Explained with ayahs 5–20
نو سو سال صدا بصحرا کے بعد بھی ایک پیغمبرانہ کوشش
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ساڑھے نو سو سال تک کی لمبی مدت میں کس کس طرح حضرت نوح نبی نے اپنی قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا قوم نے کس کس طرح اعراض کیا کیسی کیسی تکلیفیں اللہ کے پیارے پیغمبر کو پہنچائیں اور کس طرح اپنی ضد پر اڑ گئے، تو حضرت نوح ؑ بطور شکایت کے جناب باری میں عرض کرتے ہیں کہ الٰہی میں نے تیرے حکم کی پوری طرح سرگرمی سے تعمیل کی، تیرے فرمان عالیشان کے مطابق نہ دن کو دن سمجھا، نہ رات کو رات، بلکہ مسلسل ہر وقت انہیں راہ راست کی دعوت دیتا رہا لیکن کیا کروں کہ جس دل سوزی سے میں انہیں نیکی کی طرف بلاتا رہا وہ اسی سختی سے مجھ سے بھاگتے رہے…
Read the full tafseer →سورة نُوْح 12
یہ بات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان کی گئی ہے کہ خدا سے بغاوت کی روش صرف آخرت ہی میں نہیں، دنیا میں بھی انسان کی زندگی کو تنگ کردیتی ہے، اور اس کے برعکس اگر کوئی قوم نافرمانی کے بجائے ایمان وتقوی اور احکام الہی کی اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے تو یہ آخرت ہی میں نافع نہیں ہے بلکہ دنیا میں بھی اس پر نعمتوں کی بارش ہونے لگتی ہے۔ سورة طٰہٰ میں ارشاد ہوا ہے " اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا اس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے "۔ (آیت 124)۔ سورة مائدہ میں فرمایا گیا ہے " اور اگر ان اہل کتاب نے توراۃ اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–14
معارف و مسائل r
ۙيَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ ، حرف من اکثر تبعین یعنی جزئمت بتلانے کے لئے آتا ہے اگر یہ معنے لئے جاویں تو مطلب یہ ہے کہ ایمان لانے سے تمہارے سے وہ گناہ مغاف ہوجائیں گے جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے کیونکہ حقوق العباد کی معافی کے لئے ایمان لانے کے بعد بھی یہ شرط ہے کہ جو حقوق ادائیگی کے قابل ہیں ان کو ادا کرے جیسے مالی واجبات، اور جو قابل ادائیگی نہیں جیسے زبان یا ہاتھ سے کسی کو ایذاء پہنچائی اس سے معاف کرائے۔
حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ ایمان لانے سے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں اس میں بھی حقوق العباد کی ادائیگی یا معافی شرط ہے اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ حرف من اس جگہ زائد…
Read the full tafseer →اسی اوپر والے مضمون کی یہ مزید توسیع ہے کہ مال، اولاد، باغ اور نہریں سب خدا ہی کے دیے ملتی ہیں۔ اگر تم توبہ و استغفار سے اپنے رب کو راضی رکھو گے تویہ ساری چیزیں تمہیں ملیں گی۔ ان میں سے کوئی چیز بھی تمہارے یہ دیوی دیوتا نہیں دیتے کہ وہ راضی نہ رہے تو نہیں دیں گے یا دے کر چھین لیں گے۔
ہٹ دھرموں کی بلادت پر اظہار تعجب: ’وَیَجْعَلۡ لَّکُمْ جَنَّاتٍ وَیَجْعَلۡ لَّکُمْ أَنْہَارًا‘ میں فعل کے اظہار اور اس کی تکرار سے ان نعمتوں کی گراں قدری اور محبوبیت کا جو مضمون پیدا ہوتا ہے وہ عربیت کا ذوق رکھنے والوں سے مخفی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →12۔ 1 یعنی ایمان و اطاعت سے تمہیں اخروی نعمتیں ملیں گی بلکہ دنیاوی مال ودولت اور بیٹوں کی کثرت سے بھی نوازے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–13
2: یعنی جب تک تمہاری زندگی مقدر ہے، اس وقت تک تمہیں زندہ رکھے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
یرسل .................... مدرارا (17 : 11) ویمدد ................ انھرا (17 : 21) ” وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا ، تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا ، تمہارے لئے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کردے گا “۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے استغفار اور عظائے رزق جہاں کو باہم یکجا کردیا اور قرآن میں بیشمار مواقع پر ایمان ، ہدایت اور صلاح اور تقویٰ اور خوشحالی اور وافر رزق کو ایک دوسرے کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے۔ دوسری جگہ آتا ہے :
