وَمَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًا ۟ۚوَمَكَرُوۡا مَكۡرًا كُبَّارًا
اور وہ بڑی بڑی چالیں چلے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And they conspired an immense conspiracy.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 10 of juz
وَمَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًا ۟ۚوَمَكَرُوۡا مَكۡرًا كُبَّارًا
اور وہ بڑی بڑی چالیں چلے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And they conspired an immense conspiracy.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 10 of juz
Read the whole surah · Surah Nooh
اِن لوگوں نے بڑا بھاری مکر کا جال پھیلا رکھا ہے
اور وہ بڑی بڑی چالیں چلے
اور ان لوگوں نے بڑا سخت فریب کیا
اور انہوں نے بڑی بھاری مکاری سے کام لیا ہے۔
اور بہت بڑا داؤ ں کھیلے
اور (عوام کو گمراہی میں رکھنے کے لئے) وہ بڑی بڑی چالیں چلتے رہے،
اور انھوں نے خفیہ تدبیر کی، بہت بڑی خفیہ تدبیر۔
ان لوگوں نے بڑے بڑے مکر و فریب کیے
اور انہوں نے بڑی بڑی چالیں چلیں
انہوں نے بڑی بھاری چالیں چلیں
اور انہوں نے بڑے بڑے مکر کر ڈالے۔
اور ان لوگوں نے ایک چال بھی چلی بہت بڑی چال۔
اور وہ بڑی بڑی چالیں چلے
They contrived a plot of great magnitude.
and they devised a mighty plot,
and they devised a mighty plot,
"And they have plotted a mighty plot."
And they have plotted a mighty plot,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And they conspired an immense conspiracy.
They have arrogantly plotted evil plans against me,
And they have planned a very great plan.
And who have plotted a tremendous plot
"And they have devised a tremendous Plot.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 21–24
نوح ؑ کی بارگاہ الٰہی میں روداد غم حضرت نوح ؑ نے اپنی گزشتہ شکایتوں کے ساتھ ہی جناب باری تعالیٰ میں اپنی قوم کے لوگوں کی اس روش کو بھی بیان کیا کہ میری پکار کو جو ان کے لئے سراسر نفع بخش تھی انہوں نے کان تک نہ لگایا ہاں اپنے مالداروں اور بےفکروں کی مان لی جو تیرے امر سے بالکل غافل تھے اور مال و اولاد کے پیچھے مست تھی، گو فی الواقع وہ مال و اولاد بھی ان کے لئے سراسر و بال جان تھی، کیونکہ ان کی وجہ سے وہ پھولتے تھے اور اللہ کو بھولتے تھے اور زیادہ نقصان میں اترتے جاتے تھے (ولدہ) کی دوسری قرأت (ولدہ) بھی ہے اور ان رئیسوں نے جو مال و جاہ والے تھے ان سے بڑی مکاری کی۔ (کُبَّارِ) اور (کِبَّار) دونوں…
Read the full tafseer →سورة نُوْح 16 مکر سے مراد ان سرداروں اور پیشواؤں کے وہ فریب ہیں جن سے وہ اپنی قوم کے عوام کو حضرت نوح ؑ کی تعلیمات کے خلاف بہکانے کی کوشش کرتے تھے۔ مثلاً وہ کہتے تھے کہ نوح تمہی جیسا ایک آدمی ہے کیسے مان لیا جائے کہ اس پر خدا کی طرف سے وحی آئی ہے (الاعراف 63۔ ہود 27)۔ نوح کی پیروی تو ہمارے اراذل نے بےسوچے سمجھے قبول کرلی ہے، اگر اس کی بات میں کوئی وزن ہوتا تو قوم کے اکابر اس پر ایمان لاتے (ہود 27)۔ خدا کو اگر بھیجنا ہوتا تو کوئی فرشتہ بھیجتا (المومنون 24)۔ اگر یہ شخص خدا کا بھیجا ہوا ہوتا تو اس کے پاس خزانے ہوتے، اس کو علم غیب حاصل ہوتا اور یہ فرشتوں کی طرح انسانی حاجات سے بےنیاز ہوتا (ہود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
