Al-Haaqqa 69:47

Al-Haaqqa · from ayah 47

69:47

فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِیْنَ ۟فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حَاجِزِيۡنَ

پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And there is no one of you who could prevent [Us] from him.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa

All translations of 69:47

پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اس کام سے روکنے والا نہ ہوتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر تم میں سے کوئی بھی مجھے اس سے روکنے واﻻ نہ ہوتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر تم میں سے کوئی نہ ہوتا جو ان کے بچاؤ کے لیے آڑے آسکتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر تم میں کوئی ان کا بچانے والا نہ ہوتا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر تم میں سے کوئی بھی (ہمیں) اِس سے روکنے والا نہ ہوتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر تم میں سے کوئی بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تو تم میں سے کوئی بھی ہمیں اس کام سے روکنے والا نہ ہوتا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس تم میں سے کوئی بھی اس سے ہم کو روکنے والا نہ بن سکتا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس صورت میں تم میں سے کوئی بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا

— مولانا اسحاق مدنی

پھر تم میں سے کوئی ان کا اس (سزا) سے بچانے والا نہ ہوتا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر تم میں سے کوئی بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر تم میں سے کوئی ہمیں روکنے والا نہ ہوتا

— محترمہ رفعت اعجاز

and not one of you would have been able to withhold Us from doing so.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and none of you could have saved him from it.

— Muhammad Taqi Usmani

and none of you could have saved him from it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And none of you could have prevented it from him.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And not one of you could have held Us off from him.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And there is no one of you who could prevent [Us] from him.

— Saheeh International

None of you would be able to prevent Us from doing this to him.

— Muhammad Sarwar

And not one of you could have withheld Us from him.

— Muhammad Habib Shakir

And not one of you would have withheld us from punishing him.

— Abdul Majid Daryabadi

Nor could any of you withhold him (from Our wrath).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 69:47

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 44–52

ہدایت اور شفا قرآن حکیم یہاں فرمان باری ہے کہ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کردیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے یعنی اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آسکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے، پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب ﷺ سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لئے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ ﷺ کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ ﷺ کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَآقَّة 25 اصل مقصود یہ بتانا ہے کہ نبی کو اپنی طرف سے وحی میں کوئی کمی بیشی کرنے کا اختیار نہیں ہے، اور اگر وہ ایسا کرے تو ہم اس کو سخت سزا دیں۔ مگر اس بات کو ایسے انداز سے بیان کیا گیا ہے جس سے آنکھوں کے سامنے یہ تصویر کھنچ جاتی ہے کہ ایک بادشاہ کا مقرر کردہ افسر اس کے نام سے کوئی جعلسازی کرے تو بادشاہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کا سر قلم کر دے۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ غلط استدلال کیا ہے کہ جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے، اس کی رگ دل یا رگ گردن اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فوراً نہ کاٹ ڈالی جائے تو یہ اس کے نبی ہونے کا ثبوت ہے۔ حالانکہ اس آیت میں جو بات فرمائی گئی ہے وہ سچے نبی کے بارے میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 44–51

(آیت) وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا الخ، تقول کے معنی بات گھڑنے کے ہی اور وہ تین قلب سے نکلنے والی وہ رگ ہے۔ جس سے روح جسم انسانی میں پھیلتی ہے اس کے قطع کردینے سے موت فوراً واقع ہوجاتی ہے۔ سابقہ آیات میں کفار مکہ کے اس بےہودہ خیال کا رد کیا گیا تھا، کوئی آپ کو شاعر اور آپ کے کلام کو شعر کہتا تھا، کوئی آپ کو کاہن اور کلام کو کہانت کہتا تھا۔ کاہن وہ شخص ہوتا ہے جو کچھ شیاطین سے خبریں پا کر کچھ نجوم کے اثرات سے معلوم کرنے کے آنے والے واقعات میں اٹکل بچو باتیں کیا کرتا تھا۔ غرض آپ کو اشعر یا کاہن کہنے والوں کے الزام کا حاصل یہ تھا کہ آپ جو کلام سناتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے نہیں، آنحضرت ﷺ نے خود اپنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’فَمَا مِنۡکُمۡ مِّنْ اَحَدٍ عَنْہُ حَاجِزِیْنَ‘۔ یہ قریش سے خطاب ہے کہ قرآن میں اپنے حسب منشا ترمیم کا مطالبہ تو کر رہے ہو لیکن خدا کی گرفت سے اس کو تم میں سے بچانے والا کون بنے گا! لفظ ’اَحَد‘ چونکہ جمع کے مفہوم میں آتا ہے جیسے ’لَسْتُنَّ کَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ‘ (الاحزاب ۳۳: ۳۲) میں ہے۔ اس وجہ سے ’حَاجِزِیْنَ‘ کا جمع آنا عربیت کے بالکل مطابق ہے۔ رسولوں کی حفاظت ان کی ذمہ داری کے اعتبار سے ہوتی ہے: یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس طرح کی کڑی نگرانی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی کرتا ہے جن کو وہ منصب رسالت پر مامور فرماتا ہے اس لیے کہ ان کی تحویل میں وحی کا خزانہ ہوتا ہے جس کی حفاظت ضروری ہے۔ اس سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

