Al-Haaqqa 69:46

Al-Haaqqa · from ayah 46

69:46

ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِیْنَ ۟ؗۖثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ

پھر ان کی رگ گردن کاٹ ڈالتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then We would have cut from him the aorta.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa

All translations of 69:46

اور اِس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر ان کی رگ گردن کاٹ ڈالتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر ہم ان کی شہ رگ کاٹ دیتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر ان کی رگِ دل کاٹ دیتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر ہم ضرور اُن کی شہ رگ کاٹ دیتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر یقینا ہم اس کی جان کی رگ کاٹ دیتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر ہم اس کی شہ رگ ہی کاٹ دیتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر سختی کے ساتھ کاٹ ڈالتے ہم ان کی رگ جان کو

— مولانا اسحاق مدنی

پھر ہم ان کی رگ دل کاٹ ڈالتے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر اس کی گردن کاٹ ڈالتے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر ان کی رگ گردن کاٹ ڈالتے

— محترمہ رفعت اعجاز

and then severed his life vein;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and then severed his life-artery,

— Muhammad Taqi Usmani

and then severed his life-artery,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And then We certainly would have cut off Al-Watin from him,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then We would have cut from him the aorta.

— Saheeh International

and cut-off his main artery.

— Muhammad Sarwar

Then We would certainly have cut off his aorta.

— Muhammad Habib Shakir

And then severed his life-vein.

— Abdul Majid Daryabadi

And We should certainly then cut off the artery of his heart:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 69:46

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 44–52

ہدایت اور شفا قرآن حکیم یہاں فرمان باری ہے کہ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کردیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے یعنی اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آسکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے، پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب ﷺ سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لئے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ ﷺ کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ ﷺ کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 43–46

سورة الْحَآقَّة 24 حاصل کلام یہ ہے کہ جو کچھ تمہیں نظر آتا ہے اور جو کچھ تم کو نظر نہیں آتا، اس سب کی قسم میں اس بات پر کھاتا ہوں کہ یہ قرآن کسی شاعر یا کاہن کا کلام نہیں ہے بلکہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے جو ایک ایسے رسول کی زبان سے ادا ہو رہا ہے جو کریم (نہایت معزز اور شریف) ہے۔ اب دیکھیے کہ یہ قسم کس معنی میں کھائی گئی ہے۔ جو کچھ لوگوں کو نظر آ رہا تھا وہ یہ تھا کہ (1) اس کلام کو ایک ایسا شخص پیش کر رہا تھا جس کا شریف النفس ہونا مکہ کے معاشرے میں کسی سے چھپا ہوا نہ تھا سب جانتے تھے کہ اخلاقی حیثیت سے یہ ان کی قوم کا بہترین آدمی ہے۔ ایسے شخص سے تو یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ اتنا بڑا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 44–51

(آیت) وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا الخ، تقول کے معنی بات گھڑنے کے ہی اور وہ تین قلب سے نکلنے والی وہ رگ ہے۔ جس سے روح جسم انسانی میں پھیلتی ہے اس کے قطع کردینے سے موت فوراً واقع ہوجاتی ہے۔ سابقہ آیات میں کفار مکہ کے اس بےہودہ خیال کا رد کیا گیا تھا، کوئی آپ کو شاعر اور آپ کے کلام کو شعر کہتا تھا، کوئی آپ کو کاہن اور کلام کو کہانت کہتا تھا۔ کاہن وہ شخص ہوتا ہے جو کچھ شیاطین سے خبریں پا کر کچھ نجوم کے اثرات سے معلوم کرنے کے آنے والے واقعات میں اٹکل بچو باتیں کیا کرتا تھا۔ غرض آپ کو اشعر یا کاہن کہنے والوں کے الزام کا حاصل یہ تھا کہ آپ جو کلام سناتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے نہیں، آنحضرت ﷺ نے خود اپنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ‘۔ ’وَتِیْن‘ کے معنی شہ رگ، رگ جاں یا رگ دل کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم اس سے کچھ دور نہیں ہیں۔ ہماری چٹکیوں میں تو اس کی شہ رگ ہے۔ ہم اسی کو مسل دیتے اور وہ چشم زدن میں ختم ہو جاتا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

