Explained with ayahs 44–52
ہدایت اور شفا قرآن حکیم
یہاں فرمان باری ہے کہ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کردیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے یعنی اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آسکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے، پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب ﷺ سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لئے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ ﷺ کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ ﷺ کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
سورة الْحَآقَّة 26
یعنی قرآن ان لوگوں کے لیے نصیحت ہے جو غلط روی اور اس کے برے نتائج سے بچنا چاہتے ہیں (تشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حاشیہ 3)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–51
(آیت) وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا الخ، تقول کے معنی بات گھڑنے کے ہی اور وہ تین قلب سے نکلنے والی وہ رگ ہے۔ جس سے روح جسم انسانی میں پھیلتی ہے اس کے قطع کردینے سے موت فوراً واقع ہوجاتی ہے۔
سابقہ آیات میں کفار مکہ کے اس بےہودہ خیال کا رد کیا گیا تھا، کوئی آپ کو شاعر اور آپ کے کلام کو شعر کہتا تھا، کوئی آپ کو کاہن اور کلام کو کہانت کہتا تھا۔ کاہن وہ شخص ہوتا ہے جو کچھ شیاطین سے خبریں پا کر کچھ نجوم کے اثرات سے معلوم کرنے کے آنے والے واقعات میں اٹکل بچو باتیں کیا کرتا تھا۔ غرض آپ کو اشعر یا کاہن کہنے والوں کے الزام کا حاصل یہ تھا کہ آپ جو کلام سناتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے نہیں، آنحضرت ﷺ نے خود اپنے…
Read the full tafseer →رسول کو تسلی:
یعنی لا خیرے اور محروم القسمت قسم کے لوگ اگر اس عظیم رحمت کی قدر نہیں کر رہے تو یہ ان کی اپنی محرومی ہے۔ جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہ اس سے یاددہانی حاصل کرتے ہیں اور کریں گے اور وہی مقصود ہیں۔ یہ نعمت درحقیقت اللہ نے اتاری ہی انہی کے لیے ہے۔ اس میں پیغمبر ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ اگر ناقدرے اس کی قدر نہیں کر رہے ہیں تو اس سے دل برداشتہ نہ ہو۔ آخر اس کی قدر کرنے والے بھی تو ہیں!
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
48۔ 1 کیونکہ وہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ورنہ قرآن تو سارے ہی لوگوں کے لیے نصیحت لے کر آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
10: فرمایا جارہا ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی غلط بات منسوب کرے تو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں اسے رسوا بھی فرماتے ہیں، اور اس کو عذاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لئے اگر (خدانخواستہ) حضور اقدس ﷺ کا نبوت کا دعوی درست نہ ہوتا اور آپ (معاذاللہ) جھوٹی باتیں بناکر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے تو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں آپ کے ساتھ وہ معاملہ فرماتے جس کا ذکر ان آیتوں میں کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →اب آخری اختتامیہ آتا ہے۔ اس میں فیصلہ کن بات بیان کردی جاتی ہے اس دین کی حقیقت کیا ہے ؟
وانہ .................... لحق الیقین
