حضرت نوح ؑ بطور شکایت کے جناب باری میں عرض کرتے ہیں کہ الٰہی میں نے تیرے حکم کی پوری طرح سرگرمی سے تعمیل کی، تیرے فرمان عالیشان کے مطابق نہ دن کو دن سمجھا، نہ رات کو رات، بلکہ مسلسل ہر وقت انہیں راہ راست کی دعوت دیتا رہا لیکن کیا کروں کہ جس دل سوزی سے میں انہیں نیکی کی طرف بلاتا رہا وہ اسی سختی سے مجھ سے بھاگتے رہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 7–11

سورة نُوْح 9 اس میں خود بخود یہ مضمون شامل ہے کہ وہ نافرمانی کی روش چھوڑ کر معافی کے طلب گار ہوں، کیونکہ اسی صورت میں ان کو اللہ تعالیٰ سے معافی مل سکتی تھی۔ سورة نُوْح 10 منہ ڈھانکنے کی غرض یا تو یہ تھی کہ وہ حضرت نوح ؑ کی بات سننا تو درکنار، آپ کی شکل بھی دیکھنا پسند نہ کرتے تھے، یا پھر یہ حرکت وہ اس لیے کرتے تھے کہ آپ کے سامنے سے گزرتے ہوئے منہ چھپا کر نکل جائیں اور اس کی نوبت ہی نہ آنے دیں کہ آپ انہیں پہچان کر ان سے بات کرنے لگیں۔ یہ ٹھیک وہی طرز عمل تھا جو کفار مکہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اختیار کر رہے تھے۔ سورة ہود آیت 5 میں ان کے اس رویے کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے۔ " دیکھو یہ لوگ اپنے سینوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–14

معارف و مسائل r ۙيَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ ، حرف من اکثر تبعین یعنی جزئمت بتلانے کے لئے آتا ہے اگر یہ معنے لئے جاویں تو مطلب یہ ہے کہ ایمان لانے سے تمہارے سے وہ گناہ مغاف ہوجائیں گے جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے کیونکہ حقوق العباد کی معافی کے لئے ایمان لانے کے بعد بھی یہ شرط ہے کہ جو حقوق ادائیگی کے قابل ہیں ان کو ادا کرے جیسے مالی واجبات، اور جو قابل ادائیگی نہیں جیسے زبان یا ہاتھ سے کسی کو ایذاء پہنچائی اس سے معاف کرائے۔ حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ ایمان لانے سے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں اس میں بھی حقوق العباد کی ادائیگی یا معافی شرط ہے اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ حرف من اس جگہ زائد…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

استغفار کی برکت: ’یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْْکُمۡ مِّدْرَارًا‘۔ لفظ ’سَمَآءٌ‘ جیسا کہ اس کے محل میں وضاحت ہو چکی ہے، ابرباراں کے لیے بھی آتا ہے۔ ’مِدْرَارًا‘ کے معنی ’کثیر الدر‘ یعنی خوب برسنے والے کے ہیں۔ یہ مذکر و مؤنث دونوں کے لیے یکساں استعمال ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارا استغفار تمہارے رب کی رحمت کو جوش میں لائے گا اور وہ تمہیں رزق کی فراوانی اور مال و اولاد کی کثرت سے بہرہ مند کرے گا۔ مشرکین کے بعض اوہام کی تردید: مشرکین اس وہم میں بھی مبتلا تھے کہ بارش ان کے دیوتا برساتے ہیں اور اولاد ان کی برکت و عنایت سے ملتی ہے اس وجہ سے وہ ان کے خلاف ایک لفظ بھی کہنے یا سننے سے بہت ڈرتے تھے۔ قرآن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11۔ 1 بعض علماء اسی آیت کی وجہ سے نماز استسقاء میں سورة نوح کے پڑھنے کو مستحب سمجھتے ہیں۔ مروی ہے کہ حضرت عمر بھی ایک مرتبہ نماز استسقاء کے لئے منبر پر چڑھے تو صرف آیات استغفار (جن میں یہ آیت بھی تھی) پڑھ کر منبر سے اتر آئے۔ اور فرمایا کہ میں نے بارش کو، بارش کے ان راستوں سے طلب کیا ہے جو آسمانوں میں ہیں جن سے بارش زمین پر اترتی ہے (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–13

