Nooh 71:14

Nooh · from ayah 14

71:14

وَقَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا ۟وَقَدۡ خَلَقَكُمۡ اَطۡوَارًا

حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح (کی حالتوں) کا پیدا کیا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

While He has created you in stages?

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Nooh

All translations of 71:14

حالانکہ اُس نے طرح طرح سے تمہیں بنایا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح (کی حالتوں) کا پیدا کیا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

حاﻻنکہ اس نے تمہیں طرح طرح سے پیدا کیا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

حالانکہ اس نے تمہیں تخلیق کے مختلف مرحلوں سے گزار کر پیدا کیا ہے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح بنایا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح کی حالتوں سے پیدا فرمایا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

حالانکہ یقینا اس نے تمہیں مختلف حالتوں میں پیدا کیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

حالانکہ اس نے تمہیں کئی حالتوں سے گزار کر پیدا کیا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

حالانکہ اس نے تم کو خلقت کو مختلف مراحل سے گزرا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

حالانکہ اس نے تم کو پیدا کیا طرح طرح سے (اور مختلف مراحل سے گزار کر)

— مولانا اسحاق مدنی

حالانکہ اسی نے تم کو طرح طرح سے بنایا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اس نے تمہیں پیدا کیا ہے درجہ بدرجہ۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح کی حالتوں میں پیدا کیا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

when He has created you in stages?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

while He has created you in different phases?

— Muhammad Taqi Usmani

while He has created you in different phases?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

While He has created you (in) Atwar (stages).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When He created you by (divers) stages?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

While He has created you in stages?

— Saheeh International

who has created you in several stages?

— Muhammad Sarwar

And indeed He has created you through various grades:

— Muhammad Habib Shakir

And surely He hath created you by stages.

— Abdul Majid Daryabadi

"'Seeing that it is He that has created you in diverse stages?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 71:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 5–20

نو سو سال صدا بصحرا کے بعد بھی ایک پیغمبرانہ کوشش یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ساڑھے نو سو سال تک کی لمبی مدت میں کس کس طرح حضرت نوح نبی نے اپنی قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا قوم نے کس کس طرح اعراض کیا کیسی کیسی تکلیفیں اللہ کے پیارے پیغمبر کو پہنچائیں اور کس طرح اپنی ضد پر اڑ گئے، تو حضرت نوح ؑ بطور شکایت کے جناب باری میں عرض کرتے ہیں کہ الٰہی میں نے تیرے حکم کی پوری طرح سرگرمی سے تعمیل کی، تیرے فرمان عالیشان کے مطابق نہ دن کو دن سمجھا، نہ رات کو رات، بلکہ مسلسل ہر وقت انہیں راہ راست کی دعوت دیتا رہا لیکن کیا کروں کہ جس دل سوزی سے میں انہیں نیکی کی طرف بلاتا رہا وہ اسی سختی سے مجھ سے بھاگتے رہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 14–16

سورة نُوْح 14 یعنی تخلیق کے مدارج اور اطوار سے گزارتا ہوا تمہیں موجودہ حالت پر لایا ہے۔ پہلے تم ماں اور باپ کی صلب میں الگ الگ نطفوں کی شکل میں تھے۔ پھر خدا کی قدرت ہی سے یہ دونوں نطفے ملے اور تمہارا استقرار حمل ہوا۔ پھر نو مہینے تک ماں کے پیٹ میں بتدریج نشوو نما دے کر تمہیں پوری انسانی شکل دی گئی اور تمہارے اندر تمام وہ قوتیں پیدا کی گئیں جو دنیا میں انسان کی حیثیت سے کام کرنے کے لیے تمہیں درکار تھیں۔ پھر ایک زندہ بچے کی صورت میں تم بطن مادر سے باہر آئے اور ہر آن تمہیں ایک حالت سے دوسری حالت تک ترقی دی جاتی رہی یہاں تک کہ تم جوانی اور کہولت کی عمر کو پہنچے۔ ان تمام منازل سے گزرتے ہوئے تم ہر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–14

معارف و مسائل r ۙيَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ ، حرف من اکثر تبعین یعنی جزئمت بتلانے کے لئے آتا ہے اگر یہ معنے لئے جاویں تو مطلب یہ ہے کہ ایمان لانے سے تمہارے سے وہ گناہ مغاف ہوجائیں گے جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے کیونکہ حقوق العباد کی معافی کے لئے ایمان لانے کے بعد بھی یہ شرط ہے کہ جو حقوق ادائیگی کے قابل ہیں ان کو ادا کرے جیسے مالی واجبات، اور جو قابل ادائیگی نہیں جیسے زبان یا ہاتھ سے کسی کو ایذاء پہنچائی اس سے معاف کرائے۔ حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ ایمان لانے سے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں اس میں بھی حقوق العباد کی ادائیگی یا معافی شرط ہے اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ حرف من اس جگہ زائد…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

