Explained with ayahs 44–52
ہدایت اور شفا قرآن حکیم
یہاں فرمان باری ہے کہ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کردیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے یعنی اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آسکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے، پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب ﷺ سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لئے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ ﷺ کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ ﷺ کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
سورة الْحَآقَّة 26
یعنی قرآن ان لوگوں کے لیے نصیحت ہے جو غلط روی اور اس کے برے نتائج سے بچنا چاہتے ہیں (تشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حاشیہ 3)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–51
(آیت) وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا الخ، تقول کے معنی بات گھڑنے کے ہی اور وہ تین قلب سے نکلنے والی وہ رگ ہے۔ جس سے روح جسم انسانی میں پھیلتی ہے اس کے قطع کردینے سے موت فوراً واقع ہوجاتی ہے۔
سابقہ آیات میں کفار مکہ کے اس بےہودہ خیال کا رد کیا گیا تھا، کوئی آپ کو شاعر اور آپ کے کلام کو شعر کہتا تھا، کوئی آپ کو کاہن اور کلام کو کہانت کہتا تھا۔ کاہن وہ شخص ہوتا ہے جو کچھ شیاطین سے خبریں پا کر کچھ نجوم کے اثرات سے معلوم کرنے کے آنے والے واقعات میں اٹکل بچو باتیں کیا کرتا تھا۔ غرض آپ کو اشعر یا کاہن کہنے والوں کے الزام کا حاصل یہ تھا کہ آپ جو کلام سناتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے نہیں، آنحضرت ﷺ نے خود اپنے…
Read the full tafseer →مخالفین کو وعید:
یہ مخالفین کو تہدید و وعید ہے کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ تمہارے اندر اس کو جھٹلانے والے ہیں اور وہ کون ہیں؟ مطلب یہ ہے کہ جو تکذیب کر رہے ہیں وہ یاد رکھیں کہ ہم سے وہ مخفی نہیں ہیں۔ اور جب وہ مخفی نہیں ہیں تو وہ اپنا انجام دیکھیں گے!
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
48۔ 1 کیونکہ وہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ورنہ قرآن تو سارے ہی لوگوں کے لیے نصیحت لے کر آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
10: فرمایا جارہا ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی غلط بات منسوب کرے تو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں اسے رسوا بھی فرماتے ہیں، اور اس کو عذاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لئے اگر (خدانخواستہ) حضور اقدس ﷺ کا نبوت کا دعوی درست نہ ہوتا اور آپ (معاذاللہ) جھوٹی باتیں بناکر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے تو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں آپ کے ساتھ وہ معاملہ فرماتے جس کا ذکر ان آیتوں میں کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →وانا .................... مکذبین (96 : 94) ” اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں کچھ لوگ جھٹلانے والے ہیں “۔ لیکن بعض لوگوں کے جھٹلانے سے حقیقت نہیں بدل جاتی ۔ اس طرح تمہارا یہ فعل حقائق کو نہیں بدل سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
1 یعنی خدا سے ڈرنے والے اس کلام کو سن کر نصیحت حاصل کریں گے اور جن کے دل میں ڈر نہیں وہ جھٹلائیں گے لیکن ایک وقت آنے والا ہے کہ یہ ہی کلام اور ان کا یہ جھٹلانا سخت حسرت و پیشمانی کا موجب ہوگا۔ اس وقت پچھتائیں گے کہ افسوس کیوں ہم نے اس سچی بات کو جھٹلایا تھا جو آج یہ آفت دیکھنی پڑی۔
