Explained with ayahs 1–12
حاقہ
قیامت کا ایک نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ وعدے وعید کی عملی تعبیر اور حقیقت کا دن وہی ہے، اسی لئے اس دن کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے فرمایا تم اس حاقہ کی صحیح کیفیت سے بیخبر ہو، پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن لوگوں نے اسے جھٹلایا اور خمیازہ اٹھایا تھا تو فرمایا ثمودیوں کو دیکھو ایک طرف سے فرشتے کے دہاڑے اور کلیجوں کو پاش پاش کردینے والی آواز آتی ہے تو دوسری جانب سے زمین میں غضبناک بھونچال آتا ہے اور سب تہ وبالا ہوجاتے ہیں، پس بقول حضرت قتادہ (طاغیہ) کے معنی چنگھاڑ کے ہیں، اور مجاہد فرماتے ہیں اسے مراد گناہ ہیں یعنی وہ اپنے گناہوں کے باعث برباد کردیئے گئے، ربیع بن انس اور ابن زید کا قول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
سورة الْحَآقَّة 5
سورة اعراف، آیت 78 میں اس کو الرجفہ (زبردست زلزلہ) کہا گیا ہے۔ سورة ہود، آیت 67 میں اس کے لیے الصیحہ (زور کے دھماکے) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ سورة حمٰ السجدہ، آیت 17 میں فرمایا گیا ہے کہ ان کو صاعقۃ العذاب (عذاب کے کڑکے) نے آ لیا۔ اور یہاں اسی عذاب کو الطاغیہ (حد سے زیادہ سخت حادثہ) سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ یہ ایک ہی واقعہ کی مختلف کیفیات کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
خلاصہ تفسیر
وہ ہونے والی چیز کیسی کچھ ہے وہ ہونے والی چیز اور آپ کو کچھ خبر ہے کہ کیسی کچھ ہے وہ ہونے والی چیز (مقصود اس سے قیامت کی عظمت اور ہولناک ہونیکا بیان ہے یہ استفہامات تہویل کے لئے ہیں) ثمور اور عاد نے اس کھڑکھڑانے والی چیز (یعنی قیامت) کی تکذیب کی سو ثمود تو ایک زور کی آواز سے ہلاک کردیئے گئے اور عاد جو تھے سو وہ ایک تیز و تند ہوا سے ہلاک کئے گئے جس کو اللہ تعالیٰ نے ان پر سات رات اور آٹھ دن متواتر مسلط کردیا تھا سو (اے مخاطب اگر) تو (اس وقت وہاں موجود ہوتا تو) اس قوم کو اس طرح گرا ہوا دیکھتا کہ گویا وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے (پڑے) ہیں (کیونکہ وہ بہت دراز قد تھے) سو کیا تجھ کو ان…
Read the full tafseer →’طاغیۃ‘ کا مفہوم:
فرمایا کہ ان میں سے ثمود تو ’طَاغِیَۃٌ‘ سے ہلاک کر دیے گئے۔ ’طَاغِیَۃٌ‘ کے معنی ہیں وہ شے جو اپنے حدود و قیود سے متجاوز ہو جائے۔ اس سورہ میں اس بارش کو جس نے قوم نوح کو غرق کیا ’طَغَا الْمَآءُ‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ قوموں کو سزا ان کے رویہ کی مناسبت سے دیتا ہے، جب کوئی قوم طغیان کی روش اختیار کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی کائنات کی انہی چیزوں میں سے، جو انسان کی نفع رسانی کے لیے مسخر ہیں، کسی چیز کو اس کے خلاف طغیان پر ابھار دیتا ہے جو ’طَاغِیَۃٌ‘ بن کر اس کو ہلاک کر دیتی ہے۔ ثمود بھی، جیسا کہ ’کَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَاہَا‘ (الشمس ۹۱: ۱۱) سے واضح ہے اپنے رب کے خلاف…
Read the full tafseer →5۔ 1 اس میں قیام کو کھڑکا دینے والی کہا ہے، اس لئے کہ یہ اپنی ہولناکیوں سے لوگوں کو بیدار کر دے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
2: سورة اعراف (7: 73) میں قوم ثمود کا تعارف گزرچکا ہے، انہیں حضرت صالح ؑ کو جھٹلانے کی وجہ سے ایک زبردست چنگھاڑ کے ذریعے ہلاک کیا گیا تھا جس سے ان کے کلیجے پھٹ گئے تھے۔
