Al-Haaqqa 69:44

Al-Haaqqa · from ayah 44

69:44

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ ۟ۙوَلَوۡ تَقَوَّلَ عَلَيۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِۙ‏

اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات جھوٹ بنا لاتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And if Muhammad had made up about Us some [false] sayings,

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa

All translations of 69:44

اور اگر اس (نبی) نے خود گھڑ کر کوئی بات ہماری طرف منسوب کی ہوتی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات جھوٹ بنا لاتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اگر یہ ہم پر کوئی بھی بات بنا لیتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر (بالفرض) یہ پیغمبر کچھ (جھوٹی) باتیں بنا کر ہماری طرف منسوب کردیتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر وہ ہم پر ایک بات بھی بنا کر کہتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر وہ ہم پر کوئی (ایک) بات بھی گھڑ کر کہہ دیتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اگر وہ ہم پر کوئی بات بنا کر لگا دیتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اگر وہ رسول خود کوئی بات گھڑ کر ہمارے ذمہ لگا دیتا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر یہ ہم پر کوئی بات گھڑ کر لگاتا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر یہ (پیغمبر) از خود کوئی بات بنا کر ہمارے ذمے لگا دیتے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر (یہ پیغمبر) ہمارے ذمہ کچھ باتیں لگا دیتے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر یہ (نبی ﷺ خود گھڑ کر بعض باتیں ہماری طرف منسوب کرتا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات جھوٹ بنا لاتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And if he [i.e., the Prophets] had forged this Discourse and thereafter ascribed it to Us,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Had he (the prophet) forged some statements in Our name,

— Muhammad Taqi Usmani

Had he (the prophet) forged some statements in Our name,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And if he had forged a false saying concerning Us,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And if he had invented false sayings concerning Us,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And if Muhammad had made up about Us some [false] sayings,

— Saheeh International

Had Muhammad invented some words against Us,.

— Muhammad Sarwar

And if he had fabricated against Us some of the sayings,

— Muhammad Habib Shakir

And if he had forged concerning us some discourses.

— Abdul Majid Daryabadi

And if the messenger were to invent any sayings in Our name,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 69:44

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 44–52

ہدایت اور شفا قرآن حکیم یہاں فرمان باری ہے کہ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کردیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے یعنی اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آسکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے، پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب ﷺ سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لئے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ ﷺ کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ ﷺ کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 43–46

سورة الْحَآقَّة 24 حاصل کلام یہ ہے کہ جو کچھ تمہیں نظر آتا ہے اور جو کچھ تم کو نظر نہیں آتا، اس سب کی قسم میں اس بات پر کھاتا ہوں کہ یہ قرآن کسی شاعر یا کاہن کا کلام نہیں ہے بلکہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے جو ایک ایسے رسول کی زبان سے ادا ہو رہا ہے جو کریم (نہایت معزز اور شریف) ہے۔ اب دیکھیے کہ یہ قسم کس معنی میں کھائی گئی ہے۔ جو کچھ لوگوں کو نظر آ رہا تھا وہ یہ تھا کہ (1) اس کلام کو ایک ایسا شخص پیش کر رہا تھا جس کا شریف النفس ہونا مکہ کے معاشرے میں کسی سے چھپا ہوا نہ تھا سب جانتے تھے کہ اخلاقی حیثیت سے یہ ان کی قوم کا بہترین آدمی ہے۔ ایسے شخص سے تو یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ اتنا بڑا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 44–51

(آیت) وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا الخ، تقول کے معنی بات گھڑنے کے ہی اور وہ تین قلب سے نکلنے والی وہ رگ ہے۔ جس سے روح جسم انسانی میں پھیلتی ہے اس کے قطع کردینے سے موت فوراً واقع ہوجاتی ہے۔ سابقہ آیات میں کفار مکہ کے اس بےہودہ خیال کا رد کیا گیا تھا، کوئی آپ کو شاعر اور آپ کے کلام کو شعر کہتا تھا، کوئی آپ کو کاہن اور کلام کو کہانت کہتا تھا۔ کاہن وہ شخص ہوتا ہے جو کچھ شیاطین سے خبریں پا کر کچھ نجوم کے اثرات سے معلوم کرنے کے آنے والے واقعات میں اٹکل بچو باتیں کیا کرتا تھا۔ غرض آپ کو اشعر یا کاہن کہنے والوں کے الزام کا حاصل یہ تھا کہ آپ جو کلام سناتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے نہیں، آنحضرت ﷺ نے خود اپنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