Read the full tafseer →آیت 49{ وَاِنَّا لَنَعْلَمُ اَنَّ مِنْکُمْ مُّکَذِّبِیْنَ۔ } ”اور ہمیں خوب معلوم ہے کہ تم میں کچھ لوگ جھٹلانے والے بھی ہیں۔“
وہ ہمارے کلام کو جھٹلانے پر کمربستہ ہوچکے ہیں کہ جو چاہے ہو وہ اسے اللہ کا کلام نہیں مانیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
26 یعنی جو لوگ غلط روی اور اس کے برے نتائج سے بچنا چاہتے ہیں وہ تو یقیناً اس قرآن سے نصیحت حاصل کریں گے۔ اور جن لوگوں کو اپنی اصلاح کی فکر ہی نہیں یا وہ اس کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے وہ قرآن کو نہ اللہ کا کلام سمجھتے ہیں اور نہ اس سے نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ لیکن ایک وقت آنے والا ہے جب وہ اپنے رویہ پر سخت نادم ہوں گے اور ان کا قرآن کو جھٹلانا ان کے لئے سخت حسرت و پشیمانی کا موجب ہوگا۔ لیکن اس وقت پچھتانے کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
20۔ اس معنی میں کہ وہ اس کی تکذیب کریں گے۔ اور اس طرح وہ ان کے حق میں بالواسطہ سبب تعذیب بن جائے گا)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–52
ولو تقول علینا بعض الاقاویل مطلب یہ کہ نبی ﷺ کو اپنی طرف سے وحی میں کسی کمی بیشی کا اختیار نہیں ہے، اور اگر وہ ایسا کرے تو ہم اس کو سخت سزا دیں، بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ غلط استدلال کیا ہے کہ جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے اس کی شہ رگ فوراً نہ کاٹ ڈالی جائے تو یہ اس کے نبی ہونے کا ثبوت ہے، حالانکہ اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ سچے نبی ﷺ کے بارے میں ہے کہ وہ بھی اگر ایسا کریں تو سخت قبل مؤاخذہ ہوں گے نہ کہ جھوٹے مدعی نبوت کے بارے میں جو کہ سراسر ظالم و گناہگار ہیں۔
تمت
Read the full tafseer →وانا لنعلم ان منکم مکذبین . ہم واقف ہیں کہ تم میں سے کچھ لوگ اس کو جھوٹا قرار دیتے ہیں تو ہم اس
تکذیب اور عدم ذکر کی ان کو ضرور سزا دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
(49۔ 50) اور ہمیں معلوم ہے کہ تم میں بعض قرآن حکیم کو جھٹلانے والے ہیں اور بعض تصدیق کرنے والے اور یہ قرآن کافروں کے حق میں قیامت کے دن موجب حسرت ہے۔
Read the full tafseer →(وانا لنعلم…:”انا لنعلم“ (ہم جانتے ہیں) کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان جھٹلانے والوں کو سزا دیں گے، جیسے فسادیوں کو ڈاٹنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ تم جو کچھ کر رہے ہو سب ہمیں معلوم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
وانا لنعلم ان منکم مکذبین۔ ربیع نے کہا، قرآن کو جھٹلانے اولے ہیں (1) وانہ لحسرۃ ضمیر سے مراد تکذیب ہے، حسرت سے مراد ندامت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : قیامت کے روز قرآن کافروں کے لئے حسرت ہوگا جب وہ مومنوں کا ثواب دیکھیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ دنیا میں ان کے لئے حسرت ہوگی جب وہ معاوضہ پر قادر نہ ہونگے جب انہیں چیلنج کیا گیا کہ وہ قرآن کی مثل کوئی سورت لے آئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
17۔ فریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ثم لقطعنا منہ الوتین۔ پھر ہم اس کی گردن کاٹ دیتے یعنی دل کی وہ رگ جو پیٹھ میں ہوتی ہے۔
18۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم لقطعنا منہ الوتین کے بارے میں فرمایا کہ ہم بیان کرتے تھے کہ وہ دل کی رگ ہے۔
19۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” الوتین “ سے مراد وہ رگ ہے جو پیٹھ میں ہوتی ہے۔
20۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ الوتین سے دل کی رگ مراد ہے۔
21۔ ابن ابی حاتم نے حصین بن عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا انسان کو…
Read the full tafseer →[وَاِنَّا لَنَعْلَمُ : اور بیشک ہم یقینا جانتے ہیں ][اَنَّ مِنْكُمْ : کہ تم میں سے ][ مُّكَذِّبِيْنَ : کچھ لوگ جھٹلانے والے ہیں (اس کو)]
Read the full tafseer →خامساً یہ فرمایا ﴿ وَ اِنَّا لَنَعْلَمُ اَنَّ مِنْكُمْ مُّكَذِّبِيْنَ 0049﴾ (اور بلاشبہ ہم یہ جانتے ہیں تم میں وہ لوگ بھی ہیں جو جھٹلانے والے ہیں) لہٰذا ان جھٹلانے والوں کو ان کے جھٹلانے کی سزا ملے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–52
بیان عظمت کلام الہی وحقانیت وصداقت قرآن کریم :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فلا اقسم بما تبصرون ....... الی ....... فسبح باسم ربک العظیم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں اہل سعادت وشقاوت اور انکے احوال کا ذکر تھا اور بالخصوص مجرمین کی سزا اور قیامت کی شدت اور عرش الہی سے تمام فیصلوں کے نفاذ کا بیان تھا تو ممکن تھا کہ کوئی ملحد اور منکر ان باتوں کو سن کر یہ کہنے لگے کہ یہ تو شاعرانہ مبالغہ آرائی یا کاہنوں کی باتیں ہیں تو اس کے ازالہ اور رد کے لیے اب ان آیات میں قرآنی عظمت کا بیان ہے اور یہ کہ جو کچھ وحی الہی سے کہا گیا وہ رسول کریم ﷺ کا قول اور اللہ کا پیغام ہے اس میں ذرہ برابر مبالغہ یا استعارہ ومجاز کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
15:۔ ” وانہ لتذکرۃ “ یہ قرآن خدا سے ڈرنے والوں کے لیے سراپا عبرت و نصیحت ہے۔ ” وانا لنعلم “ ہم خوب جانتے ہیں کہ تم میں اس قرآن کو جھٹلانے والے بھی ہیں، ہم ان کو اس پر سخت سزا دیں گے اور یہ جھٹلانے والے آخر کف افسوس ملیں گے۔ جب وہ مومنوں کا ثواب اور کافروں کا عذاب دیکھیں گے تو انہیں سخت حسرت ہوگی کہ انہوں نے قرآن پر ایمان لا کر اس پر عمل کیوں نہ کیا۔ لحسرۃ، یعنی سبب حسرت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–52
گذشتہ سے پیوستہ :
سورۃ الحاقہ کے پہلے رکوع میں قیامت کا ذکر ہے۔ آخری آیتوں میں بنیادی عقائد کا بیان ہے منجملہ ان کے رسالت اور نبوت کا ذکر ہے۔ جس طرح کفار قیامت کا انکار کرتے تھے۔ اسی طرح حضور ﷺ السلام کی نبوت اور رسالت کے منکر تھے۔ پہلے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ بھی اسی قسم کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جب کہ لوگ ان کی تکازیب کرتے تھے۔ یہ لوگ نہ صرف پیغمبر کا انکار کرتے تھے۔ بلکہ وحی الہٰی اور اس کے لانے والے فرشتے کا بھی انکار کرتے تھے۔ کہتے تھے کہ یہ اپنے پاس سے باتیں گھڑ کر لایا ہے۔ خدا کا پیغام نہیں ہے۔ بعض شاعر اور کاہن کا خطاب دیتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ یہ غیب کی خبریں بتاتے ہیں۔ اور سچ…
Read the full tafseer →وَاِنَّا لَنَعْلَمُ اَنَّ مِنْكُمْ مُّكَذِّبِيْنَ 49
علم
العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته،
( ع ل م ) العلم
کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا
كذب
وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی:
إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ،
( ک ذ ب ) الکذب
قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–52
