Explained with ayahs 21–24
نوح ؑ کی بارگاہ الٰہی میں روداد غم
حضرت نوح ؑ نے اپنی گزشتہ شکایتوں کے ساتھ ہی جناب باری تعالیٰ میں اپنی قوم کے لوگوں کی اس روش کو بھی بیان کیا کہ میری پکار کو جو ان کے لئے سراسر نفع بخش تھی انہوں نے کان تک نہ لگایا ہاں اپنے مالداروں اور بےفکروں کی مان لی جو تیرے امر سے بالکل غافل تھے اور مال و اولاد کے پیچھے مست تھی، گو فی الواقع وہ مال و اولاد بھی ان کے لئے سراسر و بال جان تھی، کیونکہ ان کی وجہ سے وہ پھولتے تھے اور اللہ کو بھولتے تھے اور زیادہ نقصان میں اترتے جاتے تھے (ولدہ) کی دوسری قرأت (ولدہ) بھی ہے اور ان رئیسوں نے جو مال و جاہ والے تھے ان سے بڑی مکاری کی۔ (کُبَّارِ) اور (کِبَّار) دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
سورة نُوْح 15
یہاں زمین کے مادوں سے انسان کی پیدائش کو نباتات کے اگنے سے تشبیہ دی گئی ہے جس طرح کسی وقت اس کرے پر نباتات موجود نہ تھیں اور پھر اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کو اگایا، اسی طرح ایک وقت تھا جب روئے زمین پر انسان کا کوئی وجود نہ تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہاں اس کی پود لگائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
(آیت) اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا 15ۙوَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِيْهِنَّ نُوْرًا، اس آیت میں دلائل توحید وقدرت کے سلسلے میں سات آسمانوں کا طبق برطبق ہونا اور پھر ان میں قمر کا نور ہونا ارشاد ہوا ہے جس میں لفظ فیھن سے ظاہراً یہ سمجھا جاتا ہے کہ چاند آسمانوں کے جرم کے اندر داخل ہے آج کل کی نئی تحقیقات و مشاہدت اسے اس کے خلاف یہ مفہوم ہوتا ہے کہ چاند آسانوں سے بہت نیچے فضائے آسمانی میں ہے جس کو آج کل خلاء کہا جاتا ہے اس کی مفصل تحقیق سورة فرقان کی (آیت) جعل فی السمآء بروجا وجعل فیھا سرجا و قمرا منیرا کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ اس کو دیکھ لیا جائے۔ قوم کے شکوہ کے سلسلہ…
Read the full tafseer →تضمین کے بعد حضرت نوحؑ کی دعا کی تکمیل:
تضمین کی آیات ختم ہوئیں۔ یہاں سے کلام پھر حضرت نوحؑ کی دعا سے مربوط ہو گیا۔ چنانچہ ’قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ‘ فرما کر یہ واضح کر دیا گیا کہ اب حضرت نوحؑ کی دعا پھر آ رہی ہے۔
حضرت نوحؑ یہ اس ردعمل کا ذکر فرما رہے ہیں جس کا آپ کی قوم کی طرف سے، دعوت کے تیسرے مرحلہ میں، جو اتمام حجت کا آخری مرحلہ تھا، اظہار ہوا۔ فرمایا کہ اے رب! میں نے سارے جتن کر ڈالے لیکن ان سنگ دلوں نے میری کوئی بات بھی نہیں سنی بلکہ اپنے انہی لیڈروں کی پیروی کی جن کی مال و اولاد کی کثرت نے ان کے خسارے ہی میں اضافہ کیا ہے۔ یعنی مال و اولاد نے شکرگزاری کے بجائے ان کے استکبار کو بڑھایا ہے جس…
Read the full tafseer →21۔ 1 لوگ میری نافرمانی پر اڑے ہوئے ہیں اور میری دعوت پر لبیک نہیں کہہ رہے۔ یعنی ان کے اپنے بڑوں اور صاحب ثروت ہی کی پیروی کی جن کے مال و اولاد نے انہیں دنیا اور آخرت کے خسارے میں ہی بڑھایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
4: یعنی جس طرح ایک پودا زمین میں مختلف مراحل طے کرکے اگتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں مختلف مراحل سے گزار کر اس زمین میں پیدا فرمایا ہے، نیز جس طرح زمین سے اگنے والا سبزہ فنا ہو کر مٹی میں مل جاتا ہے، اور پھر جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اس سبزے کو دوبارہ اسی مٹی سے اگا دیتا ہے، اس طرح تم بھی مر کر مٹی میں مل جاؤگے، پھر جب اللہ تعالیٰ چاہے گا تو تہیں دوبارہ زندگی عطا فرما کر زمین سے دوبارہ نکال لے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