کفار کے الزام کا جواب: یہ جواب ہے کفار کے اس الزام کا جو وہ آنحضرت ﷺ پر لگاتے تھے کہ یہ سب کچھ گھڑتے تو ہیں اپنے جی سے لیکن ہم پر دھونس یہ جماتے ہیں کہ یہ کلام ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کیا جاتا ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس کو اپنا رسول بناتا ہے وہ اس کا سفیر اور وحی کی عظیم امانت کا حامل ہوتا ہے اس وجہ سے اس کی نگرانی بھی نہایت کڑی ہوتی ہے۔ مجال نہیں ہے کہ وہ اپنے جی سے اس میں کوئی رد و بدل کر سکے۔ اگر وہ سرمو بھی کوئی بات ہم سے غلط منسوب کرے تو ہم اس کو اپنے قوی بازو سے پکڑیں اور اس کی شہ رگ ہی کاٹ دیں پھر کوئی بھی اس کو ہم سے بچانے والا نہیں بن سکتا۔ یہ بات ایسے اسلوب میں فرمائی گئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

44۔ 1 یعنی اپنی طرف سے گھڑ کر ہماری طرف منسوب کردیتا، یا اس میں کمی بیشی کردیتا، تو ہم فوراً اس کا مؤاخذہ کرتے اور اسے ڈھیل نہ دیتے جیسا کہ اگلی آیات میں فرمایا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 40–46

9: یہ ان کافروں کی تردید ہے جو کبھی آنحضرت ﷺ کو شاعر اور کبھی کاہن کہا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 44–47

ولو تقول .................... حجزین ان آیات کا مطلب یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ خود تمہارے اقوال کے مطابق بھی صادق وامین ہیں۔ اور اگر انہوں نے اس کلام سے کوئی بات اپنی طرف سے بنائی ہوتی تو ہم اس کو اپنی گرفت میں لے لیتے اور چونکہ آپ پر خدا کی پکڑ نہیں آئی ، اس لئے لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ آپ سچے ہیں۔ یہ تو تھا ایک مثبت استدلالی نظریہ اور ثبوت ، لیکن جس انداز میں یہ بات کی گئی ہے وہ ایک مکمل اور متحرک منظر کا انداز ہے۔ مثلاً یوں نظر آتا ہے کہ جس طرح ایک قوی تر انسان باز پرس کے لئے کسی کو پکڑ لے اپنے دائیں ہاتھ سے ، اور پھر اس کی رگ جان کاٹ دے۔ یہ بھی نہایت ہی سخت اور متاثر کردینے والا منظر ہے۔ اس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 44–47

10 حضرت شاہ عبدالقادر (رح) لکھتے ہیں " یعنی اگر جھوٹ بناتا اللہ پر تو اول اس کا دشمن اللہ ہوتا اور ہاتھ پکڑتا یہ دستور ہے گردن مارنے کا کہ جلاد اس کا داہنا ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر پکڑ رکھتا ہے تاکہ سرک نہ جائے حضرت شاہ عبدالعزیز (رح) فرماتے ہیں " کہ " تقول " کی ضمیر رسول کی طرف لوٹتی ہے یعنی اگر رسول بالفرض کوئی حرف اللہ کی طرف منسوب کر دے یا اس کے کلام میں اپنی طرف سے ملا دے جو اللہ نے نہ کہا ہو تو اسی وقت اس پر یہ عذاب کیا جائے (العیاذ باللہ) کیونکہ اس کی تصدیق اور سچائی آیات بینات اور دلائل وبراہین کے ذریعہ سے ظاہر کی جا چکی ہے۔ اب اگر اس قسم کی بات پر فوراً عذاب اور سزا نہ کی جائے تو وحی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 44{ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ۔ } ”اور اگر یہ نبی ﷺ خود گھڑ کر بعض باتیں ہماری طرف منسوب کرتا۔“ تَقَوَّلَ باب تفعل ہے ‘ اس باب میں تکلف کے معنی پائے جاتے ہیں ‘ یعنی ارادے ‘ محنت اور کوشش سے کوئی بات کہنا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 43–46

