Al-Haaqqa 69:6

Al-Haaqqa · from ayah 6

69:6

وَاَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍ ۟ۙوَاَمَّا عَادٌ فَاُهۡلِكُوۡا بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍۙ‏

رہے عاد تو ان کا نہایت تیز آندھی سے ستیاناس کردیا گیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And as for 'Aad, they were destroyed by a screaming, violent wind

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa

All translations of 69:6

اور عاد ایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کر دیے گئے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

رہے عاد تو ان کا نہایت تیز آندھی سے ستیاناس کردیا گیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور عاد بیحد تیز وتند ہوا سے غارت کردیئے گئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو عاد کے لوگ تھے، انہیں ایک ایسی بےقابو طوفانی ہوا سے ہلاک کیا گیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور رہے عاد وہ ہلاک کیے گئے نہایت سخت گرجتی آندھی سے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور رہے قومِ عاد کے لوگ! تو وہ (بھی) ایسی تیز آندھی سے ہلاک کر دئیے گئے جو انتہائی سرد نہایت گرج دار تھی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جو عاد تھے وہ سخت ٹھنڈی، تند آندھی کے ساتھ ہلاک کردیے گئے، جو قابو سے باہر ہونے والی تھی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

رہے عاد تو وہ سناٹے کی سخت آندھی سے ہلاک کیے گئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

رہے عاد تو وہ ایک بےقابو بادتند سے برباد ہوئے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو عاد تھے تو ان کو ہلاک کیا گیا ایک ایسی تند و تیز اور سرکش (و بےقابو) ہوا سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور رہے عاد سو وہ ایک تیز وتند ہوا سے ہلاک کئے گئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور عاد ہلاک کردیے گئے ایک جھکڑ ّوالی تیز آندھی سے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو عاد کا نہایت تیز آندھی سے ستیاناس کردیا گیا

— محترمہ رفعت اعجاز

and the Ad were destroyed by a furiously raging wind-storm

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And as for 'Aad, they were destroyed by a violent windstorm

— Muhammad Taqi Usmani

And as for Aad, they were destroyed by a violent windstorm

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And as for `Ad, they were destroyed by a wind, Sarsar `Atiyah!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And as for A'ad, they were destroyed by a fierce roaring wind,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And as for 'Aad, they were destroyed by a screaming, violent wind

— Saheeh International

The Ads were destroyed by a swift, destructive gale

— Muhammad Sarwar

And as to Ad, they were destroyed by a roaring, violent blast.

— Muhammad Habib Shakir

And as for 'Aad they were destroyed by a wind, furious. roaring.

— Abdul Majid Daryabadi

And the 'Ad, they were destroyed by a furious Wind, exceedingly violent;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 69:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–12

حاقہ قیامت کا ایک نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ وعدے وعید کی عملی تعبیر اور حقیقت کا دن وہی ہے، اسی لئے اس دن کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے فرمایا تم اس حاقہ کی صحیح کیفیت سے بیخبر ہو، پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن لوگوں نے اسے جھٹلایا اور خمیازہ اٹھایا تھا تو فرمایا ثمودیوں کو دیکھو ایک طرف سے فرشتے کے دہاڑے اور کلیجوں کو پاش پاش کردینے والی آواز آتی ہے تو دوسری جانب سے زمین میں غضبناک بھونچال آتا ہے اور سب تہ وبالا ہوجاتے ہیں، پس بقول حضرت قتادہ (طاغیہ) کے معنی چنگھاڑ کے ہیں، اور مجاہد فرماتے ہیں اسے مراد گناہ ہیں یعنی وہ اپنے گناہوں کے باعث برباد کردیئے گئے، ربیع بن انس اور ابن زید کا قول…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 5–8

