Explained with ayahs 1–12
حاقہ
قیامت کا ایک نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ وعدے وعید کی عملی تعبیر اور حقیقت کا دن وہی ہے، اسی لئے اس دن کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے فرمایا تم اس حاقہ کی صحیح کیفیت سے بیخبر ہو، پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن لوگوں نے اسے جھٹلایا اور خمیازہ اٹھایا تھا تو فرمایا ثمودیوں کو دیکھو ایک طرف سے فرشتے کے دہاڑے اور کلیجوں کو پاش پاش کردینے والی آواز آتی ہے تو دوسری جانب سے زمین میں غضبناک بھونچال آتا ہے اور سب تہ وبالا ہوجاتے ہیں، پس بقول حضرت قتادہ (طاغیہ) کے معنی چنگھاڑ کے ہیں، اور مجاہد فرماتے ہیں اسے مراد گناہ ہیں یعنی وہ اپنے گناہوں کے باعث برباد کردیئے گئے، ربیع بن انس اور ابن زید کا قول…
Read the full tafseer →سورة الْحَآقَّة 3
کفار مکہ چونکہ قیامت کو جھٹلا رہے تھے اور اس کے آنے کی خبر کو مذاق سمجھتے تھے اس لیے پہلے ان کو خبردار کیا گیا کہ وہ تو ہونی شدنی ہے، تم چاہے مانو یا نہ مانو، وہ بہرحال آکر رہے گی۔ اس کے بعد اب ان کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ معاملہ صرف اتنا سادہ سا معاملہ نہیں ہے کہ کوئی شخص ایک پیش آنے والے واقعہ کی خبر کو تسلیم کرتا ہے یا نہیں، بلکہ اس کا نہایت گہرا تعلق قوموں کے اخلاق اور پھر ان کے مستقبل سے ہے۔ تم سے پہلے گزری ہوئی قوموں کی تاریخ شاہد ہے کہ جس قوم نے بھی آخرت کا انکار کر کے اسی دنیا کی زندگی کو اصل زندگی سمجھا اور اس بات کو جھٹلا دیا کہ انسان کو آخر کار خدا کی عدالت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
خلاصہ تفسیر
وہ ہونے والی چیز کیسی کچھ ہے وہ ہونے والی چیز اور آپ کو کچھ خبر ہے کہ کیسی کچھ ہے وہ ہونے والی چیز (مقصود اس سے قیامت کی عظمت اور ہولناک ہونیکا بیان ہے یہ استفہامات تہویل کے لئے ہیں) ثمور اور عاد نے اس کھڑکھڑانے والی چیز (یعنی قیامت) کی تکذیب کی سو ثمود تو ایک زور کی آواز سے ہلاک کردیئے گئے اور عاد جو تھے سو وہ ایک تیز و تند ہوا سے ہلاک کئے گئے جس کو اللہ تعالیٰ نے ان پر سات رات اور آٹھ دن متواتر مسلط کردیا تھا سو (اے مخاطب اگر) تو (اس وقت وہاں موجود ہوتا تو) اس قوم کو اس طرح گرا ہوا دیکھتا کہ گویا وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے (پڑے) ہیں (کیونکہ وہ بہت دراز قد تھے) سو کیا تجھ کو ان…
Read the full tafseer →’القارعۃ‘ کا مفہوم:
اور جس شُدنی سے ڈرایا گیا ہے رسولوں اور ان کی قوموں کی تاریخ سے یہ اس کی شہادت پیش کی جا رہی ہے کہ جس طرح قریش عذاب اور قیامت کو جھٹلا رہے ہیں اسی طرح ثمود اور عاد نے بھی جھٹلایا تھا جس کا انجام ان کے سامنے آیا۔ یہاں عذاب اور قیامت کی تعبیر کے لیے لفظ ’قَارِعَۃٌ‘ آیا ہے جس کے معنی ٹھونکنے اور کھٹکھٹانے والی کے ہیں۔ قرآن میں عذاب الٰہی اور قیامت دونوں کی یہ خصوصیت بیان ہوئی ہے کہ ان کے آنے کا وقت کسی کو معلوم نہیں۔ یہ اچانک آ دھمکیں گے اور جس طرح کوئی اچانک آ کر دروازے کو کھٹکھٹاتا اور نچنت سونے والوں کو ہڑبڑا دیتا ہے اس طرح یہ بھی ایک ہلچل برپا کر دیں گے۔
Read the full tafseer →4۔ 1 اس میں قیامت کو کھڑکا دینے والی کہا ہے، اس لئے کہ یہ اپنی ہولناکیوں سے لوگوں کو بیدار کر دے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
