Al-Haaqqa 69:42

Al-Haaqqa · from ayah 42

69:42

وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ ؕ— قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ ۟ؕوَلَا بِقَوۡلِ كَاهِنٍ‌ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّرُوۡنَؕ

اور نہ کسی کاہن کے مزخرفات ہیں۔ لیکن تم لوگ بہت ہی کم فکر کرتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Nor the word of a soothsayer; little do you remember.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa

All translations of 69:42

اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے، تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور نہ کسی کاہن کے مزخرفات ہیں۔ لیکن تم لوگ بہت ہی کم فکر کرتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور نہ کسی کاہن کا قول ہے، (افسوس) بہت کم نصیحت لے رہے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور نہ یہ کسی کاہن کا کلام ہے۔ (مگر) تم سبق تھوڑا ہی لیتے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور نہ کسی کاہن کی بات کتنا کم دھیان کرتے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور نہ (یہ) کسی کاہن کا کلام ہے (کہ فنی اَندازوں سے وضع کیا گیا ہو)، تم بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور نہ کسی کاہن کا قول ہے، تم بہت کم نصیحت پکڑتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نہ ہی یہ کسی کاہن کا قول ہے (مگر) تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ کسی کاہن کا بھی کلام نہیں، تم بہت ہی کم سمجھتے ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور نہ ہی یہ کسی کاہن کا قول ہے کم ہی غور کرتے ہو تم لوگ

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ کسی کاہن کا بھی کلام نہیں بہت ہی کم تم سمجھتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نہ ہی یہ کسی کاہن کا کلام ہے۔ کم ہی ہے جو تم غور کرتے ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور نہ کسی کا ہن کے اقوال ہیں۔ لیکن تم لوگ بہت ہی کم فکر کرتے ہو

— محترمہ رفعت اعجاز

Nor is this the speech of a soothsayer. Little do you reflect!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

nor is it the speech of a soothsayer, (but) little you heed to the advice.

— Muhammad Taqi Usmani

nor is it the speech of a soothsayer, (but) little you heed to the advice.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nor is it the word of a soothsayer, little is that you remember!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nor diviner's speech - little is it that ye remember!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Nor the word of a soothsayer; little do you remember.

— Saheeh International

nor is it the work of a soothsayer but only a few of you take heed.

— Muhammad Sarwar

Nor the word of a soothsayer; little is it that you mind.

— Muhammad Habib Shakir

Nor is it the speech of a sooth- sayer. Little are ye admonished.

— Abdul Majid Daryabadi

Nor is it the word of a soothsayer: little admonition it is ye receive.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 69:42

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–43

ظاہر و باطن آیات الٰہی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول ﷺ پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لئے پسند فرما لیا ہے۔ رسول کریم سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں، اس کی اضافت حضور ﷺ کی طرف سے اس لئے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ ﷺ ہی ہیں۔ اسی لئے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 41–42

سورة الْحَآقَّة 23 " کم ہی ایمان لاتے ہو " کا ایک مطلب عربی محاورے کے مطابق یہ ہوسکتا ہے کہ تم ایمان نہیں لاتے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرآن کو سن کر کسی وقت تمہارا دل خود پکار اٹھتا ہے کہ یہ انسانی کلام نہیں ہو سکتا، مگر پھر تم اپنی ضد پر اڑ جاتے ہو اور اس پر ایمان لانے سے انکار کردیتے ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–43

ۧفَلَآ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَ وَمَا لَا تُبْصِرُوْنَ یعنی قسم ہے ان تمام چیزوں کی جن کو تم دیکھتے ہو یا دیکھ سکتے ہو اور جن کو تم نہ دیکھتے ہو نہ دیکھ سکتے ہو اس میں تمام مخلوقات آگئیں۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ نہ دیکھنے کی چیزوں سے مراد حق تعالیٰ کی ذات وصفات ہیں۔ بعض نے فرمایا کہ دیکھنے کی چیزوں سے مراد دنیا کی چیزیں ہیں اور نہ دیکھنے کی چیزوں سے مراد آخرت کی اشیاء (مظہری) واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 41–42

