Al-Haaqqa 69:50

Al-Haaqqa · from ayah 50

69:50

وَاِنَّهٗ لَحَسْرَةٌ عَلَی الْكٰفِرِیْنَ ۟وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ

نیز یہ کافروں کے لئے (موجب) حسرت ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed, it will be [a cause of] regret upon the disbelievers.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa

All translations of 69:50

ایسے کافروں کے لیے یقیناً یہ موجب حسرت ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

نیز یہ کافروں کے لئے (موجب) حسرت ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک (یہ جھٹلانا) کافروں پر حسرت ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ (قرآن) ایسے کافروں کے لیے حسرت کا سبب ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک وہ کافروں پر حسرت ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور واقعی یہ کافروں کے لئے (موجبِ) حسرت ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بیشک وہ یقینا کافروں کے لیے حسرت (کا باعث) ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور بلاشبہ یہ کافروں کے لئے باعث حسرت ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ کافروں کے لیے موجب حسرت ہو گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ یہ (کلام حق) قطعی طور پر حسرت (و یاس) ہے کافروں کے لئے

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ (قرآن) کافروں کے حق میں موجب حسرت ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یقینا یہ کافروں کے لیے حسرت کا باعث بن جائے گا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

نیز یہ کافروں کے لیے موجب حسرت ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and surely it will be a cause of regret for the unbelievers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And surely, it is a cause of remorse for the disbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani

And surely, it is a cause of remorse for the disbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed it will be an anguish for the disbelievers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And lo! it is indeed an anguish for the disbelievers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And indeed, it will be [a cause of] regret upon the disbelievers.

— Saheeh International

and (on the Day of Judgment) this will be a great source of regret for the unbelievers.

— Muhammad Sarwar

And most surely it is a great grief to the unbelievers.

— Muhammad Habib Shakir

And verily it shall be an occasion of anguish Unto the infidels.

— Abdul Majid Daryabadi

But truly (Revelation) is a cause of sorrow for the Unbelievers.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 69:50

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 44–52

ہدایت اور شفا قرآن حکیم یہاں فرمان باری ہے کہ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کردیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے یعنی اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آسکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے، پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب ﷺ سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لئے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ ﷺ کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ ﷺ کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 50–52

سورة الْحَآقَّة 27 یعنی آخر کار انہیں اس بات پر پچھتانا پڑے گا کہ انہوں نے کیوں اس قرآن کی تکذیب کی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 44–51

(آیت) وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا الخ، تقول کے معنی بات گھڑنے کے ہی اور وہ تین قلب سے نکلنے والی وہ رگ ہے۔ جس سے روح جسم انسانی میں پھیلتی ہے اس کے قطع کردینے سے موت فوراً واقع ہوجاتی ہے۔ سابقہ آیات میں کفار مکہ کے اس بےہودہ خیال کا رد کیا گیا تھا، کوئی آپ کو شاعر اور آپ کے کلام کو شعر کہتا تھا، کوئی آپ کو کاہن اور کلام کو کہانت کہتا تھا۔ کاہن وہ شخص ہوتا ہے جو کچھ شیاطین سے خبریں پا کر کچھ نجوم کے اثرات سے معلوم کرنے کے آنے والے واقعات میں اٹکل بچو باتیں کیا کرتا تھا۔ غرض آپ کو اشعر یا کاہن کہنے والوں کے الزام کا حاصل یہ تھا کہ آپ جو کلام سناتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے نہیں، آنحضرت ﷺ نے خود اپنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی آج تو اس کی تکذیب کر رہے ہیں اور اپنے اس کارنامے پر بہت مگن ہیں لیکن عنقریب وہ دن بھی آنے والا ہے جب یہ کافروں کے لیے سبب حسرت بنے گا اور وہ اپنی بدبختی پر اپنے سر پیٹیں گے کہ انھوں نے اس کی تکذیب کر کے کیوں اپنی یہ شامت بلائی!