24 رسول اور شاعر کا فرق اور آپ کے شاعر نہ ہونے کی وجوہ :۔ یعنی جو باتیں تم دیکھتے ہو اور جو تم نہیں دیکھتے۔ میں ان سب کو اس بات پر شاہد بنا کر کہتا ہوں کہ یہ قرآن اللہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ رسول اللہ کا یا کسی دوسرے کا تصنیف کردہ نہیں ہے۔ جیسا کہ تم الزام دیتے رہتے ہو۔ اور جو چیزیں تم دیکھتے ہو کم از کم انہی کی بنا پر اگر تم تھوڑا سا غور کرلو تو تمہیں از خود معلوم ہوجائے کہ یہ قرآن نہ کسی شاعر کا قول ہوسکتا ہے اور نہ کسی کاہن کا، شاعر کے تخیل کی پرواز میں میدان زندگی کا ہر اچھا یا برا پہلو ہوسکتا ہے۔ ماحول کا تاثر اس کی طبیعت پر غالب رہتا ہے اور معاشرہ کی اکثریت چونکہ گمراہ ہوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 44–47

18۔ یعنی ان کا دعوی کسی طرح سرسبز نہ ہونے دیتے، اور اسے یہیں سزا دے دیتے۔ (آیت) ” ولو .... الاقاویل “۔ یعنی جو کلام حق تعالیٰ کا نہیں اسے یہ حق تعالیٰ کا کلام قرار دے کر نبوت کا جھوٹا دعوی کردیتے۔ (آیت) ” لقطعنا منہ الوتین “۔ قطع وتین سے مراد ہلاک کردینا ہے۔ قال ابن قتیبۃ لم یرد انا نقطعہ بعینہ بل المراد انہ لوکذبہ لامتناہ (کبیر) (آیت) ” الاقاویل “۔ گڑھی ہوئی باتوں کے لئے قول کی جمع اقاویل بروزن اعاجیب واضاحیک۔ اس کی تحقیر وذم کے لئے لائی گئی ہے۔ سمی الاقوال المتقولۃ اقاویل تحقیرا لھا کقولک الاعاجیب والاضاحیک (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اسی طرح جھوٹا مدعی ولایت بھی ہلاک کردیا جاتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 44–52

ولو تقول علینا بعض الاقاویل مطلب یہ کہ نبی ﷺ کو اپنی طرف سے وحی میں کسی کمی بیشی کا اختیار نہیں ہے، اور اگر وہ ایسا کرے تو ہم اس کو سخت سزا دیں، بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ غلط استدلال کیا ہے کہ جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے اس کی شہ رگ فوراً نہ کاٹ ڈالی جائے تو یہ اس کے نبی ہونے کا ثبوت ہے، حالانکہ اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ سچے نبی ﷺ کے بارے میں ہے کہ وہ بھی اگر ایسا کریں تو سخت قبل مؤاخذہ ہوں گے نہ کہ جھوٹے مدعی نبوت کے بارے میں جو کہ سراسر ظالم و گناہگار ہیں۔ تمت

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولو تقول علینا . اگر ہماری وحی کے بغیر وہ ہم پر بناوٹ ‘ دروغ اور افتراء بندی کرتا۔ بعض الاقاویل . کسی قول کی بھی۔ اقاویل ‘ اقولہ کی جمع ہے قول سے مشتق ہے۔ بروزن اضاحیک خود ساختہ افترائی اقوال کو اقاویل کہا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 41–44

(41۔ 44) اور یہ قرآن کریم کسی شاعر کا کلام نہیں ہے تم نہ اس کے کم حصہ پر ایمان لاتے ہو اور نہ زیادہ پر اور نہ یہ کسی کاہن کا کلام ہے تم نہ اس کے کم حصہ سے نصیحت حاصل کرتے ہو اور نہ زائد سے یہ قرآن کریم رسول اکرم پر رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا کلام ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 44–47

