Explained with ayahs 5–20
نو سو سال صدا بصحرا کے بعد بھی ایک پیغمبرانہ کوشش
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ساڑھے نو سو سال تک کی لمبی مدت میں کس کس طرح حضرت نوح نبی نے اپنی قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا قوم نے کس کس طرح اعراض کیا کیسی کیسی تکلیفیں اللہ کے پیارے پیغمبر کو پہنچائیں اور کس طرح اپنی ضد پر اڑ گئے، تو حضرت نوح ؑ بطور شکایت کے جناب باری میں عرض کرتے ہیں کہ الٰہی میں نے تیرے حکم کی پوری طرح سرگرمی سے تعمیل کی، تیرے فرمان عالیشان کے مطابق نہ دن کو دن سمجھا، نہ رات کو رات، بلکہ مسلسل ہر وقت انہیں راہ راست کی دعوت دیتا رہا لیکن کیا کروں کہ جس دل سوزی سے میں انہیں نیکی کی طرف بلاتا رہا وہ اسی سختی سے مجھ سے بھاگتے رہے…
Read the full tafseer →سورة نُوْح 13
مطلب یہ ہے کہ دنیا کے چھوٹے چھوٹے ریئسوں اور سرداروں کے بارے میں تو تم یہ سمجھتے ہو کہ ان کے وقار کے خلاف کوئی حرکت کرنا خطرناک ہے، مگر خداوند عالم کے متعلق تم یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ بھی کوئی باوقار ہستی ہوگا۔ اس کے خلاف تم بغاوت کرتے ہو، اس کی خدائی میں دوسروں کو شریک ٹھیراتے ہو، اس کے احکام کی نافرمانیاں کرتے ہو، اور اس سے تمہیں یہ اندیشہ لاحق نہیں ہوتا کہ وہ اس کی سزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–14
معارف و مسائل r
ۙيَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ ، حرف من اکثر تبعین یعنی جزئمت بتلانے کے لئے آتا ہے اگر یہ معنے لئے جاویں تو مطلب یہ ہے کہ ایمان لانے سے تمہارے سے وہ گناہ مغاف ہوجائیں گے جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے کیونکہ حقوق العباد کی معافی کے لئے ایمان لانے کے بعد بھی یہ شرط ہے کہ جو حقوق ادائیگی کے قابل ہیں ان کو ادا کرے جیسے مالی واجبات، اور جو قابل ادائیگی نہیں جیسے زبان یا ہاتھ سے کسی کو ایذاء پہنچائی اس سے معاف کرائے۔
حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ ایمان لانے سے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں اس میں بھی حقوق العباد کی ادائیگی یا معافی شرط ہے اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ حرف من اس جگہ زائد…
Read the full tafseer →یہ قوم کے ہٹ دھرموں کی بلادت پر اظہار تعجب ہے کہ میں جو تمہیں اس طرح ٹوٹ ٹوٹ کر استغفار کی دعوت دے رہا ہوں تو آخر تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم کانوں میں تیل ڈالے پڑے ہو اور میری سنی ان سنی کیے دے رہے ہو! کیا تم سمجھتے ہو کہ تم اسی طرح اپنی دلچسپیوں میں مگن رہو گے اور جس رب نے تمہیں یہ سب کچھ دے رکھا ہے اس کا جلال، تمہاری بدمستیوں کے باوجود کبھی ظہور میں نہیں آئے گا! مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے ایسا سمجھ رکھا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تمہاری نگاہوں میں اس کی عظمت و جلالت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ تم اس کو العیاذ باللہ بالکل بے حس، بے حمیت اور بے بس خیال کیے بیٹھے ہو کہ اس کی دنیا میں جو دھاندلی چاہو…
Read the full tafseer →13۔ 1 یعنی جس طرح اس کی عظمت کا حق ہے تم اس سے ڈرتے کیوں نہیں ؟ اور اس کو ایک کیوں نہیں مانتے اور اس کی اطاعت کیوں نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–13
2: یعنی جب تک تمہاری زندگی مقدر ہے، اس وقت تک تمہیں زندہ رکھے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
اب ذرا دیکھئے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی طویل جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ اپنی قوم کو انفس وآفاق میں پائے جانے والے دلائل ایمان کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ آپ حیران رہ جاتے ہیں کہ اس کے جواب میں قوم ان کو کس طرح رد کرتی ہے ، نہایت گستاخانہ رویہ اپناتی ہے۔ آپ اس رویہ پر ان کی سرزنش کرتے ہیں۔