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

50۔ 1 یعنی قیامت والے دن اس پر حسرت کریں گے، کہ کاش ہم نے قرآن کی تکذیب نہ کی ہوتی۔ یا یہ قرآن بجائے خود ان کے لئے حسرت کا باعث ہوگا، جب وہ اہل ایمان کو قرآن کا اجر ملتے ہوئے دیکھیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 50–52

11: یعنی آخرت میں جب عذاب ان کے سامنے آئے گا تو انہیں حسرت ہوگی کہ کاش ہم قرآن کریم پر ایمان لے آئے ہوتے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وانہ .................... الکفرین (96 : 05) ” ایسے کافروں کے لئے یہ یقینا موجب حسرت ہے “۔ اس لئے کہ یہ قرآن اہل ایمان کی تو شان بلند کرتا ہے جبکہ تکذیب کرنے والوں کی حیثیت کو گراتا ہے اور آخر کار تو حق نے غالب ہونا ہے۔ اور مکذبین نے ذلیل ہونا ہے۔ عنقریب ایسا ہوگا اور پھر ان کے لئے یہ موجب حسرت ہوگا اور قیامت کے دن بھی ان پر یہ حجت ہوگا اور موجب حسرت ہوگا کیونکہ تکذیب کی وجہ سے ان کو سخت عذاب دیا جائے گا۔ لہٰذا دنیا اور آخرت دونوں میں ان کے لئے موجب حسرت ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 48–50

1 یعنی خدا سے ڈرنے والے اس کلام کو سن کر نصیحت حاصل کریں گے اور جن کے دل میں ڈر نہیں وہ جھٹلائیں گے لیکن ایک وقت آنے والا ہے کہ یہ ہی کلام اور ان کا یہ جھٹلانا سخت حسرت و پیشمانی کا موجب ہوگا۔ اس وقت پچھتائیں گے کہ افسوس کیوں ہم نے اس سچی بات کو جھٹلایا تھا جو آج یہ آفت دیکھنی پڑی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 50{ وَاِنَّہٗ لَحَسْرَۃٌ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ۔ } ”اور یقینا یہ کافروں کے لیے حسرت کا باعث بن جائے گا۔“ ایک وقت آئے گا جب قرآن ان جھٹلانے والوں کے لیے حسرت اور پچھتاوے کا سبب بن جائے گا۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے : اَلْـقُرْآنُ حُجَّۃٌ لَکَ اَوْ عَلَیْکَ 1۔ کہ یہ قرآن حجت ہے تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف۔ اگر تو تم اس کے حقوق ادا کرو گے ‘ اس پر ایمان لائو گے ‘ اسے اپنا امام بنا کر اس کے پیچھے چلو گے اور اس کا پیغام دوسروں تک پہنچانے کا اہتمام کرو گے تو یہ قیامت کے دن تمہاری شفاعت کرے گا اور اگر تم اس کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرو گے تو قیامت کے دن یہ تمہارے خلاف گواہ بن کر کھڑا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 49–50

26 یعنی جو لوگ غلط روی اور اس کے برے نتائج سے بچنا چاہتے ہیں وہ تو یقیناً اس قرآن سے نصیحت حاصل کریں گے۔ اور جن لوگوں کو اپنی اصلاح کی فکر ہی نہیں یا وہ اس کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے وہ قرآن کو نہ اللہ کا کلام سمجھتے ہیں اور نہ اس سے نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ لیکن ایک وقت آنے والا ہے جب وہ اپنے رویہ پر سخت نادم ہوں گے اور ان کا قرآن کو جھٹلانا ان کے لئے سخت حسرت و پشیمانی کا موجب ہوگا۔ لیکن اس وقت پچھتانے کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 49–50

20۔ اس معنی میں کہ وہ اس کی تکذیب کریں گے۔ اور اس طرح وہ ان کے حق میں بالواسطہ سبب تعذیب بن جائے گا)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 44–52