ترکیب : فلا اقسم قیل لامزیدۃ اوفلار ولانکارھم البعث ثم اقسم وقیل نافیۃ للقسم کانہ قال لا اقسم علی ان القرآن قول رسول کریم لظہورالامر واستغنائـہ عن التحقیق بالقسم انہ لقول الخ جواب القسم مؤکد بان واللام والا سمیّہ۔ وماھوالخ الجملۃ تاکید لقولہ انہ لقول رسول کریم قلیلا ما زائدۃ للتاکید ولابقول کا ھن عطف علیٰ قولہ بقول شاعر۔ تنزیل خبر متبدء ھو تنزیل تقول قرء الجمہور مبیناً للفاعل والتقول تکلف القول والافتراء والاقاویل جمع اقوال جمع قول کا بابیت جمع ابیات جمع بیت والاقوال المفتراۃ اقاویل تحقیر الھا لاخذنا جواب لوحاجزین وصف لاحد فانہ عام لکونہ نکرۃ واقعۃ فی سیاق النفی۔ حق الیقین من اضافۃ الصفۃ…
Read the full tafseer →وَاِنَّا لَنَعْلَمُ اَنَّ مِنْـکُمْ مُّکَذِّبِیْنَ ۔ (الحآقۃ : 49)
(اور ہم خوب جانتے ہیں کہ تم میں اس کے جھٹلانے والے بھی ہیں۔ )
مکذبین کو وعید
گزشتہ آیت کے مضمون کا تسلسل ہے کہ آپ ﷺ ان کے ایمان نہ لانے سے ہرگز پریشان نہ ہوں۔ ہم ان لوگوں کو اچھی طرح جانتے ہیں جو آپ ﷺ کی دعوت کو جھٹلانے والے ہیں اور ساتھ ہی مخالفین کو تہدید کے انداز میں فرمایا کہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم میں سے جو آنحضرت ﷺ کی ذات اور آپ ﷺ کی دعوت کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والے ہیں ہم ان سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ اس لیے وہ اپنے انجام سے بچ نہیں سکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کے ایک اور الزام کی تردید۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اور رسول کریم کے بارے میں کفار کے ہر الزام کا مدلّل جواب دیا لیکن اس کے باوجود کفار قرآن مجید کو کلام الٰہی اور حضرت محمد ﷺ کو اللہ کا رسول ماننے کو تیار نہ تھے۔ اس پر ارشاد ہوا کہ قرآن اور آپ پر الزامات لگانے والے جھوٹے ہیں۔ انہیں اس بات پر یقین ہونا چاہیے کہ ایک وقت آئے گا کہ جب جھٹلانے اور انکار کرنے والوں کو بڑی حسرتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس فرمان سے یہ بھی ثابت ہوا کہ قرآن اور نبی ﷺ پر الزامات لگانے والے کافر ہیں، کیونکہ قرآن مجید ہر اعتبار سے حق اور سچ ہے اس پر آپ ﷺ اور آپ کے متبعین کو اپنے عظیم رب کی تسبیح…
Read the full tafseer →49 : وَاِنَّا لَنَعْلَمُ اَنَّ مِنْکُمْ مُّکَذِّبِیْنَ (اور ہم کو معلوم ہے کہ تم میں بعضے تکذیب کرنے والے ہیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
48 ۔” وانہ “ یعنی قرآن۔ ” لتذکرۃ للمتقین “ یعنی نصیحت ہے اس کے لئے جو اللہ کی سزا سے ڈرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–52
44۔ 52۔ جس طرح اوپر گزرا کہ اہل مکہ قرآن کر شاعر یا کاہن کا کلام کہتے تھے اسی طرح وہ لوگ ایک بات یہ بھی کہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے دل سے یہ باتیں جوڑ لی ہیں جن باتوں کو انہوں نے کلام الٰہی مشہور کیا ہے اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں دیا اور فرمایا کہ غیب سے اس دین کی دن بدن مدد ہوتی چلی جاتی ہے دن بدن یہ دین ترقی پکڑتا جاتا ہے اس سے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ رسول ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے کیونکہ صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک جو مدد غیبی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی فرمائی ہے وہی مدد رسول کی…
Read the full tafseer →(وانا لنعلم ان منکم مکذبین) ۔ اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں، اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا
Read the full tafseer →41 منکرین و مخالفین کیلئے ایک تہدید و وعید : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ تم میں کچھ جھٹلانے والے بھی ہیں۔ پس وہ اپنی اس تکذیب کے انجام اور اس کے بھگتان سے بچ نہیں سکیں گے ‘ لہٰذا آپ اے پیغمبر ! ان کا معاملہ ہم پر ہی چھوڑ دیں ہم ان سے خود نمٹ لیں گے اور ٹھیک ٹھیک نمٹ لیں گے " ذرنی ومن یکذب بھذا الحدیث " سو اس میں مخالفین کیلئے تہدید و وعید ہے کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ تمہارے اندر جھٹلانے والے بھی موجود ہیں ‘ وہ ہماری پکڑ سے بہرحال بچ نہیں سکیں گے ‘ سو انہیں جو ڈھیل ملی ہوئی ہے اس سے کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے کہ وہ بہرحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–52
قرآن مجید کے کلام الٰہی ہونے کا ثبوت
تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ قرآن کی سچائی معقولیت اور لاجواب کتاب ہونے پر قسم اٹھاتا ہے یہ قسم بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اٹھائی جا رہی ہے۔ یہاں کائنات میں موجود ہر اس چیز کی قسم کھائی گئی ہے جو ہماری نظروں کے سامنے واضح صورت میں موجود ہیں اور ان چیزوں کی بھی جو بیشمار مختلف صورتوں میں کائنات میں ہر طرف موجود ہیں اور ابھی تک کوئی محقق ان کو نہ دیکھ سکا ہے نہ ان کی وضاحت ہی کرسکا ہے۔ کہ قرآن پاک الہ العٰلمین کا کلام ہے معزز ترین فرشتے سیدناجبرائیل (علیہ السلام) کی زبان سے رسول کریم ﷺ تک پہنچایا گیا ہے۔ اور اس میں کوئی شک و شبہ یا تحریف و ترمیم ہرگز نہیں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–52
آیات 38 تا 52۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے ان چیزوں کی جو تمہیں دکھائی دیتی ہیں اور ان کی جو تم نہیں دیکھ سکتے کہ کائنات کی ہر شے اور ہر طاقت اس پر گواہ ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے جو ایک معزز فرشتے کے ذریعہ سے اللہ کے برحق رسول پہ نازل ہوا یعنی قرآن نے دیکھے ان دیکھے نتائج کے لیے بھی ایساجامع نظام حیات دیا کہ عقیدے عبادت سے لے کر عمل تک دنیا کے ہر خطے ہرموسم اور ہر قوم کے لیے بہترین نتائج پیدا کرتا ہے ظاہر ابھی جو نظر آتے ہیں اور باطلا بھی جو حقائق فی الحال نگاہ سے اوجھل ہیں اور آخرت میں سامنے آئیں گے بھلا ایسا کامل ومکمل نظام بجز اللہ کے کون دے سکتا ہے۔ یہ سب اس بات پر گواہ ہے کہ فرشتے کا لایا ہوا…
Read the full tafseer →ف 13 یعنی قرآن کو نہیں مانتے ہم انہیں عنقریب سزا دیں گے۔
Read the full tafseer →(69:49) وانا لنعلم ان منکم مکذبین : واؤ عاطفہ انا بیشک ہم۔ لام تاکید کا۔ نعلم مضارع جمع متکلم ۔ علم باب سمع مصدر سے ان حرف تحقیق، حرف مشبہ بالفعل میں سے ہے بمعنی بےشک۔ من تبعیضیہ ہے مکذبین تکذیب (تفعیل) مصدر سے اسم فاعل جمع مذکر ۔ جھٹلانے والے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ بعض تم میں سے جھٹلانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
لغات القرآن۔
الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں)
رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔
دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–52
(ف 1) شان نزول :
نسائی ، تفسیر ابن حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نضر بن حارث اور قریش میں کے سرکش لوگوں نے جب اللہ سے عذاب کی خواہش کی اور یہ کہا کہ جو کچھ محمد ﷺ کہتے ہیں اگر وہ حق بات ہے اور ہم لوگ اس کو نہیں مانتے ہیں تو خدا کرے ہم لوگوں پر پتھر آسمان سے برسیں یا اور کوئی سخت عذاب ہم لوگوں پر نازل ہوجائے ، اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ہیں اور فرمایا کہ یہ قریش میں کے سرکش لوگ عذاب الٰہی کو دورگن کر اس طرح کی سرکشی باتیں کرتے ہیں مگر اللہ کے نزدیک پچھلی قوموں کی طرح نہ ان مشرکوں پر دنیا میں کوئی عذاب نازل کردینا ، کچھ دور ہے نہ عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