ولو ان .................... یکسبون (7 : 69) ” اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو ہم آسمان و زمین سے ان پر نعمتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے جھٹلایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
9 یعنی ایمان و استغفار کی برکت سے قحط و خشک سالی (جس میں وہ برسوں سے مبتلا تھے) دور ہوجائے گی اللہ تعالیٰ دھواں دار برسنے والا بادل بھیج دے گا جس سے کھیت اور باغ خوب سیراب ہوں گے۔ غلے، پھل، میوہ کی افراط ہوگی، مواشی وغیرہ فربہ ہوجائیں گے، دودھ گھی بڑھ جائے گا اور عورتیں جو کفر و معصیت کی شامت سے بانجھ ہو رہی ہیں اولاد ذکور جننے لگیں گی۔ غرض آخرت کے ساتھ دنیا کے عیش و بہار سے بھی وافر حصہ دیا جائے گا۔ (تنبیہ) امام ابوحنیفہ نے اس آیت سے یہ نکالا ہے کہ استسقاء کی اصل حقیقت اور روح استغفار وانابت ہے اور نماز اس کی کامل ترین صورت ہے، جو سنت صحیحہ سے ثابت ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
آیت 13{ مَا لَکُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰہِ وَقَارًا۔ } ”تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کے امیدوار نہیں ہو ؟“
اس آیت کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت کو تسلیم کیوں نہیں کرتے ؟ اور دوسرا یہ کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی عظمت و سطوت سے خوف کیوں نہیں آتا ؟ فی الحال اللہ تعالیٰ تمہیں ڈھیل دے رہا ہے ‘ لیکن اس کی ڈھیل کی بھی ایک حد ہے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے : { اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ۔ } البروج کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کو پکڑنے پر آتا ہے تو اس کی گرفت بہت سخت ہوتی ہے۔ تم ان سب باتوں کا خیال کیوں نہیں کرتے ہو ؟ آخرتم لوگ اس کی نافرمانیاں کرتے ہوئے اور اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
5 استغفار سے حاصل ہونے والے دنیوی فوائد :۔ اور جہاں تک میرے سمجھانے کا تعلق ہے تو میں ان کی مجلسوں میں بھی جاتا ہوں اور ان کے گھروں میں بھی۔ ان سے نجی محفلیں بھی کرتا ہوں۔ انہیں برملا بھی سمجھاتا ہوں اور خیرخواہی کے لہجہ میں انفرادی ملاقاتوں میں انہیں یہ بات سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ اس وقت جو تم پر قحط مسلط ہے، بارشیں نہیں ہو رہیں، اگر تم اللہ کی طرف رجوع کرلو۔ اور اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لو تو تم پر سے یہ قحط دور ہوجائے گا۔ اللہ کی مہربانی سے خوب بارشیں ہوں گی۔ اور تمہارے اموال اور اولاد میں اللہ تعالیٰ خوب برکت عطا فرمائے گا واضح رہے کہ استغفار کے دنیا میں حاصل ہونے والے ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
6۔ یعنی میں نے تو یہ بھی کہہ کہہ کے دیکھ لیا کہ علاوہ نفع اخروی کے وہ مقصود اصلی ہے، تمہیں دنیوی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔ (آیت) ” استغفرواربکم “۔ یہ استغفار ظاہر ہے کہ ایمان کے بعد ہی اور ایمان ہی کے واسطہ سے ممکن تھا۔ (آیت) ” یرسل السمآء .... انھرا “۔ یہ آیت ایمان کی مادی اور دنیوی برکتوں کے باب میں نص ہے۔ (آیت) ” انہ کان غفارا “۔ یعنی یہ نہیں کہ وہ تمہارے گناہ ابھی ہی بخش دے گا۔ بلکہ مغفرت تو اس کی عادت وصفت ہی ہے، اور کچھ آج سے نہیں، ہمیشہ ہی سے رہی ہے۔ کانہ یقول لاتظنوا ان غفاریتہ انما حدثت الان بل ھو ابدا ھکذا کان فکان ھذا بہ حرفتہ وصنعتہ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–20