ولو تقول علینا بعض الاقاویل…: ان آیات میں کفار کی اس بات کا رد ہے کہ یہ باتیں رسول اللہ ﷺ نے اپنے دل سے بنا کر اللہ کے ذمے لگا دی ہیں۔ فرمایا جب یہ ثابت ہوگیا کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور آپ کی کہی ہوئی ہر بات اللہ کی بات ہے تو اب اگر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے ذمے باتیں لگانے دے اور اس پر انہیں کچھ نہ کہے تو وہ سب باتیں اللہ یک باتیں سمجھی جائیں گی، اللہ تعالیٰ اس کی اجازت کس طرح دے سکتا ہے ؟ فرمایا ، اگر ہمارا ی ہ سچا رسول کوئی بات گھڑ کر ہمارے ذمے لگا دیتا تو اس جعل سازی کے جرم میں ہم اس کا دائیاں ہاتھ پکڑ کر اس کی جان ک رگ کاٹ دیتے اور کوی شخص رستے میں رکاوٹ نہ بن سکتا۔ بعض لوگوں نے اس آیت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 44–45

ولوتقول علینا بعض الاقاویل۔ تقول کا منی ہے اس نے تکلف سے کام لیا اور اس نے اپنے جابن سے قول کیا۔ اسے مجہول کا صیغہ تقول بھی پڑھا یا ہے لاخذنا منہ بالیمین۔ یمین سے مراد قوت اور قدرت ہے یعنی ہم اسے قوت سے پکڑ لیتے۔ من زائدہ ہے۔ قوت اور قدرت کو یمین سے تعبیر کیا کیونکہ ہر شی کی قوت اس کی دائیں جابن میں ہوتی ہے، یہ قتبی کا قول ہے، یہی حضرت ابن عباس اور مجاہد کا قول ہے، اس معنی میں شماخ کا قول ہے : اذا ما رایۃ رفعت لمجد تلقاما عرابۃ بالیمین) (2) جب کبھی بزرگی کے لئے جھنڈا بلند کیا جائے تو عرابہ اسے قوت کے ساتھ لے لیتا ہے۔ عرابہ انصار میں قبیلہ اوس کا ایک فرد تھا۔ ایک اور شاعر نے کہا : ولما رایت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

13۔ طبرانی نے الاوسط میں یزید بن عامر سوائی (رح) سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ وہ بتوں کا طواف کر رہے تھے اچانک ایک بات کرنے والے کو انہوں نے سنا اور وہ کہہ رہا تھا آیت ولو تقول علینا بعض الاقاویل لا خذنا منہ بالیمین ثم لقطعنا منہ الوتین۔ اور اگر وہ کوئی بناوٹی بات ہمارے ذمہ لگاتا تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے پھر ہم اس کی گردن کی رگ کاٹ دیتے۔ تو ہم اس سے گھبراگئے اور ہم نے کہا یہ وہ کلام نہیں ؟ جس کو ہم نہ پہچانتے ہوں پھر ہم نے دیکھا تو وہ نبی اکرم ﷺ تشریف لے جارہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا : اور اگر وہ غلط منسوب کرتے ہم پر ][ بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ : باتوں کی کوئی (بات)] نوٹ۔ 3: آیات۔ 44 تا 47 ۔ میں ایک خاص واقعہ کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ اگر خدانخواستہ معاذ اللہ رسول اللہ ﷺ اپنی طرف سے کوئی بات گھڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیتے تو آپ کے ساتھ یہ معاملہ کیا جاتا۔ اس میں کوئی عام ضابطہ بیان نہیں کیا گیا کہ جو شخص بھی نبوت کا جھوٹا دعوٰی کرے، ہمیشہ اس کو ہلاک ہی کردیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگوں نے نبوت کا جھوٹا دعوٰی کیا لیکن ان پر کوئی ایسا عذاب نہیں آیا۔ (معارف القرآن) اس کی مثال یوں سمجھو کہ جس طرح بادشاہ ایک شخص کو کسی منصب پر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 44–47

ثالثاً یہ فرمایا : ﴿ وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلۙ0044 لَاَخَذْنَا مِنْهُ بالْيَمِيْنِۙ0045 ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَٞۖ0046 فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِيْنَ 0047﴾ (اور اگر یہ شخص ہمارے ذمہ کچھ باتیں لگا دیتا تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے پھر ہم اس کے دل کی رگ کاٹ ڈالتے پھر تم میں سے کوئی اسے سزا سے بچانے والا نہ ہوتا) ۔ ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کے دعویٰ نبوت کو سچا ثابت فرمایا ہے ارشاد فرمایا کہ یہ شخص جو دعویٰ کرتا ہے کہ میں اللہ کا رسول اور نبی ہوں اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ نے کتاب نازل فرمائی ہے اگر یہ ہماری طرف کچھ جھوٹی باتیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–52