46۔ 1 خیال رہے یہ سزا، خاص نبی ﷺ کے ضمن میں بیان کی گئی ہے جس سے مقصد آپ کی صداقت کا اظہار ہے۔ اس میں یہ اصول بیان نہیں کیا گیا ہے کہ جو بھی نبوت کا جھوٹا وعدہ کرے تو جھوٹے مدعی کو ہم فورا سزا سے دوچار کردیں گے لہذا اس سے کسی جھوٹے نبی کو اس لیے سچا باور نہیں کرایا جاسکتا کہ دنیا میں وہ مؤخذہ الہی سے بچا رہا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 40–46

9: یہ ان کافروں کی تردید ہے جو کبھی آنحضرت ﷺ کو شاعر اور کبھی کاہن کہا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 44–47

ولو تقول .................... حجزین ان آیات کا مطلب یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ خود تمہارے اقوال کے مطابق بھی صادق وامین ہیں۔ اور اگر انہوں نے اس کلام سے کوئی بات اپنی طرف سے بنائی ہوتی تو ہم اس کو اپنی گرفت میں لے لیتے اور چونکہ آپ پر خدا کی پکڑ نہیں آئی ، اس لئے لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ آپ سچے ہیں۔ یہ تو تھا ایک مثبت استدلالی نظریہ اور ثبوت ، لیکن جس انداز میں یہ بات کی گئی ہے وہ ایک مکمل اور متحرک منظر کا انداز ہے۔ مثلاً یوں نظر آتا ہے کہ جس طرح ایک قوی تر انسان باز پرس کے لئے کسی کو پکڑ لے اپنے دائیں ہاتھ سے ، اور پھر اس کی رگ جان کاٹ دے۔ یہ بھی نہایت ہی سخت اور متاثر کردینے والا منظر ہے۔ اس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 44–47

10 حضرت شاہ عبدالقادر (رح) لکھتے ہیں " یعنی اگر جھوٹ بناتا اللہ پر تو اول اس کا دشمن اللہ ہوتا اور ہاتھ پکڑتا یہ دستور ہے گردن مارنے کا کہ جلاد اس کا داہنا ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر پکڑ رکھتا ہے تاکہ سرک نہ جائے حضرت شاہ عبدالعزیز (رح) فرماتے ہیں " کہ " تقول " کی ضمیر رسول کی طرف لوٹتی ہے یعنی اگر رسول بالفرض کوئی حرف اللہ کی طرف منسوب کر دے یا اس کے کلام میں اپنی طرف سے ملا دے جو اللہ نے نہ کہا ہو تو اسی وقت اس پر یہ عذاب کیا جائے (العیاذ باللہ) کیونکہ اس کی تصدیق اور سچائی آیات بینات اور دلائل وبراہین کے ذریعہ سے ظاہر کی جا چکی ہے۔ اب اگر اس قسم کی بات پر فوراً عذاب اور سزا نہ کی جائے تو وحی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 46–47

آیت 46{ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ۔ } ”پھر اس کی گردن کاٹ ڈالتے۔“ اس اسلوب اور لہجے میں جو سختی ہے یہ دراصل ان لوگوں کے لیے ہے جو قرآن کو کلام اللہ ماننے کے لیے تیار نہیں تھے اور کہتے تھے کہ محمد ﷺ خود اپنی طرف سے باتیں بنا کر اللہ کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔ انہیں بتایا جا رہا ہے کہ بدبختو ! تم ہمارے رسول کریم ﷺ کے مرتبے کو کیا سمجھو ! کسی رسول کا یہ مقام نہیں ہے کہ وہ اپنے رب کے کلام میں اپنی طرف سے کوئی ملاوٹ کرے۔ وہ تم لوگوں تک ٹھیک ٹھیک وہی کچھ پہنچا رہے ہیں جو ہمارا کلام ہے۔ بفرضِ محال اگر وہ اپنی طرف سے کوئی بات گھڑ کر ہماری طرف منسوب کردیں تو یہ کوئی معمولی سا جرم نہیں ہے جس کا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 43–46