2: یعنی جب تک تمہاری زندگی مقدر ہے، اس وقت تک تمہیں زندہ رکھے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 11–12

یرسل .................... مدرارا (17 : 11) ویمدد ................ انھرا (17 : 21) ” وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا ، تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا ، تمہارے لئے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کردے گا “۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے استغفار اور عظائے رزق جہاں کو باہم یکجا کردیا اور قرآن میں بیشمار مواقع پر ایمان ، ہدایت اور صلاح اور تقویٰ اور خوشحالی اور وافر رزق کو ایک دوسرے کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے۔ دوسری جگہ آتا ہے : ولو ان .................... یکسبون (7 : 69) ” اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو ہم آسمان و زمین سے ان پر نعمتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے جھٹلایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 11–12

9 یعنی ایمان و استغفار کی برکت سے قحط و خشک سالی (جس میں وہ برسوں سے مبتلا تھے) دور ہوجائے گی اللہ تعالیٰ دھواں دار برسنے والا بادل بھیج دے گا جس سے کھیت اور باغ خوب سیراب ہوں گے۔ غلے، پھل، میوہ کی افراط ہوگی، مواشی وغیرہ فربہ ہوجائیں گے، دودھ گھی بڑھ جائے گا اور عورتیں جو کفر و معصیت کی شامت سے بانجھ ہو رہی ہیں اولاد ذکور جننے لگیں گی۔ غرض آخرت کے ساتھ دنیا کے عیش و بہار سے بھی وافر حصہ دیا جائے گا۔ (تنبیہ) امام ابوحنیفہ نے اس آیت سے یہ نکالا ہے کہ استسقاء کی اصل حقیقت اور روح استغفار وانابت ہے اور نماز اس کی کامل ترین صورت ہے، جو سنت صحیحہ سے ثابت ہوئی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 10–11

آیت 1 1{ یُّرْسِلِ السَّمَآئَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا۔ } ”وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا۔“ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندے بن کر رہو گے تو وہ تمہاری دنیوی زندگی میں بھی تمہارے لیے آسانیاں پیدا کر دے گا اور تمہارے علاقے میں خوب بارشیں برسائے گا ‘ جس سے تمہارے رزق میں اضافہ ہوگا۔ ان الفاظ سے یوں لگتا ہے جیسے حضرت نوح علیہ السلام کی بعثت کے بعد کسی دور میں اس قوم پر خشک سالی اور قحط کا عذاب آیا تھا۔ جیسے قوم فرعون پر قحط اور دوسرے عذاب بھیجے گئے تھے الاعراف : رکوع 16۔ یا جیسے حضور ﷺ کی بعثت کے بعد مکہ میں بہت سخت قحط پڑا تھا سورۃ الدخان : رکوع 1۔ ایسے چھوٹے چھوٹے عذاب دراصل ہر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 9–12

5 استغفار سے حاصل ہونے والے دنیوی فوائد :۔ اور جہاں تک میرے سمجھانے کا تعلق ہے تو میں ان کی مجلسوں میں بھی جاتا ہوں اور ان کے گھروں میں بھی۔ ان سے نجی محفلیں بھی کرتا ہوں۔ انہیں برملا بھی سمجھاتا ہوں اور خیرخواہی کے لہجہ میں انفرادی ملاقاتوں میں انہیں یہ بات سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ اس وقت جو تم پر قحط مسلط ہے، بارشیں نہیں ہو رہیں، اگر تم اللہ کی طرف رجوع کرلو۔ اور اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لو تو تم پر سے یہ قحط دور ہوجائے گا۔ اللہ کی مہربانی سے خوب بارشیں ہوں گی۔ اور تمہارے اموال اور اولاد میں اللہ تعالیٰ خوب برکت عطا فرمائے گا واضح رہے کہ استغفار کے دنیا میں حاصل ہونے والے ایسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 10–12