ولو تقول علینا بعض الاقاویل مطلب یہ کہ نبی ﷺ کو اپنی طرف سے وحی میں کسی کمی بیشی کا اختیار نہیں ہے، اور اگر وہ ایسا کرے تو ہم اس کو سخت سزا دیں، بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ غلط استدلال کیا ہے کہ جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے اس کی شہ رگ فوراً نہ کاٹ ڈالی جائے تو یہ اس کے نبی ہونے کا ثبوت ہے، حالانکہ اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ سچے نبی ﷺ کے بارے میں ہے کہ وہ بھی اگر ایسا کریں تو سخت قبل مؤاخذہ ہوں گے نہ کہ جھوٹے مدعی نبوت کے بارے میں جو کہ سراسر ظالم و گناہگار ہیں۔ تمت

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانہ لحسرۃ علی الکافرین . جب نصیحت اندوز اہل ایمان کے ثواب کو کافر دیکھیں گے اس وقت یہ قرآن اُن کے لیے حسرت آفریں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 49–50

(49۔ 50) اور ہمیں معلوم ہے کہ تم میں بعض قرآن حکیم کو جھٹلانے والے ہیں اور بعض تصدیق کرنے والے اور یہ قرآن کافروں کے حق میں قیامت کے دن موجب حسرت ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(وانہ لحسرۃ…یعنی یہ جھٹلانا کفار کے لئے باعث حسرت ہوگا، یا یہ قرآن کفار کے لئے باعث حسرت و افسوس ہوگا کہ انہوں نے اسے کیوں جھٹلایا۔ دوسری جگہ فرمایا :(ربما یوذ الذین کفروا لو کانوا مسلمین) (الحجر : 2)”بہت بار کافر آرزو کریں گے کہ کاش ! وہ کس طرح کے مسلم ہوتے۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 49–50

وانا لنعلم ان منکم مکذبین۔ ربیع نے کہا، قرآن کو جھٹلانے اولے ہیں (1) وانہ لحسرۃ ضمیر سے مراد تکذیب ہے، حسرت سے مراد ندامت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : قیامت کے روز قرآن کافروں کے لئے حسرت ہوگا جب وہ مومنوں کا ثواب دیکھیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ دنیا میں ان کے لئے حسرت ہوگی جب وہ معاوضہ پر قادر نہ ہونگے جب انہیں چیلنج کیا گیا کہ وہ قرآن کی مثل کوئی سورت لے آئیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 50–52

23۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانہ لتذکرۃ اور بلاشبہ وہ نصیحت ہے۔ یعنی آپ کے لیے آیت وانہ لحسرۃ اور یہ بات کفار کے لیے باعث حسرت ہوگی آیت وانہ لحق الیقین اور بیشک یہ قرآن یقیناً حق ہے۔ 24۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانہ لتذکرۃ للمتقین اور بیشک وہ تو پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ہے۔ یعنی یہ قرآن آیت وانہ لحسرۃ علی الکفرین اور بیشک وہ کفار پر باعث حسرت ہے۔ یعنی قیامت کے دن کافروں کے لیے حسرت کا باعث ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاِنَّهٗ : اور بیشک یہ (جھٹلانا) ضرور ][ لَحَسْرَةٌ: ایک حسرت ہوگا ][ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ : انکار کرنے والوں پر ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

سادساً یہ فرمایا ﴿ وَ اِنَّهٗ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ 0050﴾ (اور بلاشبہ یہ قرآن کافروں کے لیے بہت بڑی حسرت کا سبب ہے) جب قیامت کے دن اہل ایمان کو قرآن کے ماننے اور اس پر ایمان لانے کی وجہ سے اور اس کے مطابق اعمال اختیار کرنے کی وجہ سے ثوب ملے گا اور جنت کی نعمتوں سے مستفید اور منتفع ہوں گے اس وقت کافروں کو حسرت ہوگی اور خیال ہوگا کہ ہائے كاش ہم نے بھی قرآن کو مان لیا ہوتا اور عذاب سے بچ جاتے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–52

