Nooh 71:17

Nooh · from ayah 17

71:17

وَاللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا ۟ۙوَاللّٰهُ اَنۡۢبَتَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ نَبَاتًا ۙ‏

اور خدا ہی نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And Allah has caused you to grow from the earth a [progressive] growth.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Nooh

All translations of 71:17

اور اللہ نے تم کو زمین سے عجیب طرح اگایا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خدا ہی نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور تم کو زمین سے ایک (خاص اہتمام سے) اگایا ہے (اور پیدا کیا ہے)

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اللہ نے تمہیں زمین سے بہترین طریقے پر اگایا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ نے تمہیں سبزے کی طرح زمین سے اُگایا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اﷲ نے تمہیں زمین سے سبزے کی مانند اُگایا٭، ٭ اَرضی زندگی میں پودوں کی طرح حیاتِ اِنسانی کی اِبتداء اور نشو و نما بھی کیمیائی اور حیاتیاتی مراحل سے گزرتے ہوئے تدریجاً ہوئی، اِسی لئے اِسے اَنبَتَکُم مِّنَ الاَرضِ نَبَاتًا کے بلیغ اِستعارہ کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ نے تمہیں زمین سے اگایا، خاص طریقے سے اگانا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اللہ نے تمہیں زمین سے عجیب طرح اگایا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اللہ ہی نے تم کو زمین سے اگایا خاص اہتمام سے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اللہ ہی نے اگایا تم سب کو زمین سے ایک عظیم الشان (اور حکمتوں بھرے) طریقے سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اللہ نے تم کو زمین ہی سے ایک خاص طور پر پیدا کیا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اللہ نے تمہیں اگایا ہے زمین سے جیسے (سبزہ) اُگایا جاتا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اللہ ہی نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

And Allah has caused you to grow out of the earth so wondrously,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And Allah has caused you to grow well out of the earth,

— Muhammad Taqi Usmani

And Allah has caused you to grow well out of the earth,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And Allah has brought you forth from the (dust of) earth

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Allah hath caused you to grow as a growth from the earth,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And Allah has caused you to grow from the earth a [progressive] growth.

— Saheeh International

and the sun as a torch.

— Muhammad Sarwar

And Allah has made you grow out of the earth as a growth:

— Muhammad Habib Shakir

And Allah hath caused you to grow from the earth as a growth.

— Abdul Majid Daryabadi

"'And Allah has produced you from the earth growing (gradually),

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 71:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 5–20

نو سو سال صدا بصحرا کے بعد بھی ایک پیغمبرانہ کوشش یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ساڑھے نو سو سال تک کی لمبی مدت میں کس کس طرح حضرت نوح نبی نے اپنی قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا قوم نے کس کس طرح اعراض کیا کیسی کیسی تکلیفیں اللہ کے پیارے پیغمبر کو پہنچائیں اور کس طرح اپنی ضد پر اڑ گئے، تو حضرت نوح ؑ بطور شکایت کے جناب باری میں عرض کرتے ہیں کہ الٰہی میں نے تیرے حکم کی پوری طرح سرگرمی سے تعمیل کی، تیرے فرمان عالیشان کے مطابق نہ دن کو دن سمجھا، نہ رات کو رات، بلکہ مسلسل ہر وقت انہیں راہ راست کی دعوت دیتا رہا لیکن کیا کروں کہ جس دل سوزی سے میں انہیں نیکی کی طرف بلاتا رہا وہ اسی سختی سے مجھ سے بھاگتے رہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 17–21

سورة نُوْح 15 یہاں زمین کے مادوں سے انسان کی پیدائش کو نباتات کے اگنے سے تشبیہ دی گئی ہے جس طرح کسی وقت اس کرے پر نباتات موجود نہ تھیں اور پھر اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کو اگایا، اسی طرح ایک وقت تھا جب روئے زمین پر انسان کا کوئی وجود نہ تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہاں اس کی پود لگائی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–23