عظمت الٰہی کے ظہور کی دلیل: یہ دلیل ہے اس بات کی کہ خدا کی عظمت کے ظہور کا دن کوئی مستبعد اور ناممکن چیز نہیں ہے۔ فرمایا کہ اگر تم اپنی ہی خلقت کے تمام مراحل پر غور کرو تو نہایت آسانی سے سمجھ سکتے ہو کہ جس خدا نے خود تمہارے وجود کے اندر اپنی قدرت کی یہ شانیں دکھائی ہیں اس کے لیے کیا مشکل ہے کہ تمہارے مر کھپ جانے کے بعد ازسرنو تمہیں اٹھا کھڑا کرے اور تم اپنی آنکھوں سے اس کا جلال دیکھو کہ سرکشوں اور باغیوں کو وہ کس طرح کیفر کردار کو پہنچاتا ہے۔ یہ دلیل بعینہٖ اسی سیاق و سباق میں، قیامت ہی کے اثبات کے پہلو سے، قرآن کے دوسرے مقامات میں نہایت وضاحت سے بیان ہوئی ہے۔ سورۂ حج میں فرمایا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

14۔ 1 پہلے نطفہ، پھر علقہ، پھر مضغہ، پھر عظام اور لحم اور پھر خلق تام، جیسا کہ (بَلْ قَالُـوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۢ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ ښ فَلْيَاْتِنَا بِاٰيَةٍ كَمَآ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ ۝) 21۔ الانبیاء :5) ، (اَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَاۗءَهُمْ مَّا لَمْ يَاْتِ اٰبَاۗءَهُمُ الْاَوَّلِيْنَ 68؀ۡ) 23۔ المؤمنون :68) وغیرھا میں تفصیل گزری۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–16

3: اشارہ اس طرف ہے کہ انسان نطفے سے لے کر جیتا جاگتا آدمی بننے تک مختلف مرحلوں سے گذرتا ہے جن کا تذکرہ سورة حج : 5 اور سورة مومنون :14 میں گزرا ہے۔ یہ سارے مراحل اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت پر دلالت کرتے ہیں۔ پھر تمہیں اس بات میں کیوں شک ہے کہ وہ تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 13–14

اب ذرا دیکھئے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی طویل جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ اپنی قوم کو انفس وآفاق میں پائے جانے والے دلائل ایمان کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ آپ حیران رہ جاتے ہیں کہ اس کے جواب میں قوم ان کو کس طرح رد کرتی ہے ، نہایت گستاخانہ رویہ اپناتی ہے۔ آپ اس رویہ پر ان کی سرزنش کرتے ہیں۔ مالکم ................ وقارا (17 : 31) وقد ............ اطوارا (17 : 41) ” تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اللہ کے لئے تم کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے ؟ حالانکہ اس نے طرح طرح سے تمہیں بنایا ہے “۔ یہ اطوار کیا تھے ؟ قوم نوح (علیہ السلام) ان کو اچھی طرح سمجھتی تھی یا اس کا کوئی ایسا مفہوم تھا جو وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی ماں کے پیٹ میں تم نے طرح طرح کے رنگ بدلے۔ اور اصلی مادہ سے لے کر موت تک آدمی کتنی پلٹیاں کھاتا ہے اور کتنے اطوار و ادوار اور اتارو چڑھاؤ ہیں جن میں کو گزرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14{ وَقَدْ خَلَقَکُمْ اَطْوَارًا۔ } ”اور اس نے تمہیں پیدا کیا ہے درجہ بدرجہ۔“ اللہ تعالیٰ نے رحم مادر کے اندر تمہیں خلقت کے کئی مراحل سے گزار کر انسانی صورت میں ڈھالا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 اطوار کا معنی : آدم اور بنی آدم پر گزرنے والے اطوار :۔ اَطْوَارًا۔ طَوْر کسی چیز کی ایسی حالت کو کہتے ہیں جو اندازہ کے مطابق کچھ مدت بعد تدریجی تبدیلی چاہتی ہو۔ اور تَطَوُّرٍ بمعنی ایک حالت سے دوسری یا اگلی حالت میں تبدیل ہونا۔ سوچا جائے تو انسان اطوار ہی کا مجموعہ اور مظہر ہے۔ اللہ نے اسے مٹی سے پیدا کیا۔ تو سات اطوار سے گزارا (1) خشک مٹی، (2) پھر اسے گیلی مٹی یا گارا بنایا گیا، (3) پھر لیس دار یا چپک دار یا چیکنی مٹی بنایا گیا، (4) پھر اس کا خمیر اٹھایا گیا حتیٰ کہ اس میں بدبو پیدا ہوگئی، (5) پھر اسے خشک کیا گیا، (6) پھر اسے حرارت سے پکایا گیا (7) حتیٰ کہ وہ ٹن سے بجنے والی مٹی بن گئی۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 13–14

