Explained with ayahs 5–20
نو سو سال صدا بصحرا کے بعد بھی ایک پیغمبرانہ کوشش
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ساڑھے نو سو سال تک کی لمبی مدت میں کس کس طرح حضرت نوح نبی نے اپنی قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا قوم نے کس کس طرح اعراض کیا کیسی کیسی تکلیفیں اللہ کے پیارے پیغمبر کو پہنچائیں اور کس طرح اپنی ضد پر اڑ گئے، تو حضرت نوح ؑ بطور شکایت کے جناب باری میں عرض کرتے ہیں کہ الٰہی میں نے تیرے حکم کی پوری طرح سرگرمی سے تعمیل کی، تیرے فرمان عالیشان کے مطابق نہ دن کو دن سمجھا، نہ رات کو رات، بلکہ مسلسل ہر وقت انہیں راہ راست کی دعوت دیتا رہا لیکن کیا کروں کہ جس دل سوزی سے میں انہیں نیکی کی طرف بلاتا رہا وہ اسی سختی سے مجھ سے بھاگتے رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
سورة نُوْح 14
یعنی تخلیق کے مدارج اور اطوار سے گزارتا ہوا تمہیں موجودہ حالت پر لایا ہے۔ پہلے تم ماں اور باپ کی صلب میں الگ الگ نطفوں کی شکل میں تھے۔ پھر خدا کی قدرت ہی سے یہ دونوں نطفے ملے اور تمہارا استقرار حمل ہوا۔ پھر نو مہینے تک ماں کے پیٹ میں بتدریج نشوو نما دے کر تمہیں پوری انسانی شکل دی گئی اور تمہارے اندر تمام وہ قوتیں پیدا کی گئیں جو دنیا میں انسان کی حیثیت سے کام کرنے کے لیے تمہیں درکار تھیں۔ پھر ایک زندہ بچے کی صورت میں تم بطن مادر سے باہر آئے اور ہر آن تمہیں ایک حالت سے دوسری حالت تک ترقی دی جاتی رہی یہاں تک کہ تم جوانی اور کہولت کی عمر کو پہنچے۔ ان تمام منازل سے گزرتے ہوئے تم ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
(آیت) اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا 15ۙوَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِيْهِنَّ نُوْرًا، اس آیت میں دلائل توحید وقدرت کے سلسلے میں سات آسمانوں کا طبق برطبق ہونا اور پھر ان میں قمر کا نور ہونا ارشاد ہوا ہے جس میں لفظ فیھن سے ظاہراً یہ سمجھا جاتا ہے کہ چاند آسمانوں کے جرم کے اندر داخل ہے آج کل کی نئی تحقیقات و مشاہدت اسے اس کے خلاف یہ مفہوم ہوتا ہے کہ چاند آسانوں سے بہت نیچے فضائے آسمانی میں ہے جس کو آج کل خلاء کہا جاتا ہے اس کی مفصل تحقیق سورة فرقان کی (آیت) جعل فی السمآء بروجا وجعل فیھا سرجا و قمرا منیرا کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ اس کو دیکھ لیا جائے۔ قوم کے شکوہ کے سلسلہ…
Read the full tafseer →آسمانوں کے اندر کی دو نشانیوں کی طرف اشارہ:
’وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِیْہِنَّ نُوۡرًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا‘۔ آسمانوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد ان کے اندر کی دو عظیم نشانیوں کی طرف توجہ دلائی کہ یہ خدا ہی ہے جس نے ان آسمانوں کے اندر چاند کو روشن اور سورج کو چراغ بنا کر رکھا ہے جن سے ان کے اندر اجالا ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کے ساتھ ساتھ اس کی بے نہایت حکمت اور عالم گیر ربوبیت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اگر اس نے ان میں چاند کا دیا اور سورج کا چراغ نہ رکھا ہوتا تو یہ عالم ظلمات ہوتا۔ ان روشن نشانیوں کے بعد بھی جن کو آخرت ناممکن نظر آئے ان کی آنکھیں کوئی چیز بھی نہیں کھول سکتی۔ یہ امر…
Read the full tafseer →16۔ 1 جو روئے زمین کو منور کرنے والا اور اس کے ماتھے کا جھومر ہے۔ تاکہ اس کی روشنی میں انسان معاش کے لیے جو انسانوں کی انتہائی ناگزیر ضرورت ہے کسب و محنت کرسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
