Explained with ayahs 5–20
نو سو سال صدا بصحرا کے بعد بھی ایک پیغمبرانہ کوشش
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ساڑھے نو سو سال تک کی لمبی مدت میں کس کس طرح حضرت نوح نبی نے اپنی قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا قوم نے کس کس طرح اعراض کیا کیسی کیسی تکلیفیں اللہ کے پیارے پیغمبر کو پہنچائیں اور کس طرح اپنی ضد پر اڑ گئے، تو حضرت نوح ؑ بطور شکایت کے جناب باری میں عرض کرتے ہیں کہ الٰہی میں نے تیرے حکم کی پوری طرح سرگرمی سے تعمیل کی، تیرے فرمان عالیشان کے مطابق نہ دن کو دن سمجھا، نہ رات کو رات، بلکہ مسلسل ہر وقت انہیں راہ راست کی دعوت دیتا رہا لیکن کیا کروں کہ جس دل سوزی سے میں انہیں نیکی کی طرف بلاتا رہا وہ اسی سختی سے مجھ سے بھاگتے رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
سورة نُوْح 14
یعنی تخلیق کے مدارج اور اطوار سے گزارتا ہوا تمہیں موجودہ حالت پر لایا ہے۔ پہلے تم ماں اور باپ کی صلب میں الگ الگ نطفوں کی شکل میں تھے۔ پھر خدا کی قدرت ہی سے یہ دونوں نطفے ملے اور تمہارا استقرار حمل ہوا۔ پھر نو مہینے تک ماں کے پیٹ میں بتدریج نشوو نما دے کر تمہیں پوری انسانی شکل دی گئی اور تمہارے اندر تمام وہ قوتیں پیدا کی گئیں جو دنیا میں انسان کی حیثیت سے کام کرنے کے لیے تمہیں درکار تھیں۔ پھر ایک زندہ بچے کی صورت میں تم بطن مادر سے باہر آئے اور ہر آن تمہیں ایک حالت سے دوسری حالت تک ترقی دی جاتی رہی یہاں تک کہ تم جوانی اور کہولت کی عمر کو پہنچے۔ ان تمام منازل سے گزرتے ہوئے تم ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
(آیت) اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا 15ۙوَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِيْهِنَّ نُوْرًا، اس آیت میں دلائل توحید وقدرت کے سلسلے میں سات آسمانوں کا طبق برطبق ہونا اور پھر ان میں قمر کا نور ہونا ارشاد ہوا ہے جس میں لفظ فیھن سے ظاہراً یہ سمجھا جاتا ہے کہ چاند آسمانوں کے جرم کے اندر داخل ہے آج کل کی نئی تحقیقات و مشاہدت اسے اس کے خلاف یہ مفہوم ہوتا ہے کہ چاند آسانوں سے بہت نیچے فضائے آسمانی میں ہے جس کو آج کل خلاء کہا جاتا ہے اس کی مفصل تحقیق سورة فرقان کی (آیت) جعل فی السمآء بروجا وجعل فیھا سرجا و قمرا منیرا کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ اس کو دیکھ لیا جائے۔ قوم کے شکوہ کے سلسلہ…
Read the full tafseer →چند آیتیں بطور تضمین:
یہ چھ آیتیں حضرت نوح علیہ السلام کی تقریر کا حصہ بھی ہو سکتی ہیں لیکن میرا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ یہ بطور تضمین اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوح علیہ السلام کی تقریر کی تکمیل کے لیے ہیں۔ اس طرح کی تضمین کی متعدد مثالیں پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں۔ اس کے تضمین ہونے کا قرینہ یہ ہے کہ آیت ۲۱ سے حضرت نوحؑ کی اس تقریر کا بقیہ حصہ آ رہا ہے جس کا آغاز ’قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ‘ سے ہوا ہے۔ اگر آیات ۱۵-۲۰ بھی حضرت نوح علیہ السلام کی تقریر ہی کا حصہ ہوئیں تو ان کے بعد ’قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ‘ کے اعادہ کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ اعادہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کے لیے ہے کہ اوپر کی آیات بیچ میں بطور…
Read the full tafseer →15۔ 1 جو اس کی قدرت اور کمال صناعت پر دلالت کرتے ہیں اور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عبادت کے لائق صرف وہی ایک اللہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