(آیت) اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا 15ۙوَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِيْهِنَّ نُوْرًا، اس آیت میں دلائل توحید وقدرت کے سلسلے میں سات آسمانوں کا طبق برطبق ہونا اور پھر ان میں قمر کا نور ہونا ارشاد ہوا ہے جس میں لفظ فیھن سے ظاہراً یہ سمجھا جاتا ہے کہ چاند آسمانوں کے جرم کے اندر داخل ہے آج کل کی نئی تحقیقات و مشاہدت اسے اس کے خلاف یہ مفہوم ہوتا ہے کہ چاند آسانوں سے بہت نیچے فضائے آسمانی میں ہے جس کو آج کل خلاء کہا جاتا ہے اس کی مفصل تحقیق سورة فرقان کی (آیت) جعل فی السمآء بروجا وجعل فیھا سرجا و قمرا منیرا کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ اس کو دیکھ لیا جائے۔ قوم کے شکوہ کے سلسلہ…
Read the full tafseer →’کُبَّارٌ‘ مبالغہ ہے ’کَبِیْرٌ‘ کا۔ یعنی اپنے استکبار کے سبب سے میری دعوت کو شکست دینے، اپنے عوام کو مجھ سے برگشتہ کرنے اور میرے خلاف بھڑکانے کے لیے انھوں نے بڑی بڑی چالیں چلیں۔ ان چالوں کی یہاں کوئی تفصیل نہیں ہے لیکن ان کو سمجھنا دشوار نہیں ہے۔ ہر زمانے کے مستکبرین لوگوں کو حق سے برگشتہ کرنے کے لیے جس طرح کی چالیں چلتے ہیں ان کو سامنے رکھ کر قوم نوح کی چالوں کا بھی نہایت آسانی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
Read the full tafseer →22۔ 1 یہ مکر یا فریب کیا تھا بعض کہتے ہیں ان کا بعض لوگوں کو حضرت نوح ؑ کے قتل پر ابھارنا تھا بعض کہتے ہیں کہ مال واولاد کی وجہ سے جس فریب نفس کا وہ شکار ہوئے حتی کہ بعض نے کہا کہ اگر یہ حق پر نہ ہوتے تو ان کو یہ نعمتیں میسر کیوں آتیں ؟ بعض کے نزدیک ان کا کفر ہی بڑا مکر تھا۔
Read the full tafseer →5: یہ ان سازشوں کی طرف اشارہ ہے جو حضرت نوح ؑ کے دشمن ان کے خلاف کررہے تھے۔
Read the full tafseer →ان لوگوں نے صرف گمراہی پر اکتفا نہ کیا ، بلکہ۔ ومکروا مکرا کبارا (17 : 22) ” ان لوگوں نے بڑا بھاری مکر کا جال پھیلا کر رکھ دیا “۔ یعنی اس قدر عظیم سازش کی کہ اس سے آگے کوئی بڑی سازش نہ ہو۔ انہوں نے دعوت اسلامی کے تمام راستے بند کرنے کے لئے مکاری کی۔ لوگوں کے دلوں کو دوسرے کاموں میں مشغول کردیا اور ان کے دلوں کے اندر دعوت اترنے کے مواقع ہی ختم کردیئے۔ کفر ، گمراہی اور جاہلیت کو ان کے لئے حسین بنادیا۔ اور لوگ جاہلیت ہی میں بھٹکتے رہے۔ ان کی بڑی مکاری یہ تھی کہ یہ لوگوں کو ان الہوں کی عبادت میں لگائے رکھتے تھے جن کو انہوں نے الٰہہ کہہ رکھا تھا۔ عوام الناس کے دلوں میں ان بتوں کی حمیت اور غیرت…
Read the full tafseer →3 یعنی سب کو سمجھا دیا کہ اس کی بات نہ مانو اور طرح طرح کی ایذاء رسانی کے درپے رہے۔
Read the full tafseer →آیت 22{ وَمَکَرُوْا مَکْرًا کُبَّارًا۔ } ”اور ان لوگوں نے ایک چال بھی چلی بہت بڑی چال۔“ یہ قوم نوح علیہ السلام کے بڑے بڑے سرداروں کی اس چال کا ذکر ہے جس کے تحت انہوں نے مذہبی اور نسلی عصبیت کا سہارا لے کر عوام کو حضرت نوح علیہ السلام کے خلاف بھڑکایا تھا۔ انہوں نے اپنے اسلاف میں سے بڑے بڑے اولیاء اللہ کے ُ بت بنا کر رکھے ہوئے تھے اور انہی بتوں کی وہ لوگ پوجا کرتے تھے۔ جب حضرت نوح علیہ السلام نے انہیں ان بتوں کو چھوڑنے اور ایک اللہ کو معبود ماننے کی دعوت دی تو قوم کے سرداروں کو آپ علیہ السلام کے خلاف یہ دلیل مل گئی کہ آپ علیہ السلام ان کے بزرگوں اور اولیاء اللہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔…
