Nooh 71:23

Nooh · from ayah 23

71:23

وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا ۙ۬— وَّلَا یَغُوْثَ وَیَعُوْقَ وَنَسْرًا ۟ۚوَ قَالُوۡا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمۡ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا  ۙ وَّ لَا يَغُوۡثَ وَيَعُوۡقَ وَنَسۡرًا‌

اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ود اور سواع اور یغوث اور یعقوب اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And said, 'Never leave your gods and never leave Wadd or Suwa' or Yaghuth and Ya'uq and Nasr.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Nooh

All translations of 71:23

اِنہوں نے کہا ہرگز نہ چھوڑو اپنے معبودوں کو، اور نہ چھوڑو وَدّ اور سُواع کو، اور نہ یَغُوث اور یَعُوق اور نَسر کو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ود اور سواع اور یغوث اور یعقوب اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور کہا انہوں نے کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو (چھوڑنا)

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اپنے آدمیوں سے) کہا ہے کہ : اپنے معبودوں کو ہرگز مت چھوڑنا۔ نہ ود اور سواع کو کسی صورت میں چھوڑنا، اور نہ یغوث، یعوق اور نسر کو چھوڑنا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بولے ہرگز نہ چھوڑنا اپنے خداؤں کو اور ہرگز نہ چھوڑنا ودّ اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور کہتے رہے کہ تم اپنے معبودوں کو مت چھوڑنا اور وَدّ اور سُوَاع اور یَغُوث اور یَعُوق اور نَسر (نامی بتوں) کو (بھی) ہرگز نہ چھوڑنا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھوں نے کہا تم ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ کبھی ودّ کو چھوڑنا اور نہ سواع کو اور نہ یغوث اور یعوق اور نسر کو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور کہا کہ : اپنے خداؤں کو کبھی نہ چھوڑنا، نہ ودّ کو چھوڑنا، نہ سواع کو، نہ یغوث کو، نہ یعوق کو اور نہ نسر کو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور کہا کہ ہرگز نہ چھوڑو اپنے معبودوں کو اور ہرگز نہ چھوڑدو کو اور نہ سواع کو اور نہ یغوث، یعوق اور نسر کو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور انہوں نے (اپنے پیرؤوں سے) کہا کہ تم لوگ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور نہ ہی تم ود ، سواع اور یغوث، یعوق اور نسر کو کسی قیمت پر چھوڑنا

— مولانا اسحاق مدنی

اور انہوں نے کہا کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور نہ ود کو اور نہ سواع کو اور نہ یغوث یعوق نسر (غرض کسی کو بھی نہ) چھوڑنا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور انہوں نے کہا کہ تم اپنے ان معبودوں کو ہرگز چھوڑ نہ بیٹھنا۔ ہرگز مت چھوڑنا وَد کو سواع کو یغوث کو یعوق کو اور نسر کو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ودّ ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They said: “Do not abandon your deities; do not abandon Wadd, nor Suwa, nor Yaghuth, nor Yauq, nor Nasr.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and said (to their people) , :Never forsake your gods, and never forsake Wadd, nor Suwa', nor Yaghuth and Ya'uq and Nasr.

— Muhammad Taqi Usmani

and said (to their people) , :Never forsake your gods, and never forsake Wadd, nor Suwa, nor Yaghuth and Yauq and Nasr.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And they have said: `You shall not leave your gods, nor shall you leave Wadd, nor Suwa`, nor Yaghuth, and Ya`uq and Nasr.' "

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they have said: Forsake not your gods. Forsake not Wadd, nor Suwa', nor Yaghuth and Ya'uq and Nasr.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And said, 'Never leave your gods and never leave Wadd or Suwa' or Yaghuth and Ya'uq and Nasr.

— Saheeh International

and have said to each other, 'Do not give-up your idols. Do not renounce Wadd, Suwa`, Yaghuth, Ya`uq and Nasr (names of certain idols).

— Muhammad Sarwar

And they say: By no means leave your gods, nor leave Wadd, nor Suwa; nor Yaghus, and Yauq and Nasr.

— Muhammad Habib Shakir

And who have said: ye shall not leave your gods; nor Shall ye leave Wadd nor Suwa', nor Yaghuth, nor Ya'uq nor Nasr.

— Abdul Majid Daryabadi

"And they have said (to each other), 'Abandon not your gods: Abandon neither Wadd nor Suwa', neither Yaguth nor Ya'uq, nor Nasr';-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 71:23

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 21–24

نوح ؑ کی بارگاہ الٰہی میں روداد غم حضرت نوح ؑ نے اپنی گزشتہ شکایتوں کے ساتھ ہی جناب باری تعالیٰ میں اپنی قوم کے لوگوں کی اس روش کو بھی بیان کیا کہ میری پکار کو جو ان کے لئے سراسر نفع بخش تھی انہوں نے کان تک نہ لگایا ہاں اپنے مالداروں اور بےفکروں کی مان لی جو تیرے امر سے بالکل غافل تھے اور مال و اولاد کے پیچھے مست تھی، گو فی الواقع وہ مال و اولاد بھی ان کے لئے سراسر و بال جان تھی، کیونکہ ان کی وجہ سے وہ پھولتے تھے اور اللہ کو بھولتے تھے اور زیادہ نقصان میں اترتے جاتے تھے (ولدہ) کی دوسری قرأت (ولدہ) بھی ہے اور ان رئیسوں نے جو مال و جاہ والے تھے ان سے بڑی مکاری کی۔ (کُبَّارِ) اور (کِبَّار) دونوں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 23–24

