Al-Haaqqa 69:3

Al-Haaqqa · from ayah 3

69:3

وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُ ۟ؕوَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا الۡحَــآقَّةُ ؕ‏

اور تم کو کیا معلوم ہے کہ سچ مچ ہونے والی کیا ہے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And what can make you know what is the Inevitable Reality?

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa

All translations of 69:3

اور تم کیا جانو کہ وہ کیا ہے ہونی شدنی؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم کو کیا معلوم ہے کہ سچ مچ ہونے والی کیا ہے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور تجھے کیا معلوم ہے کہ وه ﺛابت شده کیا ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تمہیں کیا پتہ کہ وہ حقیقت کیا ہے جو ہو کر رہے گی ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تم نے کیا جانا کیسی وہ حق ہونے والی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ کو کس چیز نے خبردار کیا کہ یقیناً واقع ہونے والی (قیامت) کیسی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ وہ ہو کر رہنے والی کیا ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آپ کیا سمجھے کہ وہ سچ مچ ہونے والی کیا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا جانو کہ کیا ہے شدنی !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ ہو کر رہنے والی

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ کو کیا خبر کہ کیسی کچھ ہے وہ ہونے والی چیز !۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تم نے کیا سمجھا کہ وہ حق ہونے والی کیا ہے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور آپ کو کیا معلوم ہے کہ سچ مچ ہونے والی کیا ہے ؟۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And what do you know what that indubitable event is?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And what can let you know what the Imminent happening is?

— Muhammad Taqi Usmani

And what can let you know what the Imminent happening is?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And what will make you know what Al-Haqqah is

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Ah, what will convey unto thee what the reality is!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And what can make you know what is the Inevitable Reality?

— Saheeh International

Would that you knew (in detail) what the Inevitable is!

— Muhammad Sarwar

And what would make you realize what the sure calamity is!

— Muhammad Habib Shakir

And what shall make thee know that which the Inevitable Calamity is.

— Abdul Majid Daryabadi

And what will make thee realise what the Sure Reality is?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 69:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–12

حاقہ قیامت کا ایک نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ وعدے وعید کی عملی تعبیر اور حقیقت کا دن وہی ہے، اسی لئے اس دن کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے فرمایا تم اس حاقہ کی صحیح کیفیت سے بیخبر ہو، پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن لوگوں نے اسے جھٹلایا اور خمیازہ اٹھایا تھا تو فرمایا ثمودیوں کو دیکھو ایک طرف سے فرشتے کے دہاڑے اور کلیجوں کو پاش پاش کردینے والی آواز آتی ہے تو دوسری جانب سے زمین میں غضبناک بھونچال آتا ہے اور سب تہ وبالا ہوجاتے ہیں، پس بقول حضرت قتادہ (طاغیہ) کے معنی چنگھاڑ کے ہیں، اور مجاہد فرماتے ہیں اسے مراد گناہ ہیں یعنی وہ اپنے گناہوں کے باعث برباد کردیئے گئے، ربیع بن انس اور ابن زید کا قول…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 2–3

سورة الْحَآقَّة 2 یکے بعد دیگرے یہ دو سوالات سامعین کو چونکانے کے لیے کیے گئے ہیں تاکہ وہ بات کی اہمیت کو سمجھیں اور پوری توجہ کے ساتھ آگے کی بات سنیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–5

خلاصہ تفسیر وہ ہونے والی چیز کیسی کچھ ہے وہ ہونے والی چیز اور آپ کو کچھ خبر ہے کہ کیسی کچھ ہے وہ ہونے والی چیز (مقصود اس سے قیامت کی عظمت اور ہولناک ہونیکا بیان ہے یہ استفہامات تہویل کے لئے ہیں) ثمور اور عاد نے اس کھڑکھڑانے والی چیز (یعنی قیامت) کی تکذیب کی سو ثمود تو ایک زور کی آواز سے ہلاک کردیئے گئے اور عاد جو تھے سو وہ ایک تیز و تند ہوا سے ہلاک کئے گئے جس کو اللہ تعالیٰ نے ان پر سات رات اور آٹھ دن متواتر مسلط کردیا تھا سو (اے مخاطب اگر) تو (اس وقت وہاں موجود ہوتا تو) اس قوم کو اس طرح گرا ہوا دیکھتا کہ گویا وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے (پڑے) ہیں (کیونکہ وہ بہت دراز قد تھے) سو کیا تجھ کو ان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 2–3