24 رسول اور شاعر کا فرق اور آپ کے شاعر نہ ہونے کی وجوہ :۔ یعنی جو باتیں تم دیکھتے ہو اور جو تم نہیں دیکھتے۔ میں ان سب کو اس بات پر شاہد بنا کر کہتا ہوں کہ یہ قرآن اللہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ رسول اللہ کا یا کسی دوسرے کا تصنیف کردہ نہیں ہے۔ جیسا کہ تم الزام دیتے رہتے ہو۔ اور جو چیزیں تم دیکھتے ہو کم از کم انہی کی بنا پر اگر تم تھوڑا سا غور کرلو تو تمہیں از خود معلوم ہوجائے کہ یہ قرآن نہ کسی شاعر کا قول ہوسکتا ہے اور نہ کسی کاہن کا، شاعر کے تخیل کی پرواز میں میدان زندگی کا ہر اچھا یا برا پہلو ہوسکتا ہے۔ ماحول کا تاثر اس کی طبیعت پر غالب رہتا ہے اور معاشرہ کی اکثریت چونکہ گمراہ ہوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 44–47

18۔ یعنی ان کا دعوی کسی طرح سرسبز نہ ہونے دیتے، اور اسے یہیں سزا دے دیتے۔ (آیت) ” ولو .... الاقاویل “۔ یعنی جو کلام حق تعالیٰ کا نہیں اسے یہ حق تعالیٰ کا کلام قرار دے کر نبوت کا جھوٹا دعوی کردیتے۔ (آیت) ” لقطعنا منہ الوتین “۔ قطع وتین سے مراد ہلاک کردینا ہے۔ قال ابن قتیبۃ لم یرد انا نقطعہ بعینہ بل المراد انہ لوکذبہ لامتناہ (کبیر) (آیت) ” الاقاویل “۔ گڑھی ہوئی باتوں کے لئے قول کی جمع اقاویل بروزن اعاجیب واضاحیک۔ اس کی تحقیر وذم کے لئے لائی گئی ہے۔ سمی الاقوال المتقولۃ اقاویل تحقیرا لھا کقولک الاعاجیب والاضاحیک (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اسی طرح جھوٹا مدعی ولایت بھی ہلاک کردیا جاتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 44–52

ولو تقول علینا بعض الاقاویل مطلب یہ کہ نبی ﷺ کو اپنی طرف سے وحی میں کسی کمی بیشی کا اختیار نہیں ہے، اور اگر وہ ایسا کرے تو ہم اس کو سخت سزا دیں، بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ غلط استدلال کیا ہے کہ جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے اس کی شہ رگ فوراً نہ کاٹ ڈالی جائے تو یہ اس کے نبی ہونے کا ثبوت ہے، حالانکہ اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ سچے نبی ﷺ کے بارے میں ہے کہ وہ بھی اگر ایسا کریں تو سخت قبل مؤاخذہ ہوں گے نہ کہ جھوٹے مدعی نبوت کے بارے میں جو کہ سراسر ظالم و گناہگار ہیں۔ تمت

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم لقطعنا منہ الوتین . پھر اس کی زندگی کی رگ کاٹ دیتے۔ وتین دل میں ایک رگ ہے جس کے کٹنے سے زندگی منقطع ہوجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 45–48

(45۔ 48) اگر محمد ہمارے ذمہ کچھ جھوٹی باتیں لگا دیتے جو ہم نے نہیں کہیں تو حق و حجت کے ساتھ ان سے انتقام لیتے یا یہ کہ ہم ان کو قوت کے ساتھ پکڑ لیتے اور پھر ہم محمد کی رگ دل کاٹ ڈالتے پھر تم میں سے کوئی محمد کو اس سزا سے بچانے والا بھی نہ ہوتا بلا شبہ یہ قرآن کریم کفر و شرک اور بےحیائی کے کاموں سے بچنے والوں کے لیے نصیحت ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 44–47