Read the full tafseer →13 ان سرداروں نے اپنے پیروکاروں میں نوح (علیہ السلام) کی شخصیت کو ہمیشہ برے انداز میں ہی پیش کیا اور انہیں یہی باور کراتے رہے کہ یہ شخص تو محض اپنی بڑائی قائم کرنے کی خاطر یہ سارے پاپڑ بیل رہا ہے۔ اور وہ بات ہی ایسی انہونی کہتا ہے جو کم از کم ہماری عقل باور نہیں کرسکتی۔ یہ بھلا کیسے ممکن ہے کہ ایک اکیلا خدا ہی کائنات کا سارا انتظام چلا رہا ہو۔ ہر ایک کی براہ راست فریاد سنتا ہو، پھر فریاد رسی بھی کرتا ہو۔ ہر بادشاہ کو اپنا انتظام سلطنت چلانے کے لیے بیشمار امیروں، وزیروں، ماتحتوں اور کارندوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور انہی کی وساطت سے بادشاہ تک فریاد پہنچائی جاسکتی ہے۔ پھر ہم اپنے معبودوں کا کیسے اس…
Read the full tafseer →11۔ یعنی دین حق کی توقیر مٹانے اور اس سے مقابلہ کے خوب خوب منصوبے باندھے۔ اور شرک وجاہلیت کی حمایت ونصرت کے لئے بڑی بڑی اسکیمیں تیار کیں اور ان پر عمل بھی جی بھر کر، کر دیکھا، (آیت) ” مکروا “۔ یہ جوڑ توڑ کرنے والے وہی سردار ان قوم تھے۔ جن کی پیروی عوام کرتے تھے۔ والماکرون ھم الرؤساء (مدارک) (آیت) ” کبارا “۔ کبار کبیر کا صیغہ مبالغہ ہے۔ اور یہ مکر عظیم ترین، توحید کی مخالفت اور شرک کی حمایت میں تھا۔ یہیں سے متکلمین نے یہ نکالا ہے کہ علم کلام تو توحید کی حمایت اور ردشرک کا علم ہے وہ افضل ترین علوم ہے۔ واستدل بھذا من فضل علم الکلام علی سائر العلوم فقال الامر باشکر کبار فی القبح والخزی فالامر…
Read the full tafseer →ومکروا مکرا کبارا یہ مکر شدید کیا تھا ؟ مکر سے مراد ان سرداروں اور پیشوائوں کے وہ مکر و فریب ہیں جس سے وہ اپنی قوم کے عوام کو حضرت نوح (علیہ السلام) کی تعلیمات کے خلاف بہکاتے تھے اور بہکانے کے طریقے تقریباً تمام وہی تھے جو مشرکین عرب آپ ﷺ پر ایمان لانے سے روکنے کے لئے کرتے تھے، اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ مکر سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) کے قتل کی سازش ہے، اور بعض کے نزدیک ان کے بڑوں کا چھوٹوں سے یہ کہنا تھا کہ تم اپنے معبودوں کی عبادت پر جمے رہنا ان کو ہرگز چھوڑنا۔
Read the full tafseer →مکرا کبارا . کبارًا صیغہ مبالغہ ہے کبیرٌ سے بنا ہے۔ بہت بڑا مکر۔ سرداروں کی طرف سے مکر یہ تھا کہ وہ لوگوں کو حضرت نوح کو دکھ پہنچانے اور کفر کرنے پر ابھارتے تھے اور نچلے طبقہ کا مکر یہ تھا کہ وہ حضرت کو طرح طرح سے دکھ پہنچاتے تھے ‘ یہی ان کی تدبیر تھی جس کو مکر کہا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
(21۔ 22) غرض کہ نوح نے فرمایا اے پروردگار ان لوگوں نے میرا کہا نہیں مانا اور سرداروں کی پیروی کی جن کے مال و اولاد کی کثرت نے ان کو آخرت میں نقصان ہی پہنچایا اور جنہوں نے بڑا بھاری جھوٹ بولا۔
Read the full tafseer →(ومکروا مکراً کباراً :”کباراً“ (باء کی تشدید کیساتھ) میں ”کبار“ (باء کی تشدید کے بغیر) سے زیادہ مبالغہ ہے اور ”کبار“ میں ”کبیر“ سے زیادہ مبالغہ ہے، یعنی انہوں نے بہت ہی بڑی بڑی خفیہ تدبیریں کیں۔ ”مکرا“ جنس ہے، اس سے صرف ایک ہی مکر مراد نہیں۔ یہ اسی قسم کے حربے تھے جو ہمیشہ کسی قوم کے چوھدری اور مال دار لوگ اپنے اقتدار کی خاطر اہل حق کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ قرآن میں ان میں سے کئی حربے مذکور ہیں ، مثلاً یہ کہ اگر نوح ؑ اللہ کا نبی ہوتا تو فرشتہ ہوتا، یہ تو ہمارے جیسا انسان ہے۔ اس کے پیرو کار پنچ لوگ ہیں، اگر یہ رسول ہوتا تو اس کے پاس خزانے ہوتے ، بڑے بڑے لوگ اس کے ساتھ ہوتے، یہ غیب جانتا…