’مَا الْحَاقَّۃُ‘۔ یہ سوال اس کے ہول، اس کی دہشت اور اس کی بے پناہی کی تعبیر کے لیے ہے جس کی مزید وضاحت بعد کے الفاظ ’وَمَا اَدْرٰکَ مَا الْحَاقَّۃُ‘ سے ہوتی ہے کہ کون جان سکتا اور کون بتا سکتا ہے کہ یہ شُدنی کیا ہے اور جب یہ ظہور میں آئے گی تو ان لوگوں پر کیا گزرے گی جو آج نہایت ڈھٹائی کے ساتھ اس کو جھٹلا رہے ہیں!

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

3۔ 1 گویا کہ تجھے اس کا علم نہیں، کیونکہ تو نے ابھی اسے دیکھا ہے اور نہ اس کی ہولناکیوں کا مشاہدہ کیا ہے، گویا مخلوقات کے دائرہ علم سے باہر ہے (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 3–4

1: اس حقیقت سے مراد قیامت ہے۔ عربی محاورے کے مطابق یہ انتہائی پر زور تعبیر ہے جو کسی واقعے کے خوفناک پہلو کو ظاہر کرنے کے لیے نہایت بلیغ پیرائے میں بیان فرمائی گئی ہے، اور اس کو کسی دوسری زبان میں اپنی پوری تاثیر کے ساتھ منتقل کرنا ممکن نہیں، لیکن مفہوم واضح کرنے کے لیے قریب قریب لفظی ترجمہ کردیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–4

اس سورت کا موضوع اور محور ہولناک مشاہد قیامت ہیں۔ آغاز بھی قیامت کے ایک نام سے ہے اور نام بھی اس سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ نام قیامت کے واقعات کا اظہار اپنے تلفظ اور مفہوم دونوں سے کرتا ہے۔ الحاقہ اس آفت کو کہا جاتا ہے جس کا آنا ٹھہر گیا ہو۔ وہ حق ہوچکی ہو اور اس کا نزول لازمی ہوگیا ہو اور جس نے ہونا ہو اور اٹل ہو۔ یہ سب مفہوم ایسے ہیں کہ جن کے اندر قطعیت ، جزم ، شدنی کا مفہوم ہے۔ لہٰذا قیامت کے لئے اس لفظ کا استعمال سورت کے موضوع اور مضمون کے ساتھ نہایت ہی مناسب ہے۔ پھر اس لفظ کے تلفظ کے اندر بھی وہ اشارہ موجود ہے ، جو بات اس کے مفہوم میں ہے اور آگے سورت میں جو فضا بیان ہوئی ہے اس کے ساتھ بھی ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–3

6 یعنی وہ قیامت کی گھڑی جس کا آنا ازل سے علم الٰہی میں ثابت اور مقرر ہوچکا ہے جبکہ حق باطل سے بالکل واشگاف طور پر بدون کسی طرح کے اشتباہ و التباس کے جدا ہوجائے گا اور تمام حقائق اپنے پورے کمال و سبوغ کے ساتھ نمایاں ہوں گی۔ اور اس کے وجود میں جھگڑا کرنے والے سب اس وقت مغلوب و مقہور ہو کر رہیں گے۔ جانتے ہو وہ گھڑی کیا چیز ہے ؟ اور کس قسم کے احوال و کیفیات اپنے اندر رکھتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