ولو تقول علینا بعض الاقاویل…: ان آیات میں کفار کی اس بات کا رد ہے کہ یہ باتیں رسول اللہ ﷺ نے اپنے دل سے بنا کر اللہ کے ذمے لگا دی ہیں۔ فرمایا جب یہ ثابت ہوگیا کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور آپ کی کہی ہوئی ہر بات اللہ کی بات ہے تو اب اگر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے ذمے باتیں لگانے دے اور اس پر انہیں کچھ نہ کہے تو وہ سب باتیں اللہ یک باتیں سمجھی جائیں گی، اللہ تعالیٰ اس کی اجازت کس طرح دے سکتا ہے ؟ فرمایا ، اگر ہمارا ی ہ سچا رسول کوئی بات گھڑ کر ہمارے ذمے لگا دیتا تو اس جعل سازی کے جرم میں ہم اس کا دائیاں ہاتھ پکڑ کر اس کی جان ک رگ کاٹ دیتے اور کوی شخص رستے میں رکاوٹ نہ بن سکتا۔ بعض لوگوں نے اس آیت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ثم لقطعنا منہ الوتین۔ ہم نے اس کی شاہ رگ کاٹ دی یعنی ہم نے اسے ہلاک کردیا۔ (1) یہ ایسی رگ ہے جس کے ساتھ دل متعلق ہوتا ہے جب وہ رگ کٹ جائے تو وہ آدمی مر جاتا ہے، یہ حضر ابن عباس اور اکثر لوگوں کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا، یہ دل کی وہ ڈوری ہے جو پشت میں ہوتی ہے جو حرام مغز ہے جب یہ ٹوٹ جائے تو قوتیں باطل ہوجاتی ہیں (2) اور وہ آدمی مر جاتا ہے موتون اسے کہتے ہیں جس کی وتیں کاٹ دی جائے۔ محمد بن کعب نے کہا، اس سے مراد دل اور اس کے ساتھ والی چیزیں ہیں (3) کلبی نے کہا، اس سے مراد علباء اور حلقوم کے درمیان رگ ہے۔ علباء سے مراد گردن کا پٹھا ہے، وہاں دو پٹھے ہیں جن دونوں کے درمیان رگ پیدا ہوتی ہے۔ عکرمہ نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 46–49

17۔ فریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ثم لقطعنا منہ الوتین۔ پھر ہم اس کی گردن کاٹ دیتے یعنی دل کی وہ رگ جو پیٹھ میں ہوتی ہے۔ 18۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم لقطعنا منہ الوتین کے بارے میں فرمایا کہ ہم بیان کرتے تھے کہ وہ دل کی رگ ہے۔ 19۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” الوتین “ سے مراد وہ رگ ہے جو پیٹھ میں ہوتی ہے۔ 20۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ الوتین سے دل کی رگ مراد ہے۔ 21۔ ابن ابی حاتم نے حصین بن عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا انسان کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ : پھر ہم ضرور کاٹ دیتے اس سے ][ الْوَتِيْنَ : (اس کی) رگِ دل کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 44–47

ثالثاً یہ فرمایا : ﴿ وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلۙ0044 لَاَخَذْنَا مِنْهُ بالْيَمِيْنِۙ0045 ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَٞۖ0046 فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِيْنَ 0047﴾ (اور اگر یہ شخص ہمارے ذمہ کچھ باتیں لگا دیتا تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے پھر ہم اس کے دل کی رگ کاٹ ڈالتے پھر تم میں سے کوئی اسے سزا سے بچانے والا نہ ہوتا) ۔ ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کے دعویٰ نبوت کو سچا ثابت فرمایا ہے ارشاد فرمایا کہ یہ شخص جو دعویٰ کرتا ہے کہ میں اللہ کا رسول اور نبی ہوں اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ نے کتاب نازل فرمائی ہے اگر یہ ہماری طرف کچھ جھوٹی باتیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–52

بیان عظمت کلام الہی وحقانیت وصداقت قرآن کریم : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فلا اقسم بما تبصرون ....... الی ....... فسبح باسم ربک العظیم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں اہل سعادت وشقاوت اور انکے احوال کا ذکر تھا اور بالخصوص مجرمین کی سزا اور قیامت کی شدت اور عرش الہی سے تمام فیصلوں کے نفاذ کا بیان تھا تو ممکن تھا کہ کوئی ملحد اور منکر ان باتوں کو سن کر یہ کہنے لگے کہ یہ تو شاعرانہ مبالغہ آرائی یا کاہنوں کی باتیں ہیں تو اس کے ازالہ اور رد کے لیے اب ان آیات میں قرآنی عظمت کا بیان ہے اور یہ کہ جو کچھ وحی الہی سے کہا گیا وہ رسول کریم ﷺ کا قول اور اللہ کا پیغام ہے اس میں ذرہ برابر مبالغہ یا استعارہ ومجاز کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 44–47