قال نوح ............................ الا ضلاً
حضرت نوح (علیہ السلام) کی فریاد کا خلاصہ یہ ہے کہ قوم نے اس طویل جدوجہد ومسلسل جہاد کے باوجود ان کو پوری طرح مسترد کردیا۔ حقیقت کو اچھی طرح پیش کرنے اور حقائق پر اچھی طرح روشنی ڈالنے کے باوجود لوگوں نے منہ موڑ لیا۔ ان کو ڈرایا بھی گیا ، مال دولت اور اقتدار واولاد کے وعدے بھی ان کے ساتھ کیے گئے۔ ترقی اور خوشحالی کا لالچ بھی دیا گیا۔ یہ لوگ چونکہ گمراہ قیادتوں کے پیچھے چلتے تھے ، اور گمراہ قیادتیں ہمیشہ اپنے عوام کو دھوکہ دیتی ہیں ، اس لئے کہ گمراہ قیادتوں کے ہاتھ میں مالی وسائل اور جاہ واقتدار ہوتا ہے ، تو لوگ انہی کے پیچھے پڑجاتے ہیں۔
واتبعوا…
Read the full tafseer →2 یعنی اپنے رئیسوں اور مالداروں کا کہا مانا جن کے مال و اولاد میں کچھ خوبی اور بہتری نہیں بلکہ وہ ان پر ٹوٹا ہے۔ ان ہی کے سبب دین سے محروم رہے اور غایت تمردو تجبر سے اوروں کو بھی محروم رکھا۔
Read the full tafseer →آیت 21{ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّـہُمْ عَصَوْنِیْ } ”نوح علیہ السلام نے کہا : پروردگار ! انہوں نے میری نافرمانی کی“
{ وَاتَّـبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْہُ مَالُـہٗ وَوَلَدُہٗٓ اِلَّا خَسَارًا۔ } ”اور انہوں نے ان لوگوں کی پیروی کی جن کے مال اور اولاد نے ان کے لیے سوائے خسارے کے اور کچھ نہیں بڑھایا۔“
پروردگار ! تو نے مجھے ان کی طرف رسول بناکر بھیجا تھا اور ان پر کسی پس و پیش کے بغیر میری اطاعت لازم تھی ‘ لیکن انہوں نے تو میری جی بھر کر نافرمانی کی اور اپنے ان سرداروں اور وڈیروں کی پیروی کرتے رہے جن کے مال و اولاد کی کثرت نے انہیں غرور وتکبر میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ لوگ میری کوئی بات سننے کو تیار…
Read the full tafseer →12 یہ تھے سیدنا نوح کی تبلیغ کے چند موٹے موٹے نکات یا توحید پر مبنی دلائل جو وہ مدت مدید تک اپنی قوم کو سمجھاتے رہے۔ لیکن جب قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے تو اللہ کی بارگاہ میں عرض کی کہ یا اللہ ! یہ لوگ تو بس دنیا کے ہی پجاری ہیں۔ یہ صرف ان سرداروں کی ہی بات مانتے ہیں جنہیں تو نے کثرت سے مال اور اولاد دے رکھی ہے۔ میری بات سننے کو کوئی بھی تیار نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →10۔ یعنی بجائے کوئی نعمت، نعمت ہی نہیں، ہر نعمت اس کے لئے ایک سبب عذاب ہی کی حیثیت رکھتی ہے۔ واستدل بھذہ الایۃ من قال انہ لیس للہ علی الکافر نعمۃ لان ھذہ النعم استدرجات ووسائل الی العذاب الابدی فکانت کالعدم (کبیر)
Read the full tafseer →ترجمہ : نوح بن لامک بن متوشلخ بن احنوخ واسم امہ شمخی بروزن سکری (علیہ السلام) نے عرض کیا اے پروردگار ! ان لوگوں نے میری نافرمانی کی اور کمزور طبقے اور فقراء نے ان لوگوں کی اطاعت کی کہ جن کے عال و اولاد نے سرکشی اور کفر کے اعتبار سے ان کو نقصان ہی پہنچایا، جو ایسے رئیس ہیں کہ جن کے اوپر ان چیزوں کا انعام فرمایا، ولد وائو کے ضمہ اور لام کے سکون اور دونوں کے فتحہ کے ساتھ (ولد) اور اول کہا گیا ہے کہ ولد (بفتحھما) کی جمع ہے جیسا کہ خشب، خشب کی جمع ہے، اور کہا گیا کہ جمع کے معنی میں ہے جیسا کہ بخل اور بخل اور ان لوگوں نے بڑا تکبر کیا اسی طریقہ پر کہ انہوں نے نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی، اور ان کو…