ان اعبدوا اللہ واتقوہ و اطیعون حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی تبلیغ کا آغاز ان تین باتوں سے فرمایا ایک یہ کہ اللہ بندگی، دوسرے تقویٰ ، تیسرے رسول کی اطاعت، مطلب یہ کہ اگر تم ان تین باتوں کو قبول کرلو تو اب تک جو گناہ تم سے ہوچکے ہیں ان سے وہ درگزر فرمائے گا، یغفرلکم من ذنوبکم و یوخر کم الی اجل مسمی الخ میں بعض مفسرین نے حقوق العباد کو خارج کرنے کے لئے من کو تبعیض کا لیا ہے، اسلام اور ایمان لانے سے حقوق اللہ معاف ہوجائیں گے مگر حقوق العباد سے معافی کے لئے صاحب حق سے معافی ضروری ہوگی، بعض مفسرن نے یہاں من زائدہ یا بمعنی عن لیا ہے مطلب یہ کہ ایمان لانے سے تمہارے سب گناہ معاف ہوجائیں گے مگر دوسری…
Read the full tafseer →و یمددکم باموال و بنین . عطاء نے کہا یعنی تمہارے مال و اولاد کو وہ بہت کر دے گا۔
و یجعل لکم جنات . باغات (یعنی تکذیب سے پہلے جیسے تمہارے باغ سرسبز تھے ‘ ویسے ہی کر دیگا۔
و یججعل لکم انھارا یعنی تکذیب نوح سے پہلے جیسے تمہارے دریا (رواں اور لبریز) تھے ویسے ہی کر دیگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
(11۔ 12) جب بھی تم بارش کے محتاج ہوگے وہ کثرت سے تم پر بارش بھیجے گا، اللہ تعالیٰ نے چالیس سال سے بارش روک رکھی تھی اور تمہارے مال اور اولاد میں ترقی دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے چالیس سال سے ان کے جانوروں اور عورتوں کی نسل کو ختم کر رکھا تھا اور تمہارے لیے باغ لگا دے گا اور تمہارے فائدے کے لیے نہریں جاری کردے گا۔
اللہ تعالیٰ نے چالیس سال سے ان کے باغوں اور نہروں کو خشک کر رکھا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
(یرسل السمآء علیکم مداراً…: نوح ؑ نے اپنی قوم کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کر اس سے بخشش مانگنے سے صرف تمہاری آخرت ہی درست نہیں ہوگی بلکہ اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی بیشمار نعمتیں عطا فرمائے گا، وہ تم پر موسلادھار بارشیں برسائے گا، قسم قسم کے مالوں کیساتھ اور بیٹوں کے ساتھ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں باغات اور نہریں عطا فرمائے گا۔ نوح ؑ کے علاوہ ہمارے نبی کریم ﷺ اور دوسرے انبیاء ؑ نے بھی اپنی اپنی قوم کو ایمان و استغفار سے آخرت میں حاصل ہونے والی نعمتوں کے علاوہ ان سے حاصل ہونے والی دنیوی برکتیں بھی بتائیں۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة ہود (3، 52) ، مائدہ (66) اور سورة اعراف (96)۔ ان آیا سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
اس میں تین مسائل ہیں۔
استغفار کی فضیلت
مسئلہ نمبر 1 :۔ فقلت استغفروا ربکم ایمان کے اخلاص کے ساتھ اپنے سابقہ گناہوں سے مغفرت کا سوال کرو۔ انہ کان غفاراً ۔ یہ اس کی جانب سے توبہ میں ترغیب ہے۔ حضرت حذیفہ بن یمان نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے فرمایا : الاستغفار ممعاۃ للذنوب (2) استغفار گناہوں کو مٹانے والی ہے۔ فضیل نے کہا : بندہ کہتا ہے : استغفر اللہ اس کی تفسیر اقلنی ہے یعنی میری غلطیوں سے درگزر فرما۔
توبہ کی فضیلت
مسئلہ نمبر 2۔ یرسل السمآء علیکم مدراراً ۔ وہ آسمان کا پانی برساتا ہے۔ اس کلام میں اضمار ہے۔ اصل یہ ہے یرسل ماء السماء۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : السماء کا معنی ہی بارش ہے (1) ۔ شاعر…
Read the full tafseer →2۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویجعل لکم جنت ویجعل لکم انہرا۔ اور تمہارے لیے باغ بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنادے گا۔ سے مراد ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو دیکھا کہ ان کی گردنیں کٹ رہی ہیں دنیا کی حرص و لالچ میں۔ تو انہوں نے فرمایا اللہ کی اطاعت کی طرف آجاؤ بلاشبہ اس میں دنیا اور آخرت دونوں کا پانا ہے۔
Read the full tafseer →[وَّيُمْدِدْكُمْ : اور وہ اعانت کرے گا تمہاری ] [بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ : اموال (معیشت) سے اور بیٹوں (افرادی قوت) سے ] [وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنّٰتٍ : اور وہ بنائے گا تمہارے لیے کچھ باغات ] [وَّيَجْعَلْ لَكُمْ انهٰرًا : اور بنائے گا تمہارے لیے کچھ نہریں ]