1: اس حقیقت سے مراد قیامت ہے۔ عربی محاورے کے مطابق یہ انتہائی پر زور تعبیر ہے جو کسی واقعے کے خوفناک پہلو کو ظاہر کرنے کے لیے نہایت بلیغ پیرائے میں بیان فرمائی گئی ہے، اور اس کو کسی دوسری زبان میں اپنی پوری تاثیر کے ساتھ منتقل کرنا ممکن نہیں، لیکن مفہوم واضح کرنے کے لیے قریب قریب لفظی ترجمہ کردیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
اس سورت کا موضوع اور محور ہولناک مشاہد قیامت ہیں۔ آغاز بھی قیامت کے ایک نام سے ہے اور نام بھی اس سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ نام قیامت کے واقعات کا اظہار اپنے تلفظ اور مفہوم دونوں سے کرتا ہے۔ الحاقہ اس آفت کو کہا جاتا ہے جس کا آنا ٹھہر گیا ہو۔ وہ حق ہوچکی ہو اور اس کا نزول لازمی ہوگیا ہو اور جس نے ہونا ہو اور اٹل ہو۔ یہ سب مفہوم ایسے ہیں کہ جن کے اندر قطعیت ، جزم ، شدنی کا مفہوم ہے۔ لہٰذا قیامت کے لئے اس لفظ کا استعمال سورت کے موضوع اور مضمون کے ساتھ نہایت ہی مناسب ہے۔ پھر اس لفظ کے تلفظ کے اندر بھی وہ اشارہ موجود ہے ، جو بات اس کے مفہوم میں ہے اور آگے سورت میں جو فضا بیان ہوئی ہے اس کے ساتھ بھی ہم…
Read the full tafseer →7 یعنی قوم " ثمود " و " عاد " نے اس آنے والی گھڑی کو جھٹلایا تھا جو تمام زمین، آسمان، چاند سورج، پہاڑوں اور انسانوں کو کوٹ کر رکھ دے گی۔ اور سخت سے سخت مخلوق کو ریزہ ریزہ کر ڈالے گی۔ پھر دیکھ لو ! دونوں کا انجام کیا ہوا۔
Read the full tafseer →آیت 4 { کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَعَادٌم بِالْقَارِعَۃِ۔ } ”جھٹلایا تھا ثمود نے بھی اور عاد نے بھی اس کھڑکھڑا دینے والی کو۔“
القارعۃ سے مراد بھی قیامت ہے۔ قَـرَعَ کا معنی ہے ایک سخت چیز کو دوسری چیز سے ٹکرانا ‘ کو ٹنا ‘ ریزہ ریزہ کردینا ‘ کھڑکھڑا دینا ‘ یا بہت زور سے کھٹکھٹانا۔ الحاقّۃ اور القارعۃ ان دونوں الفاظ کے مابین ایک نسبت یہ بھی ہے کہ یہ دوسورتوں کے نام ہیں اور ان دونوں سورتوں کے آغاز کا انداز بھی ایک جیسا ہے۔ چناچہ سورة القارعۃ کا آغاز بھی بالکل اسی طرح ہو رہا ہے : { اَلْقَارِعَۃُ - مَا الْقَارِعَۃُ - وَمَـآ اَدْرٰٹکَ مَا الْقَارِعَۃُ۔ }
Read the full tafseer →2 قَارِعۃٌ: قَرَعَ بمعنی ایک چیز کو دوسری پر اس طرح مارنا کہ اس سے آواز پیدا ہو۔ اور قرع الباب بمعنی اس نے دروازہ کھٹکھٹایا اور قارِعَۃٌ کے معنی کھڑکھڑانے والی، اور ابن الفارس کے نزدیک قارِعَۃٌ ہر وہ چیز ہے جو انسان پر شدت کے ساتھ نازل ہو۔ نیز قارِعَۃٌ قیامت کا صفاتی نام ہے۔ یعنی اس دن کائنات کی چیزیں ایک دوسرے سے ٹکرا ٹکرا کر کئی طرح کی آوازیں پیدا کریں گی۔
3 یعنی قیامت یا آخرت کا معاملہ اتنا ہی نہیں کہ کوئی مانتا ہے تو مان لے نہیں مانتا تو نہ مانے۔ قیامت آئے گی تو پتہ چل جائے گا کہ آتی ہے یا نہیں آتی۔ بلکہ اس کا فوری اثر اس دنیا میں ہی ظاہر ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
2۔ یہ قوم ثمود قوم عاد جو شمالی ومغربی عرب اور جنوبی ومشرقی عرب کی اپنے اپنے زمانہ میں مہذب ترین ومتمدن ترین قومیں رہی ہیں۔ ان کا اصلی جرم انکار آخرت تھا۔ جو حق تعالیٰ کے ضابطۂ تعزیرات میں انکار توحید کے بعد شدید ترین جرم ہے، اور ان دونوں کا اسی بنیادی جرم کی پاداش میں دنیا میں یہ حشر ہوا کہ ان کا نام ونشان تک مٹا کر رکھ دیا گیا۔ آج کی آخرت فراموش ” روشن خیال “ ومہذب “ قوموں کا جن کے صیحفہ تہذیب و روشن خیالی کی پہلی ہی سطر آخرت فراموشی ہے، حشر کیا ان سے کچھ مختلف ہونا ہے ؟ (آیت) ” القارعۃ “۔ قرع اس آواز کو کہتے ہیں جو کسی سخت چیز پر ضرب لگنے سے پیدا ہوتی ہے اور قارعۃ سخت قسم کی کھڑکھڑاہت ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، برپا ہونے والی، قیامت، کہ جس میں وہ چیز ثابت ہوگی جس کا انکار کیا گیا ہے، یعنی بعث اور حساب اور جزاء یا ان (مذکورہ) چیزوں کو ظاہر کرنے والی، کیسی کچھ ہے وہ برپا ہونے والی ؟ یہ اس کی عظمت شان کا بیان ہے (ما الحاقۃ) مبتداو خبر ہے اور مبتدا خبر سے مل کر اول حاقہ کی خبر ہے اور آپ ﷺ کو کیا خبر کہ کیسی کچھ ہے وہ برپا ہونے والی چیز ؟ یہ بھی اس کی عظمت شان کی زیادتی کا بیان ہے (ما اولی (یعنی ما ادراک) میں ما مبتداء ہے اور اس کا مابعد (یعنی ادراک) اس کی خبر ہے ثمود اور عاد نے کھڑکھڑا دینے والی قیامت کو جھٹلایا قیامت کو قارعہ اس لئے…
Read the full tafseer →کذبت ثمود . حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم۔
و عاد . حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم
بالقارعۃ . کھٹ کھٹا دینے والی ساعت۔ یعنی قیامت ‘ جو ہر چیز کی توڑ پھوڑ ‘ شکست و ریخت اور انتشار و پراگندگی کی وجہ سے لوگوں کے کانوں پر ضرب لگائے گی۔ اس جگہ بھی ضمیر کی جگہ اسم ظاہر کو استعمال کیا گیا ہے۔ مگر ایسا مرادف لفظ لایا گیا جو شدت ہول میں زیادتی کو ظاہر کر رہا ہے۔ یہ جملہ سابقہ جملوں کے ساتھ مل کر بتارہا ہے کہ قیامت کو نہ ماننا اور اس کی تکذیب کرنا ہلاکت و تباہی کا موجب ہے۔
Read the full tafseer →ثمود اور عاد نے قیام قیامت کو جھٹلایا قیامت کو قارعہ اس لیے کہا گیا کہ یہ ان کے دلوں کو ہلا دے گی۔
Read the full tafseer →کذبت ثمودہ و عاد بالقارعۃ :”القارعۃ“”قرع“ (ف) کھٹکھٹانا، کسی سخت چیز پر دوسری چیز سے ضرب لگانا۔ یہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے، کیونکہ وہ بھی اسی طرح یک لخت آکھٹکھٹائے گی جیسے کوئی آنے والا زور سے دروازہ آکھٹکھٹاتا ہے اور آدمی ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھتا ہے۔ کفار کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ قیامت کا انکار کرنے والے پہلے لوگ تم ہی نہیں، بلکہ تم سے پہلے عاد وثمود نے، جو قوت و شوکت میں تم سے کہیں بڑھ کر تھے، اس کھٹکھٹانے والی (قیامت) کو جھٹلایا، پھر ان کا انجام کیا ہوا ؟ ثمود جو عرب کے شمال مغرب اور عاد جو عرب کے جنوب مشرق کی متمدن ترین قومیں تھیں، توحید کے انکار کے بعد ان کا سب سے بڑا جرم قیامت اور…
Read the full tafseer →کذبت ثمود و عاد بالقارعۃ۔
” ثمود اور عاد نے ٹکرا کر پاش پاش کرنے والی کو۔ “
جنہوں نے قیامت کو جھٹلایا اس کا ذکر فرمایا۔ قارعہ سے مراد قیامت ہے (2) اسے یہ نام اس لئے دیا کیونکہ یہ لوگ کو اپنی ہولناکیوں سے کھٹکھٹاتی ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : اصابتھم قوارع الدھر انہیں حادثات زمانہ پہنچے۔ نعوذ باللہ من قوارع فلان ولواذعہ وقوارص لسانہ ہم فلاں کی طرف سے دی جانے والی مصیبتوں، آفتوں اور بدکلامیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ ماگنتے ہیں۔ قوارص یہ قارضہ کی جمع ہے جس کا معنی تکلیف دہ حکم ہے۔ قوارع القرآن، اس سے مراد وہ آیات ہیں جو انسان، جنوں یا انسانوں سے خوفزدہ ہو کر پڑھتا ہے جس طرح آیت الکرسی، گویا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الحاقۃ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ہے۔