یہ وہی اوپر والی بات منفی اسلوب سے فرمائی ہے کہ نہ یہ کسی شاعر کا کلام ہے اور نہ کسی کاہن کا۔ اگر تم لوگ ایمان لانے والے اور یاددہانی کی قدر کرنے والے ہوتے تو تم پر ازخود یہ حقیقت واضح ہو جاتی کہ یہ کسی شاعر یا کاہن کا کلام نہیں ہو سکتا۔ لیکن خرابی یہ ہے کہ تمہارے اندر ایمان کی خواہش اور بات کو سننے سمجھنے کی طلب ہی بہت کم پیدا ہوتی ہے اور جن کے اندر یہ طلب ہی نہ ہو وہ اسی طرح فرار کے بہانے تلاش کر لیتے ہیں۔ قرآن کو کسی شاعر یا کاہن کا کلام کیوں نہیں قرار دیا جا سکتا؟ اس کا مفصل جواب سورۂ شعراء میں دیا گیا ہے اور ہم نے اس کے تمام پہلوؤں کی وہاں وضاحت کی ہے۔ اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ مکذبین کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

42۔ 1 جیسا کہ تم بعض دفعہ تم یہ دعوی کرتے ہو حالانکہ کہانت بھی ایک دوسری چیز ہے۔ قلت دونوں جگہ نفی کے معنی میں ہے یعنی تم نہ قرآن پر ایمان لاتے ہو نہ نصیحت پر عمل کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 40–46

9: یہ ان کافروں کی تردید ہے جو کبھی آنحضرت ﷺ کو شاعر اور کبھی کاہن کہا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 38–43

فلا اقسم۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔ رب العالمین۔ یہ معاملہ بہت ہی واضح ہے اور اس پر کسی قسم کی ضرورت نہیں ہے اور عقلی لحاظ سے ثابت ہے اور ایک واقعہ ہے اور اس پر کوئی قسم اٹھانے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ یہ حق ہے ، حق کی طرف سے نازل شدہ ہے ، نہ شعروشاعری ہے نہ کسی کاہن کی کہانت اور بڑ ہے نہ کسی افتراء پرداز کی افتراء ہے۔ لہٰذا قسم کی ضرورت نہیں ہے۔ فلا ................ تبصرون (96 : 83) وما لا تبصرون (96 : 93) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔ یہ قسم بہت عظیم ہے۔ اس کائنات ، عظیم کائنات کی قسم ہے جو تم دیکھتے ہو اور اس عظیم کائنات کی قسم ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی پوری طرح دھیان کرو تو معلوم ہوجائے کہ یہ کسی کاہن کا کلام نہیں۔ کاہن عرب میں وہ لوگ تھے جو بھوت پریت، جنوں اور چڑیلوں سے تعلق یا مناسب رکھتے تھے۔ وہ ان کو غیب کی بعض جزئی باتیں ایک مقضی و مسجع کلام کے ذریعہ سے بتلاتے تھے۔ لیکن جنوں کا کلام معجز نہیں ہوتا کہ ویسا دوسرا نہ کرسکے، بلکہ ایک جن کسی کاہن کو ایک بات سکھلاتا ہے دوسرا جن بھی ویسی بات دوسرے کاہن کو سکھلا سکتا ہے اور یہ کلام یعنی قرآن ایسا معجز ہے کہ سب جن و انس مل کر بھی اس کے مشابہ کلام نہیں بنا سکتے۔ دوسرے کاہنوں کے کلام میں محض قافیہ اور سجع کی رعایت کے لیے بہت الفاظ بھرتی کے بالکل بیکار اور بےفائدہ ہوتے ہیں، اور اس کلام معجز…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 40–42

آیت 40{ اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ۔ } ”یہ قول ہے ایک رسول کریم کا۔“ اصل میں تو یہ اللہ کا کلام ہے۔ اللہ تعالیٰ سے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے سنا۔ پھر حضرت جبرائیل سے حضرت محمد ﷺ نے سنا اور اب وہ لوگوں کو سنا رہے تھے۔ چناچہ ایک لحاظ سے یہ جبرائیل علیہ السلام کا قول تھا اور دوسرے لحاظ سے حضور ﷺ کا قول۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 40–42

23 قرآن چونکہ اللہ کا کلام ہے جو جبریل کی زبان سے ادا ہوتا ہے۔ لہذا یہاں معزز رسول سے جبریل (علیہ السلام) بھی مراد لیے جاسکتے ہیں۔ اور اس لحاظ سے کہ بعینہ وہی الفاظ آپ کی زبان سے ادا ہوتے ہیں۔ معزز رسول سے آپ کی ذات بھی مراد لی جاسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 41–42