3: اشارہ اس طرف ہے کہ انسان نطفے سے لے کر جیتا جاگتا آدمی بننے تک مختلف مرحلوں سے گذرتا ہے جن کا تذکرہ سورة حج : 5 اور سورة مومنون :14 میں گزرا ہے۔ یہ سارے مراحل اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت پر دلالت کرتے ہیں۔ پھر تمہیں اس بات میں کیوں شک ہے کہ وہ تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
الم تروا ............................ سراجا (17 : 61) ” کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ بنائے اور ان میں چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا ؟ “۔ سات آسمانوں کے مفوم کا تعین ہم ان سائنسی نظریات کے مطابق نہیں کرسکتے ، جو سائنس دان اس کائنات کے بارے میں گھڑتے رہتے ہیں۔ کیونکہ سائنسی نظریات تو مفروضات ہوتے ہیں۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے لوگوں کو سات آسمانوں کی طرف متوجہ کیا اور اللہ نے ان کو بتایا کہ یہ سات ہیں۔ اور ان آسمانوں میں شمس وقمر اس طرح ہیں کہ ایک نور ہے اور دوسرا چراغ ہے۔ لوگ آسمانوں کو بھی دیکھ رہے تھے ، اور شمس وقمر کو بھی دیکھ رہے تھے۔ آسمان اس فضا سے عبارت…
Read the full tafseer →12 یعنی ایک کے اوپر ایک۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
آیت 17{ وَاللّٰہُ اَنْبَتَـکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا۔ } ”اور اللہ نے تمہیں اگایا ہے زمین سے جیسے سبزہ اُگایا جاتا ہے۔“
اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ہے۔ نہ صرف تمہارے جسم کے تمام اجزاء زمین سے لیے گئے ہیں بلکہ اس جسم کی پرورش اور بقا کے لیے تمہیں خوراک بھی اسی زمین سے مل رہی ہے۔ نظریہ ارتقاء evolution theory کے ماننے والے لوگ اس آیت کو اپنے حق میں دلیل کے طور پر لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ زمین سے اگانے کے مفہوم میں پہلے چھوٹے چھوٹے جانوروں کی تخلیق کے آغاز اور پھر رفتہ رفتہ اس مخلوق کے مختلف ارتقائی مراحل سے گزار کر انسانی نسل Homo sapiens تک پہنچنے کا اشارہ موجود ہے۔
Read the full tafseer →8 اس کی تشریح کے لیے دیکھیے سورة ملک کا حاشیہ نمبر 6۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
8۔ ان چیزوں کا خدا کی بڑی نعمتوں میں سے ہونا تو ظاہر ہی ہے، اور اس سے اس کی قدرت کامل اور خلاقی پر استدلال بھی بالکل صریح ہے۔ اسی کے ساتھ ضمنا یہ حقیقت بھی سامنے آجاتی ہے کہ آسمان اور چاند اور سورج سب کے سب اللہ ہی کی مخلوق اور سرتاسر محکوم ہیں۔ ان میں نہ کوئی دیوی نہ کوئی دیوتا۔ قوم نوح (علیہ السلام) خصوصیت کے ساتھ انہیں ” پرستیوں “ یعنی فلک پرستی، ماہتاب پرستی اور آفتاب پرستی میں مبتلا تھی۔ (آیت) ” سبع سموت طباقا “۔ سمآء اور ” سبع سموت “۔ دونوں پر حاشیے گزر چکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–20
ان اعبدوا اللہ واتقوہ و اطیعون حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی تبلیغ کا آغاز ان تین باتوں سے فرمایا ایک یہ کہ اللہ بندگی، دوسرے تقویٰ ، تیسرے رسول کی اطاعت، مطلب یہ کہ اگر تم ان تین باتوں کو قبول کرلو تو اب تک جو گناہ تم سے ہوچکے ہیں ان سے وہ درگزر فرمائے گا، یغفرلکم من ذنوبکم و یوخر کم الی اجل مسمی الخ میں بعض مفسرین نے حقوق العباد کو خارج کرنے کے لئے من کو تبعیض کا لیا ہے، اسلام اور ایمان لانے سے حقوق اللہ معاف ہوجائیں گے مگر حقوق العباد سے معافی کے لئے صاحب حق سے معافی ضروری ہوگی، بعض مفسرن نے یہاں من زائدہ یا بمعنی عن لیا ہے مطلب یہ کہ ایمان لانے سے تمہارے سب گناہ معاف ہوجائیں گے مگر دوسری…
Read the full tafseer →الم تروا . استفہام حقیقی نہیں مجازی بمعنی تعجب ہے۔
کیف خلق اللہ سبع سموت طباقا . طباقاً یعنی ایک کے اوپر دوسرا اور دوسرے کے اوپر تیسرا وغیرہ
احادیث سے معلوم ہوتا ہے اور پہلے ذکر بھی ہوچکا ہے کہ ہر بالائی اور زیرینی آسمان کے درمیان پانچ سو برس کی مسافت ہے۔
وجعل المقرفیھن نورا . (تمام آسمانوں میں تو چاند نہیں ہے اس لیے) فیھن کا معنی ہے فی بعضھن یعنی