مالکم ................ وقارا (17 : 31) وقد ............ اطوارا (17 : 41) ” تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اللہ کے لئے تم کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے ؟ حالانکہ اس نے طرح طرح سے تمہیں بنایا ہے “۔ یہ اطوار کیا تھے ؟ قوم نوح (علیہ السلام) ان کو اچھی طرح سمجھتی تھی یا اس کا کوئی ایسا مفہوم تھا جو وہ…
Read the full tafseer →10 یعنی اللہ کی بڑائی سے امید رکھنا چاہیے کہ تم اس کی فرمانبرداری کرو گے تو تم کو بزرگی اور عزت و وقار عنایت فرمائے گا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم اللہ کی بڑائی کا اعتقاد کیوں نہیں رکھتے اور اس کی عظمت و جلال سے ڈرتے کیوں نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
آیت 13{ مَا لَکُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰہِ وَقَارًا۔ } ”تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کے امیدوار نہیں ہو ؟“
اس آیت کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت کو تسلیم کیوں نہیں کرتے ؟ اور دوسرا یہ کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی عظمت و سطوت سے خوف کیوں نہیں آتا ؟ فی الحال اللہ تعالیٰ تمہیں ڈھیل دے رہا ہے ‘ لیکن اس کی ڈھیل کی بھی ایک حد ہے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے : { اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ۔ } البروج کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کو پکڑنے پر آتا ہے تو اس کی گرفت بہت سخت ہوتی ہے۔ تم ان سب باتوں کا خیال کیوں نہیں کرتے ہو ؟ آخرتم لوگ اس کی نافرمانیاں کرتے ہوئے اور اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہوئے…
Read the full tafseer →6 یعنی جب تم اپنے چھوٹے چھوٹے چودہریوں اور سرداروں کے ہاں جاتے ہو تو بڑے اہتمام کے ساتھ جاتے ہو۔ اور وہاں جاکر بھی یہ خیال رکھتے ہو کہ خلاف ادب کوئی حرکت سرزد نہ ہوجائے لیکن اللہ کو تم نے ایسا ہی بےوقار سمجھ رکھا ہے کہ اس کے خلاف بغاوت کرتے ہو۔ اس کی نافرمانیاں کرتے ہو اس کی خدائی میں دوسروں کو شریک بناتے ہو اور تمہیں ذرہ بھر شرم نہیں آتی۔ نہ ہی تمہیں یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ ہر وقت ہمیں ان گناہوں کی سزا دینے کی قدرت رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
7۔ (اور تمہیں خلقت کے مختلف ادوار سے گزارا ہے) (آیت) ” لا .... وقارا۔ اگر حق تعالیٰ کی عظمت تمہارے دلوں میں ہوتی تو خود بخود شرک سے نفرت اور بت پرستی سے بیزاری تمہیں پیدا ہوجاتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–20
ان اعبدوا اللہ واتقوہ و اطیعون حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی تبلیغ کا آغاز ان تین باتوں سے فرمایا ایک یہ کہ اللہ بندگی، دوسرے تقویٰ ، تیسرے رسول کی اطاعت، مطلب یہ کہ اگر تم ان تین باتوں کو قبول کرلو تو اب تک جو گناہ تم سے ہوچکے ہیں ان سے وہ درگزر فرمائے گا، یغفرلکم من ذنوبکم و یوخر کم الی اجل مسمی الخ میں بعض مفسرین نے حقوق العباد کو خارج کرنے کے لئے من کو تبعیض کا لیا ہے، اسلام اور ایمان لانے سے حقوق اللہ معاف ہوجائیں گے مگر حقوق العباد سے معافی کے لئے صاحب حق سے معافی ضروری ہوگی، بعض مفسرن نے یہاں من زائدہ یا بمعنی عن لیا ہے مطلب یہ کہ ایمان لانے سے تمہارے سب گناہ معاف ہوجائیں گے مگر دوسری…
Read the full tafseer →مالکم لا ترجون للہ وقارا . ما استفہامیہ ہے وقار ‘ عظمت ‘ توقیر سے اسم مصدر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور
مجاہد ؓ کے نزدیک رجاء کا معنی ہے اعتقاد یعنی تم اپنے اعتقاد میں اللہ کی عظمت نہیں جانتے۔ رجاء (اُمید) تو ادنیٰ ظن کے تابع ہوتی ہے (یعنی کسی بات کے ہونے کا ذرا سا بھی گمان غالب ہوجاتا ہے تو اس کی امید ہوجاتی ہے) لیکن یہاں اعتقاد کو رجاء فرمایا یہ محض کلام میں زور پیدا کرنے کے لیے ہے (یعنی خدا کی عظمت تمہارے عقیدہ میں تو بہرحال نہیں ہے اور عقیدہ کیا تمہارے ظن میں بھی نہیں ہے) کلبی نے آیت کا معنی بیان کیا تم اللہ کی عظمت سے نہیں ڈرتے گویا کلبی کے نزدیک رجاء اس جگہ بمعنی خوف ہے۔ حسن بصری نے آیت کی…
Read the full tafseer →تمہیں کیا ہوا کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت کے معتقد نہیں ہوتے یا یہ کہ تمہیں کیا ہوا کہ تم اللہ تعالیٰ کی جیسی عظمت کرنی چاہیے ویسی عظمت نہیں کرتے کہ اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ۔ حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح کی حالتیں تبدیل کر کے بنایا ہے کہ نطفہ، علقہ، مضغہ اور عظام سے۔
Read the full tafseer →(مالکم لاترجون اللہ وقاراً :) (لاترجون“ (رجا یرجو رجائ“ (ن) امید رکھنا۔ اس کا معنی عقیدہ رکھنا اور ڈرنا بھی آتا ہے، کیونکہ یہ دونوں چیزیں اور امید آپ س میں لازم و ملزوم ہیں۔ امید اسی چیز کی ہوتی ہے جس کے موجود ہونے کا عقیدہ ہو اور امید کا مطلب ہی یہ ہے کہ خوف بھی موجود ہے۔ ”وقاراً“ کا معین عظمت ہے۔ آیت کا معنی یہ ہوگا کہ تمہیں کیا ہے کہ اپنے بتوں کی عظمت تو تمہارے دلوں میں بہت ہے ، مگر تم اللہ تعالیٰ کی عظمت کا عقیدہ نہیں رکھتے ؟ دوسرا معنی ہے کہ تم اللہ کی عظمت سے نہیں ڈرتے۔ اگر تم اس کے وقار و عظمت کے معتقد ہوتے اور تمہیں اس کا خوف ہوتا تو اس کے ساتھ ایسی ہستیوں کو کبھی شریک نہ بناتے جو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ایک قول یہ کیا گیا ہے، رجا یہاں خوف کے معنی میں ہے یعنی تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے کہ وہ تم میں سے کسی کو سزا دینے کی قدرت رکھتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے خوف کو ترک کرنے میں تمہارے پاس کیا عذر ہے۔ سعید بن جبیر، ابو العالیہ اور عطاء بن ابی رباح نے کہا، تمہیں کیا ہوگ یا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے ثواب کی امید نہیں رکھتے اور اس کے عقاب سے نہیں ڈرتے (1) سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے : تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے عقاب سے نہیں ڈرتے اور اس سے ثواب کی امید رکھتے ہو۔ والبی اور عوفی نے ان سے روایت نقل کی ہے : تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ…
Read the full tafseer →3۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید و بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت مالکم لا ترجون للہ وقارا تمہیں کیا ہوگیا تم اللہ کی عظمت کا خیال نہیں رکھتے۔ یعنی تم اللہ کے لیے عظمت کو نہیں جانتے۔
4۔ ابن جریر و بیہقی نے ابن عباس ؓ سے آیت مالکم لا ترجون للہ وقارا کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے عظمت مراد ہے آیت مالکم لا ترجون للہ وقارا۔ حالانکہ اس نے تم کو کئی مرحلوں میں گذار کر پیدا کیا یعنی نطفہ سے پھر جمے ہوئے خون سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے۔
5۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت مالکم لا ترجون للہ وقارا کے بارے میں روایت کیا کہ تم نہیں پہچانتے اللہ کے لیے اس کے…
Read the full tafseer →[مَا لَكُمْ : تم لوگوں کو کیا ہوا ہے ] [لَا تَرْجونَ للّٰهِ : (کہ) تم لوگ امید نہیں رکھتے اللہ سے ] [وَقَارًا : کسی عظمت کی ]