سورة الْحَآقَّة 5 سورة اعراف، آیت 78 میں اس کو الرجفہ (زبردست زلزلہ) کہا گیا ہے۔ سورة ہود، آیت 67 میں اس کے لیے الصیحہ (زور کے دھماکے) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ سورة حمٰ السجدہ، آیت 17 میں فرمایا گیا ہے کہ ان کو صاعقۃ العذاب (عذاب کے کڑکے) نے آ لیا۔ اور یہاں اسی عذاب کو الطاغیہ (حد سے زیادہ سخت حادثہ) سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ یہ ایک ہی واقعہ کی مختلف کیفیات کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’عَاتِیَۃ‘ کا مفہوم: یہ عاد کے انجام کی طرف اشارہ فرمایا کہ ان پر سرما کی تیز و تند باد صر صر چلی اور اس نے ان کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ جس طرح اوپر ثمود کے بیان میں ’صاعقۃ‘ کو ’طاغیۃ‘ سے تعبیر کیا ہے اسی طرح یہاں باد صرصر کی صفت ’عاتیۃ‘ آئی ہے جس کے معنی ہیں وہ ہوا جو سرکش اور بے قابو ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو انسان کے لیے مسخر کیا ہے اور یہ اس کی زندگی اور بقا کے لیے ناگزیر ہے لیکن جب انسان سرکشی میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسی مسخر ہوا کو جب چاہتا ہے ذرا سی ڈھیل دے کر اس کے لیے عذاب بنا دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

6۔ 1 کسی کے قابو میں نہ آنے والی، یعنی نہایت تند و تیز، پالے والی اور بےقابو ہوا کے ذریعے اسے حضرت ہود ؑ کی قوم عاد کو ہلاک کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–6

2: سورة اعراف (7: 73) میں قوم ثمود کا تعارف گزرچکا ہے، انہیں حضرت صالح ؑ کو جھٹلانے کی وجہ سے ایک زبردست چنگھاڑ کے ذریعے ہلاک کیا گیا تھا جس سے ان کے کلیجے پھٹ گئے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

واما .................... عاتیة (96 : 6) ” عاد ایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کردیئے گئے “۔ الریح الصرصر کے معنی ہیں ، سخت ٹھنڈی ہوا۔ لفظ صر صر سے ہوا کی آواز بھی ظاہر ہورہی ہے۔ اور اس ہوا کی زیادہ شدت ایک دوسرے لفظ عاتیة سے ظاہر کی گئی تاکہ عاد کی سرکشی کا علاج اس سرکش ہوا سے کیا جائے۔ مناسب عمل کی مناسب سزا۔ یہ عادی سخت جبار اور سرکش تھے۔ قرآن نے دوسری جگہ تفصیلات دی ہیں۔ یہ لوگ یمن اور حضرت موت کے درمیان احقاف میں رہتے تھے۔ یہ نہایت سخت گیر اور جبار تھے۔ یہ ہوا جو صر صر تھی اور ” عاتی “ تھی ” شدید سرد اور سرکش “۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی وہ ہوا اس قدر تیز و تند تھی جس پر کسی مخلوق کا قابو نہ چلتا تھا حتیٰ کہ فرشتے جو ہوا کے انتظام پر مسلط ہیں ان کے ہاتھوں سے نکلی جاتی تھی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 5–6

آیت 5{ فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُہْلِکُوْا بِالطَّاغِیَۃِ۔ } ”پس ثمود تو ہلاک کردیے گئے ایک حد سے بڑھ جانے والی آفت سے۔“ الطاغیۃ کے لغوی معنی حد سے گزر جانے والی چیز کے ہیں۔ یعنی انتہائی شدت والی چیز۔ اس کے لیے قرآن حکیم کے مختلف مقامات پر الرَّجفۃ زبردست زلزلہ ‘ الصَّیحۃ زور کا دھماکہ یا کڑک ‘ صَاعِقَۃ گرج الفاظ مذکور ہیں ‘ جو عذاب کی مختلف کیفیات کو بیان کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

5 عاتیۃٍ قوم عاد پر جو عقاب آیا وہ سخت آندھی کا عذاب تھا۔ ہوا نہایت سرد اور یخ بستہ تھی اور یہ ہوا اتنی سرکش تھی جس پر کسی مخلوق کا زورنہ چلتا تھا حتی کہ فرشتے جو ہوا کے انتظام پر مامور ہیں ان کے ہاتھوں سے نکلی جاتی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 4–6