16۔ غرض یہ کہ یہ پر حکمت و عظمت کتاب نہ شعر ہے، نہ کہانت، اور تم لوگ جو ایسی بیہودہ رائے زنی کررہے ہو، ایمان وعقل دونوں سے خالی ہو۔ (آیت) ” قلیلا۔ قلیلا “۔ یہ قلت دونوں جگہ عدم کے معنی میں ہے۔ وقلیل یعبر بہ عن النفی (راغب) القلۃ فی معنی العدم (کشاف) والعرب یقولون قلما یاتینا یریدون لایاتینا (کبیر) (آیت) ” بقول شاعر “۔ مشرکین مکہ کے ایک ” روشن خیال “ گروہ کی تشخیص یہی تھی، (آیت) ” بقول کا ھن “۔ مشرکین مکہ کے ایک دوسرے ” روشن خیال “ گروہ نے یہی فتوی دے رکھا تھا۔ قرآن مجید کی معجزانہ تاثیر سے تو اہل عرب کو بھی مجال انکار نہ تھی، جیسا کہ محمد ﷺ کی معجزانہ شخصیت کے اثرات سے آج فرنگیوں کو بھی مجال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 38–43

ترجمہ : مجھے قسم ہے ان چیزوں کی جنہیں تم مخلوقات میں دیکھتے ہو، فلا میں لا زائدہ ہے اور مخلوقات میں سے جن کو تم نہیں دیکھتے ہو یعنی تمام مخلوقات کی کہ بیشک یہ (قرآن) بزرگ رسول کا قول ہے یعنی اس نے اللہ کی جانب سے ایک پیغام رساں کی حیثیت سے نقل کیا اور یہ کسی کا قول نہیں (افسوس) تمہیں بہت کم یقین ہے اور نہ کسی کاہن کا قول ہے (افسوس) تم بہت کم نصیحت لے رہے ہو دونوں فعلوں میں تا اور یا کے ساتھ ہے، اور، ما زائدہ ہے اور معنی یہ ہیں کہ وہ باتوں پر بہت کم یقین رکھتے ہیں، اور ان کا آپ ﷺ کی لائی ہوئی چیزوں میں سے بعض پر ایمان لانا مثلاً صدقہ و خیرات پر اور صلہ رحمی پر زنا وغیرہ سے باز رہنے پر، تو اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولا بقول کا ھن . لا زائد ہے یعنی نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے۔ قلیلا ما تذکرون . تم بہت کم غور کرتے ہو۔ نفی شاعریت کے ساتھ قلت ایمان اور نفی کہانت کے ساتھ قلت تدبر کا ذکر اس وجہ سے کیا کہ قرآن کا شعر نہ ہونا ایک واضح امر تھا۔ جسکے انکار کی سوائے عناد کے اور کوئی وجہ نہیں ہوسکتی لیکن الفاظ کاہن سے قرآن کا فرق غور طلب تھا۔ جب تک رسول اللہ ﷺ کے احوال ‘ اطوار اور قرآن کے حقائق پر غور نہ کیا جائے واضح طور پر اسکو سمجھنا مشکل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 41–44

(41۔ 44) اور یہ قرآن کریم کسی شاعر کا کلام نہیں ہے تم نہ اس کے کم حصہ پر ایمان لاتے ہو اور نہ زیادہ پر اور نہ یہ کسی کاہن کا کلام ہے تم نہ اس کے کم حصہ سے نصیحت حاصل کرتے ہو اور نہ زائد سے یہ قرآن کریم رسول اکرم پر رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا کلام ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 40–43