3: اشارہ اس طرف ہے کہ انسان نطفے سے لے کر جیتا جاگتا آدمی بننے تک مختلف مرحلوں سے گذرتا ہے جن کا تذکرہ سورة حج : 5 اور سورة مومنون :14 میں گزرا ہے۔ یہ سارے مراحل اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت پر دلالت کرتے ہیں۔ پھر تمہیں اس بات میں کیوں شک ہے کہ وہ تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
الم تروا ............................ سراجا (17 : 61) ” کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ بنائے اور ان میں چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا ؟ “۔ سات آسمانوں کے مفوم کا تعین ہم ان سائنسی نظریات کے مطابق نہیں کرسکتے ، جو سائنس دان اس کائنات کے بارے میں گھڑتے رہتے ہیں۔ کیونکہ سائنسی نظریات تو مفروضات ہوتے ہیں۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے لوگوں کو سات آسمانوں کی طرف متوجہ کیا اور اللہ نے ان کو بتایا کہ یہ سات ہیں۔ اور ان آسمانوں میں شمس وقمر اس طرح ہیں کہ ایک نور ہے اور دوسرا چراغ ہے۔ لوگ آسمانوں کو بھی دیکھ رہے تھے ، اور شمس وقمر کو بھی دیکھ رہے تھے۔ آسمان اس فضا سے عبارت…
Read the full tafseer →13 سورج کا نور تیز اور گرم ہوتا ہے جس کے آتے ہی رات کی تاریکی کافور ہوجاتی ہے۔ شاید اس لیے اس کو جلتے چراغ سے تشبیہ دی۔ اور چاند کے نور کو اسی چراغ کی روشنی کا پھیلاؤ سمجھنا چاہیے جو جرم قمر کے توسط سے ٹھنڈی اور دھیمی ہوجاتی ہے۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
آیت 17{ وَاللّٰہُ اَنْبَتَـکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا۔ } ”اور اللہ نے تمہیں اگایا ہے زمین سے جیسے سبزہ اُگایا جاتا ہے۔“
اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ہے۔ نہ صرف تمہارے جسم کے تمام اجزاء زمین سے لیے گئے ہیں بلکہ اس جسم کی پرورش اور بقا کے لیے تمہیں خوراک بھی اسی زمین سے مل رہی ہے۔ نظریہ ارتقاء evolution theory کے ماننے والے لوگ اس آیت کو اپنے حق میں دلیل کے طور پر لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ زمین سے اگانے کے مفہوم میں پہلے چھوٹے چھوٹے جانوروں کی تخلیق کے آغاز اور پھر رفتہ رفتہ اس مخلوق کے مختلف ارتقائی مراحل سے گزار کر انسانی نسل Homo sapiens تک پہنچنے کا اشارہ موجود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
9 یہ آسمانوں میں جگمگانے والے چاند اور سورج ہمارے لئے محض روشنی کا ذریعہ نہیں ہیں بلکہ انسان کی زندگی کا بہت حد تک انہی پر انحصار ہے۔ سورج کی وجہ سے ہماری زمین پر رات اور دن وجود میں آتے ہیں۔ موسموں میں تبدیلی آتی ہے۔ فصلیں پکتی ہیں، پھلوں میں رس پڑتا ہے اور انہی چیزوں سے انسان اور دوسری جاندار مخلوق کو غذا مہیا ہوتی ہے تم پر اللہ کے یہ کیا کم احسان ہیں پھر بھی تم اللہ کے ناقدر شناس اور نمک حرام بنتے ہو ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
8۔ ان چیزوں کا خدا کی بڑی نعمتوں میں سے ہونا تو ظاہر ہی ہے، اور اس سے اس کی قدرت کامل اور خلاقی پر استدلال بھی بالکل صریح ہے۔ اسی کے ساتھ ضمنا یہ حقیقت بھی سامنے آجاتی ہے کہ آسمان اور چاند اور سورج سب کے سب اللہ ہی کی مخلوق اور سرتاسر محکوم ہیں۔ ان میں نہ کوئی دیوی نہ کوئی دیوتا۔ قوم نوح (علیہ السلام) خصوصیت کے ساتھ انہیں ” پرستیوں “ یعنی فلک پرستی، ماہتاب پرستی اور آفتاب پرستی میں مبتلا تھی۔ (آیت) ” سبع سموت طباقا “۔ سمآء اور ” سبع سموت “۔ دونوں پر حاشیے گزر چکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–20
