Nooh 71:24

Nooh · from ayah 24

71:24

وَقَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا ۚ۬— وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا ۟وَقَدۡ اَضَلُّوۡا كَثِيۡرًا‌ ‌ ۚ وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِيۡنَ اِلَّا ضَلٰلًا

(پروردگار) انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا ہے۔ تو تُو ان کو اور گمراہ کردے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And already they have misled many. And, [my Lord], do not increase the wrongdoers except in error."

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Nooh

All translations of 71:24

انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا ہے، اور تو بھی اِن ظالموں کو گمراہی کے سوا کسی چیز میں ترقی نہ دے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(پروردگار) انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا ہے۔ تو تُو ان کو اور گمراہ کردے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراه کیا (الٰہی) تو ان ﻇالموں کی گمراہی اور بڑھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس طرح انہوں نے بہت سوں کو گمراہ کردیا ہے، لہذا (یا رب) آپ بھی ان کو گمراہی کے سوا کسی اور چیز میں ترقی نہ دیجیے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک انہوں نے بہتوں کو بہکایا اور تو ظالموں کو زیادہ نہ کرنا مگر گمراہی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور واقعی انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا، سو (اے میرے رب!) تو (بھی ان) ظالموں کو سوائے گمراہی کے (کسی اور چیز میں) نہ بڑھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ انھوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا اور تو ان ظالموں کو گمراہی کے سوا کسی چیز میں نہ بڑھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے تو اب تو بھی ان ظالموں کی گمراہی میں ہی اضافہ کردے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور انہوں نے ایک خلق کثیر کو گمراہ کر ڈالا۔ اور اب تو ان گمراہی میں ہی اضافہ کر۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

انہوں نے بہتوں کو گمراہ کردیا ہے پس اب تو بھی (اے میرے مالک !) ان ظالموں کو گمراہی کے سوا اور کسی چیز میں ترقی نہ دے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان لوگوں نے بہتوں کو گمراہ کردیا ہے تو (ان) ظالموں کی گمراہی تو اور بڑھا دے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور انہوں نے تو بہتوں کو بہکا دیا ہے۔ اور (اے اللہ !) اب ُ تو ان ظالموں کے لیے سوائے گمراہی کے اور کسی چیز میں اضافہ نہ فرما !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پروردگار انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا تو تو ان کو اور گمراہ کر دے

— محترمہ رفعت اعجاز

They have misled many. So do not enable these evildoers to increase in anything except straying (from the Right Way).”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And they have led many astray. And (O my Lord,) let not the wrongdoers progress in anything but deviation from the right path.

— Muhammad Taqi Usmani

And they have led many astray. And (O my Lord,) let not the wrongdoers progress in anything but deviation from the right path.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And indeed they have led many astray. And (O Allah): `Grant no increase to the wrongdoers save error."'

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they have led many astray, and Thou increasest the wrong-doers in naught save error.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And already they have misled many. And, [my Lord], do not increase the wrongdoers except in error."

— Saheeh International

They have misled many and the unjust will achieve nothing but more error".

— Muhammad Sarwar

And indeed they have led astray many, and do not increase the unjust in aught but error.

— Muhammad Habib Shakir

And surely they have misled many. And increase Thou these wrong-doers in naught save error.

— Abdul Majid Daryabadi

"They have already misled many; and grant Thou no increase to the wrong-doers but in straying (from their mark)."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 71:24

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 21–24

نوح ؑ کی بارگاہ الٰہی میں روداد غم حضرت نوح ؑ نے اپنی گزشتہ شکایتوں کے ساتھ ہی جناب باری تعالیٰ میں اپنی قوم کے لوگوں کی اس روش کو بھی بیان کیا کہ میری پکار کو جو ان کے لئے سراسر نفع بخش تھی انہوں نے کان تک نہ لگایا ہاں اپنے مالداروں اور بےفکروں کی مان لی جو تیرے امر سے بالکل غافل تھے اور مال و اولاد کے پیچھے مست تھی، گو فی الواقع وہ مال و اولاد بھی ان کے لئے سراسر و بال جان تھی، کیونکہ ان کی وجہ سے وہ پھولتے تھے اور اللہ کو بھولتے تھے اور زیادہ نقصان میں اترتے جاتے تھے (ولدہ) کی دوسری قرأت (ولدہ) بھی ہے اور ان رئیسوں نے جو مال و جاہ والے تھے ان سے بڑی مکاری کی۔ (کُبَّارِ) اور (کِبَّار) دونوں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 23–24