2۔ یہ قوم ثمود قوم عاد جو شمالی ومغربی عرب اور جنوبی ومشرقی عرب کی اپنے اپنے زمانہ میں مہذب ترین ومتمدن ترین قومیں رہی ہیں۔ ان کا اصلی جرم انکار آخرت تھا۔ جو حق تعالیٰ کے ضابطۂ تعزیرات میں انکار توحید کے بعد شدید ترین جرم ہے، اور ان دونوں کا اسی بنیادی جرم کی پاداش میں دنیا میں یہ حشر ہوا کہ ان کا نام ونشان تک مٹا کر رکھ دیا گیا۔ آج کی آخرت فراموش ” روشن خیال “ ومہذب “ قوموں کا جن کے صیحفہ تہذیب و روشن خیالی کی پہلی ہی سطر آخرت فراموشی ہے، حشر کیا ان سے کچھ مختلف ہونا ہے ؟ (آیت) ” القارعۃ “۔ قرع اس آواز کو کہتے ہیں جو کسی سخت چیز پر ضرب لگنے سے پیدا ہوتی ہے اور قارعۃ سخت قسم کی کھڑکھڑاہت ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–16

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، برپا ہونے والی، قیامت، کہ جس میں وہ چیز ثابت ہوگی جس کا انکار کیا گیا ہے، یعنی بعث اور حساب اور جزاء یا ان (مذکورہ) چیزوں کو ظاہر کرنے والی، کیسی کچھ ہے وہ برپا ہونے والی ؟ یہ اس کی عظمت شان کا بیان ہے (ما الحاقۃ) مبتداو خبر ہے اور مبتدا خبر سے مل کر اول حاقہ کی خبر ہے اور آپ ﷺ کو کیا خبر کہ کیسی کچھ ہے وہ برپا ہونے والی چیز ؟ یہ بھی اس کی عظمت شان کی زیادتی کا بیان ہے (ما اولی (یعنی ما ادراک) میں ما مبتداء ہے اور اس کا مابعد (یعنی ادراک) اس کی خبر ہے ثمود اور عاد نے کھڑکھڑا دینے والی قیامت کو جھٹلایا قیامت کو قارعہ اس لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واما عاد فاھلکوا بریح صرصر . سخت ٹھنڈی یا سخت شور انگیر ہوا (قاموس) سے عاد کو ہلاک کیا گیا۔ عاتیۃ . جو شدت اور ٹھنڈک میں حد سے زائد تھی۔ قاموس میں ہے عتٰی (ماضی) تکبّر کیا اور حد سے بڑھ گیا۔ عاتی اسم فاعل۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 5–6

(5۔ 6) قوم ثمود کو تو ان کی سرکشی اور شرک کی وجہ سے ہلاک کیا گیا یا یہ کہ ان کی سرکشی نے ان کو جھٹلانے پر آمادہ کیا تاآنکہ وہ ہلاک ہوگئے اور عاد جو تھے سو وہ ایک تیز تند ٹھنڈی ہوا سے ہلاک کیے گئے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(واما عاد فاھلکوا…:”ریح“ ہوا،”صرصر“ ”صر“ سے مشتق ہے، جس کا معنی سخت ٹھنڈک اور تیزی ہے، یعنی سخت ٹھنڈی اور تند آندھی، یا یہ ”صر صر یصر صر صر صرۃ“ (چیخنا، سخت آواز نکالنا) سے مشتق ہے، یعنی سخت آواز والی آندھی۔ ”عاتیۃ“”عتا یعتو عتوا“ (ن) قابو سے باہر ہونا، سرکشی کرنا۔ یعنی وہ ہوا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی بھی قابو کرنے والے کے قابو سے باہر تھی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–7