14:۔ ” ولو تقول “ یہ صداقت رسول ﷺ کی دلیل ہے۔ یمین کے معنی قوت وقدرت کے ہیں۔ اگر بالفرض محمد ﷺ ہمارے ذمہ کوئی جھوٹی بات لگا دیتے، تو ہم ان کو پوری قوت کے ساتھ مواخذہ کرتے اور ان کی رگ حیات کاٹ دیتے اور پھر تم میں سے کوئی بھی ان کو ہماری گرفت سے نہ بچا سکتا، چونکہ اللہ کی طرف سے آپ پر کسی قسم کا عذاب نازل نہیں ہوا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور آپ جو کچھ بھی بیان فرماتے ہیں وہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔ دجالِ قادیان مرزا غلام احمد نے اس آیت سے اپنی صداقت پر استدلال کیا ہے کہ اگر وہ جھوٹا ہوتا تو اس کی رگ حیات کاٹ دی جاتی۔ مگر ایسا نہیں ہوا، لہذا وہ اپنے دعوی میں مفتری نہیں۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 38–52

گذشتہ سے پیوستہ : سورۃ الحاقہ کے پہلے رکوع میں قیامت کا ذکر ہے۔ آخری آیتوں میں بنیادی عقائد کا بیان ہے منجملہ ان کے رسالت اور نبوت کا ذکر ہے۔ جس طرح کفار قیامت کا انکار کرتے تھے۔ اسی طرح حضور ﷺ السلام کی نبوت اور رسالت کے منکر تھے۔ پہلے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ بھی اسی قسم کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جب کہ لوگ ان کی تکازیب کرتے تھے۔ یہ لوگ نہ صرف پیغمبر کا انکار کرتے تھے۔ بلکہ وحی الہٰی اور اس کے لانے والے فرشتے کا بھی انکار کرتے تھے۔ کہتے تھے کہ یہ اپنے پاس سے باتیں گھڑ کر لایا ہے۔ خدا کا پیغام نہیں ہے۔ بعض شاعر اور کاہن کا خطاب دیتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ یہ غیب کی خبریں بتاتے ہیں۔ اور سچ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِيْنَ۝ 46 ۡ ۖ لام اللَّامُ التي هي للأداة علی أوجه : الأول : الجارّة، وذلک أضرب : ضرب لتعدية الفعل ولا يجوز حذفه . نحو : وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ [ الصافات/ 103] . وضرب للتّعدية لکن قدیحذف . کقوله : يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ [ النساء/ 26] ، فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً [ الأنعام/ 125] فأثبت في موضع وحذف في موضع . الثاني : للملک والاستحقاق، ولیس نعني بالملک ملک العین بل قد يكون ملکا لبعض المنافع، أو لضرب من التّصرّف . فملک العین نحو : وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّماواتِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 38–52

ترکیب : فلا اقسم قیل لامزیدۃ اوفلار ولانکارھم البعث ثم اقسم وقیل نافیۃ للقسم کانہ قال لا اقسم علی ان القرآن قول رسول کریم لظہورالامر واستغنائـہ عن التحقیق بالقسم انہ لقول الخ جواب القسم مؤکد بان واللام والا سمیّہ۔ وماھوالخ الجملۃ تاکید لقولہ انہ لقول رسول کریم قلیلا ما زائدۃ للتاکید ولابقول کا ھن عطف علیٰ قولہ بقول شاعر۔ تنزیل خبر متبدء ھو تنزیل تقول قرء الجمہور مبیناً للفاعل والتقول تکلف القول والافتراء والاقاویل جمع اقوال جمع قول کا بابیت جمع ابیات جمع بیت والاقوال المفتراۃ اقاویل تحقیر الھا لاخذنا جواب لوحاجزین وصف لاحد فانہ عام لکونہ نکرۃ واقعۃ فی سیاق النفی۔ حق الیقین من اضافۃ الصفۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 44–47