ان اعبدوا اللہ واتقوہ و اطیعون حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی تبلیغ کا آغاز ان تین باتوں سے فرمایا ایک یہ کہ اللہ بندگی، دوسرے تقویٰ ، تیسرے رسول کی اطاعت، مطلب یہ کہ اگر تم ان تین باتوں کو قبول کرلو تو اب تک جو گناہ تم سے ہوچکے ہیں ان سے وہ درگزر فرمائے گا، یغفرلکم من ذنوبکم و یوخر کم الی اجل مسمی الخ میں بعض مفسرین نے حقوق العباد کو خارج کرنے کے لئے من کو تبعیض کا لیا ہے، اسلام اور ایمان لانے سے حقوق اللہ معاف ہوجائیں گے مگر حقوق العباد سے معافی کے لئے صاحب حق سے معافی ضروری ہوگی، بعض مفسرن نے یہاں من زائدہ یا بمعنی عن لیا ہے مطلب یہ کہ ایمان لانے سے تمہارے سب گناہ معاف ہوجائیں گے مگر دوسری…
Read the full tafseer →و جعل الشمس سراجا . یعنی سورج کو چراغ کی طرح بنایا جس طرح چراغ کی روشنی سے ماحول کی
تاریکی جاتی رہتی ہے اسی طرح سورج کی روشنی سے سامنے کا اندھیرا دور ہوجاتا ہے۔
شبہ چراغ کی روشنی سورج کی روشنی سے کم ہوتی ہے پھر اعلیٰ کو ادنیٰ سے تشبیہ کیوں دی گئی ؟
ازالہ سننے والوں کے سامنے چراغ کے علاوہ کوئی روشن چیز ایسی نہیں کہ سورج کو اس سے تشبیہ دی جائے ان کے سامنے تو چراغ ہی ہے اس لیے چراغ سے تمثیل دی گئی۔
ایک آیت میں چاند کو نور قرار دیا اور دوسری میں سورج کو چراغ۔ شاید اس سے اس جانب اشارہ مقصود ہو کہ چاند کی روشنی سورج سے حاصل ہوتی ہے کیو کہ نور چراغ سے ہی حاصل ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
(14۔ 16) اے مکہ والو کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح سات آسمان قبہ کی طرح اوپر نیچے بنائے کہ ان کے کونے متصل ہیں اور ان میں چاند کو نور کی چیز بنایا اور انسانوں کے لیے سورج کو روشن چراغ بنایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
الم تروا کیف خلق اللہ …: نوح ؑ نے اپنی قوم کو ان کی پیدائش میں توحید اور قیامت کے دلائل کی طرف توجہ دلانے کے بعد ان چیزوں پر غور و فکر کی دعوت دی جو اللہ تعالیٰ نے ان کے گرد و پیش ان کی ضرورتوں کے لئے پیدا فرمائی ہیں۔ فرمایا، کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے سات آسمان، ان میں روشنی پھیلانے والا چاند اور جلتا ہوا چراغ یعنی سورج کس طرح پیدا فرمایا ؟ زمین کو بچھونے کی طرح نرم کردیا اور تمہاری سہولت کے لئے اس میں گھاٹیاں اور کشدہ رستے بنا دیئے۔ یہ تمام انتظام سا بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ بےکار اور بےمقصد پیدا نہیں کیا، بلکہ جس طرح اس نے تمہیں پہلے زمین سے پیدا…
Read the full tafseer →وجعل القمر فیھن نوراً چاند کو دنیا کے آسمان میں نور بنا دیا (5) جس طرح کہا جاتا ہے : اتانی بنوتمیم و اتیت بنی تمیم مراد بنو تمیم کا بعض ہیں ایہ اخفش کا قول ہے۔ ابن کیسان نے کہا، جب ان آسمانوں میں سے ایک آسمان میں ہو تو وہ ان سب میں ہے۔ قطرب نے کہا، فیھن معھن کے معنی میں ہے، یہ کلبی کا قول ہے یعنی سورج اور چاند کو آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے ساتھ پیدا کیا۔ اکثر علماء لغت نے امراء القیس کیق ول میں فی کو مع کے معنی میں لیا ہے، ثلاثین شھرا فی ثلاثۃ احوال تین مہینے تین احوال کے ساتھ۔ نحاس نے کہا، میں نے ابو الحسن بن کیسان سے اس آیت کے بارے میں پوچھتا تو فرمایا : نحویوں کا جواب تو یہ ہے کہ جب چاند…
Read the full tafseer →16۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے آیت وجعل القمر فیہن نورا کے بارے میں روایت کیا کہ چاند کا نور ان سب میں روشنی پھیلاتا ہے جیسے اگر سات شیشے ہوں اور ان کے نیچے یک شہاب ہو تو وہ ان سب کو روشن کردے۔ اسی طرح چاند کا نور سارے آسمانوں کو روشن کرتا ہے ان کی صفائی اور شفاف ہونے کی وجہ سے۔
17۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذ اور ابو الشیخ نے العظمہ میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ سورج اور چاند دونوں کے چہرے آسمان کی طرف ہیں۔ اور ان کی پشت زمین کی طرف ہے اور میں اس کے بارے میں تم پر میں اللہ کی کتاب میں ایک آیت پڑھتا ہوں اور وہ یہ ہے آیت وجعل القمر فیہن نورا وجعل الشمس سراجا۔
18۔ عبد بن حمید…
Read the full tafseer →[وَّجَعَلَ الْقَمَرَ : اور اس نے بنایا چاند کو ] [فِيْ هِنَّ نُوْرًا : ان (آسمانوں) میں ایک نور ہوتے ہوئے ] [وَّجَعَلَ الشَّمْسَ : اور اس نے بنایا سورج کو ] [سِرَاجًا : ایک چراغ ہوتے ہوئے ]
ترکیب : (آیت۔ 16) فَعَلَ کے دو مفعول آتے ہیں۔ اس لحاظ سے نُوْرًا اور سِرَاجًا کو اس کا مفعول ثانی بھی مانا جاسکتا ہے اور علی الترتیب اَلْقَمَرَ اور الشَّمْسَ کا حال بھی مانا جاسکتا ہے۔ دونوں ترجمے درست مانے جائیں گے۔ ہم انھیں حال ماننے کو ترجیح دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے خطاب، نعمتوں کی تذکیر، توحید کی دعوت، قوم کا انحراف اور باغیانہ روش
یہاں سے سورة ٴ نوح شروع ہو رہی ہے اور بھی کئی سورتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا اور ان کی قوم کی نافرمانی کا اور قوم کے انجام کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے تقریباً ایک ہزار سال کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی وہ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے ان لوگوں میں بت پرستی پھیل گئی تھی۔ بت بنا لیتے تھے اور ان کے نام بھی تجویز کرلیتے تھے جو اس سورت کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں، حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں طرح طرح سے سمجھایا توحید کی اور اللہ وحدہ لاشریک لہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
و توحید خالق ارض وسماء :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انآ ارسلنا نوحا الی قومہ ........ الی ......... سبلا فجاجا “۔
(ربط) اس سے قبل سورة معارج میں قیامت اور قیامت کے احوال شدیدہ کا ذکر تھا اور یہ کہ اس روز مجرمین اور نافرمانوں کی پریشانی اور بدحالی انسان کے تصور سے بھی بڑھ کر ہوگی تو اب اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر ہے جن کو حق تعالیٰ نے عالم میں سب سے پہلا وہ رسول بنا کر بھیجا جو شرک وبت پرستی کا رد کرنے والے تھے انکی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ قوم کی یہ کس قدر بدنصیبی تھی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرایا اور بڑی ہی گستاخی کے ساتھ شرک وبت پرستی پر ڈٹے رہے ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
8:۔ ” وقد خلقکم “ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان عقلی دلائل کی طرف بھی قوم کو متوجہ کیا کہ اپنی پیدائش پر غور کرو اور دیکھو اللہ نے تمہیں کس طرح مختلف احوال سے گذار کر پیدا فرمایا۔ ” الم تروا کیف خلق اللہ “ اپنی پیدائش کے علاوہ ذرا اوپر کی طرف آسمانوں کو تو دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے کیسی قدرت و صنعت سے تہ بتہ سات آسمانوں کو پیدا فرمایا اور ان میں چاند اور سورج کو روشن کیا۔ قمر کو نور اور شمس کو سراج (چراغ) فرما کر اس طرف اشارہ کیا کہ چاند کی روشنی سورج سے مستفاد ہے، کیونکہ اندھیرے میں روشنی چراغ سے مستفاد ہوتی ہے اور چراغ کی روشنی خود اس کے اندر ہوتی ہے کسی دوسری چیز سے مستفاد نہیں ہوتی ولعلہ فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
گذشتہ سے پیوستہ :