Read the full tafseer →قال نوح رب انھم عصونی . یعنی میں نے ان کو جو حکم دیا وہ انہوں نے نہیں مانا ‘ یہ جملہ گزشتہ آیت : قال
ربی انی دعوت قومی لیلا و نھارا فلم یزدھم دعائی الافرارا کی معنوی تاکید ہے۔ دونوں جملوں کا حاصل ایک ہی ہے ‘ دعوت سے بھاگنا ‘ کان بند کرلینا اور آنکھوں کا چھپا لینا ‘ عین نافرمانی ہے یا کم از کم نافرمانی کا تقاضا ہے لفظ قال کو مکرر لانے کی وجہ یہ ہے کہ اوّل قول کا ذکر اداء فرض تبلیغ کے بیان کے لیے تھا ‘ اس جگہ لفظ قال بددعا کی تمہید ہے۔
واتبعوا من لم یزدہ مالہ وولدہ الاخسارا . یعنی نچلے طبقہ نے اپنے ان سرداروں کا اتباع کیا جو اپنے مال
پر مغرور اور کثرت اولاد پر نازاں ہیں اور مال و اولاد نے ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
(21۔ 22) غرض کہ نوح نے فرمایا اے پروردگار ان لوگوں نے میرا کہا نہیں مانا اور سرداروں کی پیروی کی جن کے مال و اولاد کی کثرت نے ان کو آخرت میں نقصان ہی پہنچایا اور جنہوں نے بڑا بھاری جھوٹ بولا۔
Read the full tafseer →قال نوح رب انھم عصوتی …: یہ نوح ؑ کی دوسری ش کیا ت ہے کہ اے میرے رب ! انہوں نے میرا کہا نہیں مانا اور ان سرداروں اور مال داروں کے پیھچے لگ گئے جنہیں تو نے مال اور اولاد عطا فرمائی، مگر وہ مال و اولاد انہیں کوی فائدہ پہنچانے کے بجائے ان کے لئے اور زیادہ خسارے کا باعث بن گئے، کیونکہ اس مال و اولاد کے غرور ہی کی وجہ سے انہوں نے حق کو ٹھکرایا اور اسی مال و اولاد کو اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی دلیل کے طور پر پیش کر کیق وم کو بہ کیا ا اوری ہی مال خرچ کر کے لوگوں کو اللہ کی راہ سے ہٹایا۔ ا سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کافروں کو جتنا مال و اولاد یا نعمتیں ملیں درحقیقت ان کے لئے عذاب ہی کا سامان ہے،…
Read the full tafseer →حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کی شکایت کی کہ ان لوگوں نے ان کی نافرمانی کی اور آپ نے انہیں ایمان کے بارے میں جو حکم دیا اس کی اتباع نہ کی۔ اہل تفسیر نے کہا، حضرت نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال تک انہیں دعوت دیتے رہے جبکہ وہ کفر اور نافرمانی پر قائم رہے (2) حضرت ابن عباس نے کہا : حضرت نوح (علیہ السلام) آباء کے بعد بیٹوں سے امید رکھتے رہے، اولاد کے بعد اولاد آتی رہی یہاں تک کہ سات نسلوں تک معاملہ جا پہنچا۔ میاوس ہونے کے بعد ان کے حق میں بد دعا کی۔ طوفان کے بعد آپ ساٹھ سال زندہ رہے یہاں تک کہ لوگوں کی تعداد کثیر ہوگئی اور لوگ عام ہوگئے۔ حضرت حسن بصری نے کہا، حضرت نوح…
Read the full tafseer →4۔ سعید بن منصور نے حسن اور ابورجاء رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ دونوں اس طرح پڑھا کرتے تھے ” مالہ وولدہ “ اس کا مال اور اس کی اولاد۔
5۔ عبد بن حمید نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ سورة نوح، سورة زخرف اور سورة مریم میں سجدہ کے بعد ولد پڑھتے تھے اور فرماتے تھے الولد الکبیر والولد الواحد۔
Read the full tafseer →[قَالَ نُوْحٌ رَّبِ : کہا نوح (علیہ السلام) نے اے میرے رب ] [انهُمْ عَصَوْنِيْ : بیشک ان لوگوں نے نافرمانی کی میری ] [وَاتَّبَعُوْا مَنْ : اور پیروی کی ان (سرداروں) کی ] [لَمْ يَزِدْهُ : زیادہ نہیں کیا جن کو ] [مَالُهٗ وَوَلَدُهٗٓ: ان کے مال اور ان کی اولاد نے ] [اِلَّا خَسَارًا : مگر بلحاظ خسارے کے ]