47۔ 1 اس سے معلوم ہوا کہ حضرت محمد ﷺ سچے رسول تھے، جن کو اللہ نے سزا نہیں دی، بلکہ دلائل و معجزات اور اپنی خاص تائید و نصرت سے انہیں نوازا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 47–49

10: فرمایا جارہا ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی غلط بات منسوب کرے تو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں اسے رسوا بھی فرماتے ہیں، اور اس کو عذاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لئے اگر (خدانخواستہ) حضور اقدس ﷺ کا نبوت کا دعوی درست نہ ہوتا اور آپ (معاذاللہ) جھوٹی باتیں بناکر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے تو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں آپ کے ساتھ وہ معاملہ فرماتے جس کا ذکر ان آیتوں میں کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 44–47

ولو تقول .................... حجزین ان آیات کا مطلب یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ خود تمہارے اقوال کے مطابق بھی صادق وامین ہیں۔ اور اگر انہوں نے اس کلام سے کوئی بات اپنی طرف سے بنائی ہوتی تو ہم اس کو اپنی گرفت میں لے لیتے اور چونکہ آپ پر خدا کی پکڑ نہیں آئی ، اس لئے لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ آپ سچے ہیں۔ یہ تو تھا ایک مثبت استدلالی نظریہ اور ثبوت ، لیکن جس انداز میں یہ بات کی گئی ہے وہ ایک مکمل اور متحرک منظر کا انداز ہے۔ مثلاً یوں نظر آتا ہے کہ جس طرح ایک قوی تر انسان باز پرس کے لئے کسی کو پکڑ لے اپنے دائیں ہاتھ سے ، اور پھر اس کی رگ جان کاٹ دے۔ یہ بھی نہایت ہی سخت اور متاثر کردینے والا منظر ہے۔ اس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 44–47

10 حضرت شاہ عبدالقادر (رح) لکھتے ہیں " یعنی اگر جھوٹ بناتا اللہ پر تو اول اس کا دشمن اللہ ہوتا اور ہاتھ پکڑتا یہ دستور ہے گردن مارنے کا کہ جلاد اس کا داہنا ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر پکڑ رکھتا ہے تاکہ سرک نہ جائے حضرت شاہ عبدالعزیز (رح) فرماتے ہیں " کہ " تقول " کی ضمیر رسول کی طرف لوٹتی ہے یعنی اگر رسول بالفرض کوئی حرف اللہ کی طرف منسوب کر دے یا اس کے کلام میں اپنی طرف سے ملا دے جو اللہ نے نہ کہا ہو تو اسی وقت اس پر یہ عذاب کیا جائے (العیاذ باللہ) کیونکہ اس کی تصدیق اور سچائی آیات بینات اور دلائل وبراہین کے ذریعہ سے ظاہر کی جا چکی ہے۔ اب اگر اس قسم کی بات پر فوراً عذاب اور سزا نہ کی جائے تو وحی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 46–47

آیت 46{ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ۔ } ”پھر اس کی گردن کاٹ ڈالتے۔“ اس اسلوب اور لہجے میں جو سختی ہے یہ دراصل ان لوگوں کے لیے ہے جو قرآن کو کلام اللہ ماننے کے لیے تیار نہیں تھے اور کہتے تھے کہ محمد ﷺ خود اپنی طرف سے باتیں بنا کر اللہ کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔ انہیں بتایا جا رہا ہے کہ بدبختو ! تم ہمارے رسول کریم ﷺ کے مرتبے کو کیا سمجھو ! کسی رسول کا یہ مقام نہیں ہے کہ وہ اپنے رب کے کلام میں اپنی طرف سے کوئی ملاوٹ کرے۔ وہ تم لوگوں تک ٹھیک ٹھیک وہی کچھ پہنچا رہے ہیں جو ہمارا کلام ہے۔ بفرضِ محال اگر وہ اپنی طرف سے کوئی بات گھڑ کر ہماری طرف منسوب کردیں تو یہ کوئی معمولی سا جرم نہیں ہے جس کا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 47–48