یہ سورة نوح ہے۔ اور ان دروس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو دعا کا ذکر ہے جو انہوں نے تھک ہار کر بار گاہ الہٰی میں پیش کی کہ یعنی اے پروردگار میں نے پانی قوم کو شب و روز دعوت دی مگر میرے بلانے پر وہ اور زیادہ بھاگنے لگے۔ انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور کپڑے سمیٹ لیے ، اصرار ، اور تکبر کیا۔ میں نے ان کو برملا بھی دعوت دی اور پوشیدہ طور پر بھی نصیحت کی۔ اعلی الاعلان بھی تبلیغ حق کی مگر انہوں نے میری کسی بات کو نہیں مانا۔
استغفار کی ترغیب :
آخر میں میں نے انہیں یہ بھی کہا اپنے رب سے استغفار کرو۔ معافی مانگو کیونکہ وہ بہت بخشش کرنے والا ہے۔ استغفار کا معنی بخشش…
Read the full tafseer →وَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِيْہِنَّ نُوْرًا وَّجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا 16
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
قمر
القَمَرُ : قَمَرُ السّماء . يقال عند الامتلاء وذلک بعد الثالثة، قيل : وسمّي بذلک لأنه يَقْمُرُ ضوء الکواکب ويفوز به . قال : هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5]
( ق م ر ) القمر
۔ چاند جب پورا ہورہا ہو تو اسے قمر کہا جاتا ہے اور یہ حالت تیسری رات کے بعد ہوتی ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ چاندکو قمر اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ستاروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
ترکیب : الوقار بمعنی التوقیر ترجون بمعنی تعتقدون وانما عبرعن الاعتقاد بالرجاء التابع لاونی الظن مبالغۃ وللہ اللام للتبین بیان للموقرو یمکن ان یکون صلۃ للوقار ‘ وقد خلقکم الجملۃ حال من الضمیر فی لکم اطوارا مختلفین حال من ضمیر فی خلقکم وقیل مفعول ثان لخلق بمعنی جعل قال اللیث الطور التارۃ یعنی حال بعد حال وقال ابن الانباری الطور الحال والھیئۃ وجمعۃ اطوار ‘ طباقا انتصابہ علی المصدریۃ یقال طابقہ طباقا ومطابقۃ اوحال بمعنی ذات طباقٍ فحذف ذات واقیم طباقا مقامہ نباتا منصوب علی انہ مفعول مطلق ولم یقل انباتاً کما یقتضیۃ الظاہر للدقیقۃ اللطیفۃ وھی انہ لوقال ابناتا کان صفۃ للہ تعالیٰ وھم لایعتقدونہ بل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
اَلَمْ تَرَوْا کَیْفَ خَلَقَ اللّٰہُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا۔ وَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِیْھِنَّ نُوْرًا وَّجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا۔ وَاللّٰہُ اَنْبَتَـکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا۔ ثُمَّ یُعْیِدُکُمْ فِیْھَا وَیُحْزِجُکُمْ اِخْرَاجاً ۔ وَاللّٰہُ جَعَلَ لَـکُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًا۔ لِّـتَسْلُـکُوْا مِنْھَا سُبُلاً فِجَاجًا۔ (نوح : 15 تا 20)
(کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ بنائے۔ اور چاند کو ان کے اندر روشنی بنایا اور سورج کو چراغ بنایا۔ اور اللہ ہی نے تم کو زمین سے خاص اہتمام سے اگایا۔ پھر وہ تمہیں اسی زمین میں واپس لے جائے گا اور اس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کرے گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کا تعارف ان الفاظ میں کروایا۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو جو تبلیغ فرمائی اس کا خلاصہ اس سورت میں ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مرکزی نقطہ اللہ کی توحید کی دعوت دینا اور لوگوں کو شرک سے منع کرنا تھا۔ توحید کی دعوت دیتے ہوئے انہوں نے ایسے دلائل دیئے کہ جن سے انکار کرنا کسی مشرک اور کافر کے بس کی بات نہیں لیکن اس کے باوجود کفار اور مشرکین نے ان کی دعوت کو مسترد کردیا۔ جس پر حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم…
