Al-Haaqqa 69:43

Al-Haaqqa · from ayah 43

69:43

تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۟تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ

یہ تو) پروردگار عالم کا اُتارا (ہوا) ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[It is] a revelation from the Lord of the worlds.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa

All translations of 69:43

یہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ تو) پروردگار عالم کا اُتارا (ہوا) ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(یہ تو) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ کلام تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے اتارا جارہا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس نے اتارا ہے جو سارے جہان کا رب ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(یہ) تمام جہانوں کے رب کی طرف سے نازل شدہ ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

(یہ) جہانوں کے رب کی طرف سے اتارا ہوا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ خدا وند عالم کی طرف سے اتارا ہوا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ تو سراسر (اور پورے کا پورا) اتارا ہوا ہے پروردگار عالم کی طرف سے

— مولانا اسحاق مدنی

یہ کلام) اتارا ہوا ہے پروردگار عالم کی طرف سے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس کا اتارا جانا ہے تمام جہانوں کے رب کی طرف سے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ تو رب العٰلمین کا اتارا ہوا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

It has been revealed by the Lord of the Universe.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It is a revelation from the Lord of the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani

It is a revelation from the Lord of the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

This is the revelation sent down from the Lord of all that exists.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

It is a revelation from the Lord of the Worlds.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[It is] a revelation from the Lord of the worlds.

— Saheeh International

It is a revelation from the Lord of the Universe.

— Muhammad Sarwar

It is a revelation from the Lord of the worlds.

— Muhammad Habib Shakir

It is a Revelation from the Lord of the worlds.

— Abdul Majid Daryabadi

(This is) a Message sent down from the Lord of the Worlds.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 69:43

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–43

ظاہر و باطن آیات الٰہی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول ﷺ پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لئے پسند فرما لیا ہے۔ رسول کریم سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں، اس کی اضافت حضور ﷺ کی طرف سے اس لئے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ ﷺ ہی ہیں۔ اسی لئے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 43–46

سورة الْحَآقَّة 24 حاصل کلام یہ ہے کہ جو کچھ تمہیں نظر آتا ہے اور جو کچھ تم کو نظر نہیں آتا، اس سب کی قسم میں اس بات پر کھاتا ہوں کہ یہ قرآن کسی شاعر یا کاہن کا کلام نہیں ہے بلکہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے جو ایک ایسے رسول کی زبان سے ادا ہو رہا ہے جو کریم (نہایت معزز اور شریف) ہے۔ اب دیکھیے کہ یہ قسم کس معنی میں کھائی گئی ہے۔ جو کچھ لوگوں کو نظر آ رہا تھا وہ یہ تھا کہ (1) اس کلام کو ایک ایسا شخص پیش کر رہا تھا جس کا شریف النفس ہونا مکہ کے معاشرے میں کسی سے چھپا ہوا نہ تھا سب جانتے تھے کہ اخلاقی حیثیت سے یہ ان کی قوم کا بہترین آدمی ہے۔ ایسے شخص سے تو یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ اتنا بڑا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–43

ۧفَلَآ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَ وَمَا لَا تُبْصِرُوْنَ یعنی قسم ہے ان تمام چیزوں کی جن کو تم دیکھتے ہو یا دیکھ سکتے ہو اور جن کو تم نہ دیکھتے ہو نہ دیکھ سکتے ہو اس میں تمام مخلوقات آگئیں۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ نہ دیکھنے کی چیزوں سے مراد حق تعالیٰ کی ذات وصفات ہیں۔ بعض نے فرمایا کہ دیکھنے کی چیزوں سے مراد دنیا کی چیزیں ہیں اور نہ دیکھنے کی چیزوں سے مراد آخرت کی اشیاء (مظہری) واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قرآن کا اصل منبع: یہ وہی اوپر والی بات پھر مثبت پہلو سے فرمائی جا رہی ہے کہ یہ اللہ رب العٰلمین کی طرف سے اتارا ہوا کلام ہے۔ لفظ ’تنزیل‘ کے صحیح مفہوم کی وضاحت اس کے محل میں ہم کر چکے ہیں کہ ان کے اندر اہتمام اور تدریج کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ خاص طور پر شیاطین جن و انس کی دسترس سے اس کو محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو اہتمام فرمایا وہ جگہ جگہ قرآن میں بیان ہوا ہے اور ہم نے اس کی وضاحت کی ہے۔ ان شاء اللہ، اس کی مزید وضاحت سورۂ جن میں آئے گی۔ ’مِّنْ رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ‘ سے اس کی عظمت و شان بھی ظاہر ہو رہی ہے اور اس کی تکذیب کی بدانجامی بھی۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بادشاہ کائنات کا اتارا ہوا کلام…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