2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر والحاکم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ الحاقہ سے مراد ہے قیامت کہ ہر عامل کے لیے اس کا عمل ثابت کردے گی۔ آیت وما ادرک ما الحاقہ تجھ کو کیا معلوم کہ قیامت کیسی ہولناک ہے۔ یعنی قیامت کے دن کی تعظیم کے لیے ہے جیسے تم سنتے ہو۔ اور فرمایا آیت کذبت ثمود وعاد بالقارعۃ قوم ثمود اور عاد نے قیامت کو جھٹلایا۔ یعنی قیامت کو۔
3۔ ابن المنذر ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت الحاقہ سے مراد ہے کہ ہر عامل کے لیے اس کا عمل ثابت کیا جائے گا۔ مومن کے لیے اس کا ایمان اور منافق کے…
Read the full tafseer →كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَعَادٌۢ: جھٹلایا ثمود نے اور عاد نے ][ بِالْقَارِعَةِ : اس کھٹکھٹانے والی (قیامت) کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
کھڑکھڑانے والی چیز (یعنی قیامت) کو جھٹلانے والوں کی ہلاکت
یہاں سے سورة الحاقۃ شروع ہو رہی ہے الحاقۃ حق یحق سے اسم فاعل ہے جس کا ترجمہ ہے واقع ہونے والی چیز یعنی جس کا وجود میں آجانا ضروری ہے وہ ٹل نہیں سکتی، اس سے قیامت مراد ہے قرآن مجید میں اس کے کئی نام آئے ہیں ان میں سے ایک القارعۃ بھی ہے جو اس سورت کی چوتھی آیت میں مذکورہ ہے علماء نحو نے فرمایا ہے الحاقة مبتدا ہے اور ما الحاقة خبر ہے۔
طرز بیان ایسا اختیار فرمایا ہے جس سے قیامت کی اہمیت ظاہر ہوجائے ارشاد فرمایا کہ کیسی چیز ہے وہ ہوجانے والی اور اے مخاطب تجھے کیا خبر ہے کہ وہ ہوجانے والی چیز کیا ہے ؟ یعنی وہ بڑی چیز ہے اس دن کی پیشی کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔
ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…
Read the full tafseer →3:۔ ” کذبت ثمود “ یہ تخویف دنیوی کا پہلا اور دوسرا نمونہ ہے، قوم ثمود اور قوم عاد نے دیگر ضروریات ایمان اور توحید و رسالت وغیرہ کے علاوہ قیامت کا بھی انکار کیا۔ ” القارعۃ “ قیامت، کیونکہ وہ اپنے اہوال و شدائد کی وجہ سے لوگوں کو ہلا دے گی۔ والقارعۃ القیامۃ لانھا تقرع الناس باھوالھا (قرطبی ج 18 ص 257) ۔ اس کے بعد دونوں قوموں کی ہلاکت کی تفصیل بیان فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
کوائف سورة :
اس سورة کا نام سورة لحاقہ ہے۔ مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی باون آیات اور دو رکوع ہیں۔ یہ سورة دو سوچھپن کلمات اور ایک ہزار چار سو اسی حروف پر مشتمل ہے۔
سابقہ سورة کے ساتھ :
سابقہ سورة میں رسالت کا ذکر تھا۔ اللہ کے بنی اور رسول کو مجنون کہنے والوں کا رد تھا۔ یہ بھی ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جو دنیاوی نعمتیں عطا کی ہوئی ہیں۔ یہ محض امتحان کے لیے ہیں کسی کی مقبولیت کی نشانی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ باغ والوں کی مثال بیان فرمائی کہ اللہ نے ان کا بھی امتحان لیا تھا۔ اس کے علاوہ منکرین قیامت کا رد فرمایا۔ اور انکے ساتھ آخرت میں پیش آنے والے حالات کا ذکر فرمایا آخر میں پھر رسالت کے…
Read the full tafseer →كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَعَادٌۢ بِالْقَارِعَۃِ 4
كذب
وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی:
إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ،
( ک ذ ب ) الکذب
قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
ثمد