بیان عظمت کلام الہی وحقانیت وصداقت قرآن کریم : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فلا اقسم بما تبصرون ....... الی ....... فسبح باسم ربک العظیم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں اہل سعادت وشقاوت اور انکے احوال کا ذکر تھا اور بالخصوص مجرمین کی سزا اور قیامت کی شدت اور عرش الہی سے تمام فیصلوں کے نفاذ کا بیان تھا تو ممکن تھا کہ کوئی ملحد اور منکر ان باتوں کو سن کر یہ کہنے لگے کہ یہ تو شاعرانہ مبالغہ آرائی یا کاہنوں کی باتیں ہیں تو اس کے ازالہ اور رد کے لیے اب ان آیات میں قرآنی عظمت کا بیان ہے اور یہ کہ جو کچھ وحی الہی سے کہا گیا وہ رسول کریم ﷺ کا قول اور اللہ کا پیغام ہے اس میں ذرہ برابر مبالغہ یا استعارہ ومجاز کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 50–52

16:۔ ” وانہ لحق الیقین “ یہ قرآن ایسا یقینی ہے کہ اس میں کسی شک و ریب کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ اس کے مضامین نہایت محکم اور دلائل نہایت پختہ ہیں۔ ” فسبح باسم ربک العظیم “ یہ سورت کا دعوی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہر عیب سے اور ہر نوع شرک سے تنزیہ و تقدیس کرو اور اس کے سوا کسی کو برکات دہندہ نہ سمجھو۔ سورة الحاقہ کی خصوصیت۔ 1 دعوی تبارک کو نہ ماننے والوں کے لیے تخویف اخروی۔ 2 ۔ اللہ تعالیٰ کے سچے پیغمبر خدا پر افترا نہیں کرتے سورة الحاقہ ختم ہوئی

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 38–52

گذشتہ سے پیوستہ : سورۃ الحاقہ کے پہلے رکوع میں قیامت کا ذکر ہے۔ آخری آیتوں میں بنیادی عقائد کا بیان ہے منجملہ ان کے رسالت اور نبوت کا ذکر ہے۔ جس طرح کفار قیامت کا انکار کرتے تھے۔ اسی طرح حضور ﷺ السلام کی نبوت اور رسالت کے منکر تھے۔ پہلے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ بھی اسی قسم کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جب کہ لوگ ان کی تکازیب کرتے تھے۔ یہ لوگ نہ صرف پیغمبر کا انکار کرتے تھے۔ بلکہ وحی الہٰی اور اس کے لانے والے فرشتے کا بھی انکار کرتے تھے۔ کہتے تھے کہ یہ اپنے پاس سے باتیں گھڑ کر لایا ہے۔ خدا کا پیغام نہیں ہے۔ بعض شاعر اور کاہن کا خطاب دیتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ یہ غیب کی خبریں بتاتے ہیں۔ اور سچ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنَّہٗ لَحَسْرَۃٌ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ۝ 50 لام اللَّامُ التي هي للأداة علی أوجه : الأول : الجارّة، وذلک أضرب : ضرب لتعدية الفعل ولا يجوز حذفه . نحو : وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ [ الصافات/ 103] . وضرب للتّعدية لکن قدیحذف . کقوله : يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ [ النساء/ 26] ، فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً [ الأنعام/ 125] فأثبت في موضع وحذف في موضع . الثاني : للملک والاستحقاق، ولیس نعني بالملک ملک العین بل قد يكون ملکا لبعض المنافع، أو لضرب من التّصرّف . فملک العین نحو : وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّماواتِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 38–52