(آیت۔ 21) لَمْ یَزِدْہُ کی ضمیر ہٗ دراصل مَنْ کی ضمیر عائد ہے۔ مَالُہٗ اور وَلَدُہٗ لَمْ یَزِدْ کے فاعل ہیں جبکہ خَسَارًا تمیز ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے، یہ بات ہم پڑھ چکے ہیں کہ مَنْ کا لفظ اصلا واحد ہے لیکن یہ واحد، تثنیہ، جمع، مذکر مؤنث سب کے لیے آتا ہے۔ اس آیت میں مَنْ جمع کے معنی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
قوم کا کفر و شرک پر اصرار، حضرت نوح (علیہ السلام) کی بد دعا وہ لوگ طوفان میں غرق ہوئے اور دوزخ میں داخل کردیئے گئے
ان آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی کافر قوم کی بربادی کے لیے اور اہل ایمان کی مغفرت کے لیے دعا کرنا اور قوم کی سرکشی اور قوم کی ہلاکت کا تذکرہ فرمایا ہے، حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ میں نے ان لوگوں کو سمجھایا لیکن ان لوگوں نے میری بات نہیں مانی اہل دنیا کی بات مانتے ہیں جن کے پاس مال اور اولاد ہے ان کی نظریں انہیں پر جمی ہوئی ہیں اور وہ لوگ انہیں جو کچھ سمجھاتے اور بتاتے ہیں اسی کو مانتے ہیں وہ لوگ ایمان پر آنے نہیں دیتے کفر پر ہی جمے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
شکوۂ نوح (علیہ السلام) ببارگاہ خداوندی برنافرمانی وسرکشی قوم :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قال نوح رب انھم ......... الی ......... الا تبارا “۔
(ربط) ابتداء سورت سے حضرت نوح (علیہ السلام) کے جذبہ تبلیغ اور دعوت الی اللہ کا ذکر تھا کہ کیسے انہماک اور دل سوزی سے دن رات اپنی قوم کو خدا کی طرف بلاتے رہے ہدایت وسعادت کا پیغام دیتے رہے کوئی حالت اور کوئی مجلس ایسی نہ چھوڑی جس میں ایسی لگن اور ولولہ سے قوم کو راہ حق کی طرف لانے کی کوشش نہ کرتے ہوں اب ان آیات میں اس کے بالمقابل ان کی قوم کا کردار ظاہر کیا جارہا ہے کہ جس قدر نصیحت وہمدردی بڑھتی گئی، اسی قدر قوم کی شقاوت و گستاخی بڑھتی چلی گئی حتی کہ اس…
Read the full tafseer →10:۔ ” قال نوح “ حضرت نوح (علیہ السلام) نے مزید عرض کیا میرے پروردگار، انہوں نے میری نافرمانی کی ہے اور میری کوئی بات نہیں مانی اور ان رؤسا اور صنادید کفر کی پیروی میں لگ گئے جنہیں مال و اولاد سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ بلکہ مال و اولاد اور تمام دنیوی ساز و سامان ان کے لیے سراسر خسارہ اور نقصان کا باعث ہے۔ کیونکہ مال واولاد کی وجہ سے وہ کبر و غرور میں مبتلا ہوگئے اور ایمان سے استکبار کیا اس طرح دنیوی وجاہت ان کے لیے اخروی خسارے کا باعث بن گئی۔ ” اتبعوا “ سے عوام مشرکین مراد ہیں اور ” من “ سے رؤسائے مشرکین۔ ای واستمروا علی اتباع رؤسائہم الذین ابطرتہم اموالہم وغرتہم اولادہم وصار ذلک سببا لزیادۃ…
Read the full tafseer →گزشتہ سے پیوستہ :
سورة نوح میں بنوت اور رسالت ، طریقہ تبلیغ ، توحید اور قیامت کا ذکر ہے اور بنیادی عقائد ہیں تو گویا اس سورة میں منکرین توحید کا رد ، مشرکوں اور کافروں کی مذمت اور ساتھ ساتھ جزائے عمل کا بیان ہے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر ہے۔ اس میں اس پیغام کا بیان ہے جو انہوں نے اپنی قوم تک پہنچایا ، یعنی عبادت صرف اللہ کی کرو ، اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ دنیا و آخرت کا فائدہ اسی میں ہے۔ مگر حضرت نوح (علیہ السلام) کے اتنا لمبا عرصہ تبلیغ کرنے اور مصائب و تکا لیف اٹھانے کے باوجود بہت کم لوگ ایمان لائے۔ وہی ستر آدمی جو کشتی پر سوار ہوئے۔ باقی ساری قوم ایمان سے خالی گئی۔ آخر کار…