سورة نُوْح 17 قوم نوح کے معبودوں میں سے یہاں ان معبودوں کے نام لیے گئے ہیں جنہیں بعد میں اہل عرب نے بھی پوجنا شروع کردیا تھا اور آغاز اسلام کے وقت عرب میں جگہ جگہ ان کے مندر بنے ہوئے تھے۔ بعید نہیں کہ طوفان میں جو لوگ بچ گئے تھے ان کی زبان سے بعد کی نسلوں نے قوم نوح کے قدیم معبودوں کا ذکر سنا ہوگا اور جب از سرنو ان کی اولاد میں جاہلیت پھیلی ہوگی تو انہی معبودوں کے بت بنا کر انہوں نے پھر انہیں پوجنا شروع کردیا ہوگا۔ ود قبیلہ قضاعہ کی شاخ بنی کلب بن وبرہ کا معبود تھا جس کا استھان انہوں نے دومتہ الجندل میں بنا رکھا تھا۔ عرب کے قدیم کتبات میں ان کا نام ودم ابم (ود باپو) لکھا ہوا ملتا ہے۔ کلبی کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا ضَلٰلًا یعنی ان ظالموں کی گمراہی اور بڑھا دیجئے یہاں یہ شبہ نہ کیا جائے کہ انبیاء (علیہم السلام) کا فرض منصبی قوم کو ہدایت کرنے کا ہے۔ نوح ؑ نے ان کی گمراہی کی بد دعا کیسے کی کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ نوح ؑ کو اللہ تعالیٰ نے اس کی تو خبر دے دیتھی کہ اب ان میں کوئی مسلمان نہیں ہوگا اس لئے ان کا گمراہی اور کفر پر مرنا تو یقینی تھا حضرت نوح ؑ نے ان کی گمرایہ بڑھا دینے کی دعا اس لئے فرمائی کہ جلد ان کا پیمانہ لبریز ہوجائے اور ہلاک کردیئے جائیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

حضرت نوح کی بددعا: یہ حضرت نوح علیہ السلام نے قوم کے لیڈروں کی روش پر غم و اندوہ کا اظہار فرمایا ہے اور ساتھ ہی ان کی زبان سے بے ساختہ یہ بددعا بھی نکلی کہ اے رب، اب ان کی ضلالت ہی میں اضافہ کر تاکہ عذاب کی سمت میں ان کی تیز روی مزید بڑھ جائے اور جلد سے جلد ان کی عفونت سے زمین پاک ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس زمین پر بار بنے رہنے کے لیے نہیں پیدا کیا ہے بلکہ حصول سعادت کی جدوجہد کے لیے پیدا کیا ہے۔ زمین پر اس کو اسی وقت تک باقی رہنے کا حق ہے جب تک اس کے اندر خیر کی کوئی رمق باقی رہے۔ یہ رمق بالکل ختم ہو جائے تو پھر اس کا وجود زمین کے لیے لعنت ہے۔ رسول، خلق پر اتمام حجت کا آخری ذریعہ ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 24–25

24۔ 1 انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا اور اس کا مرجع یہی مذکورہ پانچ بت ہیں، اس کا مطلب ہوگا کہ ان کے سبب بہت سے لوگ گمراہی میں مبتلا ہوئے۔ جیسے ابراہیم ؑ نے بھی کہا تھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 23–26

6: یہ سب ان بتوں کے نام ہیں جن کو حضرت نوح ؑ کی قوم پوجا کرتی تھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وقد .................... کثیرا (17 : 42) ” انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا “۔ ہر گمراہ قیادت اسی قسم کے بتوں کے سامنے عوام کو جمع کرتی ہے ، یہ بت پتھروں کی شکل میں بھی ہوتے ہیں ، افراد کی شکل میں بھی ہوتے ہیں اور افکار کی شکل میں بھی ہوتے ہیں۔ او یہ سب کے سب بت ہوتے ہیں ، سب کے سب دعوت اسلامی کی راہ روکتے ہیں ۔ عوام کو داعیان حق سے دور رکھتے ہیں۔ بڑی بڑی سازشیں کرتے ہیں اور ان سازشوں پر اصرار کرتے ہیں۔ اس مقام پر اس نبی کریم کے دل سے ان گمراہوں ، مکاروں ، گمراہ کرنے والوں اور ان کے متبغین کے لئے بددعا نکلتی ہے۔ ولا تزد .................... ضللا (17 : 42) ” اے اللہ تو بھی ان ظالموں کو گمراہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 حضرت شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں " یعنی (بھٹکتے رہیں) کوئی تدبیر (سیدھی) بن نہ پڑے۔ " اور حضرت شاہ عبدالعزیز لکھتے ہیں کہ " استدراج کے طور پر بھی ان کو اپنی معرفت سے آشنا نہ کر۔ " اور عامہ مفسرین نے ظاہری معنے لیے ہیں۔ یعنی اے اللہ ان ظالموں کی گمراہی کو اور بڑھا دیجیے تاکہ جلد شقاوت کا پیمانہ لبریز ہو کر عذاب الٰہی کے مورد بنیں۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ بددعا ان کی ہدایت سے بکلی مایوس ہو کر کی۔ خواہ مایوسی ہزار سالہ تجربہ کی بنا پر ہو یا حق تعالیٰ کا یہ ارشاد سن چکے ہوں گے۔ (اَنَّهٗ لَنْ يُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ ) 11 ۔ ہود :36) بہرحال ایسی مایوسی کی حالت میں تنگدل اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 24{ وَقَدْ اَضَلُّوْا کَثِیْرًاج وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا۔ } ”اور انہوں نے تو بہتوں کو بہکا دیا ہے۔ اور اے اللہ ! اب ُ تو ان ظالموں کے لیے سوائے گمراہی کے اور کسی چیز میں اضافہ نہ فرما !“ حضرت نوح علیہ السلام کے ان الفاظ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس مرحلے پر آپ علیہ السلام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ اب آپ علیہ السلام کی حمیت دینی کو اس ناہنجار قوم کا ایمان لانا بھی گوارا نہیں ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کناں ہیں کہ پروردگار ! اب تو ان گمراہوں کی گمراہی میں ہی اضافہ فرما۔۔۔۔ بالکل ایسی ہی کیفیت کی جھلک حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس دعا میں بھی نظر آتی ہے : { وَقَالَ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 23–24