Read the full tafseer →16 : وَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِیْھِنَّ نُوْرًا (اور ان میں چاند کو نور بنایا) آسمانوں میں یہ چاند آسمان دنیا میں ہے کیونکہ آسمانوں میں طبقات ہونے کی بناء پر باہمی مناسبت ہے اس لئے اس مناسبت کا لحاظ کر کے ضمیرجمع لانا درست ہے اگرچہ چاند سب میں نہ ہو۔ جیسا کہ عرب کہتے ہیں۔ فی المدینۃ کذا حالانکہ وہ اس کی کسی ایک طرف میں ہوتا ہے۔
قول ابن عباس و ابن عمر ؓ :
سورج اور چاند دونوں کے رخ آسمانوں کی طرف اور ان کا نور آسمانوں میں ہی ہے اور ان کی پشت زمین کی طرف ہے۔ پس چاند کی روشنی تمام آسمانوں کو محیط ہے۔ کیونکہ وہ لطیف ہے ان کے نور پر حجاب نہیں ڈالے گئے۔ وَّجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا (اور سورج کو چراغ…
Read the full tafseer →15 ۔” الم تروا کیف خلق اللہ سبع سماوات طباقا، وجعل القمر فیھن نورا “ حسن (رح) فرماتے ہیں یعنی آسمان دنیا میں ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” اتیت بنی تمیم “ حالانکہ تو ان میں سے بعض کے پاس گیا ہوتا ہے۔ وہ فلان متوارفی دور بنی فلان فلاں بنو فلاں کے گھروں میں چھپا ہوا ہے حالانکہ وہ ایک گھر میں ہوتا ہے اور عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں بیشک سورج و چاند ان دونوں کا رخ آسمانوں کی طرف ہے اور سورج کی روشنی اور چاند کا نور ان میں ہے اور ان کی گدیاں زمین کی طرف ہیں اور یہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–20
5۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح علیہ اسلام کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم تھا اس کے موافق انہوں نے سالہا سال تک اپنی قوم کو بت پرستی کے وبال سے ڈرایا اور جب ان کی سرکش قوم راہ راست پر نہ آئی تو انہوں نے اپنی قوم کی یہ شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کی جس کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ میں ان لوگوں کو ہر وقت تنہائی میں محفل میں سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوگوں نے میری ایک نہ سنی بلکہ یہ لوگ نصیحت کی بات سے ایسے گھبراتے ہیں کہ جب ان سے کوئی بات نصیحت کی کہی جاتی ہے تو یہ لوگ کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں منہ سر لپیٹ کر کانوں کو کپڑے کے اندر چھپا لیتے ہیں تاکہ نصیحت کی بات سے ان کے کان آشنا…
Read the full tafseer →(وجعل القمر فیھن نورا) ۔ اور چاند کو ان میں نور بنایا۔ یعنی زمین والوں کے لیے (وجعل الشمس سراجا) اور سورج کو چراغ بنایا۔ اس میں ان اشیا کی تخلیق کے بڑے ہونے، نیز سورج اور چاند کے فوائد کی کثرت کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے بےپایاں احسان پر دلالت کرتی ہے پس وہ عظیم اور رحیم ہستی، مستحق ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے، اس سے محبت کی جائے اس سے ڈرا جائے اور امید رکھی جائے۔
Read the full tafseer →16 کائنات کے بعض نشانہائے قدرت میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح پیدا فرمایا سات آسمانوں کو تہ بہ تہ۔ اور اس نے اس میں رکھ دیا چاند کو ایک عظیم الشان روشنی کے طور پر اور اس نے سورج کو ایک عظیم الشان چراغ بنایا اور ایسا عظیم الشان چراغ کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال مل ہی نہیں سکتی، سو یہ سب مظاہر اس کی عظیم الشان قدرت کے شاہکار بھ ہیں اور اس کی بےپایاں رحمت و عنایت کے شواہد بھی، جل جلالہ و عم نوالہ سو یہاں پر آسمانوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد سورج اور چاند کی ان دو عظیم الشان نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، جو ان کے اندر پائی جاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–28