Read the full tafseer →فاما ................ بالطاغیة (96 : 5) ” ثمودایک بڑے حادثہ سے ہلاک کیے گئے “۔ جیسا کہ دوسری سورتوں میں آیا ہے۔ ثمود شمالی حجاز کے علاقہ حجر میں رہتے تھے ، حجاز اور شام کے درمیان۔ یہ ایک سخت دھماکے کی آواز سے ہلاک کیے گئے۔ دوسری جگہوں پر اس کے لئے الصیحہ کا لفظ آیا ہے ، لیکن یہاں اسے الطاغیہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیونکہ الطاغیہ کے معنی ہیں ایک ایسا حادثہ جس پر کنٹرول نہ کیا جاسکتا ہو ، اور یہاں اس سورت کی فضا میں ہوگنا کی اور خوفناکی کے اظہار کے لئے بھی لفظ الطاغیہ موزوں تھا اور جو قافیہ سابقہ آیات کا چلا آرہا تھا اس کے لئے بھی یہ تبدیلی ضروری تھی ، اس لئے الصحیہ کی جگہ الطاغیہ کا لفظ آیا۔…
Read the full tafseer →8 یعنی سخت بھونچال سے جو ایک نہایت ہی سخت آواز کے ساتھ آیا، سب تہ وبالا کردیے گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
آیت 5{ فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُہْلِکُوْا بِالطَّاغِیَۃِ۔ } ”پس ثمود تو ہلاک کردیے گئے ایک حد سے بڑھ جانے والی آفت سے۔“
الطاغیۃ کے لغوی معنی حد سے گزر جانے والی چیز کے ہیں۔ یعنی انتہائی شدت والی چیز۔ اس کے لیے قرآن حکیم کے مختلف مقامات پر الرَّجفۃ زبردست زلزلہ ‘ الصَّیحۃ زور کا دھماکہ یا کڑک ‘ صَاعِقَۃ گرج الفاظ مذکور ہیں ‘ جو عذاب کی مختلف کیفیات کو بیان کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →4 قوم ثمود پر کس قسم کا عذاب آیا تھا ؟ ثمود کو کون سے عذاب سے ہلاک کیا گیا تھا ؟ اس کے لیے مختلف مقامات پر مختلف الفاظ آئے ہیں۔ سورة اعراف آیت 87 میں اس کو الرَّجْفَۃُ (زبردست زلزلہ) کہا گیا ہے۔ سورة ہود کی آیت نمبر 67 میں الصَّیْحَۃُ (زبردست دھماکہ یا ہیبت ناک چیخ) کا لفظ آیا ہے اور سورة حم السجدہ کی آیت نمبر 17 میں (صَاعِقَۃُ الْعَذَابِ ) (یعنی گرنے والی بجلی کا عذاب) کا لفظ آیا ہے اور یہاں الطَّاغِیَۃَ کا لفظ آیا ہے۔ جس سے عذاب میں سخت سرکشی کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یہ ایک ہی واقعہ کی مختلف کیفیتوں کا بیان ہے۔ اور وہ عذاب یہ تھا کہ ارضی اور سماوی دونوں قسم کے عذاب قوم ثمود پر یک دم آتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
2۔ یہ قوم ثمود قوم عاد جو شمالی ومغربی عرب اور جنوبی ومشرقی عرب کی اپنے اپنے زمانہ میں مہذب ترین ومتمدن ترین قومیں رہی ہیں۔ ان کا اصلی جرم انکار آخرت تھا۔ جو حق تعالیٰ کے ضابطۂ تعزیرات میں انکار توحید کے بعد شدید ترین جرم ہے، اور ان دونوں کا اسی بنیادی جرم کی پاداش میں دنیا میں یہ حشر ہوا کہ ان کا نام ونشان تک مٹا کر رکھ دیا گیا۔ آج کی آخرت فراموش ” روشن خیال “ ومہذب “ قوموں کا جن کے صیحفہ تہذیب و روشن خیالی کی پہلی ہی سطر آخرت فراموشی ہے، حشر کیا ان سے کچھ مختلف ہونا ہے ؟ (آیت) ” القارعۃ “۔ قرع اس آواز کو کہتے ہیں جو کسی سخت چیز پر ضرب لگنے سے پیدا ہوتی ہے اور قارعۃ سخت قسم کی کھڑکھڑاہت ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، برپا ہونے والی، قیامت، کہ جس میں وہ چیز ثابت ہوگی جس کا انکار کیا گیا ہے، یعنی بعث اور حساب اور جزاء یا ان (مذکورہ) چیزوں کو ظاہر کرنے والی، کیسی کچھ ہے وہ برپا ہونے والی ؟ یہ اس کی عظمت شان کا بیان ہے (ما الحاقۃ) مبتداو خبر ہے اور مبتدا خبر سے مل کر اول حاقہ کی خبر ہے اور آپ ﷺ کو کیا خبر کہ کیسی کچھ ہے وہ برپا ہونے والی چیز ؟ یہ بھی اس کی عظمت شان کی زیادتی کا بیان ہے (ما اولی (یعنی ما ادراک) میں ما مبتداء ہے اور اس کا مابعد (یعنی ادراک) اس کی خبر ہے ثمود اور عاد نے کھڑکھڑا دینے والی قیامت کو جھٹلایا قیامت کو قارعہ اس لئے…