” یہ قرآن صرف ان دلوں کو نصیحت دے سکتا ہے جن کے اندر جو ابدہی کا کسی قدر خوف ہو یعنی جس حقیقت کو قرآن لے کر آیا ہے ، وہ ان کے دلوں کے اندر موجود ہو۔ اور قرآن ان کو یاد دلائے کہ اسے بھی یاد کرو ، اور دلوں کو اس پر ابھارے۔ رہے وہ لوگ جو سرے سے ڈرتے ہی نہیں تو ان کے دل غافل اور اندھے ہیں ، مسخ شدہ ہیں۔ وہ نور معرفت اور نصیحت سے محروم ہیں اور نہ قرآن ان کے لئے مفید ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
1 یعنی خدا سے ڈرنے والے اس کلام کو سن کر نصیحت حاصل کریں گے اور جن کے دل میں ڈر نہیں وہ جھٹلائیں گے لیکن ایک وقت آنے والا ہے کہ یہ ہی کلام اور ان کا یہ جھٹلانا سخت حسرت و پیشمانی کا موجب ہوگا۔ اس وقت پچھتائیں گے کہ افسوس کیوں ہم نے اس سچی بات کو جھٹلایا تھا جو آج یہ آفت دیکھنی پڑی۔
Read the full tafseer →آیت 48{ وَاِنَّہٗ لَتَذْکِرَۃٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ۔ } ”اور یقینا یہ تو ایک یاد دہانی ہے متقین کے لیے۔“
یہ کلام ان لوگوں کے لیے نصیحت ہے جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور نیکی و بدی میں تمیز کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
25 قادیانیوں کا مرزا قادیانی کی نبوت پر استدلال اور اس کا جواب :۔ ذرا سوچو اگر کسی بادشاہ کا کوئی سفیر یا نائب بادشاہ کا پیغام پہنچانے کی بجائے اپنی طرف سے ہی پیغام دینا شروع کردے اور یہ کہے کہ یہ بادشاہ کی طرف سے پیغام ہے تو بادشاہ اپنے ایسے غدار سفیر یا نائب سے کیا سلوک کرے گا۔ اسے جلاد کے حوالے کرنے کی بجائے یہ چاہے گا کہ خود اپنے ہاتھ سے اس کی گردن اڑا دے۔ پھر کیا اگر اللہ کا یہ رسول اپنی طرف سے باتیں بناکر انہیں اللہ کی طرف منسوب کردے تو کیا اللہ اسے معاف کر دے گا ؟ وہ تو اللہ کی نظروں میں سب سے بڑا مجرم ہوگا۔ جس نے اللہ کے کلام میں اپنا کلام شامل کرکے اس سارے کلام کو ہی مشکوک اور…
Read the full tafseer →19۔ یعنی اس نصیحت نامہ، ہدایت نامہ سے فائدہ تو وہی لوگ اٹھائیں گے، جن کے دلوں میں خوف خدا موجود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–52
ولو تقول علینا بعض الاقاویل مطلب یہ کہ نبی ﷺ کو اپنی طرف سے وحی میں کسی کمی بیشی کا اختیار نہیں ہے، اور اگر وہ ایسا کرے تو ہم اس کو سخت سزا دیں، بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ غلط استدلال کیا ہے کہ جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے اس کی شہ رگ فوراً نہ کاٹ ڈالی جائے تو یہ اس کے نبی ہونے کا ثبوت ہے، حالانکہ اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ سچے نبی ﷺ کے بارے میں ہے کہ وہ بھی اگر ایسا کریں تو سخت قبل مؤاخذہ ہوں گے نہ کہ جھوٹے مدعی نبوت کے بارے میں جو کہ سراسر ظالم و گناہگار ہیں۔
تمت
Read the full tafseer →وانہ لتذکرۃ للمتقین . بلاشبہ قرآن اہل تقویٰ کیلئے ایک یادداشت ہے کیونکہ اہل تقویٰ کو ہی اس سے فائدہ پہنچتا ہے
فائدہ حضرت مجدد علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ للمتقین میں لام تخصیص کا ہے یعنی صرف متقیوں کے لیے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تلاوت قرآن فناء نفس کے بعد موجب ترقی درجات ہے کیونکہ تقویٰ کا (کامل) تصور فناء نفس سے پہلے ممکن نہیں اور قرآن صرف اہل تقویٰ کے لیے تذکرہ ہے (اس سے نتیجہ نکلا کہ قرآن فناء نفس کے بعد ہی موجب ترقی ہے) فناء نفس سے پہلے تلاوت اگرچہ نیک کام ہے اور نیکوں کا عمل ہے مگر رذائل نفس سے اجتناب رکھنے والے اہل قربت کے لیے نیکی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
(45۔ 48) اگر محمد ہمارے ذمہ کچھ جھوٹی باتیں لگا دیتے جو ہم نے نہیں کہیں تو حق و حجت کے ساتھ ان سے انتقام لیتے یا یہ کہ ہم ان کو قوت کے ساتھ پکڑ لیتے اور پھر ہم محمد کی رگ دل کاٹ ڈالتے پھر تم میں سے کوئی محمد کو اس سزا سے بچانے والا بھی نہ ہوتا بلا شبہ یہ قرآن کریم کفر و شرک اور بےحیائی کے کاموں سے بچنے والوں کے لیے نصیحت ہے۔