سورة نُوْح 17 قوم نوح کے معبودوں میں سے یہاں ان معبودوں کے نام لیے گئے ہیں جنہیں بعد میں اہل عرب نے بھی پوجنا شروع کردیا تھا اور آغاز اسلام کے وقت عرب میں جگہ جگہ ان کے مندر بنے ہوئے تھے۔ بعید نہیں کہ طوفان میں جو لوگ بچ گئے تھے ان کی زبان سے بعد کی نسلوں نے قوم نوح کے قدیم معبودوں کا ذکر سنا ہوگا اور جب از سرنو ان کی اولاد میں جاہلیت پھیلی ہوگی تو انہی معبودوں کے بت بنا کر انہوں نے پھر انہیں پوجنا شروع کردیا ہوگا۔ ود قبیلہ قضاعہ کی شاخ بنی کلب بن وبرہ کا معبود تھا جس کا استھان انہوں نے دومتہ الجندل میں بنا رکھا تھا۔ عرب کے قدیم کتبات میں ان کا نام ودم ابم (ود باپو) لکھا ہوا ملتا ہے۔ کلبی کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–23

(آیت) اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا 15؀ۙوَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِيْهِنَّ نُوْرًا، اس آیت میں دلائل توحید وقدرت کے سلسلے میں سات آسمانوں کا طبق برطبق ہونا اور پھر ان میں قمر کا نور ہونا ارشاد ہوا ہے جس میں لفظ فیھن سے ظاہراً یہ سمجھا جاتا ہے کہ چاند آسمانوں کے جرم کے اندر داخل ہے آج کل کی نئی تحقیقات و مشاہدت اسے اس کے خلاف یہ مفہوم ہوتا ہے کہ چاند آسانوں سے بہت نیچے فضائے آسمانی میں ہے جس کو آج کل خلاء کہا جاتا ہے اس کی مفصل تحقیق سورة فرقان کی (آیت) جعل فی السمآء بروجا وجعل فیھا سرجا و قمرا منیرا کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ اس کو دیکھ لیا جائے۔ قوم کے شکوہ کے سلسلہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اوپر آیت 7 میں قوم کے لیڈروں کی جس ضد اور ہٹ دھرمی کی طرف اشارہ ہے یہ اس کی تفصیل ہے کہ میری دعوت توحید کے خلاف انھوں نے اپنی قوم کے عوام کو بھڑکایا کہ اس شخص کے کہنے سے اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑو۔ قوم نوح کے بتوں کی سخت جانی: ’وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا یَغُوۡثَ وَیَعُوۡقَ وَنَسْرًا‘۔ یہ ان کے خاص خاص بڑے بتوں کے نام ہیں۔ ان کی خدائی کا سکہ ان کے عوام کے دلوں پر جما ہوا تھا اس وجہ سے ان کے نام لے کر انھوں نے عوام کو للکارا کہ اپنے ان بزرگ دیوتاؤں پر مضبوطی سے جمے رہو۔ اگر تم ذرا کمزور پڑتے تو تمہارا دین آبائی خطرے میں پڑ جائے گا۔ ان بتوں کے ناموں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

23۔ 1 یہ قوم نوح ؑ کے وہ لوگ تھے جن کی عبادت کرتے تھے اور ان کی اتنی شہرت ہوئی کہ عرب میں بھی ان کی پوجا ہوتی رہی، یہ پانچوں قوم نوح ؑ کے نیک آدمیوں کے نام تھے، جب یہ مرگئے تو شیطان نے ان کے عقیدت مندوں کو کہا کہ ان کی تصوریں بنا کر تم اپنے گھروں اور دکانوں میں رکھ لو تاکہ ان کی یاد تازہ رہے اور ان کے تصور سے تم بھی ان کی طرح نیکیاں کرتے رہو، جب یہ تصویریں رکھنے والے فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی نسلوں کو یہ کہہ کر کہ شرک میں ملوث کردیا کہ تمہارے آباء تو ان کی عبادت کرتے تھے جن کی تصویریں تمہارے گھروں میں لٹک رہی ہیں چناچہ انہوں نے ان کی پوجا شروع کردی (صحیح بخاری)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 23–26