Read the full tafseer →فاما ثمود فاھلکوا بالطاغیۃ . یہ جملہ کذبت پر معطوف ہے۔ فاء سببی ہے اور اما سے مجمل کی تفصیل کی گئی ہے۔
اصل کلام یوں تھا کہ ثمود و عاد نے قیامت کی تکذیب کی۔ اس لیے تباہ کردیئے گئے۔ ثمود تو طاغیہ کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ طاغیہ غیر معمولی چیخ سے بالاتر۔ قتادہ نے یہی فرمایا ‘ یہی صحیح بھی ہے۔ صورت یہ ہوئی کہ حضرت جبرئیل نے ایک اتنی بلند چیخ ماری کہ سب مر کر رہ گئے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آسمان کی طرف سے ایک ایسی چیخ پیدا ہوئی تھی جس میں ہر تڑک ہر کڑک اور ہر زمینی چیز کی آواز تھی ‘ جس سے سینوں کے اندر دل پارہ پارہ ہوگئے۔
بعض نے کہا کہ طاغیۃٌ عافیۃٌ کی طرح مصدر ہے۔ طغیان کا ہم معنی ہے۔ یعنی ثمود اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(5۔ 6) قوم ثمود کو تو ان کی سرکشی اور شرک کی وجہ سے ہلاک کیا گیا یا یہ کہ ان کی سرکشی نے ان کو جھٹلانے پر آمادہ کیا تاآنکہ وہ ہلاک ہوگئے اور عاد جو تھے سو وہ ایک تیز تند ٹھنڈی ہوا سے ہلاک کیے گئے۔
Read the full tafseer →فاما ثمود فاھلکوا بالظاغیۃ :”الطاغیۃ“”طغی یطغی“ (ف) سے اسم فاعل ہے، یہ ”عافیۃ“ کی طرح مصدر بھی ہوسکتا ہے۔ اسم فاعل ہو تو ”الطاغیۃ“ کا معنی ”حد سے بڑھنے والی“ ہے اور یہ ”الرجفتہ“ یا ”الصیحۃ“ یا ”الصعقۃ“ کی صفت ہوگی، یعنی ثمود اس زلزلے سے یا آواز سے یا بجلی کی کڑک سے ہلاک ک دیئے گئے جو آوازوں کی حد سے بہت بڑھی ہوئی تھی۔ یہ فرشتے کی آواز تھی یا بجلی کی کڑک تھی جس کے ساتھ زلزلہ بھی تھا، یا زلزلے کے ساتھ آنے والی خوفناک آواز تھی۔”الرجفتہ“ کے لئے دیکھیے سورة اعراف (78) ، ”الصیحۃ“ کے لئے دیکھیے سورة ہود (67) اور ”الصعقۃ“ کے لئے دیکھیے حم سجدہ (17)۔
مصدر ہو تو معنی ”حد سے بڑھنا“ ہے،”بائ“ سیبہ ہوگی…
Read the full tafseer →اس میں اضمار ہے، تقدیر کلام یہ ہے بالفعلۃ الطاغیۃ قتادہ نے کہا، تقدیر کلام یہ ہے بالصیحۃ الطاغیۃ جو حد سے تجاوز کرنے والی تھی یعنی ہولناکی میں چیخوں کی حد سے تجاوز کرنے والی تھی جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : انا ارسلنا علیھم صیحۃ واحدۃ فکانوا کھشیم المختظر۔ (القمر) طیغان سے مراد حد سے تجاوز کرنا ہے اسی سے یہ ہے انا لما طغا المآء (الحاقہ : 11) یعنی اس نے حد سے تجاوز کیا۔ کلبی نے کہا، الطاغیۃ سے مراد الطاعقہ ہے (5) ۔ مجاہد نے کہا : گناہوں کے بدلے میں۔ حضرت حسن بصری نے کہا، سری کے باعث۔ یہ مصدر ہے جس طرح کا ذبہ، عاقبہ اور عافیہ مصدر ہے یعنی انہیں طغیان اور کفر کے باعث ہلاک کردیا گیا۔ ایک…
Read the full tafseer →4۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاہلکوا بالطاغیۃ کہ وہ لوگ غیر معمولی چیخ سے ہلاک ہوئے یعنی گناہوں کی وجہ سے۔ اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے سخت چیخ مراد ہے۔
5۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاہلکو ا بالطاغیہ سخت ہیبت ناک چیخ سے ہلاک کیے گئے یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک چیخ بھیجی جس نے ان کو گرادیا اور وہ ہلاک کردئیے گئے۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں آیت بریح صرصر عاتیہ ایک سخت ٹھنڈی ہوا سے ہلاک کیے گئے یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت ٹھنڈی اور بہت تیز آندھی کو بھیجا۔ یہاں تک کہ ان کے دل پھٹ گئے۔