واما عادفا ھلکوا بریح صر صر، صر صر یعنی ٹھنڈی جو اپنی ٹھنڈک کے ساتھ جلا دیتی ہے جس طرح آگ جلابی ہے، یہ صر سے ماخوذ ہے، یہ ضحاک کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد سخت آواز ہے۔ مجاہد نے کہا، سخت زہریلی، عاتیۃ۔ وہ اپنے خازنوں پر سرکش ہوگئی اور اس نے ان کی اطاعت نہ کی اور اس ہوا کے تیز چلنے کی وجہ سے اس پر قابو نہ رکھ سکے۔ وہ ہود اللہ تعالیٰ کے غضب کی وجہ سے غضب ناک ہوئی۔ غاتیۃ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ قوم عاد پر سرکش ہوگئی اور ان پر غالب آگئی۔ سفیان ثوری نے موسیٰ بن مسیب سے وہ شہر بن حو شب وہ حضرت ابن عباس سے روایت نقل کرتے ہیں (2) کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اللہ تعالیٰ ہوا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

قوم نوح اور عاد کی ہلاکت 6۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ ہوا میں سے کوئی چیز نہیں بھیجتے مگر پیمانہ کے ساتھ اور کوئی قطرہ بارش کا نازل نہیں فرماتے مگر پیمانے کے ساتھ۔ سوائے قوم نوح اور قوم عاد پر کہ ان دونوں کو بغیر کسی پیمانے اور حد کے بھیجا اور نوح (علیہ السلام) کی قوم کو جب تباہ و برباد کیا تو پانی اس کے خازن فرشتوں پر بھی غالب آگیا اور ان کے لیے اس پر قابو پانے کا کوئی راستہ نہیں رہا پھر یہ آیت پڑھی آیت انا لما طغا الماء (جب پانی نے جوش مارا) اور قوم عاد کی تباہی کے وقت ہوا خازن فرشتوں پر غالب آگئی اور ان کے لیے اس سے بچاؤ کا کوئی ذریعہ نہیں رہا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا : اور وہ جو عاد تھے تو ان کو ہلاک کیا گیا ][ بِرِيْحٍ : ایک ایسی ہوا سے جو ][ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ : حد سے زیادہ تیز و تند تھی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–6

کھڑکھڑانے والی چیز (یعنی قیامت) کو جھٹلانے والوں کی ہلاکت یہاں سے سورة الحاقۃ شروع ہو رہی ہے الحاقۃ حق یحق سے اسم فاعل ہے جس کا ترجمہ ہے واقع ہونے والی چیز یعنی جس کا وجود میں آجانا ضروری ہے وہ ٹل نہیں سکتی، اس سے قیامت مراد ہے قرآن مجید میں اس کے کئی نام آئے ہیں ان میں سے ایک القارعۃ بھی ہے جو اس سورت کی چوتھی آیت میں مذکورہ ہے علماء نحو نے فرمایا ہے الحاقة مبتدا ہے اور ما الحاقة خبر ہے۔ طرز بیان ایسا اختیار فرمایا ہے جس سے قیامت کی اہمیت ظاہر ہوجائے ارشاد فرمایا کہ کیسی چیز ہے وہ ہوجانے والی اور اے مخاطب تجھے کیا خبر ہے کہ وہ ہوجانے والی چیز کیا ہے ؟ یعنی وہ بڑی چیز ہے اس دن کی پیشی کے لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–37

ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔ ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 5–8

4:۔ ” فاما ثمود “ الطاغیۃ، موصوف مقدر کی صفت ہے ای بالصیحۃ الطاغیۃ، یعنی ایسی سخت چنگھاڑ جو شدت و فظاعت میں حد سے گذر چکی ہو۔ ای بالصیحۃ المجاوزۃ للحد فی الشدۃ (جلالین) ۔ ” واما عاد فاھلکوا “ یہ قوم عاد کی ہلاکت کی تفصیل ہے۔ ” صرصر “ سخت ٹھنڈی، شدت برودت سے جلانے والی۔ ” عاتیۃ “ شخت تند و تیز اور قابو سے باہر۔ ” حسوم “ متواتر یا جڑوں سے اکھاڑنے والی یا اس کے منعی ہیں مشئوم یعنی نحس بدلیل فی ایام نحسات (حم السجدہ رکوع 2) مطلب یہ ہوگا کہ یہ ایام اس قوم کے حق میں نحس تھے، کیونکہ تمام دن برابر ہیں ان میں سعدو نحس کی کوئی تفریق نہیں۔ ” خاویۃ “ بوسید، کھوکھلی، اندر سے خالی۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–12