(آیت) اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا 15؀ۙوَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِيْهِنَّ نُوْرًا، اس آیت میں دلائل توحید وقدرت کے سلسلے میں سات آسمانوں کا طبق برطبق ہونا اور پھر ان میں قمر کا نور ہونا ارشاد ہوا ہے جس میں لفظ فیھن سے ظاہراً یہ سمجھا جاتا ہے کہ چاند آسمانوں کے جرم کے اندر داخل ہے آج کل کی نئی تحقیقات و مشاہدت اسے اس کے خلاف یہ مفہوم ہوتا ہے کہ چاند آسانوں سے بہت نیچے فضائے آسمانی میں ہے جس کو آج کل خلاء کہا جاتا ہے اس کی مفصل تحقیق سورة فرقان کی (آیت) جعل فی السمآء بروجا وجعل فیھا سرجا و قمرا منیرا کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ اس کو دیکھ لیا جائے۔ قوم کے شکوہ کے سلسلہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 17–18

زمین کی نشانیوں کی طرف اشارہ: ’وَاللہُ اَنْبَتَکُمْ مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا ۵ ثُمَّ یُعِیْدُکُمْ فِیْہَا وَیُخْرِجُکُمْ اِخْرَاجًا‘۔ آسمان اور اس کی نشانیوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد یہ زمین کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی اور سب سے پہلے زمین کی سب سے اشرف مخلوق یعنی خود انسان کو لیا۔ فرمایا کہ اللہ نے تمہیں زمین سے اگایا اور اگانے کے بعد پھر اسی میں تمہیں مرنے کے بعد لوٹا دیتا ہے اور پھر اسی سے تمہیں ایک دن نکالے گا۔ دعویٰ ہی دلیل بھی ہے: یہ قرآن کی بلاغت کا اعجاز ہے کہ اس آیت میں جو دعویٰ ہے وہی اس دعوے کی نہایت واضح دلیل بھی ہے۔ اس کے مفہوم کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہو گی کہ جس طرح زمین…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

17۔ 1 یعنی تمہارے باپ آدم ؑ کو، جنہیں مٹی سے بنایا گیا اور پھر اس میں اللہ نے روح پھونکی۔ یا اگر تمام انسانوں کو مخاطب سمجھا جائے، تو مطلب ہوگا کہ تم جس نطفے سے پیدا ہوتے ہو وہ اسی خوراک سے بنتا ہے جو زمین سے حاصل ہوتی ہے، اس اعتبار سے سب کی پیدائش کی اصل زمین ہی قرار پائی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 17–21

4: یعنی جس طرح ایک پودا زمین میں مختلف مراحل طے کرکے اگتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں مختلف مراحل سے گزار کر اس زمین میں پیدا فرمایا ہے، نیز جس طرح زمین سے اگنے والا سبزہ فنا ہو کر مٹی میں مل جاتا ہے، اور پھر جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اس سبزے کو دوبارہ اسی مٹی سے اگا دیتا ہے، اس طرح تم بھی مر کر مٹی میں مل جاؤگے، پھر جب اللہ تعالیٰ چاہے گا تو تہیں دوبارہ زندگی عطا فرما کر زمین سے دوبارہ نکال لے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–18

واللہ ................ اخراجا (17 : 81) ” اور اللہ نے تم کو زمین سے عجیب طرح اگایا ، پھر وہ تمہیں اسی زمین میں واپس لے جائے گا اور اس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کرے گا “۔ انسان کی تخلیق کے عمل کو یہاں ” اگانے “ سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ ایک عجیب انداز تعبیر ہے۔ قرآن کریم میں کئی جگہ یہ انداز اختیار کیا گیا ہے۔ مثلاً ۔ والبلد ................ الا نکدا ” ایک پاکیزہ زمین اپنے نباتات اپنے رب کے اذن سے نکالتی ہے اور جو خبیث ہے وہ صرف کم پیداوار نکالتی ہے “۔ اس آیت میں انسانوں کی پیدائش کی طرف اشارہ ہے۔ اور انسان کی پیدائش کے ساتھ نباتات کی پیدائش کا ذکر تو کئی جگہ آتا ہے۔ سورة حج میں بعث بعدالموت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

14 یعنی زمین سے خوب اچھی طرح جماؤ کے ساتھ پیدا کیا اول ہمارے باپ آدم مٹی سے پیدا ہوئے، پھر نطفہ جس سے بنی آدم پیدا ہوتے ہیں غذا کا خلاصہ ہے جو مٹی سے نکلتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 15–17