(1) انہ لقول رسول کریم …: یہ چار آیات جواب قسم ہیں، پہلی یہ کہ یہ قرآن ایک معزز پیغام لانے والے کا قول ہے، دوسری یہ کہ یہ کسی شاعر کا قول نہیں، تیسری یہ کہ یہ کسی کا ہن کا قول بھی نہیں اور چوتھی یہ کہ یہ رب العالمین کی طرف سے اتارا گیا ہے۔ اس قسم اور جواب قسم میں مناسب یہ ہے کہ جو کچھ تم دیکھ رہے ہو وہ انچ اورں چیزوں کے حق ہونے کی شہادت دے رہا ہے اور جو کچھ تم نہیں دیکھ رہے اس کی شہادت بھی یہی ہے۔ جو کچھ وہ دیکھ رہے تھے وہ یہ بات جاننے کے لئے کافی تھا کہ یہ قرآن جس شخص کی زبان سے ادا ہو رہا ہے وہ نہ شاعر ہے نہ کاہن، نہ جھوٹا ہے نہ اپنے پاس سے بات گھڑنے والا اور نہ کسی ذاتی مفاد یا عہدے کا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 41–42

وما ھو بقول شاعر یہ شعر کی تمام اقسام سے جدا ہے ولابقول کا ھن یہ قرآن شیاطین کو سب و شتم کرتا ہے تو جو انہیں سب وشتم کرے اس پر وہ کوئی چیز کیا نازل کریں گے۔ قلیلاً ماتومنون۔ اور قلیلاً ماتذکرون۔ میں مازائدہ ہے معنی ہے تم بہت کم ایمان لاتے ہو اور بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔ ان کے قلیل ایمان سے مراد یہ ہے کہ جب ان سے پوچھا جاتا ہے، انہیں کس نے پیدا کیا ؟ وہ کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے یہ جائز نہیں کہ مافعل کے ساتھ مل کر مصدر کے حکم میں ہوا اور ما کا مابعد قلیلاً کو صنب دے کیونکہ اس صورت میں صلہ کا موصول پر مقدم ہونا لازم آتا ہے کیونکہ مصدر جس میں عمل کرتا ہے وہ اس کا صلہ ہوتا ہے۔ ابن محیصن، ابن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 41–43

12۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما ہوبقول شاعر یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اسے شاعر کا کلام ہونے سے پاک رکھا اور اس کو بچایا ہے۔ ولا بقول کاہن اور اللہ تعالیٰ نے اس کو کہانت سے پاک رکھا ہے اور اس سے اس کلام کو بچایا ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ ۭ: اور نہ کسی کاہن کا کہا ہوا ہے ][ قَلِيْلًا مَّا : بہت ہی تھوڑی سی ][ تَذَكَّرُوْنَ : تم لوگ نصیحت پکڑتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 40–42

﴿ اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍۚۙ0040﴾ رسول کریم ﷺ سے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) مراد ہیں اور مطلب یہ ہے یہ کلام جس کے واسطہ سے تم لوگوں تک پہنچ رہا ہے وہ اللہ کا بھیجا ہوا قاصد ہے جو اللہ کے یہاں گرامی قدر ہے جس کا مرتبہ ہے وہ اس کلام کو لے کر اللہ کی زمین والے رسول کے پاس آیا ہے یعنی بواسطہ جبرائیل (علیہ السلام) حضرت سیدنا محمد ﷺ پر نازل ہوا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ رسول کریم ﷺ سے خود رسول کریم ﷺ کی ذات گرامی مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہمارا یہ کلام تمہیں ہمارا رسول سناتا ہے جسے اللہ تعالیٰ شرف رسالت سے نواز دے وہ سچا ہی ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–52

بیان عظمت کلام الہی وحقانیت وصداقت قرآن کریم : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فلا اقسم بما تبصرون ....... الی ....... فسبح باسم ربک العظیم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں اہل سعادت وشقاوت اور انکے احوال کا ذکر تھا اور بالخصوص مجرمین کی سزا اور قیامت کی شدت اور عرش الہی سے تمام فیصلوں کے نفاذ کا بیان تھا تو ممکن تھا کہ کوئی ملحد اور منکر ان باتوں کو سن کر یہ کہنے لگے کہ یہ تو شاعرانہ مبالغہ آرائی یا کاہنوں کی باتیں ہیں تو اس کے ازالہ اور رد کے لیے اب ان آیات میں قرآنی عظمت کا بیان ہے اور یہ کہ جو کچھ وحی الہی سے کہا گیا وہ رسول کریم ﷺ کا قول اور اللہ کا پیغام ہے اس میں ذرہ برابر مبالغہ یا استعارہ ومجاز کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 38–43