25 قادیانیوں کا مرزا قادیانی کی نبوت پر استدلال اور اس کا جواب :۔ ذرا سوچو اگر کسی بادشاہ کا کوئی سفیر یا نائب بادشاہ کا پیغام پہنچانے کی بجائے اپنی طرف سے ہی پیغام دینا شروع کردے اور یہ کہے کہ یہ بادشاہ کی طرف سے پیغام ہے تو بادشاہ اپنے ایسے غدار سفیر یا نائب سے کیا سلوک کرے گا۔ اسے جلاد کے حوالے کرنے کی بجائے یہ چاہے گا کہ خود اپنے ہاتھ سے اس کی گردن اڑا دے۔ پھر کیا اگر اللہ کا یہ رسول اپنی طرف سے باتیں بناکر انہیں اللہ کی طرف منسوب کردے تو کیا اللہ اسے معاف کر دے گا ؟ وہ تو اللہ کی نظروں میں سب سے بڑا مجرم ہوگا۔ جس نے اللہ کے کلام میں اپنا کلام شامل کرکے اس سارے کلام کو ہی مشکوک اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 44–47

18۔ یعنی ان کا دعوی کسی طرح سرسبز نہ ہونے دیتے، اور اسے یہیں سزا دے دیتے۔ (آیت) ” ولو .... الاقاویل “۔ یعنی جو کلام حق تعالیٰ کا نہیں اسے یہ حق تعالیٰ کا کلام قرار دے کر نبوت کا جھوٹا دعوی کردیتے۔ (آیت) ” لقطعنا منہ الوتین “۔ قطع وتین سے مراد ہلاک کردینا ہے۔ قال ابن قتیبۃ لم یرد انا نقطعہ بعینہ بل المراد انہ لوکذبہ لامتناہ (کبیر) (آیت) ” الاقاویل “۔ گڑھی ہوئی باتوں کے لئے قول کی جمع اقاویل بروزن اعاجیب واضاحیک۔ اس کی تحقیر وذم کے لئے لائی گئی ہے۔ سمی الاقوال المتقولۃ اقاویل تحقیرا لھا کقولک الاعاجیب والاضاحیک (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اسی طرح جھوٹا مدعی ولایت بھی ہلاک کردیا جاتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 44–52

ولو تقول علینا بعض الاقاویل مطلب یہ کہ نبی ﷺ کو اپنی طرف سے وحی میں کسی کمی بیشی کا اختیار نہیں ہے، اور اگر وہ ایسا کرے تو ہم اس کو سخت سزا دیں، بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ غلط استدلال کیا ہے کہ جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے اس کی شہ رگ فوراً نہ کاٹ ڈالی جائے تو یہ اس کے نبی ہونے کا ثبوت ہے، حالانکہ اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ سچے نبی ﷺ کے بارے میں ہے کہ وہ بھی اگر ایسا کریں تو سخت قبل مؤاخذہ ہوں گے نہ کہ جھوٹے مدعی نبوت کے بارے میں جو کہ سراسر ظالم و گناہگار ہیں۔ تمت

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فما منکم من احد . اوّل من بیانیہ ہے اور منکم حال ہے من احد میں من زائد ہے تم میں سے کوئی بھی ہم کو عنہ حاجزین . قتل یا مقتول مفتری کی گرفت سے ہم کو روکنے والا نہیں۔ اَحْدٍ لفظ مفرد اور معنیً جمع ہے اس لیے حاجزین کو جمع لایا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 45–48

(45۔ 48) اگر محمد ہمارے ذمہ کچھ جھوٹی باتیں لگا دیتے جو ہم نے نہیں کہیں تو حق و حجت کے ساتھ ان سے انتقام لیتے یا یہ کہ ہم ان کو قوت کے ساتھ پکڑ لیتے اور پھر ہم محمد کی رگ دل کاٹ ڈالتے پھر تم میں سے کوئی محمد کو اس سزا سے بچانے والا بھی نہ ہوتا بلا شبہ یہ قرآن کریم کفر و شرک اور بےحیائی کے کاموں سے بچنے والوں کے لیے نصیحت ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 44–47

ولو تقول علینا بعض الاقاویل…: ان آیات میں کفار کی اس بات کا رد ہے کہ یہ باتیں رسول اللہ ﷺ نے اپنے دل سے بنا کر اللہ کے ذمے لگا دی ہیں۔ فرمایا جب یہ ثابت ہوگیا کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور آپ کی کہی ہوئی ہر بات اللہ کی بات ہے تو اب اگر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے ذمے باتیں لگانے دے اور اس پر انہیں کچھ نہ کہے تو وہ سب باتیں اللہ یک باتیں سمجھی جائیں گی، اللہ تعالیٰ اس کی اجازت کس طرح دے سکتا ہے ؟ فرمایا ، اگر ہمارا ی ہ سچا رسول کوئی بات گھڑ کر ہمارے ذمے لگا دیتا تو اس جعل سازی کے جرم میں ہم اس کا دائیاں ہاتھ پکڑ کر اس کی جان ک رگ کاٹ دیتے اور کوی شخص رستے میں رکاوٹ نہ بن سکتا۔ بعض لوگوں نے اس آیت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 47–48