7۔ (اور تمہیں خلقت کے مختلف ادوار سے گزارا ہے) (آیت) ” لا .... وقارا۔ اگر حق تعالیٰ کی عظمت تمہارے دلوں میں ہوتی تو خود بخود شرک سے نفرت اور بت پرستی سے بیزاری تمہیں پیدا ہوجاتی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 3–20

ان اعبدوا اللہ واتقوہ و اطیعون حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی تبلیغ کا آغاز ان تین باتوں سے فرمایا ایک یہ کہ اللہ بندگی، دوسرے تقویٰ ، تیسرے رسول کی اطاعت، مطلب یہ کہ اگر تم ان تین باتوں کو قبول کرلو تو اب تک جو گناہ تم سے ہوچکے ہیں ان سے وہ درگزر فرمائے گا، یغفرلکم من ذنوبکم و یوخر کم الی اجل مسمی الخ میں بعض مفسرین نے حقوق العباد کو خارج کرنے کے لئے من کو تبعیض کا لیا ہے، اسلام اور ایمان لانے سے حقوق اللہ معاف ہوجائیں گے مگر حقوق العباد سے معافی کے لئے صاحب حق سے معافی ضروری ہوگی، بعض مفسرن نے یہاں من زائدہ یا بمعنی عن لیا ہے مطلب یہ کہ ایمان لانے سے تمہارے سب گناہ معاف ہوجائیں گے مگر دوسری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقد خلقکم اطوارا . یعنی متعدد بار تمہاری تخلیق ‘ مختلف حالات میں ہوئی (اور ہوگی) پہلے تم عنصری تخلیق میں تھے پھر مرکب غذائی کی تخلیق میں آئے ‘ پھر نطفہ ‘ پھر خون بستہ ‘ پھر لوتھڑا ‘ پھر ہڈیاں اور گوشت بنا پھر ایک جدید تخلیق کی یعنی روح پھونک کر انسان بنایا۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین پھر تم کو موت آئے گی ‘ پھر اللہ تم کو قبر (عالم برزخ) میں لے جائے گا۔ پھر لوٹا کر دوبارہ زندہ کر دے گا ‘ پھر فرمانبردار کو ثواب دے کر اس کی عزت افزائی کرے گا اور نافرمان کو سزا دے گا۔ یہ اللہ کی وہ تخلیقی نشانیاں تھیں جو ہر شخص کی شخصیت سے تعلق رکھتی ہیں ‘ اس کے بعد آفاقی نشانیاں بیان کیں اور فرمایا :

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 14–16

(14۔ 16) اے مکہ والو کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح سات آسمان قبہ کی طرح اوپر نیچے بنائے کہ ان کے کونے متصل ہیں اور ان میں چاند کو نور کی چیز بنایا اور انسانوں کے لیے سورج کو روشن چراغ بنایا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(وقد خلقکم اطواراً : یعنی حقیقت حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے دلائل خود تمہاری ذات میں موجود ہیں، اس نے تمہیں مختلف اطوار میں پیدا فرمایا ہے۔ پہلے ٹمی، پھر نطفہ، پھر علقہ، پھر مضغہ، پھر ہڈیاں، پھر ان پر گوشت، پھر بہترین شکل و صورت کا انسان، جس کا ہر روز نئے سے نیا طور (انداز) ہوتا ہے، بچپن ، جوانی، بڑھپا، پھر موت، اتنے اطوار کے بعد دوبارہ پیدا کرنا اس کے لئے کیا مشکل ہے ! ؟ اگر تم ایسے خلاق کی عظمت کا خیال نہ کرو اور اس کے حضور پیش ہونے کو محال سمجھتے رہو تو کتنے تعجب کی بات ہے۔ یہی بات تفصیل کے ساتھ سورة حج (5، 6) اور سورة مومنون (14 تا 16) میں بھی بیان ہوئی ہے۔ ”خلقکم اطواراً“ کا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 13–14