ثَمُود قيل : هو أعجمي، وقیل : هو عربيّ ، وترک صرفه لکونه اسم قبیلة، أو أرض، ومن صرفه جعله اسم حيّ أو أب، لأنه يذكر فعول من الثَّمَد، وهو الماء القلیل الذي لا مادّة له، ومنه قيل : فلان مَثْمُود، ثَمَدَتْهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب : الحاقۃ الساعۃ والحالۃ التی بحق فیھا الامور مبتداء ما الحاقۃ خبرھا واصلہ ماھی فوضع الظاہر موضع المضمر للتھویل وما مبتداء ادراک خبرہ ما الحاقۃ الجملۃ فی محل النصب لکونھا مفعولاثانیا لادراک واماثمود مبتداء فاھلکو الخ خبرہ طاغیۃ مصدر کالعافیۃ قیل الصحیۃ التی جاوزت الحد وھی صحیۃ جبرئیل وقیل الرجفۃ ای لزلزتہ صرصر الشدید الصوت لھاصرصرۃ عاتیۃ من العتوفقیل عتت الریح علی الخزان فلم یکن لھم علیھا سبیل وقیل عتت علی عادفما قدروا واعلیٰ ردھا بحیلۃ من استنادبنباء اواستنا دالی جبل وقیل لیس من العتوبمعنی العصیاں بل بمعنی بلوغ الشیء وانتہا بہ کما فی قولہ تعالیٰ (وقدبلغت من الکبر عتیا) عاتیۃ ای بالفۃ…
Read the full tafseer →کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَعَادٌ م بِالْقَارِعَۃِ ۔ (الحآقۃ : 4)
(ثمود اور عاد نے اس کھٹکھٹانے والے کو جھٹلایا۔ )
الْقَارِعَۃِ کا مفہوم اور قیامت کے انکار کا اہتمام
سابقہ تین آیات میں قیامت کے یقینی وقوع کا ذکر فرمایا اور اس کے آنے کو عقلاً و اخلاقاً لازمی قرار دیا۔ اب اس پر اضافہ کرتے ہوئے یہ فرمایا جارہا ہے کہ قیامت کا آنا تو ایک حقیقت ہے، لیکن اسے تسلیم کرنا یا انکار کردینا محض علمی مشغلہ نہیں بلکہ انسانوں کی تعمیر کردار اور باہمی معاملات کی بہتری اور دنیا کی مصلحت کے لیے اس کا آنا ازبس ضروری ہے۔ جو شخص اس کے وجود سے انکار کرتا ہے وہ درحقیقت انسانی زندگی کی تباہی کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کو جھٹلانے والی اقوام میں سر فہرست قوم ثمود اور قوم عاد تھیں دونوں قوموں کا دنیا میں بدترین انجام ہوا۔
قرآن مجید نے قیامت کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کے مختلف مراحل کے حوالے سے اس کا ذکر کیا ہے۔ قیامت کے مراحل میں ایک مرحلہ اتنا شدید ہوگا کہ ہر چیز آپس میں ٹکرا جائے گی یہاں تک کہ پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ یہی بات صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اور حضرت ھود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بار بار بتلائی اور سمجھائی۔ مگر دونوں اقوام نے اپنے اپنے انبیاء (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور قیامت کے برپا ہونے کو جھٹلایا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود اور قوم عاد کو نیست و…
Read the full tafseer →قارعہ نام کی وجہ :
4 : کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَعَادٌم بِالْقَارِعَۃِ (قوم عاد وثمود نے اس کھڑ کھڑانے والی چیز کی تکذیب کی) یعنی الحاقہ کا انکار کیا۔ یہاں القارعہ کو اس کی جگہ رکھ دیا گیا کیونکہ یہ دونوں قیامت ہی کے اسماء ہیں اس کا نام القارعہ اس وجہ سے ہے کیونکہ یہ لوگوں کو اپنی ہولناکیوں اور گھبراہٹوں سے کھٹ کھٹاتی ہے۔
Read the full tafseer →3 ۔” وما ادراک ما الحاقۃ “ یعنی آپ (علیہ السلام) اس کو نہیں جانتے اس لئے کہ آپ نے اس کا معائنہ نہیں کیا اور میں جو ہولناکیاں ہوں گی وہ نہیں دیکھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