6۔ یعنی میں نے تو یہ بھی کہہ کہہ کے دیکھ لیا کہ علاوہ نفع اخروی کے وہ مقصود اصلی ہے، تمہیں دنیوی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔ (آیت) ” استغفرواربکم “۔ یہ استغفار ظاہر ہے کہ ایمان کے بعد ہی اور ایمان ہی کے واسطہ سے ممکن تھا۔ (آیت) ” یرسل السمآء .... انھرا “۔ یہ آیت ایمان کی مادی اور دنیوی برکتوں کے باب میں نص ہے۔ (آیت) ” انہ کان غفارا “۔ یعنی یہ نہیں کہ وہ تمہارے گناہ ابھی ہی بخش دے گا۔ بلکہ مغفرت تو اس کی عادت وصفت ہی ہے، اور کچھ آج سے نہیں، ہمیشہ ہی سے رہی ہے۔ کانہ یقول لاتظنوا ان غفاریتہ انما حدثت الان بل ھو ابدا ھکذا کان فکان ھذا بہ حرفتہ وصنعتہ (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 3–20

ان اعبدوا اللہ واتقوہ و اطیعون حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی تبلیغ کا آغاز ان تین باتوں سے فرمایا ایک یہ کہ اللہ بندگی، دوسرے تقویٰ ، تیسرے رسول کی اطاعت، مطلب یہ کہ اگر تم ان تین باتوں کو قبول کرلو تو اب تک جو گناہ تم سے ہوچکے ہیں ان سے وہ درگزر فرمائے گا، یغفرلکم من ذنوبکم و یوخر کم الی اجل مسمی الخ میں بعض مفسرین نے حقوق العباد کو خارج کرنے کے لئے من کو تبعیض کا لیا ہے، اسلام اور ایمان لانے سے حقوق اللہ معاف ہوجائیں گے مگر حقوق العباد سے معافی کے لئے صاحب حق سے معافی ضروری ہوگی، بعض مفسرن نے یہاں من زائدہ یا بمعنی عن لیا ہے مطلب یہ کہ ایمان لانے سے تمہارے سب گناہ معاف ہوجائیں گے مگر دوسری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یرسل السماء . یعنی بارش علیکم مدرارا . مدرارًا (بکثرت بارش والا) السمآء سے حال ہے یہ مذکر کی صفت بھی ہوسکتا ہے اور مؤنث کی بھی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ استغفار معصیت ‘ نزول بارش ‘ حصول نعمت اور عموماً دفع مصیبت کا سبب ہے یا خصوصیت کے ساتھ صرف اس مصیبت کے دفع کا سبب ہے ‘ جس میں مبتلا ہونے کی وجہ گناہوں کی نحوست ہو جیسا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا حال تھا اور اسی کی تائید آیت : ما اصابکم من مصیبۃ فیما کسبت ایدیکم سے ہوتی ہے لیکن اگر نزول مصیبت ترقی درجات کا سبب ہو تو ایسی مصیبت استغفار سے دفع نہیں ہوتی جیسے حضرت ایوب (علیہ السلام) اور بعض دوسرے انبیاء کی مصیبتیں تھیں۔ حضرت سعید کی روایت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 11–12

(11۔ 12) جب بھی تم بارش کے محتاج ہوگے وہ کثرت سے تم پر بارش بھیجے گا، اللہ تعالیٰ نے چالیس سال سے بارش روک رکھی تھی اور تمہارے مال اور اولاد میں ترقی دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے چالیس سال سے ان کے جانوروں اور عورتوں کی نسل کو ختم کر رکھا تھا اور تمہارے لیے باغ لگا دے گا اور تمہارے فائدے کے لیے نہریں جاری کردے گا۔ اللہ تعالیٰ نے چالیس سال سے ان کے باغوں اور نہروں کو خشک کر رکھا تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 11–12