آیت 1 { اَلْحَآقَّۃُ۔ } ”وہ حق ہوجانے والی !“ یعنی قیامت جس کا وقوع پذیر ہونا حق ہے ‘ اس کا واقع ہونا ایک مسلمہ ّصداقت اور اٹل حقیقت ہے جس میں قطعاً کوئی شک نہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 انداز کلام کو اس قدر موکد اس لیے بنایا گیا ہے کہ قرآن کے مخاطب قریشی لوگ قیامت کے کٹر منکر تھے۔ اور اس میں بتایا یہ گیا ہے کہ آپ بھی بس اتنا ہی جان سکتے ہیں۔ کہ قیامت یقیناً آنے والی ہے۔ یہ نہیں جان سکتے کہ کب آئے گی یا اس وقت کیا کیفیت ہوگی۔ چناچہ اسی سورة میں قیامت کی بعض کیفیات بیان کردی گئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–3

1۔ سورة کو استفہامی فقروں سے شروع کرنا مخاطب کو سوال کرکے توجہ دلانا عین بلاغت وخطابت کے اسلوب کے مطابق ہے (آیت) ” الحآقۃ “۔ حاقہ کے لفظی معنی اس چیز کے ہیں، جو بہرحال ہو کر رہے الحاقۃ التی یحق وقوعھا (بیضاوی) مراد حشر کا ہولناک دن ہے جس دن جزاء وسزاواقع ہوکر رہے گی، اشارۃ الی القیامۃ لانہ یحق فیہ الجزاء (راغب)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–16

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، برپا ہونے والی، قیامت، کہ جس میں وہ چیز ثابت ہوگی جس کا انکار کیا گیا ہے، یعنی بعث اور حساب اور جزاء یا ان (مذکورہ) چیزوں کو ظاہر کرنے والی، کیسی کچھ ہے وہ برپا ہونے والی ؟ یہ اس کی عظمت شان کا بیان ہے (ما الحاقۃ) مبتداو خبر ہے اور مبتدا خبر سے مل کر اول حاقہ کی خبر ہے اور آپ ﷺ کو کیا خبر کہ کیسی کچھ ہے وہ برپا ہونے والی چیز ؟ یہ بھی اس کی عظمت شان کی زیادتی کا بیان ہے (ما اولی (یعنی ما ادراک) میں ما مبتداء ہے اور اس کا مابعد (یعنی ادراک) اس کی خبر ہے ثمود اور عاد نے کھڑکھڑا دینے والی قیامت کو جھٹلایا قیامت کو قارعہ اس لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما ادراک . استفہام انکاری ہے ‘ کیا تم کو معلوم ہے ‘ کسی چیز نے تم کو بتایا ‘ تم کو کیا معلوم۔ ما الحاقۃ . کیسی ہولناک ہے ‘ قیامت۔ جملۂ استفہامیہ قیامت کی ہولناکی کو ظاہر کر رہی ہے یعنی قیامت بڑی ہولناک چیز ہے۔ اس کی حقیقت تم کو معلوم نہیں ‘ کوئی بھی اس کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–3

(1۔ 3) ظیع شان قیامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ قیامت کس طرح کی ہے اور اے نبی کریم آپ کو کچھ معلوم ہے کہ قیامت کس طرح کی ہے۔ اور قیامت کو حاقہ کہا گیا ہے۔ حاقہ حقائق امور بنا پر کہا گیا ہے کیونکہ اس میں مومن کے لیے اس کے ایمان کی وجہ سے جنت اور کافر کے لیے اس کے کفر کی وجہ سے دوزخ ثابت ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–3