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ ۔ لَاَخَذْنَامِنْہُ بِالْیَمِیْنِ ۔ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ ۔ فَمَا مِنْـکُمْ مِّنْ اَحَدٍعَنْـہُ حٰجِزِیْنَ ۔ (الحآقۃ : 44 تا 47) (اور اگر یہ ہم پر کوئی بات گھڑ کر لگاتا۔ تو ہم اس کو دہنے ہاتھ سے پکڑ لیتے۔ پھر ہم اس کی شہ رگ کاٹ دیتے۔ پس تم میں سے کوئی بھی اس سے ہم کو روکنے والا نہ ہوتا۔ ) کفار کے الزام کا جواب کفار کا الزام یہ تھا کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول نہیں اور نہ ان پر کلام خداوندی نازل ہوتا ہے بلکہ یہ اپنی طرف سے کچھ باتیں گھڑ لیتے ہیں اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرکے لوگوں کو سناتے ہیں۔ اس الزام کا جواب دیتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 38–48

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی تعلیمات میں اس کی سر فہرست تعلیم یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لایا جائے اور یہ یقین رکھا جائے کہ قیامت ہر صورت آنے والی ہے۔ نافرمان لوگ اللہ اور اس کے رسول اور قیامت پر ایمان لانے کی بجائے قرآن مجید کا ہی انکار کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ یہ شاعرانہ کلام ہے جس کی تردید کی جا رہی ہے۔ قسم ہے ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے بلاشک یہ قرآن رسول کریم ﷺ کی زبان سے پڑھا جاتا ہے یہ کسی شاعر کا کلام نہیں اگرچہ تم بہت کم لوگ ایمان لاتے ہو اور نہ قرآن کسی کاہن کا کلام ہے یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے لیکن تم بہت ہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

46 : ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ (پھر ہم ان کی رگ دل ضرور کاٹ لیتے) لقطعنا وتینہٗ اس کی شاہ رگ کاٹ دیتے۔ یہ دل کی رگ ہے جب یہ کٹ جائے تو انسان مرجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

45 ۔” لاخذنا منہ بالیمین “ کہا گیا ” من “ صلہ ہے اس کا مجاز ” لاخذناہ وانتقمنا منہ بالیمین “ یعنی حق کے ساتھ جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” کنتم تابوننا عن الیمین “ یعنی حق کی جانب سے اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں البتہ ہم اس کو قوت وقدرت کے ساتھ پکڑ لیں گے ۔ شماخ نے کہا ہے یمن کے بادشاہ عرابہ کی تعریف کرتے ہوئے۔ جب بھی کوئی جھنڈا بزرگی کے لئے بلند کیا جاتا ہے اس کو عرابہ قوت کے ذریعے حاصل کرلیتا ہے شاعر نے قوت کو یمین کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ اس لئے کہ ہر چیز کی قوت اس کے دائیں جانب میں ہوتی ہے اور کہا گیا ہے اس کا معنی البتہ ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیں گے۔ اور یہ مثال ہے اس کا معنی البتہ ہم اس کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 44–52

44۔ 52۔ جس طرح اوپر گزرا کہ اہل مکہ قرآن کر شاعر یا کاہن کا کلام کہتے تھے اسی طرح وہ لوگ ایک بات یہ بھی کہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے دل سے یہ باتیں جوڑ لی ہیں جن باتوں کو انہوں نے کلام الٰہی مشہور کیا ہے اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں دیا اور فرمایا کہ غیب سے اس دین کی دن بدن مدد ہوتی چلی جاتی ہے دن بدن یہ دین ترقی پکڑتا جاتا ہے اس سے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ رسول ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے کیونکہ صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک جو مدد غیبی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی فرمائی ہے وہی مدد رسول کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 45–46

(لاخذنا بالیمین، ثم لقطعنا من الوتین) ۔ تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔ (وتین) وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہوجاتا ہے اگر یہ فرض کر بھی لیاجائے۔۔۔ حاشا وکلا۔۔۔ کہ آپ نے اللہ پر جھوت گھڑا ہے تو اللہ آپ کو فورا سزا دیتا اور آپ کی اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے کون اور اموال اس لیے کہ مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں نجات صرف اسی کے لیے ہے اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 45–48