(یرسل السمآء علیکم مداراً…: نوح ؑ نے اپنی قوم کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کر اس سے بخشش مانگنے سے صرف تمہاری آخرت ہی درست نہیں ہوگی بلکہ اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی بیشمار نعمتیں عطا فرمائے گا، وہ تم پر موسلادھار بارشیں برسائے گا، قسم قسم کے مالوں کیساتھ اور بیٹوں کے ساتھ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں باغات اور نہریں عطا فرمائے گا۔ نوح ؑ کے علاوہ ہمارے نبی کریم ﷺ اور دوسرے انبیاء ؑ نے بھی اپنی اپنی قوم کو ایمان و استغفار سے آخرت میں حاصل ہونے والی نعمتوں کے علاوہ ان سے حاصل ہونے والی دنیوی برکتیں بھی بتائیں۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة ہود (3، 52) ، مائدہ (66) اور سورة اعراف (96)۔ ان آیا سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 10–12

اس میں تین مسائل ہیں۔ استغفار کی فضیلت مسئلہ نمبر 1 :۔ فقلت استغفروا ربکم ایمان کے اخلاص کے ساتھ اپنے سابقہ گناہوں سے مغفرت کا سوال کرو۔ انہ کان غفاراً ۔ یہ اس کی جانب سے توبہ میں ترغیب ہے۔ حضرت حذیفہ بن یمان نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے فرمایا : الاستغفار ممعاۃ للذنوب (2) استغفار گناہوں کو مٹانے والی ہے۔ فضیل نے کہا : بندہ کہتا ہے : استغفر اللہ اس کی تفسیر اقلنی ہے یعنی میری غلطیوں سے درگزر فرما۔ توبہ کی فضیلت مسئلہ نمبر 2۔ یرسل السمآء علیکم مدراراً ۔ وہ آسمان کا پانی برساتا ہے۔ اس کلام میں اضمار ہے۔ اصل یہ ہے یرسل ماء السماء۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : السماء کا معنی ہی بارش ہے (1) ۔ شاعر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–11

استغفار کی کثرت اور اس کے فوائد 1۔ ابن مردویہ نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا استغفار کی کثر کرو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم کو استغفار کی تعلیم اس لیے دی کہ وہ تمہاری مغفرت کرنا چاہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يُّرْسِلِ : (مغفرت مانگو گے) تو وہ بھیجے گا ] [السَّمَاۗءَ عَلَيْكُمْ : آسمان کو تم لوگوں پر ] [مِّدْرَارًا : لگاتار برسنے والا ہوتے ہوئے ] (آیت۔ 11) یُرْسِلِ میں لام کی کسرہ بتارہی ہے کہ یہ مضارع مجزوم ہے اور سابقہ آیت میں فعل امر اِسْتَغْفِرُوْا کا جواب امر ہونے کی وجہ سے مجزوم ہوا ہے۔ اس کا مفعول اَلسَّمَاءَ ہے اور مِدْرَارًا حال ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–20

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے خطاب، نعمتوں کی تذکیر، توحید کی دعوت، قوم کا انحراف اور باغیانہ روش یہاں سے سورة ٴ نوح شروع ہو رہی ہے اور بھی کئی سورتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا اور ان کی قوم کی نافرمانی کا اور قوم کے انجام کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے تقریباً ایک ہزار سال کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی وہ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے ان لوگوں میں بت پرستی پھیل گئی تھی۔ بت بنا لیتے تھے اور ان کے نام بھی تجویز کرلیتے تھے جو اس سورت کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں، حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں طرح طرح سے سمجھایا توحید کی اور اللہ وحدہ لاشریک لہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–20

و توحید خالق ارض وسماء : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انآ ارسلنا نوحا الی قومہ ........ الی ......... سبلا فجاجا “۔ (ربط) اس سے قبل سورة معارج میں قیامت اور قیامت کے احوال شدیدہ کا ذکر تھا اور یہ کہ اس روز مجرمین اور نافرمانوں کی پریشانی اور بدحالی انسان کے تصور سے بھی بڑھ کر ہوگی تو اب اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر ہے جن کو حق تعالیٰ نے عالم میں سب سے پہلا وہ رسول بنا کر بھیجا جو شرک وبت پرستی کا رد کرنے والے تھے انکی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ قوم کی یہ کس قدر بدنصیبی تھی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرایا اور بڑی ہی گستاخی کے ساتھ شرک وبت پرستی پر ڈٹے رہے ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 10–12