43۔ 1 یعنی رسول کی زبان سے ادا ہونے والا یہ قول رب العالمین کا اتارا ہوا کلام ہے اسے تم کبھی شاعری اور کبھی کہانت کہہ کر اس کی تکذیب کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 40–46

9: یہ ان کافروں کی تردید ہے جو کبھی آنحضرت ﷺ کو شاعر اور کبھی کاہن کہا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 38–43

فلا اقسم۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔ رب العالمین۔ یہ معاملہ بہت ہی واضح ہے اور اس پر کسی قسم کی ضرورت نہیں ہے اور عقلی لحاظ سے ثابت ہے اور ایک واقعہ ہے اور اس پر کوئی قسم اٹھانے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ یہ حق ہے ، حق کی طرف سے نازل شدہ ہے ، نہ شعروشاعری ہے نہ کسی کاہن کی کہانت اور بڑ ہے نہ کسی افتراء پرداز کی افتراء ہے۔ لہٰذا قسم کی ضرورت نہیں ہے۔ فلا ................ تبصرون (96 : 83) وما لا تبصرون (96 : 93) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔ یہ قسم بہت عظیم ہے۔ اس کائنات ، عظیم کائنات کی قسم ہے جو تم دیکھتے ہو اور اس عظیم کائنات کی قسم ہے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 43{ تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ } ”اس کا اتارا جانا ہے تمام جہانوں کے رب کی طرف سے۔“ یہ آیت جوں کی توں سورة الواقعہ آیت 80 میں بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 43–46

24 رسول اور شاعر کا فرق اور آپ کے شاعر نہ ہونے کی وجوہ :۔ یعنی جو باتیں تم دیکھتے ہو اور جو تم نہیں دیکھتے۔ میں ان سب کو اس بات پر شاہد بنا کر کہتا ہوں کہ یہ قرآن اللہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ رسول اللہ کا یا کسی دوسرے کا تصنیف کردہ نہیں ہے۔ جیسا کہ تم الزام دیتے رہتے ہو۔ اور جو چیزیں تم دیکھتے ہو کم از کم انہی کی بنا پر اگر تم تھوڑا سا غور کرلو تو تمہیں از خود معلوم ہوجائے کہ یہ قرآن نہ کسی شاعر کا قول ہوسکتا ہے اور نہ کسی کاہن کا، شاعر کے تخیل کی پرواز میں میدان زندگی کا ہر اچھا یا برا پہلو ہوسکتا ہے۔ ماحول کا تاثر اس کی طبیعت پر غالب رہتا ہے اور معاشرہ کی اکثریت چونکہ گمراہ ہوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 38–43

ترجمہ : مجھے قسم ہے ان چیزوں کی جنہیں تم مخلوقات میں دیکھتے ہو، فلا میں لا زائدہ ہے اور مخلوقات میں سے جن کو تم نہیں دیکھتے ہو یعنی تمام مخلوقات کی کہ بیشک یہ (قرآن) بزرگ رسول کا قول ہے یعنی اس نے اللہ کی جانب سے ایک پیغام رساں کی حیثیت سے نقل کیا اور یہ کسی کا قول نہیں (افسوس) تمہیں بہت کم یقین ہے اور نہ کسی کاہن کا قول ہے (افسوس) تم بہت کم نصیحت لے رہے ہو دونوں فعلوں میں تا اور یا کے ساتھ ہے، اور، ما زائدہ ہے اور معنی یہ ہیں کہ وہ باتوں پر بہت کم یقین رکھتے ہیں، اور ان کا آپ ﷺ کی لائی ہوئی چیزوں میں سے بعض پر ایمان لانا مثلاً صدقہ و خیرات پر اور صلہ رحمی پر زنا وغیرہ سے باز رہنے پر، تو اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تنزیل . مصدر بمعنی اسم مفعول ہے یعنی وہ قرآن اتارا ہوا ہے۔ من رب العالمین . اللہ کی طرف سے جبرئیل کی زبانی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 41–44