Read the full tafseer →(وانہ لتذکرہ للمثقین :) یعنی اس نصیحت سے فائدہ وہی اٹھائیں گے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
فما منکم من احدعنہ حجزین۔ مانا فیہ ہے احد جمع کے منی میں ہے اس وجہ سے اس کی صفت جمع سے لگائی گئی ہے یعنی تم میں سے کوئی ایسی قوم نہیں جو اس سے روکنے والی ہو جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، لانفرق بین احد من رسلہ (البقرۃ : 285) یہاں بھی احد جمع پر دال ہے کیونکہ بین کا لفظ دو یا زیادہ افراد پر ہی داخل ہوتا ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، لم تحل الغنائم لاحد سود الرئوس قبلکم تم میں سے کسی سردار کے لئے غنیمت حلال نہیں تھی۔ یہاں بھی لفظ احد ہے اس کا معنی جمع کا ہے اور بین زائد ہے حجز کا معین روکنا ہے حجزین کے بارے میں جائز ہے کہ یہ احد کی صفت ہو معنی مع تبار سے جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے تو یہ محل جر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
17۔ فریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ثم لقطعنا منہ الوتین۔ پھر ہم اس کی گردن کاٹ دیتے یعنی دل کی وہ رگ جو پیٹھ میں ہوتی ہے۔
18۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم لقطعنا منہ الوتین کے بارے میں فرمایا کہ ہم بیان کرتے تھے کہ وہ دل کی رگ ہے۔
19۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” الوتین “ سے مراد وہ رگ ہے جو پیٹھ میں ہوتی ہے۔
20۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ الوتین سے دل کی رگ مراد ہے۔
21۔ ابن ابی حاتم نے حصین بن عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا انسان کو…
Read the full tafseer →[وَاِنَّهٗ لَتَذْكِرَةٌ: اور بیشک یہ (قرآن) یقینا ایک یاددہانی ہے ][لِّلْمُتَّقِيْنَ : متقی لوگوں کے لیے ]
Read the full tafseer →رابعاً یہ فرمایا ﴿ وَ اِنَّهٗ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِيْنَ۠0048﴾ (اور بلاشبہ یہ قرآن نصیحت ہے تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–52
بیان عظمت کلام الہی وحقانیت وصداقت قرآن کریم :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فلا اقسم بما تبصرون ....... الی ....... فسبح باسم ربک العظیم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں اہل سعادت وشقاوت اور انکے احوال کا ذکر تھا اور بالخصوص مجرمین کی سزا اور قیامت کی شدت اور عرش الہی سے تمام فیصلوں کے نفاذ کا بیان تھا تو ممکن تھا کہ کوئی ملحد اور منکر ان باتوں کو سن کر یہ کہنے لگے کہ یہ تو شاعرانہ مبالغہ آرائی یا کاہنوں کی باتیں ہیں تو اس کے ازالہ اور رد کے لیے اب ان آیات میں قرآنی عظمت کا بیان ہے اور یہ کہ جو کچھ وحی الہی سے کہا گیا وہ رسول کریم ﷺ کا قول اور اللہ کا پیغام ہے اس میں ذرہ برابر مبالغہ یا استعارہ ومجاز کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
15:۔ ” وانہ لتذکرۃ “ یہ قرآن خدا سے ڈرنے والوں کے لیے سراپا عبرت و نصیحت ہے۔ ” وانا لنعلم “ ہم خوب جانتے ہیں کہ تم میں اس قرآن کو جھٹلانے والے بھی ہیں، ہم ان کو اس پر سخت سزا دیں گے اور یہ جھٹلانے والے آخر کف افسوس ملیں گے۔ جب وہ مومنوں کا ثواب اور کافروں کا عذاب دیکھیں گے تو انہیں سخت حسرت ہوگی کہ انہوں نے قرآن پر ایمان لا کر اس پر عمل کیوں نہ کیا۔ لحسرۃ، یعنی سبب حسرت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–52