Read the full tafseer →ومکروا مکر اکباراً ۔ ” اور انہوں نے بڑے مکر و فریب کئے۔ “ کباراً یعنی بہت بڑا۔ یوں کہا اجتا ہے : کبیر، کبار، کبار جس طرح عجیب، عجاب اور عجاب سب کا ایک معنی ہے۔ اس کی مثل طویل، طوال اور طوال ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے، رجل حسن، رجل حسان، رجل جمیل، رجل جمال، قراء قاری کے لئے بولا جاتا ہے اور وصناء روشن چہرے والے کے لئے بولا جاتا ہے۔ ابن کسی ت نے یہ شعر پڑھا : بیضاء تصاد القلوب وتستبی بالحسن قلب المسلم القزاء وہ سفید رگن والی ہے، دلوں کا شکار کرتی ہے اور حسن کے ساتھ مسلمان قاری کے دل کو قیدی بناتی ہے۔ محل استدلال القراء ہے۔ مرد نے کہا : کبار جب تشدید کے ساتھ ہو تو یہ مبالغہ کے لئے آتا ہے۔ ابن…
Read the full tafseer →6۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومکروا مکرا کبارا اور انہوں نے بڑی زبردست چال چلی۔ اس میں بارا سے مراد ہے عظیما یعنی انہوں نے بڑے بڑے مکروفریب کیا۔
Read the full tafseer →[وَمَكَرُوْا : اور ان لوگوں (سرداروں) نے چال چلی ] [مَكْرًا كُبَّارًا : جیسے کوئی زبردست چال چلنے کا حق ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
قوم کا کفر و شرک پر اصرار، حضرت نوح (علیہ السلام) کی بد دعا وہ لوگ طوفان میں غرق ہوئے اور دوزخ میں داخل کردیئے گئے ان آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی کافر قوم کی بربادی کے لیے اور اہل ایمان کی مغفرت کے لیے دعا کرنا اور قوم کی سرکشی اور قوم کی ہلاکت کا تذکرہ فرمایا ہے، حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ میں نے ان لوگوں کو سمجھایا لیکن ان لوگوں نے میری بات نہیں مانی اہل دنیا کی بات مانتے ہیں جن کے پاس مال اور اولاد ہے ان کی نظریں انہیں پر جمی ہوئی ہیں اور وہ لوگ انہیں جو کچھ سمجھاتے اور بتاتے ہیں اسی کو مانتے ہیں وہ لوگ ایمان پر آنے نہیں دیتے کفر پر ہی جمے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
شکوۂ نوح (علیہ السلام) ببارگاہ خداوندی برنافرمانی وسرکشی قوم : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قال نوح رب انھم ......... الی ......... الا تبارا “۔ (ربط) ابتداء سورت سے حضرت نوح (علیہ السلام) کے جذبہ تبلیغ اور دعوت الی اللہ کا ذکر تھا کہ کیسے انہماک اور دل سوزی سے دن رات اپنی قوم کو خدا کی طرف بلاتے رہے ہدایت وسعادت کا پیغام دیتے رہے کوئی حالت اور کوئی مجلس ایسی نہ چھوڑی جس میں ایسی لگن اور ولولہ سے قوم کو راہ حق کی طرف لانے کی کوشش نہ کرتے ہوں اب ان آیات میں اس کے بالمقابل ان کی قوم کا کردار ظاہر کیا جارہا ہے کہ جس قدر نصیحت وہمدردی بڑھتی گئی، اسی قدر قوم کی شقاوت و گستاخی بڑھتی چلی گئی حتی کہ اس…
Read the full tafseer →11:۔ ومکرو، اتبعوا پر معطوف ہے یا لم یزد پر اور جمع کا صیغہ من کے مفہوم کے اعتبار سے لایا گیا ہے۔ عوام کا مکر یہ تھا کہ وہ حضرت نوح (علیہ السلام) کو ہر طرح سے تکلیف و اذیت پہنچاتے اور رؤساء مشرکین کا مکر یہ تھا کہ وہ اپنے عوام کو توحید سے روکنے اور ان کو حضرت نوح (علیہ السلام) کی ایذاء پر اکساتے تھے (مظہری) ۔ کبار، کبیر کا مبالغہ ہے ای کبیرا فی الغایۃ (روح) حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کافروں نے اعتراض کیا تھا کہ ” کُبَّار “ اور ” عجائب “ غیر فصیح ہیں، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی بڈھے آدمی کو لاؤ، جب لے کر آئے تو آپ نے فرمایا اسے دو چار مرتبہ اٹھاؤ بٹھاؤ، اس پر اس بڈھے نے کہا یا محمدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