فما منکم من احدعنہ حجزین۔ مانا فیہ ہے احد جمع کے منی میں ہے اس وجہ سے اس کی صفت جمع سے لگائی گئی ہے یعنی تم میں سے کوئی ایسی قوم نہیں جو اس سے روکنے والی ہو جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، لانفرق بین احد من رسلہ (البقرۃ : 285) یہاں بھی احد جمع پر دال ہے کیونکہ بین کا لفظ دو یا زیادہ افراد پر ہی داخل ہوتا ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، لم تحل الغنائم لاحد سود الرئوس قبلکم تم میں سے کسی سردار کے لئے غنیمت حلال نہیں تھی۔ یہاں بھی لفظ احد ہے اس کا معنی جمع کا ہے اور بین زائد ہے حجز کا معین روکنا ہے حجزین کے بارے میں جائز ہے کہ یہ احد کی صفت ہو معنی مع تبار سے جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے تو یہ محل جر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 46–49

17۔ فریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ثم لقطعنا منہ الوتین۔ پھر ہم اس کی گردن کاٹ دیتے یعنی دل کی وہ رگ جو پیٹھ میں ہوتی ہے۔ 18۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم لقطعنا منہ الوتین کے بارے میں فرمایا کہ ہم بیان کرتے تھے کہ وہ دل کی رگ ہے۔ 19۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” الوتین “ سے مراد وہ رگ ہے جو پیٹھ میں ہوتی ہے۔ 20۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ الوتین سے دل کی رگ مراد ہے۔ 21۔ ابن ابی حاتم نے حصین بن عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا انسان کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَمَا مِنْكُمْ : تو نہ ہوتا تم میں سے ][ مِّنْ اَحَدٍ : کوئی ایک بھی ][ عَنْهُ حٰجِـزِيْنَ : اس سے روکنے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 44–47

ثالثاً یہ فرمایا : ﴿ وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلۙ0044 لَاَخَذْنَا مِنْهُ بالْيَمِيْنِۙ0045 ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَٞۖ0046 فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِيْنَ 0047﴾ (اور اگر یہ شخص ہمارے ذمہ کچھ باتیں لگا دیتا تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے پھر ہم اس کے دل کی رگ کاٹ ڈالتے پھر تم میں سے کوئی اسے سزا سے بچانے والا نہ ہوتا) ۔ ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کے دعویٰ نبوت کو سچا ثابت فرمایا ہے ارشاد فرمایا کہ یہ شخص جو دعویٰ کرتا ہے کہ میں اللہ کا رسول اور نبی ہوں اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ نے کتاب نازل فرمائی ہے اگر یہ ہماری طرف کچھ جھوٹی باتیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–52

بیان عظمت کلام الہی وحقانیت وصداقت قرآن کریم : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فلا اقسم بما تبصرون ....... الی ....... فسبح باسم ربک العظیم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں اہل سعادت وشقاوت اور انکے احوال کا ذکر تھا اور بالخصوص مجرمین کی سزا اور قیامت کی شدت اور عرش الہی سے تمام فیصلوں کے نفاذ کا بیان تھا تو ممکن تھا کہ کوئی ملحد اور منکر ان باتوں کو سن کر یہ کہنے لگے کہ یہ تو شاعرانہ مبالغہ آرائی یا کاہنوں کی باتیں ہیں تو اس کے ازالہ اور رد کے لیے اب ان آیات میں قرآنی عظمت کا بیان ہے اور یہ کہ جو کچھ وحی الہی سے کہا گیا وہ رسول کریم ﷺ کا قول اور اللہ کا پیغام ہے اس میں ذرہ برابر مبالغہ یا استعارہ ومجاز کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 44–47

14:۔ ” ولو تقول “ یہ صداقت رسول ﷺ کی دلیل ہے۔ یمین کے معنی قوت وقدرت کے ہیں۔ اگر بالفرض محمد ﷺ ہمارے ذمہ کوئی جھوٹی بات لگا دیتے، تو ہم ان کو پوری قوت کے ساتھ مواخذہ کرتے اور ان کی رگ حیات کاٹ دیتے اور پھر تم میں سے کوئی بھی ان کو ہماری گرفت سے نہ بچا سکتا، چونکہ اللہ کی طرف سے آپ پر کسی قسم کا عذاب نازل نہیں ہوا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور آپ جو کچھ بھی بیان فرماتے ہیں وہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔ دجالِ قادیان مرزا غلام احمد نے اس آیت سے اپنی صداقت پر استدلال کیا ہے کہ اگر وہ جھوٹا ہوتا تو اس کی رگ حیات کاٹ دی جاتی۔ مگر ایسا نہیں ہوا، لہذا وہ اپنے دعوی میں مفتری نہیں۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 38–52