(الحآقۃ ، ماالحاقۃ…:”الحآقۃ“”حق یحق“ (ض ، ن) (ثابت ہونا، واجب ہونا) سے ”فاعلۃ“ کے وزن پر ہے، ہو کر رہنے والی، واجب ہونے والی، جس کا ہونا حق ہے۔ مراد قیامت ہے، کیونکہ وہ ہو کر رہ گی، اس لئے اس کا نام ”الواقعۃ ‘(واقع ہونے والی) بھی ہے۔ (دیکھیے حاقہ : 15) قیامت کا ذکر استفہامیہ فقروں سے شروع کیا گیا ہے، یہ اہل بلاغت کا خاص اسلوب ہے۔ اس سے ایک تو سننے والے کو متوجہ کرنا اور شوق دلانا مقصود ہوتا ہے، دوسرا قیامت کی عظمت اور ہولناکی بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ اتنی عظیم الشان ہے کہ نہ تمہاری سمجھ میں پوری طرح آسکتی ہے اور نہ کوئی اور ایسا ہے جو تمہیں معلوم کروا سکے کہ وہ کیا ہے ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وما ادرک ما الحآقۃ۔ یہ بھی جملہ استفہامیہ ہے یعنی کس چیز نے مجھے بتایا کہ وہ دن کیا چیز ہے نبی کریم ﷺ قیامت کے بارے میں آگاہ تھے مگر صفت کے اعتبار سے، اس کی تفخیم شان کے لئے کہا گیا۔ وما ادراک ماھی گویا جب آپ ﷺ نے اس کا معائنہ کیا تو تو اس کو جانتا ہی نہیں۔ یحییٰ بن سلام نے کہا، مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ قرآن حکیم میں جہاں بھی وما آدرک ہے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس سے آگاہ کردیا اور علم عطا فرما دیا اور جہاں بھی وما یدریک ہے اس کے بارے میں علم عطا نہیں فرمایا (1) سفیان بن عینیہ نے کہا، ہر وہ چیز جس کے بارے میں فرمایا، وما آدرک اس کے بارے میں خبر دی اور ہر وہ چیز جس کے بارے میں فرمایا : وما یدریک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–4

1۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الحاقۃ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ہے۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر والحاکم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ الحاقہ سے مراد ہے قیامت کہ ہر عامل کے لیے اس کا عمل ثابت کردے گی۔ آیت وما ادرک ما الحاقہ تجھ کو کیا معلوم کہ قیامت کیسی ہولناک ہے۔ یعنی قیامت کے دن کی تعظیم کے لیے ہے جیسے تم سنتے ہو۔ اور فرمایا آیت کذبت ثمود وعاد بالقارعۃ قوم ثمود اور عاد نے قیامت کو جھٹلایا۔ یعنی قیامت کو۔ 3۔ ابن المنذر ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت الحاقہ سے مراد ہے کہ ہر عامل کے لیے اس کا عمل ثابت کیا جائے گا۔ مومن کے لیے اس کا ایمان اور منافق کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْحَاۗقَّةُ : اور تم کیا جانو کیا ہے وہ ثابت ہونے والی (قیامت)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–6

کھڑکھڑانے والی چیز (یعنی قیامت) کو جھٹلانے والوں کی ہلاکت یہاں سے سورة الحاقۃ شروع ہو رہی ہے الحاقۃ حق یحق سے اسم فاعل ہے جس کا ترجمہ ہے واقع ہونے والی چیز یعنی جس کا وجود میں آجانا ضروری ہے وہ ٹل نہیں سکتی، اس سے قیامت مراد ہے قرآن مجید میں اس کے کئی نام آئے ہیں ان میں سے ایک القارعۃ بھی ہے جو اس سورت کی چوتھی آیت میں مذکورہ ہے علماء نحو نے فرمایا ہے الحاقة مبتدا ہے اور ما الحاقة خبر ہے۔ طرز بیان ایسا اختیار فرمایا ہے جس سے قیامت کی اہمیت ظاہر ہوجائے ارشاد فرمایا کہ کیسی چیز ہے وہ ہوجانے والی اور اے مخاطب تجھے کیا خبر ہے کہ وہ ہوجانے والی چیز کیا ہے ؟ یعنی وہ بڑی چیز ہے اس دن کی پیشی کے لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–37

ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔ ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–3

2:۔ ” الحاقہ “ وہ آفت جو سچ مچ آنے والی ہے اور اس پر آنے والی ہے جو اس کا مستحق ہے اور جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، وہ کیا ہے ؟ اور تجھے کون بتائے وہ کس قدر ہولناک ہے ؟ اس کے بعد تخویف دنیوی کے نمونے ذکر کیے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–12