Read the full tafseer →قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّہُمْ عَصَوْنِيْ وَاتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ يَزِدْہُ مَالُہٗ وَوَلَدُہٗٓ اِلَّا خَسَارًا 21 ۚ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
نوح
نوح اسم نبيّ ، والنَّوْح : مصدر ناح أي : صاح بعویل، يقال : ناحت الحمامة نَوْحاً وأصل النَّوْح : اجتماع النّساء في المَنَاحَة، وهو من التّناوح . أي : التّقابل، يقال : جبلان يتناوحان، وریحان يتناوحان، وهذه الرّيح نَيْحَة تلك . أي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
ترکیب : انہم الجملۃ مفعول قال ‘ من مفعول اتبعوا والضمیر فاعلہ قریٔ ولدہ بفتح الواو واللام وبضم الواو و سکون اللام وھما سبعی بتان وقریٔ بفتح الاول و سکون الثانی وھی نعۃً وقیل جمع الولد۔ کبارا قرء الجمہور بالتشدید ای کبیر اعظیما کقراء وحمال قال المبرد الفعال للمبالغۃ وقری بکسر الکاف وتخفیف الباء ھو جمع کبیر ود قرء الجمہور بفتح الوا ووقریٔ بضمھما قال اللیث بضم الواؤ صنم لقریش وبفتحہا صنم کان لقوم نوح و فی الصحاح الود بالفتح الوتد فی لغۃ اہل نجد کانھم سکنوا التاء وادغموھا فی الدال سواعاً ھما منصرفان یغوث و یعوق عندالجمہور غیرمنصرفین فان کان عربیین فللعلمیۃ ووزن الفعل وان کان عجمیین فللعجمۃ…
Read the full tafseer →قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّھُمْ عَصَوْنِیْ وَاتَّبَعُوْا مِنْ لَّمْ یَزِدْہُ مَالُـہٗ وَوَلَـدُہٗٓ اِلاَّ خَسَارًا۔ (نوح : 21)
(حضرت نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب، انھوں نے میری نافرمانی کی اور ان لوگوں کی پیروی کی جن کے مال اور جن کی اولاد نے ان کے خسارے ہی میں اضافہ کیا۔ )
قوم کی سنگدلی
حضرت نوح (علیہ السلام) نے قوم کو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت اور بےپناہ گرفت کا تصور دے کر بدلنے کی کوشش کی۔ دلائلِ انفس اور دلائلِ آفاق سے اللہ تعالیٰ کی ہمہ گیر قدرت کو مبرہن کیا۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس کی رحمت و عنایت کا حوالہ دے کر ان کی طبیعتوں میں میلان کی جوت جگانا چاہی۔ لیکن یہ ایسے سنگدل لوگ تھے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو مدت مدید تک دن اور رات سمجھایا مگر قوم نے کھلے لفظوں میں ان کی دعوت ماننے سے انکار کردیا۔ جس کے نتیجے میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان الفاظ میں اپنے رب کے حضور فریاد کی۔
حضرت نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو دن اور رات، جلوت اور خلوت میں اللہ کی طرف بلاتے رہے مگر قوم نے کہا کہ تیرے کہنے پر وَدّ ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو نہیں چھوڑ سکتے۔ یاد رہے یہ اس قوم کے سب سے بڑے بت تھے اور اس قوم کے فوت شدہ بزرگوں کے تخیلاتی مجسمے تھے جو انہوں نے ان کی یاد میں بنائے ہوئے تھے۔ قوم نے نوح (علیہ السلام) کو یہ بھی دھمکی دی کہ اگر…
Read the full tafseer →21 : قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّھُمْ عَصَوْنِیْ (نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار ان لوگوں نے میرا کہنا نہیں مانا) جو کہ میں نے ان کو حکم دیا کہ ایمان لائو اور استغفار کرو۔ وَاتَّبَعُوْا (اور انہوں نے پیروی کی فقراء اور کمینے لوگوں نے) مَنْ لَّمْ یَزِدْہُ مَالُہٗ وَوَلَدُہٗ (کہ جن کے مال اور اولاد نے زیادہ پہنچایا) رؤساء اور مالدار اور اولادیں۔ اِلَّا خَسَارًا (نقصان) آخرت میں۔