6: یہ سب ان بتوں کے نام ہیں جن کو حضرت نوح ؑ کی قوم پوجا کرتی تھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وقالوا ................ الھتکم (17 : 32) ” انہوں نے کہا ہرگز نہ چھوڑ دو اپنے الہوں کو “۔ ان الہوں کو انہوں نے ” تمہارے الٰہ “ کہہ کر پکاراتا تاکہ ان کو جوش آئے۔ جھوٹی حمیت اور گناہ پر آمادہ کرنے والی غیرت جاگے۔ پھر انہوں ان بتوں میں سے جو زیادہ معزز اور مشہور تھے ، ان کا خصوصیت کے ساتھ تذکرہ کیا تاکہ عوام ان کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں۔ ولا تذرن ........................ ونسرا (17 : 32) ” نہ چھوڑو ود اور سواع کو ، اور نہ یغوث اور یعوق اور نسر کو “۔ یہ نسر تو ان کا بڑا بت تھا جو حضور ﷺ کے دور جاہلیت میں بھی پوجا جاتا تھا۔ ہمیشہ گمراہ قیادتیں عوام الناس کی پوجا کے لئے بت گھڑتی ہیں ، ان کے نام اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی اپنے معبودوں کی حمایت پر جمے رہنا، نوح کے بہکائے میں نہ آنا، کہتے ہیں کہ سینکڑوں برس تک ہر ایک اپنی اولاد اور اولاد در اولاد کو وصیت کرجاتا تھا کہ کوئی اس بڈھے " نوح کے فریب میں نہ آئے اور اپنے آبائی دین سے قدم نہ ہٹائے۔ 5 یہ ان کے بتوں کے نام ہیں۔ ہر مطلب کا ایک الگ بت بنا رکھا تھا۔ وہ ہی بت پھر عرب میں آئے اور ہندوستان میں بھی۔ اسی قسم کے بت بشنو، برہما، اندر، شیو اور ہنومان وغیرہ کے ناموں سے مشہور ہیں۔ اس کی مفصل تحقیق حضرت شاہ عبدالعزیز (رح) نے تفسیر عزیزی میں کی۔ بعض روایات میں ہے کہ پہلے زمانہ میں کچھ بزرگ لوگ تھے ان کی وفات کے بعد شیطان کے اغواء سے قوم نے ان کی تصویریں بطور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 23{ وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِہَتَکُمْ } ”اور انہوں نے کہا کہ تم اپنے ان معبودوں کو ہرگز چھوڑ نہ بیٹھنا۔“ اس سے ملتا جلتا نعرہ سردارانِ قریش نے بھی حضور ﷺ کے خلاف اپنے عوام کو سکھایا تھا : { وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْہُمْ اَنِ امْشُوْا وَاصْبِرُوْا عَلٰٓی اٰلِہَتِکُمْج اِنَّ ہٰذَا لَشَیْئٌ یُّرَادُ۔ } صٓ ”اور چل پڑے ان کے سردار یہ کہتے ہوئے کہ چلو جائو اور جمے رہو اپنے معبودوں پر ‘ یقینا اس بات میں تو کوئی غرض پوشیدہ ہے۔“ { وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًالا وَّلَا یَغُوْثَ وَیَعُوْقَ وَنَسْرًا۔ } ”ہرگز مت چھوڑنا وَد کو ‘ سواع کو ‘ یغوث کو ‘ یعوق کو اور نسر کو۔“ یہ سب اس قوم کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 23–24

14 نوح کی قوم کے بت عرب میں کیسے رائج ہوگئے :۔ اس آیت کی تفسیر کے لیے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے : سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ : جو بت نوح کی قوم میں پوجے جاتے تھے، وہی بعد میں عرب میں آگئے، ودّ کلب قبیلے کا بت تھا جو دومۃ الجندل میں تھا۔ سواع ہذیل قبیلے کا بت تھا، یغوث پہلے مرار قبیلے کا بت تھا پھر بنی غُطَیْفْ کا اور یہ سبا شہر کے پاس جوف میں تھا، یعوق ہمدان قبیلے کا تھا اور نسر حمیر قبیلے کا، جوذی الکلاع (بادشاہ) کی اولاد تھے۔ یہ نوح کی قوم میں سے چند نیک لوگوں کے نام تھے۔ جب وہ مرگئے تو شیطان نے انہیں یہ پٹی پڑھائی کہ جہاں یہ لوگ بیٹھا کرتے تھے وہاں ان کے مجسمے بنا کر (یادگار کے طور پر)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

12۔ یہ سب نام قوم نوح کے خاص خاص دیوتاؤں کے ہیں۔ اور انہیں کی مورتیں ملک میں پجتی رہتی تھیں۔ انکے ناموں کی تصریح کی ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ ان کی پرستش عین نزول قرآن کے زمانہ میں بھی عرب و اطراف عرب میں جاری رہی (آیت) ” وقالوا “۔ یعنی سرادارن قوم نے یہ اپنے پیروی کرنے والوں اور عوام سے کہا۔ اے الرؤسا الی سفلتھم (مدارک) (آیت) ” ودا “۔ یہ دیوتا قوت مردانہ اور عشق و محبت کا تھا۔ اس کی مورت قوی ہیکل مرد کی شکل میں تھی، اہل عرب اس سے خوب مانوس تھے۔ اس کی پوجا شمالی عرب میں جاری تھی۔” عبدود “۔ عرب میں ایک نام کثرت سے لوگوں کا ہوتا تھا (آیت) ” سواعا “۔ یہ دیوتا حسن ومحبوبی کا تھا۔ اس کی مورتی حسین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–25

