وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الْیَقِیْنِ ۟وَاِنَّهٗ لَحَـقُّ الۡيَقِيۡنِ
اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق قابل یقین ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And indeed, it is the truth of certainty.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz
وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الْیَقِیْنِ ۟وَاِنَّهٗ لَحَـقُّ الۡيَقِيۡنِ
اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق قابل یقین ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And indeed, it is the truth of certainty.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa
اور یہ بالکل یقینی حق ہے
اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق قابل یقین ہے
اور بیشک (و شبہ) یہ یقینی حق ہے
اور یہی وہ یقینی بات ہے جو سراسر حق ہے۔
اور بیشک وہ یقین حق ہے
اور بے شک یہ حق الیقین ہے،
اور بلاشبہ وہ یقینا ثابت شدہ یقین ہے۔
اور یقینا یہ بالکل حق ہے
اور بیشک یہ ایک حق یقینی ہے
اور بلاشبہ یہ قطعی طور پر یقینی حق ہے
اور یہ (قرآن) تحقیقی یقینی بات ہے۔
اور یقینا یہ (قرآن) بالکل یقینی حق ہے۔
اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق قابل یقین ہے۔
Certainly it is a Truth of absolute certainty.
And it is surely an absolute truth.
And it is surely an absolute truth.
And verily, it (this Qur'an) is an absolute truth with certainty.
And lo! it is absolute truth.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And indeed, it is the truth of certainty.
This is the Truth beyond any doubt.
And most surely it is the true certainty
And verily it is the truth of assured certainty.
But verily it is Truth of assured certainty.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 44–52
ہدایت اور شفا قرآن حکیم یہاں فرمان باری ہے کہ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کردیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے یعنی اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آسکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے، پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب ﷺ سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لئے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ ﷺ کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ ﷺ کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
سورة الْحَآقَّة 27 یعنی آخر کار انہیں اس بات پر پچھتانا پڑے گا کہ انہوں نے کیوں اس قرآن کی تکذیب کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–51
(آیت) وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا الخ، تقول کے معنی بات گھڑنے کے ہی اور وہ تین قلب سے نکلنے والی وہ رگ ہے۔ جس سے روح جسم انسانی میں پھیلتی ہے اس کے قطع کردینے سے موت فوراً واقع ہوجاتی ہے۔ سابقہ آیات میں کفار مکہ کے اس بےہودہ خیال کا رد کیا گیا تھا، کوئی آپ کو شاعر اور آپ کے کلام کو شعر کہتا تھا، کوئی آپ کو کاہن اور کلام کو کہانت کہتا تھا۔ کاہن وہ شخص ہوتا ہے جو کچھ شیاطین سے خبریں پا کر کچھ نجوم کے اثرات سے معلوم کرنے کے آنے والے واقعات میں اٹکل بچو باتیں کیا کرتا تھا۔ غرض آپ کو اشعر یا کاہن کہنے والوں کے الزام کا حاصل یہ تھا کہ آپ جو کلام سناتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے نہیں، آنحضرت ﷺ نے خود اپنے…