آیت 17{ وَاللّٰہُ اَنْبَتَـکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا۔ } ”اور اللہ نے تمہیں اگایا ہے زمین سے جیسے سبزہ اُگایا جاتا ہے۔“ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ہے۔ نہ صرف تمہارے جسم کے تمام اجزاء زمین سے لیے گئے ہیں بلکہ اس جسم کی پرورش اور بقا کے لیے تمہیں خوراک بھی اسی زمین سے مل رہی ہے۔ نظریہ ارتقاء evolution theory کے ماننے والے لوگ اس آیت کو اپنے حق میں دلیل کے طور پر لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ زمین سے اگانے کے مفہوم میں پہلے چھوٹے چھوٹے جانوروں کی تخلیق کے آغاز اور پھر رفتہ رفتہ اس مخلوق کے مختلف ارتقائی مراحل سے گزار کر انسانی نسل Homo sapiens تک پہنچنے کا اشارہ موجود ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 16–17

9 یہ آسمانوں میں جگمگانے والے چاند اور سورج ہمارے لئے محض روشنی کا ذریعہ نہیں ہیں بلکہ انسان کی زندگی کا بہت حد تک انہی پر انحصار ہے۔ سورج کی وجہ سے ہماری زمین پر رات اور دن وجود میں آتے ہیں۔ موسموں میں تبدیلی آتی ہے۔ فصلیں پکتی ہیں، پھلوں میں رس پڑتا ہے اور انہی چیزوں سے انسان اور دوسری جاندار مخلوق کو غذا مہیا ہوتی ہے تم پر اللہ کے یہ کیا کم احسان ہیں پھر بھی تم اللہ کے ناقدر شناس اور نمک حرام بنتے ہو ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 17–20

9۔ نہ شجر پرستی کوئی مغز ومعنی رکھتی ہے، اور نہ دھرتی مائی کوئی دیوی ہیں، زمین اور جو کچھ بھی اس پر ہے یہ سب تو خود ہی انسان اور اس کی ضروریات میں صرف میں لانے کے لئے مخلوق ہوئی ہے۔ (آیت) ” واللہ ... نباتا “۔ یہ اس اعتبار سے فرمایا گیا کہ انسان کی ترکیب میں غالب عنصر اجزائے ارضی ہی کے ہیں۔ (آیت) ” یعیدکم فیھا “۔ یعنی بعد موت انسان کے اجزائے ارضی پھر اسی زمین میں مل ملا جائیں گے۔ (آیت) ” ویخرجکم اخراجا “۔ یعنی حشر کے وقت انسان کامل طور پر اسی زمین سے از نوبرآمد کرلیا جائے۔ (آیت) ” لتسلکوا منھا سبلا فجاجا “۔ یہ سطح زمین پر چلنا پھرنا تو موقوف ہی ہے زمین کے فرش ہونے پر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 3–20

ان اعبدوا اللہ واتقوہ و اطیعون حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی تبلیغ کا آغاز ان تین باتوں سے فرمایا ایک یہ کہ اللہ بندگی، دوسرے تقویٰ ، تیسرے رسول کی اطاعت، مطلب یہ کہ اگر تم ان تین باتوں کو قبول کرلو تو اب تک جو گناہ تم سے ہوچکے ہیں ان سے وہ درگزر فرمائے گا، یغفرلکم من ذنوبکم و یوخر کم الی اجل مسمی الخ میں بعض مفسرین نے حقوق العباد کو خارج کرنے کے لئے من کو تبعیض کا لیا ہے، اسلام اور ایمان لانے سے حقوق اللہ معاف ہوجائیں گے مگر حقوق العباد سے معافی کے لئے صاحب حق سے معافی ضروری ہوگی، بعض مفسرن نے یہاں من زائدہ یا بمعنی عن لیا ہے مطلب یہ کہ ایمان لانے سے تمہارے سب گناہ معاف ہوجائیں گے مگر دوسری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واللہ انبتکم اللہ نے تم کو اگایا۔ ضمیر پر اکتفا کی بجائے (لفظ اللہ) اسم ظاہر ذکر فرمایا کیونکہ محبوب کا نام لذت آفریں ہوتا ہے۔ اُگانے سے مراد ہے پیدا کرنا ‘ روئیدگی کا لفظ پیدائش کے لفظ سے زیادہ حدوث کے مفہوم کو ظاہر کر رہا ہے اس لیے انشاء کم کی بجائے انبتکم فرمایا۔ من الارض . زمین سے پیدا کیا یعنی آدم کو مٹی سے بنایا یا یہ کہ تم کو نطفہ سے پیدا کیا اور نطفہ کو غذا سے اور غذا زمین سے پیدا ہوتی ہے۔ نباتا . مصدر یا اسم مصدر ہے یا فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے بطور دلالت التزامی فعل معذوف سمجھ میں آتا ہے اس لیے اس کے ذکر کی ضرورت نہیں یعنی اللہ نے تم کو پیدا کیا اور تم پیدا ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–20