ولا تذرن ودا الخ یہ پانچوں، قوم نوح (علیہ السلام) کے نیک آدمی تھے اور یہ انہیں کے نام ہیں جب ان کا انتقال ہوگیا تو شیطان نے ان کے عقیدت مندوں سے کہا کہ ان کی تصویریں بنا کر تم اپنے گھروں اور عبادت خانوں میں رکھ لو، تاکہ ان کی یاد زندہ رہے اور ان کے تصور سے تم بھی ان کی طرح نیکیاں کرتے رہو جب یہ تصویر بنا کر رکھنے والے فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی نسلوں کو یہ کہہ کر شرک میں مبتلا کردیا کہ تمہارے آباء تو ان کی پوجا کرتے تھے جن کی تصویریں تمہارے گھروں میں لٹک رہی ہیں، چناچہ انہوں نے ان کی پوجا شروع کردی۔ (بخاری تفسیر، سورة نوح) قوم نوح (علیہ السلام) کے ان پانچوں بزرگوں کی اتنی شہرت ہوئی کہ عرب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و قالوا یعنی انہوں نے آپس میں کہا۔ لا تذرون الھتکم . اپنے معبودوں کی پوجا ہرگز نہ چھوڑنا۔ ولا تذرن ودا ولا سواعا ولا یغوث و یعوق و نسرا . ان معبودوں کی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے ان کے نام لیے ورنہ الھتکم میں بطور عموم ان کا ذکر بھی آگیا تھا۔ بغوی (رح) نے محمد بن کعب کا قول لکھا ہے کہ یہ تمام نام ان نیک لوگوں کے تھے جو حضرت نوح اور حضرت آدم کے درمیان گزرے تھے۔ جب وہ مرگئے تو ان کی اتباع میں ان کے ساتھی ویسے ہی عبادت میں مشغول رہے جیسے پہلے تھے مگر ان کو عبادت کا ذریعہ بنا لیا۔ پھر شیطان نے ان کو بہکایا اور ترغیب دی کہ ان کی مورتیاں بنا لیں۔ مورتیوں کے سامنے ہونے سے عبادت میں چستی پیدا ہوگی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ان سرداروں نے کمزوروں سے کہا کہ تم اپنے معبودوں کی پرستش کو ہرگز نہ چھوڑنا اور نہ ود کی پرستش کو اور نہ سواع کی اور نہ یغوث کی اور نہ یعوق کی اور نہ نسر کی پرستش کو چھوڑنا اور یہ ان کے مشہور بت تھے جن کی یہ لوگ پوجا کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) وقالوا لاتذرون الھتکم…: ساڑھے نو سو سال میں اللہ بہتر جانتا ہے کتنی ہی نسلیں ختم ہوئیں اور کتنی نئی پیدا ہوئیں، مگر ہر پہلا پچھلے کو جیتے جی اور مترے وقت یہی تاکید کرتا رہا کہ دیکھنا ! ن وح کے کہنے پر ود، سواع، یغوث ، یعقو اور نسر کی عبادت ہرگز ہرگز نہ چھوڑنا۔ یہ وہ پانچ بت تھے جن کی عبادت قوم نوح کرتی تھی۔ عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں : ”یہ پانچوں نوح ؓ کی قوم کے صالح لوگوں کے نام ہیں، جب وہ فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی قوم کے دلوں میں یہ بات ڈلای کہ (بطور یادگار) جن مجلسوں میں وہ بیٹھتے تھے وہاں ان کے بت نصب کردو اور ان کے وہی نام رکھ دو چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا تو اس وقت ان کی عبادت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

حضرت ابن عباس اور ان کے علاوہ دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے : یہ بت اور تصاویر تھیں۔ پہلے حضتر نوح (علیہ السلام) کی قوم ان کی عبادت کرتی تھی پھر عربوں نے ان کی پوجا کی، یہ جمہور کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ عربوں کے بت تھے۔ کسی اور نے ان کی عبادت نہیں کی۔ یہ ان کے بڑے اور ظعیم بت تھے، اسی وجہ سے لاتذرون الھتکم کے بعد ان کا ذکر کیا۔ کلام کا معنی وہی بنتا ہے جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اپنے پیروکاروں سے کہا : لاتذرون الھتکم عربوں نے اپنی قوم، اولاد سے کہا، تم ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو نہ چھوڑانا۔ اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے متعلق ہے۔ عروہ بن زبیر اور دوسرے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 23–25

7۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت ولا تذرن ودا ولا سواعا ولا یغوث ویعوق ونسرا۔ اور ہرگز نہ چھوڑو ود کو، سواع کو، یغوث کو، یعوق کو اور نسر کو۔ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ ود، سواع، یغوث، یعوق، نسر، تمام بت ہیں کہ نوح کے زمانہ میں جن کی عبادت کی جاتی تھی۔ 8۔ بخاری وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ بت اور معبودان باطلہ جو نوح ﷺ کی قوم میں تھے وہی بعد میں عرب میں آگئے۔ ود دومۃ الجندل کے قبیلہ بنی کلب کا بت تھا اور سواع ہذیل والوں کا بت تھا اور یغوث بنی مراد قبیلہ کے لیے تھا پھر بنی غطیف کے لیے سبا کے پاس تھا۔ اور یعوق بنی ہمدان کا بت تھا۔ اور نسر آل ذی الکلاع کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ : اور انھوں نے کہا تم لوگ ہرگز مت چھوڑنا اپنے خدائوں کو ] [وَلَا تَذَرُنَّ : اور تم لوگ ہرگز مت چھوڑنا ] [وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا ڏ وَّلَا يَغُوْثَ : ودّ کو اور نہ سواع کو اور نہ یغوث کو ] [وَيَعُوْقَ وَنَسْرًا : اور (نہ ہی) یعوق اور نسر کو ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 23 ۔ میں جن پانچ بتوں کا ذکر ہے ان کے متعلق امام بغوی نے نقل کیا ہے کہ یہ پانچوں دراصل اللہ کے نیک و صالح بندے تھے جو حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیانی زمانے میں گزرے تھے۔ بہت سے لوگ ان کے معتقد اور پیروکار تھے اور عرصہ دراز تک لوگوں نے انھیں کے نقش قدم پر عبادت اور اللہ کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 21–24