Read the full tafseer →یعنی یہ کوئی ہوائی بات نہیں بلکہ ایک حق یقینی ہے۔ یہ قرآن جس روز جزا و سزا سے خبردار کر رہا ہے وہ لازماً پیش آئے گا۔ ابتدائی آیات: ’الْحَاقَّۃُ ۵ مَا الْحَاقَّۃُ ۵ وَمَا اَدْرٰکَ مَا الْحَاقَّۃُ‘ (۱-۳) میں جو بات فرمائی ہے اسی کی یاددہانی سورہ کے خاتمہ پر ایک دوسرے اسلوب میں کر دی۔ گویا سورہ جس مضمون سے چلی تھی اسی کی یاددہانی پر ختم ہوئی۔ یہ اسلوب قرآن کی بیشتر سورتوں میں اختیار فرمایا گیا ہے اور یہ قرآن میں نظم کے وجود کی ایک واضح دلیل ہے۔
Read the full tafseer →51۔ 1 یعنی قرآن اللہ کی طرف سے ہونا بالکل یقینی ہے، اس میں قطعًا شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ یا قیامت کی بابت جو خبر دی جا رہی ہے، وہ بالکل حق اور سچ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
11: یعنی آخرت میں جب عذاب ان کے سامنے آئے گا تو انہیں حسرت ہوگی کہ کاش ہم قرآن کریم پر ایمان لے آئے ہوتے۔
Read the full tafseer →وانہ ............ الیقین (96 : 15) ” اور یہ بالکل یقینی حق ہے “۔ جھٹلانے والوں کے جھٹلانے کے باوجود یہ حق ہے۔ یقینی ہے۔ صرف یقینی نہیں بلکہ حق الیقین ہے۔ حق الیقین ایک خاص انداز کی تاکید ہے جو لفظاً بھی زور دار ہے اور معناً بھی تاکید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سچائی میں یہ گہرا ہے۔ یقین میں نہایت گہرا ہے اور جو کچھ اس میں بیان ہوا ہے یہ حق اور سچائی ہے۔ ایک ایک آیت میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا سرچشمہ خدا تعالیٰ ہے۔ یہ ہے اس دین کا مزاج اور طبیعت اور یقینی نتیجہ۔ نہ یہ شاعری ہے نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے۔ نہ یہ اللہ پر افتراء ہے۔ بلکہ یہ اللہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے اور یہ متقی لوگوں کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
2 یعنی یہ کتاب تو ایسی چیز ہے جس پر یقین سے بھی بڑھ کر یقین رکھا جائے کیونکہ اس کے مضامین سرتاپا سچ اور ہر طرح کے شک و شبہ سے بالاتر ہیں۔ لازم ہے کہ آدمی اس پر ایمان لا کر اپنے رب کی تسبیح وتحمید میں مشغول ہو۔
Read the full tafseer →آیت 51{ وَاِنَّہٗ لَحَقُّ الْیَقِیْنِ۔ } ”اور یقینا یہ قرآن بالکل یقینی حق ہے۔“ یہ ایسا یقین ہے جو سراسر حق ہے ‘ جس میں باطل کی ذرا ملاوٹ تک نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
27 حق الیقین، یقین کا آخری درجہ جو بار بار کے تجربوں کے بعد حاصل ہو۔ جیسے ہر جاندار کو بالآخر موت سے دوچار ہونا پڑے گا۔ یا کوئی جاندار کھانے پینے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ یا آگ کا کام جلانا ہے اور ایسی بیشمار حقیقتیں ہیں جن کے یقینی ہونے میں ذرہ بھر شبہ نہیں ہوتا۔ قرآن بھی ایسی ہی ایک ٹھوس حقیقت ہے اس کے مضامین سراپا سچ ہیں جو عقل اور تجربہ کی کسوٹی پر بھی پورے اترتے ہیں اور ہر طرح کے شک و شبہ سے بھی بالاتر ہیں۔ لہذا ہر شخص کو چاہیے کہ اس پر ایمان لا کر اس کے نازل کرنے والے کی تسبیح وتحمید میں مشغول رہے جس نے انہیں یہ گرانقدر نعمت عطا فرمائی ہے۔
Read the full tafseer →21۔ ابھی ابھی قرآن مجید کا وصف کمالی اضافی بیان ہوچکا ہے۔ یعنی یہ کہ وہ خدا ترسوں کے حق میں موجب نصیحت وہدایت ہے۔ اب اس کا وصف کمالی ذاتی بیان ہورہا ہے۔ یعنی وہ بجائے خود ایک متحقق وصادق کلام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–52