کوائف سورة : اس سورة کا نام سورة لحاقہ ہے۔ مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی باون آیات اور دو رکوع ہیں۔ یہ سورة دو سوچھپن کلمات اور ایک ہزار چار سو اسی حروف پر مشتمل ہے۔ سابقہ سورة کے ساتھ : سابقہ سورة میں رسالت کا ذکر تھا۔ اللہ کے بنی اور رسول کو مجنون کہنے والوں کا رد تھا۔ یہ بھی ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جو دنیاوی نعمتیں عطا کی ہوئی ہیں۔ یہ محض امتحان کے لیے ہیں کسی کی مقبولیت کی نشانی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ باغ والوں کی مثال بیان فرمائی کہ اللہ نے ان کا بھی امتحان لیا تھا۔ اس کے علاوہ منکرین قیامت کا رد فرمایا۔ اور انکے ساتھ آخرت میں پیش آنے والے حالات کا ذکر فرمایا آخر میں پھر رسالت کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَمَّا عَادٌ فَاُہْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَۃٍ۝ 6 ۙ الرِّيحُ معروف، وهي فيما قيل الهواء المتحرّك . وعامّة المواضع الّتي ذکر اللہ تعالیٰ فيها إرسال الرّيح بلفظ الواحد فعبارة عن العذاب، وكلّ موضع ذکر فيه بلفظ الجمع فعبارة عن الرّحمة، فمن الرِّيحِ : إِنَّا أَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً [ القمر/ 19] ، فَأَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً وَجُنُوداً [ الأحزاب/ 9] ، مَثَلِ رِيحٍ فِيها صِرٌّ [ آل عمران/ 117] ، اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ [إبراهيم/ 18] . وقال في الجمع : وَأَرْسَلْنَا الرِّياحَ لَواقِحَ [ الحجر/ 22] ، أَنْ يُرْسِلَ الرِّياحَ مُبَشِّراتٍ [ الروم/ 46] ، يُرْسِلُ الرِّياحَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–8

ترکیب : الحاقۃ الساعۃ والحالۃ التی بحق فیھا الامور مبتداء ما الحاقۃ خبرھا واصلہ ماھی فوضع الظاہر موضع المضمر للتھویل وما مبتداء ادراک خبرہ ما الحاقۃ الجملۃ فی محل النصب لکونھا مفعولاثانیا لادراک واماثمود مبتداء فاھلکو الخ خبرہ طاغیۃ مصدر کالعافیۃ قیل الصحیۃ التی جاوزت الحد وھی صحیۃ جبرئیل وقیل الرجفۃ ای لزلزتہ صرصر الشدید الصوت لھاصرصرۃ عاتیۃ من العتوفقیل عتت الریح علی الخزان فلم یکن لھم علیھا سبیل وقیل عتت علی عادفما قدروا واعلیٰ ردھا بحیلۃ من استنادبنباء اواستنا دالی جبل وقیل لیس من العتوبمعنی العصیاں بل بمعنی بلوغ الشیء وانتہا بہ کما فی قولہ تعالیٰ (وقدبلغت من الکبر عتیا) عاتیۃ ای بالفۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 6–8

وَاَمَّا عَادٌ فَاُھْلِکُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَۃٍ ۔ سَخَّرَھَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَۃَ اَیَّـامٍ لا حُسُوْمًا لا فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْھَا صَرْعٰی لا کَاَنَّھُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃ۔ فَھَلْ تَرٰی لَھُمْ مِنْ م بَاقِیَۃٍ ۔ (الحآقۃ : 6 تا 8) (رہے عاد، تو وہ ایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کردیئے گئے۔ اس کو اللہ نے سات رات اور آٹھ دن ان کی بیخ کنی کے لیے ان پر مسلط رکھا، تم دیکھتے کہ وہ وہاں اس طرح بچھاڑے پڑے ہیں جیسے وہ کھجور کے بوسیدہ تنے ہوں۔ تو کیا تم دیکھتے ہو ان میں سے کوئی بچ رہنے والا۔ ) مشکل الفاظ کی تشریح : رِیْحٍ صَرْصَرٍ … اس سخت ہوا کو کہا جاتا ہے جو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–8