(41۔ 44) اور یہ قرآن کریم کسی شاعر کا کلام نہیں ہے تم نہ اس کے کم حصہ پر ایمان لاتے ہو اور نہ زیادہ پر اور نہ یہ کسی کاہن کا کلام ہے تم نہ اس کے کم حصہ سے نصیحت حاصل کرتے ہو اور نہ زائد سے یہ قرآن کریم رسول اکرم پر رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا کلام ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 40–43

(1) انہ لقول رسول کریم …: یہ چار آیات جواب قسم ہیں، پہلی یہ کہ یہ قرآن ایک معزز پیغام لانے والے کا قول ہے، دوسری یہ کہ یہ کسی شاعر کا قول نہیں، تیسری یہ کہ یہ کسی کا ہن کا قول بھی نہیں اور چوتھی یہ کہ یہ رب العالمین کی طرف سے اتارا گیا ہے۔ اس قسم اور جواب قسم میں مناسب یہ ہے کہ جو کچھ تم دیکھ رہے ہو وہ انچ اورں چیزوں کے حق ہونے کی شہادت دے رہا ہے اور جو کچھ تم نہیں دیکھ رہے اس کی شہادت بھی یہی ہے۔ جو کچھ وہ دیکھ رہے تھے وہ یہ بات جاننے کے لئے کافی تھا کہ یہ قرآن جس شخص کی زبان سے ادا ہو رہا ہے وہ نہ شاعر ہے نہ کاہن، نہ جھوٹا ہے نہ اپنے پاس سے بات گھڑنے والا اور نہ کسی ذاتی مفاد یا عہدے کا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

تنزیل یہ اصل میں ھوتنزیل ہے مبتدا محذوف ہے من رب العلمین۔ اس کا عطف انہ لقول رسول کریم پر ہے یعنی رسول کریم کا قول ہے اور یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 41–43

12۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما ہوبقول شاعر یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اسے شاعر کا کلام ہونے سے پاک رکھا اور اس کو بچایا ہے۔ ولا بقول کاہن اور اللہ تعالیٰ نے اس کو کہانت سے پاک رکھا ہے اور اس سے اس کلام کو بچایا ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[تَنْزِيْلٌ: (یہ) اتارا ہوا ہے ][ مِّنْ رَّبِ الْعٰلَمِيْنَ : تمام جہاں کے رب ( کی طرف ) سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ثانیاً : یہ فرمایا ﴿ تَنْزِيْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ 0043﴾ (یہ کلام رب العلمین کی طرف سے اتارا ہوا ہے) اس میں کلام سابق کی تاکید بھی ہے اور توضیح بھی ہے کوئی كم فہم قول رسول کریم کا مطلب یہ سمجھ سکتا تھا کہ یہ ان کا ذاتی کلام ہے لہٰذا واضح فرما دیا کہ یہ کلام تمہارے سامنے نکلا تو ہے رسول کریم کی زبان سے لیکن اتارا ہوا رب العلمین کی طرف سے ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–52

بیان عظمت کلام الہی وحقانیت وصداقت قرآن کریم : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فلا اقسم بما تبصرون ....... الی ....... فسبح باسم ربک العظیم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں اہل سعادت وشقاوت اور انکے احوال کا ذکر تھا اور بالخصوص مجرمین کی سزا اور قیامت کی شدت اور عرش الہی سے تمام فیصلوں کے نفاذ کا بیان تھا تو ممکن تھا کہ کوئی ملحد اور منکر ان باتوں کو سن کر یہ کہنے لگے کہ یہ تو شاعرانہ مبالغہ آرائی یا کاہنوں کی باتیں ہیں تو اس کے ازالہ اور رد کے لیے اب ان آیات میں قرآنی عظمت کا بیان ہے اور یہ کہ جو کچھ وحی الہی سے کہا گیا وہ رسول کریم ﷺ کا قول اور اللہ کا پیغام ہے اس میں ذرہ برابر مبالغہ یا استعارہ ومجاز کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 38–43