قوم کا کفر و شرک پر اصرار، حضرت نوح (علیہ السلام) کی بد دعا وہ لوگ طوفان میں غرق ہوئے اور دوزخ میں داخل کردیئے گئے ان آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی کافر قوم کی بربادی کے لیے اور اہل ایمان کی مغفرت کے لیے دعا کرنا اور قوم کی سرکشی اور قوم کی ہلاکت کا تذکرہ فرمایا ہے، حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ میں نے ان لوگوں کو سمجھایا لیکن ان لوگوں نے میری بات نہیں مانی اہل دنیا کی بات مانتے ہیں جن کے پاس مال اور اولاد ہے ان کی نظریں انہیں پر جمی ہوئی ہیں اور وہ لوگ انہیں جو کچھ سمجھاتے اور بتاتے ہیں اسی کو مانتے ہیں وہ لوگ ایمان پر آنے نہیں دیتے کفر پر ہی جمے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–28

شکوۂ نوح (علیہ السلام) ببارگاہ خداوندی برنافرمانی وسرکشی قوم : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قال نوح رب انھم ......... الی ......... الا تبارا “۔ (ربط) ابتداء سورت سے حضرت نوح (علیہ السلام) کے جذبہ تبلیغ اور دعوت الی اللہ کا ذکر تھا کہ کیسے انہماک اور دل سوزی سے دن رات اپنی قوم کو خدا کی طرف بلاتے رہے ہدایت وسعادت کا پیغام دیتے رہے کوئی حالت اور کوئی مجلس ایسی نہ چھوڑی جس میں ایسی لگن اور ولولہ سے قوم کو راہ حق کی طرف لانے کی کوشش نہ کرتے ہوں اب ان آیات میں اس کے بالمقابل ان کی قوم کا کردار ظاہر کیا جارہا ہے کہ جس قدر نصیحت وہمدردی بڑھتی گئی، اسی قدر قوم کی شقاوت و گستاخی بڑھتی چلی گئی حتی کہ اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 23–24

12:۔ ” وقالوا لاتذرن “ ان مشرکین نے میری دعوت کو قبول کرنے کے بجائے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے تمام معبودوں کی عبادت ہرگز نہ چھوڑیں خصوصاً ان پانچ بڑے معبودوں کو تو کسی قیمت پر نہ چھوڑیں یعنی ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر، یہ پانچوں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بڑے معبود تھے۔ جنہیں وہ اپنی حاجتوں اور مصیبتوں میں پکارتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں، اسماء رجال صالحین من قوم نوح (علیہ السلام) (صحیح بخاری ج 2 ص 732) ۔ یہ پانچوں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندے تھے۔ جب وہ فوت ہوگئے تو ان کے متعلقین اور معتقدین نے بہت غم کیا۔ ابلیس انسانی شکل میں ان کے پاس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 22–24

گزشتہ سے پیوستہ : گذشتہ درس میں نوح (علیہ السلام) کی قوم کی حالت کا بیان تھا جو انہوں نے اپنی دعا میں اپنے رب کے حضور پیش کی۔ اور نہایت دکھ کے ساتھ عرض کیا یعنی اے اللہ ! میری قوم نے میری نافرمانی کی اور ان لوگوں کا اتباع کیا جن کے مال و اولاد نے انہیں سوائے نقصان کے کچھ اضافہ نہ کیا۔ یعنی مال واولاد کی کثرت نے انہیں خود بھی دین سے محروم رکھا اور دوسروں کو بھی محروم کیا۔ اس درس کی آیات میں سے پہلی آیت میں قوم نوح (علیہ السلام) کے ان دائو پیچوں کا تذکرہ ہے جو انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلانے کے لیے آزمائے۔ دوسری آیت میں انکے پانچ معبودانِ باطلہ کا بیان ہے جن کی پرستش پر وہ جمے رہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِہَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا۝ 0ۥۙ وَّلَا يَغُوْثَ وَيَعُوْقَ وَنَسْرًا۝ 23 ۚ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ وذر [يقال : فلان يَذَرُ الشیءَ. أي : يقذفه لقلّة اعتداده به ] ، ولم يستعمل ماضيه . قال تعالی: قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 21–24

ترکیب : انہم الجملۃ مفعول قال ‘ من مفعول اتبعوا والضمیر فاعلہ قریٔ ولدہ بفتح الواو واللام وبضم الواو و سکون اللام وھما سبعی بتان وقریٔ بفتح الاول و سکون الثانی وھی نعۃً وقیل جمع الولد۔ کبارا قرء الجمہور بالتشدید ای کبیر اعظیما کقراء وحمال قال المبرد الفعال للمبالغۃ وقری بکسر الکاف وتخفیف الباء ھو جمع کبیر ود قرء الجمہور بفتح الوا ووقریٔ بضمھما قال اللیث بضم الواؤ صنم لقریش وبفتحہا صنم کان لقوم نوح و فی الصحاح الود بالفتح الوتد فی لغۃ اہل نجد کانھم سکنوا التاء وادغموھا فی الدال سواعاً ھما منصرفان یغوث و یعوق عندالجمہور غیرمنصرفین فان کان عربیین فللعلمیۃ ووزن الفعل وان کان عجمیین فللعجمۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَقَالُوْا لاَ تَذْرُنَّ اٰلِھَتَـکُمْ وَلاَ تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلاَ سُوَاعًا لا 5 وَّ لاَ یَغُوْثَ وَیَعُوْقَ وَنَسْرًا۔ (نوح : 23) (اور کہا ہرگز نہ چھوڑو اپنے معبودوں کو، اور ہرگز نہ چھوڑ وَد کو اور سواع کو اور نہ یغوث، یعوق اور نہ نسر کو۔ ) لیڈروں کی قوم کو بت پرستی پر جمے رہنے کی تلقین اور قوم کے لیڈروں نے مختلف تدبیریں کیں اور بڑی بڑی چالیں چلیں، ان میں سے ایک چال قوم کو اپنے عقائد پر جمے رہنے کی تلقین تھی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) تمہیں توحید کا درس دیتے ہیں، ایک اللہ کے سوا سب کی پوجا سے روکتے ہیں لیکن تم اس شخص کے کہنے سے اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑو۔ اور پھر ان کے معبودوں کے نام لیے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 21–28