بیان عظمت کلام الہی وحقانیت وصداقت قرآن کریم : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فلا اقسم بما تبصرون ....... الی ....... فسبح باسم ربک العظیم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں اہل سعادت وشقاوت اور انکے احوال کا ذکر تھا اور بالخصوص مجرمین کی سزا اور قیامت کی شدت اور عرش الہی سے تمام فیصلوں کے نفاذ کا بیان تھا تو ممکن تھا کہ کوئی ملحد اور منکر ان باتوں کو سن کر یہ کہنے لگے کہ یہ تو شاعرانہ مبالغہ آرائی یا کاہنوں کی باتیں ہیں تو اس کے ازالہ اور رد کے لیے اب ان آیات میں قرآنی عظمت کا بیان ہے اور یہ کہ جو کچھ وحی الہی سے کہا گیا وہ رسول کریم ﷺ کا قول اور اللہ کا پیغام ہے اس میں ذرہ برابر مبالغہ یا استعارہ ومجاز کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 44–47

14:۔ ” ولو تقول “ یہ صداقت رسول ﷺ کی دلیل ہے۔ یمین کے معنی قوت وقدرت کے ہیں۔ اگر بالفرض محمد ﷺ ہمارے ذمہ کوئی جھوٹی بات لگا دیتے، تو ہم ان کو پوری قوت کے ساتھ مواخذہ کرتے اور ان کی رگ حیات کاٹ دیتے اور پھر تم میں سے کوئی بھی ان کو ہماری گرفت سے نہ بچا سکتا، چونکہ اللہ کی طرف سے آپ پر کسی قسم کا عذاب نازل نہیں ہوا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور آپ جو کچھ بھی بیان فرماتے ہیں وہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔ دجالِ قادیان مرزا غلام احمد نے اس آیت سے اپنی صداقت پر استدلال کیا ہے کہ اگر وہ جھوٹا ہوتا تو اس کی رگ حیات کاٹ دی جاتی۔ مگر ایسا نہیں ہوا، لہذا وہ اپنے دعوی میں مفتری نہیں۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 38–52

گذشتہ سے پیوستہ : سورۃ الحاقہ کے پہلے رکوع میں قیامت کا ذکر ہے۔ آخری آیتوں میں بنیادی عقائد کا بیان ہے منجملہ ان کے رسالت اور نبوت کا ذکر ہے۔ جس طرح کفار قیامت کا انکار کرتے تھے۔ اسی طرح حضور ﷺ السلام کی نبوت اور رسالت کے منکر تھے۔ پہلے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ بھی اسی قسم کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جب کہ لوگ ان کی تکازیب کرتے تھے۔ یہ لوگ نہ صرف پیغمبر کا انکار کرتے تھے۔ بلکہ وحی الہٰی اور اس کے لانے والے فرشتے کا بھی انکار کرتے تھے۔ کہتے تھے کہ یہ اپنے پاس سے باتیں گھڑ کر لایا ہے۔ خدا کا پیغام نہیں ہے۔ بعض شاعر اور کاہن کا خطاب دیتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ یہ غیب کی خبریں بتاتے ہیں۔ اور سچ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ۝ 44 ۙ لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ تقول ( تفعل) مصدر سے۔ اس نے بنا لیا۔ اس نے گھڑ لیا۔ اس نے باندھ لیا۔ تقول کے معنی اپنے دل سے گھڑ کر دوسرے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 38–52