کوائف سورة : اس سورة کا نام سورة لحاقہ ہے۔ مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی باون آیات اور دو رکوع ہیں۔ یہ سورة دو سوچھپن کلمات اور ایک ہزار چار سو اسی حروف پر مشتمل ہے۔ سابقہ سورة کے ساتھ : سابقہ سورة میں رسالت کا ذکر تھا۔ اللہ کے بنی اور رسول کو مجنون کہنے والوں کا رد تھا۔ یہ بھی ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جو دنیاوی نعمتیں عطا کی ہوئی ہیں۔ یہ محض امتحان کے لیے ہیں کسی کی مقبولیت کی نشانی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ باغ والوں کی مثال بیان فرمائی کہ اللہ نے ان کا بھی امتحان لیا تھا۔ اس کے علاوہ منکرین قیامت کا رد فرمایا۔ اور انکے ساتھ آخرت میں پیش آنے والے حالات کا ذکر فرمایا آخر میں پھر رسالت کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 1–3

اَلْحَاۗقَّۃُ۝ 1 ۙ مَا الْحَاۗقَّۃُ۝ 2 ۚ وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْحَاۗقَّۃُ۝ 3 ۭ احقاق ( حاقة) فإحقاق الحقّ علی ضربین . أحدهما : بإظهار الأدلّة والآیات، كما قال تعالی: وَأُولئِكُمْ جَعَلْنا لَكُمْ عَلَيْهِمْ سُلْطاناً مُبِيناً [ النساء/ 91] ، أي : حجة قوية . والثاني : بإکمال الشریعة وبثّها في الکافّة، کقوله تعالی: وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكافِرُونَ [ الصف/ 8] ، هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ [ التوبة/ 33] ، وقوله : الْحَاقَّةُ مَا الْحَاقَّةُ [ الحاقة/ 1] ، إشارة إلى القیامة، كما فسّره بقوله : يَوْمَ يَقُومُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–8

ترکیب : الحاقۃ الساعۃ والحالۃ التی بحق فیھا الامور مبتداء ما الحاقۃ خبرھا واصلہ ماھی فوضع الظاہر موضع المضمر للتھویل وما مبتداء ادراک خبرہ ما الحاقۃ الجملۃ فی محل النصب لکونھا مفعولاثانیا لادراک واماثمود مبتداء فاھلکو الخ خبرہ طاغیۃ مصدر کالعافیۃ قیل الصحیۃ التی جاوزت الحد وھی صحیۃ جبرئیل وقیل الرجفۃ ای لزلزتہ صرصر الشدید الصوت لھاصرصرۃ عاتیۃ من العتوفقیل عتت الریح علی الخزان فلم یکن لھم علیھا سبیل وقیل عتت علی عادفما قدروا واعلیٰ ردھا بحیلۃ من استنادبنباء اواستنا دالی جبل وقیل لیس من العتوبمعنی العصیاں بل بمعنی بلوغ الشیء وانتہا بہ کما فی قولہ تعالیٰ (وقدبلغت من الکبر عتیا) عاتیۃ ای بالفۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–3

اَلَحَـآقَّـۃُ ۔ مَا اَلْحَـآقَّـۃُ ۔ وَمَـآ اَدْرَکَ مَا الْحَـآقَّـۃُ ۔ (الحآقۃ : 1 تا 3) (وہ ثابت ہوچکنے والی۔ کیا ہے وہ ثابت ہوچکنے والی۔ کیا جانو کہ کیا ہے وہ ثابت ہوچکنے والی۔ ) اَلَحَـآقَّـۃُ کا مفہوم اَلَحَـآقَّـۃُ … اس چیز کو کہتے ہیں جو خود حق اور ثابت ہو اور اسے بھی کہتے ہیں جو دوسری چیزوں کو حق ثابت کرنے والی ہو، ایسی چیز کو بھی کہتے ہیں جس کا وقوع عقلاً و اخلاقاً لازم ہو، جو بالکل اٹل اور قطعی ہو، یہ ایک ہی لفظ جملہ کے قائم مقام ہے، یہ ایسا مبتداء ہے جسے خبر کی حاجت نہیں کیونکہ اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ مخاطب کی توجہ مبتداء پر مرکوز رکھی جائے۔ یہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–3