(آیت۔ 13) تَرْجُوْنَ کا مفعول وَقَارًا ہے۔
نوٹ۔ 5: آیت۔ 13 ۔ 14 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی بڑائی سے امید رکھنا چاہیے کہ اس کی فرمانبرداری کرو گے تو تم کو عزت و وقار عنایت فرمائے گا۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کی بڑائی کا اعتقاد کیوں نہیں رکھتے اور اس کی عظمت و جلال سے ڈرتے کیوں نہیں۔ (حالانکہ تمہارا اپنا وجود اس کی عظمت کی علامت کے طور پر کافی ہے) ۔ ماں کے پیٹ میں تم نے طرح طرح کے رنگ بدلے۔ اور اصلی مادے سے لے کر موت تک آدمی کتنی پلٹیاں کھاتا ہے، کتنے اطوار و ادوار اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے خطاب، نعمتوں کی تذکیر، توحید کی دعوت، قوم کا انحراف اور باغیانہ روش
یہاں سے سورة ٴ نوح شروع ہو رہی ہے اور بھی کئی سورتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا اور ان کی قوم کی نافرمانی کا اور قوم کے انجام کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے تقریباً ایک ہزار سال کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی وہ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے ان لوگوں میں بت پرستی پھیل گئی تھی۔ بت بنا لیتے تھے اور ان کے نام بھی تجویز کرلیتے تھے جو اس سورت کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں، حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں طرح طرح سے سمجھایا توحید کی اور اللہ وحدہ لاشریک لہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
و توحید خالق ارض وسماء :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انآ ارسلنا نوحا الی قومہ ........ الی ......... سبلا فجاجا “۔
(ربط) اس سے قبل سورة معارج میں قیامت اور قیامت کے احوال شدیدہ کا ذکر تھا اور یہ کہ اس روز مجرمین اور نافرمانوں کی پریشانی اور بدحالی انسان کے تصور سے بھی بڑھ کر ہوگی تو اب اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر ہے جن کو حق تعالیٰ نے عالم میں سب سے پہلا وہ رسول بنا کر بھیجا جو شرک وبت پرستی کا رد کرنے والے تھے انکی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ قوم کی یہ کس قدر بدنصیبی تھی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرایا اور بڑی ہی گستاخی کے ساتھ شرک وبت پرستی پر ڈٹے رہے ارشاد…
Read the full tafseer →7:۔ ” مالک لا ترجون “ یہ ترہیب اور دلائل عقلیہ کا ذکر ہے۔ ترجون کے معنی ہیں، تخافون یا تعتقدون اور وقار کے معنی ہیں عظمت و جلالت۔ تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کا اعتقاد نہیں رکھتے ہو جس نے تمہیں اس قدر نعمتوں سے مالا مال فرمایا ہے اور معبودان باطلہ کو کیوں نہیں چھوڑتے ہو اور ان کو برکات دہندہ کیوں سمجھتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
گذشتہ سے پیوستہ :
یہ سورة نوح ہے۔ اور ان دروس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو دعا کا ذکر ہے جو انہوں نے تھک ہار کر بار گاہ الہٰی میں پیش کی کہ یعنی اے پروردگار میں نے پانی قوم کو شب و روز دعوت دی مگر میرے بلانے پر وہ اور زیادہ بھاگنے لگے۔ انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور کپڑے سمیٹ لیے ، اصرار ، اور تکبر کیا۔ میں نے ان کو برملا بھی دعوت دی اور پوشیدہ طور پر بھی نصیحت کی۔ اعلی الاعلان بھی تبلیغ حق کی مگر انہوں نے میری کسی بات کو نہیں مانا۔
استغفار کی ترغیب :
آخر میں میں نے انہیں یہ بھی کہا اپنے رب سے استغفار کرو۔ معافی مانگو کیونکہ وہ بہت بخشش کرنے والا ہے۔ استغفار کا معنی بخشش…
Read the full tafseer →مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلہِ وَقَارًا 13 ۚ
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] .