ترکیب : فلا اقسم قیل لامزیدۃ اوفلار ولانکارھم البعث ثم اقسم وقیل نافیۃ للقسم کانہ قال لا اقسم علی ان القرآن قول رسول کریم لظہورالامر واستغنائـہ عن التحقیق بالقسم انہ لقول الخ جواب القسم مؤکد بان واللام والا سمیّہ۔ وماھوالخ الجملۃ تاکید لقولہ انہ لقول رسول کریم قلیلا ما زائدۃ للتاکید ولابقول کا ھن عطف علیٰ قولہ بقول شاعر۔ تنزیل خبر متبدء ھو تنزیل تقول قرء الجمہور مبیناً للفاعل والتقول تکلف القول والافتراء والاقاویل جمع اقوال جمع قول کا بابیت جمع ابیات جمع بیت والاقوال المفتراۃ اقاویل تحقیر الھا لاخذنا جواب لوحاجزین وصف لاحد فانہ عام لکونہ نکرۃ واقعۃ فی سیاق النفی۔ حق الیقین من اضافۃ الصفۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 44–47

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ ۔ لَاَخَذْنَامِنْہُ بِالْیَمِیْنِ ۔ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ ۔ فَمَا مِنْـکُمْ مِّنْ اَحَدٍعَنْـہُ حٰجِزِیْنَ ۔ (الحآقۃ : 44 تا 47) (اور اگر یہ ہم پر کوئی بات گھڑ کر لگاتا۔ تو ہم اس کو دہنے ہاتھ سے پکڑ لیتے۔ پھر ہم اس کی شہ رگ کاٹ دیتے۔ پس تم میں سے کوئی بھی اس سے ہم کو روکنے والا نہ ہوتا۔ ) کفار کے الزام کا جواب کفار کا الزام یہ تھا کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول نہیں اور نہ ان پر کلام خداوندی نازل ہوتا ہے بلکہ یہ اپنی طرف سے کچھ باتیں گھڑ لیتے ہیں اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرکے لوگوں کو سناتے ہیں۔ اس الزام کا جواب دیتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 38–48

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی تعلیمات میں اس کی سر فہرست تعلیم یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لایا جائے اور یہ یقین رکھا جائے کہ قیامت ہر صورت آنے والی ہے۔ نافرمان لوگ اللہ اور اس کے رسول اور قیامت پر ایمان لانے کی بجائے قرآن مجید کا ہی انکار کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ یہ شاعرانہ کلام ہے جس کی تردید کی جا رہی ہے۔ قسم ہے ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے بلاشک یہ قرآن رسول کریم ﷺ کی زبان سے پڑھا جاتا ہے یہ کسی شاعر کا کلام نہیں اگرچہ تم بہت کم لوگ ایمان لاتے ہو اور نہ قرآن کسی کاہن کا کلام ہے یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے لیکن تم بہت ہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

44 : وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاََ قَاوِیْلِ (اگر یہ ہمارے ذمہ کچھ باتیں لگا دیتے) اگر وہ ہمارے متعلق کسی چیز کا دعویٰ کرتے تو ہم ان کو یہ نہ کہتے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 44–52

44۔ 52۔ جس طرح اوپر گزرا کہ اہل مکہ قرآن کر شاعر یا کاہن کا کلام کہتے تھے اسی طرح وہ لوگ ایک بات یہ بھی کہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے دل سے یہ باتیں جوڑ لی ہیں جن باتوں کو انہوں نے کلام الٰہی مشہور کیا ہے اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں دیا اور فرمایا کہ غیب سے اس دین کی دن بدن مدد ہوتی چلی جاتی ہے دن بدن یہ دین ترقی پکڑتا جاتا ہے اس سے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ رسول ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے کیونکہ صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک جو مدد غیبی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی فرمائی ہے وہی مدد رسول کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 38–44

اللہ تبار وتعالی نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنہیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنہیں نہیں دیکھ سکتی ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے یہ قسم رسول اللہ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ نے اپنے رسول کو کفار کی تمام بہتان طرازیوں سے ، ، مثلا یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں منزہ قرار دیا ہے ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چناچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انہوں نے غور و فکر کیا ہوتا تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ کیا چیز انہیں فائدہ دیتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