تمام دنیا والے آسمان میں اللہ نے چاند پیدا کیا جیسے روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ قبیلۂ بنی نجار کے گھروں میں (سب سے اوّل مدینہ میں رونق افروز ہونے کے وقت) اترے تھے یعنی بنی نجار کے مکانوں میں سے کسی ایک مکان میں بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت عبداللہ بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
(14۔ 16) اے مکہ والو کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح سات آسمان قبہ کی طرح اوپر نیچے بنائے کہ ان کے کونے متصل ہیں اور ان میں چاند کو نور کی چیز بنایا اور انسانوں کے لیے سورج کو روشن چراغ بنایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
الم تروا کیف خلق اللہ …: نوح ؑ نے اپنی قوم کو ان کی پیدائش میں توحید اور قیامت کے دلائل کی طرف توجہ دلانے کے بعد ان چیزوں پر غور و فکر کی دعوت دی جو اللہ تعالیٰ نے ان کے گرد و پیش ان کی ضرورتوں کے لئے پیدا فرمائی ہیں۔ فرمایا، کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے سات آسمان، ان میں روشنی پھیلانے والا چاند اور جلتا ہوا چراغ یعنی سورج کس طرح پیدا فرمایا ؟ زمین کو بچھونے کی طرح نرم کردیا اور تمہاری سہولت کے لئے اس میں گھاٹیاں اور کشدہ رستے بنا دیئے۔ یہ تمام انتظام سا بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ بےکار اور بےمقصد پیدا نہیں کیا، بلکہ جس طرح اس نے تمہیں پہلے زمین سے پیدا…
Read the full tafseer →الم تروا کیف خلق اللہ سبع سموت طباقاً ۔ ان کے لئے ایک اور دلیل ذکر کی یعنی کیا تم نہیں جانتے کہ وہ ذات جو اس پر قادر ہے تو وہی اس امر کی مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔ طباقاً کا معنی ہے ان میں سے بعض بعض کے اوپر ہو۔ ہر آسمان دوسرے آسمان پر اس طرح ہے جس طرح قبہ ہوتا ہے، یہ حضرت ابن عباس اور سدی کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کو سات زمینوں کے اوپر پیدا کیا۔ (4) ہر دو زمینوں اور دو آسمانوں کے درمیان مخلوق اور امر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان الم تروا اخبار کے طریقہ پر ہے، آنکھوں سے مشاہدہ کے طریقہ پر نہیں جس طرح تو کہتا ہے الم ترنی کیف صنعت بفلان کیا تو نہیں جانتا میں…
Read the full tafseer →15۔ ابن المنذر وابو الشیخ نے العظمہ میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت خلق اللہ سبع سموت طباقا اوپر تلے سات آسمان بنائے جو بعض بعض کے اوپر ہیں۔ ہر زمین و آسمان کے درمیان مخلوق اور امر ہے اور آیت وجعل القمر فیہن نورا وجعل الشمس سراجا اور ان میں چاند کو چمکتا ہوا بنایا اور سورج کو چراغ بنایا۔ اس طرح پر کہ ان کا چہرہ آسمان میں اور ان کی پیٹھ تمہاری طرف ہے۔
Read the full tafseer →[اَلَمْ تَرَوْا : کیا تم لوگوں نے غور ہی نہیں کیا ] [كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ : کیسے پیدا کیا اللہ نے ] [سَبْعَ سَمٰوٰتٍ : سات آسمانوں کو ] [طِبَاقًا : تہہ در تہہ ہوتے ہوئے ]
نوٹ۔ 1: آیات۔ 15 ۔ 16 ۔ میں آسمان اور اس کی نشانیوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد آیات۔ 17 ۔ 18 ۔ میں زمین کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ سب سے پہلے زمین کی سب سے اشرف مخلوق یعنی انسان کو لیا ہے۔ فرمایا کہ اللہ نے تمہیں زمین سے اگایا اور اگانے کے بعد پھر اسی میں تمہیں مرنے کے بعد لوٹا دیتا ہے۔ اور پھر اسی سے تمہیں ایک دن نکالے گا۔ یہ قرآن کی بلاغت کا اعجاز ہے کہ اس آیت میں جو دعوٰی ہے وہی اس دعوے کی نہایت واضح دلیل بھی ہے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے خطاب، نعمتوں کی تذکیر، توحید کی دعوت، قوم کا انحراف اور باغیانہ روش