Read the full tafseer →[فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا : پس وہ جو ثمود تھے تو ان کو ہلاک کیا گیا ][ بِالطَّاغِيَةِ : حد سے گزرنے والی (چنگھاڑ) سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
کھڑکھڑانے والی چیز (یعنی قیامت) کو جھٹلانے والوں کی ہلاکت
یہاں سے سورة الحاقۃ شروع ہو رہی ہے الحاقۃ حق یحق سے اسم فاعل ہے جس کا ترجمہ ہے واقع ہونے والی چیز یعنی جس کا وجود میں آجانا ضروری ہے وہ ٹل نہیں سکتی، اس سے قیامت مراد ہے قرآن مجید میں اس کے کئی نام آئے ہیں ان میں سے ایک القارعۃ بھی ہے جو اس سورت کی چوتھی آیت میں مذکورہ ہے علماء نحو نے فرمایا ہے الحاقة مبتدا ہے اور ما الحاقة خبر ہے۔
طرز بیان ایسا اختیار فرمایا ہے جس سے قیامت کی اہمیت ظاہر ہوجائے ارشاد فرمایا کہ کیسی چیز ہے وہ ہوجانے والی اور اے مخاطب تجھے کیا خبر ہے کہ وہ ہوجانے والی چیز کیا ہے ؟ یعنی وہ بڑی چیز ہے اس دن کی پیشی کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔
ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
4:۔ ” فاما ثمود “ الطاغیۃ، موصوف مقدر کی صفت ہے ای بالصیحۃ الطاغیۃ، یعنی ایسی سخت چنگھاڑ جو شدت و فظاعت میں حد سے گذر چکی ہو۔ ای بالصیحۃ المجاوزۃ للحد فی الشدۃ (جلالین) ۔ ” واما عاد فاھلکوا “ یہ قوم عاد کی ہلاکت کی تفصیل ہے۔ ” صرصر “ سخت ٹھنڈی، شدت برودت سے جلانے والی۔ ” عاتیۃ “ شخت تند و تیز اور قابو سے باہر۔ ” حسوم “ متواتر یا جڑوں سے اکھاڑنے والی یا اس کے منعی ہیں مشئوم یعنی نحس بدلیل فی ایام نحسات (حم السجدہ رکوع 2) مطلب یہ ہوگا کہ یہ ایام اس قوم کے حق میں نحس تھے، کیونکہ تمام دن برابر ہیں ان میں سعدو نحس کی کوئی تفریق نہیں۔ ” خاویۃ “ بوسید، کھوکھلی، اندر سے خالی۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
کوائف سورة :
اس سورة کا نام سورة لحاقہ ہے۔ مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی باون آیات اور دو رکوع ہیں۔ یہ سورة دو سوچھپن کلمات اور ایک ہزار چار سو اسی حروف پر مشتمل ہے۔
سابقہ سورة کے ساتھ :
سابقہ سورة میں رسالت کا ذکر تھا۔ اللہ کے بنی اور رسول کو مجنون کہنے والوں کا رد تھا۔ یہ بھی ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جو دنیاوی نعمتیں عطا کی ہوئی ہیں۔ یہ محض امتحان کے لیے ہیں کسی کی مقبولیت کی نشانی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ باغ والوں کی مثال بیان فرمائی کہ اللہ نے ان کا بھی امتحان لیا تھا۔ اس کے علاوہ منکرین قیامت کا رد فرمایا۔ اور انکے ساتھ آخرت میں پیش آنے والے حالات کا ذکر فرمایا آخر میں پھر رسالت کے…
Read the full tafseer →فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُہْلِكُوْا بِالطَّاغِيَۃِ 5
«أمَّا»
و «أمَّا» حرف يقتضي معنی أحد الشيئين، ويكرّر نحو : أَمَّا أَحَدُكُما فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْراً وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ [يوسف/ 41] ، ويبتدأ بها الکلام نحو : أمّا بعد فإنه كذا . ( ا ما حرف ) اما ۔ یہ کبھی حرف تفصیل ہوتا ہے ) اور احد اشیئین کے معنی دیتا ہے اور کلام میں مکرر استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ } ( سورة يوسف 41) تم میں سے ایک ( جو پہلا خواب بیان کرنے ولا ہے وہ ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کریگا اور جو دوسرا ہے وہ سونی دیا جائے گا ۔ اور کبھی ابتداء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب : الحاقۃ الساعۃ والحالۃ التی بحق فیھا الامور مبتداء ما الحاقۃ خبرھا واصلہ ماھی فوضع الظاہر موضع المضمر للتھویل وما مبتداء ادراک خبرہ ما الحاقۃ الجملۃ فی محل النصب لکونھا مفعولاثانیا لادراک واماثمود مبتداء فاھلکو الخ خبرہ طاغیۃ مصدر کالعافیۃ قیل الصحیۃ التی جاوزت الحد وھی صحیۃ جبرئیل وقیل الرجفۃ ای لزلزتہ صرصر الشدید الصوت لھاصرصرۃ عاتیۃ من العتوفقیل عتت الریح علی الخزان فلم یکن لھم علیھا سبیل وقیل عتت علی عادفما قدروا واعلیٰ ردھا بحیلۃ من استنادبنباء اواستنا دالی جبل وقیل لیس من العتوبمعنی العصیاں بل بمعنی بلوغ الشیء وانتہا بہ کما فی قولہ تعالیٰ (وقدبلغت من الکبر عتیا) عاتیۃ ای بالفۃ…
Read the full tafseer →فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُھْلِکُوْا بِالطَّاغِیَۃِ ۔ (الحآقۃ : 5)
(سو وہ جو ثمود تھے، تو وہ ایک حد سے بڑھ جانے والی آفت سے ہلاک کردیئے گئے۔ )
گزشتہ آیت میں ثمود اور عاد کے بارے میں بیان فرمایا کہ انھوں نے قیامت کا انکار کیا تو پھر یہ نہ سمجھو کہ ان کے اس انکار کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا بلکہ اس انکار کے نتیجے میں وہ ہلاکت کا شکار ہوئے۔ کیونکہ قیامت کا انکار صرف ایک واقعہ کا انکار نہیں بلکہ قوموں کے اخلاق اور ان کے مستقبل سے ان کا گہرا تعلق ہے۔ چناچہ قوم ثمود نے آخرت کا انکار کرکے اسی دنیا کی زندگی کو اپنی اصل زندگی سمجھ کر اپنی منزل قرار دے دیا۔ اور چونکہ انہیں آخرت میں کسی جوابدہی کا اندیشہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کو جھٹلانے والی اقوام میں سر فہرست قوم ثمود اور قوم عاد تھیں دونوں قوموں کا دنیا میں بدترین انجام ہوا۔
قرآن مجید نے قیامت کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کے مختلف مراحل کے حوالے سے اس کا ذکر کیا ہے۔ قیامت کے مراحل میں ایک مرحلہ اتنا شدید ہوگا کہ ہر چیز آپس میں ٹکرا جائے گی یہاں تک کہ پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ یہی بات صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اور حضرت ھود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بار بار بتلائی اور سمجھائی۔ مگر دونوں اقوام نے اپنے اپنے انبیاء (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور قیامت کے برپا ہونے کو جھٹلایا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود اور قوم عاد کو نیست و…
Read the full tafseer →5 : ربط : جب قیامت اور اس کی عظمت کا ذکر کیا تو اس کے معاً بعد قیامت کے منکرین کا ذکر کیا اور ان پر جو عذاب اس تکذیب کی وجہ سے اترا۔ اہل مکہ کو نصیحت کرنے کیلئے اس کا ذکر کردیا۔ تاکہ وہ تکذیب کے خوفناک انجام سے بچ جائیں۔
ثمود پر اترنے والا عذاب :
فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُھْلِکُوْا بِالطَّاغِیَۃِ (پس ثمود تو ایک زور کی آواز سے ہلاک کر دئیے گئے) ایسے واقعہ کے ساتھ جو شدت میں حد سے بڑھنے والا تھا اب اس میں اختلاف ہے کہ ہلاکت کس چیز سے ہوئی۔ ایک قول زلزلہ دوسرا قول چیخ ایک اور قول الطاغیہ یہ العافیہ کی طرح مصدر ہے معنی یہ ہوگا ان کی سرکشی کے سبب مگر یہ قول اس آیت کے بالکل مطابق نہیں۔ واما عاد…