(17۔ 20) اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں آدم سے اور آدم کو مٹی سے اور مٹی کو زمین سے بنایا اور تمہیں پھر قبر میں دفن کرے گا اور پھر قیامت کے دن تمہیں قبروں سے باہر نکال لائے گا اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے زمین کو فرش کی مانند بنایا تاکہ تم اس کے کشادہ رستوں میں چلو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 15–20

الم تروا کیف خلق اللہ …: نوح ؑ نے اپنی قوم کو ان کی پیدائش میں توحید اور قیامت کے دلائل کی طرف توجہ دلانے کے بعد ان چیزوں پر غور و فکر کی دعوت دی جو اللہ تعالیٰ نے ان کے گرد و پیش ان کی ضرورتوں کے لئے پیدا فرمائی ہیں۔ فرمایا، کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے سات آسمان، ان میں روشنی پھیلانے والا چاند اور جلتا ہوا چراغ یعنی سورج کس طرح پیدا فرمایا ؟ زمین کو بچھونے کی طرح نرم کردیا اور تمہاری سہولت کے لئے اس میں گھاٹیاں اور کشدہ رستے بنا دیئے۔ یہ تمام انتظام سا بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ بےکار اور بےمقصد پیدا نہیں کیا، بلکہ جس طرح اس نے تمہیں پہلے زمین سے پیدا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 17–18

یعنی حضرت آدم علیہ اسلام کو تمام روئے زمین سے پیدا کیا (6) یہ ابن جریج کا قول ہے۔ سورة الانعام اور البقرہ میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ خالد بن معدان نے کہا، انسان کو کیچڑ سے پیدا کیا، اسی وجہ سے موسم سرما میں دل نرم ہوجاتا ہے۔ نباتاً یہ مفعول مطلق ہے مگر فعل کا اپنا مصدر نہیں کیونکہ اس کا مصدر یوں آتا ہے۔ انبت انباتاً تو اسم جو نبات ہے اسے مصدر کی جگہ رکھا۔ اس کی وضاحت سورة آل عمران اور دوسری آیات میں گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مصدر ہے جو معنی پر محمول ہے کیونکہ انبتکم کا معنی ہے تمہیں بنایا کہ تم نباتات اگاتے ہو، یہ خلیل اور زجاج نے کہا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمہارے لئے زمین سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–19

1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت واللہ انبتکم من الارض نباتا اور اللہ ہی نے تمہیں زمین سے ایک خاص طور پر پیدا کیا۔ یعنی آدم (علیہ السلام) کو ساری سطح زمین سے پیدا کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاللّٰهُ انۢبَتَكُمْ : اور اللہ نے اگایا تم لوگوں کو ] [مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا : زمین سے جیسے اگانے کا حق ہے ] (آیت۔ 17) اَنْبَتَ باب افعال ہے۔ اس کا مصدر اِنْبَاتًا ہے، لیکن یہاں مفعول مطلق کے طور پر اِنْبَاتًاکے بجائے ثلاثی مجرد کا مصدر نَبَاتًا آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابواب مزید فیہ کے افعال کا مفعول مطلق اسی باب کے مصدر سے بھی آسکتا ہے اور ثلاثی مجرد کے مصدر سے بھی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–20