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کو جھٹلانے والی اقوام میں سر فہرست قوم ثمود اور قوم عاد تھیں دونوں قوموں کا دنیا میں بدترین انجام ہوا۔ قرآن مجید نے قیامت کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کے مختلف مراحل کے حوالے سے اس کا ذکر کیا ہے۔ قیامت کے مراحل میں ایک مرحلہ اتنا شدید ہوگا کہ ہر چیز آپس میں ٹکرا جائے گی یہاں تک کہ پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ یہی بات صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اور حضرت ھود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بار بار بتلائی اور سمجھائی۔ مگر دونوں اقوام نے اپنے اپنے انبیاء (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور قیامت کے برپا ہونے کو جھٹلایا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود اور قوم عاد کو نیست و…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ٹھنڈی ہوا سے عاد کی ہلاکت : 6 : وَاَمَّا عَادٌ فَاُھْلِکُوْا بِرِیْحٍ (اور عاد جو تھے پس وہ ایک تیز و تند ہوا سے ہلاک کیے گے) ریح سے پچھم کی ہوا مراد ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نصرت بالصبا واہلکت عاد بالدبور صبح کی ہوا سے میری نصرت کی گئی اور قوم عاد پچھم سے ہلاک ہوئے۔ صَرْصَرٍ (تیز آواز والی) یہ الصُرّۃ سے لیا گیا جس کا معنی چیخ ہے نمبر 2۔ ٹھنڈی۔ اس صورت میں یہ الصِرّ سے ماخوذ ہے گویا وہ ہوا اس انداز کی تھی جس میں بار بار سردی رکھی گئی اور بہت زیادہ رکھی گئی پس وہ اپنی ٹھنڈک کی کثرت سے جلا ڈالتی ہے۔ عَاتِیَۃٍ (تیز آندھی) نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں پر ناراضی کی وجہ سے گویا وہ ہوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5 ۔” فاما ثمود فاھلکوا بالطاغیۃ “ یعنی اپنی سرکشی اور کفر کی وجہ سے اور کہا گیا ہے کہ مصدر ہے اور کہا گیا ہے صفت ہے۔ یعنی اپنے سرکشی والے افعال کی وجہ سے اور یہ مجاہد (رح) کے قول کا معنی ہے جیسا کہ فرمایا ” کذبت ثمود بطغواھا “ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں ایسی چیخ کے ساتھ جو طاغیہ تھی اور وہ ایسی چیخ جو چیخ کی مقدار سے تجاوز کرجائے۔ پس ان کو ہلاک کردیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–12

1۔ 12۔ قیامت کی جس سزا و جزا کا ذکر قرآن و حدیث میں ہے قیامت کے دن وہ سزا و جزا سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گی اور پھر اس کا کوئی منکر باقی نہ رہے گا سب اس کا حق ہونا مان لیں گے اس لئے قیامت کا نام حاقہ ہے جس کے معنی حق ثابت ہونے والی۔ حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک جتنی قوموں نے قیامت کی سزا و جزا اور اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور اس جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے وہ قومیں ہلاک ہوئی تھیں ان سب کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا ہے تاکہ یہ قصے اس بات کی ایک یادگار اور نصیحت ہوجائیں کہ اب بھی جو لوگ ان لوگوں کے سے کام کریں گے قیامت کو قیامت کے عذاب کو اللہ کے رسول کو جھٹلائیں گے اللہ کے حکم کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(واما عاد فاھلکوا بریح صرصر) اور رہے عاد تو انہیں نہایت تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا یعنی بہت طاقت ور اور طوفانی ہوا جس کی آواز بادل کی کڑک سے زیادہ تھی۔ (عاتیہ) بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ ہوا اپنے داروغوں کے سامنے سرکش تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ قوم عاد پر نہایت سرکشی کے ساتھ چلتی رہی اور حد سے بڑھ گئی اور یہی قول صحیح ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