6:۔ ” فقلت استغفروا “ یہ ترغیب ہے۔ ” مدرارا یرسل “ کا مفعول مطلق ہے۔ من غیر لفظہ یا یہ صیغہ مبالغہ ہے اور السماء سے حال ہے السماء سے مراد بادل یا بارش ہے (مظہری، روح) ۔ میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ ایمان لے آؤ اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو، وہ معاف کرنے والا ہے وہ تم پر موسلا دھار بارانِ رحمت نازل فرمائے گا۔ ” ویمددکم باموال “ تمہارے مال واولاد میں برکت عطاء فرمائے گا، تمہارے لیے پھلوں اور میووں کے سرسبز و شاداب باغات پیدا فرمائے گا اور نہریں جاری کرے گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–20

گذشتہ سے پیوستہ : یہ سورة نوح ہے۔ اور ان دروس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو دعا کا ذکر ہے جو انہوں نے تھک ہار کر بار گاہ الہٰی میں پیش کی کہ یعنی اے پروردگار میں نے پانی قوم کو شب و روز دعوت دی مگر میرے بلانے پر وہ اور زیادہ بھاگنے لگے۔ انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور کپڑے سمیٹ لیے ، اصرار ، اور تکبر کیا۔ میں نے ان کو برملا بھی دعوت دی اور پوشیدہ طور پر بھی نصیحت کی۔ اعلی الاعلان بھی تبلیغ حق کی مگر انہوں نے میری کسی بات کو نہیں مانا۔ استغفار کی ترغیب : آخر میں میں نے انہیں یہ بھی کہا اپنے رب سے استغفار کرو۔ معافی مانگو کیونکہ وہ بہت بخشش کرنے والا ہے۔ استغفار کا معنی بخشش…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يُّرْسِلِ السَّمَاۗءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا۝ 11 ۙ رسل ( ارسال) والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، وقد يكون ذلک بالتّسخیر، كإرسال الریح، والمطر، نحو : وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] ، وقد يكون ببعث من له اختیار، نحو إِرْسَالِ الرّسل، قال تعالی: وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] ، فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] ، وقد يكون ذلک بالتّخلية، وترک المنع، نحو قوله : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83] ، والْإِرْسَالُ يقابل الإمساک . قال تعالی:…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–12

ترکیب : جھارا منصوب علی المصدریۃ لان الدعاء یکون جھارا وغیر جھار فالجھاراحد نوعیہ ویجوزان یکون مصدرا فی موضع الحال ای مجاھرا اوذاجھارا وصفۃ مصدر محذوف بمعنی دعاء جھارا ای مجاھرابہ ‘ اسرارا مفعول مطلق من اسررت یرسل وکذاما بعدہ یمدو یجعل مجزوم علی انہ جواب الامرای استغفروا والمدار الدرورھو التحلب بالمطروانتصابہ اماعلی الحال من السماء ولم یؤنث لان مفعا لایذکرو یونث اوانہ نعت لمصدر محذوف ای ارسالا مدارا۔ تفسیر… : کسریٰ نے مدائن میں طاق بنایا اور خلفائِ بنی العباس کے عہد میں بغداد شہر کی عمارات چنی گئیں اور کوفہ اور بصرہ بھی آباد ہوا تھا۔ الغرض حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بت پرستی اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 10–12

فَـقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّـکُمْ ط اِنَّـہٗ کَانَ غَفَّارًا۔ یُّرْسِلِ السَّمَـآئَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا۔ وَّیُمْدِدْکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَیَجْعَلْ لَّـکُمْ جَنّٰتٍ وَّیَجْعَلْ لَّـکُمْ اَنْھٰرًا۔ (نوح : 10 تا 12) (پھر میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو، بیشک وہ بڑا ہی بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا۔ اور مال و اولاد سے تمہاری مدد کرے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کردے گا۔ ) نرمی اور حکمت سے دعوت کی مثال یہ دلوں میں اتر کر اور نہایت اعتماد میں لے کر بات کہنے کی مثال ہے کہ میں نے ان سے کہا کہ تم آج کل اپنے حالات کی گرفت میں ہو،…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–12