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے خطاب، نعمتوں کی تذکیر، توحید کی دعوت، قوم کا انحراف اور باغیانہ روش یہاں سے سورة ٴ نوح شروع ہو رہی ہے اور بھی کئی سورتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا اور ان کی قوم کی نافرمانی کا اور قوم کے انجام کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے تقریباً ایک ہزار سال کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی وہ اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے ان لوگوں میں بت پرستی پھیل گئی تھی۔ بت بنا لیتے تھے اور ان کے نام بھی تجویز کرلیتے تھے جو اس سورت کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں، حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں طرح طرح سے سمجھایا توحید کی اور اللہ وحدہ لاشریک لہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–20

و توحید خالق ارض وسماء : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انآ ارسلنا نوحا الی قومہ ........ الی ......... سبلا فجاجا “۔ (ربط) اس سے قبل سورة معارج میں قیامت اور قیامت کے احوال شدیدہ کا ذکر تھا اور یہ کہ اس روز مجرمین اور نافرمانوں کی پریشانی اور بدحالی انسان کے تصور سے بھی بڑھ کر ہوگی تو اب اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر ہے جن کو حق تعالیٰ نے عالم میں سب سے پہلا وہ رسول بنا کر بھیجا جو شرک وبت پرستی کا رد کرنے والے تھے انکی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ قوم کی یہ کس قدر بدنصیبی تھی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرایا اور بڑی ہی گستاخی کے ساتھ شرک وبت پرستی پر ڈٹے رہے ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 17–20

9:۔ ” واللہ انبتکم “ نباتا مفعول مطلق ہے من غیر بابہ، جیسا کہ تبتل الیہ تبتیلا میں ہے انسان کو زمین سے پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سب کے بابا حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا۔ یا مطلب یہ ہے کہ جن نطفوں سے تم کو پیدا کیا گیا ہے وہ زمین سے حاصل ہونے والی غذا سے پیدا ہوتے ہیں پھر موت کے بعد تمہیں دوبارہ زمین میں لوٹائے گا اور تم قبروں میں دفن کیے جاؤ گے پھر قیامت کے دن تمہیں زندہ کر کے قبروں میں سے نکالے گا۔ ” واللہ جعل لکم الارض بساطا “ پھر نیچے دیکھو زمین کو اس نے کس طرح نرم اور ہموار بنادیا ہے جس میں تم کھلے راستے اور چوڑی چوڑی سڑکیں بناتے اور ان میں چلتے ہو۔ ان تمام صفات کا جو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–20

گذشتہ سے پیوستہ : یہ سورة نوح ہے۔ اور ان دروس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو دعا کا ذکر ہے جو انہوں نے تھک ہار کر بار گاہ الہٰی میں پیش کی کہ یعنی اے پروردگار میں نے پانی قوم کو شب و روز دعوت دی مگر میرے بلانے پر وہ اور زیادہ بھاگنے لگے۔ انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور کپڑے سمیٹ لیے ، اصرار ، اور تکبر کیا۔ میں نے ان کو برملا بھی دعوت دی اور پوشیدہ طور پر بھی نصیحت کی۔ اعلی الاعلان بھی تبلیغ حق کی مگر انہوں نے میری کسی بات کو نہیں مانا۔ استغفار کی ترغیب : آخر میں میں نے انہیں یہ بھی کہا اپنے رب سے استغفار کرو۔ معافی مانگو کیونکہ وہ بہت بخشش کرنے والا ہے۔ استغفار کا معنی بخشش…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاللہُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا۝ 17 ۙ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–20

ترکیب : الوقار بمعنی التوقیر ترجون بمعنی تعتقدون وانما عبرعن الاعتقاد بالرجاء التابع لاونی الظن مبالغۃ وللہ اللام للتبین بیان للموقرو یمکن ان یکون صلۃ للوقار ‘ وقد خلقکم الجملۃ حال من الضمیر فی لکم اطوارا مختلفین حال من ضمیر فی خلقکم وقیل مفعول ثان لخلق بمعنی جعل قال اللیث الطور التارۃ یعنی حال بعد حال وقال ابن الانباری الطور الحال والھیئۃ وجمعۃ اطوار ‘ طباقا انتصابہ علی المصدریۃ یقال طابقہ طباقا ومطابقۃ اوحال بمعنی ذات طباقٍ فحذف ذات واقیم طباقا مقامہ نباتا منصوب علی انہ مفعول مطلق ولم یقل انباتاً کما یقتضیۃ الظاہر للدقیقۃ اللطیفۃ وھی انہ لوقال ابناتا کان صفۃ للہ تعالیٰ وھم لایعتقدونہ بل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–20