13:۔ ” فلا اقسم “ جواب قسم محذوف ہے۔ ” لاتبصرون “ میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو نظر نہیں آتیں مثلاً جن، اور فرشتے، یہ قیامت کے ثبوت پر استدلال ہے یعنی جس طرح دنیا میں بہت سی چیزیں تمہیں نظر نہیں آتیں مگر اس کے باوجود تم ان کا وجود تسلیم کرتے ہو۔ اس لیے آخرت جو نظر نہیں آتی اس کا بھی انکار نہ کرو بلکہ یہ دیکھو کہ آخرت کی خبر دینے والا کون ہے ؟ ” انہ لقول رسول کریم “ یہ علیحدہ جملہ ہے۔ یہ ایک مکرم و محترم رسول (محمد ﷺ کی زبان سے نکلی ہوئی بات ہے جسے وہ اپنے پروردگار کی طرف سے تم تک پہنچا رہا ہے یہ اس کی اپنی بنائی ہوئی بات نہیں، نہ کسی شاعر کا قول ہے نہ کاہن کا۔ یعنی محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 38–52

گذشتہ سے پیوستہ : سورۃ الحاقہ کے پہلے رکوع میں قیامت کا ذکر ہے۔ آخری آیتوں میں بنیادی عقائد کا بیان ہے منجملہ ان کے رسالت اور نبوت کا ذکر ہے۔ جس طرح کفار قیامت کا انکار کرتے تھے۔ اسی طرح حضور ﷺ السلام کی نبوت اور رسالت کے منکر تھے۔ پہلے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ بھی اسی قسم کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جب کہ لوگ ان کی تکازیب کرتے تھے۔ یہ لوگ نہ صرف پیغمبر کا انکار کرتے تھے۔ بلکہ وحی الہٰی اور اس کے لانے والے فرشتے کا بھی انکار کرتے تھے۔ کہتے تھے کہ یہ اپنے پاس سے باتیں گھڑ کر لایا ہے۔ خدا کا پیغام نہیں ہے۔ بعض شاعر اور کاہن کا خطاب دیتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ یہ غیب کی خبریں بتاتے ہیں۔ اور سچ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا بِقَوْلِ كَاہِنٍ۝ 0 ۭ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ۝ 42 ۭ كهن الْكَاهِنُ : هو الذین يخبر بالأخبار الماضية الخفيّة بضرب من الظّنّ ، والعرّاف الذي يخبر بالأخبار المستقبلة علی نحو ذلك، ولکون هاتین الصّناعتین مبنيّتين علی الظّنّ الذي يخطئ ويصيب قال عليه الصلاة والسلام : «من أتى عرّافا أو كَاهِناً فصدّقه بما قال فقد کفر بما أنزل علی أبي القاسم» ويقال : كَهُنَ فلان كهَانَةً :إذا تعاطی ذلك، وكَهَنَ : إذا تخصّص بذلک، وتَكَهَّنَ : تكلّف ذلک قال تعالی: وَلا بِقَوْلِ كاهِنٍ قَلِيلًا ما تَذَكَّرُونَ [ الحاقة/ 42] . ( ک ہ ن ) الکاھن اس شخص کو کہتے ہیں جو تخمینے سے ماضی کے خفیہ واقعات کی خبر دیتا ہواو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 38–52

ترکیب : فلا اقسم قیل لامزیدۃ اوفلار ولانکارھم البعث ثم اقسم وقیل نافیۃ للقسم کانہ قال لا اقسم علی ان القرآن قول رسول کریم لظہورالامر واستغنائـہ عن التحقیق بالقسم انہ لقول الخ جواب القسم مؤکد بان واللام والا سمیّہ۔ وماھوالخ الجملۃ تاکید لقولہ انہ لقول رسول کریم قلیلا ما زائدۃ للتاکید ولابقول کا ھن عطف علیٰ قولہ بقول شاعر۔ تنزیل خبر متبدء ھو تنزیل تقول قرء الجمہور مبیناً للفاعل والتقول تکلف القول والافتراء والاقاویل جمع اقوال جمع قول کا بابیت جمع ابیات جمع بیت والاقوال المفتراۃ اقاویل تحقیر الھا لاخذنا جواب لوحاجزین وصف لاحد فانہ عام لکونہ نکرۃ واقعۃ فی سیاق النفی۔ حق الیقین من اضافۃ الصفۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 42–43