فہم القرآن ربط سورت : سورة القلم کے آخر میں قیامت کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ اس دن منکرین کے لیے ذلّت اور رسوائی ہوگی۔ سورة الحاقہ کی ابتدا میں قوم ثمود، قوم عاد اور آل فرعون کی ذلّت کا ذکر کرنے کے بعد قیامت کی ہولناکیوں کا قدرے تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں یہ بتلایا گیا ہے کہ جس طرح یہ لوگ دنیا میں ذلیل ہوئے اس سے بڑھ کر آخرت میں ذلیل ہوں گے۔ ” اَلْحَاقَّۃُ “ ہر صورت واقع ہونے والی ہے، واقع ہونے والی کیا ہے ؟ آپ نہیں جانتے کہ واقعہ ہونے والی کیا ہے ؟ ” اَلْحَاقَّۃُ “ کا لفظ حق سے نکلا ہے۔ اس سے مراد قیامت ہے جس کا معنٰی ہے کہ اس کا واقع ہونا ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا ہے۔ اس لیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

3 : وَمَآ اَدْرٰٹکَ (کس چیز نے تمہیں بتلایا کہ الحاقہ کیا ہے ؟ ) یعنی تمہیں اس کی حقیقت کا علم نہیں اور نہ اس کی ہولناکی کی بڑائی معلوم ہے۔ کیونکہ شدت و عظمت میں وہ اتنی بڑی ہے کہ مخلوق کی درایت اس کو پانے سے قاصر ہے۔ نحو : ما مبتدأ اَدْرٰکَ خبر اور ما الحاقہ جملہ موضع نصب میں ادر ٰ ی کا مفعول ہے۔ مَآ اَدْرٰکَ یہ استفہام انکاری ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2 ۔” ماالحاقۃ “ یہ استفہام ہے اس کا معنی اس کی شان کو بڑا کرنا۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے زید مازید اس کی شان کی تعظیم کے لئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–12

1۔ 12۔ قیامت کی جس سزا و جزا کا ذکر قرآن و حدیث میں ہے قیامت کے دن وہ سزا و جزا سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گی اور پھر اس کا کوئی منکر باقی نہ رہے گا سب اس کا حق ہونا مان لیں گے اس لئے قیامت کا نام حاقہ ہے جس کے معنی حق ثابت ہونے والی۔ حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک جتنی قوموں نے قیامت کی سزا و جزا اور اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور اس جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے وہ قومیں ہلاک ہوئی تھیں ان سب کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا ہے تاکہ یہ قصے اس بات کی ایک یادگار اور نصیحت ہوجائیں کہ اب بھی جو لوگ ان لوگوں کے سے کام کریں گے قیامت کو قیامت کے عذاب کو اللہ کے رسول کو جھٹلائیں گے اللہ کے حکم کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–5

(الحاقہ) یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، کیونکہ یہ ثابت اور واجب ہے اور مخلوق پر نازل ہوگی، اس میں تمام امور کے حقائق اور سینوں کے بھید ظاہر ہوں گے، اللہ نے اپنے اس فرمان (الحاقہ۔ ما الحاقہ۔ وما ادراک ما الحاقہ) کے تکرار کے ذریعے سے اس کی عظمت شان اور تفخیم بیان فرمائی ہے۔ اس کی شان بہت عظیم ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے احوال کے نمونے کا ذکر فرمایا جو دنیا میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ وہ سخت عقوبتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سرکش قوموں پر نازل فرمائیں، چناچہ فرمایا (کذبت ثمود) ۔ ثمود ایک مشہور قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول حضرت صالح کو مبعوث…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–3