گزشتہ سے پیوستہ : گذشتہ درس میں نوح (علیہ السلام) کی قوم کی حالت کا بیان تھا جو انہوں نے اپنی دعا میں اپنے رب کے حضور پیش کی۔ اور نہایت دکھ کے ساتھ عرض کیا یعنی اے اللہ ! میری قوم نے میری نافرمانی کی اور ان لوگوں کا اتباع کیا جن کے مال و اولاد نے انہیں سوائے نقصان کے کچھ اضافہ نہ کیا۔ یعنی مال واولاد کی کثرت نے انہیں خود بھی دین سے محروم رکھا اور دوسروں کو بھی محروم کیا۔ اس درس کی آیات میں سے پہلی آیت میں قوم نوح (علیہ السلام) کے ان دائو پیچوں کا تذکرہ ہے جو انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلانے کے لیے آزمائے۔ دوسری آیت میں انکے پانچ معبودانِ باطلہ کا بیان ہے جن کی پرستش پر وہ جمے رہے…
Read the full tafseer →وَمَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًا 22 ۚ مكر المَكْرُ : صرف الغیر عمّا يقصده بحیلة، وذلک ضربان : مکر محمود، وذلک أن يتحرّى بذلک فعل جمیل، وعلی ذلک قال : وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] . و مذموم، وهو أن يتحرّى به فعل قبیح، قال تعالی: وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] ( م ک ر ) المکر ک ے معنی کسی شخص کو حیلہ کے ساتھ اس کے مقصد سے پھیر دینے کے ہیں یہ دو قسم پر ہے ( 1) اگر اس سے کوئی اچھا فعل مقصود ہو تو محمود ہوتا ہے ورنہ مذموم چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] اور خدا خوب چال چلنے والا ہے ۔ پہلے معنی پر محمول ہے ۔ اور دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
ترکیب : انہم الجملۃ مفعول قال ‘ من مفعول اتبعوا والضمیر فاعلہ قریٔ ولدہ بفتح الواو واللام وبضم الواو و سکون اللام وھما سبعی بتان وقریٔ بفتح الاول و سکون الثانی وھی نعۃً وقیل جمع الولد۔ کبارا قرء الجمہور بالتشدید ای کبیر اعظیما کقراء وحمال قال المبرد الفعال للمبالغۃ وقری بکسر الکاف وتخفیف الباء ھو جمع کبیر ود قرء الجمہور بفتح الوا ووقریٔ بضمھما قال اللیث بضم الواؤ صنم لقریش وبفتحہا صنم کان لقوم نوح و فی الصحاح الود بالفتح الوتد فی لغۃ اہل نجد کانھم سکنوا التاء وادغموھا فی الدال سواعاً ھما منصرفان یغوث و یعوق عندالجمہور غیرمنصرفین فان کان عربیین فللعلمیۃ ووزن الفعل وان کان عجمیین فللعجمۃ…
Read the full tafseer →وَمَکَرُوْا مَکْرًا کُبَّارًا۔ (نوح : 22) (اور انھوں نے بڑی بڑی چالیں چلیں۔ ) بگاڑ کا سبب متکبرین ہیں کُبَّارٌ … کبیر سے مبالغہ ہے۔ کہ ان سرداروں اور پیشوائوں نے اپنی قوم کو حضرت نوح (علیہ السلام) سے برگشتہ کرنے اور ان کی تعلیمات سے بہکانے کے لیے بڑی بڑی چالیں چلیں، بڑے بڑے فریب دیئے، عجیب و غریب اعتراضات اٹھائے۔ یہاں ان چالوں کی اگرچہ تفصیل بیان نہیں کی گئی لیکن قرآن کریم نے مختلف انبیائے کرام کے حوالے سے ان کی قوموں کے متکبرین کے جو حالات بیان کیے ہیں انھیں دیکھ کر ان چالوں کی تفصیل جاننا کوئی مشکل نہیں۔ وہ یقینا اپنی قوم سے کہتے ہوں گے کہ نوح (علیہ السلام) بھی تم ہی جیسا ایک آدمی ہے، اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو مدت مدید تک دن اور رات سمجھایا مگر قوم نے کھلے لفظوں میں ان کی دعوت ماننے سے انکار کردیا۔ جس کے نتیجے میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان الفاظ میں اپنے رب کے حضور فریاد کی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو دن اور رات، جلوت اور خلوت میں اللہ کی طرف بلاتے رہے مگر قوم نے کہا کہ تیرے کہنے پر وَدّ ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو نہیں چھوڑ سکتے۔ یاد رہے یہ اس قوم کے سب سے بڑے بت تھے اور اس قوم کے فوت شدہ بزرگوں کے تخیلاتی مجسمے تھے جو انہوں نے ان کی یاد میں بنائے ہوئے تھے۔ قوم نے نوح (علیہ السلام) کو یہ بھی دھمکی دی کہ اگر…