1۔ 12۔ قیامت کی جس سزا و جزا کا ذکر قرآن و حدیث میں ہے قیامت کے دن وہ سزا و جزا سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گی اور پھر اس کا کوئی منکر باقی نہ رہے گا سب اس کا حق ہونا مان لیں گے اس لئے قیامت کا نام حاقہ ہے جس کے معنی حق ثابت ہونے والی۔ حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک جتنی قوموں نے قیامت کی سزا و جزا اور اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور اس جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے وہ قومیں ہلاک ہوئی تھیں ان سب کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا ہے تاکہ یہ قصے اس بات کی ایک یادگار اور نصیحت ہوجائیں کہ اب بھی جو لوگ ان لوگوں کے سے کام کریں گے قیامت کو قیامت کے عذاب کو اللہ کے رسول کو جھٹلائیں گے اللہ کے حکم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
(الحاقہ) یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، کیونکہ یہ ثابت اور واجب ہے اور مخلوق پر نازل ہوگی، اس میں تمام امور کے حقائق اور سینوں کے بھید ظاہر ہوں گے، اللہ نے اپنے اس فرمان (الحاقہ۔ ما الحاقہ۔ وما ادراک ما الحاقہ) کے تکرار کے ذریعے سے اس کی عظمت شان اور تفخیم بیان فرمائی ہے۔ اس کی شان بہت عظیم ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے احوال کے نمونے کا ذکر فرمایا جو دنیا میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ وہ سخت عقوبتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سرکش قوموں پر نازل فرمائیں، چناچہ فرمایا (کذبت ثمود) ۔ ثمود ایک مشہور قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول حضرت صالح کو مبعوث…
Read the full tafseer →4 قیامت کی صداقت و حقانیت کے لئے تاریخ کا حوالہ و ذکر : سو قیامت کی صداقت و حقانیت کے ثبوت کے لئے تاریخ کے حوالے کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جھٹلایا عاد اور ثمود نے دہلا کر رکھ دینے والے اس حادثہ کبری کو، والعیاذ باللہ العظیم سو وہ حادثہ کبری ایسا ہولناک ہوگا کہ اس سے لوگوں کے ہوش اڑ جائیں گے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وتری الناس سکاری وما ھم بسکاری ولکن عذاب اللہ شدید اور دل دہل جائیں گے اور وہ مارے خوف کے اس روز کانپ رہے ہوں گے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا قلوب یومئذ واجفۃ کہ وہ بڑا ہی عظیم اور انتہائی ہولناک حادثہ ہوگا جس میں زمین کے اس عظیم الشان کرے کو اور اس میں موجود ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
قیامت کی خوفناک خبر کے منکرین کا انجام
تشریح :۔ جیسا کہ ترجمہ سے مطلب واضح ہو رہا ہے کہ قیامت کا آنا بالکل ضروری لازم ہے اور وہ بڑا ہی سخت پریشان کن اور تباہ کن واقعہ ہوگا۔ تو اس بات پر ثمود عاد قوم نوح (علیہ السلام) قوم لوط اور قوم فرعون نے یقین نہ کیا اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا اور برے کاموں میں غرق ہو کر موت اور آخرت کو قیامت کو بالکل بھلا دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسے شدید عذاب بھیجے کہ وہ بالکل نیست و نابود ہوگئے تو ان کی تباہی کو دیکھو ” پڑھو اور سنو تو تمہیں یقین آجائے گا کہ قیامت کیسی ہوگی اور قیامت کے منکرین کا کیا حال دنیا میں ہوا اور کیا حال آخرت میں ہوگا۔
اصل میں مسلمان کے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
سورة الحاقہ۔
آیات 1 تا 37۔
اسرار ومعارف۔
دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔
کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…
Read the full tafseer →ف 12 قیامت کے بہت سے نام ہیں۔ ان میں سے ایک قارعہ (کھڑاکھڑانیوالی) ہے اس لئے کہ وہ اپنی شدت سے دلوں کو ہلادیگی۔