اَلَمْ تَرَوْا کَیْفَ خَلَقَ اللّٰہُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا۔ وَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِیْھِنَّ نُوْرًا وَّجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا۔ وَاللّٰہُ اَنْبَتَـکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا۔ ثُمَّ یُعْیِدُکُمْ فِیْھَا وَیُحْزِجُکُمْ اِخْرَاجاً ۔ وَاللّٰہُ جَعَلَ لَـکُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًا۔ لِّـتَسْلُـکُوْا مِنْھَا سُبُلاً فِجَاجًا۔ (نوح : 15 تا 20) (کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ بنائے۔ اور چاند کو ان کے اندر روشنی بنایا اور سورج کو چراغ بنایا۔ اور اللہ ہی نے تم کو زمین سے خاص اہتمام سے اگایا۔ پھر وہ تمہیں اسی زمین میں واپس لے جائے گا اور اس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کرے گا۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 13–20

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کا تعارف ان الفاظ میں کروایا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو جو تبلیغ فرمائی اس کا خلاصہ اس سورت میں ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مرکزی نقطہ اللہ کی توحید کی دعوت دینا اور لوگوں کو شرک سے منع کرنا تھا۔ توحید کی دعوت دیتے ہوئے انہوں نے ایسے دلائل دیئے کہ جن سے انکار کرنا کسی مشرک اور کافر کے بس کی بات نہیں لیکن اس کے باوجود کفار اور مشرکین نے ان کی دعوت کو مسترد کردیا۔ جس پر حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

17 : وَاللّٰہُ اَمنْبَتَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا (اور اللہ تعالیٰ نے تم کو زمین سے ایک خاص طور پر پیدا کیا) انبت ؔ یہاں انشاء کے معنی میں ہے گویا انبات کو بطور استعارہ انشاء کے معنی میں لائے ہیں۔ نباتاؔ یہ مصدر ہے ای فنبتم نباتا۔ تم پیدا ہوئے پیدا ہونا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 5–20

5۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح علیہ اسلام کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم تھا اس کے موافق انہوں نے سالہا سال تک اپنی قوم کو بت پرستی کے وبال سے ڈرایا اور جب ان کی سرکش قوم راہ راست پر نہ آئی تو انہوں نے اپنی قوم کی یہ شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کی جس کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ میں ان لوگوں کو ہر وقت تنہائی میں محفل میں سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوگوں نے میری ایک نہ سنی بلکہ یہ لوگ نصیحت کی بات سے ایسے گھبراتے ہیں کہ جب ان سے کوئی بات نصیحت کی کہی جاتی ہے تو یہ لوگ کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں منہ سر لپیٹ کر کانوں کو کپڑے کے اندر چھپا لیتے ہیں تاکہ نصیحت کی بات سے ان کے کان آشنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(واللہ انبتکم من الارض نباتا) ۔ اور اللہ ہی نے تم کو زمین میں سے پیدا کیا۔ جب تمہارے باپ آدم کو زمین سے پیدا کیا اور تم اس کی صلب میں تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

17 تخلیق آسانی میں عظیم انسان دلائل قدرت و حکمت : انسانی کی پیدائش مٹی سے خالق کرنا، حضرت کی قدرت و حکمت کا ایک اور عظیم الشان مظہر اور نمونہ ہے۔ چناچہ انسان کی تخلیق اور حضرت خالق۔ جل مجدہ کی قدرت و حکمت کی ایک اور مظہر کی نشاندہی کی طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی نے اگایا تم سب کو خاص اہتمام کے ساتھ اس زمین سے کہ ایک طرف تو اس نے تمہارے جد امجد آدم کو اسی مٹی سے پیدا فرمایا اور تم سب اسی کی اولاد ہو اور دوسری طرف تمہارا مادہ تولید جن غذاؤں سے بنتا ہے وہ سب اس زمین سے پیدا ہوتی ہیں، سو اس طرح تم سب کی تخلیق و پیدائش بالواسطہ طور پر اسی مٹی سے ہوئی، سو دیکھ لو کہ اس کی قدتر مطلقہ کا یہ کس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–28