40 قرآن حکیم ایک عظیم الشان نصیحت و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ ایک عظیم الشان نصیحت اور یاد دہانی ہے۔ ایسی عظیم الشان کہ اس کی کوئی نظیر و مثال نہ اس سے پہلے کبھی ہوئی ہے ‘ نہ آئندہ قیامت تک کبھی ہوسکے گی۔ ایسی عظیم الشان کہ اس کی عظمت شان کا کوئی کنارہ نہیں۔ پس جس نے صدق دل سے اس کو گلے لگایا اس کا اپنآ بھلا ‘ اور جس نے اس سے منہ موڑا اس کا اپنا ہی خسارہ و نقصان ‘ والعیاذ باللہ سو بےخیرے اور محروم القسمت لوگ اگر اس کلام مجید کی قدر نہیں کرتے تو یہ ان کی اپنی بدبختی اور محرومی ہے ‘ مگر جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہ اس سے نصیحت اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 38–52

قرآن مجید کے کلام الٰہی ہونے کا ثبوت تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ قرآن کی سچائی معقولیت اور لاجواب کتاب ہونے پر قسم اٹھاتا ہے یہ قسم بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اٹھائی جا رہی ہے۔ یہاں کائنات میں موجود ہر اس چیز کی قسم کھائی گئی ہے جو ہماری نظروں کے سامنے واضح صورت میں موجود ہیں اور ان چیزوں کی بھی جو بیشمار مختلف صورتوں میں کائنات میں ہر طرف موجود ہیں اور ابھی تک کوئی محقق ان کو نہ دیکھ سکا ہے نہ ان کی وضاحت ہی کرسکا ہے۔ کہ قرآن پاک الہ العٰلمین کا کلام ہے معزز ترین فرشتے سیدناجبرائیل (علیہ السلام) کی زبان سے رسول کریم ﷺ تک پہنچایا گیا ہے۔ اور اس میں کوئی شک و شبہ یا تحریف و ترمیم ہرگز نہیں کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 38–52

آیات 38 تا 52۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان چیزوں کی جو تمہیں دکھائی دیتی ہیں اور ان کی جو تم نہیں دیکھ سکتے کہ کائنات کی ہر شے اور ہر طاقت اس پر گواہ ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے جو ایک معزز فرشتے کے ذریعہ سے اللہ کے برحق رسول پہ نازل ہوا یعنی قرآن نے دیکھے ان دیکھے نتائج کے لیے بھی ایساجامع نظام حیات دیا کہ عقیدے عبادت سے لے کر عمل تک دنیا کے ہر خطے ہرموسم اور ہر قوم کے لیے بہترین نتائج پیدا کرتا ہے ظاہر ابھی جو نظر آتے ہیں اور باطلا بھی جو حقائق فی الحال نگاہ سے اوجھل ہیں اور آخرت میں سامنے آئیں گے بھلا ایسا کامل ومکمل نظام بجز اللہ کے کون دے سکتا ہے۔ یہ سب اس بات پر گواہ ہے کہ فرشتے کا لایا ہوا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(69:46) ثم لقطعنا منہ الوتین : ثم عاطفہ تراخی وقت کے لئے بمعنی پھر۔ لام تاکید کا قطعنا ماضی جمع متکلم قطع (باب فتح) مصدر سے ہم کاٹ دیتے منہ الوتین اس کی زندگی کی رگ، دل کی رگ۔ لسان العرب میں ہے :۔ الوتین عرق فی القلب اذا انقطع مات صاحب : دل کی رگ جب وہ کٹ جائے تو انسان فورا مرجائے۔ ترجمہ ہوگا :۔ تو پھر ہم اس کے دل کی رگ کاٹ دیتے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–52

لغات القرآن۔ الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں) رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔ دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 44–52

(ف 1) شان نزول : نسائی ، تفسیر ابن حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نضر بن حارث اور قریش میں کے سرکش لوگوں نے جب اللہ سے عذاب کی خواہش کی اور یہ کہا کہ جو کچھ محمد ﷺ کہتے ہیں اگر وہ حق بات ہے اور ہم لوگ اس کو نہیں مانتے ہیں تو خدا کرے ہم لوگوں پر پتھر آسمان سے برسیں یا اور کوئی سخت عذاب ہم لوگوں پر نازل ہوجائے ، اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ہیں اور فرمایا کہ یہ قریش میں کے سرکش لوگ عذاب الٰہی کو دورگن کر اس طرح کی سرکشی باتیں کرتے ہیں مگر اللہ کے نزدیک پچھلی قوموں کی طرح نہ ان مشرکوں پر دنیا میں کوئی عذاب نازل کردینا ، کچھ دور ہے نہ عذاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 46–49