(آیت۔ 12) یُمْدِدْ اور یَجْعَلْ بھی سابقہ فعل امر اِسْتَغْفِرُوْا کا جواب امر ہونے کی وجہ سے مجزوم ہیں جبکہ جَنّٰتٍ اور اَنْھٰرًا مفعول ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے خطاب، نعمتوں کی تذکیر، توحید کی دعوت، قوم کا انحراف اور باغیانہ روش
یہاں سے سورة ٴ نوح شروع ہو رہی ہے اور بھی کئی سورتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا اور ان کی قوم کی نافرمانی کا اور قوم کے انجام کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے تقریباً ایک ہزار سال کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی وہ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے ان لوگوں میں بت پرستی پھیل گئی تھی۔ بت بنا لیتے تھے اور ان کے نام بھی تجویز کرلیتے تھے جو اس سورت کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں، حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں طرح طرح سے سمجھایا توحید کی اور اللہ وحدہ لاشریک لہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
و توحید خالق ارض وسماء :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انآ ارسلنا نوحا الی قومہ ........ الی ......... سبلا فجاجا “۔
(ربط) اس سے قبل سورة معارج میں قیامت اور قیامت کے احوال شدیدہ کا ذکر تھا اور یہ کہ اس روز مجرمین اور نافرمانوں کی پریشانی اور بدحالی انسان کے تصور سے بھی بڑھ کر ہوگی تو اب اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر ہے جن کو حق تعالیٰ نے عالم میں سب سے پہلا وہ رسول بنا کر بھیجا جو شرک وبت پرستی کا رد کرنے والے تھے انکی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ قوم کی یہ کس قدر بدنصیبی تھی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرایا اور بڑی ہی گستاخی کے ساتھ شرک وبت پرستی پر ڈٹے رہے ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
6:۔ ” فقلت استغفروا “ یہ ترغیب ہے۔ ” مدرارا یرسل “ کا مفعول مطلق ہے۔ من غیر لفظہ یا یہ صیغہ مبالغہ ہے اور السماء سے حال ہے السماء سے مراد بادل یا بارش ہے (مظہری، روح) ۔ میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ ایمان لے آؤ اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو، وہ معاف کرنے والا ہے وہ تم پر موسلا دھار بارانِ رحمت نازل فرمائے گا۔ ” ویمددکم باموال “ تمہارے مال واولاد میں برکت عطاء فرمائے گا، تمہارے لیے پھلوں اور میووں کے سرسبز و شاداب باغات پیدا فرمائے گا اور نہریں جاری کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
گذشتہ سے پیوستہ :
یہ سورة نوح ہے۔ اور ان دروس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو دعا کا ذکر ہے جو انہوں نے تھک ہار کر بار گاہ الہٰی میں پیش کی کہ یعنی اے پروردگار میں نے پانی قوم کو شب و روز دعوت دی مگر میرے بلانے پر وہ اور زیادہ بھاگنے لگے۔ انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور کپڑے سمیٹ لیے ، اصرار ، اور تکبر کیا۔ میں نے ان کو برملا بھی دعوت دی اور پوشیدہ طور پر بھی نصیحت کی۔ اعلی الاعلان بھی تبلیغ حق کی مگر انہوں نے میری کسی بات کو نہیں مانا۔
استغفار کی ترغیب :
آخر میں میں نے انہیں یہ بھی کہا اپنے رب سے استغفار کرو۔ معافی مانگو کیونکہ وہ بہت بخشش کرنے والا ہے۔ استغفار کا معنی بخشش…
Read the full tafseer →وَّيُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَيَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّيَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْہٰرًا 12 ۭ
امد
قال تعالی: تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَها وَبَيْنَهُ أَمَداً بَعِيداً [ آل عمران/ 30] . والأَمَد والأبد يتقاربان، لکن الأبد عبارة عن مدّة الزمان التي ليس لها حدّ محدود، ولا يتقید، لا يقال : أبد کذا .