قراءت : عاصم کے علاوہ عراقی اور مکی نے وَوُلْدُہٗ پڑھا ہے جو کہ وَلَدْ کی جمع ہے جیسے اُسْدٌ و اَسَد۔
Read the full tafseer →20 ۔” لتسلکوا منھا سبلا فجاجا “ کشادہ راستوں پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
21۔ 24۔ یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دوسری شکایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اس قوم کے صاحب مال اور صاحب اولاد لوگوں نے اس قوم کو یہ بہکا رکھا ہے کہ اگر ہم حق پر نہ ہوتے تو یہ نعمتیں ہم کو کیونکر ملتیں۔ اس لئے تم اپنے بتوں کی پوجا ہرگز نہ چھوڑ۔ ان مال دار لوگوں کے اس بہکاوے کو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کا بڑا مکر اور بڑا دائوں کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ ان کے مال اور اولاد نے بھی ان کو یہ ایک بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے کہ مال و اولاد کے غرور کے سبب سے بھی وہ خود بھی راہ پر نہیں آتے اور دوسروں کو بھی مال و اولاد کے حیلہ سے بہکاتے ہیں پھر شکایت کی کہ یا اللہ ان بتوں کے سبب سے تیری بہت سی…
Read the full tafseer →(قال نوح) نوح نے اپنے رب کے حضور شکوہ کرتے ہوئے عرض کیا کہ ان کے اندر اس کلام اور وعظ و نصیحت نے کوئی فائدہ نہیں (رب انھم عصونی) اے میرے رب انہوں نے ان تمام امور میں میری نافرمانی کی ہے جن کا میں نے ان کو حکم دیا ہے۔ (واتبعوہ من لم یزدہ مالہ وولدہ الاخسارا) یعنی انہوں نے خیرخواہی کرنے اور بھلائی کی طرف راہ نمائی کرنے والے رسول کی نافرمانی کی اور ان بڑے لوگوں اور اشراف کی پیروی کی جن کو ان کے مال اور اولاد نے خسارے میں ڈالا، یعنی ان کو ہلاکت میں مبتلا کیا اور منافع سے محروم کردیا تب اس شخص کا کیا حال ہوگا جس نے ان کی اطاعت کی اور ان کے احکام پر عمل کیا۔
Read the full tafseer →20 ۔ حضرت نوح کی شکایت اپنے رب کے حضور : سو اس سے حضرت نوح کی اپنے رب کے حضور اپنی قوم کے بارے میں درد بھری شکایت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی اس ناہنجار اور بدبخت قوم کے بارے میں اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ ان لوگوں نے میری نافرمانی کر کے اپنے بڑوں کی بات مانی۔ اور انہوں نے میری دعوت و پکار سے منہ موڑ کر ان کی پیروی کئی جن کے جانوں اور ان کی اولادوں نے ان کے لئے اضافہ نہیں کیا مگر خسارے اور نقصان کا یعنی میری یہ قوم اپنے ان رئیسوں، مال داروں، اور سرداروں کے پیچھے چل پڑی جو نور حق و ہدایت سے محروم ہیں اور ان کے مال و اولاد ان کے لئے سو حضرت نوح نے عرض کیا کہ اے میرے رب میں نے اپنی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–28
اللہ کی نعمتیں
تشریح : کائنات کی ترتیب اس کا نظام سب کا سب حیرت انگیز پر آسائش اور ناقابل فہم ہے۔ گو کہ سائنس دان تحقیق و جستجو میں لگے رہتے ہیں اور جو قرآنی آیات کی روشنی میں تحقیق کرتے ہیں وہی مسلم سائنس دان زیادہ کامیاب رہے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ علم الافلاک فزکس، حیاتیات، بیالوجی وغیرہ وغیرہ تاریخ کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ تمام علوم کی جڑیں مکمل طور پر مسلم سائنس دانوں کے کئے ہوئے کاموں ہی سے نکلتی ہیں۔ مثلاً ابن عربی، جابر خراسانی، ابن سینا وغیرہ ایک عام انسان کے لئے اور ایک خاص انسان کے لیے آسمانوں کا ذکر چاند، سورج اور زمین کا ذکر انسان کی پیدائش، مرجانا زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