یہاں سے سورة ٴ نوح شروع ہو رہی ہے اور بھی کئی سورتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا اور ان کی قوم کی نافرمانی کا اور قوم کے انجام کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے تقریباً ایک ہزار سال کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی وہ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے ان لوگوں میں بت پرستی پھیل گئی تھی۔ بت بنا لیتے تھے اور ان کے نام بھی تجویز کرلیتے تھے جو اس سورت کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں، حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں طرح طرح سے سمجھایا توحید کی اور اللہ وحدہ لاشریک لہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
و توحید خالق ارض وسماء :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انآ ارسلنا نوحا الی قومہ ........ الی ......... سبلا فجاجا “۔
(ربط) اس سے قبل سورة معارج میں قیامت اور قیامت کے احوال شدیدہ کا ذکر تھا اور یہ کہ اس روز مجرمین اور نافرمانوں کی پریشانی اور بدحالی انسان کے تصور سے بھی بڑھ کر ہوگی تو اب اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر ہے جن کو حق تعالیٰ نے عالم میں سب سے پہلا وہ رسول بنا کر بھیجا جو شرک وبت پرستی کا رد کرنے والے تھے انکی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ قوم کی یہ کس قدر بدنصیبی تھی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرایا اور بڑی ہی گستاخی کے ساتھ شرک وبت پرستی پر ڈٹے رہے ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
8:۔ ” وقد خلقکم “ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان عقلی دلائل کی طرف بھی قوم کو متوجہ کیا کہ اپنی پیدائش پر غور کرو اور دیکھو اللہ نے تمہیں کس طرح مختلف احوال سے گذار کر پیدا فرمایا۔ ” الم تروا کیف خلق اللہ “ اپنی پیدائش کے علاوہ ذرا اوپر کی طرف آسمانوں کو تو دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے کیسی قدرت و صنعت سے تہ بتہ سات آسمانوں کو پیدا فرمایا اور ان میں چاند اور سورج کو روشن کیا۔ قمر کو نور اور شمس کو سراج (چراغ) فرما کر اس طرف اشارہ کیا کہ چاند کی روشنی سورج سے مستفاد ہے، کیونکہ اندھیرے میں روشنی چراغ سے مستفاد ہوتی ہے اور چراغ کی روشنی خود اس کے اندر ہوتی ہے کسی دوسری چیز سے مستفاد نہیں ہوتی ولعلہ فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
گذشتہ سے پیوستہ :
یہ سورة نوح ہے۔ اور ان دروس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو دعا کا ذکر ہے جو انہوں نے تھک ہار کر بار گاہ الہٰی میں پیش کی کہ یعنی اے پروردگار میں نے پانی قوم کو شب و روز دعوت دی مگر میرے بلانے پر وہ اور زیادہ بھاگنے لگے۔ انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور کپڑے سمیٹ لیے ، اصرار ، اور تکبر کیا۔ میں نے ان کو برملا بھی دعوت دی اور پوشیدہ طور پر بھی نصیحت کی۔ اعلی الاعلان بھی تبلیغ حق کی مگر انہوں نے میری کسی بات کو نہیں مانا۔
استغفار کی ترغیب :
آخر میں میں نے انہیں یہ بھی کہا اپنے رب سے استغفار کرو۔ معافی مانگو کیونکہ وہ بہت بخشش کرنے والا ہے۔ استغفار کا معنی بخشش…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللہُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا 15 ۙ
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
ترکیب : الوقار بمعنی التوقیر ترجون بمعنی تعتقدون وانما عبرعن الاعتقاد بالرجاء التابع لاونی الظن مبالغۃ وللہ اللام للتبین بیان للموقرو یمکن ان یکون صلۃ للوقار ‘ وقد خلقکم الجملۃ حال من الضمیر فی لکم اطوارا مختلفین حال من ضمیر فی خلقکم وقیل مفعول ثان لخلق بمعنی جعل قال اللیث الطور التارۃ یعنی حال بعد حال وقال ابن الانباری الطور الحال والھیئۃ وجمعۃ اطوار ‘ طباقا انتصابہ علی المصدریۃ یقال طابقہ طباقا ومطابقۃ اوحال بمعنی ذات طباقٍ فحذف ذات واقیم طباقا مقامہ نباتا منصوب علی انہ مفعول مطلق ولم یقل انباتاً کما یقتضیۃ الظاہر للدقیقۃ اللطیفۃ وھی انہ لوقال ابناتا کان صفۃ للہ تعالیٰ وھم لایعتقدونہ بل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