ولو تقول علینا بعض الاقاویل مطلب یہ کہ نبی ﷺ کو اپنی طرف سے وحی میں کسی کمی بیشی کا اختیار نہیں ہے، اور اگر وہ ایسا کرے تو ہم اس کو سخت سزا دیں، بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ غلط استدلال کیا ہے کہ جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے اس کی شہ رگ فوراً نہ کاٹ ڈالی جائے تو یہ اس کے نبی ہونے کا ثبوت ہے، حالانکہ اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ سچے نبی ﷺ کے بارے میں ہے کہ وہ بھی اگر ایسا کریں تو سخت قبل مؤاخذہ ہوں گے نہ کہ جھوٹے مدعی نبوت کے بارے میں جو کہ سراسر ظالم و گناہگار ہیں۔ تمت
Read the full tafseer →وانہ لحق الیقین . بلاشبہ قرآن حق الیقین ہے۔ یقین کا معنی ہے زوال شک (قاموس) صحاح میں جوہری نے لکھا ہے کہ یقین علم کی صفت ہے۔ معرفت سے اونچی قرآن کو یقین کہنا مبالغہ ہے جیسے زید عدل۔ زید انصاف ہے۔ یعنی قرآن یقینی ہے اور اتنا یقینی ہے کہ گویا عین یقین بن گیا۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن واضح ہے ‘ اس کے دلائل روشن ہیں ‘ اس میں کسی سمجھ دار کو شبہ نہیں ہوسکتا۔ ہر عقلمند کو اس کا یقین ہے۔ حق ‘ باطل کی ضد کو کہتے ہیں۔ صاحب سحر نے کہا ہے حق الیقین میں صفت کی موصوف کی جانب اضافت ہے۔ اصل میں الیقین الحق تھا یعنی قرآن یقین حق ہے باطل یقین نہیں۔ باطل یقین جہل مرکب ہوتا ہے۔ ایک شبہ یقین سے اس جگہ مراد وہی ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
(51۔ 52) اور یہ قرآن کریم تحقیقی اور یقینی بات ہے کیونکہ یہ میرا کلام ہے جس کو میں نے بذریعہ جبریل امین معزز و مکرم رسول پر اتارا ہے یا یہ کہ قیامت کے دن جو کافروں کے لیے حسرت و ندامت کا ذکر کیا ہے وہ قطعا اور یقینا ان پر ہوگی۔ سو آپ اپنے پروردگار کی نماز پڑھیے یا یہ کہ عظیم الشان پروردگار کی توحید کا ذکر کیجیے۔
Read the full tafseer →وانہ لحق الیقین :”حق“ جو ثابت ہو اور ”الیقین“ وہ بات جس میں کوئی شک نہ ہو۔ قرآن مجید سے یقین کے تین درجے معلوم ہوتے ہیں، پہلا علم الیقین ، وہ یقین جو خبر وغیرہ سے معلوم ہوجائے، جیسے فرمایا :(کلا لو تعلموکن علم الیقین، لترون الجحیم) (التکاثر، 5، 6)”ہرگز نہیں، کاش ! تم یقینی جاننا جان لیتے کہ تم ضرور جہنم کو دیکھو گے۔“ دوسرا عین الیقین ، وہ یقین جو آنکھوں کے دیکھنے سے حاصل ہو۔ آنکھوں سے دیکھی ہوئی بات کا یقین سنی ہوئی بات کے یقین سے قوی ہوتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(لیس الخبر کالمغاینۃ) (مسند احمد : 1/215، ج : 1832۔ صحیح الجامع الصغیر : 5382)”سنن ادیکھنے کی طرح نہیں۔“ ابراہیم ؑ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
وانہ لحق الیقین۔ قرآن عظیم اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل شدہ ہے وہ حق یقین ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ امر یقینی اور قح ہے کہ یہ قیامت کے روز ان کے لئے حسرت ہوگی۔ اس تعبیر کی بنا پر حسرۃ تحسر کے معنی میں ہوگا۔ یہ مصدر ہے جو تحسر کے معنی میں ہے اس کے لئے ضمیر کا مذکر ذکر کرنا جائز ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، بیشک یہ تیرے اس قول کی طرح لعین الیقین، محض الیقین اگر یقین صفت ہو تو اس کی طرف مضاف کرنا جائز نہ ہو جس طرح تو کہتا ہے : ھذا رجل الظریف۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے (2) لفظوں کے اختلاف کی وجہ سے پاین ذات کی طرف مضاف کیا۔ فسبح باسم رب العظیم۔ اپنے رب کے لئے نماز پڑھیے، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
23۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانہ لتذکرۃ اور بلاشبہ وہ نصیحت ہے۔ یعنی آپ کے لیے آیت وانہ لحسرۃ اور یہ بات کفار کے لیے باعث حسرت ہوگی آیت وانہ لحق الیقین اور بیشک یہ قرآن یقیناً حق ہے۔ 24۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانہ لتذکرۃ للمتقین اور بیشک وہ تو پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ہے۔ یعنی یہ قرآن آیت وانہ لحسرۃ علی الکفرین اور بیشک وہ کفار پر باعث حسرت ہے۔ یعنی قیامت کے دن کافروں کے لیے حسرت کا باعث ہوگا۔
Read the full tafseer →[ووَاِنَّهٗ لَحَقُّ الْيَقِيْنِ : اور بیشک یہ یقین کرنے کا حقدار ہے ]
Read the full tafseer →سابعاً ﴿ وَ اِنَّهٗ لَحَقُّ الْيَقِيْنِ 0051﴾ فرمایا (اور بلاشبہ یہ قرآن یقینی طور پر حق ہے) جس کے حق اور سچا ہونے میں ذرا سا بھی شک و شبہ کرنے کی گنجائش نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–52
بیان عظمت کلام الہی وحقانیت وصداقت قرآن کریم : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فلا اقسم بما تبصرون ....... الی ....... فسبح باسم ربک العظیم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں اہل سعادت وشقاوت اور انکے احوال کا ذکر تھا اور بالخصوص مجرمین کی سزا اور قیامت کی شدت اور عرش الہی سے تمام فیصلوں کے نفاذ کا بیان تھا تو ممکن تھا کہ کوئی ملحد اور منکر ان باتوں کو سن کر یہ کہنے لگے کہ یہ تو شاعرانہ مبالغہ آرائی یا کاہنوں کی باتیں ہیں تو اس کے ازالہ اور رد کے لیے اب ان آیات میں قرآنی عظمت کا بیان ہے اور یہ کہ جو کچھ وحی الہی سے کہا گیا وہ رسول کریم ﷺ کا قول اور اللہ کا پیغام ہے اس میں ذرہ برابر مبالغہ یا استعارہ ومجاز کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
16:۔ ” وانہ لحق الیقین “ یہ قرآن ایسا یقینی ہے کہ اس میں کسی شک و ریب کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ اس کے مضامین نہایت محکم اور دلائل نہایت پختہ ہیں۔ ” فسبح باسم ربک العظیم “ یہ سورت کا دعوی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہر عیب سے اور ہر نوع شرک سے تنزیہ و تقدیس کرو اور اس کے سوا کسی کو برکات دہندہ نہ سمجھو۔ سورة الحاقہ کی خصوصیت۔ 1 دعوی تبارک کو نہ ماننے والوں کے لیے تخویف اخروی۔ 2 ۔ اللہ تعالیٰ کے سچے پیغمبر خدا پر افترا نہیں کرتے سورة الحاقہ ختم ہوئی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–52
گذشتہ سے پیوستہ : سورۃ الحاقہ کے پہلے رکوع میں قیامت کا ذکر ہے۔ آخری آیتوں میں بنیادی عقائد کا بیان ہے منجملہ ان کے رسالت اور نبوت کا ذکر ہے۔ جس طرح کفار قیامت کا انکار کرتے تھے۔ اسی طرح حضور ﷺ السلام کی نبوت اور رسالت کے منکر تھے۔ پہلے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ بھی اسی قسم کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جب کہ لوگ ان کی تکازیب کرتے تھے۔ یہ لوگ نہ صرف پیغمبر کا انکار کرتے تھے۔ بلکہ وحی الہٰی اور اس کے لانے والے فرشتے کا بھی انکار کرتے تھے۔ کہتے تھے کہ یہ اپنے پاس سے باتیں گھڑ کر لایا ہے۔ خدا کا پیغام نہیں ہے۔ بعض شاعر اور کاہن کا خطاب دیتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ یہ غیب کی خبریں بتاتے ہیں۔ اور سچ…
Read the full tafseer →وَاِنَّہٗ لَحَقُّ الْيَقِيْنِ 51 حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–52
ترکیب : فلا اقسم قیل لامزیدۃ اوفلار ولانکارھم البعث ثم اقسم وقیل نافیۃ للقسم کانہ قال لا اقسم علی ان القرآن قول رسول کریم لظہورالامر واستغنائـہ عن التحقیق بالقسم انہ لقول الخ جواب القسم مؤکد بان واللام والا سمیّہ۔ وماھوالخ الجملۃ تاکید لقولہ انہ لقول رسول کریم قلیلا ما زائدۃ للتاکید ولابقول کا ھن عطف علیٰ قولہ بقول شاعر۔ تنزیل خبر متبدء ھو تنزیل تقول قرء الجمہور مبیناً للفاعل والتقول تکلف القول والافتراء والاقاویل جمع اقوال جمع قول کا بابیت جمع ابیات جمع بیت والاقوال المفتراۃ اقاویل تحقیر الھا لاخذنا جواب لوحاجزین وصف لاحد فانہ عام لکونہ نکرۃ واقعۃ فی سیاق النفی۔ حق الیقین من اضافۃ الصفۃ…