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے ہوئے اس کے حضور توبہ استغفار کرنے کا حکم دیا، اور اس کے دنیا اور آخرت کے فائدے بتلائے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے توحید و رسالت کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! اللہ سے ڈر جاؤ ! اس سے ڈرنے کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے گناہوں سے توبہ کرے یعنی آئندہ گناہ کرنے سے رک جائے۔ قوم نوح کا سب سے بڑا گناہ ” اللہ “ کے ساتھ شرک کرنا تھا، جس سے حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں بار بار منع کیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو استغفار کا فائدہ بتلاتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے استغفار کرنے پر تمہارا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

11 : یُّرْسِلِ السَّمَآ ئَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا (وہ کثرت سے تم پر بارش بھیجے گا) الماءؔ سے بارش مراد ہے۔ مدرارًا بکثرت بارش والا۔ یہ مفعال کا وزن ہے اس میں تذکیر و تانیث برابر ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 5–20

5۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح علیہ اسلام کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم تھا اس کے موافق انہوں نے سالہا سال تک اپنی قوم کو بت پرستی کے وبال سے ڈرایا اور جب ان کی سرکش قوم راہ راست پر نہ آئی تو انہوں نے اپنی قوم کی یہ شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کی جس کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ میں ان لوگوں کو ہر وقت تنہائی میں محفل میں سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوگوں نے میری ایک نہ سنی بلکہ یہ لوگ نصیحت کی بات سے ایسے گھبراتے ہیں کہ جب ان سے کوئی بات نصیحت کی کہی جاتی ہے تو یہ لوگ کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں منہ سر لپیٹ کر کانوں کو کپڑے کے اندر چھپا لیتے ہیں تاکہ نصیحت کی بات سے ان کے کان آشنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک وتعالی نے ان کو دیا کی فوری بھلائی کے ذریعے سے ترگیب دی چناچہ فرمایا (یرسل السماء علیکم مدرارا) یعنی وہ تم پر لگاتار بارش برسائے گا جو وادیوں اور ٹیلوں کو سیراب کردے گی، شہروں اور بندوں کو زندگی عطا کرے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 10–11

12 طلب مغفرت کی تعلیم و تلقین کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح نے فرمایا کہ میں نے ان سے کہا کہ تم لوگ بخشش مانگو اپنے رب سے : یعنی ایمان لا کر اور سچے دل سے اس کی طرف رجوع ہو کر اور تمہارے گناہ اگرچہ بہت زیادہ اور بہت بڑے ہیں مگر پھر بھی تم اس کی رحمت سے مایوس مت ہوؤ، کہ وہ بڑا ہی بخشنے والا غفار ہے اور اس غفار کی طرف تمہارا اپنا رجوع ہی کافی ہے، تمہارے مزعومہ دیویوں، دیوتاؤں اور تمہارے خود ساختہ معبودوں، سرکاروں اور من گھڑت وسیلوں وا سطوں کی واں کوئی ضرورت نہیں، جیسا کہ تم لوگ اپنے خود ساختہ مشرکانہ فلسفے کی بناء پر کہتے رہتے ہو کہ " ہم ان ھوٹے اور خود ساختہ خداؤں کی پوجا پاٹ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–14

سیدنانوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مقصد تشریح :۔ جیسا کہ کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے کہ سیدناآدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی اکرم ﷺ تک جتنے بھی نبی انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے سب نے توحید ہی کی تعلیم دی کیونکہ توحید ہی ایسا عقیدہ ہے جو انسان کو ہر قسم کے شر و فساد اور شیطان کے قبضہ سے نکال کر امن و سکون اور اللہ کی راہ دکھاتا ہے۔ معمول کے مطابق توحید کی تعلیمات آہستہ آہستہ مٹتی گئیں اور بت پرستی بڑھتی گئی تب اللہ تعالیٰ نے سیدنانوح (علیہ السلام) کو ہدایت دینے کے لیے نبی بنا کر انکی قوم کی طرف بھیجا۔ سیدنانوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تین باتوں کی تعلیم دی۔ پہلی اللہ کی بندگی دوسری تقویٰ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–20

سورة نوح۔ آیات 1 تا 20۔ اسرارومعارف۔ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا کہ ان کا کردار ایسا مسخ ہوچکا تھا کہ عذاب الٰہی واقع ہونے کا خطرہ تھا لہذا نوح (علیہ السلام) انہیں بروقت باخبر کرنے کے لیے تشریف لائے کہ اللہ کے دردناک عذاب سے بچنے کا طریقہ سکھائیں لہذا انہوں نے اپنی بعثت کا اعلان فرمایا کہ اللہ نے مجھے تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے اور تم اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اور اس کی نافرمانی سے باز رہو۔ نبی کا لایا ہوا نظام۔ اس کی اطاعت یہ ہے کہ جو میں کہتا ہوں وہ کرو یعنی اپنی زندگی میں میرا دیا ہوا نظام رائج کرو تو تم سے جو گناہ ہوچکے ہیں اللہ اپنی رحمت سے معاف فرمائیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 11–12

ف 1 معلوم ہوا کہ استغفار سے صرف آخرت ہی نہیں بلکہ دنیا میں بھی خوشحال اور مال و دولت اور اولاد میں برکت نصیب ہوتی ہے اسی بناء پر نماز استسقا میں اس سورة کا پڑھنا مستحب ہے۔ حضرت عمر سے متعلق روایات میں ہے کہ آپ استقاء (بارش کی دعا) کیلئے منبر پر چڑھے تو صرف استغفار کیا اور استغفار سے متعلق آیات کی تلاوت کی، جن میں ایک یہ آیت تھی۔ پھر منبر سے اتر کر فرمایا : لقد طلبت الغیث بمخارج السمآء التی یستزل بھا المطر میں نے آسمان کے ان سوراخوں کے ذریعہ بارش کی دعا کی ہے جن سے بارش اتاری جاتی ہے۔ (ابن کثیر) ربیع بن صبیح فرماتے ہیں کہ امام حسن بصری سے جب کوئی شخص تکلیف کی شکایت کرتا تو آپ فرماتے استغفار…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(71:11) یرسل السماء علیکم مدرارا : یرسل مضارع مجزوم (بوجہ جواب امر) وصل کی وجہ سے مکسور ہے۔ ارسال (افعال) مصدر سے۔ وہ بھیجے گا۔ السماء ابر، بارش، آسمان، یہاں بمعنی ابر آیا ہے۔ یرسل کا مفعول ہے۔ مدرارا : درودرور۔ (باب ضرب و نصر) مصدر سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت آنسو بہانے والی آنکھ۔ بہت بارش برسانے والا بادل۔ مدرارا حال ہے السماء سے لہذا منصوب ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ تاکہ تم پر بہت برسنے والا بادل بھیجے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–28

لغات القرآن۔ لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔ تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔ فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–24

حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت کا ذکر۔ (ف 1) اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح کو جس طرح اللہ کا حکم تھا اس کے موافق حضرت نوح نے نو سو برس تک ان کو سمجھاتے رہے جب امید کی کوئی سورت باقی نہ رہی تو مایوس اور تنگ دل ہوکربارگاہ الٰہی میں عرض کیا یا اللہ میں نے اپنی طرف سے دعوت تبلیغ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا رات کی تاریکی اور دن کے اجالے میں برابر ان کو تیری طرف بلاتا رہا، مگر نتیجہ یہ ہوا کہ جوں جوں تیری طرف آنے کو کہا گیا یہ بدبخت اور زیادہ ادھر سے منہ پھیرکربھاگے اور جس قدر میری طرف سے شفقت ودل سوزی کا اظہار ہوا ان کی جانب سے نفرت اور بےزاری بڑھتی گئی سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوں نے میری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 5–14