14 نوح کی قوم کے بت عرب میں کیسے رائج ہوگئے :۔ اس آیت کی تفسیر کے لیے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے : سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ : جو بت نوح کی قوم میں پوجے جاتے تھے، وہی بعد میں عرب میں آگئے، ودّ کلب قبیلے کا بت تھا جو دومۃ الجندل میں تھا۔ سواع ہذیل قبیلے کا بت تھا، یغوث پہلے مرار قبیلے کا بت تھا پھر بنی غُطَیْفْ کا اور یہ سبا شہر کے پاس جوف میں تھا، یعوق ہمدان قبیلے کا تھا اور نسر حمیر قبیلے کا، جوذی الکلاع (بادشاہ) کی اولاد تھے۔ یہ نوح کی قوم میں سے چند نیک لوگوں کے نام تھے۔ جب وہ مرگئے تو شیطان نے انہیں یہ پٹی پڑھائی کہ جہاں یہ لوگ بیٹھا کرتے تھے وہاں ان کے مجسمے بنا کر (یادگار کے طور پر)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

13۔ (تاکہ یہ لوگ مستحق ہلاکت ہوجائیں) مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ دعاء سے مقصود ضلال میں زیادتی نہیں، بلکہ استحقاق ہلاکت تھا۔ (آیت) ” وقد اضلوا کثیرا “۔ یعنی یہ لوگ خود ہی گمراہ نہیں ہیں۔ بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتے رہتے ہیں، اور اب اتنی کوششوں کے بعد ان کی اصلاح کی طرف سے مایوسی ہوچکی ہے۔ حضرت (علیہ السلام) نے یہ دعائے عذاب وہلاکت اس وقت فرمائی جب آپ کو خود وہی الہی ان ظالموں کے عدم قبول ایمان سے مطلع کرچکی تھی۔ ملاحظہ ہوسورۂ ہود (پ 12) رکوع 4 کی آیت (آیت) ” لن یؤمن من قومک الا من قدامن۔ الظلمین “۔ ظالمین کا یہاں کافرین کے معنی میں ہونا بالکل ظاہر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–25