ایک قول یہ کیا گیا ہے، رجا یہاں خوف کے معنی میں ہے یعنی تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے کہ وہ تم میں سے کسی کو سزا دینے کی قدرت رکھتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے خوف کو ترک کرنے میں تمہارے پاس کیا عذر ہے۔ سعید بن جبیر، ابو العالیہ اور عطاء بن ابی رباح نے کہا، تمہیں کیا ہوگ یا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے ثواب کی امید نہیں رکھتے اور اس کے عقاب سے نہیں ڈرتے (1) سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے : تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے عقاب سے نہیں ڈرتے اور اس سے ثواب کی امید رکھتے ہو۔ والبی اور عوفی نے ان سے روایت نقل کی ہے : تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

11۔ ابن المنذر نے مطر (رح) سے آیت وقد خلقکم اطوارا کے بارے میں روایت کیا اطوارا سے مراد ہے کہ پہلے نطفہ پھر جما ہوا خون پھر گوشت کی بوٹی پھر ہڈی ایک مرحلے کے بعد دوسرا مرحلہ اور ایک پیدائش کے بعد دوسری پیدائش میں۔ 12۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 13۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید والبیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت مالکم لا ترجون للہ وقارا سے مراد ہے کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم لوگ اللہ کی عظمت کی پرواہ نہیں کرتے۔ آیت وقد خلقکم اطوارا واللہ کہ اس نے تمہیں کئی مرحلوں سے گزار کر پیدا فرمایا۔ یعنی پہلے منی سے، پھر نفطہ سے، پھر جمے ہوئے خون سے، پھر اس سے جس کا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَقَدْ خَلَقَكُمْ : حالانکہ اس نے پیدا کیا ہے تم لوگوں کو ] [اَطْوَارًا : مختلف حالتوں پر ہوتے ہوئے ] (آیت۔ 14) اَطْوَارًا حال ہے۔ نوٹ۔ 1: سابقہ سورہ۔ المعارج۔ میں عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کو جواب اور پیغمبر ﷺ کو صبر و انتظار کی تلقین ہے۔ اس سورة میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کے مراحل، ان کے طویل صبر و انتظار اور بالآخر ان کی قوم کے مبتلائے عذاب ہونے کی سرگزشت اختصار کے ساتھ بیان ہوئی ہے اور اس سے مقصود آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کی قوم کے سامنے ایک ایسا آئینہ رکھ دینا ہے جس میں آپ ﷺ بھی دیکھ لیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کو اپنی آخری منزل تک پہنچنے کے لیے صبر و انتظار کے کن مراحل سے گزرنا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–20

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے خطاب، نعمتوں کی تذکیر، توحید کی دعوت، قوم کا انحراف اور باغیانہ روش یہاں سے سورة ٴ نوح شروع ہو رہی ہے اور بھی کئی سورتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا اور ان کی قوم کی نافرمانی کا اور قوم کے انجام کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے تقریباً ایک ہزار سال کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی وہ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے ان لوگوں میں بت پرستی پھیل گئی تھی۔ بت بنا لیتے تھے اور ان کے نام بھی تجویز کرلیتے تھے جو اس سورت کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں، حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں طرح طرح سے سمجھایا توحید کی اور اللہ وحدہ لاشریک لہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–20

و توحید خالق ارض وسماء : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انآ ارسلنا نوحا الی قومہ ........ الی ......... سبلا فجاجا “۔ (ربط) اس سے قبل سورة معارج میں قیامت اور قیامت کے احوال شدیدہ کا ذکر تھا اور یہ کہ اس روز مجرمین اور نافرمانوں کی پریشانی اور بدحالی انسان کے تصور سے بھی بڑھ کر ہوگی تو اب اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر ہے جن کو حق تعالیٰ نے عالم میں سب سے پہلا وہ رسول بنا کر بھیجا جو شرک وبت پرستی کا رد کرنے والے تھے انکی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ قوم کی یہ کس قدر بدنصیبی تھی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرایا اور بڑی ہی گستاخی کے ساتھ شرک وبت پرستی پر ڈٹے رہے ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 14–16