والأَمَدُ : مدّة لها حدّ مجهول إذا أطلق، وقد ينحصر نحو أن يقال : أمد کذا، كما يقال : زمان کذا، والفرق بين الزمان والأمد أنّ الأمد يقال باعتبار الغاية، والزمان عامّ في المبدأ والغاية، ولذلک قال بعضهم : المدی والأمد يتقاربان .
( ا م د ) الامد ۔ ( موت ۔ غایت ) قرآن میں ہے :۔ { تَوَدُّ لَوْ أَنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
ترکیب : جھارا منصوب علی المصدریۃ لان الدعاء یکون جھارا وغیر جھار فالجھاراحد نوعیہ ویجوزان یکون مصدرا فی موضع الحال ای مجاھرا اوذاجھارا وصفۃ مصدر محذوف بمعنی دعاء جھارا ای مجاھرابہ ‘ اسرارا مفعول مطلق من اسررت یرسل وکذاما بعدہ یمدو یجعل مجزوم علی انہ جواب الامرای استغفروا والمدار الدرورھو التحلب بالمطروانتصابہ اماعلی الحال من السماء ولم یؤنث لان مفعا لایذکرو یونث اوانہ نعت لمصدر محذوف ای ارسالا مدارا۔
تفسیر… : کسریٰ نے مدائن میں طاق بنایا اور خلفائِ بنی العباس کے عہد میں بغداد شہر کی عمارات چنی گئیں اور کوفہ اور بصرہ بھی آباد ہوا تھا۔ الغرض حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بت پرستی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
فَـقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّـکُمْ ط اِنَّـہٗ کَانَ غَفَّارًا۔ یُّرْسِلِ السَّمَـآئَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا۔ وَّیُمْدِدْکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَیَجْعَلْ لَّـکُمْ جَنّٰتٍ وَّیَجْعَلْ لَّـکُمْ اَنْھٰرًا۔ (نوح : 10 تا 12)
(پھر میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو، بیشک وہ بڑا ہی بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا۔ اور مال و اولاد سے تمہاری مدد کرے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کردے گا۔ )
نرمی اور حکمت سے دعوت کی مثال
یہ دلوں میں اتر کر اور نہایت اعتماد میں لے کر بات کہنے کی مثال ہے کہ میں نے ان سے کہا کہ تم آج کل اپنے حالات کی گرفت میں ہو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے ہوئے اس کے حضور توبہ استغفار کرنے کا حکم دیا، اور اس کے دنیا اور آخرت کے فائدے بتلائے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے توحید و رسالت کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! اللہ سے ڈر جاؤ ! اس سے ڈرنے کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے گناہوں سے توبہ کرے یعنی آئندہ گناہ کرنے سے رک جائے۔ قوم نوح کا سب سے بڑا گناہ ” اللہ “ کے ساتھ شرک کرنا تھا، جس سے حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں بار بار منع کیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو استغفار کا فائدہ بتلاتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے استغفار کرنے پر تمہارا…
Read the full tafseer →12 : وَّ یُمْدِدْکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ (وہ تمہارے مال اور اولاد میں ترقی دیگا) تمہارے اموال و اولاد میں اضافہ فرما دے گا۔ وَیَجْعَلْ لَّکُمْ جَنّٰتٍ (اور تمہارے لیئے باغ لگا دے گا) جنات : باغات۔ وَّ یَجْعَلْ لَّکُمْ اَنْھٰرًا (اور تمہارے لئے نہریں بہا دے گا) جو تمہارے کھیتوں اور باغوں میں جاری ہونگی وہ اموال و اولاد سے بہت محبت کرتے تھے۔ اس بناء پر اسی کے ذریعہ ان کے دلوں میں ایمان کی تحریک پیدا کرنے کی کوشش فرمائی۔ ایک قول یہ ہے بار بار دعوت کو جب طویل عرصہ گزر گیا اور انہوں نے جھٹلا دیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان سے بارش کو بند کردیا۔ اور ان کی عورتیں اولاد سے بانجھ ہوگئیں یہ چالیس یا…