ولا تذرن ودا الخ یہ پانچوں، قوم نوح (علیہ السلام) کے نیک آدمی تھے اور یہ انہیں کے نام ہیں جب ان کا انتقال ہوگیا تو شیطان نے ان کے عقیدت مندوں سے کہا کہ ان کی تصویریں بنا کر تم اپنے گھروں اور عبادت خانوں میں رکھ لو، تاکہ ان کی یاد زندہ رہے اور ان کے تصور سے تم بھی ان کی طرح نیکیاں کرتے رہو جب یہ تصویر بنا کر رکھنے والے فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی نسلوں کو یہ کہہ کر شرک میں مبتلا کردیا کہ تمہارے آباء تو ان کی پوجا کرتے تھے جن کی تصویریں تمہارے گھروں میں لٹک رہی ہیں، چناچہ انہوں نے ان کی پوجا شروع کردی۔ (بخاری تفسیر، سورة نوح) قوم نوح (علیہ السلام) کے ان پانچوں بزرگوں کی اتنی شہرت ہوئی کہ عرب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقد اضلوا . یعنی بتوں نے یا قوم نوح کے سرداروں نے۔ کثیرا . بہت لوگوں کو بہکا دیا۔ بہکانے کی نسبت بتوں کی طرف مجازی ہے (بت گمراہی کا سبب ہیں ‘ گمراہ کرنے والے نہیں ہیں) ان کے ذریعہ سے شیطان نے گمراہ کیا تھا جیسا کہ آیت : رب انھن اضللن کثیرًا من الناس میں گمراہ کرنے کی نسبت بتوں کی طرف مجازاً کی ہے۔ ولا تزد الظالمین . ظالمین سے مراد ہیں ‘ کافر۔ الا ضلا . ضلال سے مراد ہے ہلاکت اور تباہی جیسے آیت : ان المجرمین فی ضٰللٍ و سعر میں ضٰلل سے تباہی مراد ہے یا ضلال سے مراد یہ ہے کہ مکر کی وجہ سے جو مقصد انہوں نے حاصل کرنا چاہا تھا اس کا راستہ ان کو نہیں ملا یا یہ مراد ہے کہ وہ اپنے دنیوی منافع حاصل نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ان سرداروں نے ان میں بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا یہ کہ ان کی وجہ سے بہت سے گمراہ ہوگئے۔ لہذا ان مشرکین کی بتوں کی پرستش کی وجہ سے گمراہی نقصان اور ہلاکت اور بڑھا دیجیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وقد اضلوا کثیراً …: یعنی قوم کے ان سرداروں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا۔”ولا تزد الظلمین الا ضلاً“ (اور ان ظالموں کو گمرایہ کے علاوہ کسی چیز میں نہ بڑھا) یہ دعا درحقیقت عذاب کے لئے ہے، کیونکہ گمراہی پر قائم رہنے اور اس میں مزید بڑھتے چلے جانے کا نتیجہ یہی ہے کہ وہ عذاب الٰہی کے مستحق ہوجائیں۔ موسیٰ ؑ نے آل فرعون کے حق میں یہی بد دعا کیھی :(ربنا اطمس علی اموالھم واشدد علی قلوبھم فلا یومنوا حتی یروا العذاب الالیم) (یونس : 88)”اے ہمارے رب ! ان کے مالوں کو مٹا دے اور ان کے دلوں پر سخت گرہ لگا دے، پس وہ ایمان نہ لائیں، یہاں تک کہ درد ناک عذاب دیکھ لیں۔“ ضمیر کی جگہ ”الظلمین“ کے لفظ کی صراحت سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ولا تزد الظلمین الا ضلاً ۔ ضلال سے مراد عذاب ہے (1) یہ ابن بحر کا قول ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے دلیل قائم کی گئی ہے۔ ان المجرمین فی ضلل وسعر۔ (القمر) ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں ضلال سے مراد خسارہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد مال اور اولاد کا فتنہ ہے۔ اس کا احتمال موجود ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 23–25

7۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت ولا تذرن ودا ولا سواعا ولا یغوث ویعوق ونسرا۔ اور ہرگز نہ چھوڑو ود کو، سواع کو، یغوث کو، یعوق کو اور نسر کو۔ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ ود، سواع، یغوث، یعوق، نسر، تمام بت ہیں کہ نوح کے زمانہ میں جن کی عبادت کی جاتی تھی۔ 8۔ بخاری وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ بت اور معبودان باطلہ جو نوح ﷺ کی قوم میں تھے وہی بعد میں عرب میں آگئے۔ ود دومۃ الجندل کے قبیلہ بنی کلب کا بت تھا اور سواع ہذیل والوں کا بت تھا اور یغوث بنی مراد قبیلہ کے لیے تھا پھر بنی غطیف کے لیے سبا کے پاس تھا۔ اور یعوق بنی ہمدان کا بت تھا۔ اور نسر آل ذی الکلاع کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَقَدْ اَضَلُّوْا : اور انھوں (سرداروں) نے گمراہ کیا ہے ] [كَثِيْرًا : بہتوں کو ] [وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِيْنَ : اور تو زیادہ مت کر ظلم کرنے والوں کو ] [اِلَّا ضَلٰلًا : مگر بلحاظ گمراہی کے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 21–24

قوم کا کفر و شرک پر اصرار، حضرت نوح (علیہ السلام) کی بد دعا وہ لوگ طوفان میں غرق ہوئے اور دوزخ میں داخل کردیئے گئے ان آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی کافر قوم کی بربادی کے لیے اور اہل ایمان کی مغفرت کے لیے دعا کرنا اور قوم کی سرکشی اور قوم کی ہلاکت کا تذکرہ فرمایا ہے، حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ میں نے ان لوگوں کو سمجھایا لیکن ان لوگوں نے میری بات نہیں مانی اہل دنیا کی بات مانتے ہیں جن کے پاس مال اور اولاد ہے ان کی نظریں انہیں پر جمی ہوئی ہیں اور وہ لوگ انہیں جو کچھ سمجھاتے اور بتاتے ہیں اسی کو مانتے ہیں وہ لوگ ایمان پر آنے نہیں دیتے کفر پر ہی جمے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–28