Read the full tafseer →وَاِنَّـہٗ لَحَقُّ الْیَقِیْنِ ۔ (الحآقۃ : 51) (اور بیشک یہ ایک حق یقینی ہے۔ ) قرآن کریم جس روز جزاء و سزا سے خبردار کررہا ہے وہ ایک حق یقینی ہے، محض مفروضہ نہیں۔ اسے لازماً پیش آنا ہے۔ جو آج اسے تسلیم نہیں کرے گا، کل اسے پچھتانا پڑے گا۔ یہ تقریباً وہی بات فرمائی گئی ہے جو اس صورت کی ابتدائی تین آیتوں میں فرمائی گئی ہے اور سورة کا نام جس پر دلالت کررہا ہے۔ یعنی جس بات سے سورة کا آغاز ہوا تھا، اسی پر اس کا اختتام ہورہا ہے۔ اس سے بڑھ کر قرآن کریم کے مربوط ہونے کی اور کیا دلیل ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
فہم القرآن ربط کلام : کفار کے ایک اور الزام کی تردید۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اور رسول کریم کے بارے میں کفار کے ہر الزام کا مدلّل جواب دیا لیکن اس کے باوجود کفار قرآن مجید کو کلام الٰہی اور حضرت محمد ﷺ کو اللہ کا رسول ماننے کو تیار نہ تھے۔ اس پر ارشاد ہوا کہ قرآن اور آپ پر الزامات لگانے والے جھوٹے ہیں۔ انہیں اس بات پر یقین ہونا چاہیے کہ ایک وقت آئے گا کہ جب جھٹلانے اور انکار کرنے والوں کو بڑی حسرتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس فرمان سے یہ بھی ثابت ہوا کہ قرآن اور نبی ﷺ پر الزامات لگانے والے کافر ہیں، کیونکہ قرآن مجید ہر اعتبار سے حق اور سچ ہے اس پر آپ ﷺ اور آپ کے متبعین کو اپنے عظیم رب کی تسبیح…
Read the full tafseer →51 : وَاِنَّہٗ (اور یہ قرآن) لَحَقُّ الْیَقِیْنِ (تحقیقی یقینی بات ہے) وہ عین الیقین اور خالص یقین ہے۔
Read the full tafseer →وانہ لحسرۃ علی الکافرین “ قیامت کے دن وہ اس پر ایمان کو چھوڑنے پر نادم ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–52
44۔ 52۔ جس طرح اوپر گزرا کہ اہل مکہ قرآن کر شاعر یا کاہن کا کلام کہتے تھے اسی طرح وہ لوگ ایک بات یہ بھی کہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے دل سے یہ باتیں جوڑ لی ہیں جن باتوں کو انہوں نے کلام الٰہی مشہور کیا ہے اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں دیا اور فرمایا کہ غیب سے اس دین کی دن بدن مدد ہوتی چلی جاتی ہے دن بدن یہ دین ترقی پکڑتا جاتا ہے اس سے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ رسول ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے کیونکہ صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک جو مدد غیبی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی فرمائی ہے وہی مدد رسول کی…
Read the full tafseer →(وانہ لحق الیقین) ۔ اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے، یعنی علم کا اعلی ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے، جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے، یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ماقبل مرتبے سے بلند تر ہے۔ اول۔ علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مسفاد ہوتا ہے۔ ثانی۔ عین الیقین وہ علم ہے جس کا ادراک حاسہ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث۔ حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسہ ذوق ولمس سے ہوتا ہے۔ اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل وبراہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اس میں جو حقائق ہیں اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