اَلَمْ تَرَوْا کَیْفَ خَلَقَ اللّٰہُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا۔ وَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِیْھِنَّ نُوْرًا وَّجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا۔ وَاللّٰہُ اَنْبَتَـکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا۔ ثُمَّ یُعْیِدُکُمْ فِیْھَا وَیُحْزِجُکُمْ اِخْرَاجاً ۔ وَاللّٰہُ جَعَلَ لَـکُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًا۔ لِّـتَسْلُـکُوْا مِنْھَا سُبُلاً فِجَاجًا۔ (نوح : 15 تا 20)
(کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ بنائے۔ اور چاند کو ان کے اندر روشنی بنایا اور سورج کو چراغ بنایا۔ اور اللہ ہی نے تم کو زمین سے خاص اہتمام سے اگایا۔ پھر وہ تمہیں اسی زمین میں واپس لے جائے گا اور اس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کرے گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کا تعارف ان الفاظ میں کروایا۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو جو تبلیغ فرمائی اس کا خلاصہ اس سورت میں ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مرکزی نقطہ اللہ کی توحید کی دعوت دینا اور لوگوں کو شرک سے منع کرنا تھا۔ توحید کی دعوت دیتے ہوئے انہوں نے ایسے دلائل دیئے کہ جن سے انکار کرنا کسی مشرک اور کافر کے بس کی بات نہیں لیکن اس کے باوجود کفار اور مشرکین نے ان کی دعوت کو مسترد کردیا۔ جس پر حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم…
Read the full tafseer →قدرتِ عظیمہ کے نمونے :
15 : نفوس انسانیہ قریب تر ہونے کی وجہ سے پہلے ان کی طرف متوجہ کر کے خبردار کیا پھر جہان میں نظر دوڑانے کو کہا اور ان چیزوں پر نظر ڈالنے کو کہا جو بنانے والے کی عظیم قدرت پر شہادت دے رہے ہیں۔ فرمایا اَلَمْ تَرَوْا کَیْفَ خَلَقَ اللّٰہُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا (کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح سات آسمان اوپر نیچے پیدا کیے) طباقًا ایک دوسرے کے اوپر۔
Read the full tafseer →14 ۔” وقد خلقکم اطوارا “ کئی مرتبہ ایک حال کے بعد دوسرے حال میں نطفہ پھر علقہ پھر مضغہ مکمل تخلیق ہونے لک۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–20
5۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح علیہ اسلام کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم تھا اس کے موافق انہوں نے سالہا سال تک اپنی قوم کو بت پرستی کے وبال سے ڈرایا اور جب ان کی سرکش قوم راہ راست پر نہ آئی تو انہوں نے اپنی قوم کی یہ شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کی جس کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ میں ان لوگوں کو ہر وقت تنہائی میں محفل میں سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوگوں نے میری ایک نہ سنی بلکہ یہ لوگ نصیحت کی بات سے ایسے گھبراتے ہیں کہ جب ان سے کوئی بات نصیحت کی کہی جاتی ہے تو یہ لوگ کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں منہ سر لپیٹ کر کانوں کو کپڑے کے اندر چھپا لیتے ہیں تاکہ نصیحت کی بات سے ان کے کان آشنا…
Read the full tafseer →چناچہ فرمایا (الم تروا کیف خلق اللہ سبع سموات طباقا) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے سات آسمان کیسے اوپر تلے بنائے ہیں یعنی ہر آسمان کو دوسرے آسمان کے اوپر پیدا کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