گذشتہ سے پیوستہ :
سورۃ الحاقہ کے پہلے رکوع میں قیامت کا ذکر ہے۔ آخری آیتوں میں بنیادی عقائد کا بیان ہے منجملہ ان کے رسالت اور نبوت کا ذکر ہے۔ جس طرح کفار قیامت کا انکار کرتے تھے۔ اسی طرح حضور ﷺ السلام کی نبوت اور رسالت کے منکر تھے۔ پہلے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ بھی اسی قسم کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جب کہ لوگ ان کی تکازیب کرتے تھے۔ یہ لوگ نہ صرف پیغمبر کا انکار کرتے تھے۔ بلکہ وحی الہٰی اور اس کے لانے والے فرشتے کا بھی انکار کرتے تھے۔ کہتے تھے کہ یہ اپنے پاس سے باتیں گھڑ کر لایا ہے۔ خدا کا پیغام نہیں ہے۔ بعض شاعر اور کاہن کا خطاب دیتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ یہ غیب کی خبریں بتاتے ہیں۔ اور سچ…
Read the full tafseer →وَاِنَّہٗ لَتَذْكِرَۃٌ لِّلْمُتَّقِيْنَ 48
تَّذْكِرَةُ
: ما يتذكّر به الشیء، وهو أعمّ من الدّلالة والأمارة، قال تعالی: فَما لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ [ المدثر/ 49] ، كَلَّا إِنَّها تَذْكِرَةٌ [ عبس/ 11] ، أي : القرآن . وذَكَّرْتُهُ
التذکرۃ
جس کے ذریعہ کسی چیز کو یاد لایا جائے اور یہ دلالت اور امارت سے اعم ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ فَما لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ [ المدثر/ 49] ان کو کیا ہوا کہ نصیحت سے روگرداں ہورہے ہیں ۔ كَلَّا إِنَّها تَذْكِرَةٌ [ عبس/ 11] دیکھو یہ ( قرآن ) نصیحت ہے ۔ مراد قرآن پاک ہے ۔ ذَكَّرْتُهُ كذا
تَّقْوَى
والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–52
ترکیب : فلا اقسم قیل لامزیدۃ اوفلار ولانکارھم البعث ثم اقسم وقیل نافیۃ للقسم کانہ قال لا اقسم علی ان القرآن قول رسول کریم لظہورالامر واستغنائـہ عن التحقیق بالقسم انہ لقول الخ جواب القسم مؤکد بان واللام والا سمیّہ۔ وماھوالخ الجملۃ تاکید لقولہ انہ لقول رسول کریم قلیلا ما زائدۃ للتاکید ولابقول کا ھن عطف علیٰ قولہ بقول شاعر۔ تنزیل خبر متبدء ھو تنزیل تقول قرء الجمہور مبیناً للفاعل والتقول تکلف القول والافتراء والاقاویل جمع اقوال جمع قول کا بابیت جمع ابیات جمع بیت والاقوال المفتراۃ اقاویل تحقیر الھا لاخذنا جواب لوحاجزین وصف لاحد فانہ عام لکونہ نکرۃ واقعۃ فی سیاق النفی۔ حق الیقین من اضافۃ الصفۃ…
Read the full tafseer →وَاِنَّـہٗ لَتَذْکِرَۃٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ ۔ (الحآقۃ : 48)
(یہ تو ایک نصیحت ہے خدا سے ڈرنے والوں کے لیے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی ہے
اس میں ایک طرح سے آنحضرت ﷺ کو تسلی ہے اور کفار مکہ پر تعریض ہے۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اگر یہ لوگ آپ ﷺ پر ایمان نہیں لا رہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی قدر نہیں اور یہ انتہائی محروم اور بدقسمت لوگ ہیں۔ قابل قدر چیزیں ہمیشہ ان کے نصیب میں ہوتی ہیں جو قدر و منزلت والے ہوتے ہیں۔ گرے پڑے لوگ نعمت کی قدردانی سے بالعموم محروم رہتے ہیں۔ اس لیے آپ ﷺ پر ہم نے جو نعمت اتاری ہے یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نصیحت ہے لیکن یہ ان لوگوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–48
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کی تعلیمات میں اس کی سر فہرست تعلیم یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لایا جائے اور یہ یقین رکھا جائے کہ قیامت ہر صورت آنے والی ہے۔ نافرمان لوگ اللہ اور اس کے رسول اور قیامت پر ایمان لانے کی بجائے قرآن مجید کا ہی انکار کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ یہ شاعرانہ کلام ہے جس کی تردید کی جا رہی ہے۔