وَلاَ بِقَوْلِ کَاھِنٍ ط قَلِیْلاً مَّا تَذَکَّرُوْنَ ۔ تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (الحآقۃ : 42، 43) (یہ کسی کاہن کا قول بھی نہیں، تم لوگ کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو۔ یہ اللہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ ) (اخیر سورة تک) حضرت عمرفاروق ( رض) کا بیان ہے کہ اس وقت میرے دل میں اسلام جاگزیں ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 38–48

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی تعلیمات میں اس کی سر فہرست تعلیم یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لایا جائے اور یہ یقین رکھا جائے کہ قیامت ہر صورت آنے والی ہے۔ نافرمان لوگ اللہ اور اس کے رسول اور قیامت پر ایمان لانے کی بجائے قرآن مجید کا ہی انکار کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ یہ شاعرانہ کلام ہے جس کی تردید کی جا رہی ہے۔ قسم ہے ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے بلاشک یہ قرآن رسول کریم ﷺ کی زبان سے پڑھا جاتا ہے یہ کسی شاعر کا کلام نہیں اگرچہ تم بہت کم لوگ ایمان لاتے ہو اور نہ قرآن کسی کاہن کا کلام ہے یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے لیکن تم بہت ہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

42 : وَلَا بِقَوْلِ کَاھِنٍ (اور نہ یہ کسی کاہن کا کلام ہے) جیسا کہ تم کہتے ہو قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ (تم بہت کم سمجھتے ہو) یہاں قلت عدم کے معنی میں ہے عرب کہتے ہیں ھذہ ارض قلما تنبت یہ زمین بالکل نہیں اگاتی۔ مطلب یہ ہے تم نہ ایمان لاتے ہو اور نہ کوئی بات سمجھتے ہو۔ قراءت : یؤمنون اور یذکّرون یاء کے ساتھ مکی، شامی، یعقوب و سہل نے پڑھا۔ اور ذال کی تخفیف سے ابوبکر کے علاوہ کوفی قراء نے پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–43

38۔ 43۔ تفسیر مقاتل و ابن جریر وغیرہ میں قتادہ سے روایت ہے کہ مشرکین مکہ میں سے کچھ لوگ آنحضرت ﷺ کو شاعر اور کچھ کاہن کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں یہ آیتیں نازل فرمائیں اور دونوں جہان کی تمام مخلوقات کی قسم کھا کر فرمایا کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس کو اپنے رسول پر اس نے نازل فرمایا ہے جن لوگوں کو عقبیٰ کی باتوں پر پورا یقین نہیں ہے وہ اس قرآن کو شاعر کا اور جو لوگ قرآن کی شان پر پورا غور نہیں کرتے وہ کاہن کا کلام کہتے ہیں یہ نادان اتنا خیال نہیں کرتے کہ ان میں بعض لوگ ایسے ہیں جو خود بھی شاعر ہیں اور ایسے جنات کے ان کو بہت سے شعر بھی یاد ہیں جو چوری سے کچھ غیب کی باتیں اڑا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 38–44

اللہ تبار وتعالی نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنہیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنہیں نہیں دیکھ سکتی ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے یہ قسم رسول اللہ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ نے اپنے رسول کو کفار کی تمام بہتان طرازیوں سے ، ، مثلا یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں منزہ قرار دیا ہے ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چناچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انہوں نے غور و فکر کیا ہوتا تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ کیا چیز انہیں فائدہ دیتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

37 منکرین کے فساد باطن کی نشاندہی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو۔ ورنہ اگر تم لوگ صحیح معنوں میں اور اچھی طرح سے غور سے کام لیتے تو تم کبھی اس کو کسی شاعر یا کاہن کا کلام قرار دینے کی جسارت نہ کرے ‘ بلکہ تم اس کلام معجز نظام کے آگے دل و جان سے جھک جاتے ‘ جو خدائے رحمن و رحیم نے اپنی رحمت بےپایاں سے بنی نوع انسان کیلئے اور خود تمہارے بھلے کیلئے نازل فرمایا ہے ‘ تاکہ تم دارین کی سعادت اور فوز و فلاح سے بہرہ ور ہوسکو ‘ اور بعض حضرات اہل علم نے کہا کہ قلیلاً ماتومنون اور قلیلاً ما تذکرون دونؤں میں فعل بمعنی ارادہ فعل کے ہے ‘ جیسا کہ ابھی اوپر والے حاشیے میں بھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 38–52