[16] اصل میں لفظ '' وتین '' استعمال ہوا ہے جس کے معنی شہ رگ کے ہیں جو گردن سے ہو کر گزرتی ہے اور سر اور دل کے درمیان ایک رابطہ ہے اگر اس کو کاٹ دیا جائے تو جان نکل جاتی ہے۔ آیت کے لفظی معنی تو یہ ہیں کہ '' ہم نے اس کی رگ گردن کاٹ دی ہوتی ''۔ لیکن اردو کے محاورے کے اعتبار سے یہاں لازم معنی اختیار کئے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
ف 2: ان آیات میں قرآن کی صداقت اور حقانیت کے متعلق فرمایا ہے ۔ کہ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کی تشقی ایمان کا پورا پورا سامان موجود ہے ۔ جو پاکباز ہیں جس کے قلب و دماغ میں تعصی وجہل کی تاریکی نہیں ہے ۔ جو دیانتداری کے ساتھ اس کو سمجھنا چاہتے ہیں ۔ اور خلوص کے ساتھ حق کے خواستگار ہیں ۔
حل لغات :۔ قلیلا ماتومنون ۔ قلیل عربی میں ایسے مواقع پر بالعموم یا قیام کے معنے میں آتا ہے تقول ۔ افترا اور جھوٹ سیکام لے الوتین ۔ رگ ال والحق ثین ۔ یعنی قرآن ثبوت اور حقانفت میں اس مقام پر فائز ہے ۔ جہاں اولیٰ ترین شک بھی راہ نہیں پاسکتا ۔
Read the full tafseer →(49) اور بلا شبہ ہم خوب جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اس قرآن کی تکذیب کرنے والے بھی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
ف 9۔ رگ دل کاٹنے سے آدمی مرجاتا ہے، مراد اس سے قتل ہے، اور یہ کنایہ ہے اماتت سے نفسا یا حجة یعنی جھوٹا مدعی نبوت موید بالحجة نہیں ہوتا، بلکہ یا ہلاک ہوتا ہے یا ظہور کذب سے رسوا و ذلیل ہوتا ہے، پس مطلق اماتت کو اخذ یمین و قطع وتین سے تشبیہا تعبیر فرمادیا گیا۔
Read the full tafseer →اور ہم خوب جانتے ہیں کہ تم میں بعض جھٹلانے والے ہیں
49 ؎ جو لوگ قرآن کریم کی نصیحت اور ہدایت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں وہ ہم سے کچھ پوشیدہ نہیں ہیں۔ ہمارے علم میں ہیں لیکن وہی بات جو اس سے پہلے کہی گئی کہ جب ہم نے اپنے قانون امہال کے تحت ان کو ڈھیل دینے کا اعلان کردیا ہے تو اب جو مہلت ان کو دی گئی ہے اس کو انہوں نے بہرحال پورا کرنا ہے۔ پھر اس کے بعد ان سے نبٹ لیا جائے گا کیونکہ ہم جھٹلانے والوں سے نبٹنا بھی خوب جانتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–51
وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ ﴿44﴾ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ﴿45﴾ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ﴿46﴾
And had he forged some statements in Our name, We would have certainly seized him by the right hand, and then severed his life-astery,…(69:44-46)
The word taqawwul means 'to forge, fabricate or concoct' and the word watin refers to 'aorta or life-artery'. This is the main artery that carries blood from the heart to other parts of the body. Once this artery is cut off, death occurs instantly.
The foregoing verses refute the outrageous thoughts of the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
26 That is, the Qur'an is an admonition for those who wish to avoid wrongdoing and its evil consequences. (For explanation, see E.N. 3 of Al-Baqarah) .
Read the full tafseer →