39 کفار کے ایک الزام کی تردید بڑے مؤثر انداز میں : سو اس اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اگر پیغمبر بفرض محال کوئی من گھڑت بات ہمارے ذمے لگاتے تو ان کو ہم اس طرح اور اس طرح سزا دیتے۔ یعنی نبی برحق ایسی کوئی بات نہیں کرسکتے ‘ ورنہ اس کا انجام یہ ہوتا جو یہاں بیان فرمایا گیا ہے ‘ اور جب ایسے نہیں ہوا تو یہ امر اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ آپ اللہ کے سچے نبی اور رسول ہیں اور آپ ﷺ نے اس کی نازل فرمودہ وحی میں کسی طرح کی کوئی آمیزش نہیں کی ‘ پس قادیانی دجال کا اس سے اپنے دجل کیلئے استدلال کرنا باطل و مردود ہے کیونکہ یہ ضابطہ نبی برحق کیلئے ہے ‘ نہ کہ ہر جھوٹے مدعی نبوت کیلئے ‘ جیسے اگر ملک کا وزیراعظم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 38–52

قرآن مجید کے کلام الٰہی ہونے کا ثبوت تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ قرآن کی سچائی معقولیت اور لاجواب کتاب ہونے پر قسم اٹھاتا ہے یہ قسم بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اٹھائی جا رہی ہے۔ یہاں کائنات میں موجود ہر اس چیز کی قسم کھائی گئی ہے جو ہماری نظروں کے سامنے واضح صورت میں موجود ہیں اور ان چیزوں کی بھی جو بیشمار مختلف صورتوں میں کائنات میں ہر طرف موجود ہیں اور ابھی تک کوئی محقق ان کو نہ دیکھ سکا ہے نہ ان کی وضاحت ہی کرسکا ہے۔ کہ قرآن پاک الہ العٰلمین کا کلام ہے معزز ترین فرشتے سیدناجبرائیل (علیہ السلام) کی زبان سے رسول کریم ﷺ تک پہنچایا گیا ہے۔ اور اس میں کوئی شک و شبہ یا تحریف و ترمیم ہرگز نہیں کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 38–52

آیات 38 تا 52۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان چیزوں کی جو تمہیں دکھائی دیتی ہیں اور ان کی جو تم نہیں دیکھ سکتے کہ کائنات کی ہر شے اور ہر طاقت اس پر گواہ ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے جو ایک معزز فرشتے کے ذریعہ سے اللہ کے برحق رسول پہ نازل ہوا یعنی قرآن نے دیکھے ان دیکھے نتائج کے لیے بھی ایساجامع نظام حیات دیا کہ عقیدے عبادت سے لے کر عمل تک دنیا کے ہر خطے ہرموسم اور ہر قوم کے لیے بہترین نتائج پیدا کرتا ہے ظاہر ابھی جو نظر آتے ہیں اور باطلا بھی جو حقائق فی الحال نگاہ سے اوجھل ہیں اور آخرت میں سامنے آئیں گے بھلا ایسا کامل ومکمل نظام بجز اللہ کے کون دے سکتا ہے۔ یہ سب اس بات پر گواہ ہے کہ فرشتے کا لایا ہوا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 42–44

“9 یعنی بالکل غور نہیں کرتے۔ اگر غور کرتے تو ہرگز اس قسم کی بکواس نہ کرتے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(69:44) ولو تقول علینا : واؤ عاطفہ، لو حرف شرط تقول ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب تقول (تفعل) مصدر سے۔ اس نے بنا لیا۔ اس نے گھڑ لیا۔ اس نے باندھ لیا۔ تقول کے معنی اپنے دل سے گھڑ کر دوسرے کی طرف سے کہہ دینا۔ اقاویل جمع اقوال کی جمع ہے قول کی بمعنی بات جیسے ابابیت جمع ہے ابیات کی جو جمع ہے بیت کی۔ تقول کی مناسبت سے یہاں اقوال سے مراد بھی اقوال المفتراۃ (من گھڑت اقوال) لیا جائے گا۔ ترجمہ ہوگا :۔ اگر وہ گھڑ کر بعض باتیں ہماری طرف منسوب کرتا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–52

لغات القرآن۔ الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں) رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔ دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 44–52

(ف 1) شان نزول : نسائی ، تفسیر ابن حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نضر بن حارث اور قریش میں کے سرکش لوگوں نے جب اللہ سے عذاب کی خواہش کی اور یہ کہا کہ جو کچھ محمد ﷺ کہتے ہیں اگر وہ حق بات ہے اور ہم لوگ اس کو نہیں مانتے ہیں تو خدا کرے ہم لوگوں پر پتھر آسمان سے برسیں یا اور کوئی سخت عذاب ہم لوگوں پر نازل ہوجائے ، اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ہیں اور فرمایا کہ یہ قریش میں کے سرکش لوگ عذاب الٰہی کو دورگن کر اس طرح کی سرکشی باتیں کرتے ہیں مگر اللہ کے نزدیک پچھلی قوموں کی طرح نہ ان مشرکوں پر دنیا میں کوئی عذاب نازل کردینا ، کچھ دور ہے نہ عذاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 40–45