قرآن مجید کے کلام الٰہی ہونے کا ثبوت تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ قرآن کی سچائی معقولیت اور لاجواب کتاب ہونے پر قسم اٹھاتا ہے یہ قسم بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اٹھائی جا رہی ہے۔ یہاں کائنات میں موجود ہر اس چیز کی قسم کھائی گئی ہے جو ہماری نظروں کے سامنے واضح صورت میں موجود ہیں اور ان چیزوں کی بھی جو بیشمار مختلف صورتوں میں کائنات میں ہر طرف موجود ہیں اور ابھی تک کوئی محقق ان کو نہ دیکھ سکا ہے نہ ان کی وضاحت ہی کرسکا ہے۔ کہ قرآن پاک الہ العٰلمین کا کلام ہے معزز ترین فرشتے سیدناجبرائیل (علیہ السلام) کی زبان سے رسول کریم ﷺ تک پہنچایا گیا ہے۔ اور اس میں کوئی شک و شبہ یا تحریف و ترمیم ہرگز نہیں کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 38–52

آیات 38 تا 52۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان چیزوں کی جو تمہیں دکھائی دیتی ہیں اور ان کی جو تم نہیں دیکھ سکتے کہ کائنات کی ہر شے اور ہر طاقت اس پر گواہ ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے جو ایک معزز فرشتے کے ذریعہ سے اللہ کے برحق رسول پہ نازل ہوا یعنی قرآن نے دیکھے ان دیکھے نتائج کے لیے بھی ایساجامع نظام حیات دیا کہ عقیدے عبادت سے لے کر عمل تک دنیا کے ہر خطے ہرموسم اور ہر قوم کے لیے بہترین نتائج پیدا کرتا ہے ظاہر ابھی جو نظر آتے ہیں اور باطلا بھی جو حقائق فی الحال نگاہ سے اوجھل ہیں اور آخرت میں سامنے آئیں گے بھلا ایسا کامل ومکمل نظام بجز اللہ کے کون دے سکتا ہے۔ یہ سب اس بات پر گواہ ہے کہ فرشتے کا لایا ہوا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 42–44

“9 یعنی بالکل غور نہیں کرتے۔ اگر غور کرتے تو ہرگز اس قسم کی بکواس نہ کرتے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(69:42) ولا بقول کاھن، جملہ ھذا کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور نہ یہ کسی کاہن کا کلام ہے۔ کاہن اس شخص کو کہتے ہیں جو تخمینے سے ماضی کے خفیہ واقعات کی خبر دیتا ہے چونکہ اس فن کی بناء ظن پر ہے جس میں صواب و خطاء کا احتمال پایا جاتا ہے لہٰذا اسے کفر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قلیلا ما تذکرون ۔ (لیکن) تم غور ہی نہیں کرتے) لیکن تم لوگ بہت ہی کم دھیان دیتے ہو۔ (راغب)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–52

لغات القرآن۔ الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں) رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔ دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–43

(ف 3) شان نزول : تفسیر مقاتل میں ابن جریروغیرہ میں قتادہ سے روایت ہے کہ مشرکین مکہ میں سے کچھ لوگ نبی ﷺ کو شاعر اور کاہن کہتے تھے اللہ نے ان کے جواب میں یہ آیتیں نازل فرمائیں اور دونوں جہان کی تمام مخلوقات کی قسم کھاکریہ فرمایا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے جس کو اپنے رسول پر اس نے نازل فرمایا ہے جن لوگوں کو عقبی کی باتوں پر پورا یقین نہیں ہے وہ اس قرآن کو شاعر کا اور جو لوگ قرآن کی شان پر پوراغور نہیں کرتے، وہ کاہن کا کلام کہتے ہیں، یہ نادان اتنا خیال نہیں کرتے کہ ان میں بعض لوگ ایسے ہیں جو خود بھی شاعر ہیں پھر قران بھی اگر کسی شاعر کا یا کاہن کا کلام ہوتا تو ان لوگوں سے تو گھڑی گھڑی کہا جاتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 40–45