شکوۂ نوح (علیہ السلام) ببارگاہ خداوندی برنافرمانی وسرکشی قوم : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قال نوح رب انھم ......... الی ......... الا تبارا “۔ (ربط) ابتداء سورت سے حضرت نوح (علیہ السلام) کے جذبہ تبلیغ اور دعوت الی اللہ کا ذکر تھا کہ کیسے انہماک اور دل سوزی سے دن رات اپنی قوم کو خدا کی طرف بلاتے رہے ہدایت وسعادت کا پیغام دیتے رہے کوئی حالت اور کوئی مجلس ایسی نہ چھوڑی جس میں ایسی لگن اور ولولہ سے قوم کو راہ حق کی طرف لانے کی کوشش نہ کرتے ہوں اب ان آیات میں اس کے بالمقابل ان کی قوم کا کردار ظاہر کیا جارہا ہے کہ جس قدر نصیحت وہمدردی بڑھتی گئی، اسی قدر قوم کی شقاوت و گستاخی بڑھتی چلی گئی حتی کہ اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 23–24

12:۔ ” وقالوا لاتذرن “ ان مشرکین نے میری دعوت کو قبول کرنے کے بجائے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے تمام معبودوں کی عبادت ہرگز نہ چھوڑیں خصوصاً ان پانچ بڑے معبودوں کو تو کسی قیمت پر نہ چھوڑیں یعنی ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر، یہ پانچوں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بڑے معبود تھے۔ جنہیں وہ اپنی حاجتوں اور مصیبتوں میں پکارتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں، اسماء رجال صالحین من قوم نوح (علیہ السلام) (صحیح بخاری ج 2 ص 732) ۔ یہ پانچوں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندے تھے۔ جب وہ فوت ہوگئے تو ان کے متعلقین اور معتقدین نے بہت غم کیا۔ ابلیس انسانی شکل میں ان کے پاس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 22–24

گزشتہ سے پیوستہ : گذشتہ درس میں نوح (علیہ السلام) کی قوم کی حالت کا بیان تھا جو انہوں نے اپنی دعا میں اپنے رب کے حضور پیش کی۔ اور نہایت دکھ کے ساتھ عرض کیا یعنی اے اللہ ! میری قوم نے میری نافرمانی کی اور ان لوگوں کا اتباع کیا جن کے مال و اولاد نے انہیں سوائے نقصان کے کچھ اضافہ نہ کیا۔ یعنی مال واولاد کی کثرت نے انہیں خود بھی دین سے محروم رکھا اور دوسروں کو بھی محروم کیا۔ اس درس کی آیات میں سے پہلی آیت میں قوم نوح (علیہ السلام) کے ان دائو پیچوں کا تذکرہ ہے جو انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلانے کے لیے آزمائے۔ دوسری آیت میں انکے پانچ معبودانِ باطلہ کا بیان ہے جن کی پرستش پر وہ جمے رہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَدْ اَضَلُّوْا كَثِيْرًا۝ 0ۥۚ وَلَا تَزِدِ الظّٰلِـمِيْنَ اِلَّا ضَلٰلًا۝ 24 ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 21–24

ترکیب : انہم الجملۃ مفعول قال ‘ من مفعول اتبعوا والضمیر فاعلہ قریٔ ولدہ بفتح الواو واللام وبضم الواو و سکون اللام وھما سبعی بتان وقریٔ بفتح الاول و سکون الثانی وھی نعۃً وقیل جمع الولد۔ کبارا قرء الجمہور بالتشدید ای کبیر اعظیما کقراء وحمال قال المبرد الفعال للمبالغۃ وقری بکسر الکاف وتخفیف الباء ھو جمع کبیر ود قرء الجمہور بفتح الوا ووقریٔ بضمھما قال اللیث بضم الواؤ صنم لقریش وبفتحہا صنم کان لقوم نوح و فی الصحاح الود بالفتح الوتد فی لغۃ اہل نجد کانھم سکنوا التاء وادغموھا فی الدال سواعاً ھما منصرفان یغوث و یعوق عندالجمہور غیرمنصرفین فان کان عربیین فللعلمیۃ ووزن الفعل وان کان عجمیین فللعجمۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَقَدْ اَضَلُّوْا کَثِیْرًا ج 5 وَلاَ تَزِدِالظّٰلِمِیْنَ اِلاَّ ضَلٰلاً ۔ (نوح : 24) (انھوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر ڈالا ہے اور اب تو ان ظالموں کو گمراہی کے سوا کسی چیز میں ترقی نہ دے۔ ) حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے لیڈروں کی روش سے مایوسی حضرت نوح (علیہ السلام) قوم کے لیڈروں کی روش سے انتہائی دلبرداشتہ ہیں۔ اس پر اظہارِتأسف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان بدبختوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر ڈالا ہے۔ انھیں اللہ تعالیٰ نے جس مال و منال اور اثرورسوخ سے بہرہ ور کیا تھا اسے اللہ تعالیٰ کے شکر میں استعمال کرنے کی بجائے کفر پھیلانے میں استعمال کیا ہے۔ لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے برگشتہ کرنا ان کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 21–28