گذشتہ سے پیوستہ : سورۃ الحاقہ کے پہلے رکوع میں قیامت کا ذکر ہے۔ آخری آیتوں میں بنیادی عقائد کا بیان ہے منجملہ ان کے رسالت اور نبوت کا ذکر ہے۔ جس طرح کفار قیامت کا انکار کرتے تھے۔ اسی طرح حضور ﷺ السلام کی نبوت اور رسالت کے منکر تھے۔ پہلے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ بھی اسی قسم کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جب کہ لوگ ان کی تکازیب کرتے تھے۔ یہ لوگ نہ صرف پیغمبر کا انکار کرتے تھے۔ بلکہ وحی الہٰی اور اس کے لانے والے فرشتے کا بھی انکار کرتے تھے۔ کہتے تھے کہ یہ اپنے پاس سے باتیں گھڑ کر لایا ہے۔ خدا کا پیغام نہیں ہے۔ بعض شاعر اور کاہن کا خطاب دیتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ یہ غیب کی خبریں بتاتے ہیں۔ اور سچ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْہُ حٰجِـزِيْنَ۝ 47 حجز الحَجْزُ : المنع بين الشيئين بفاصل بينهما، يقال : حَجَزَ بينهما . قال عزّ وجل : وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حاجِزاً [ النمل/ 61] ، والحِجَاز سمّي بذلک لکونه حاجزا بين الشام والبادية، قال تعالی: فَما مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حاجِزِينَ [ الحاقة/ 47] ، فقوله : حاجِزِينَ صفة لأحد في موضع الجمع، والحِجَاز حبل يشدّ من حقو البعیر إلى رسغه، وتصوّر منه معنی الجمع، فقیل : احتجز فلان عن کذا واحتجز بإزاره، ومنه : حُجْزَة السراویل، وقیل : إن أردتم المحاجزة فقبل المناجزة «1» ، أي : الممانعة قبل المحاربة، وقیل : حَجَازيك، أي : احجز بينهم . ( ح ج ز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 38–52

ترکیب : فلا اقسم قیل لامزیدۃ اوفلار ولانکارھم البعث ثم اقسم وقیل نافیۃ للقسم کانہ قال لا اقسم علی ان القرآن قول رسول کریم لظہورالامر واستغنائـہ عن التحقیق بالقسم انہ لقول الخ جواب القسم مؤکد بان واللام والا سمیّہ۔ وماھوالخ الجملۃ تاکید لقولہ انہ لقول رسول کریم قلیلا ما زائدۃ للتاکید ولابقول کا ھن عطف علیٰ قولہ بقول شاعر۔ تنزیل خبر متبدء ھو تنزیل تقول قرء الجمہور مبیناً للفاعل والتقول تکلف القول والافتراء والاقاویل جمع اقوال جمع قول کا بابیت جمع ابیات جمع بیت والاقوال المفتراۃ اقاویل تحقیر الھا لاخذنا جواب لوحاجزین وصف لاحد فانہ عام لکونہ نکرۃ واقعۃ فی سیاق النفی۔ حق الیقین من اضافۃ الصفۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 44–47

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ ۔ لَاَخَذْنَامِنْہُ بِالْیَمِیْنِ ۔ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ ۔ فَمَا مِنْـکُمْ مِّنْ اَحَدٍعَنْـہُ حٰجِزِیْنَ ۔ (الحآقۃ : 44 تا 47) (اور اگر یہ ہم پر کوئی بات گھڑ کر لگاتا۔ تو ہم اس کو دہنے ہاتھ سے پکڑ لیتے۔ پھر ہم اس کی شہ رگ کاٹ دیتے۔ پس تم میں سے کوئی بھی اس سے ہم کو روکنے والا نہ ہوتا۔ ) کفار کے الزام کا جواب کفار کا الزام یہ تھا کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول نہیں اور نہ ان پر کلام خداوندی نازل ہوتا ہے بلکہ یہ اپنی طرف سے کچھ باتیں گھڑ لیتے ہیں اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرکے لوگوں کو سناتے ہیں۔ اس الزام کا جواب دیتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 38–48