Read the full tafseer →(69:4) ثمود : ثمود یعنی حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم۔ عاد حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم ۔ بالقارعۃ : اقوام صالح اور ہود نے، قیامت کی تکذیب کی۔
القارعۃ : کھٹکھٹا دینے والی ساعت۔ یعنی قیامت جو ہر چیز کی پھوڑ توڑ، شکست دریخت اور انتشار وپراگندگی کی وجہ سے لوگوں کے کانوں پر چوٹ لگائے گی۔ اس جگہ بھی ضمیر کی بجائے اسم ظاہر کو استعمال کیا گیا ہے۔ مگر ایسا مرادف لفظ لایا گیا ہے جو کہ شدت ہول میں زیادتی کو ظاہر کر رہا ہے۔
یہ جملہ سابقہ جملوں کے ساتھ مل کر بتارہا ہے کہ قیامت کو نہ ماننا اور اس کی تکذیب کرنا ہلاکت و تباہی کا موجب ہے۔ القارعۃ قرع (باب فتح) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ ہے واحد مؤنث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن۔
الحاقۃ۔ سچ مچ ہونے والی۔ یقینی۔ القارعۃ۔ کوٹنے والی۔ اھلکوا۔ ہلاک کئے گئے۔ الطاغیۃ۔ زلزلہ۔ صرصر۔ زبردست آندھی۔ عاتیۃ۔ قابو سے باہر۔ سبع لیال۔ سات رات۔ ثمینۃ آیام۔ آٹھ دن۔ حسوما۔ متواتر۔ مسلسل۔ صرعی۔ اوندھے پڑے ہوئے۔ اعجاز نخل ۔ تنے کھجور کے۔ خاویۃ۔ کھوکھلے۔
تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بتہ سے نام آئے ہیں ” حاقہ “ بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ قیامت کفار کے لئے ایک ہولناک دن بھی ہے اس لئے اس کی طرف پوری توجہ دلانے کے لئے سوالیہ انداز اختیار فرمایا۔ حاقہ ایک ایسی سچائی ہے جس کا آنا اور واقع ہونا یقینی ہے۔ قیامت کے دن پر یقین رکھنے والا ذہنی پستی، اخلاقی بگاڑ اور گناہوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
(ف 1) قیامت کی جس سزا وجزا کا ذکر قرآن مجید وحدیث شریف میں ہے قیامت کے دن وہ سزا وجزا سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا اور پھر اس کا کوئی منکر باقی نہ رہے گا سب اس کا حق ہونامان لیویں گے اسی لیے قیامت کا نام ھاقہ ہے جس کے معنی حق ثابت ہونے والی ، حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک جتنی قوموں نے قیامت کی سزا اور جزا اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور اس جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے وہ قومیں ہلاک ہوئی تھیں ان سب کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ یہ قصے اس بات کی ایک یادگار اور نصیحت ہوجائیں کہ اب بھی جو لوگ ان لوگوں کے سے کام کریں گے قیامت کو قیامت کے عذاب کو اللہ کے رسول کو جھٹلائیں گے اور اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
[3] قارعہ کے معنی کھڑکھڑانے والی چیز کے ہیں۔ یہاں یہ لفظ قیامت کے لئے استعمال ہوا ہے اس لئے کہ وہ لوگوں کو مضطرب اور بےچین کرنے والی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–12
ف 2: ان آیات میں یہ قانون واضح فرمایا ہے ۔ کہ کوئی قوم زندگی کا اس وقت تک استحقاق نہیں رکھتی ۔ جب تک کہ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین کی اطاعت نہ کرے ۔ اور اپنی خواہشات کو اس کے ارادہ اور منسا کے تابع نہ کردے ۔ کیونکہ مقدرات میں سے ہے ۔ کہ کوئی نفس اس سرچشمہ حیات وور سے الگ رہ کر اپنی انفرادیت باقی نہیں رکھ سکتا ۔ چناچہ جب کسی قوم نے اس اصول کو نہیں سمجھا ۔ اور اللہ کے حکموں کی پرواہ نہیں کی ۔ اس کا غصہ بھڑکا ۔ اور اس کو زندگی سے محروم کردیا ۔ ثمود وحاد کی قوم مٹادی گئی ۔