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو مدت مدید تک دن اور رات سمجھایا مگر قوم نے کھلے لفظوں میں ان کی دعوت ماننے سے انکار کردیا۔ جس کے نتیجے میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان الفاظ میں اپنے رب کے حضور فریاد کی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو دن اور رات، جلوت اور خلوت میں اللہ کی طرف بلاتے رہے مگر قوم نے کہا کہ تیرے کہنے پر وَدّ ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو نہیں چھوڑ سکتے۔ یاد رہے یہ اس قوم کے سب سے بڑے بت تھے اور اس قوم کے فوت شدہ بزرگوں کے تخیلاتی مجسمے تھے جو انہوں نے ان کی یاد میں بنائے ہوئے تھے۔ قوم نے نوح (علیہ السلام) کو یہ بھی دھمکی دی کہ اگر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

24 : وَقَدْ اَضَلُّوْا (انہوں نے بہتوں کو گمراہ کردیا) یعنی اصنام نے جیسا کہ اس ارشاد میں ہے انہن اضللن کثیرًا من الناس ] ابراہیم : 36[ یا سرداروں نے کَثِیْرًا (بہت لوگوں کو) وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ (اور ان ظالموں کی گمراہی اور بڑھا دی) نحو : اس کا عطف رب انہم عصونی پر ہے۔ اور یہ کلام نوح کی حکایت ہے۔ قالؔ کے بعد اور وائو کے بعد جو اس کا نائب ہے۔ معنی یہ ہوگا قال نوح رب انہم عصونی وقال لاتزد الظالمین یعنی نوح (علیہ السلام) نے یہ دونوں باتیں فرمائیں۔ اور یہ دونوں محل نصب میں واقع ہیں کیونکہ یہ قال کے مفعول ہیں۔ اِلَّا ضَلٰلًا ضلال ؔ یہ ہلاکت کے معنی میں ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا۔ ولا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

23 ۔” وقالوا “ ان کو ” لا تذرن آلھتکم “ یعنی ان کی عبادت کو۔ ” ولا تذرن ودا “ اہل مدینہ نے دائود کے پیش کے ساتھ اور باقی حضرات نے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” ولا سواعا ولا یغوث ویعوق ونسرا “ یہ ان کے معبودوں کے نام ہیں۔ یغوث ویعوق اور ونسرا کی تفسیر محمد بن کعب (رح) فرماتے ہیں یہ نیک لوگوں کے نام ہیں جو نوح اور آدم (علیہما السلام) کے درمیان گزرے پس جب یہ مرگئے تو ان کے متبعین تھے جو ان کی پیروی کرتے تھے اور ان کے بعد عبادت میں ان کا طریقہ اپناتے تھے۔ پس ان کے پاس ابلیس آیا اور ان کو کہا اگر تم ان نیک لوگوں کی صورتیں بنالو تو یہ عبادت میں تمہاری چستی اور شوق کا سبب بنے گا۔ انہوں نے ایسا کیا پھر ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 21–24

21۔ 24۔ یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دوسری شکایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اس قوم کے صاحب مال اور صاحب اولاد لوگوں نے اس قوم کو یہ بہکا رکھا ہے کہ اگر ہم حق پر نہ ہوتے تو یہ نعمتیں ہم کو کیونکر ملتیں۔ اس لئے تم اپنے بتوں کی پوجا ہرگز نہ چھوڑ۔ ان مال دار لوگوں کے اس بہکاوے کو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کا بڑا مکر اور بڑا دائوں کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ ان کے مال اور اولاد نے بھی ان کو یہ ایک بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے کہ مال و اولاد کے غرور کے سبب سے بھی وہ خود بھی راہ پر نہیں آتے اور دوسروں کو بھی مال و اولاد کے حیلہ سے بہکاتے ہیں پھر شکایت کی کہ یا اللہ ان بتوں کے سبب سے تیری بہت سی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وقد اضلوا کثیرا) یعنی ان بڑوں اور سرداروں نے اپنی دعوت کے ذریعے سے بہت سی مخلوق کو گمراہ کردیا (ولاتزدالظالمین الاضلالا) تو تو ان کو اور گمراہ کردے۔ میرے ان کو حق کی دعوت دینے کے وقت اگر وہ گمراہ ہوتے تو یہ مصلحت تھی مگر ان سرداروں کی دعوت سے ان کی گمراہی میں اضافہ ہی ہوا ہے یعنی اب ان کی کامیابی اور اصلاح کا کوئی امکان باقی نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دنیاوی اور اخروی عذاب اور عقوبت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (مما خطیئتھم اغرقوا) وہ اپنے گناہوں کے سبب غرق کردیے گئے۔ سمندر کی مانند سیلاب میں غرق کردیے گئے جس نے ان کو گھیر لیا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