Read the full tafseer →11 ۔” یرسل السمآء علیکم مدرارا “ اور یہ کہ قوم نوح (علیہ السلام) نے جب لمبا زمانہ ان کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے بارش روک لی اور عورتوں کو بانجھ کردیا چالیس 40 سال تو ان کی اولاد ، مال اور مویشی ہلاک ہوگئے تو ان کو نوح (علیہ السلام) نے کہا تم اپنے رب سے شرک سے معافی طلب کرو یعنی مغفرت طلب کرو توحید اپنا کر۔ وہ تم پر آسمان سے بہت زیادہ بارش بھیجے گا۔ شعبی (رح) سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ لوگوں کے ساتھ بارش طلب کرنے نکلے، پس استغفار کیا اور لوٹ آئے تو ان کو کہا گیا ہم نے آپ ؓ کو بارش طلب کرتے تو نہیں سنا ؟ تو آپ ؓ نے کہا میں نے بارش ک و آسمان کے مجاریع سے طلب کیا ہے جن سے بارش اتاری جاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–20
5۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح علیہ اسلام کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم تھا اس کے موافق انہوں نے سالہا سال تک اپنی قوم کو بت پرستی کے وبال سے ڈرایا اور جب ان کی سرکش قوم راہ راست پر نہ آئی تو انہوں نے اپنی قوم کی یہ شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کی جس کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ میں ان لوگوں کو ہر وقت تنہائی میں محفل میں سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوگوں نے میری ایک نہ سنی بلکہ یہ لوگ نصیحت کی بات سے ایسے گھبراتے ہیں کہ جب ان سے کوئی بات نصیحت کی کہی جاتی ہے تو یہ لوگ کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں منہ سر لپیٹ کر کانوں کو کپڑے کے اندر چھپا لیتے ہیں تاکہ نصیحت کی بات سے ان کے کان آشنا…
Read the full tafseer →(ویمددکم باموال وبنین) یعنی اللہ تبارک وتعالی تمہارے اموال میں، جن کے ذریعے سے تم دنیا کی ہر وہ چیز حاصل کرتے ہو، جس کی تمہیں طلب ہوتی ہے اور تمہاری اولاد میں کثرت عطاکرے گا (ویجعل لکم جنت ویعلکم انھرا) اور تمہارے لیے باغات پیدا کرے گا اور نہریں جاری کردے گا، یہ دنیا کی لذتوں اور اس کے مطالب کی انتہا ہے۔
Read the full tafseer →13 توبہ و استغفار ذریعہ برکات و سرفرازی سو حضرت نوح نے مزید فرمایا کہ میں نے ان سے کہا کہ تم لوگ معافی مانگو اپنے رب سے۔ وہ تمہارے لئے دھانے کھول دے گا باران رحمت کے : جس سے تمہاری قحط سالی دور ہوجائے گی اور تمہیں خوش حالی نصیب ہوگی، روایات میں ہے کہ کفر و تکذیب کی بناء پر ان لوگوں پر قحط سالی مسلط کردی گئی تھی، جس سے بارشیں بند ہوگئیں، فصلیں اجڑ گئیں، باغات خشک ہوگئے، پانی سوکھ گئے، مویشیہ لاک ہوگئے، اور عورتیں بانجھ ہوگئیں تو اس پر حضرت نوح نے ان کو یہ ارشاد فرمایا، سو اس سے ایک طرف تو یہ معلوم ہوا کہ برے اعمال کی سزا کسی حد تک اس دنیا میں بھی ملتی ہے، والعیاذ باللہ اور دوسرے یہ کہ توبہ و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سیدنانوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مقصد
تشریح :۔ جیسا کہ کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے کہ سیدناآدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی اکرم ﷺ تک جتنے بھی نبی انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے سب نے توحید ہی کی تعلیم دی کیونکہ توحید ہی ایسا عقیدہ ہے جو انسان کو ہر قسم کے شر و فساد اور شیطان کے قبضہ سے نکال کر امن و سکون اور اللہ کی راہ دکھاتا ہے۔ معمول کے مطابق توحید کی تعلیمات آہستہ آہستہ مٹتی گئیں اور بت پرستی بڑھتی گئی تب اللہ تعالیٰ نے سیدنانوح (علیہ السلام) کو ہدایت دینے کے لیے نبی بنا کر انکی قوم کی طرف بھیجا۔ سیدنانوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تین باتوں کی تعلیم دی۔ پہلی اللہ کی بندگی دوسری تقویٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