13:۔ ” فلا اقسم “ جواب قسم محذوف ہے۔ ” لاتبصرون “ میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو نظر نہیں آتیں مثلاً جن، اور فرشتے، یہ قیامت کے ثبوت پر استدلال ہے یعنی جس طرح دنیا میں بہت سی چیزیں تمہیں نظر نہیں آتیں مگر اس کے باوجود تم ان کا وجود تسلیم کرتے ہو۔ اس لیے آخرت جو نظر نہیں آتی اس کا بھی انکار نہ کرو بلکہ یہ دیکھو کہ آخرت کی خبر دینے والا کون ہے ؟ ” انہ لقول رسول کریم “ یہ علیحدہ جملہ ہے۔ یہ ایک مکرم و محترم رسول (محمد ﷺ کی زبان سے نکلی ہوئی بات ہے جسے وہ اپنے پروردگار کی طرف سے تم تک پہنچا رہا ہے یہ اس کی اپنی بنائی ہوئی بات نہیں، نہ کسی شاعر کا قول ہے نہ کاہن کا۔ یعنی محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 38–52

گذشتہ سے پیوستہ : سورۃ الحاقہ کے پہلے رکوع میں قیامت کا ذکر ہے۔ آخری آیتوں میں بنیادی عقائد کا بیان ہے منجملہ ان کے رسالت اور نبوت کا ذکر ہے۔ جس طرح کفار قیامت کا انکار کرتے تھے۔ اسی طرح حضور ﷺ السلام کی نبوت اور رسالت کے منکر تھے۔ پہلے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ بھی اسی قسم کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جب کہ لوگ ان کی تکازیب کرتے تھے۔ یہ لوگ نہ صرف پیغمبر کا انکار کرتے تھے۔ بلکہ وحی الہٰی اور اس کے لانے والے فرشتے کا بھی انکار کرتے تھے۔ کہتے تھے کہ یہ اپنے پاس سے باتیں گھڑ کر لایا ہے۔ خدا کا پیغام نہیں ہے۔ بعض شاعر اور کاہن کا خطاب دیتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ یہ غیب کی خبریں بتاتے ہیں۔ اور سچ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تَنْزِيْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝ 43 نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 38–52

ترکیب : فلا اقسم قیل لامزیدۃ اوفلار ولانکارھم البعث ثم اقسم وقیل نافیۃ للقسم کانہ قال لا اقسم علی ان القرآن قول رسول کریم لظہورالامر واستغنائـہ عن التحقیق بالقسم انہ لقول الخ جواب القسم مؤکد بان واللام والا سمیّہ۔ وماھوالخ الجملۃ تاکید لقولہ انہ لقول رسول کریم قلیلا ما زائدۃ للتاکید ولابقول کا ھن عطف علیٰ قولہ بقول شاعر۔ تنزیل خبر متبدء ھو تنزیل تقول قرء الجمہور مبیناً للفاعل والتقول تکلف القول والافتراء والاقاویل جمع اقوال جمع قول کا بابیت جمع ابیات جمع بیت والاقوال المفتراۃ اقاویل تحقیر الھا لاخذنا جواب لوحاجزین وصف لاحد فانہ عام لکونہ نکرۃ واقعۃ فی سیاق النفی۔ حق الیقین من اضافۃ الصفۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 42–43

وَلاَ بِقَوْلِ کَاھِنٍ ط قَلِیْلاً مَّا تَذَکَّرُوْنَ ۔ تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (الحآقۃ : 42، 43) (یہ کسی کاہن کا قول بھی نہیں، تم لوگ کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو۔ یہ اللہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ ) (اخیر سورة تک) حضرت عمرفاروق ( رض) کا بیان ہے کہ اس وقت میرے دل میں اسلام جاگزیں ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 38–48