الثاني :
نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
ترکیب : الوقار بمعنی التوقیر ترجون بمعنی تعتقدون وانما عبرعن الاعتقاد بالرجاء التابع لاونی الظن مبالغۃ وللہ اللام للتبین بیان للموقرو یمکن ان یکون صلۃ للوقار ‘ وقد خلقکم الجملۃ حال من الضمیر فی لکم اطوارا مختلفین حال من ضمیر فی خلقکم وقیل مفعول ثان لخلق بمعنی جعل قال اللیث الطور التارۃ یعنی حال بعد حال وقال ابن الانباری الطور الحال والھیئۃ وجمعۃ اطوار ‘ طباقا انتصابہ علی المصدریۃ یقال طابقہ طباقا ومطابقۃ اوحال بمعنی ذات طباقٍ فحذف ذات واقیم طباقا مقامہ نباتا منصوب علی انہ مفعول مطلق ولم یقل انباتاً کما یقتضیۃ الظاہر للدقیقۃ اللطیفۃ وھی انہ لوقال ابناتا کان صفۃ للہ تعالیٰ وھم لایعتقدونہ بل…
Read the full tafseer →مَالَـکُمْ لاَ تَرْجُوْنَ لِلّٰہِ وَقَارًا۔ (نوح : 13)
(تمھیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے بڑائی کی امید نہیں رکھتے۔ )
قوم کی بےالتفاتی اور بےنیازی کو دیکھتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہارے سامنے مختلف طریقوں سے اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت پیش کررہا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے طریقے طریقے سے تمہیں استغفار کی دعوت دے رہا ہوں، لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ تم میری بات سن کے بھی نہیں دیتے ہو۔ دنیا کے چھوٹے چھوٹے رئیسوں اور سرداروں کے بارے میں تو تم یہ سمجھتے ہو کہ ان کے وقار کے خلاف کوئی حرکت کرنا خطرناک ہے، لیکن جس رب نے تمہیں یہ سب کچھ دے رکھا ہے تمہارا کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کا تعارف ان الفاظ میں کروایا۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو جو تبلیغ فرمائی اس کا خلاصہ اس سورت میں ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مرکزی نقطہ اللہ کی توحید کی دعوت دینا اور لوگوں کو شرک سے منع کرنا تھا۔ توحید کی دعوت دیتے ہوئے انہوں نے ایسے دلائل دیئے کہ جن سے انکار کرنا کسی مشرک اور کافر کے بس کی بات نہیں لیکن اس کے باوجود کفار اور مشرکین نے ان کی دعوت کو مسترد کردیا۔ جس پر حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم…
Read the full tafseer →13 : مَالَکُمْ لَاتَرْجُوْنَ لِلّٰہِ وَقَارًا (تم کو کیا ہوا کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت کے معتقد نہیں ہوتے ہو) تم اللہ تعالیٰ کی عظمت سے نہیں ڈرتے ہو (کذا قال الکلبی)
قول اخنس (رح) :
یہاں رجاء خوف کے معنی میں ہے۔ کیونکہ رجاء کے ساتھ تھوڑا خوف اور ناامیدی ہوتی ہے الوقارؔ : عظمت۔ نمبر 2۔ اس کی توقیر و تعظیم کی تم کو امید نہیں کہ وہ کس قدرتمہاری قدر دانی اور تمہارا اکرام کرے گا۔ مطلب یہ ہے کہ تمہیں کیا ہوگیا کہ تم ایسی حالت پر نہیں آتے جس میں تم اللہ تعالیٰ کی اس قدر دانی کی امید کرو جو آخرت میں تم کو میسر ہوگی۔
Read the full tafseer →12 ۔” استغفروا ربکم انہ کان غفارا۔ یرسل السمآء علیکم مدرارا “ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–20
5۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح علیہ اسلام کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم تھا اس کے موافق انہوں نے سالہا سال تک اپنی قوم کو بت پرستی کے وبال سے ڈرایا اور جب ان کی سرکش قوم راہ راست پر نہ آئی تو انہوں نے اپنی قوم کی یہ شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کی جس کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ میں ان لوگوں کو ہر وقت تنہائی میں محفل میں سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوگوں نے میری ایک نہ سنی بلکہ یہ لوگ نصیحت کی بات سے ایسے گھبراتے ہیں کہ جب ان سے کوئی بات نصیحت کی کہی جاتی ہے تو یہ لوگ کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں منہ سر لپیٹ کر کانوں کو کپڑے کے اندر چھپا لیتے ہیں تاکہ نصیحت کی بات سے ان کے کان آشنا…
Read the full tafseer →(مالکم لا ترجون للہ وقارا) ۔ تمہیں کیا ہے، تم اللہ کی تعظیم کے لیے اس سے خوف نہیں کھاتے اور تمہارے ہاں اللہ تعالیٰ کی کوئی قدر نہیں۔
Read the full tafseer →14 حضرت نوح کی اپنی قوم کے ضمیر پر ایک دستک : سو حضرت نوح نے اپنی قوم کو جھنجھوڑتے ہوئے اور ان کے ضمیروں پر دستک دیتے ہوئے ان سے فرمایا کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم لوگ اللہ کے لئے کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے ؟ کہ نہ سچے دل سے اس پر ایمان لاتے ہو، نہ اس کی معصیت و نافرمانی سے بچتے ہوئ، اور نہ اس کی گرفت اور پکڑے ڈرتے ہو۔ والعیاذ باللہ۔ سو ترجون یہاں پر منتظر اور متوقع رہنے کے معنی میں ہے اور وقار کے معنی عظمت، شان اور جلال کے ہیں، سو حضرت نوح نے ان سے فرمایا کہ یہ کیا بات ہے کہ میں تم لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے اور اس سے استغفار کی دعوت دیتا ہوں، مگر تم لوگ ہو کہ ٹس سے مس نہیں ہوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سیدنانوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مقصد
تشریح :۔ جیسا کہ کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے کہ سیدناآدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی اکرم ﷺ تک جتنے بھی نبی انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے سب نے توحید ہی کی تعلیم دی کیونکہ توحید ہی ایسا عقیدہ ہے جو انسان کو ہر قسم کے شر و فساد اور شیطان کے قبضہ سے نکال کر امن و سکون اور اللہ کی راہ دکھاتا ہے۔ معمول کے مطابق توحید کی تعلیمات آہستہ آہستہ مٹتی گئیں اور بت پرستی بڑھتی گئی تب اللہ تعالیٰ نے سیدنانوح (علیہ السلام) کو ہدایت دینے کے لیے نبی بنا کر انکی قوم کی طرف بھیجا۔ سیدنانوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تین باتوں کی تعلیم دی۔ پہلی اللہ کی بندگی دوسری تقویٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
سورة نوح۔
آیات 1 تا 20۔
اسرارومعارف۔
ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا کہ ان کا کردار ایسا مسخ ہوچکا تھا کہ عذاب الٰہی واقع ہونے کا خطرہ تھا لہذا نوح (علیہ السلام) انہیں بروقت باخبر کرنے کے لیے تشریف لائے کہ اللہ کے دردناک عذاب سے بچنے کا طریقہ سکھائیں لہذا انہوں نے اپنی بعثت کا اعلان فرمایا کہ اللہ نے مجھے تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے اور تم اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اور اس کی نافرمانی سے باز رہو۔
نبی کا لایا ہوا نظام۔