Read the full tafseer →قوم نوح کی حیلہ بازی : 22 : وَمَکَرُوْا (اور انہوں نے تدبیریں کی) اس کا عطف لم یزدہؔ پر ہے ضمیر جمع لائی گئی ہے۔ حالانکہ مرجع منؔ مفرد ہے کیونکہ یہ معناً جمع ہے الماکرون : رؤساء قوم نوح۔ مکرھمؔ ان کے مکر سے ان کی دین کے متعلق حیلہ سازیاں اور نوح (علیہ السلام) کے خلاف سازشیں اور لوگوں کو انہیں تکلیف پہنچانے کیلئے برانگیختہ کرنا اور نوح (علیہ السلام) کی طرف لوگوں کے میلان کو روکنا وغیرہ۔ مَکْرًا کُبَّارًا (بہت بڑی بڑی تدبیریں) کُبَّار یہ کِبَار سے بڑی چیز کیلئے آتا ہے۔ اور یہ کبیر سے بھی بڑھ کر ہے۔ قراءت : ایک قراءت میں کِبَارًا پڑھا گیا ہے۔
Read the full tafseer →21 ۔” قال نوح رب انھم عصونی “ یعنی میری دعوت کو قبول نہیں کیا۔ ” واتبعوا من لم یزدہ مال وولدہالا خسارا “ یعنی فقراء اور نچلے طبقہ کے لوگوں نے قائدین اور سرداروں کی اتباع کی جن کو ان کے مال اور اولاد کی کثرت نے صرف دنیا میں گمراہی اور آخرت میں سزا زیادہ کی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
21۔ 24۔ یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دوسری شکایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اس قوم کے صاحب مال اور صاحب اولاد لوگوں نے اس قوم کو یہ بہکا رکھا ہے کہ اگر ہم حق پر نہ ہوتے تو یہ نعمتیں ہم کو کیونکر ملتیں۔ اس لئے تم اپنے بتوں کی پوجا ہرگز نہ چھوڑ۔ ان مال دار لوگوں کے اس بہکاوے کو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کا بڑا مکر اور بڑا دائوں کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ ان کے مال اور اولاد نے بھی ان کو یہ ایک بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے کہ مال و اولاد کے غرور کے سبب سے بھی وہ خود بھی راہ پر نہیں آتے اور دوسروں کو بھی مال و اولاد کے حیلہ سے بہکاتے ہیں پھر شکایت کی کہ یا اللہ ان بتوں کے سبب سے تیری بہت سی…
Read the full tafseer →(ومکروا مکرا کبارا) یعنی انہوں نے حق کے خلاف عناد میں بہت بڑی چال چلی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
21 منکرین کی حق اور اہل حق کے خلاف چالوں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح نے اپنے مخالفین کے بارے میں اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ انہوں نے بڑی بھاری چالیں چلیں۔ حق اور اہل حق کے خلاف ان کو نیچا دکھانے کے لئے، سو انہوں نے اپنے اسی استکبار اور اپنی بڑائی کے جھوٹے گھمنڈ میں میری دعوت کو شکست دینے، اپنے عوام کو مجھ سے برگشتہ کرنے اور ان کو میرے خلاف بھڑکانے کے لئے بڑی بڑی چالیں چلیں، اور ہر زمانے کے منکرین نے حق اور اہل حق کے خلاف یہی کچھ کیا، لیکن آخر کار ایسی چالیں خود انہی پر پڑتی ہیں۔ " ولا یحیق المکر السیء الاباھلہ " اللہ (فاطر :43) بہرکیف حضرت بہر کیف حضرت نوح نے اپنے رب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–28