سورة نوح۔
آیات 1 تا 20۔
اسرارومعارف۔
ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا کہ ان کا کردار ایسا مسخ ہوچکا تھا کہ عذاب الٰہی واقع ہونے کا خطرہ تھا لہذا نوح (علیہ السلام) انہیں بروقت باخبر کرنے کے لیے تشریف لائے کہ اللہ کے دردناک عذاب سے بچنے کا طریقہ سکھائیں لہذا انہوں نے اپنی بعثت کا اعلان فرمایا کہ اللہ نے مجھے تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے اور تم اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اور اس کی نافرمانی سے باز رہو۔
نبی کا لایا ہوا نظام۔
اس کی اطاعت یہ ہے کہ جو میں کہتا ہوں وہ کرو یعنی اپنی زندگی میں میرا دیا ہوا نظام رائج کرو تو تم سے جو گناہ ہوچکے ہیں اللہ اپنی رحمت سے معاف فرمائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
ف 1 معلوم ہوا کہ استغفار سے صرف آخرت ہی نہیں بلکہ دنیا میں بھی خوشحال اور مال و دولت اور اولاد میں برکت نصیب ہوتی ہے اسی بناء پر نماز استسقا میں اس سورة کا پڑھنا مستحب ہے۔ حضرت عمر سے متعلق روایات میں ہے کہ آپ استقاء (بارش کی دعا) کیلئے منبر پر چڑھے تو صرف استغفار کیا اور استغفار سے متعلق آیات کی تلاوت کی، جن میں ایک یہ آیت تھی۔ پھر منبر سے اتر کر فرمایا : لقد طلبت الغیث بمخارج السمآء التی یستزل بھا المطر میں نے آسمان کے ان سوراخوں کے ذریعہ بارش کی دعا کی ہے جن سے بارش اتاری جاتی ہے۔ (ابن کثیر) ربیع بن صبیح فرماتے ہیں کہ امام حسن بصری سے جب کوئی شخص تکلیف کی شکایت کرتا تو آپ فرماتے استغفار…
Read the full tafseer →(71:12) ویمددکم ب اموال وبنین۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔
یمدد مضارع مجزوم (بوجہ جواب امر) واحد مذکر غائب ۔ امداد (افعال) مصدر وہ بڑھائے گا۔ وہ مدد کرے گا۔
بنین : ابن کی جمع بحالت جر۔ بیٹے۔ مطلب یہ کہ تمہارے مال و اولاد کو بہت کودیگا۔
ویجعل لکم جنت اور تمہیں باغات دے گا۔ یجعل مضارع مجزوم بوجہ جواب امر۔ واحد مذکر غائب جعل (باب فتح) مصدر۔ کر دے گا۔ بنا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–28
لغات القرآن۔
لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔
تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔
فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–24
حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت کا ذکر۔
(ف 1) اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح کو جس طرح اللہ کا حکم تھا اس کے موافق حضرت نوح نے نو سو برس تک ان کو سمجھاتے رہے جب امید کی کوئی سورت باقی نہ رہی تو مایوس اور تنگ دل ہوکربارگاہ الٰہی میں عرض کیا یا اللہ میں نے اپنی طرف سے دعوت تبلیغ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا رات کی تاریکی اور دن کے اجالے میں برابر ان کو تیری طرف بلاتا رہا، مگر نتیجہ یہ ہوا کہ جوں جوں تیری طرف آنے کو کہا گیا یہ بدبخت اور زیادہ ادھر سے منہ پھیرکربھاگے اور جس قدر میری طرف سے شفقت ودل سوزی کا اظہار ہوا ان کی جانب سے نفرت اور بےزاری بڑھتی گئی سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوں نے میری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–14
[2] یعنی جس اللہ نے تخلیق کے مختلف مراحل سے گزار کر تمہیں مکمل انسان بنایا اور جس کی قدرت کی شانیں تمہارے اپنے وجود کے اندر نظر آتی ہیں اس کے متعلق تم یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ بھی کوئی بڑی ہستی ہوگا۔ تم اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہو، اس کے احکام کی نافرمانیاں کرتے ہو لیکن تمہیں اندیشہ لاحق نہیں کہ وہ تمہیں اس کی سزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