[15] یعنی قرآن اللہ کا کلام ہے جس کو آسمان سے ایک بزرگ فرشتہ (یعنی جبریل) لے کر ایک بزرگ ترین پیغمبر پر اترا۔ جو آسمان سے لایا وہ اور جس نے زمین والوں کو پہنچایا دونوں رسول کریم ہیں۔ ایک کا کریم ہونا تو تم آنکھوں سے دیکھتے ہو اور دوسرے کی کرامت اور بزرگی پہلے کریم کے بیان سے ثابت ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 42–47

ف 1: اسلام سے قبل عربوں میں شاعری اور کہانت کا بڑا زور تھا ۔ اس لئے انہوں نے جب قرآن کو دیکھا ۔ کہ اس میں بھی موسیقی اور اتر ہے ۔ سحیع اور ترنم ہے ۔ تو وہ یہ سمجھے کہ یہ بھی شاید شعر وکہانت کی طرح کوئی چیز ہے ۔ ارشاد فرمایا ۔ کہ یہ غلط ہے ۔ یہ کلام انسانی دماغ کی کدوکاوش کا نتیجہ ہرگز نہیں ہے نہ اس میں کہانت اور شاعری کی آمیزش ہے ۔ یہ اللہ کا کلام ہے ۔ اور جو فرشتے کی رسالت سے محمد رسول اللہ ﷺ تک پہنچا ہے ۔ اور یہ اس لئے کہ یہ ہمہ صداقت اور سچائی ہے ۔ حالانکہ شعروکہانت میں چوں الکذب اواھن او کا اصول کافر فرما ہوتا ہے ۔ اور ان کے متعلق یہ احتمال کہی نہیں ۔ کہ یہ اللہ پر تمہاری خواہشات کے مطابق…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(42) اور نہ یہ کلام کسی کاہن کا کلام ہے مگر تم لوگ غور و فکر سے بہت کم کام لیتے ہو۔ یعنی نہ یہ کسی کاہن کی بکواس ہے جیسا کہ عقبہ بن ابی معیط کہتا پھرتا ہے کہاں کہانت کی جھوٹی سچی باتیں اور کہاں قرآن کی صداقت اور براہین و دلائل سے لبریز کلام، لیککن تم لوگ غور و فکر اور سوچ سمجھ سے بہت کم کام لیتے ہو یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ بالکل سمجھ سے کام نہیں لیتے۔ یہ کلام نہ تو کسی شاعر کا کلام ہے نہ کاہن کا بلکہ یہ کلام اور یہ قرآن۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ کسی کاہن کا کلام بھی نہیں تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو 42 ؎ اور یہ کلام کسی کاہن کا کلام بھی نہیں ہے کیونکہ کاہن کا کلام اتنا واضح اور اتنا مربوط کہ ایک بار جو بات کہی حالات زمانہ کچھ سے کچھ ہوتے چلے گئے لیکن وہ بات اپنی جگہ پر حق ہی رہی ، اس میں ذرا بھر بھی فرق نہ پڑا۔ اللہ کے کلام ہونے کا دعویٰ کیا اور پھر نہ ماننے والوں سے مطالبہ کیا کہ تم کہتے ہو کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے بلکہ خود محمد رسول اللہ ﷺ نے گھڑ لیا ہے۔ اگر تمہارا یہ دعویٰ سچا ہے تو اٹھو اور تم بھی اس جیسا کلام گھڑ کرلے آئو۔ پھر مطالبہ میں نرمی کی اور یہ کہہ کہ چلو اس جیسی دس سورتیں ہی گھڑ کرلے آئو پھر مزید نرمی کرتے ہوئے ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–43

فَلَا أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُ‌ونَ وَمَا لَا تُبْصِرُ‌ونَ (I swear by what you see, and what you do not see….69:38-39). This comprehends the entire body of creation. Some say 'what you do not see' refers to the Being of Allah Ta` ala and His attributes. Others say 'what you see' refers to things of the mortal world, and 'what you do not see,' refers to things of the Hereafter. [ Mazhari ] And Allah, the Pure and Exalted, Knows best!

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 41–42

23 One meaning of "little it is that you believe", according to Arabic idiom, can be: "You do not believe it at all." Another meaning also can be: "Hearing the Qur'an your heart sometimes itself cries out: 'This cannot be mortal word'. Yet you behave stubbornly and refuse to believe in it.

Read the full tafseer →