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو مدت مدید تک دن اور رات سمجھایا مگر قوم نے کھلے لفظوں میں ان کی دعوت ماننے سے انکار کردیا۔ جس کے نتیجے میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان الفاظ میں اپنے رب کے حضور فریاد کی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو دن اور رات، جلوت اور خلوت میں اللہ کی طرف بلاتے رہے مگر قوم نے کہا کہ تیرے کہنے پر وَدّ ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو نہیں چھوڑ سکتے۔ یاد رہے یہ اس قوم کے سب سے بڑے بت تھے اور اس قوم کے فوت شدہ بزرگوں کے تخیلاتی مجسمے تھے جو انہوں نے ان کی یاد میں بنائے ہوئے تھے۔ قوم نے نوح (علیہ السلام) کو یہ بھی دھمکی دی کہ اگر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

23 : وَقَالُوْا (اور انہوں نے کہا) سرداروں نے اپنے ماتحتوں کو لَا تَذَرُنَّ اٰلِھَتَکُمْ (تم اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑو) یہ اپنے عموم پر ہے یعنی ان کی عبادت نہ چھوڑو۔ قراءت : نافع نے وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا (نہ روکو) دُدًا ضمہ سے پڑھا ہے اور یہ دونوں لغتیں ہیں۔ یہ بت آدمی کی صورت میں تھا۔ وَّلَاسُوَاعًا (سواع کو) یہ بت عورت کی شکل کا تھا۔ وَّلَا یَغُوْثَ (اور یغوث کو) یہ شیر کی شکل پر تھا وَیَعُوْقَ (اور یعوق کو) یہ گھوڑے کی صورت پر تھا۔ وَنَسْرًا (اور نسرکو) نحو : یہ دونوں اسم غیر منصرف ہیں۔ وزن فعل اور معرفہ ہیں اگر ان کو عربی لفظ مانا جائے اور اگر عجمی مانیں تو معرفہ اور عجمہ پھر بھی دو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

22 ۔” ومکروا مکرا کبارا “ یعنی کبیر وعظیم۔ کہا جاتا ہے کبیر اور کبار تخفیف کے ساتھ اور کبار سد کے ساتھ۔ شد مبالغہ کے لئے دی گئی ہے اور تمام ایک معنی میں ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے امر عجیب وعجاب وعجاب شد کے ساتھ، مبالغہ میں اشد ترین اور ان کے مکر میں اختلاف کیا ہے۔ ابن عباس ؓ فرمتاے ہیں انہوں نے بہت بڑی بات کہی۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں اللہ پر جھوٹ گھڑ اور اس کے رسول ﷺ کو جھٹلایا اور کہا گیا ہے کہ رئوسا نے اپنے پیروکاروں کو نوح (علیہ السلام) پر ایمان لانے سے روکا اور ان کو قتل پر ابھارا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 21–24

21۔ 24۔ یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دوسری شکایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اس قوم کے صاحب مال اور صاحب اولاد لوگوں نے اس قوم کو یہ بہکا رکھا ہے کہ اگر ہم حق پر نہ ہوتے تو یہ نعمتیں ہم کو کیونکر ملتیں۔ اس لئے تم اپنے بتوں کی پوجا ہرگز نہ چھوڑ۔ ان مال دار لوگوں کے اس بہکاوے کو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کا بڑا مکر اور بڑا دائوں کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ ان کے مال اور اولاد نے بھی ان کو یہ ایک بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے کہ مال و اولاد کے غرور کے سبب سے بھی وہ خود بھی راہ پر نہیں آتے اور دوسروں کو بھی مال و اولاد کے حیلہ سے بہکاتے ہیں پھر شکایت کی کہ یا اللہ ان بتوں کے سبب سے تیری بہت سی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وقالوا) اور انہوں نے شرک کی دعوت دیتے اور اس کو مزین کرتے ہوئے کہا (لاتذرن الھتکم) اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا۔ انہوں نے ان کو اس شرک کے تعصب کی طرف بلایا جس پر وہ عمل پیرا تھے اور کہا کہ وہ اس دین کو نہ چھوڑیں جس کو ان کے پہلے آباء و اجداد نے اختیار کیا ہوا تھا، پھر انہوں نے اپنے معبودوں کا نام لے کر کہا (ولاتذرن ودا ولاسواعا ولایغوث ویعوق ونسرا) ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا۔ یہ نیک لوگوں کے نام ہیں جب وہ فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی قوم کے سامنے یہ مزین کردیا کہ وہ ان نیک لوگوں کے بت بنائیں تاکہ۔۔۔ بزعم خود۔۔ جب وہ ان کو دیکھیں تو ان کو اطاعت میں نشاط حاصل ہو۔ جب طویل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 22–23