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی تعلیمات میں اس کی سر فہرست تعلیم یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لایا جائے اور یہ یقین رکھا جائے کہ قیامت ہر صورت آنے والی ہے۔ نافرمان لوگ اللہ اور اس کے رسول اور قیامت پر ایمان لانے کی بجائے قرآن مجید کا ہی انکار کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ یہ شاعرانہ کلام ہے جس کی تردید کی جا رہی ہے۔ قسم ہے ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے بلاشک یہ قرآن رسول کریم ﷺ کی زبان سے پڑھا جاتا ہے یہ کسی شاعر کا کلام نہیں اگرچہ تم بہت کم لوگ ایمان لاتے ہو اور نہ قرآن کسی کاہن کا کلام ہے یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے لیکن تم بہت ہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

47 : فَمَا مِنْکُمْ (پس تم میں کوئی نہ ہوتا) اس میں لوگوں کو خطاب فرمایا یا مسلمانوں کو خطاب فرمایا۔ مِّنْ اَحَدٍ (کوئی ایک) منؔ زائدہ ہے۔ عَنْہُ (محمد ﷺ کو قتل سے) حَاجِزِیْنَ (سزا سے بچانے والا) یہ جمع لائے احد ؔ کی صفت ہے جو کہ مفرد ہے۔ کیونکہ احد جماعت کے معنی میں ہے جیسا اللہ تعالیٰ کے اس قول میں لانفرق بین احدٍ من رسلہٖ ] البقرہ : 285 [

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

46 ۔” ثم لقطعنا منہ الوتین “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یعنی دل میں اور یہ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں وہ رسی جو پیٹھ میں ہوتی ہے اور کہا گیا ہے وہ رگ ہے پیٹھ میں جاری ہوتی ہے دل تک پہنچتی ہے۔ جب یہ کٹ جائے تو انسان مرجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 44–52

44۔ 52۔ جس طرح اوپر گزرا کہ اہل مکہ قرآن کر شاعر یا کاہن کا کلام کہتے تھے اسی طرح وہ لوگ ایک بات یہ بھی کہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے دل سے یہ باتیں جوڑ لی ہیں جن باتوں کو انہوں نے کلام الٰہی مشہور کیا ہے اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں دیا اور فرمایا کہ غیب سے اس دین کی دن بدن مدد ہوتی چلی جاتی ہے دن بدن یہ دین ترقی پکڑتا جاتا ہے اس سے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ رسول ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے کیونکہ صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک جو مدد غیبی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی فرمائی ہے وہی مدد رسول کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 45–48

40 قرآن حکیم ایک عظیم الشان نصیحت و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ ایک عظیم الشان نصیحت اور یاد دہانی ہے۔ ایسی عظیم الشان کہ اس کی کوئی نظیر و مثال نہ اس سے پہلے کبھی ہوئی ہے ‘ نہ آئندہ قیامت تک کبھی ہوسکے گی۔ ایسی عظیم الشان کہ اس کی عظمت شان کا کوئی کنارہ نہیں۔ پس جس نے صدق دل سے اس کو گلے لگایا اس کا اپنآ بھلا ‘ اور جس نے اس سے منہ موڑا اس کا اپنا ہی خسارہ و نقصان ‘ والعیاذ باللہ سو بےخیرے اور محروم القسمت لوگ اگر اس کلام مجید کی قدر نہیں کرتے تو یہ ان کی اپنی بدبختی اور محرومی ہے ‘ مگر جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہ اس سے نصیحت اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 38–52

قرآن مجید کے کلام الٰہی ہونے کا ثبوت تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ قرآن کی سچائی معقولیت اور لاجواب کتاب ہونے پر قسم اٹھاتا ہے یہ قسم بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اٹھائی جا رہی ہے۔ یہاں کائنات میں موجود ہر اس چیز کی قسم کھائی گئی ہے جو ہماری نظروں کے سامنے واضح صورت میں موجود ہیں اور ان چیزوں کی بھی جو بیشمار مختلف صورتوں میں کائنات میں ہر طرف موجود ہیں اور ابھی تک کوئی محقق ان کو نہ دیکھ سکا ہے نہ ان کی وضاحت ہی کرسکا ہے۔ کہ قرآن پاک الہ العٰلمین کا کلام ہے معزز ترین فرشتے سیدناجبرائیل (علیہ السلام) کی زبان سے رسول کریم ﷺ تک پہنچایا گیا ہے۔ اور اس میں کوئی شک و شبہ یا تحریف و ترمیم ہرگز نہیں کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 38–52