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی تعلیمات میں اس کی سر فہرست تعلیم یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لایا جائے اور یہ یقین رکھا جائے کہ قیامت ہر صورت آنے والی ہے۔ نافرمان لوگ اللہ اور اس کے رسول اور قیامت پر ایمان لانے کی بجائے قرآن مجید کا ہی انکار کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ یہ شاعرانہ کلام ہے جس کی تردید کی جا رہی ہے۔ قسم ہے ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے بلاشک یہ قرآن رسول کریم ﷺ کی زبان سے پڑھا جاتا ہے یہ کسی شاعر کا کلام نہیں اگرچہ تم بہت کم لوگ ایمان لاتے ہو اور نہ قرآن کسی کاہن کا کلام ہے یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے لیکن تم بہت ہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

43 : تَنْزِیْلٌ (یہ بھیجا ہوا ہے) اس سے قبل ھو مبتدأ محذوف ہے اور یہ اس کی خبر ہے۔ یہ وضاحت ہے کیونکہ وہ قرآن رسول (جبرئیل) کی زبانی رب العالمین کی طرف سے آپ پر اترا ہے۔ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ (رب العالمین کی طرف سے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

42 ۔” ولا بقول کا ھن قلیلا ماتذکرون “ ابن کثیر، ابن عامر اور یعقوب رحمہم اللہ نے ” یئومنون ویذکرون “ یاء کے ساتھ ان دونوں میں پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے تاء کے ساتھ اور قلیل سے مراد ان کے امان کی بالکل نفی کرنا ہے جیسے تیرا قول اس شخص کے لئے جو تیرے پاس کبھی نہیں آتا۔ ” فلما تاتینا “ آپ ہمارے پاس بہت کم آتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–43

38۔ 43۔ تفسیر مقاتل و ابن جریر وغیرہ میں قتادہ سے روایت ہے کہ مشرکین مکہ میں سے کچھ لوگ آنحضرت ﷺ کو شاعر اور کچھ کاہن کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں یہ آیتیں نازل فرمائیں اور دونوں جہان کی تمام مخلوقات کی قسم کھا کر فرمایا کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس کو اپنے رسول پر اس نے نازل فرمایا ہے جن لوگوں کو عقبیٰ کی باتوں پر پورا یقین نہیں ہے وہ اس قرآن کو شاعر کا اور جو لوگ قرآن کی شان پر پورا غور نہیں کرتے وہ کاہن کا کلام کہتے ہیں یہ نادان اتنا خیال نہیں کرتے کہ ان میں بعض لوگ ایسے ہیں جو خود بھی شاعر ہیں اور ایسے جنات کے ان کو بہت سے شعر بھی یاد ہیں جو چوری سے کچھ غیب کی باتیں اڑا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 38–44

اللہ تبار وتعالی نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنہیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنہیں نہیں دیکھ سکتی ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے یہ قسم رسول اللہ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ نے اپنے رسول کو کفار کی تمام بہتان طرازیوں سے ، ، مثلا یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں منزہ قرار دیا ہے ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چناچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انہوں نے غور و فکر کیا ہوتا تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ کیا چیز انہیں فائدہ دیتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

38 قرآن حکیم خالص اللہ رب العالمین کا کلام ہے : سو ارشد فرمایا گیا کہ یہ سراسر اتارا ہوا کلام ہے اللہ رب العالمین کی طرف سے۔ سو یہاں پر نازل یا منزل وغیرہ جیسا کوئی مشتق لفظ استعمال فرمانے کی بجائے تنزیل فرمایا گیا ہے جو کہ مصدر ہے یعنی یہ سراسر نازل شدہ کتاب ہے جسے پر ورگردار عالم نے اپنی رحمت بےکراں سے نازل فرمایا ہے اس میں کسی انسانی فکر و کاوش کے کسی دخل یا آمیزش کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ‘ پس غلط ہے وہ بات جو یورپ کے اندھے اور دوسرے دشمنان اسلام کہتے ہیں کہ یہ محمدی کتاب (Muhammad Book) ہے ‘ کیونکہ یہ کتاب آنحضرت ﷺ کی فکر و کاوش کا نتیجہ یا آپ ﷺ کی تصنیف و تالیف کردہ کتاب نہیں بلکہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 38–52