3 قیامت کی ہولناکی کی تاکید مزید کا اظہار وبیان : سو قیامت کی ہولناکی کی تاکید مزید کے طور پر استفہام مکرر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ ہو کر رہنے والی ؟ : کہ تم نے اس کو دیکھا نہیں اس لئے اس کی کنہہ اور حقیقت کو پوری طرح پالینا تمہارے حیطہ بس و امکان سے باہر ہے، (روح، قرطبی، مدارک، محاسن، کبیر وغیرہ) سو اس لفظ کے اس طح کے اعادہ و تکرار سے اس کے ہول و خوف اور اس کی دہشت و بےپناہی کو اور واضح اور موکد فرما دیا گیا ہے، سو کون جان سکتا ہے اور کون بتاسکتا ہے کہ وہ ہونی شدنی کتنی عظیم اور کس قدر ہولناک حقیقت ہے، سو جب وہ ظہور میں آئے گی تو اس وقت کیا گزرے گی ان لوگوں پر جو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–12

قیامت کی خوفناک خبر کے منکرین کا انجام تشریح :۔ جیسا کہ ترجمہ سے مطلب واضح ہو رہا ہے کہ قیامت کا آنا بالکل ضروری لازم ہے اور وہ بڑا ہی سخت پریشان کن اور تباہ کن واقعہ ہوگا۔ تو اس بات پر ثمود عاد قوم نوح (علیہ السلام) قوم لوط اور قوم فرعون نے یقین نہ کیا اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا اور برے کاموں میں غرق ہو کر موت اور آخرت کو قیامت کو بالکل بھلا دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسے شدید عذاب بھیجے کہ وہ بالکل نیست و نابود ہوگئے تو ان کی تباہی کو دیکھو ” پڑھو اور سنو تو تمہیں یقین آجائے گا کہ قیامت کیسی ہوگی اور قیامت کے منکرین کا کیا حال دنیا میں ہوا اور کیا حال آخرت میں ہوگا۔ اصل میں مسلمان کے یہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–37

سورة الحاقہ۔ آیات 1 تا 37۔ اسرار ومعارف۔ دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔ کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 یعنی اس کی اور اس میں واقع ہونیوالے دلگداز مناظر کی پوری حقیقت آپ کو بھی معلوم نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(69:3) وما ادراک استفہام انکاری ہے ما بمعنی من ہے کون ہے ؟ ادرک ادری ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ دری مادہ۔ یدری فعل مضارع ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر ما ادراک تجھے کون بتالئے۔ تجھے کون خبردار کرے۔ ما ادراک۔ وما یدریک تم نہیں سمجھتے (المنجد) کیا تم کو معلوم ہے۔ کس چیز نے تم کو بتلایا۔ تم کو کیا معلوم ؟ یحییٰ بن سلام کہتے ہیں :۔ کہ قرآن مجید میں جہاں کہیں ما ادراک ماضی کے صیغہ سے آیا ہے آخر اسی چیز سے آنحضرت ﷺ کو مطلع کردیا گیا ہے اور جہاں کہیں ما یدریک مضارع کا صیغہ آیا ہے وہاں وہ بات آپ سے مخفی رکھی گئی ہے۔ ماالحاقہ : کیسی ہولناک ہے قیامت۔ جملہ استفہامیہ ہے جو قیامت کی ہولناکی کو ظاہر کر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن۔ الحاقۃ۔ سچ مچ ہونے والی۔ یقینی۔ القارعۃ۔ کوٹنے والی۔ اھلکوا۔ ہلاک کئے گئے۔ الطاغیۃ۔ زلزلہ۔ صرصر۔ زبردست آندھی۔ عاتیۃ۔ قابو سے باہر۔ سبع لیال۔ سات رات۔ ثمینۃ آیام۔ آٹھ دن۔ حسوما۔ متواتر۔ مسلسل۔ صرعی۔ اوندھے پڑے ہوئے۔ اعجاز نخل ۔ تنے کھجور کے۔ خاویۃ۔ کھوکھلے۔ تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بتہ سے نام آئے ہیں ” حاقہ “ بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ قیامت کفار کے لئے ایک ہولناک دن بھی ہے اس لئے اس کی طرف پوری توجہ دلانے کے لئے سوالیہ انداز اختیار فرمایا۔ حاقہ ایک ایسی سچائی ہے جس کا آنا اور واقع ہونا یقینی ہے۔ قیامت کے دن پر یقین رکھنے والا ذہنی پستی، اخلاقی بگاڑ اور گناہوں کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–12