15 انسان کے خود اپنے وجود کے اندر عظیم الشان سامان غور و فکر : ۔ سو انسان کے خود اپنے وجود میں سامان غور و فکر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو کیا ہوگیا کہ تم اپنے رب کے لئے کسی وفا کی امید نہیں رکھتے۔ حالانکہ اسی نے تم کو پیدا فرمایا طور در طور۔ کبھی تم نطفہ کی شکل میں تھے پھر علقہ بنے اور پھر مضغہ، پھر اس قادر مطلق نے تمہاری ہڈیاں بنائیں، پھر ان پر گوشت چڑھایا اور پھر تم کو ایک اور ہی مخلوق کی شکل میں وجود بخشا اور یہ سب کچھ ایک طرف تو اس کی بےپایاں قدرت کا پتہ دیتا ہے اور دوسری طرف یہ اس وحدہ لاشریک کی بےنہایت رحمت کا بھی ایک عظیم الشان مظہر و ثبوت ہے۔ سبحانہ و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–28
اللہ کی نعمتیں
تشریح : کائنات کی ترتیب اس کا نظام سب کا سب حیرت انگیز پر آسائش اور ناقابل فہم ہے۔ گو کہ سائنس دان تحقیق و جستجو میں لگے رہتے ہیں اور جو قرآنی آیات کی روشنی میں تحقیق کرتے ہیں وہی مسلم سائنس دان زیادہ کامیاب رہے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ علم الافلاک فزکس، حیاتیات، بیالوجی وغیرہ وغیرہ تاریخ کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ تمام علوم کی جڑیں مکمل طور پر مسلم سائنس دانوں کے کئے ہوئے کاموں ہی سے نکلتی ہیں۔ مثلاً ابن عربی، جابر خراسانی، ابن سینا وغیرہ ایک عام انسان کے لئے اور ایک خاص انسان کے لیے آسمانوں کا ذکر چاند، سورج اور زمین کا ذکر انسان کی پیدائش، مرجانا زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
سورة نوح۔
آیات 1 تا 20۔
اسرارومعارف۔
ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا کہ ان کا کردار ایسا مسخ ہوچکا تھا کہ عذاب الٰہی واقع ہونے کا خطرہ تھا لہذا نوح (علیہ السلام) انہیں بروقت باخبر کرنے کے لیے تشریف لائے کہ اللہ کے دردناک عذاب سے بچنے کا طریقہ سکھائیں لہذا انہوں نے اپنی بعثت کا اعلان فرمایا کہ اللہ نے مجھے تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے اور تم اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اور اس کی نافرمانی سے باز رہو۔
نبی کا لایا ہوا نظام۔
اس کی اطاعت یہ ہے کہ جو میں کہتا ہوں وہ کرو یعنی اپنی زندگی میں میرا دیا ہوا نظام رائج کرو تو تم سے جو گناہ ہوچکے ہیں اللہ اپنی رحمت سے معاف فرمائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ف 4 یعنی چاندصرف روشنی دیتا ہے اور سورج روشنی کے علاوہ گرمی بھی۔
Read the full tafseer →(71:15) الم تروا۔ الف استفہامیہ لم تروا مضارع نفی جحد بلم۔ صیغہ جمع مذکر حاضر کیا تم نے نہیں دیکھا۔ استفہام حقیقی نہیں ہے مجازی بمعنی تعجب ہے۔
کیف حرف استفہام ہے بمعنی کیسے۔ کیونکر، کس طرح۔
طباقا : تہ بہ تہ۔ کئی پرت ہونا۔ اوپر تلے۔ منزل نہ منزل۔ طباقا بوجہ حال ہونے کے منصوب ہے بمعنی ذات طباق تھا۔ ذات کو حذف کرکے طباقا قائم مقام کردیا۔
ترجمہ ہوگا :۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے سات آسمان اوپر تلے کیسے بنائے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–28
لغات القرآن۔
لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔
تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔
فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–24
حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت کا ذکر۔
(ف 1) اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح کو جس طرح اللہ کا حکم تھا اس کے موافق حضرت نوح نے نو سو برس تک ان کو سمجھاتے رہے جب امید کی کوئی سورت باقی نہ رہی تو مایوس اور تنگ دل ہوکربارگاہ الٰہی میں عرض کیا یا اللہ میں نے اپنی طرف سے دعوت تبلیغ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا رات کی تاریکی اور دن کے اجالے میں برابر ان کو تیری طرف بلاتا رہا، مگر نتیجہ یہ ہوا کہ جوں جوں تیری طرف آنے کو کہا گیا یہ بدبخت اور زیادہ ادھر سے منہ پھیرکربھاگے اور جس قدر میری طرف سے شفقت ودل سوزی کا اظہار ہوا ان کی جانب سے نفرت اور بےزاری بڑھتی گئی سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوں نے میری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