دین فطرت برکت اور دولت ہے
2: ان آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے دین کے متعلق ایک بہت بڑی غلط فہمی کا زالہ فرمایا ہے ۔ عام طور پر دینداری اور مذہب کے معنے یہ ہیں ۔ کہ یہ دنیا میں ترقی اور تقدم کی دشمن ہے ۔ اور اس کی وجہ سے افلاس فخر اور نیکی تقوی اور پاکیزگی قرار پاتی ہے ۔ اس میں حمق ، بےوقوفی معرفت اور دانائی ہے فرمایا ۔ یہ بات قطعاً غلط ہے ۔ اگر تم لوگ اپنے رب سے تعلقات عقیدت وارادت وابستہ کرلو ۔ اور خلوص کے ساتھ اس سے اپنی لغزشوں اور کوتاہیوں کی تلاف چاہو ، تو وہ ایسا نہیں ہے ۔ کہ معاف نہ کرے ۔ اور تم کو اپنے قرب اور حضوری کا موقع نہ بخشے ۔ تم دیندار ہوجاؤ۔ اور اس کی اطاعت کا ربقہ اپنے…
Read the full tafseer →(12) اور تم کو اموال اور بیٹے دے کر تمہاری مدد کرے گا یعنی مالوں میں اور بیٹوں میں ترقی دے گا اور تمہارے لئے بہت سے باغ لگادے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کردے گا۔ یعنی دنیوی نعمتوں سے سرفراز فرمائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
ف 6۔ ان نعمتوں کے ذکر سے شاید یہ فائدہ ہو کہ اکثر طبائع میں عاجل کی طلب زیادہ ہے۔ چناچہ در منثور میں قتادہ کا قول ہے کہ وہ لوگ دنیا کے زیادہ حریص تھے اس لئے یہ فرمایا۔
Read the full tafseer →وہ تمہاری مال اور بیٹوں سے مدد فرمائے گا اور باغات اور نہریں چلا دے گا
12 ؎ نوح (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے رب ! میں نے ان کو تیرے نام سے دعوت توحید دیتے ہوئے بار بار کہا ہے کہ آ کر تم اکیلے اللہ کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھو گے تو وہ تم پر بہت نوازشات کرے گا ، تم کو وہ بہت خوبصورت ، صحت مند اور قوی ہکل اولاد عطا کرے گا اور تمہارے مال اور دولت میں بھی وہ بیحد اضافہ کرتا جائے گا ، تمہاری بنجر زمینیں آباد ہوں گی ، تمہارے چٹیل میدان ہرے بھرے ہوجائیں گے اور آسمان بارش برسا کر تمہارے یہ باغات بار آور بنا دے گا اور اس طرح تمہاری دنیوی زندگی کو پہلے سے بھی زیادہ چار چاند لگ جائیں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–14
Commentary
يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ and Allah will forgive you your sins, 71:4). The particle min is often used to indicate division into parts, that is, to refer to only a part of an amount, group or number. If it is taken in that sense here, it would signify that by embracing the faith only those sins would be forgiven which pertains to the Divine rights because violation of human rights would be forgiven only when the believer fulfills the human rights which he has violated [ such as pecuniary obligations ] and if they cannot be fulfilled [ such as hurting somebody physically or…
Read the full tafseer →12 This theme has been expressed at several places in the Qur'an that the rebellious attitude against God causes man to lead a wretched life not only in the Hereafter but also in this world, Contrary to this, if a nation adopts the way of faith and piety and obedience to Divine Commands, instead of disobedience, it benefits it not only in the Hereafter but also in the world; it is favoured with every kind of blessing. In Surah Ta Ha it has been said: "And whoever turns away from My Admonition, will have a wretched life in the world, and We shall raise him up blind on the Day of Resurrection."…
Read the full tafseer →