Read the full tafseer →4 ۔” کذبت ثمود وعاد بالقارعۃ “ ابن عباس ؓ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں قیامت کو۔ اس کا نام قارعہ رکھا گیا ہے اس لئے کہ یہ بندوں کے دلوں کو کھڑکاتی ہے خوف دلانے کے ساتھ اور کہا گیا ہے کہ انہوں نے اس عذاب کو جھٹلایا جس کی دھمکی ان کے نبیوں نے دی تھی حتیٰ کہ ان پر اترا تو ان کے دلوں کو کھڑکایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
1۔ 12۔ قیامت کی جس سزا و جزا کا ذکر قرآن و حدیث میں ہے قیامت کے دن وہ سزا و جزا سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گی اور پھر اس کا کوئی منکر باقی نہ رہے گا سب اس کا حق ہونا مان لیں گے اس لئے قیامت کا نام حاقہ ہے جس کے معنی حق ثابت ہونے والی۔ حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک جتنی قوموں نے قیامت کی سزا و جزا اور اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور اس جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے وہ قومیں ہلاک ہوئی تھیں ان سب کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا ہے تاکہ یہ قصے اس بات کی ایک یادگار اور نصیحت ہوجائیں کہ اب بھی جو لوگ ان لوگوں کے سے کام کریں گے قیامت کو قیامت کے عذاب کو اللہ کے رسول کو جھٹلائیں گے اللہ کے حکم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
(الحاقہ) یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، کیونکہ یہ ثابت اور واجب ہے اور مخلوق پر نازل ہوگی، اس میں تمام امور کے حقائق اور سینوں کے بھید ظاہر ہوں گے، اللہ نے اپنے اس فرمان (الحاقہ۔ ما الحاقہ۔ وما ادراک ما الحاقہ) کے تکرار کے ذریعے سے اس کی عظمت شان اور تفخیم بیان فرمائی ہے۔ اس کی شان بہت عظیم ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے احوال کے نمونے کا ذکر فرمایا جو دنیا میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ وہ سخت عقوبتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سرکش قوموں پر نازل فرمائیں، چناچہ فرمایا (کذبت ثمود) ۔ ثمود ایک مشہور قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول حضرت صالح کو مبعوث…
Read the full tafseer →5 ۔ قوم ثمود کے انجام کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قوم ثمود کو طاغیہ سے ہلا کیا گیا یعنی ایسی ہولناک آواز سے جس کو سورة اعراف میں الرجفتہ (سخت زلزلے) کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے اور سورة ہود کی آیت نمبر 67 میں اس کے لیے الصیحتہ کا لفظ اسعتمال فرمایا گیا ہے جس کے معنی سخت ہولناک آواز اور زور دار دھماکے کے ہیں جبکہ سورة حم السجدہ کی آیت نمبر 17 میں اس کو صاعقتہ العذاب عذاب کا کڑکا۔ فرمایا گیا ہے سو اس بدبخت قوم پر آنے والے عذاب میں ہلاکت و تباہی کی یہ سب ہی شکلیں موجود تھیں اس کو یہاں پر طاغیہ کی لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے سو وہ ایسی ہولناک آفت تھی جو سب حدود کو کر اس کر کے ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
قیامت کی خوفناک خبر کے منکرین کا انجام
تشریح :۔ جیسا کہ ترجمہ سے مطلب واضح ہو رہا ہے کہ قیامت کا آنا بالکل ضروری لازم ہے اور وہ بڑا ہی سخت پریشان کن اور تباہ کن واقعہ ہوگا۔ تو اس بات پر ثمود عاد قوم نوح (علیہ السلام) قوم لوط اور قوم فرعون نے یقین نہ کیا اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا اور برے کاموں میں غرق ہو کر موت اور آخرت کو قیامت کو بالکل بھلا دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسے شدید عذاب بھیجے کہ وہ بالکل نیست و نابود ہوگئے تو ان کی تباہی کو دیکھو ” پڑھو اور سنو تو تمہیں یقین آجائے گا کہ قیامت کیسی ہوگی اور قیامت کے منکرین کا کیا حال دنیا میں ہوا اور کیا حال آخرت میں ہوگا۔