6 ۔ قوم عاد کی ہلات و تباہی کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا اور اس کی تصریح فرما دی گئی کہ قوم عاد کا خاتمہ ایک نہایت ہی تند و تیز اور سرکش ہوا کے ذریعے ہوا۔ سو اس سرکش قوم کا خاتمہ ایک ایسی نہایت ہی تندو تیز اور سرکش ہوا کے ذریعے کیا گیا، جو ان پر لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن مسلط رہی، اس ہوا کی صفت یہاں پر عاتیتہ بیان فرمائی گئی ہے جس کے معنی ہیں وہ سرکش ہوا جو قابو سے باہر ہو گئیہ و، ہو کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ اور حکمت بالغہ سے انسان کی بہتری کے لئے مسخر کیا ہے اور یہ ان عظیم الشان نعمتوں میں سے ہے جن پر انسان کی بقاء اور اس کی زندگی کا مدارو انحصار ہے، لیکن جب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–12

قیامت کی خوفناک خبر کے منکرین کا انجام تشریح :۔ جیسا کہ ترجمہ سے مطلب واضح ہو رہا ہے کہ قیامت کا آنا بالکل ضروری لازم ہے اور وہ بڑا ہی سخت پریشان کن اور تباہ کن واقعہ ہوگا۔ تو اس بات پر ثمود عاد قوم نوح (علیہ السلام) قوم لوط اور قوم فرعون نے یقین نہ کیا اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا اور برے کاموں میں غرق ہو کر موت اور آخرت کو قیامت کو بالکل بھلا دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسے شدید عذاب بھیجے کہ وہ بالکل نیست و نابود ہوگئے تو ان کی تباہی کو دیکھو ” پڑھو اور سنو تو تمہیں یقین آجائے گا کہ قیامت کیسی ہوگی اور قیامت کے منکرین کا کیا حال دنیا میں ہوا اور کیا حال آخرت میں ہوگا۔ اصل میں مسلمان کے یہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–37

سورة الحاقہ۔ آیات 1 تا 37۔ اسرار ومعارف۔ دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔ کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 5–6

ف 13 یا ” وہ اپنے کفر و سرکشی کی بدلوت تباہ کردیئے گئے۔ لفظ ” طاغیہ “ کے یہ دونوں مفہوم ہوسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(69:6) واما عاد اور رہے عاد (یعنی جہاں رک عاد کا تعلق ہے) فاہلکوا بریح صرصر : موصوف و صفت تو وہ ہلاک کئے گئے۔ ریح صرصر سے۔ صر صر سناٹے کی ہوا۔ عاتیۃ۔ صفت ثانی ریح صر صر کی۔ عتو (ع ت و حروف مادہ) (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل واحد مؤنث ہے۔ عتو کے مونی ہیں حد سے بڑھ جانا (قاموس) حد سے گزر جانا (المنجد) حکم عدولی کرنا (المفردات) گستاخ ، متکبر، (الفرائد الدریہ) قاضی شوکانی لکھتے ہیں :۔ عاتیۃ وہ جو اطاعت سے گردن تابی کرے ۔ گویا وہ فرشتگان ہوا سے سرکشی کر رہی تھی۔ ان کی اطاعت نہیں کرتی تھی۔ اور وہ اس کے تیز و تند ہونے کے باعث اس کے تھامنے پر قابو نہ پا رہے تھے یا عاد کے خلاف اس نے سرکشی کی تھی کہ وہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن۔ الحاقۃ۔ سچ مچ ہونے والی۔ یقینی۔ القارعۃ۔ کوٹنے والی۔ اھلکوا۔ ہلاک کئے گئے۔ الطاغیۃ۔ زلزلہ۔ صرصر۔ زبردست آندھی۔ عاتیۃ۔ قابو سے باہر۔ سبع لیال۔ سات رات۔ ثمینۃ آیام۔ آٹھ دن۔ حسوما۔ متواتر۔ مسلسل۔ صرعی۔ اوندھے پڑے ہوئے۔ اعجاز نخل ۔ تنے کھجور کے۔ خاویۃ۔ کھوکھلے۔ تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بتہ سے نام آئے ہیں ” حاقہ “ بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ قیامت کفار کے لئے ایک ہولناک دن بھی ہے اس لئے اس کی طرف پوری توجہ دلانے کے لئے سوالیہ انداز اختیار فرمایا۔ حاقہ ایک ایسی سچائی ہے جس کا آنا اور واقع ہونا یقینی ہے۔ قیامت کے دن پر یقین رکھنے والا ذہنی پستی، اخلاقی بگاڑ اور گناہوں کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–12