(ف 1) قیامت کی جس سزا وجزا کا ذکر قرآن مجید وحدیث شریف میں ہے قیامت کے دن وہ سزا وجزا سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا اور پھر اس کا کوئی منکر باقی نہ رہے گا سب اس کا حق ہونامان لیویں گے اسی لیے قیامت کا نام ھاقہ ہے جس کے معنی حق ثابت ہونے والی ، حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک جتنی قوموں نے قیامت کی سزا اور جزا اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور اس جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے وہ قومیں ہلاک ہوئی تھیں ان سب کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ یہ قصے اس بات کی ایک یادگار اور نصیحت ہوجائیں کہ اب بھی جو لوگ ان لوگوں کے سے کام کریں گے قیامت کو قیامت کے عذاب کو اللہ کے رسول کو جھٹلائیں گے اور اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[2] سورت کو استفہامیہ فقروں سے شروع کرنے سے مقصود مخاطب کو قیامت کی عظمت اور اس کی ہولناکی کی طرف توجہ دلانا ہے اور یہ بلاغت و خطابت عرب کے عین مطابق ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–3

سورة الحاقۃ 1: قیامت کا ایک حاقہ بھی ہے ۔ یعنی دنیا کی ہر حقیقت میں شکر وارتباب کا اظہار کیا جاسکتا ہے ۔ مگر یہ ایک قطعی حقیقت ہے ۔ کہ یہ عالم یقینا فانی ہے ۔ اور ایک دن ضرور آنے والا ہے ۔ جب کہ یہ سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا ۔ ثمود وعاد نے عملاً اسی چیز کی تکذیب کی اور نہایت بےخوفی کے ساتھ اللہ کے حکموں کو ٹھکرادیا ۔ نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ صفحہ دنیا سے حرف غلط کی طرح مٹ گئے ۔ سرچشمہ حیات سے بعد کا نتیجہ

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور آپ کیا جانیں کہ وہ ہو کر رہنے والی کیا ہے ؟ 3 ؎ (وما ادراک) کا مخاطب ہر ایک انسان ہے اور خصوصاً وہ انسان جو اس کی ٹوہ میں ہے کہ وہ معلوم کرے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ کس طرح تم کو باور کرایا جاسکتا ہے کہ وہ ہو کر رہنے والی کیا ہے۔ کبھی تم نے ایک جان کے جانے کی صورت حال کو دیکھا ہے۔ پھر وہ کیا ہے جو چلی جاتی ہے اور کیسے چلی جاتی ہے ، پھر کہاں چلی جاتی ہے۔ بس اس کو آپ اس طرح بیان کرسکتے ہیں کہ وہ ہو کر رہنے والی یعنی قیامت واقع ہو کر رہے گی اور اس لم اور کہنہ سے نہ تم کو بتائی جاسکتی ہے اور نہ ہی تم اس کو جان سکتے ہو اور اس طرح بہت سی چیزیں اور بھی ہیں کہ ان کا ہونا یقینی ہے اور وہ ہوتی ہیں لیکن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–5

Commentary This Surah is almost wholly devoted to the subject of inevitability of the Resurrection, its horrors, the punishment of unbelievers and the reward of believers. The Day of Judgment is variously referred to in the Qur'an, and in this Surah we encounter the following three names: الْحَاقَّةُ Al-Haqqah 'Imminent Happening', الْقَارِ‌عَةِ Al-Qari'ah 'Shocking Event' and الْوَاقِعَةُ -waqi` ah 'Happening'. The word الْحَاقَّةُ Al-haqqah means an 'established fact, or inevitable event, reality or truth'. The word Al-haqqah also means 'Something that provide evidence that something is…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

2 These two questions, one after the other, have been put to arouse the listeners, to make them understand the importance of the the me and listen to what follows with full attention.

Read the full tafseer →