اس کی اطاعت یہ ہے کہ جو میں کہتا ہوں وہ کرو یعنی اپنی زندگی میں میرا دیا ہوا نظام رائج کرو تو تم سے جو گناہ ہوچکے ہیں اللہ اپنی رحمت سے معاف فرمائیں…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی خدا سے اس طرح کیوں نہیں ڈرتے جس طرح کہ اس کی عظمت کا تقاضا ہے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ تم اللہ سے ثواب کی امید اور عذاب کا ڈر کیوں نہیں رکھتے ؟ تیسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم اللہ کا حق کیوں نہیں پہچانتے اور اس کی نعمت کا شکر کیوں نہیں بجا لاتے ؟ … کوئی مطلب لیا جائے، مقصود یہ ہے کہ تم اللہ پر ایمان لائو، اسی کو معبود برحق مانو اور اسی کی اطاعت کرو تمہاری ہر آفت ٹلے گی اور تمہیں دنیا و آخرت میں عزت نصیب ہوگی۔
Read the full tafseer →(71:13) مالکم لا ترجون اللہ : ما استفہامیہ، لام حرف جر۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ نیز ملاحظہ ہو 70:35 ۔
لاترجون مضارع منفی جمع مذکر حاضر۔ رجاء (باب نصر) مصدر۔ تم امید نہیں رکھتے ہو مفسرین کے اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ مثلا
(1) رجاء بمعنی اعتقاد ہے۔ یعنی تم اپنے اعتقاد میں اللہ کی عظمت کو نہیں جانتے۔ (ابن عباس مجاہد)
(2) رجاء بمعنی خوف ہے۔ یعنی کیا تم اللہ کی عظمت سے نہیں ڈرتے۔ (کلبی)
(3) کای تم اللہ کا حق نہیں پہچانتے اور اس کی نعمت کا شکر نہیں کرتے۔ (حسن بصری)
(4) تم کو اپنی عبادت میں اس بات کی امید نہیں کہ ہم جو خدا کی تعظیم کرتے ہیں خدا اس کا ثواب بھی دے گا۔ (ابن کیسان)
(5) کیا اپنی عبادت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–28
لغات القرآن۔
لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔
تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔
فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–24
حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت کا ذکر۔
(ف 1) اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح کو جس طرح اللہ کا حکم تھا اس کے موافق حضرت نوح نے نو سو برس تک ان کو سمجھاتے رہے جب امید کی کوئی سورت باقی نہ رہی تو مایوس اور تنگ دل ہوکربارگاہ الٰہی میں عرض کیا یا اللہ میں نے اپنی طرف سے دعوت تبلیغ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا رات کی تاریکی اور دن کے اجالے میں برابر ان کو تیری طرف بلاتا رہا، مگر نتیجہ یہ ہوا کہ جوں جوں تیری طرف آنے کو کہا گیا یہ بدبخت اور زیادہ ادھر سے منہ پھیرکربھاگے اور جس قدر میری طرف سے شفقت ودل سوزی کا اظہار ہوا ان کی جانب سے نفرت اور بےزاری بڑھتی گئی سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوں نے میری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–14
[2] یعنی جس اللہ نے تخلیق کے مختلف مراحل سے گزار کر تمہیں مکمل انسان بنایا اور جس کی قدرت کی شانیں تمہارے اپنے وجود کے اندر نظر آتی ہیں اس کے متعلق تم یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ بھی کوئی بڑی ہستی ہوگا۔ تم اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہو، اس کے احکام کی نافرمانیاں کرتے ہو لیکن تمہیں اندیشہ لاحق نہیں کہ وہ تمہیں اس کی سزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
دین فطرت برکت اور دولت ہے