اللہ کی نعمتیں
تشریح : کائنات کی ترتیب اس کا نظام سب کا سب حیرت انگیز پر آسائش اور ناقابل فہم ہے۔ گو کہ سائنس دان تحقیق و جستجو میں لگے رہتے ہیں اور جو قرآنی آیات کی روشنی میں تحقیق کرتے ہیں وہی مسلم سائنس دان زیادہ کامیاب رہے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ علم الافلاک فزکس، حیاتیات، بیالوجی وغیرہ وغیرہ تاریخ کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ تمام علوم کی جڑیں مکمل طور پر مسلم سائنس دانوں کے کئے ہوئے کاموں ہی سے نکلتی ہیں۔ مثلاً ابن عربی، جابر خراسانی، ابن سینا وغیرہ ایک عام انسان کے لئے اور ایک خاص انسان کے لیے آسمانوں کا ذکر چاند، سورج اور زمین کا ذکر انسان کی پیدائش، مرجانا زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
سورة نوح۔
آیات 1 تا 20۔
اسرارومعارف۔
ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا کہ ان کا کردار ایسا مسخ ہوچکا تھا کہ عذاب الٰہی واقع ہونے کا خطرہ تھا لہذا نوح (علیہ السلام) انہیں بروقت باخبر کرنے کے لیے تشریف لائے کہ اللہ کے دردناک عذاب سے بچنے کا طریقہ سکھائیں لہذا انہوں نے اپنی بعثت کا اعلان فرمایا کہ اللہ نے مجھے تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے اور تم اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اور اس کی نافرمانی سے باز رہو۔
نبی کا لایا ہوا نظام۔
اس کی اطاعت یہ ہے کہ جو میں کہتا ہوں وہ کرو یعنی اپنی زندگی میں میرا دیا ہوا نظام رائج کرو تو تم سے جو گناہ ہوچکے ہیں اللہ اپنی رحمت سے معاف فرمائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ف 4 یعنی چاندصرف روشنی دیتا ہے اور سورج روشنی کے علاوہ گرمی بھی۔
Read the full tafseer →(71:16) فیہن سراجا : ھن ضمیر جمع مؤنث غائب کا مرجع السموت ہے۔
سراجا۔ چراغ، دیا، مجازا ہر روشن چیز کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ آفتاب کو یہاں سراجا کہا گیا ہے۔
نور و سراجا۔ القمر اور الشمس سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–28
لغات القرآن۔
لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔
تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔
فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–24
حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت کا ذکر۔
(ف 1) اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح کو جس طرح اللہ کا حکم تھا اس کے موافق حضرت نوح نے نو سو برس تک ان کو سمجھاتے رہے جب امید کی کوئی سورت باقی نہ رہی تو مایوس اور تنگ دل ہوکربارگاہ الٰہی میں عرض کیا یا اللہ میں نے اپنی طرف سے دعوت تبلیغ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا رات کی تاریکی اور دن کے اجالے میں برابر ان کو تیری طرف بلاتا رہا، مگر نتیجہ یہ ہوا کہ جوں جوں تیری طرف آنے کو کہا گیا یہ بدبخت اور زیادہ ادھر سے منہ پھیرکربھاگے اور جس قدر میری طرف سے شفقت ودل سوزی کا اظہار ہوا ان کی جانب سے نفرت اور بےزاری بڑھتی گئی سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوں نے میری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
[3] یعنی اول ابو البشر آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا ہوئے پھر نطفے سے نسل انسانی چلی اور نطفہ خلاصہ ہے غذا کا جو مٹی سے نکلتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