8:۔ ” وقد خلقکم “ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان عقلی دلائل کی طرف بھی قوم کو متوجہ کیا کہ اپنی پیدائش پر غور کرو اور دیکھو اللہ نے تمہیں کس طرح مختلف احوال سے گذار کر پیدا فرمایا۔ ” الم تروا کیف خلق اللہ “ اپنی پیدائش کے علاوہ ذرا اوپر کی طرف آسمانوں کو تو دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے کیسی قدرت و صنعت سے تہ بتہ سات آسمانوں کو پیدا فرمایا اور ان میں چاند اور سورج کو روشن کیا۔ قمر کو نور اور شمس کو سراج (چراغ) فرما کر اس طرف اشارہ کیا کہ چاند کی روشنی سورج سے مستفاد ہے، کیونکہ اندھیرے میں روشنی چراغ سے مستفاد ہوتی ہے اور چراغ کی روشنی خود اس کے اندر ہوتی ہے کسی دوسری چیز سے مستفاد نہیں ہوتی ولعلہ فی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–20

گذشتہ سے پیوستہ : یہ سورة نوح ہے۔ اور ان دروس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو دعا کا ذکر ہے جو انہوں نے تھک ہار کر بار گاہ الہٰی میں پیش کی کہ یعنی اے پروردگار میں نے پانی قوم کو شب و روز دعوت دی مگر میرے بلانے پر وہ اور زیادہ بھاگنے لگے۔ انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور کپڑے سمیٹ لیے ، اصرار ، اور تکبر کیا۔ میں نے ان کو برملا بھی دعوت دی اور پوشیدہ طور پر بھی نصیحت کی۔ اعلی الاعلان بھی تبلیغ حق کی مگر انہوں نے میری کسی بات کو نہیں مانا۔ استغفار کی ترغیب : آخر میں میں نے انہیں یہ بھی کہا اپنے رب سے استغفار کرو۔ معافی مانگو کیونکہ وہ بہت بخشش کرنے والا ہے۔ استغفار کا معنی بخشش…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا۝ 14 ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] ، فإنّ ذلک متناول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–20

ترکیب : الوقار بمعنی التوقیر ترجون بمعنی تعتقدون وانما عبرعن الاعتقاد بالرجاء التابع لاونی الظن مبالغۃ وللہ اللام للتبین بیان للموقرو یمکن ان یکون صلۃ للوقار ‘ وقد خلقکم الجملۃ حال من الضمیر فی لکم اطوارا مختلفین حال من ضمیر فی خلقکم وقیل مفعول ثان لخلق بمعنی جعل قال اللیث الطور التارۃ یعنی حال بعد حال وقال ابن الانباری الطور الحال والھیئۃ وجمعۃ اطوار ‘ طباقا انتصابہ علی المصدریۃ یقال طابقہ طباقا ومطابقۃ اوحال بمعنی ذات طباقٍ فحذف ذات واقیم طباقا مقامہ نباتا منصوب علی انہ مفعول مطلق ولم یقل انباتاً کما یقتضیۃ الظاہر للدقیقۃ اللطیفۃ وھی انہ لوقال ابناتا کان صفۃ للہ تعالیٰ وھم لایعتقدونہ بل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَقَدْخَلَقَـکُمْ اَطْوَارًا۔ (نوح : 14) (حالانکہ اس نے طرح طرح سے تمہیں بنایا ہے۔ ) تخلیق کے مختلف مراحل سے اللہ تعالیٰ کی قدرت پر استدلال اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی گرفت سے انسان کی بےنیازی اور لاپرواہی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے انسان کی اپنی تخلیق کے مختلف مراحل میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا جس طرح ظہور ہوتا ہے اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ تم خدا کی عظمت کے ظہور کو بہت مستبعد سمجھتے ہو اور اس کی گرفت سے بالکل نچنت ہوگئے ہو حالانکہ تم اپنی ذات کے حوالے سے ہی غور کرو تو تمہیں اپنی تخلیق کے ہر مرحلے پر اللہ تعالیٰ کی بےپناہ قدرت کا بھی احساس ہوگا اور یہ بھی اندازہ ہوگا کہ تم اس کی قدرت کے ہاتھوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 13–20