2: ان آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے دین کے متعلق ایک بہت بڑی غلط فہمی کا زالہ فرمایا ہے ۔ عام طور پر دینداری اور مذہب کے معنے یہ ہیں ۔ کہ یہ دنیا میں ترقی اور تقدم کی دشمن ہے ۔ اور اس کی وجہ سے افلاس فخر اور نیکی تقوی اور پاکیزگی قرار پاتی ہے ۔ اس میں حمق ، بےوقوفی معرفت اور دانائی ہے فرمایا ۔ یہ بات قطعاً غلط ہے ۔ اگر تم لوگ اپنے رب سے تعلقات عقیدت وارادت وابستہ کرلو ۔ اور خلوص کے ساتھ اس سے اپنی لغزشوں اور کوتاہیوں کی تلاف چاہو ، تو وہ ایسا نہیں ہے ۔ کہ معاف نہ کرے ۔ اور تم کو اپنے قرب اور حضوری کا موقع نہ بخشے ۔ تم دیندار ہوجاؤ۔ اور اس کی اطاعت کا ربقہ اپنے…
Read the full tafseer →(13) تم کو کیا ہوگیا کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کا اعتقاد نہیں رکھتے۔ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی برائی کے معتقد کیوں نہیں ہوتے اور اس کی بزرگی اور بڑائی میں تامل کیوں نہیں کرتے۔
صاحب کشاف نے کہا ہے مالکم لا تاملون
غرض نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آیات قدرت کو سمجھانا شروع کیا اور اس کی تمہید میں فرمایا تم کو کیا ہوگیا کہ تم اس کی قدرتوں میں غور کرکے اللہ تعالیٰ کی بڑائی کے قاتل کیوں نہیں ہوتے اور بتوں ک و اس کے برابر کیوں سمجھتے ہو ، چناچہ ارشاد فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
ف 6۔ ان نعمتوں کے ذکر سے شاید یہ فائدہ ہو کہ اکثر طبائع میں عاجل کی طلب زیادہ ہے۔ چناچہ در منثور میں قتادہ کا قول ہے کہ وہ لوگ دنیا کے زیادہ حریص تھے اس لئے یہ فرمایا۔
Read the full tafseer →تم کو کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت پر اعتقاد نہیں رکھتے ؟
13 ؎ نوح (علیہ السلام) قوم کے لوگوں کو شرم دلاتے ہوئے ارشاد فرما رہے ہیں کہ اے قوم کے لوگو ! نہایت شرم کی بات ہے کہ اگر ایک مالدار آدمی تمہارے پاس آتا ہے تو تم اس کے وقار کی خاطر اٹھ کر کھڑے ہوجاتے ہو اور اس کو جھک جھک کر سلام پشو کرتے ہو ، تمہارا کو ئینام کا پیر اور مرشد آجائے جس کے اندر انسانیت نام کی کوئی چیز بھی موجود نہ ہو تو تم اس کے برابر بیٹھنا ، چلنے اور پھرنے جیسے کاموں سے پرہیز کرتے ہو کہ یہ بزرگوں کی اولاد ہے اور یہ ہمارا پیرخانہ ہے لیکن اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کے وقار ، عظمت اور جلال کی تم کو ذرا بھر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–14
Commentary
يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ and Allah will forgive you your sins, 71:4). The particle min is often used to indicate division into parts, that is, to refer to only a part of an amount, group or number. If it is taken in that sense here, it would signify that by embracing the faith only those sins would be forgiven which pertains to the Divine rights because violation of human rights would be forgiven only when the believer fulfills the human rights which he has violated [ such as pecuniary obligations ] and if they cannot be fulfilled [ such as hurting somebody physically or…
Read the full tafseer →13 It means: "As for the petty chiefs of the world, you think it would be dangerous to do anything against their dignity, but as for the Creator and Lord of the universe, you do not expect that He would also be a Being endowed with dignity. You rebel against Him, associate others in His Divinity, disobey His Commands, and yet you are not at all afraid that He would punish you for your misconduct. "
Read the full tafseer →