ف 1: فرمایا حقیقت یہ ہے ۔ کہ تم جو دین کو نہیں مانتے ہو اور اس طرح کے خیالات کی اشاعت کرتے ہو ۔ تو محض اس لئے کے تمہارے دلوں میں اللہ کے لئے عزت واحترام کا جذبہ نہیں ہے اس کے بعد اس کی قدرتوں اور حکمتوں کو بیان کیا ہے ۔ کہ دیکھو خود تم کو اس نے بنایا ہے ۔ آسمان تو کس طرح اوپر تلے پیدا کیا ہے ۔ اور پھر اس میں جاندار سورج کو کس طرح آویزاں کیا ہے ۔ کہ وہ ضیا بخش عالم ہیں ۔ تم کو زمین کے اجزاء سے پیدا کیا ہے ۔ پھر زمین ہی میں مرنے کے بعد لیجایا جائے گا ۔ اور پھر دوبارہ اس زمین میں سے اٹھائیگا ۔ یہ کتنی عبرت انگیز بات ہے ۔ دیکھو یہ محض اللہ کی ۔ عنایت ہے ۔ کہ اس نے زمین کو اتنی وسعت کے باوجود…
Read the full tafseer →(16) اور اس نے ان آسمانوں میں چاند کو نور یعنی روشنی اور سورج کو چمکتا ہوا چراغ بنایا۔ یعنی چاند کو روشنی کی چیز اور آفتاب کو چراغ جلتا ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
ف 6۔ ان نعمتوں کے ذکر سے شاید یہ فائدہ ہو کہ اکثر طبائع میں عاجل کی طلب زیادہ ہے۔ چناچہ در منثور میں قتادہ کا قول ہے کہ وہ لوگ دنیا کے زیادہ حریص تھے اس لئے یہ فرمایا۔
Read the full tafseer →ان میں چاند کو جھکنے والا اور سورج کو چراغ بنایا
16 ؎ آسمانوں کی طرف توجہ مبذول کرانے کے بعد فلک میں تیرنے والے ستاروں ، سیاروں اور چاند و سورج کی طرف توجہ کرا دی کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نشانات ہیں۔ فرمایا غور کرو کہ اس نے ان آسمانوں میں کس طرح چاند کو روشنی اور سورج کو چمکتا ہوا چراغ بنا دیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نشانات بھی ہیں اور اس کی حکمت پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ کیا حکیم کل ہے جس نے ان کو اس انداز پر بنا دیا ہے کہ ایک کی روشنی ٹھنڈی اور دوسرے کی نہایت گرم ہے اور پھر جس کو ٹھنڈا بنایا ہے بغیر کسی حکمت کے نہیں اور جس کو گرم بنایا ہے وہ بھی بغیر کسی حکمت کے نہیں ہے۔ یہ سیارے ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–22
لَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّـهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا
(Did you not see how Allah has created seven heavens one upon another, and has made the moon a light therein? ....71:15-16)
These verses are adduced as proof positive of Divine Oneness and His power. He has created seven heavens, one on top of the other, and placed the moon as a light in them. The prepositional phrase in the verse apparently indicates that the moon is placed in the body of the heavens. The subject is fully discussed in Surah Al-Furqan under the following verse:
تَبَارَكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
14 That is, "He has brought you to the present stage after passing you through different stages of creation and phases of development. In the beginning you lay in the form of sperm and ovum separately in the loins of your father and mother. Then the two were combined by the power of Allah and you were conceived. Then for nine months in the womb of the mother you were gradually formed into a perfect human form and were endowed with all those capabilities which you needed to function as a man in the world. Then you came out as a child from the mother's womb, and you were developed from one…
Read the full tafseer →