قسم ہے ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے بلاشک یہ قرآن رسول کریم ﷺ کی زبان سے پڑھا جاتا ہے یہ کسی شاعر کا کلام نہیں اگرچہ تم بہت کم لوگ ایمان لاتے ہو اور نہ قرآن کسی کاہن کا کلام ہے یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے لیکن تم بہت ہی…
Read the full tafseer →48 : وَاِنَّہٗ لَتَذْکِرَۃٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ (اور بلاشبہ قرآن متقیوں کیلئے نصیحت ہے)
Read the full tafseer →47 ۔” فما منکم من احد عنہ حاجزین “ روکنے والے جو ہمیں اس کی سزا سے روک دیں اور معنی یہ ہے کہ محمد ﷺ تمہاری وجہ سے جھوٹ کا تکلف نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے بات کی تو ہم ان کو عقاب کریں گے اور کوئی ایک ہماری سزا کو ان سے دور کرنے پر قادر نہ ہے اور ” حاجزین “ کہا ہے جمع کے ساتھ اور یہ ایک فعل ہے معنی پر رد کرتے ہوئے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” لانفرق بین احد من رسلہ “ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–52
44۔ 52۔ جس طرح اوپر گزرا کہ اہل مکہ قرآن کر شاعر یا کاہن کا کلام کہتے تھے اسی طرح وہ لوگ ایک بات یہ بھی کہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے دل سے یہ باتیں جوڑ لی ہیں جن باتوں کو انہوں نے کلام الٰہی مشہور کیا ہے اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں دیا اور فرمایا کہ غیب سے اس دین کی دن بدن مدد ہوتی چلی جاتی ہے دن بدن یہ دین ترقی پکڑتا جاتا ہے اس سے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ رسول ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے کیونکہ صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک جو مدد غیبی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی فرمائی ہے وہی مدد رسول کی…
Read the full tafseer →(وانہ) بیشک یہ قرآن کریم (لتذکرۃ للمتقین) ۔ پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ہے۔ وہ اپنے دین ودنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں چناچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حسنہ اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین، اور ائمہ مجتہدین بن جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
40 قرآن حکیم ایک عظیم الشان نصیحت و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ ایک عظیم الشان نصیحت اور یاد دہانی ہے۔ ایسی عظیم الشان کہ اس کی کوئی نظیر و مثال نہ اس سے پہلے کبھی ہوئی ہے ‘ نہ آئندہ قیامت تک کبھی ہوسکے گی۔ ایسی عظیم الشان کہ اس کی عظمت شان کا کوئی کنارہ نہیں۔ پس جس نے صدق دل سے اس کو گلے لگایا اس کا اپنآ بھلا ‘ اور جس نے اس سے منہ موڑا اس کا اپنا ہی خسارہ و نقصان ‘ والعیاذ باللہ سو بےخیرے اور محروم القسمت لوگ اگر اس کلام مجید کی قدر نہیں کرتے تو یہ ان کی اپنی بدبختی اور محرومی ہے ‘ مگر جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہ اس سے نصیحت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–52
قرآن مجید کے کلام الٰہی ہونے کا ثبوت
تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ قرآن کی سچائی معقولیت اور لاجواب کتاب ہونے پر قسم اٹھاتا ہے یہ قسم بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اٹھائی جا رہی ہے۔ یہاں کائنات میں موجود ہر اس چیز کی قسم کھائی گئی ہے جو ہماری نظروں کے سامنے واضح صورت میں موجود ہیں اور ان چیزوں کی بھی جو بیشمار مختلف صورتوں میں کائنات میں ہر طرف موجود ہیں اور ابھی تک کوئی محقق ان کو نہ دیکھ سکا ہے نہ ان کی وضاحت ہی کرسکا ہے۔ کہ قرآن پاک الہ العٰلمین کا کلام ہے معزز ترین فرشتے سیدناجبرائیل (علیہ السلام) کی زبان سے رسول کریم ﷺ تک پہنچایا گیا ہے۔ اور اس میں کوئی شک و شبہ یا تحریف و ترمیم ہرگز نہیں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–52
آیات 38 تا 52۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے ان چیزوں کی جو تمہیں دکھائی دیتی ہیں اور ان کی جو تم نہیں دیکھ سکتے کہ کائنات کی ہر شے اور ہر طاقت اس پر گواہ ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے جو ایک معزز فرشتے کے ذریعہ سے اللہ کے برحق رسول پہ نازل ہوا یعنی قرآن نے دیکھے ان دیکھے نتائج کے لیے بھی ایساجامع نظام حیات دیا کہ عقیدے عبادت سے لے کر عمل تک دنیا کے ہر خطے ہرموسم اور ہر قوم کے لیے بہترین نتائج پیدا کرتا ہے ظاہر ابھی جو نظر آتے ہیں اور باطلا بھی جو حقائق فی الحال نگاہ سے اوجھل ہیں اور آخرت میں سامنے آئیں گے بھلا ایسا کامل ومکمل نظام بجز اللہ کے کون دے سکتا ہے۔ یہ سب اس بات پر گواہ ہے کہ فرشتے کا لایا ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
ف 12 یعنی اسے ہمارے عذاب سے نہ بچا سکتا۔ یہ بات آنحضرت کی نبوت کی صداقت پر بطور دلیل کے نہیں فرمائی بلکہ یہاں اس سے مقصد یہ ہے کہ آنحضرت جو اللہ کے سچے پیغمبر ہیں اس قرآن میں اپن طرف سے ایک حرف ایک شوشہ کا بھی اضافہ نہیں کرسکتے۔ اگر آپ ایسا کرتے تو ایک لمحہ کے لئے بھی آپ کو مہلت نہ دی جاتی۔ اس آیت کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ جھوٹا نبی فوراً ہلاک کردیا جاتا ہے … اس زمانہ میں ایک جھوٹے مدعی نبوت نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ اگر میں جھوٹا ہوتا تو میری نبوت کا زمانہ 3 ہ سال سے زائد نہ ہوتا جو آنحضرت کی نبوت کا زمانہ ہے بلکہ میں اس سے پہلے ہی ہلاک کردیا جاتا۔ ایک استدلال غلط اور دوسرے نبوت کا…
Read the full tafseer →(69:48) وانہ لتذکرۃ للمتقین : انہ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب قرآن مجید کے لئے ہے لام تاکید کا۔ تذکرۃ بروزن (تفعلۃ) باب تفضیل کا مصدر ہے یاد دہانی ، نصیحت، یاد رکھنے کی چیز۔
متقین : اتقاء (افتعال) سے مصدر۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر بحالت جر ۔ پرہیزگار لوگ تقوی اسم مصدر۔ بمعنی نفس کو خوف کی چیز سے بچانا۔ اور شرع کی اصطلاح میں گناہ کی بات سے نفس کی حفاظت کو تقوی کہتے ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
لغات القرآن۔
الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں)
رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔
دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–52
(ف 1) شان نزول :
نسائی ، تفسیر ابن حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نضر بن حارث اور قریش میں کے سرکش لوگوں نے جب اللہ سے عذاب کی خواہش کی اور یہ کہا کہ جو کچھ محمد ﷺ کہتے ہیں اگر وہ حق بات ہے اور ہم لوگ اس کو نہیں مانتے ہیں تو خدا کرے ہم لوگوں پر پتھر آسمان سے برسیں یا اور کوئی سخت عذاب ہم لوگوں پر نازل ہوجائے ، اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ہیں اور فرمایا کہ یہ قریش میں کے سرکش لوگ عذاب الٰہی کو دورگن کر اس طرح کی سرکشی باتیں کرتے ہیں مگر اللہ کے نزدیک پچھلی قوموں کی طرح نہ ان مشرکوں پر دنیا میں کوئی عذاب نازل کردینا ، کچھ دور ہے نہ عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