اللہ کی نعمتیں تشریح : کائنات کی ترتیب اس کا نظام سب کا سب حیرت انگیز پر آسائش اور ناقابل فہم ہے۔ گو کہ سائنس دان تحقیق و جستجو میں لگے رہتے ہیں اور جو قرآنی آیات کی روشنی میں تحقیق کرتے ہیں وہی مسلم سائنس دان زیادہ کامیاب رہے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ علم الافلاک فزکس، حیاتیات، بیالوجی وغیرہ وغیرہ تاریخ کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ تمام علوم کی جڑیں مکمل طور پر مسلم سائنس دانوں کے کئے ہوئے کاموں ہی سے نکلتی ہیں۔ مثلاً ابن عربی، جابر خراسانی، ابن سینا وغیرہ ایک عام انسان کے لئے اور ایک خاص انسان کے لیے آسمانوں کا ذکر چاند، سورج اور زمین کا ذکر انسان کی پیدائش، مرجانا زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
آیات 21 تا 28۔ اسرار معارف۔ لہذا پوری محنت شاقہ کے بعد نوح (علیہ السلام) نے ناامید ہوکردعا فرمائی کہ اے اللہ یہ میری بات نہیں مانتے اور ایسے کام کرتے ہیں جس میں عذاب کا خطرہ اور جان ومال کا نقصان ہے اور میرے خلاف میرے لائے ہوئے نظام کے خلاف بڑی بڑی سازشیں کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو تلقین کرتے ہیں کہ اپنے ، ود ، سواع ، یعوث ، یعوق ، اور نسر بت کو مت چھوڑ کہا گیا ہے کہ یہ پہلے گزرنے والے نیک لوگ تھے جن کے انہوں نے بت بنارکھے تھے لہذا یہ گمراہی میں حد سے گزرچکے تھے اب ان کو اس گمراہی کی ذلت میں دھنسا دے چناچہ اپنے گناہوں کے باعث غرق کردیے گئے اور آگ میں داخل ہوئے انہیں اللہ کے مقابلے میں کوئی…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی دوسروں کو میرے در پے آزاد کیا اور خود بھی مجھے ستانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔
Read the full tafseer →(71:22) ومکروا مکرا کبارا۔ جملہ کا عطف من یزد پر ہے۔ من گو لفظا مفرد ہے لیکن معنی کے لحاظ سے جمع ہے یا اس کا عطف اتبعوا پر ہے۔ مکروا کی ضمیر فاعل کا مرجع رؤسا قوم نوح ہیں (جلالین) یا سرداروں اور نچلے طبقے کے منکرین ہر دو گروہوں کے لئے ہے۔ سرداروں کی طرف سے مکریہ تھا کہ وہ لوگوں کو حضرت نوح (علیہ السلام) کو دکھ پہنچانے اور کفر کرنے پر ابھارتے تھے اور نچلے طبقے کا مکریہ تھا کہ وہ حضرت نوح کو دکھ پہنچاتے تھے اور طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے ۔ یہی ان کی تدبیر تھی جس کو مکر کہا گیا ہے۔ مکروا ماضی جمع مذکر غائب مکر (باب نصر) مصدر سے۔ انہوں نے چال چلی انہوں نے خفیہ تدبیر کی۔ مصدر بمعنی دھوکہ دینا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–28
لغات القرآن۔ لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔ تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔ فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–24
حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت کا ذکر۔ (ف 1) اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح کو جس طرح اللہ کا حکم تھا اس کے موافق حضرت نوح نے نو سو برس تک ان کو سمجھاتے رہے جب امید کی کوئی سورت باقی نہ رہی تو مایوس اور تنگ دل ہوکربارگاہ الٰہی میں عرض کیا یا اللہ میں نے اپنی طرف سے دعوت تبلیغ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا رات کی تاریکی اور دن کے اجالے میں برابر ان کو تیری طرف بلاتا رہا، مگر نتیجہ یہ ہوا کہ جوں جوں تیری طرف آنے کو کہا گیا یہ بدبخت اور زیادہ ادھر سے منہ پھیرکربھاگے اور جس قدر میری طرف سے شفقت ودل سوزی کا اظہار ہوا ان کی جانب سے نفرت اور بےزاری بڑھتی گئی سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوں نے میری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
[4] یہ ان کے بتوں کے نام ہیں جنہیں وہ پوجتے تھے۔ بت تو ان کے بہت تھے مگر یہ پانچ ان کے نزدیک بڑی عظمت والے تھے۔ یہ بت قوم نوح سے منتقل ہو کر عرب میں پہنچے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