21 منکرین کی حق اور اہل حق کے خلاف چالوں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح نے اپنے مخالفین کے بارے میں اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ انہوں نے بڑی بھاری چالیں چلیں۔ حق اور اہل حق کے خلاف ان کو نیچا دکھانے کے لئے، سو انہوں نے اپنے اسی استکبار اور اپنی بڑائی کے جھوٹے گھمنڈ میں میری دعوت کو شکست دینے، اپنے عوام کو مجھ سے برگشتہ کرنے اور ان کو میرے خلاف بھڑکانے کے لئے بڑی بڑی چالیں چلیں، اور ہر زمانے کے منکرین نے حق اور اہل حق کے خلاف یہی کچھ کیا، لیکن آخر کار ایسی چالیں خود انہی پر پڑتی ہیں۔ " ولا یحیق المکر السیء الاباھلہ " اللہ (فاطر :43) بہرکیف حضرت بہر کیف حضرت نوح نے اپنے رب کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–28

اللہ کی نعمتیں تشریح : کائنات کی ترتیب اس کا نظام سب کا سب حیرت انگیز پر آسائش اور ناقابل فہم ہے۔ گو کہ سائنس دان تحقیق و جستجو میں لگے رہتے ہیں اور جو قرآنی آیات کی روشنی میں تحقیق کرتے ہیں وہی مسلم سائنس دان زیادہ کامیاب رہے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ علم الافلاک فزکس، حیاتیات، بیالوجی وغیرہ وغیرہ تاریخ کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ تمام علوم کی جڑیں مکمل طور پر مسلم سائنس دانوں کے کئے ہوئے کاموں ہی سے نکلتی ہیں۔ مثلاً ابن عربی، جابر خراسانی، ابن سینا وغیرہ ایک عام انسان کے لئے اور ایک خاص انسان کے لیے آسمانوں کا ذکر چاند، سورج اور زمین کا ذکر انسان کی پیدائش، مرجانا زمین…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–28

آیات 21 تا 28۔ اسرار معارف۔ لہذا پوری محنت شاقہ کے بعد نوح (علیہ السلام) نے ناامید ہوکردعا فرمائی کہ اے اللہ یہ میری بات نہیں مانتے اور ایسے کام کرتے ہیں جس میں عذاب کا خطرہ اور جان ومال کا نقصان ہے اور میرے خلاف میرے لائے ہوئے نظام کے خلاف بڑی بڑی سازشیں کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو تلقین کرتے ہیں کہ اپنے ، ود ، سواع ، یعوث ، یعوق ، اور نسر بت کو مت چھوڑ کہا گیا ہے کہ یہ پہلے گزرنے والے نیک لوگ تھے جن کے انہوں نے بت بنارکھے تھے لہذا یہ گمراہی میں حد سے گزرچکے تھے اب ان کو اس گمراہی کی ذلت میں دھنسا دے چناچہ اپنے گناہوں کے باعث غرق کردیے گئے اور آگ میں داخل ہوئے انہیں اللہ کے مقابلے میں کوئی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 مراد وہ بت اور مورتیاں ہیں جن کی وہ لوگ پوجا کرتے تھے۔10 بتوں کا عام انداز میں ذکر کرنے کے بعد ان میں سے پانچ کا نام لے کر ذکر کیا کیونکہ وہ ان کے سب سے بڑے بت تھے اور اکثر لوگ انہی کے معتقد تھے۔ محمد بن کعب کہتے ہیں کہ یہ درصال حضرت نوح سے پہلے چند نیک لوگ تھے۔ انکے مرنے کے بعد شیطا ننے لوگوں کو بہکایا ا کہ ان کی مورتیاں بنا کر عبادت کے وقت اپنے سامنے رکھ لیا کرو، تو تمہارا عبادت میں خوب جی لگے گا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا، ان کے مرنے کے بعد شیطان نے ان کی اولاد کو بہکایا کہ تمہارے باپ دادا انہی مورتیوں کی پوجا کیا کرتے تھے، تم بھی ان کی پوجا کرو۔ اس طرح ان کی پوجا ہوگئی اور اس طرح بت پرستی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(71:23) وقالوا : ای وقال الرؤسائ۔ یعنی انہوں نے آپس میں کہا۔ لاتذرون : فعل نہی تاکید بانون ثقیلہ۔ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ (باب فتح وسمع) مصدر۔ تم ہرگز نہ چھوڑیو۔ یعنی ان کی پوجا کو ہرگز نہ چھوڑنا۔ (نیز ملاحظہ ہو 70:42) الہتکم : مضاف مضاف الیہ۔ تمہارے معبود۔ اپنے معبودوں کو۔ الہ کی جمع ولا تذرن ودا ولا سواعا ولا یغوث ویعروق ونسرا۔ اور ہرگز نہ چھوڑو ود کو اور نہ سواع کو اور نہ یغوث کو اور یعوق کو اور نہ نسر کو۔ (بھی ہرگز نہ چھوڑنا) ود، سواع، یغوث، یعوق وغیرہ حضرت نوح کی قوم کے چند بتوں کے نام تھے۔ جو کہ دوسرے بتوں سے ممتاز تھے۔ ان کی اہمیت ظاہر کرنے کے لئے خصوصیت کے ساتھ نام لئے ورنہ الھتکم میں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–28