(ف 1) قیامت کی جس سزا وجزا کا ذکر قرآن مجید وحدیث شریف میں ہے قیامت کے دن وہ سزا وجزا سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا اور پھر اس کا کوئی منکر باقی نہ رہے گا سب اس کا حق ہونامان لیویں گے اسی لیے قیامت کا نام ھاقہ ہے جس کے معنی حق ثابت ہونے والی ، حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک جتنی قوموں نے قیامت کی سزا اور جزا اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور اس جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے وہ قومیں ہلاک ہوئی تھیں ان سب کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ یہ قصے اس بات کی ایک یادگار اور نصیحت ہوجائیں کہ اب بھی جو لوگ ان لوگوں کے سے کام کریں گے قیامت کو قیامت کے عذاب کو اللہ کے رسول کو جھٹلائیں گے اور اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 4–8

[3] قارعہ کے معنی کھڑکھڑانے والی چیز کے ہیں۔ یہاں یہ لفظ قیامت کے لئے استعمال ہوا ہے اس لئے کہ وہ لوگوں کو مضطرب اور بےچین کرنے والی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–12

ف 2: ان آیات میں یہ قانون واضح فرمایا ہے ۔ کہ کوئی قوم زندگی کا اس وقت تک استحقاق نہیں رکھتی ۔ جب تک کہ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین کی اطاعت نہ کرے ۔ اور اپنی خواہشات کو اس کے ارادہ اور منسا کے تابع نہ کردے ۔ کیونکہ مقدرات میں سے ہے ۔ کہ کوئی نفس اس سرچشمہ حیات وور سے الگ رہ کر اپنی انفرادیت باقی نہیں رکھ سکتا ۔ چناچہ جب کسی قوم نے اس اصول کو نہیں سمجھا ۔ اور اللہ کے حکموں کی پرواہ نہیں کی ۔ اس کا غصہ بھڑکا ۔ اور اس کو زندگی سے محروم کردیا ۔ ثمود وحاد کی قوم مٹادی گئی ۔ فرعون اور اس کا لاؤ لشکر قلزم میں اپنی عزت و حکمت سمیت ڈبودیا گیا ۔ قوم لوط کی بستیاں الٹ دی گئیں ۔ اور اسی طرح جب بھی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

عاد کو بھی ایک نہایت تند و تیز آندھی سے تباہ و برباد کردیا گیا 6 ؎ یہ بات تو قبل ازیں بہت دفعہ دہرائی جا چکی ہے کہ قرآن کریم میں قصص بیان کرتے وقت اس بات کا بالکل لحاظ نہیں کیا جاتا کہ تاریخی طور پر ان واقعات میں سے پہلے کون سا واقعہ ہے اور پچھلا کونسا اس لئے کہ یہ کتاب نصیحت پذیری کے لئے ہے نہ کہ تاریخی بیانات کے لئے۔ یہ بات اس لئے کہی گئی ہے کہ اکثر قرآن کریم میں عاد کا ذکر پہلے ہے اور ثمود کا بعد میں اور تاریخ میں یہ بات طے ہے کہ عاد پہلے تھے اور ثمود بعد کے اس لئے کہ ثمود عاد کے بقیہ لوگوں کو کہا گیا ہے جو ہلاکت سے بچ گئے تھے لیکن اس جگہ اور بعض دوسرے مقامات پر بھی ثمود کا ذکر پہلے کیا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–8

5 In Surah Al-A'raf: 78, it has been called ar-rajfah (a terrible earthquake) ; in Surah Hud: 67 as-sayhah (a violent blast) ; in Surah Ha Mim As-Sajdah: 17, it has been said: "They were overtaken by sa`iqa-tul-'adhab (a humiliating scourge) ; and here the same punishment has been described as at-taghiyah (a violent catastrophe) . These words describe different aspects of the same calamity.

Read the full tafseer →