[3] یعنی اول ابو البشر آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا ہوئے پھر نطفے سے نسل انسانی چلی اور نطفہ خلاصہ ہے غذا کا جو مٹی سے نکلتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
ف 1: فرمایا حقیقت یہ ہے ۔ کہ تم جو دین کو نہیں مانتے ہو اور اس طرح کے خیالات کی اشاعت کرتے ہو ۔ تو محض اس لئے کے تمہارے دلوں میں اللہ کے لئے عزت واحترام کا جذبہ نہیں ہے اس کے بعد اس کی قدرتوں اور حکمتوں کو بیان کیا ہے ۔ کہ دیکھو خود تم کو اس نے بنایا ہے ۔ آسمان تو کس طرح اوپر تلے پیدا کیا ہے ۔ اور پھر اس میں جاندار سورج کو کس طرح آویزاں کیا ہے ۔ کہ وہ ضیا بخش عالم ہیں ۔ تم کو زمین کے اجزاء سے پیدا کیا ہے ۔ پھر زمین ہی میں مرنے کے بعد لیجایا جائے گا ۔ اور پھر دوبارہ اس زمین میں سے اٹھائیگا ۔ یہ کتنی عبرت انگیز بات ہے ۔ دیکھو یہ محض اللہ کی ۔ عنایت ہے ۔ کہ اس نے زمین کو اتنی وسعت کے باوجود…
Read the full tafseer →(15) کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح اوپر تلے سات آسمان بنائے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
ف 6۔ ان نعمتوں کے ذکر سے شاید یہ فائدہ ہو کہ اکثر طبائع میں عاجل کی طلب زیادہ ہے۔ چناچہ در منثور میں قتادہ کا قول ہے کہ وہ لوگ دنیا کے زیادہ حریص تھے اس لئے یہ فرمایا۔
Read the full tafseer →کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان بنا دیئے ہیں
15 ؎ اس پہلے انسان کو اندرونی شہادتوں کی طرف توجہ دلائی جو انسان کے اپنے اندر موجود ہیں اور جو اس کی پیدائش سے لے کر اس کے بوڑھے ہونے اور مرنے تک پائی جاتی ہیں اور اگر آدمی ان ہی میں سے ایک ایک پر غور کرتا جائے تو اس کو کسی دوسری طرف دھیان دینے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی لیکن اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کی توجہ آسمانوں کی بلندیوں کی طرف مبذول کرائی ہے کہ اگر وہ اس طرح عبرت حاصل نہیں کرتا تو اس کو بیرونی شہادتوں سے روشناس کرایا جائے کیونکہ اصل مقصود تو انسان کی تفہیم ہے وہ خواہ کسی صورت میں بھی ہو۔ فرمایا اگر انسان غوروفکر کرے تو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–22
لَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّـهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا
(Did you not see how Allah has created seven heavens one upon another, and has made the moon a light therein? ....71:15-16)
These verses are adduced as proof positive of Divine Oneness and His power. He has created seven heavens, one on top of the other, and placed the moon as a light in them. The prepositional phrase in the verse apparently indicates that the moon is placed in the body of the heavens. The subject is fully discussed in Surah Al-Furqan under the following verse:
تَبَارَكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
14 That is, "He has brought you to the present stage after passing you through different stages of creation and phases of development. In the beginning you lay in the form of sperm and ovum separately in the loins of your father and mother. Then the two were combined by the power of Allah and you were conceived. Then for nine months in the womb of the mother you were gradually formed into a perfect human form and were endowed with all those capabilities which you needed to function as a man in the world. Then you came out as a child from the mother's womb, and you were developed from one…
Read the full tafseer →