لغات القرآن۔ لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔ تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔ فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–24

حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت کا ذکر۔ (ف 1) اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح کو جس طرح اللہ کا حکم تھا اس کے موافق حضرت نوح نے نو سو برس تک ان کو سمجھاتے رہے جب امید کی کوئی سورت باقی نہ رہی تو مایوس اور تنگ دل ہوکربارگاہ الٰہی میں عرض کیا یا اللہ میں نے اپنی طرف سے دعوت تبلیغ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا رات کی تاریکی اور دن کے اجالے میں برابر ان کو تیری طرف بلاتا رہا، مگر نتیجہ یہ ہوا کہ جوں جوں تیری طرف آنے کو کہا گیا یہ بدبخت اور زیادہ ادھر سے منہ پھیرکربھاگے اور جس قدر میری طرف سے شفقت ودل سوزی کا اظہار ہوا ان کی جانب سے نفرت اور بےزاری بڑھتی گئی سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوں نے میری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–23

[4] یہ ان کے بتوں کے نام ہیں جنہیں وہ پوجتے تھے۔ بت تو ان کے بہت تھے مگر یہ پانچ ان کے نزدیک بڑی عظمت والے تھے۔ یہ بت قوم نوح سے منتقل ہو کر عرب میں پہنچے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–26

ف 1: فرمایا حقیقت یہ ہے ۔ کہ تم جو دین کو نہیں مانتے ہو اور اس طرح کے خیالات کی اشاعت کرتے ہو ۔ تو محض اس لئے کے تمہارے دلوں میں اللہ کے لئے عزت واحترام کا جذبہ نہیں ہے اس کے بعد اس کی قدرتوں اور حکمتوں کو بیان کیا ہے ۔ کہ دیکھو خود تم کو اس نے بنایا ہے ۔ آسمان تو کس طرح اوپر تلے پیدا کیا ہے ۔ اور پھر اس میں جاندار سورج کو کس طرح آویزاں کیا ہے ۔ کہ وہ ضیا بخش عالم ہیں ۔ تم کو زمین کے اجزاء سے پیدا کیا ہے ۔ پھر زمین ہی میں مرنے کے بعد لیجایا جائے گا ۔ اور پھر دوبارہ اس زمین میں سے اٹھائیگا ۔ یہ کتنی عبرت انگیز بات ہے ۔ دیکھو یہ محض اللہ کی ۔ عنایت ہے ۔ کہ اس نے زمین کو اتنی وسعت کے باوجود…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(23) اور جنہوں نے اپنی پیروی کرنے والوں سے کہا کہ تم اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور خاص طور پر نہ دو کو نہ سواع اور نہ یغوث کو اور نہ یعوق کو اور نہ نسر کو ان کو تو چھوڑنا ہی نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–23

ف 2۔ مراد ان شخصوں سے روس اس ہیں جن کا عوام اتباع کرتے ہیں، اور مال اور اولاد کا ان روسا کو نقصان پہنچانا بایں معنی ہے کہ مال و اولاد سبب زیادت طغیان کا ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انہوں نے آپس میں کہا کہ تم نوح (علیہ السلام) کی خاطر اپنے معبودوں کو مت چھوڑو 23 ؎ نوح (علیہ السلام) نے انتہائی کوشش کی کہ یہ بدبخت قوم سمجھ جائے اور رحمت الٰہی کی آغوش میں آجائے مگر قوم نے نوح (علیہ السلام) کی ایک نہ مانی اور جس قدر نوح (علیہ السلام) کی طرف سے تبلیغ حق میں جدوجہد ہوئی اسی قدر قوم کی جانب سے بغض وعناد میں سرگرمی کا اظہار ہوا اور ایذاء رسانی اور تکلیف دہی کے لئے انہوں نے تمام وسائل کا استعمال کیا اور قوم کے وڈیروں نے اپنے عوام کو صاف صاف کہہ دیا کہ تم لوگ کسی طرح ود ، سواع ، یغوث ، یعوق اور نسر جیسے بتوں کی پرستش کو نہ چھوڑو۔ اس طرح انہوں نے قوم کے لوگوں کو ان پنج تن پاک کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–24

لَا تَذَرُ‌نَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُ‌نَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرً‌ا (and never forsake Wadd, nor Suwa', nor yaghuth and Ya` uq and Nasr…71:23). Imam Baghawi reports that these five were in fact righteous servants of Allah who lived in the intervening period between Prophets 'Adam and Nuh (علیہما السلام) . There were many people who held them in high regard and followed their footsteps. Even after their death, they followed their footsteps and complied with Divine injunctions. A while later, Shaitan misled them. He put it to them that if they make pictures of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

17 Of the gods of the Prophet Noah's people only those gods have been mentioned whom later the people of Arabia also had started worshipping and whose shrines were found all over the country at the advent of Islam. It is not impossible that the later generations heard the names of the ancient gods of Noah's people from the people who were saved from the flood, and when ignorance once again spread among their children, they made idols of the same gods and started worshipping them again. Wadd was the god of the Bani Kalb bin Wabash, a branch of the Quda`ah tribe, whose shrine had been built at…

Read the full tafseer →