23 ۔ حضرت نوح کی طرف سے جرم اضلال کے مرتکبوں پر اظہار افسوس : سو حضرت نوح نے اپنے رب کے حضور عرض کیا او حرف تاکید کے ساتھ عرض کیا کہ انہوں نے بہتوں کو گمراہ کردیا ہے۔ یعنی ان بتوں نے کہ یہ اس گمراہی کا سبب بنے۔ سو یہ ایسے ہی جیسا کہ حضرت ابراہیم نے فرمایا تھا رب انھن اضللن کثیرا من الناس، یا اصلوا کی ضمیر فاعل کا مرجع ان کافر و مشرکین کے وہ روؤسا و امراء ہیں جو ان کے بڑے گرد تھے، یعنی ان کے ان بڑے سرداروں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا اور ان کو راہ راست سے محروم کیا، والعیاذ باللہ جل وعلا بہرکیف اضلوا کی ضمیر مرقوع کے مرجع میں یہ دونوں ہی احتمال موجود ہیں، مفسرین کرام میں سے کسی نے ایک کو ذکر کیا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–28

اللہ کی نعمتیں تشریح : کائنات کی ترتیب اس کا نظام سب کا سب حیرت انگیز پر آسائش اور ناقابل فہم ہے۔ گو کہ سائنس دان تحقیق و جستجو میں لگے رہتے ہیں اور جو قرآنی آیات کی روشنی میں تحقیق کرتے ہیں وہی مسلم سائنس دان زیادہ کامیاب رہے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ علم الافلاک فزکس، حیاتیات، بیالوجی وغیرہ وغیرہ تاریخ کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ تمام علوم کی جڑیں مکمل طور پر مسلم سائنس دانوں کے کئے ہوئے کاموں ہی سے نکلتی ہیں۔ مثلاً ابن عربی، جابر خراسانی، ابن سینا وغیرہ ایک عام انسان کے لئے اور ایک خاص انسان کے لیے آسمانوں کا ذکر چاند، سورج اور زمین کا ذکر انسان کی پیدائش، مرجانا زمین…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–28

آیات 21 تا 28۔ اسرار معارف۔ لہذا پوری محنت شاقہ کے بعد نوح (علیہ السلام) نے ناامید ہوکردعا فرمائی کہ اے اللہ یہ میری بات نہیں مانتے اور ایسے کام کرتے ہیں جس میں عذاب کا خطرہ اور جان ومال کا نقصان ہے اور میرے خلاف میرے لائے ہوئے نظام کے خلاف بڑی بڑی سازشیں کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو تلقین کرتے ہیں کہ اپنے ، ود ، سواع ، یعوث ، یعوق ، اور نسر بت کو مت چھوڑ کہا گیا ہے کہ یہ پہلے گزرنے والے نیک لوگ تھے جن کے انہوں نے بت بنارکھے تھے لہذا یہ گمراہی میں حد سے گزرچکے تھے اب ان کو اس گمراہی کی ذلت میں دھنسا دے چناچہ اپنے گناہوں کے باعث غرق کردیے گئے اور آگ میں داخل ہوئے انہیں اللہ کے مقابلے میں کوئی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(71:24) وقدا ضلوا کثیرا۔ واؤ عاطفہ ، قد ماضی کے ساتھ تحقیق کے معنی دیتا ہے اور فعل کو زمانہ حال کے قریب کردیتا ہے۔ اضلوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب اضلال (افعال) مصدر سے۔ انہوں نے گمراہ کیا۔ انہوں نے بہکا دیا۔ اس میں ضمیر فاعل قوم نوح کے سرداروں کی طرف راجع ہے یا بتوں کی طرف راجع ہے بہکانے کی نسبت بتوں کی طرف مجازی ہے بت گمراہی کا سبب ہیں وہ گمراہ نہیں کرتے۔ ان کے ذریعہ شیطان نے گمراہ کیا تھا۔ جیسا کہ آیت رب انھن اضللن کثیرا من الناس (14:36) میں گمراہ کرنے کی نسبت بتوں کی طرف مجازی ہے۔ کثیرا : ای خلقا کثیرا۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور (اے پروردگار) انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا ہے جملہ وقد اضلوا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–28

لغات القرآن۔ لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔ تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔ فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–24

حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت کا ذکر۔ (ف 1) اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح کو جس طرح اللہ کا حکم تھا اس کے موافق حضرت نوح نے نو سو برس تک ان کو سمجھاتے رہے جب امید کی کوئی سورت باقی نہ رہی تو مایوس اور تنگ دل ہوکربارگاہ الٰہی میں عرض کیا یا اللہ میں نے اپنی طرف سے دعوت تبلیغ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا رات کی تاریکی اور دن کے اجالے میں برابر ان کو تیری طرف بلاتا رہا، مگر نتیجہ یہ ہوا کہ جوں جوں تیری طرف آنے کو کہا گیا یہ بدبخت اور زیادہ ادھر سے منہ پھیرکربھاگے اور جس قدر میری طرف سے شفقت ودل سوزی کا اظہار ہوا ان کی جانب سے نفرت اور بےزاری بڑھتی گئی سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوں نے میری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 24–25