قرآن مجید کے کلام الٰہی ہونے کا ثبوت تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ قرآن کی سچائی معقولیت اور لاجواب کتاب ہونے پر قسم اٹھاتا ہے یہ قسم بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اٹھائی جا رہی ہے۔ یہاں کائنات میں موجود ہر اس چیز کی قسم کھائی گئی ہے جو ہماری نظروں کے سامنے واضح صورت میں موجود ہیں اور ان چیزوں کی بھی جو بیشمار مختلف صورتوں میں کائنات میں ہر طرف موجود ہیں اور ابھی تک کوئی محقق ان کو نہ دیکھ سکا ہے نہ ان کی وضاحت ہی کرسکا ہے۔ کہ قرآن پاک الہ العٰلمین کا کلام ہے معزز ترین فرشتے سیدناجبرائیل (علیہ السلام) کی زبان سے رسول کریم ﷺ تک پہنچایا گیا ہے۔ اور اس میں کوئی شک و شبہ یا تحریف و ترمیم ہرگز نہیں کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 38–52

آیات 38 تا 52۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان چیزوں کی جو تمہیں دکھائی دیتی ہیں اور ان کی جو تم نہیں دیکھ سکتے کہ کائنات کی ہر شے اور ہر طاقت اس پر گواہ ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے جو ایک معزز فرشتے کے ذریعہ سے اللہ کے برحق رسول پہ نازل ہوا یعنی قرآن نے دیکھے ان دیکھے نتائج کے لیے بھی ایساجامع نظام حیات دیا کہ عقیدے عبادت سے لے کر عمل تک دنیا کے ہر خطے ہرموسم اور ہر قوم کے لیے بہترین نتائج پیدا کرتا ہے ظاہر ابھی جو نظر آتے ہیں اور باطلا بھی جو حقائق فی الحال نگاہ سے اوجھل ہیں اور آخرت میں سامنے آئیں گے بھلا ایسا کامل ومکمل نظام بجز اللہ کے کون دے سکتا ہے۔ یہ سب اس بات پر گواہ ہے کہ فرشتے کا لایا ہوا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 42–44

“9 یعنی بالکل غور نہیں کرتے۔ اگر غور کرتے تو ہرگز اس قسم کی بکواس نہ کرتے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(69:43) تنزیل من رب العلمین ۔ ای ھو تنزیل من رب العالمین ھو۔ مبتدا۔ تنزل اس کی خبر۔ من رب العلمین متعلق خبر۔ تنزیل بروزن تفعیل مصدر بمعنی اسم مفعول ہے۔ یعنی وہ قرآن اتارا ہوا ہے رب العلامین کی طرف سے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–52

لغات القرآن۔ الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں) رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔ دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–43

(ف 3) شان نزول : تفسیر مقاتل میں ابن جریروغیرہ میں قتادہ سے روایت ہے کہ مشرکین مکہ میں سے کچھ لوگ نبی ﷺ کو شاعر اور کاہن کہتے تھے اللہ نے ان کے جواب میں یہ آیتیں نازل فرمائیں اور دونوں جہان کی تمام مخلوقات کی قسم کھاکریہ فرمایا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے جس کو اپنے رسول پر اس نے نازل فرمایا ہے جن لوگوں کو عقبی کی باتوں پر پورا یقین نہیں ہے وہ اس قرآن کو شاعر کا اور جو لوگ قرآن کی شان پر پوراغور نہیں کرتے، وہ کاہن کا کلام کہتے ہیں، یہ نادان اتنا خیال نہیں کرتے کہ ان میں بعض لوگ ایسے ہیں جو خود بھی شاعر ہیں پھر قران بھی اگر کسی شاعر کا یا کاہن کا کلام ہوتا تو ان لوگوں سے تو گھڑی گھڑی کہا جاتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 40–45