[15] یعنی قرآن اللہ کا کلام ہے جس کو آسمان سے ایک بزرگ فرشتہ (یعنی جبریل) لے کر ایک بزرگ ترین پیغمبر پر اترا۔ جو آسمان سے لایا وہ اور جس نے زمین والوں کو پہنچایا دونوں رسول کریم ہیں۔ ایک کا کریم ہونا تو تم آنکھوں سے دیکھتے ہو اور دوسرے کی کرامت اور بزرگی پہلے کریم کے بیان سے ثابت ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 42–47

ف 1: اسلام سے قبل عربوں میں شاعری اور کہانت کا بڑا زور تھا ۔ اس لئے انہوں نے جب قرآن کو دیکھا ۔ کہ اس میں بھی موسیقی اور اتر ہے ۔ سحیع اور ترنم ہے ۔ تو وہ یہ سمجھے کہ یہ بھی شاید شعر وکہانت کی طرح کوئی چیز ہے ۔ ارشاد فرمایا ۔ کہ یہ غلط ہے ۔ یہ کلام انسانی دماغ کی کدوکاوش کا نتیجہ ہرگز نہیں ہے نہ اس میں کہانت اور شاعری کی آمیزش ہے ۔ یہ اللہ کا کلام ہے ۔ اور جو فرشتے کی رسالت سے محمد رسول اللہ ﷺ تک پہنچا ہے ۔ اور یہ اس لئے کہ یہ ہمہ صداقت اور سچائی ہے ۔ حالانکہ شعروکہانت میں چوں الکذب اواھن او کا اصول کافر فرما ہوتا ہے ۔ اور ان کے متعلق یہ احتمال کہی نہیں ۔ کہ یہ اللہ پر تمہاری خواہشات کے مطابق…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور اگر یہ نبی ہمارے متعلق کوئی بات از خود کہہ دیتا 44 ؎ وہ لوگ جو رسول اللہ ﷺ کے متعلق کہتے تھے کہ محمد (رسول اللہ ﷺ نے یہ قرآن کریم خود گھڑا ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ : (ام یقولون افترہ) (10 : 38) (ام یقولون افتراہ) (11 : 13) (ام یقولون افتراہ) (11 : 35) (بل قالوا اضعات حلام بل افتراہ) (21 : 5) (ان ھذا الا افک افتراہ (25 : 4) (ام یقولون افتراہ) (32 : 2) (ام یقولون افتراہ) (46 : 8) کفار کا یہ الزام درج کرنے کے بعد ان کو ہر بار جواب دیا گیا اور ایسا مسقط جواب دیا گیا کہ اس جواب کے بعد ان کے پاس سوائے خاموشی کے کوئی چارہ نہ رہا لیکن وہ ماننے کے لئے بھی تیار نہ ہوئے۔ ان سارے لوگوں کو جو اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 44–51

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ ﴿44﴾ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ﴿45﴾ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ﴿46﴾ And had he forged some statements in Our name, We would have certainly seized him by the right hand, and then severed his life-astery,…(69:44-46) The word taqawwul means 'to forge, fabricate or concoct' and the word watin refers to 'aorta or life-artery'. This is the main artery that carries blood from the heart to other parts of the body. Once this artery is cut off, death occurs instantly. The foregoing verses refute the outrageous thoughts of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 43–46

24 In short: "I swear by whatever you see and by whatever you do not see that this Qur'an is not the word of a poet or a soothsayer, but it is a Revelation from the Lord of the worlds, which is being presented by the Messenger who is noble and gentle." Let us now consider in what sense this oath has been sworn. That which was visible to the people was:. (1) This Word was being presented by a person who being noble and gentle was not hidden from anybody in the society of Makkah. Everyone knew that he was the best man of their nation in conduct. It could not be expected of such a man that he…

Read the full tafseer →