ترکیب : فلا اقسم قیل لامزیدۃ اوفلار ولانکارھم البعث ثم اقسم وقیل نافیۃ للقسم کانہ قال لا اقسم علی ان القرآن قول رسول کریم لظہورالامر واستغنائـہ عن التحقیق بالقسم انہ لقول الخ جواب القسم مؤکد بان واللام والا سمیّہ۔ وماھوالخ الجملۃ تاکید لقولہ انہ لقول رسول کریم قلیلا ما زائدۃ للتاکید ولابقول کا ھن عطف علیٰ قولہ بقول شاعر۔ تنزیل خبر متبدء ھو تنزیل تقول قرء الجمہور مبیناً للفاعل والتقول تکلف القول والافتراء والاقاویل جمع اقوال جمع قول کا بابیت جمع ابیات جمع بیت والاقوال المفتراۃ اقاویل تحقیر الھا لاخذنا جواب لوحاجزین وصف لاحد فانہ عام لکونہ نکرۃ واقعۃ فی سیاق النفی۔ حق الیقین من اضافۃ الصفۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِنَّـہٗ لَحَسْرَۃٌ عَلَی الْـکٰفِرِیْنَ ۔ (الحآقۃ : 50) (اور بیشک وہ کافروں پر حسرت کا باعث ہوگا۔ ) یعنی آج یہ لوگ اپنے رویئے اور آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کی مخالفت پر بہت خوش ہیں لیکن وہ وقت دور نہیں۔ جب ان کا یہ رویہ ان کے لیے حسرت کا سبب بن جائے گا اور وہ اپنی بدبختی پر ماتم کرتے ہوئے کہیں گے کہ کاش ہم نے اس دین کی تکذیب نہ کی ہوئی ہوتی۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 49–52

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے ایک اور الزام کی تردید۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اور رسول کریم کے بارے میں کفار کے ہر الزام کا مدلّل جواب دیا لیکن اس کے باوجود کفار قرآن مجید کو کلام الٰہی اور حضرت محمد ﷺ کو اللہ کا رسول ماننے کو تیار نہ تھے۔ اس پر ارشاد ہوا کہ قرآن اور آپ پر الزامات لگانے والے جھوٹے ہیں۔ انہیں اس بات پر یقین ہونا چاہیے کہ ایک وقت آئے گا کہ جب جھٹلانے اور انکار کرنے والوں کو بڑی حسرتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس فرمان سے یہ بھی ثابت ہوا کہ قرآن اور نبی ﷺ پر الزامات لگانے والے کافر ہیں، کیونکہ قرآن مجید ہر اعتبار سے حق اور سچ ہے اس پر آپ ﷺ اور آپ کے متبعین کو اپنے عظیم رب کی تسبیح…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

50 : وَاِنَّہٗ (اور بیشک وہ قرآن) لَحَسْرَۃٌ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ (کافروں کے حق میں موجب حسرت ہے) کافرین سے قرآن کا انکار کرنے والے تکذیب کرنے والے جب تصدیق کرنے والوں کے ثواب کو دیکھیں گے تو حسرت سے ہاتھ کاٹیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 49–50

48 ۔” وانہ “ یعنی قرآن۔ ” لتذکرۃ للمتقین “ یعنی نصیحت ہے اس کے لئے جو اللہ کی سزا سے ڈرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 44–52

44۔ 52۔ جس طرح اوپر گزرا کہ اہل مکہ قرآن کر شاعر یا کاہن کا کلام کہتے تھے اسی طرح وہ لوگ ایک بات یہ بھی کہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے دل سے یہ باتیں جوڑ لی ہیں جن باتوں کو انہوں نے کلام الٰہی مشہور کیا ہے اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں دیا اور فرمایا کہ غیب سے اس دین کی دن بدن مدد ہوتی چلی جاتی ہے دن بدن یہ دین ترقی پکڑتا جاتا ہے اس سے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ رسول ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے کیونکہ صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک جو مدد غیبی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی فرمائی ہے وہی مدد رسول کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وانہ لحسرۃ علی الکافرین) ۔ اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے، چونکہ انہوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انہوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انہوں نے اس سے رہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہوگئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