[15] یعنی قرآن اللہ کا کلام ہے جس کو آسمان سے ایک بزرگ فرشتہ (یعنی جبریل) لے کر ایک بزرگ ترین پیغمبر پر اترا۔ جو آسمان سے لایا وہ اور جس نے زمین والوں کو پہنچایا دونوں رسول کریم ہیں۔ ایک کا کریم ہونا تو تم آنکھوں سے دیکھتے ہو اور دوسرے کی کرامت اور بزرگی پہلے کریم کے بیان سے ثابت ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 42–47

ف 1: اسلام سے قبل عربوں میں شاعری اور کہانت کا بڑا زور تھا ۔ اس لئے انہوں نے جب قرآن کو دیکھا ۔ کہ اس میں بھی موسیقی اور اتر ہے ۔ سحیع اور ترنم ہے ۔ تو وہ یہ سمجھے کہ یہ بھی شاید شعر وکہانت کی طرح کوئی چیز ہے ۔ ارشاد فرمایا ۔ کہ یہ غلط ہے ۔ یہ کلام انسانی دماغ کی کدوکاوش کا نتیجہ ہرگز نہیں ہے نہ اس میں کہانت اور شاعری کی آمیزش ہے ۔ یہ اللہ کا کلام ہے ۔ اور جو فرشتے کی رسالت سے محمد رسول اللہ ﷺ تک پہنچا ہے ۔ اور یہ اس لئے کہ یہ ہمہ صداقت اور سچائی ہے ۔ حالانکہ شعروکہانت میں چوں الکذب اواھن او کا اصول کافر فرما ہوتا ہے ۔ اور ان کے متعلق یہ احتمال کہی نہیں ۔ کہ یہ اللہ پر تمہاری خواہشات کے مطابق…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(43) پروردگار عالم کا نازل کردہ اور اس کی طرف سے بھیجا ہوا ہے۔ یعنی یہ کلام جیسا کہ یہ دین حق کے منکر مثلاً ابوجہل اور عقبہ وغیرہ کہتے پھرتے ہیں نہ شاعر کا کلام ہے اور نہ کاہن کا بلکہ یہ تو اس پروردگار عالم کا کلام ہے جو تمام جہان اور اہل جہان کا پروردگار ہے آگے اس قرآن کی حقانیت اور نبی کریم ﷺ کی صداقت پر ایک زبردست دلیل بیان فرماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ تو پروردگار عالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے 43 ؎ یہ قرآن کریم کی اصلیت اور حقیقت کا بیان ہے کہ جب یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہو سکتا اور اس طرح یہ بھی کہ یہ کلام کسی کاہن کا بھی نہیں ہو سکتا اور اسی طرح یہ باتیں محمد رسول اللہ ﷺ کی گھڑی ہوئی بھی نہیں ہو سکتیں جیسا کہ کفار مکہ اکثر کہتے ہیں تو آخر یہ کلام ہے کیا ؟ اس سوال کا جواب دیا جا رہا ہے کہ یہ کلام پروردگار عالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اس میں کسی بھی انسان ، شیطان یا جن کا کوئی احتمال ہی نہیں ہے اور اس کو نجا نجا نازل کیا گیا نہ کہ یکبارگی نازل کیا گیا ہے۔ اگر یہ محض دفع الوقتی کے لئے باتیں کی جاتیں تو حالات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–43

فَلَا أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُ‌ونَ وَمَا لَا تُبْصِرُ‌ونَ (I swear by what you see, and what you do not see….69:38-39). This comprehends the entire body of creation. Some say 'what you do not see' refers to the Being of Allah Ta` ala and His attributes. Others say 'what you see' refers to things of the mortal world, and 'what you do not see,' refers to things of the Hereafter. [ Mazhari ] And Allah, the Pure and Exalted, Knows best!

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 43–46

24 In short: "I swear by whatever you see and by whatever you do not see that this Qur'an is not the word of a poet or a soothsayer, but it is a Revelation from the Lord of the worlds, which is being presented by the Messenger who is noble and gentle." Let us now consider in what sense this oath has been sworn. That which was visible to the people was:. (1) This Word was being presented by a person who being noble and gentle was not hidden from anybody in the society of Makkah. Everyone knew that he was the best man of their nation in conduct. It could not be expected of such a man that he…

Read the full tafseer →