43 قرآن حکیم قطعی طور پر حق ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ قطعی طور پر یقینی حق ہے۔ جس میں کسی شک شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ‘ اور جس روز جزا کی یہ تمام کلام حق ترجمان خبر دے رہا ہے ‘ وہ لازماً پیش آکر رہے گا ‘ پس صحت و سلامتی زور حق و انصاف کی بات یہ ہے کہ انسان صدق دل سے اس پر ایمان لاکر اس کی تعلیمات مقدسہ کو حرز جاں بنائے ‘ سو کوئی مانے یا نہ مانے ‘ تسلیم کرے یا نہ کرے حق بہرحال یہی اور صرف یہی ہے اور اس کے سو اکتاب حق اور کوئی ہے ہی نہیں اور ہوسکتی ہی نہیں۔ پس اس کتاب حق میں جو کچھ فرمایا گیا وہ سب سراسر حق اور سچ ہے اور جو لوگ اس پر ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–52
قرآن مجید کے کلام الٰہی ہونے کا ثبوت تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ قرآن کی سچائی معقولیت اور لاجواب کتاب ہونے پر قسم اٹھاتا ہے یہ قسم بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اٹھائی جا رہی ہے۔ یہاں کائنات میں موجود ہر اس چیز کی قسم کھائی گئی ہے جو ہماری نظروں کے سامنے واضح صورت میں موجود ہیں اور ان چیزوں کی بھی جو بیشمار مختلف صورتوں میں کائنات میں ہر طرف موجود ہیں اور ابھی تک کوئی محقق ان کو نہ دیکھ سکا ہے نہ ان کی وضاحت ہی کرسکا ہے۔ کہ قرآن پاک الہ العٰلمین کا کلام ہے معزز ترین فرشتے سیدناجبرائیل (علیہ السلام) کی زبان سے رسول کریم ﷺ تک پہنچایا گیا ہے۔ اور اس میں کوئی شک و شبہ یا تحریف و ترمیم ہرگز نہیں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–52
آیات 38 تا 52۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان چیزوں کی جو تمہیں دکھائی دیتی ہیں اور ان کی جو تم نہیں دیکھ سکتے کہ کائنات کی ہر شے اور ہر طاقت اس پر گواہ ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے جو ایک معزز فرشتے کے ذریعہ سے اللہ کے برحق رسول پہ نازل ہوا یعنی قرآن نے دیکھے ان دیکھے نتائج کے لیے بھی ایساجامع نظام حیات دیا کہ عقیدے عبادت سے لے کر عمل تک دنیا کے ہر خطے ہرموسم اور ہر قوم کے لیے بہترین نتائج پیدا کرتا ہے ظاہر ابھی جو نظر آتے ہیں اور باطلا بھی جو حقائق فی الحال نگاہ سے اوجھل ہیں اور آخرت میں سامنے آئیں گے بھلا ایسا کامل ومکمل نظام بجز اللہ کے کون دے سکتا ہے۔ یہ سب اس بات پر گواہ ہے کہ فرشتے کا لایا ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
ف 15 یعنی اس کے کلام الٰہی ہونے میں ذرہ بھر شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(69:51) وانہ لحق الیقین لام تاکید کا ہے حق الیقین : صفت کی اضافت موصوف کی طرف ہے حق صفت ہے اور یقین موصوف ہے۔ مطلب انہ الیقین الحق : یعنی ایسا یقین جو سراسر حق ہے جس میں باطل کی ذرا ملاوٹ تک نہیں۔ یہاں حق کی یقین کی طرف اضافت تاکید اور زیادت توضیح کے لئے ہے۔ بغوی نے لکھا ہے ۔ اضافت الیٰ نفسہ ہے یقین اور حق دونوں ایک ہیں لیکن لفظ دو ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
لغات القرآن۔ الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں) رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔ دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–52