آیات 38 تا 52۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان چیزوں کی جو تمہیں دکھائی دیتی ہیں اور ان کی جو تم نہیں دیکھ سکتے کہ کائنات کی ہر شے اور ہر طاقت اس پر گواہ ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے جو ایک معزز فرشتے کے ذریعہ سے اللہ کے برحق رسول پہ نازل ہوا یعنی قرآن نے دیکھے ان دیکھے نتائج کے لیے بھی ایساجامع نظام حیات دیا کہ عقیدے عبادت سے لے کر عمل تک دنیا کے ہر خطے ہرموسم اور ہر قوم کے لیے بہترین نتائج پیدا کرتا ہے ظاہر ابھی جو نظر آتے ہیں اور باطلا بھی جو حقائق فی الحال نگاہ سے اوجھل ہیں اور آخرت میں سامنے آئیں گے بھلا ایسا کامل ومکمل نظام بجز اللہ کے کون دے سکتا ہے۔ یہ سب اس بات پر گواہ ہے کہ فرشتے کا لایا ہوا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 47–48

ف 12 یعنی اسے ہمارے عذاب سے نہ بچا سکتا۔ یہ بات آنحضرت کی نبوت کی صداقت پر بطور دلیل کے نہیں فرمائی بلکہ یہاں اس سے مقصد یہ ہے کہ آنحضرت جو اللہ کے سچے پیغمبر ہیں اس قرآن میں اپن طرف سے ایک حرف ایک شوشہ کا بھی اضافہ نہیں کرسکتے۔ اگر آپ ایسا کرتے تو ایک لمحہ کے لئے بھی آپ کو مہلت نہ دی جاتی۔ اس آیت کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ جھوٹا نبی فوراً ہلاک کردیا جاتا ہے … اس زمانہ میں ایک جھوٹے مدعی نبوت نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ اگر میں جھوٹا ہوتا تو میری نبوت کا زمانہ 3 ہ سال سے زائد نہ ہوتا جو آنحضرت کی نبوت کا زمانہ ہے بلکہ میں اس سے پہلے ہی ہلاک کردیا جاتا۔ ایک استدلال غلط اور دوسرے نبوت کا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(69:47) فما منکم من احد عنہ حاجزین : ما نافیہ ہے منکم خطاب عام ہے ای ایھا الناس اے لوگو ! من احد میں من زائدہ ہے احد مبتداء حاجزین اس کی خبر۔ (احد لفظا واحد لیکن معنی جمع آیا ہے اس لئے حاجزین کو جمع لایا گیا ہے۔ عنہ ای عن ھذا الفعل وھو القتل۔ اس سے مراد یہ فعل یعنی وتین کا کاٹ دینا اور صاحب رگ کو مار ڈالنا) ۔ ترجمہ ہوگا :۔ پھر تم میں سے کوئی ان کو اس سزا سے بچانے والا بھی نہ ہوتا۔ (ترجمہ مولانا اشرف علی (رح) تعالی) ۔ حاجزین : حجز (باب نصر، ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر بمعنی روکنے والے ۔ الحجز کے معنی دو چیزوں کے درمیان روک اور حد فاصل بنانے کے ہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے :۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–52

لغات القرآن۔ الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں) رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔ دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 44–52

(ف 1) شان نزول : نسائی ، تفسیر ابن حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نضر بن حارث اور قریش میں کے سرکش لوگوں نے جب اللہ سے عذاب کی خواہش کی اور یہ کہا کہ جو کچھ محمد ﷺ کہتے ہیں اگر وہ حق بات ہے اور ہم لوگ اس کو نہیں مانتے ہیں تو خدا کرے ہم لوگوں پر پتھر آسمان سے برسیں یا اور کوئی سخت عذاب ہم لوگوں پر نازل ہوجائے ، اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ہیں اور فرمایا کہ یہ قریش میں کے سرکش لوگ عذاب الٰہی کو دورگن کر اس طرح کی سرکشی باتیں کرتے ہیں مگر اللہ کے نزدیک پچھلی قوموں کی طرح نہ ان مشرکوں پر دنیا میں کوئی عذاب نازل کردینا ، کچھ دور ہے نہ عذاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 46–49

[16] اصل میں لفظ '' وتین '' استعمال ہوا ہے جس کے معنی شہ رگ کے ہیں جو گردن سے ہو کر گزرتی ہے اور سر اور دل کے درمیان ایک رابطہ ہے اگر اس کو کاٹ دیا جائے تو جان نکل جاتی ہے۔ آیت کے لفظی معنی تو یہ ہیں کہ '' ہم نے اس کی رگ گردن کاٹ دی ہوتی ''۔ لیکن اردو کے محاورے کے اعتبار سے یہاں لازم معنی اختیار کئے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 42–47