[5] یعنی غرق ہوتے ہی آتش برزخ کے عذاب میں مبتلا کر دئیے گئے۔ یہ بالکل ویسا ہی معاملہ ہے جیسا فرعون اور اس کی قوم کے ساتھ کیا گیا۔ (ملاحظہ ہو سورة المومن حاشیہ 15 صفحہ 1137) ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–26

ف 1: فرمایا حقیقت یہ ہے ۔ کہ تم جو دین کو نہیں مانتے ہو اور اس طرح کے خیالات کی اشاعت کرتے ہو ۔ تو محض اس لئے کے تمہارے دلوں میں اللہ کے لئے عزت واحترام کا جذبہ نہیں ہے اس کے بعد اس کی قدرتوں اور حکمتوں کو بیان کیا ہے ۔ کہ دیکھو خود تم کو اس نے بنایا ہے ۔ آسمان تو کس طرح اوپر تلے پیدا کیا ہے ۔ اور پھر اس میں جاندار سورج کو کس طرح آویزاں کیا ہے ۔ کہ وہ ضیا بخش عالم ہیں ۔ تم کو زمین کے اجزاء سے پیدا کیا ہے ۔ پھر زمین ہی میں مرنے کے بعد لیجایا جائے گا ۔ اور پھر دوبارہ اس زمین میں سے اٹھائیگا ۔ یہ کتنی عبرت انگیز بات ہے ۔ دیکھو یہ محض اللہ کی ۔ عنایت ہے ۔ کہ اس نے زمین کو اتنی وسعت کے باوجود…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(24) اور بلا شبہ ان ذی اقتدار اور ذی وجاہت و ریاست لوگوں نے بہت سوں کو گمراہ کردیا اور بہکا دیا اور اے میرے پروردگار ان ظالموں اور بےانصافوں کی گمراہی اور زیادہ کردے یعنی ان میں سوائے گمراہی کے اور کچھ نہ بڑھے۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) عرصہ دراز تک قوم کی ایذارسانی برداشت کرتے رہے آخر ان کے ایمان لانے کی جب کوئی امید نہ رہی اور ان کو یہ معلوم ہوگیا کہ لن یومن من قومک الا من قدامن جیسا کہ سورة ہود میں گزرچکا تو انہوں نے حق تعالیٰ کی بارگا ہ میں فریاد کی۔ اوپر کی آیتوں میں قوم کو سمجھانے اور بلانے کی تفصیل تھی اور یہاں سے ان کی ہلاکت اور تباہی کی دعا کے لئے تمہید ہے۔ حضرت نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 24–27

ف 3۔ تاکہ یہ لوگ مستحق ہلاکت ہوجاویں، پس مقصود دعا کرنا زیادہ ضلال کی نہیں بلکہ استحقاق ہلاکت کی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا اور ظالم گمراہی کے سوا کسی میں زیادہ نہ ہوئے 24 ؎ اس طرح نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بہت سے وڈیروں نے اور گمراہ رئیسوں نے عوام کو گمراہ کردیا اور سادہ لوح عوام ان کے سامنے کھڑے نہ رہ سکے اس طرح شرک کا خوب دور دورہ ہوا اور نوح (علیہ السلام) کو بارگاہ الٰہی میں اس طرح اپیل کرنا پڑی کہ اے اللہ ! تو بھی ان گمراہوں اور ظالموں کی گمراہی اور ظلم میں اور اضافہ فرما دے تاکہ یہ سخت سے سخت عذاب کے مستحق قرار پائیں اور انہیں اپنی بدمعاشیوں ، مکاریوں ، شرارتوں اور اسی طرح کی ریشہ دوانیوں کی خوب سزا ملے۔ آیت 24 سے آیت 27 تک نوح (علیہ السلام) کی دعا بدرگاہ رب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–24

لَا تَذَرُ‌نَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُ‌نَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرً‌ا (and never forsake Wadd, nor Suwa', nor yaghuth and Ya` uq and Nasr…71:23). Imam Baghawi reports that these five were in fact righteous servants of Allah who lived in the intervening period between Prophets 'Adam and Nuh (علیہما السلام) . There were many people who held them in high regard and followed their footsteps. Even after their death, they followed their footsteps and complied with Divine injunctions. A while later, Shaitan misled them. He put it to them that if they make pictures of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

18 As we have explained in the introduction to this Surah, the Prophet Noah did not invoke this curse out of impatience but he invoked it when, after doing full justice to the preaching of his mission for many centuries, he became totally despaired of any success with his people. Similar were the conditions under which the Prophet Moses also had cursed Pharaoh and his people, thus: "Lord, destroy their wealth and harden their hearts in a manner so that they do not believe until they see the painful torment." And Allah, in response, had said: "The prayer of you both has been granted" Yunus:…

Read the full tafseer →