فرعون اور اس کا لاؤ لشکر قلزم میں اپنی عزت و حکمت سمیت ڈبودیا گیا ۔ قوم لوط کی بستیاں الٹ دی گئیں ۔ اور اسی طرح جب بھی…
Read the full tafseer →(4) ثمود اور عاد نے اس کھڑکھڑا دینے والی چیز یعنی قیامت کی تکذیب کی اور قیامت کو جھوٹا جانا۔ حاقہ یہاں یہاں قیامت کو فرمایا ہے۔ حاقہ کے معنی ثابت ہونے والی واجب ہونے والی یعنی جس کا وقوع ضروری اور حق ہے یا حاقہ بمعنی عارفہ ہے کہ جب وہ گھڑی واقع ہوگی تو لوگ تمام امور کی حقیقت اور اصلیت کو پہچان لیں گے یا ثابتہ یعنی یہ دن جب ہوگا تو اس دن حساب اور جزاوسزا کا ثبوت اکمل طور پر ہوجائیگا اور وہاں وعدہ وعید کا پورا تحقق ہوگا یا حق فرمایا قیامت کو کہ اس دن ہر شخص اس لائق ہوگا کہ اپنے اعمال کی سزا یا جزا پائے۔
اسی کی اہمیت کے لئے فرمایا کیا ہے وہ حاقہ اور آپ کو کس نے بتایا اور آپ کو کچھ خبر ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–11
ف 2۔ مقصود اس سے تقطیع شان قیامت ہے کہ وہ سخت ہولناک چیز ہے۔
Read the full tafseer →ثمود اور عاد نے اسی دل ہلا دینے والی گھڑی کو جھٹلایا
4 ؎ قوم ثمود کی طرف صالح (علیہ السلام) اور قوم عاد کی طرف ہود (علیہ السلام) نبی بنا کر مبعوث کئے گئے ۔ ان دونوں نبیوں کی سرگزشت میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ قوم کو انہوں نے کیا درس دیا اور قوم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ زیر نظر آیت میں ان کی داستانوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ان دونوں جماعتوں نے بھی قیامت کے بپا ہونے کا انکار کیا اور پھر انکار کرتے ہی چلے گئے ان کی نبیوں نے ان کے سامنے قیامت کی تفصیلات رکھیں لیکن انہوں نے جھٹلانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور اپنے نبیوں کی مخالفت ہی کے باعث ان کو تباہ و برباد کردیا گیا۔ اوپر کے ذکر میں قیامت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
Commentary
This Surah is almost wholly devoted to the subject of inevitability of the Resurrection, its horrors, the punishment of unbelievers and the reward of believers. The Day of Judgment is variously referred to in the Qur'an, and in this Surah we encounter the following three names: الْحَاقَّةُ Al-Haqqah 'Imminent Happening', الْقَارِعَةِ Al-Qari'ah 'Shocking Event' and الْوَاقِعَةُ -waqi` ah 'Happening'.
The word الْحَاقَّةُ Al-haqqah means an 'established fact, or inevitable event, reality or truth'. The word Al-haqqah also means 'Something that provide evidence that something is…
Read the full tafseer →3 As the disbelievers of Makkah denied Resurrection and took the news of its coming lightly, they have been warned at the outset, as if to say: "Resurrection is inevitable: whether you believe in it; or not, it will in any case take place. Then, they are told: "It is not a simple and ordinary thing that a person accepts the news of the coming of an event, or not, but it has a deep relationship with the morals of the nations and with their future. The history of the nations, which lived before you, testifies that the nation which refused to believe in the Hereafter and thought this worldly…
Read the full tafseer →