اصل میں مسلمان کے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
سورة الحاقہ۔
آیات 1 تا 37۔
اسرار ومعارف۔
دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔
کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ف 13 یا ” وہ اپنے کفر و سرکشی کی بدلوت تباہ کردیئے گئے۔ لفظ ” طاغیہ “ کے یہ دونوں مفہوم ہوسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →(69:5) فاما ثمور فاہلکوا بالطاغیۃ : یہ جملہ کذبت پر معطوف ہے۔ فاما میں فاء سببیہ ہے اور اما سے مجمل کی تفصیل کی گئی ہے
اصل کلام یوں تھا :۔ ثمود اور عاد نے قیامت کی تکذیب کی اس لئے تباہ کر دئیے گئے۔ ثمود تو طاغیہ کی وجہ سے ہلاک ہوئے (اور عاد کو سخت ٹھنڈی یا سخت شور انگیز ہوا سے ہلاک کردیا گیا ۔ آیت 6)
اھلکوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب اہلاک (افعال) مصدر سے ۔ وہ ہلاک کئے گئے۔ بالطاغیۃ۔ سخت کڑک سے۔ طاغیۃ غیر معمولی چیز سے بالاتر۔ قتادہ نے یہی فرمایا ہے اور یہی صحیح ہے۔
صورت یہ ہوئی کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے ایک چیخ اتنی بلند ماری کہ سب مر کر رہ گئے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آسمان کی طرف سے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن۔
الحاقۃ۔ سچ مچ ہونے والی۔ یقینی۔ القارعۃ۔ کوٹنے والی۔ اھلکوا۔ ہلاک کئے گئے۔ الطاغیۃ۔ زلزلہ۔ صرصر۔ زبردست آندھی۔ عاتیۃ۔ قابو سے باہر۔ سبع لیال۔ سات رات۔ ثمینۃ آیام۔ آٹھ دن۔ حسوما۔ متواتر۔ مسلسل۔ صرعی۔ اوندھے پڑے ہوئے۔ اعجاز نخل ۔ تنے کھجور کے۔ خاویۃ۔ کھوکھلے۔
تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بتہ سے نام آئے ہیں ” حاقہ “ بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ قیامت کفار کے لئے ایک ہولناک دن بھی ہے اس لئے اس کی طرف پوری توجہ دلانے کے لئے سوالیہ انداز اختیار فرمایا۔ حاقہ ایک ایسی سچائی ہے جس کا آنا اور واقع ہونا یقینی ہے۔ قیامت کے دن پر یقین رکھنے والا ذہنی پستی، اخلاقی بگاڑ اور گناہوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
(ف 1) قیامت کی جس سزا وجزا کا ذکر قرآن مجید وحدیث شریف میں ہے قیامت کے دن وہ سزا وجزا سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا اور پھر اس کا کوئی منکر باقی نہ رہے گا سب اس کا حق ہونامان لیویں گے اسی لیے قیامت کا نام ھاقہ ہے جس کے معنی حق ثابت ہونے والی ، حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک جتنی قوموں نے قیامت کی سزا اور جزا اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور اس جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے وہ قومیں ہلاک ہوئی تھیں ان سب کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ یہ قصے اس بات کی ایک یادگار اور نصیحت ہوجائیں کہ اب بھی جو لوگ ان لوگوں کے سے کام کریں گے قیامت کو قیامت کے عذاب کو اللہ کے رسول کو جھٹلائیں گے اور اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
[3] قارعہ کے معنی کھڑکھڑانے والی چیز کے ہیں۔ یہاں یہ لفظ قیامت کے لئے استعمال ہوا ہے اس لئے کہ وہ لوگوں کو مضطرب اور بےچین کرنے والی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–12