ف 1: اسلام سے قبل عربوں میں شاعری اور کہانت کا بڑا زور تھا ۔ اس لئے انہوں نے جب قرآن کو دیکھا ۔ کہ اس میں بھی موسیقی اور اتر ہے ۔ سحیع اور ترنم ہے ۔ تو وہ یہ سمجھے کہ یہ بھی شاید شعر وکہانت کی طرح کوئی چیز ہے ۔ ارشاد فرمایا ۔ کہ یہ غلط ہے ۔ یہ کلام انسانی دماغ کی کدوکاوش کا نتیجہ ہرگز نہیں ہے نہ اس میں کہانت اور شاعری کی آمیزش ہے ۔ یہ اللہ کا کلام ہے ۔ اور جو فرشتے کی رسالت سے محمد رسول اللہ ﷺ تک پہنچا ہے ۔ اور یہ اس لئے کہ یہ ہمہ صداقت اور سچائی ہے ۔ حالانکہ شعروکہانت میں چوں الکذب اواھن او کا اصول کافر فرما ہوتا ہے ۔ اور ان کے متعلق یہ احتمال کہی نہیں ۔ کہ یہ اللہ پر تمہاری خواہشات کے مطابق…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(47) پھرتم میں سے کوئی بھی اس کو اس قتل کی سزا سے روکنے والا نہ ہوتا۔ یعنی یہ پیغمبر جس کا پیغمبر ہونا معجزات اور پیشگوئیوں سے ثابت ہے اگر یہ ہم پر افترا کرے اور بعض باتیں گھڑ کر ہماری طرف منسوب کردے تو ہم اس کو دنیا ہی میں سزا دیں کہ اس کا سیدھا ہاتھ پکڑ کر اس کی گردن ماردیں۔ جیسا کہ عام طور سے جس کو قتل کی سزا دیتے ہیں تو اسی طرح دیتے ہیں کہ ملزم کا داہنا ہاتھ مارنے والا اپنے بائیں ہاتھ سے پکڑتا ہے۔ اور شیدھے ہاتھ سے گردن پر تلوار مارتا ہے اور گردن کٹ جانے سے آدمی ہلاک ہوجاتا ہے یہ سزا ہم اس کو دیں اور تم میں سے کوئی اس سزا سے اس کو بچانے والا اور دفع کرنے والا بھی نہ ہو یعنی ہمارے مقابلہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 47–52

ف 9۔ رگ دل کاٹنے سے آدمی مرجاتا ہے، مراد اس سے قتل ہے، اور یہ کنایہ ہے اماتت سے نفسا یا حجة یعنی جھوٹا مدعی نبوت موید بالحجة نہیں ہوتا، بلکہ یا ہلاک ہوتا ہے یا ظہور کذب سے رسوا و ذلیل ہوتا ہے، پس مطلق اماتت کو اخذ یمین و قطع وتین سے تشبیہا تعبیر فرمادیا گیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر تم میں سے کوئی بھی اس کام سے ہم کو روکنے والا نہ ہوتا 47 ؎ اب تو تم مخالفت پر کمر بستہ ہو اور ہمارے رسول اور اس پر اتارے گئے کلام کو سچ تسلیم کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہو حالانکہ ہم نے اپنے رسول پر اس سچائی کے اتارنے کا اتنا اہتمام کیا ہے کہ اگر وہ ہماری بھیجی ہوئی سچائی میں ایک لفظ کیا ایک حرف تک بھی کمی بیشی کرے تو ہم اسی وقت اس کو پکڑ لیں اور پھر تم جو اس وقت ماننے کے لئے تیار نہیں ہو تم بھی مل کر اس کو ہم سے چھڑوانا چاہو تو نہ چھڑوا سکو کیونکہ جس شخص کو ہم پکڑ لیتے ہیں اس کو ہماری پکڑ سے کوئی شخص نہیں بچا سکتا۔ انداز بیان خود بتا رہا ہے کہ یہ بیان محض اس کی تصدیق کے لئے ہے کہ جو کچھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 44–51

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ ﴿44﴾ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ﴿45﴾ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ﴿46﴾ And had he forged some statements in Our name, We would have certainly seized him by the right hand, and then severed his life-astery,…(69:44-46) The word taqawwul means 'to forge, fabricate or concoct' and the word watin refers to 'aorta or life-artery'. This is the main artery that carries blood from the heart to other parts of the body. Once this artery is cut off, death occurs instantly. The foregoing verses refute the outrageous thoughts of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

25 The object is to impress the point that the Prophet has no authority whatever to make any change in the Revelation. If he did so, he would be severely punished. The style depicts the prompt and quick action of a king who strikes off the head of an official, holding him by the hand, if he commits a forgery in his name. Some people have misconstrued this verse to mean that if the heart-vein or neck-vein of an impostor is not immediately severed by Allah, it would be a proof that he was a true prophet, whereas in this verse what has been said is about a true prophet and not about the…

Read the full tafseer →