42 قرآن حکیم کافروں کیلئے باعث حسرت : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ قطعی طور پر حسرت ہے کافروں کیلئے۔ ایسی بڑی حسرت کہ یہ اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائیں گے کما قال تعالیٰ ۔ " یوم یعض الظالم علی یدیہ " (الفرقان :27) مگر اس وقت کے اس پچھتاوے سے ان لوگوں کو حسرت و یاس میں اضافے کے سوا اور کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو آج تو اس کو جھٹلانے والے اپنے طور پر بڑے مست و مگن ہیں مگر وقت آنے پر ان کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کتنی بڑی حسرت اور محرومی کا سامان کر رہے تھے ‘ اور مارے افسوس کے وہ اپنے سر پیٹیں گے ‘ اور اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائیں گے ‘…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 38–52

قرآن مجید کے کلام الٰہی ہونے کا ثبوت تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ قرآن کی سچائی معقولیت اور لاجواب کتاب ہونے پر قسم اٹھاتا ہے یہ قسم بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اٹھائی جا رہی ہے۔ یہاں کائنات میں موجود ہر اس چیز کی قسم کھائی گئی ہے جو ہماری نظروں کے سامنے واضح صورت میں موجود ہیں اور ان چیزوں کی بھی جو بیشمار مختلف صورتوں میں کائنات میں ہر طرف موجود ہیں اور ابھی تک کوئی محقق ان کو نہ دیکھ سکا ہے نہ ان کی وضاحت ہی کرسکا ہے۔ کہ قرآن پاک الہ العٰلمین کا کلام ہے معزز ترین فرشتے سیدناجبرائیل (علیہ السلام) کی زبان سے رسول کریم ﷺ تک پہنچایا گیا ہے۔ اور اس میں کوئی شک و شبہ یا تحریف و ترمیم ہرگز نہیں کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 38–52

آیات 38 تا 52۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان چیزوں کی جو تمہیں دکھائی دیتی ہیں اور ان کی جو تم نہیں دیکھ سکتے کہ کائنات کی ہر شے اور ہر طاقت اس پر گواہ ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے جو ایک معزز فرشتے کے ذریعہ سے اللہ کے برحق رسول پہ نازل ہوا یعنی قرآن نے دیکھے ان دیکھے نتائج کے لیے بھی ایساجامع نظام حیات دیا کہ عقیدے عبادت سے لے کر عمل تک دنیا کے ہر خطے ہرموسم اور ہر قوم کے لیے بہترین نتائج پیدا کرتا ہے ظاہر ابھی جو نظر آتے ہیں اور باطلا بھی جو حقائق فی الحال نگاہ سے اوجھل ہیں اور آخرت میں سامنے آئیں گے بھلا ایسا کامل ومکمل نظام بجز اللہ کے کون دے سکتا ہے۔ یہ سب اس بات پر گواہ ہے کہ فرشتے کا لایا ہوا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 14 یعنی جب وہ قیامت کے دن اپنے برے اور اہل ایمان کے اچھے انجام کو دیکھیں گے تو حسرت کریں گے کاش ہم بھی اگر قرآن پر ایمان لے آتے تو آج اس برے انجام سے دوچار نہ ہوتے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(69:50) وانہ لحسرۃ علی الکفرین : واؤ عاطفہ، ان حرف مشبہ بالفعل بیشک ، ہ کا مرجع قرآن مجید ہے لام تاکید کا۔ اور بیشک یہ قرآن باعث حسرت ہوگا کفار کے لئے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–52

لغات القرآن۔ الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں) رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔ دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 44–52