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کا تعارف ان الفاظ میں کروایا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو جو تبلیغ فرمائی اس کا خلاصہ اس سورت میں ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مرکزی نقطہ اللہ کی توحید کی دعوت دینا اور لوگوں کو شرک سے منع کرنا تھا۔ توحید کی دعوت دیتے ہوئے انہوں نے ایسے دلائل دیئے کہ جن سے انکار کرنا کسی مشرک اور کافر کے بس کی بات نہیں لیکن اس کے باوجود کفار اور مشرکین نے ان کی دعوت کو مسترد کردیا۔ جس پر حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تخلیق انسانی کے مراتب : 14 : وَقَدْ خَلَقَکُمْ اَطْوَارًا (حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح سے بنایا) قد خلقکم اطوارًا نحو : یہ موضع حال میں ہے۔ مطلب یہ ہے تم اللہ تعالیٰ پر ایمان کیوں نہیں لاتے حالانکہ حال یہ ہے اور یہ ایسا حال ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان کو لازم کرنے والا ہے۔ کیونکہ اس نے تمہیں طرح طرح سے بنایا یعنی متعدد بار پہلے تمہاری تخلیق نطفہ پھر علقہ پھر مضغہ پھر تمہاری ہڈیاں اور گوشت بنایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13 ۔” ویمدد کم ب اموال وبنین “ عطائؒ فرماتے ہیں تمہارے اموال کو اولاد کو زیادہ کردے گا۔” ویجعل لکم جنات ویجعل لکم انھارا۔ مالکم لا ترجون للہ وقارا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں تم اللہ کی عظمت نہیں دیکھتے ۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی تعظیم نہیں کرتے جیسا کہ اس کی تعظیم کا حق ہے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں تم اللہ سے نہیں ڈرتے جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور رجاء خوف کے معنی میں ہے اور وقار، عظمت، توقیر سے اسم ہے اور وہ تعظیم کرنا ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں تم اللہ کا حق نہیں پہچانتے اور تم اس کی نعمت کا شکرادا نہیں کرتے۔ ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 5–20

5۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح علیہ اسلام کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم تھا اس کے موافق انہوں نے سالہا سال تک اپنی قوم کو بت پرستی کے وبال سے ڈرایا اور جب ان کی سرکش قوم راہ راست پر نہ آئی تو انہوں نے اپنی قوم کی یہ شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کی جس کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ میں ان لوگوں کو ہر وقت تنہائی میں محفل میں سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوگوں نے میری ایک نہ سنی بلکہ یہ لوگ نصیحت کی بات سے ایسے گھبراتے ہیں کہ جب ان سے کوئی بات نصیحت کی کہی جاتی ہے تو یہ لوگ کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں منہ سر لپیٹ کر کانوں کو کپڑے کے اندر چھپا لیتے ہیں تاکہ نصیحت کی بات سے ان کے کان آشنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وقد خلقکم اطوارا) ۔ حالانکہ اس نے تمہیں مختلف اطوار میں پیدا کیا۔ یعنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کے مختلف مراحل میں پیدا کیا پھر رضاعت، پھر سن طفولیت، پھر سن تمیر اور پھر جوانی میں منتقل کیا، پھر اس مرحلے میں لے گیا جہاں تمام مخلوق پہنچتی ہے۔ پس وہ ہستی جو تخلیق اور بےمثال تدبیر میں منفرد ہے، صرف اسی کے لیے عبادت اور توحید مختص ہے۔ بندوں کی تخلیق کی ابتدا کے ذکر میں معاد کی طرف اشارہ ہے اور وہ ہستی جو انہیں عدم سے وجود میں لائی، ان کے مرنے کے بعد انہیں دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کی تخلیق سے بھی استدلال کیا ہے جن کی تخلیق انسانوں کی تخلیق سے زیادہ بڑی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 14–15

15 انسان کے خود اپنے وجود کے اندر عظیم الشان سامان غور و فکر : ۔ سو انسان کے خود اپنے وجود میں سامان غور و فکر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو کیا ہوگیا کہ تم اپنے رب کے لئے کسی وفا کی امید نہیں رکھتے۔ حالانکہ اسی نے تم کو پیدا فرمایا طور در طور۔ کبھی تم نطفہ کی شکل میں تھے پھر علقہ بنے اور پھر مضغہ، پھر اس قادر مطلق نے تمہاری ہڈیاں بنائیں، پھر ان پر گوشت چڑھایا اور پھر تم کو ایک اور ہی مخلوق کی شکل میں وجود بخشا اور یہ سب کچھ ایک طرف تو اس کی بےپایاں قدرت کا پتہ دیتا ہے اور دوسری طرف یہ اس وحدہ لاشریک کی بےنہایت رحمت کا بھی ایک عظیم الشان مظہر و ثبوت ہے۔ سبحانہ و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–14

سیدنانوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مقصد تشریح :۔ جیسا کہ کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے کہ سیدناآدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی اکرم ﷺ تک جتنے بھی نبی انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے سب نے توحید ہی کی تعلیم دی کیونکہ توحید ہی ایسا عقیدہ ہے جو انسان کو ہر قسم کے شر و فساد اور شیطان کے قبضہ سے نکال کر امن و سکون اور اللہ کی راہ دکھاتا ہے۔ معمول کے مطابق توحید کی تعلیمات آہستہ آہستہ مٹتی گئیں اور بت پرستی بڑھتی گئی تب اللہ تعالیٰ نے سیدنانوح (علیہ السلام) کو ہدایت دینے کے لیے نبی بنا کر انکی قوم کی طرف بھیجا۔ سیدنانوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تین باتوں کی تعلیم دی۔ پہلی اللہ کی بندگی دوسری تقویٰ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–20

سورة نوح۔ آیات 1 تا 20۔ اسرارومعارف۔ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا کہ ان کا کردار ایسا مسخ ہوچکا تھا کہ عذاب الٰہی واقع ہونے کا خطرہ تھا لہذا نوح (علیہ السلام) انہیں بروقت باخبر کرنے کے لیے تشریف لائے کہ اللہ کے دردناک عذاب سے بچنے کا طریقہ سکھائیں لہذا انہوں نے اپنی بعثت کا اعلان فرمایا کہ اللہ نے مجھے تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے اور تم اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اور اس کی نافرمانی سے باز رہو۔ نبی کا لایا ہوا نظام۔ اس کی اطاعت یہ ہے کہ جو میں کہتا ہوں وہ کرو یعنی اپنی زندگی میں میرا دیا ہوا نظام رائج کرو تو تم سے جو گناہ ہوچکے ہیں اللہ اپنی رحمت سے معاف فرمائیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یہ اشارہ ہے ان مراحل کی طرف جن سے آدمی اپنی پیدائش سے پہلے ماں کے پٹ میں اور پھر پیدا ہونے کے بعد اپنی زندگی میں گزرتا ہے۔ پہلے وہ نطفہ ہوتا ہے، پھر خون کا لوتھڑا، پھر گوشت کا ٹکڑا، پھر ہڈیاں اور گوشت پھر بچہ، پھر جوان، پھر بوڑھا اور آخر کار خاک میں جا ملتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو ذات تمہیں ان مراحل سے گزارتی ہے تم اس کے واقر اور عظمت کا حق ادا کرنے میں کوتاہی کیوں کرتے ہو ؟

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(71:14) وقد خلقکم اطوارا۔ جملہ حال ہے لکم کی ضمیر جمع مذکر حاضر سے اور اطوار حال ہے۔ خلقکم کی ضمیر جمع مذکر حاضر سے ترجمہ ہوگا :۔ حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح کا پیدا کیا ہے۔ اطوارا طور کی جمع ہے۔ طرح طرح ۔ طرح طرح کی شکل کے بھی ہوسکتے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اول توحید کی دعوت دی اس کے بعد اس کے ثبوت میں چند دلائل دئیے۔ جن میں سے ایک یہ کہ :۔ وقد خلقکم اطوار۔ کہ اس نے تم کو طرح سے بنایا۔ کہ تم اول نطفہ تھے پھر علقہ ہوئے پھر مضغہ ہوئے۔ پھر انسان بنے۔ یا یہ کہ کسی کو امیر کسی کو غریب کسی کو خوبصورت کسی کو بدصورت بنایا۔ پھر سب کا ڈھانچہ ایک ہے مگر صورتیں جدا جدا ۔ یہ نہ مادہ بےشعور کا کام…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–28

لغات القرآن۔ لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔ تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔ فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–24

حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت کا ذکر۔ (ف 1) اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح کو جس طرح اللہ کا حکم تھا اس کے موافق حضرت نوح نے نو سو برس تک ان کو سمجھاتے رہے جب امید کی کوئی سورت باقی نہ رہی تو مایوس اور تنگ دل ہوکربارگاہ الٰہی میں عرض کیا یا اللہ میں نے اپنی طرف سے دعوت تبلیغ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا رات کی تاریکی اور دن کے اجالے میں برابر ان کو تیری طرف بلاتا رہا، مگر نتیجہ یہ ہوا کہ جوں جوں تیری طرف آنے کو کہا گیا یہ بدبخت اور زیادہ ادھر سے منہ پھیرکربھاگے اور جس قدر میری طرف سے شفقت ودل سوزی کا اظہار ہوا ان کی جانب سے نفرت اور بےزاری بڑھتی گئی سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوں نے میری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 5–14