ف 2: ان آیات میں یہ قانون واضح فرمایا ہے ۔ کہ کوئی قوم زندگی کا اس وقت تک استحقاق نہیں رکھتی ۔ جب تک کہ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین کی اطاعت نہ کرے ۔ اور اپنی خواہشات کو اس کے ارادہ اور منسا کے تابع نہ کردے ۔ کیونکہ مقدرات میں سے ہے ۔ کہ کوئی نفس اس سرچشمہ حیات وور سے الگ رہ کر اپنی انفرادیت باقی نہیں رکھ سکتا ۔ چناچہ جب کسی قوم نے اس اصول کو نہیں سمجھا ۔ اور اللہ کے حکموں کی پرواہ نہیں کی ۔ اس کا غصہ بھڑکا ۔ اور اس کو زندگی سے محروم کردیا ۔ ثمود وحاد کی قوم مٹادی گئی ۔
فرعون اور اس کا لاؤ لشکر قلزم میں اپنی عزت و حکمت سمیت ڈبودیا گیا ۔ قوم لوط کی بستیاں الٹ دی گئیں ۔ اور اسی طرح جب بھی…
Read the full tafseer →(5) پس بہرحال ثمود تو ایک شخص ہولناک آواز سے تباہ کردیئے گئے۔ یعنی ان منکرین قیامت کو دنیا میں جو سزا دے گئی وہ یہ کہ ثمود تو ایک تند آواز اور چیخ سے ہلاک کئے گئے۔
طاغیۃ : کے معنی سے گزر جانے والی بعض نے صحیۃ طاغیۃ کہا ہے بعض نے رجفعۃ طاغیۃ فرمایا ہے بہرحال کڑاکے کی آواز بھی تھی اور زلزلہ بھی تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–11
ف 2۔ مقصود اس سے تقطیع شان قیامت ہے کہ وہ سخت ہولناک چیز ہے۔
Read the full tafseer →پس ثمود تو ایک سخت آواز سے ہلاک کردیئے گئے
5 ؎ (طاغیۃ) نافرمانی۔ حد سے نکل جانے والی آواز یہ یا تو مصدر ہے اس صورت میں اس کے معنی خدا کی نافرمانی میں حد سے آگے بڑھ جانے کے ہیں یا صفت ہے یعنی حد سے بڑھ جانے والی۔ اس صورت میں طغیان سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مونث ہوگا۔ امام فخر الدین رازی (رح) تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں (طاغیۃ) کے بارے میں کئی اقوال ہیں۔ اول یہ کہ (طاغیۃ) ایسا واقعہ ہے جو شدت و قوت میں حد سے بڑھ گیا ہو اور کہا جاتا ہے کہ (طاغیۃ) کسی محذوف کی صفت ہے اور محذوف کیا ہے اس میں اختلاف ہے۔ بعض محذوف صحیحہ کو مانتے ہیں گویا وہ ایسی چنگھاڑ تھی جو بہت سی چنگھاڑوں سے قوت و شدت میں بڑھی ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
Commentary
This Surah is almost wholly devoted to the subject of inevitability of the Resurrection, its horrors, the punishment of unbelievers and the reward of believers. The Day of Judgment is variously referred to in the Qur'an, and in this Surah we encounter the following three names: الْحَاقَّةُ Al-Haqqah 'Imminent Happening', الْقَارِعَةِ Al-Qari'ah 'Shocking Event' and الْوَاقِعَةُ -waqi` ah 'Happening'.
The word الْحَاقَّةُ Al-haqqah means an 'established fact, or inevitable event, reality or truth'. The word Al-haqqah also means 'Something that provide evidence that something is…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
5 In Surah Al-A'raf: 78, it has been called ar-rajfah (a terrible earthquake) ; in Surah Hud: 67 as-sayhah (a violent blast) ; in Surah Ha Mim As-Sajdah: 17, it has been said: "They were overtaken by sa`iqa-tul-'adhab (a humiliating scourge) ; and here the same punishment has been described as at-taghiyah (a violent catastrophe) . These words describe different aspects of the same calamity.
Read the full tafseer →