آیات 21 تا 28۔
اسرار معارف۔
لہذا پوری محنت شاقہ کے بعد نوح (علیہ السلام) نے ناامید ہوکردعا فرمائی کہ اے اللہ یہ میری بات نہیں مانتے اور ایسے کام کرتے ہیں جس میں عذاب کا خطرہ اور جان ومال کا نقصان ہے اور میرے خلاف میرے لائے ہوئے نظام کے خلاف بڑی بڑی سازشیں کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو تلقین کرتے ہیں کہ اپنے ، ود ، سواع ، یعوث ، یعوق ، اور نسر بت کو مت چھوڑ کہا گیا ہے کہ یہ پہلے گزرنے والے نیک لوگ تھے جن کے انہوں نے بت بنارکھے تھے لہذا یہ گمراہی میں حد سے گزرچکے تھے اب ان کو اس گمراہی کی ذلت میں دھنسا دے چناچہ اپنے گناہوں کے باعث غرق کردیے گئے اور آگ میں داخل ہوئے انہیں اللہ کے مقابلے میں کوئی…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی مجھے چھوڑ کر اپنے ان سرکش سرداروں اور مالداروں کی پیروی کرتے ہیں جنہیں ان کے مال و دولت اور اولاد نے آخرت سے اندھا کر رکھا ہے اور اس بنا پر وہ سخت نقصان میں پڑے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →(71:21) رب : ای یا ربی۔
انھم : ہم ضمیر جمع مذکر غائب حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے افراد کی طرف راجح ہے۔
عصونی : عصوا ماضی جمع مذکر غائب معصیۃ وعصیان (باب ضرب) مصدر سے انہوں نے نافرمانی کی۔ انہوں نے اطاعت نہ کی، انہوں نے کہنا نہ مانا۔ عصوا اصل میں عصیوا تھا۔ ی متحرک ماقبل مفتوح ی کو الف سے بدلا۔ اجتماع ساکنین کی وجہ سے الف کر گرا دیا گیا۔ عصوا ہوگیا۔ ن وقایہ اور ی ضمیر واحد متکلم انہوں نے میرا کہنا نہ مانا۔
واتبعوا من لم یردہ مالہ وولدہ الاخسارا : واؤ عاطفہ، اتبعوا فعل بافاعل من موصولہ، مفعول اتبعوا کا۔ لم یزدہ ۔۔ الخ صلہ۔ اتبعوا ماضی جمع مذکر غائب اتباع (افتعال) مصدر۔ انہوں نے اتباع کی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–28
لغات القرآن۔
لم یزد۔ نہیں بڑھایا۔ استغشوا۔ انہوں نے لپیٹ لئے۔ اصروا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ ضد کی۔ جھار۔ پکار پکار کر۔ اسررت۔ میں نے چپکے چپکے کہا۔ مدرار۔ لگاتار ۔ وقار ۔ عزت۔ بڑائی۔ اطوار۔ طرح طرح۔ بساط۔ بچھونا۔ کبار۔ بڑی بات۔ لاتذرن۔ نہ چھوڑنا۔ لا تذر۔ نہ چھوڑ۔ دیار۔ گھر۔ چلتا پھرتا۔ لا یلدوا۔ نہ جنیں گے۔ تبار۔ تباہی۔
تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کے بع دنبی تو بہت سے آئے لیکن وہ نبی جن کو سب سے پہلے رسالت سے نوازا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے۔
فرمای ایا نوح انت اول الرسل الی الارض۔ یعنی اے نوح تو زمین پر سب سے پہلا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–24
حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت کا ذکر۔
(ف 1) اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح کو جس طرح اللہ کا حکم تھا اس کے موافق حضرت نوح نے نو سو برس تک ان کو سمجھاتے رہے جب امید کی کوئی سورت باقی نہ رہی تو مایوس اور تنگ دل ہوکربارگاہ الٰہی میں عرض کیا یا اللہ میں نے اپنی طرف سے دعوت تبلیغ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا رات کی تاریکی اور دن کے اجالے میں برابر ان کو تیری طرف بلاتا رہا، مگر نتیجہ یہ ہوا کہ جوں جوں تیری طرف آنے کو کہا گیا یہ بدبخت اور زیادہ ادھر سے منہ پھیرکربھاگے اور جس قدر میری طرف سے شفقت ودل سوزی کا اظہار ہوا ان کی جانب سے نفرت اور بےزاری بڑھتی گئی سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوں نے میری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