[2] یعنی جس اللہ نے تخلیق کے مختلف مراحل سے گزار کر تمہیں مکمل انسان بنایا اور جس کی قدرت کی شانیں تمہارے اپنے وجود کے اندر نظر آتی ہیں اس کے متعلق تم یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ بھی کوئی بڑی ہستی ہوگا۔ تم اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہو، اس کے احکام کی نافرمانیاں کرتے ہو لیکن تمہیں اندیشہ لاحق نہیں کہ وہ تمہیں اس کی سزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–14

دین فطرت برکت اور دولت ہے 2: ان آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے دین کے متعلق ایک بہت بڑی غلط فہمی کا زالہ فرمایا ہے ۔ عام طور پر دینداری اور مذہب کے معنے یہ ہیں ۔ کہ یہ دنیا میں ترقی اور تقدم کی دشمن ہے ۔ اور اس کی وجہ سے افلاس فخر اور نیکی تقوی اور پاکیزگی قرار پاتی ہے ۔ اس میں حمق ، بےوقوفی معرفت اور دانائی ہے فرمایا ۔ یہ بات قطعاً غلط ہے ۔ اگر تم لوگ اپنے رب سے تعلقات عقیدت وارادت وابستہ کرلو ۔ اور خلوص کے ساتھ اس سے اپنی لغزشوں اور کوتاہیوں کی تلاف چاہو ، تو وہ ایسا نہیں ہے ۔ کہ معاف نہ کرے ۔ اور تم کو اپنے قرب اور حضوری کا موقع نہ بخشے ۔ تم دیندار ہوجاؤ۔ اور اس کی اطاعت کا ربقہ اپنے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(14) حالانکہ اس اللہ تعالیٰ نے تم کو طرح طرح سے بنایا ہے - یعنی ایک حال اور ایک ہیئت کے بعد دوسرا حال دوسری ہیئت۔ یعنی پہلے غذا پھر نطفہ پھر علقہ وغیرہ پیدائش انسانی کے علاوہ دوسری آفاقی دلیلیں بھی بیان فرمائیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–19

ف 6۔ ان نعمتوں کے ذکر سے شاید یہ فائدہ ہو کہ اکثر طبائع میں عاجل کی طلب زیادہ ہے۔ چناچہ در منثور میں قتادہ کا قول ہے کہ وہ لوگ دنیا کے زیادہ حریص تھے اس لئے یہ فرمایا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح سے بنایا ہے 14 ؎ (اطوارا) طرح طرح طور کی جمع جس کے معنی حد اور اندازہ کے آتے ہیں۔ (اطوارا) کے معنی ہیں طرح طرح کی شکل و صورت میں تم کو بنایا ہے اور یہ بھی کہ انسان نے جو ماں کے پیٹ میں طرح طرح کے رنگ بدلے ہیں یعنی نطفہ ، حلقہ ، مضغہ اور اس کے بعد جیتا جاگتا انسان اور پھر اس کے بعد پیدائش سے لے کر موت تک آدمی جتنے ادوار اور اطوار سے گزرتا ہے وہ کسی صاحب عقل و علم سے مخفی نہیں ہے اور ساری تبدیلیاں لانے والا انسان کی شکل و صورت میں طرح طرح سے بنانے والا اور طرح طرح کے رنگ بدلنے والا جن اطوار سے ہو کر انسان بنتا ہے ان رنگوں میں تبدیلی کرنے والا کون ہے ؟ ظاہر ہے کہ ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–14

Commentary يَغْفِرْ‌ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ and Allah will forgive you your sins, 71:4). The particle min is often used to indicate division into parts, that is, to refer to only a part of an amount, group or number. If it is taken in that sense here, it would signify that by embracing the faith only those sins would be forgiven which pertains to the Divine rights because violation of human rights would be forgiven only when the believer fulfills the human rights which he has violated [ such as pecuniary obligations ] and if they cannot be fulfilled [ such as hurting somebody physically or…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–16

14 That is, "He has brought you to the present stage after passing you through different stages of creation and phases of development. In the beginning you lay in the form of sperm and ovum separately in the loins of your father and mother. Then the two were combined by the power of Allah and you were conceived. Then for nine months in the womb of the mother you were gradually formed into a perfect human form and were endowed with all those capabilities which you needed to function as a man in the world. Then you came out as a child from the mother's womb, and you were developed from one…

Read the full tafseer →