اللہ کی نعمتیں تشریح : کائنات کی ترتیب اس کا نظام سب کا سب حیرت انگیز پر آسائش اور ناقابل فہم ہے۔ گو کہ سائنس دان تحقیق و جستجو میں لگے رہتے ہیں اور جو قرآنی آیات کی روشنی میں تحقیق کرتے ہیں وہی مسلم سائنس دان زیادہ کامیاب رہے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ علم الافلاک فزکس، حیاتیات، بیالوجی وغیرہ وغیرہ تاریخ کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ تمام علوم کی جڑیں مکمل طور پر مسلم سائنس دانوں کے کئے ہوئے کاموں ہی سے نکلتی ہیں۔ مثلاً ابن عربی، جابر خراسانی، ابن سینا وغیرہ ایک عام انسان کے لئے اور ایک خاص انسان کے لیے آسمانوں کا ذکر چاند، سورج اور زمین کا ذکر انسان کی پیدائش، مرجانا زمین…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–20

سورة نوح۔ آیات 1 تا 20۔ اسرارومعارف۔ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا کہ ان کا کردار ایسا مسخ ہوچکا تھا کہ عذاب الٰہی واقع ہونے کا خطرہ تھا لہذا نوح (علیہ السلام) انہیں بروقت باخبر کرنے کے لیے تشریف لائے کہ اللہ کے دردناک عذاب سے بچنے کا طریقہ سکھائیں لہذا انہوں نے اپنی بعثت کا اعلان فرمایا کہ اللہ نے مجھے تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے اور تم اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اور اس کی نافرمانی سے باز رہو۔ نبی کا لایا ہوا نظام۔ اس کی اطاعت یہ ہے کہ جو میں کہتا ہوں وہ کرو یعنی اپنی زندگی میں میرا دیا ہوا نظام رائج کرو تو تم سے جو گناہ ہوچکے ہیں اللہ اپنی رحمت سے معاف فرمائیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی تمہارے باپ آدم کو مٹی سے بنایا… دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ ” اللہ نے تمہیں زمین سے (یعنی زمین سے نکلنے والی نباتات کے ذریعہ) بڑھا کر بڑا کیا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(71:17) واللہ انبتکم من الارض نباتا : انبت ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ انبات (افعال) مصدر۔ بمعنی اگانا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ نباتا مفعول مطلق۔ اسم منصوب ہے۔ یہاں انبتکم (باب افعال) کی رعایت سے موضع مصدر میں لایا گیا ہے ای بمعنی انباتا۔ (الخازن) ترجمہ ہوگا :۔ اور اللہ نے تم کو زمین سے اگایا۔ فائدہ (1): اگانے سے مراد سے پیدا کرنا۔ روئیدگی کا لفظ پیدائش کے لفظ سے زیادہ حدوث (کسی ایسی چیز کا وجود میں آنا جو پہلے نہ ہو) کے مفہوم کو ظاہر کر رہا ہے اس لئے انشاکم کی بجائے انبتکم فرمایا ہے ۔ (تفسیر مظہری) فائدہ (2): انبات من الرض (زمین سے اگایا جانا) دو طرح سے ہے :۔ (1) اللہ تعالیٰ نے حضرت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–28

لغات القرآن۔ لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔ تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔ فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–24

حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت کا ذکر۔ (ف 1) اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح کو جس طرح اللہ کا حکم تھا اس کے موافق حضرت نوح نے نو سو برس تک ان کو سمجھاتے رہے جب امید کی کوئی سورت باقی نہ رہی تو مایوس اور تنگ دل ہوکربارگاہ الٰہی میں عرض کیا یا اللہ میں نے اپنی طرف سے دعوت تبلیغ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا رات کی تاریکی اور دن کے اجالے میں برابر ان کو تیری طرف بلاتا رہا، مگر نتیجہ یہ ہوا کہ جوں جوں تیری طرف آنے کو کہا گیا یہ بدبخت اور زیادہ ادھر سے منہ پھیرکربھاگے اور جس قدر میری طرف سے شفقت ودل سوزی کا اظہار ہوا ان کی جانب سے نفرت اور بےزاری بڑھتی گئی سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوں نے میری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 15–17