[16] اصل میں لفظ '' وتین '' استعمال ہوا ہے جس کے معنی شہ رگ کے ہیں جو گردن سے ہو کر گزرتی ہے اور سر اور دل کے درمیان ایک رابطہ ہے اگر اس کو کاٹ دیا جائے تو جان نکل جاتی ہے۔ آیت کے لفظی معنی تو یہ ہیں کہ '' ہم نے اس کی رگ گردن کاٹ دی ہوتی ''۔ لیکن اردو کے محاورے کے اعتبار سے یہاں لازم معنی اختیار کئے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 42–47

ف 1: اسلام سے قبل عربوں میں شاعری اور کہانت کا بڑا زور تھا ۔ اس لئے انہوں نے جب قرآن کو دیکھا ۔ کہ اس میں بھی موسیقی اور اتر ہے ۔ سحیع اور ترنم ہے ۔ تو وہ یہ سمجھے کہ یہ بھی شاید شعر وکہانت کی طرح کوئی چیز ہے ۔ ارشاد فرمایا ۔ کہ یہ غلط ہے ۔ یہ کلام انسانی دماغ کی کدوکاوش کا نتیجہ ہرگز نہیں ہے نہ اس میں کہانت اور شاعری کی آمیزش ہے ۔ یہ اللہ کا کلام ہے ۔ اور جو فرشتے کی رسالت سے محمد رسول اللہ ﷺ تک پہنچا ہے ۔ اور یہ اس لئے کہ یہ ہمہ صداقت اور سچائی ہے ۔ حالانکہ شعروکہانت میں چوں الکذب اواھن او کا اصول کافر فرما ہوتا ہے ۔ اور ان کے متعلق یہ احتمال کہی نہیں ۔ کہ یہ اللہ پر تمہاری خواہشات کے مطابق…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر ہم اس کی رگ جان ہی کاٹ ڈالتے 46 ؎ (الوتین) اسم منصوب۔ زندگی کی رگ۔ دل کی ڈوری۔ کہا گیا ہے کہ یہ دل سے کنکشن (Connection) رکھنے والی ایک رگ ہے اگر اکھڑ جائے تو آدمی مر جائے۔ (محلی) اور بعض نے کہا کہ پشت میں ایک رگ ہے بہرحال لغت میں وتین کا ترجمہ دل کی رگ کیا گیا ہے۔ وتن اور اوئتۃ اس کی جمع بتائی گئی ہے۔ داہنے ہاتھ سے پکڑ کر ایک جھٹکا دیتے کہ دوسری طرف سے اس کی رگ جان ہی کاٹ ڈالتے تاکہ اس طرح کی حرکت آئندہ کبھی نہ کرسکتا۔ دراصل کفار کے اس الزام کا جواب دینے کے بعد کہ یہ قرآن محمد (رسول اللہ ﷺ نے خود گھڑ لیا ہے اب دوبارہ ان کو جواب کی وضاحت سنائی جا رہی ہے کہ اگر کوئی ایسی بات ہوتی تو ہم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 44–51

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ ﴿44﴾ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ﴿45﴾ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ﴿46﴾ And had he forged some statements in Our name, We would have certainly seized him by the right hand, and then severed his life-astery,…(69:44-46) The word taqawwul means 'to forge, fabricate or concoct' and the word watin refers to 'aorta or life-artery'. This is the main artery that carries blood from the heart to other parts of the body. Once this artery is cut off, death occurs instantly. The foregoing verses refute the outrageous thoughts of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 43–46

24 In short: "I swear by whatever you see and by whatever you do not see that this Qur'an is not the word of a poet or a soothsayer, but it is a Revelation from the Lord of the worlds, which is being presented by the Messenger who is noble and gentle." Let us now consider in what sense this oath has been sworn. That which was visible to the people was:. (1) This Word was being presented by a person who being noble and gentle was not hidden from anybody in the society of Makkah. Everyone knew that he was the best man of their nation in conduct. It could not be expected of such a man that he…

Read the full tafseer →