[2] یعنی جس اللہ نے تخلیق کے مختلف مراحل سے گزار کر تمہیں مکمل انسان بنایا اور جس کی قدرت کی شانیں تمہارے اپنے وجود کے اندر نظر آتی ہیں اس کے متعلق تم یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ بھی کوئی بڑی ہستی ہوگا۔ تم اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہو، اس کے احکام کی نافرمانیاں کرتے ہو لیکن تمہیں اندیشہ لاحق نہیں کہ وہ تمہیں اس کی سزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–14

دین فطرت برکت اور دولت ہے 2: ان آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے دین کے متعلق ایک بہت بڑی غلط فہمی کا زالہ فرمایا ہے ۔ عام طور پر دینداری اور مذہب کے معنے یہ ہیں ۔ کہ یہ دنیا میں ترقی اور تقدم کی دشمن ہے ۔ اور اس کی وجہ سے افلاس فخر اور نیکی تقوی اور پاکیزگی قرار پاتی ہے ۔ اس میں حمق ، بےوقوفی معرفت اور دانائی ہے فرمایا ۔ یہ بات قطعاً غلط ہے ۔ اگر تم لوگ اپنے رب سے تعلقات عقیدت وارادت وابستہ کرلو ۔ اور خلوص کے ساتھ اس سے اپنی لغزشوں اور کوتاہیوں کی تلاف چاہو ، تو وہ ایسا نہیں ہے ۔ کہ معاف نہ کرے ۔ اور تم کو اپنے قرب اور حضوری کا موقع نہ بخشے ۔ تم دیندار ہوجاؤ۔ اور اس کی اطاعت کا ربقہ اپنے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(11) کہ وہ تم پر کثرت سے بارش بھیجے گا اور پے درپے تم پر مینہ برسائے گا۔ مدرار سیلان یعنی بہائو پانی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–11

ف 5۔ مراد اس سے وعظ و خطاب عام ہے جس میں عادة آواز بلند ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش برسائے گا 11 ؎ نوح (علیہ السلام) اپنے اللہ رب کریم کے سامنے اپنی دعوت کے الفاظ پیش کر رہے ہیں جن الفاظ سے انہوں نے اپنی قوم کو بلایا اور پکارا اور ان کو یہاں تک کہا کہ اگر تم میری دعوت کو قبول کرو گے تو میں اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے اپیل کروں گا کہ وہ تم پر موسلا دھار بارش برسائے ، جس سے تمہاری دنیا سنورے گی اور تمہاری فصلیں پروان چڑھیں گی ، تمہارے باغات بار آور ہوں گے ، تم کو خوش حالیاں نصیب ہوں گی لیکن میری ان باتوں نے ان کو نفرت میں اور زیادہ کردیا اور وہ میرے قریب آنے کی بجائے مجھ سے دور ہی ہوتے چلے گئے۔ ایسا کیوں ہوا ؟ قابل غور بات ہے کہ جو باتیں ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–14

Commentary يَغْفِرْ‌ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ and Allah will forgive you your sins, 71:4). The particle min is often used to indicate division into parts, that is, to refer to only a part of an amount, group or number. If it is taken in that sense here, it would signify that by embracing the faith only those sins would be forgiven which pertains to the Divine rights because violation of human rights would be forgiven only when the believer fulfills the human rights which he has violated [ such as pecuniary obligations ] and if they cannot be fulfilled [ such as hurting somebody physically or…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–11

9 "That you might pardon them": that they might give up their attitude of disobedience and beg forgiveness of Allah, for in that way alone they could be forgiven by Allah. 10 They covered their faces either because they did not even like to have a look at the Prophet Noah's face, not to speak of listening to what he said, or they did so in order to hide their own faces from him as they passed by him so that he could not recognize and address them. This precisely was the attitude and conduct which the disbelievers of Makkah were adopting towards the Holy Prophet (upon whom be peace) . In Surah…

Read the full tafseer →