ف 1: فرمایا حقیقت یہ ہے ۔ کہ تم جو دین کو نہیں مانتے ہو اور اس طرح کے خیالات کی اشاعت کرتے ہو ۔ تو محض اس لئے کے تمہارے دلوں میں اللہ کے لئے عزت واحترام کا جذبہ نہیں ہے اس کے بعد اس کی قدرتوں اور حکمتوں کو بیان کیا ہے ۔ کہ دیکھو خود تم کو اس نے بنایا ہے ۔ آسمان تو کس طرح اوپر تلے پیدا کیا ہے ۔ اور پھر اس میں جاندار سورج کو کس طرح آویزاں کیا ہے ۔ کہ وہ ضیا بخش عالم ہیں ۔ تم کو زمین کے اجزاء سے پیدا کیا ہے ۔ پھر زمین ہی میں مرنے کے بعد لیجایا جائے گا ۔ اور پھر دوبارہ اس زمین میں سے اٹھائیگا ۔ یہ کتنی عبرت انگیز بات ہے ۔ دیکھو یہ محض اللہ کی ۔ عنایت ہے ۔ کہ اس نے زمین کو اتنی وسعت کے باوجود…
Read the full tafseer →(22) اور جنہوں نے حق کو مٹانے میں میرے خلاف بڑی بڑی پرفریب تدبیریں کیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
ف 2۔ مراد ان شخصوں سے روس اس ہیں جن کا عوام اتباع کرتے ہیں، اور مال اور اولاد کا ان روسا کو نقصان پہنچانا بایں معنی ہے کہ مال و اولاد سبب زیادت طغیان کا ہوگیا۔
Read the full tafseer →اور انہوں نے بڑے بڑے فریب کئے ہیں 22 ؎ جو لوگ بڑے بڑے مکر اور فریب کرتے ہیں وہ خود کبھی معاشرہ میں چھوٹے لوگ نہیں ہوتے بلکہ یہ وہ مترفین اور سردار لوگ ہوتے ہیں جو قوم کے رئیس کہلاتے ہیں اور یہ لوگ نہ صرف خود ہی گمراہ اور بدکار ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کی بدکرداری ، بداخلاقی اور گمراہی کا باعث بنتے ہیں اس وقت بھی وہ لوگ ایسے ہی تھے جنہوں نے خود نوح (علیہ السلام) کی نافرمانی کی اور دوسروں کو نافرمانی کرنے پر اکسایا اور نوح (علیہ السلام) سے برگشتہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی اور نوح (علیہ السلام) کی تعلیمات سے لوگوں کو روکا۔ قوم کے وڈیروں کو یہ فکر دامن گیر تھی کہ اگر عوام نے نوح (علیہ السلام) کے دین کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–22
لَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّـهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا (Did you not see how Allah has created seven heavens one upon another, and has made the moon a light therein? ....71:15-16) These verses are adduced as proof positive of Divine Oneness and His power. He has created seven heavens, one on top of the other, and placed the moon as a light in them. The prepositional phrase in the verse apparently indicates that the moon is placed in the body of the heavens. The subject is fully discussed in Surah Al-Furqan under the following verse: تَبَارَكَ…
Read the full tafseer →16 "Mighty plot": AlI those deceits, deceptions and frauds which the cheifs and religious guides were employing in an attempt to mislead the common people against the teachings of the Prophet Noah. For example, they said; "Noah is no more than a mere man like yourselves. How can one believe that AIIah sends down Revelations to him? (Al-A'raf: 63, Hud: 27) . "We also see that only the meanest of us have become his followers without due thought. Had there been some weight in what he says, the elders of the people would have believed in him." (Hud: 27) . "Had Allah willed, He would have sent…
Read the full tafseer →