[16] اصل میں لفظ '' وتین '' استعمال ہوا ہے جس کے معنی شہ رگ کے ہیں جو گردن سے ہو کر گزرتی ہے اور سر اور دل کے درمیان ایک رابطہ ہے اگر اس کو کاٹ دیا جائے تو جان نکل جاتی ہے۔ آیت کے لفظی معنی تو یہ ہیں کہ '' ہم نے اس کی رگ گردن کاٹ دی ہوتی ''۔ لیکن اردو کے محاورے کے اعتبار سے یہاں لازم معنی اختیار کئے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
ف 2: ان آیات میں قرآن کی صداقت اور حقانیت کے متعلق فرمایا ہے ۔ کہ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کی تشقی ایمان کا پورا پورا سامان موجود ہے ۔ جو پاکباز ہیں جس کے قلب و دماغ میں تعصی وجہل کی تاریکی نہیں ہے ۔ جو دیانتداری کے ساتھ اس کو سمجھنا چاہتے ہیں ۔ اور خلوص کے ساتھ حق کے خواستگار ہیں ۔
حل لغات :۔ قلیلا ماتومنون ۔ قلیل عربی میں ایسے مواقع پر بالعموم یا قیام کے معنے میں آتا ہے تقول ۔ افترا اور جھوٹ سیکام لے الوتین ۔ رگ ال والحق ثین ۔ یعنی قرآن ثبوت اور حقانفت میں اس مقام پر فائز ہے ۔ جہاں اولیٰ ترین شک بھی راہ نہیں پاسکتا ۔
Read the full tafseer →(48) اور بلا شبہ یہ قرآن پرہیزگاروں کے لئے نصیحت ہی نصیحت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
ف 9۔ رگ دل کاٹنے سے آدمی مرجاتا ہے، مراد اس سے قتل ہے، اور یہ کنایہ ہے اماتت سے نفسا یا حجة یعنی جھوٹا مدعی نبوت موید بالحجة نہیں ہوتا، بلکہ یا ہلاک ہوتا ہے یا ظہور کذب سے رسوا و ذلیل ہوتا ہے، پس مطلق اماتت کو اخذ یمین و قطع وتین سے تشبیہا تعبیر فرمادیا گیا۔
Read the full tafseer →اور بلاشبہ یہ تو پرہیزگاروں کے لئے ایک نصیحت ہے
48 ؎ یہ قرآن کریم کا ماحصل بتایا جا رہا ہے کہ ہم جو کچھ محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کر رہے ہیں وہ کیا ہے ؟ فرمایا وہ تو سراسر نصیحت ہے اور ظاہر ہے کہ نصیحت ان ہی لوگوں کے لئے کارگر ہوتی ہے جو نصیحت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور نصیحت حاصل کرنا بھی چاہتے ہیں اور قرآن کریم کی زبان میں ان ہی لوگوں کو متقین کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم کو شروع کرتے وقت بھی یہی بات ارشاد فرمائی تھی کہ یہ قرآن کریم ہدایت ہے لیکن متقین کے لئے اور اس میں ارشاد فرمایا کہ تذکرہ ہے یعنی نصیحت ہے لیکن ان لوگوں کے لئے جو متقین ہیں۔ گویا بات کو سن لینے اور اس کو قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–51
وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ ﴿44﴾ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ﴿45﴾ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ﴿46﴾
And had he forged some statements in Our name, We would have certainly seized him by the right hand, and then severed his life-astery,…(69:44-46)
The word taqawwul means 'to forge, fabricate or concoct' and the word watin refers to 'aorta or life-artery'. This is the main artery that carries blood from the heart to other parts of the body. Once this artery is cut off, death occurs instantly.
The foregoing verses refute the outrageous thoughts of the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
26 That is, the Qur'an is an admonition for those who wish to avoid wrongdoing and its evil consequences. (For explanation, see E.N. 3 of Al-Baqarah) .
Read the full tafseer →