(ف 1) شان نزول : نسائی ، تفسیر ابن حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نضر بن حارث اور قریش میں کے سرکش لوگوں نے جب اللہ سے عذاب کی خواہش کی اور یہ کہا کہ جو کچھ محمد ﷺ کہتے ہیں اگر وہ حق بات ہے اور ہم لوگ اس کو نہیں مانتے ہیں تو خدا کرے ہم لوگوں پر پتھر آسمان سے برسیں یا اور کوئی سخت عذاب ہم لوگوں پر نازل ہوجائے ، اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ہیں اور فرمایا کہ یہ قریش میں کے سرکش لوگ عذاب الٰہی کو دورگن کر اس طرح کی سرکشی باتیں کرتے ہیں مگر اللہ کے نزدیک پچھلی قوموں کی طرح نہ ان مشرکوں پر دنیا میں کوئی عذاب نازل کردینا ، کچھ دور ہے نہ عذاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 50–51

[17] موجب حسرت سے مراد یہ ہے کہ آخرت میں کافروں کو بڑا افسوس ہوگا کہ قرآن پر ایمان کیوں نہ لائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 48–52

ف 2: ان آیات میں قرآن کی صداقت اور حقانیت کے متعلق فرمایا ہے ۔ کہ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کی تشقی ایمان کا پورا پورا سامان موجود ہے ۔ جو پاکباز ہیں جس کے قلب و دماغ میں تعصی وجہل کی تاریکی نہیں ہے ۔ جو دیانتداری کے ساتھ اس کو سمجھنا چاہتے ہیں ۔ اور خلوص کے ساتھ حق کے خواستگار ہیں ۔ حل لغات :۔ قلیلا ماتومنون ۔ قلیل عربی میں ایسے مواقع پر بالعموم یا قیام کے معنے میں آتا ہے تقول ۔ افترا اور جھوٹ سیکام لے الوتین ۔ رگ ال والحق ثین ۔ یعنی قرآن ثبوت اور حقانفت میں اس مقام پر فائز ہے ۔ جہاں اولیٰ ترین شک بھی راہ نہیں پاسکتا ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 47–52

ف 9۔ رگ دل کاٹنے سے آدمی مرجاتا ہے، مراد اس سے قتل ہے، اور یہ کنایہ ہے اماتت سے نفسا یا حجة یعنی جھوٹا مدعی نبوت موید بالحجة نہیں ہوتا، بلکہ یا ہلاک ہوتا ہے یا ظہور کذب سے رسوا و ذلیل ہوتا ہے، پس مطلق اماتت کو اخذ یمین و قطع وتین سے تشبیہا تعبیر فرمادیا گیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور بلاشبہ جھٹلانا کافروں کے لئے موجب حسرت ہو گا 50 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ اور آپ ﷺ پر اتاری گئی نصیحت کو جھٹلانے والے کون ہیں ؟ قرآن کریم کی زبان میں ان کو کافر کہتے ہیں اگر انہوں نے بالکل تسلیم ہی نہیں کیا تو وہ کافر سے موسوم کئے جائیں گے اور اگر انہوں نے تسلیم کیا ہے اور اس کے باوجود مسلسل بےاعتنائی ہوت ہے تو ان کو منافق کہا جائے گا اور مان لینے اور کرلینے کے باوجود بعض اوقات اس میں کوتاہی کی گئی ہے تو یہ فسق ہے اور اللہ چاہے فاسق کو معاف کر دے اور چاہے اس کے فسق کے برابر اس کو سزا دے لیکن کفر اور نفاق دونوں کی سزا ایک ہی بتائی جا رہی ہے بلکہ منافق کی سزا بعض حالات میں کفر سے بھی زیادہ ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 44–51

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ ﴿44﴾ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ﴿45﴾ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ﴿46﴾ And had he forged some statements in Our name, We would have certainly seized him by the right hand, and then severed his life-astery,…(69:44-46) The word taqawwul means 'to forge, fabricate or concoct' and the word watin refers to 'aorta or life-artery'. This is the main artery that carries blood from the heart to other parts of the body. Once this artery is cut off, death occurs instantly. The foregoing verses refute the outrageous thoughts of the…

Read the full tafseer →