[3] یعنی اول ابو البشر آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا ہوئے پھر نطفے سے نسل انسانی چلی اور نطفہ خلاصہ ہے غذا کا جو مٹی سے نکلتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–26

ف 1: فرمایا حقیقت یہ ہے ۔ کہ تم جو دین کو نہیں مانتے ہو اور اس طرح کے خیالات کی اشاعت کرتے ہو ۔ تو محض اس لئے کے تمہارے دلوں میں اللہ کے لئے عزت واحترام کا جذبہ نہیں ہے اس کے بعد اس کی قدرتوں اور حکمتوں کو بیان کیا ہے ۔ کہ دیکھو خود تم کو اس نے بنایا ہے ۔ آسمان تو کس طرح اوپر تلے پیدا کیا ہے ۔ اور پھر اس میں جاندار سورج کو کس طرح آویزاں کیا ہے ۔ کہ وہ ضیا بخش عالم ہیں ۔ تم کو زمین کے اجزاء سے پیدا کیا ہے ۔ پھر زمین ہی میں مرنے کے بعد لیجایا جائے گا ۔ اور پھر دوبارہ اس زمین میں سے اٹھائیگا ۔ یہ کتنی عبرت انگیز بات ہے ۔ دیکھو یہ محض اللہ کی ۔ عنایت ہے ۔ کہ اس نے زمین کو اتنی وسعت کے باوجود…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(17) اور اللہ تعالیٰ نے تم کو ایک خاص طور پر زمین سے اگایا۔ یعنی تمہارا سلسلہ مٹی سے چلایا اور تم کو ابتدائً مٹی سے پیدا کیا وہی مٹی تمہاری غذارکھی اور اس مٹی سے نطفہ خلق کیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–19

ف 6۔ ان نعمتوں کے ذکر سے شاید یہ فائدہ ہو کہ اکثر طبائع میں عاجل کی طلب زیادہ ہے۔ چناچہ در منثور میں قتادہ کا قول ہے کہ وہ لوگ دنیا کے زیادہ حریص تھے اس لئے یہ فرمایا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ نے تم کو اس زمین سے ایک طرح سے پیدا کردیا ہے 17 ؎ (اتیتکم) اس نے تم کو اگایا۔ اتبت اتبات سے معاضی کا صیغہ واحد مذکر غائب کم ضمیر جمع مذکر حاضر اتبات کا استعمال نباتات کو اگانے اور جاندار کے بڑھانے دونوں کے متعلق ہوتا ہے اور اس جگہ دوسرے ہی معنی مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ایک خاص طریقہ کے ساتھ اس زمین ہی سے پیدا کیا ہے اور اس میں اس کی نشو ونما کی ہے۔ انسان اول کی پیدائش پر غور کرو تو اس میں بیحد و شمار حکمتیں اور قدرتیں مخفی ہیں اور اگر تخلیق اول کے بعد اولاد در اولاد پیدا کرنے کا جو طریقہ بتایا ہے اس پر غور کرو تو بھی اس کی حکمتیں اور قدرتیں واضح ہیں اور ان کی وضاحت پیچھے بہت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–22

لَمْ تَرَ‌وْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّـهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا وَجَعَلَ الْقَمَرَ‌ فِيهِنَّ نُورً‌ا (Did you not see how Allah has created seven heavens one upon another, and has made the moon a light therein? ....71:15-16) These verses are adduced as proof positive of Divine Oneness and His power. He has created seven heavens, one on top of the other, and placed the moon as a light in them. The prepositional phrase in the verse apparently indicates that the moon is placed in the body of the heavens. The subject is fully discussed in Surah Al-Furqan under the following verse: تَبَارَ‌كَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–21

15 Here, the creation of man out of the substances of the earth has been compared to the growth of vegetation. Just as at one time there was no vegetation on the earth, then Allah caused it to grow, so at one time man did not exist, then Allah created him.

Read the full tafseer →