(ف 1) شان نزول : نسائی ، تفسیر ابن حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نضر بن حارث اور قریش میں کے سرکش لوگوں نے جب اللہ سے عذاب کی خواہش کی اور یہ کہا کہ جو کچھ محمد ﷺ کہتے ہیں اگر وہ حق بات ہے اور ہم لوگ اس کو نہیں مانتے ہیں تو خدا کرے ہم لوگوں پر پتھر آسمان سے برسیں یا اور کوئی سخت عذاب ہم لوگوں پر نازل ہوجائے ، اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ہیں اور فرمایا کہ یہ قریش میں کے سرکش لوگ عذاب الٰہی کو دورگن کر اس طرح کی سرکشی باتیں کرتے ہیں مگر اللہ کے نزدیک پچھلی قوموں کی طرح نہ ان مشرکوں پر دنیا میں کوئی عذاب نازل کردینا ، کچھ دور ہے نہ عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
[17] موجب حسرت سے مراد یہ ہے کہ آخرت میں کافروں کو بڑا افسوس ہوگا کہ قرآن پر ایمان کیوں نہ لائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
ف 2: ان آیات میں قرآن کی صداقت اور حقانیت کے متعلق فرمایا ہے ۔ کہ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کی تشقی ایمان کا پورا پورا سامان موجود ہے ۔ جو پاکباز ہیں جس کے قلب و دماغ میں تعصی وجہل کی تاریکی نہیں ہے ۔ جو دیانتداری کے ساتھ اس کو سمجھنا چاہتے ہیں ۔ اور خلوص کے ساتھ حق کے خواستگار ہیں ۔ حل لغات :۔ قلیلا ماتومنون ۔ قلیل عربی میں ایسے مواقع پر بالعموم یا قیام کے معنے میں آتا ہے تقول ۔ افترا اور جھوٹ سیکام لے الوتین ۔ رگ ال والحق ثین ۔ یعنی قرآن ثبوت اور حقانفت میں اس مقام پر فائز ہے ۔ جہاں اولیٰ ترین شک بھی راہ نہیں پاسکتا ۔
Read the full tafseer →(51) اوریہ قرآن سراسرحق اور یقینی اور تحقیقی بات ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
ف 9۔ رگ دل کاٹنے سے آدمی مرجاتا ہے، مراد اس سے قتل ہے، اور یہ کنایہ ہے اماتت سے نفسا یا حجة یعنی جھوٹا مدعی نبوت موید بالحجة نہیں ہوتا، بلکہ یا ہلاک ہوتا ہے یا ظہور کذب سے رسوا و ذلیل ہوتا ہے، پس مطلق اماتت کو اخذ یمین و قطع وتین سے تشبیہا تعبیر فرمادیا گیا۔
Read the full tafseer →اور بلاشبہ یہ قرآن کریم تو یقینی طور پر حق ہے 51 ؎ قرآن کریم کی صداقت کے لئے بہت لمبا بیان اس جگہ دیا گیا ہے اور پھر اس بیان کا ماحصل بھی قرآن کریم ہی میں پیش کیا گیا ہے کہ وہ حق الیقین کے درجہ پر ہے۔ گویا اس کے حق ہونے میں مکمل طور پر یقین کے ساتھ حق کہنا چاہئے یعنی جس میں کسی طرح کا کوئی شک و شبہ نہ ہو۔ قرآن کریم کے دلائل واضح ہیں ، اس کی ہدایت روشن ہے لیکن اس سے فائدہ وہی حاصل کرسکتا ہے جو فائدہ حاصل کرنا چاہے۔ حق باطل کی ضد ہے اور ضدین کبھی اکٹھی نہیں ہو سکتیں اس لئے جو حق ہے وہ باطل نہیں ہو سکتا اور جو باطل ہے وہ حق نہیں ہو سکتا۔ قرآن کریم ہے تو اس کی کوئی بات ، کوئی نصیحت باطل نہیں ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–51
وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ ﴿44﴾ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ﴿45﴾ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ﴿46﴾ And had he forged some statements in Our name, We would have certainly seized him by the right hand, and then severed his life-astery,…(69:44-46) The word taqawwul means 'to forge, fabricate or concoct' and the word watin refers to 'aorta or life-artery'. This is the main artery that carries blood from the heart to other parts of the body. Once this artery is cut off, death occurs instantly. The foregoing verses refute the outrageous thoughts of the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
27 That is, they will ultimately have to despair and regret as to why they had rejected this Qur'an.
Read the full tafseer →