[4] یہ ان کے بتوں کے نام ہیں جنہیں وہ پوجتے تھے۔ بت تو ان کے بہت تھے مگر یہ پانچ ان کے نزدیک بڑی عظمت والے تھے۔ یہ بت قوم نوح سے منتقل ہو کر عرب میں پہنچے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
ف 1: فرمایا حقیقت یہ ہے ۔ کہ تم جو دین کو نہیں مانتے ہو اور اس طرح کے خیالات کی اشاعت کرتے ہو ۔ تو محض اس لئے کے تمہارے دلوں میں اللہ کے لئے عزت واحترام کا جذبہ نہیں ہے اس کے بعد اس کی قدرتوں اور حکمتوں کو بیان کیا ہے ۔ کہ دیکھو خود تم کو اس نے بنایا ہے ۔ آسمان تو کس طرح اوپر تلے پیدا کیا ہے ۔ اور پھر اس میں جاندار سورج کو کس طرح آویزاں کیا ہے ۔ کہ وہ ضیا بخش عالم ہیں ۔ تم کو زمین کے اجزاء سے پیدا کیا ہے ۔ پھر زمین ہی میں مرنے کے بعد لیجایا جائے گا ۔ اور پھر دوبارہ اس زمین میں سے اٹھائیگا ۔ یہ کتنی عبرت انگیز بات ہے ۔ دیکھو یہ محض اللہ کی ۔ عنایت ہے ۔ کہ اس نے زمین کو اتنی وسعت کے باوجود…
Read the full tafseer →(21) حضرت نوح (علیہ السلام) نے عرض کی اے میرے پروردگار ان لوگوں نے یعنی میری قوم نے میرا کہا نہ مانا اور انہوں نے ایسے لوگوں کی پیروی کی اور ان کے کہنے پر چلے جن کے مال اور اولاد نے ان کے نقصان اور خسارے میں اضافہ ہی اضافہ کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
ف 2۔ مراد ان شخصوں سے روس اس ہیں جن کا عوام اتباع کرتے ہیں، اور مال اور اولاد کا ان روسا کو نقصان پہنچانا بایں معنی ہے کہ مال و اولاد سبب زیادت طغیان کا ہوگیا۔
Read the full tafseer →نوح (علیہ السلام) کی شکایت بدرگاہ قاضی الحاجات کہ انہوں نے میرا کہا نہیں مانا
21 ؎ نوح (علیہ السلام) نے قوم کو سمجھانے میں اپنا پورا زور صرف کیا اور صبر و ثبات کی انتہا کردی لیکن قوم بھی ایسی اکڑ تھی کہ اس نے بھی نہ ماننے اور ضد کرنے میں آخری انتہا کو ہاتھ لگا دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نوح (علیہ السلام) نے اپنے بھیجنے والے رب کو بلا لیا اور مخاطب کرتے ہوئے اس طرح اپنی عرضداشت سنائی کہ اے میرے رب ! میری قوم کے لوگوں نے میری نافرمانی کی ، تو نے مجھے اپنا رسول اور ایلچی بنا کر یا یوں کہیے کہ سفیر بناکر بھیجا تھا۔ ان کو چاہئے تھا کہ وہ بغیر کسی لیت و لعل کے مجھے تسلیم کرلیتے لیکن انہوں نے میری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–22
لَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّـهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا
(Did you not see how Allah has created seven heavens one upon another, and has made the moon a light therein? ....71:15-16)
These verses are adduced as proof positive of Divine Oneness and His power. He has created seven heavens, one on top of the other, and placed the moon as a light in them. The prepositional phrase in the verse apparently indicates that the moon is placed in the body of the heavens. The subject is fully discussed in Surah Al-Furqan under the following verse:
تَبَارَكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
15 Here, the creation of man out of the substances of the earth has been compared to the growth of vegetation. Just as at one time there was no vegetation on the earth, then Allah caused it to grow, so at one time man did not exist, then Allah created him.
Read the full tafseer →