Explained with ayahs 38–43
ظاہر و باطن آیات الٰہی
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول ﷺ پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لئے پسند فرما لیا ہے۔ رسول کریم سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں، اس کی اضافت حضور ﷺ کی طرف سے اس لئے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ ﷺ ہی ہیں۔ اسی لئے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
سورة الْحَآقَّة 23
" کم ہی ایمان لاتے ہو " کا ایک مطلب عربی محاورے کے مطابق یہ ہوسکتا ہے کہ تم ایمان نہیں لاتے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرآن کو سن کر کسی وقت تمہارا دل خود پکار اٹھتا ہے کہ یہ انسانی کلام نہیں ہو سکتا، مگر پھر تم اپنی ضد پر اڑ جاتے ہو اور اس پر ایمان لانے سے انکار کردیتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
ۧفَلَآ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَ وَمَا لَا تُبْصِرُوْنَ یعنی قسم ہے ان تمام چیزوں کی جن کو تم دیکھتے ہو یا دیکھ سکتے ہو اور جن کو تم نہ دیکھتے ہو نہ دیکھ سکتے ہو اس میں تمام مخلوقات آگئیں۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ نہ دیکھنے کی چیزوں سے مراد حق تعالیٰ کی ذات وصفات ہیں۔ بعض نے فرمایا کہ دیکھنے کی چیزوں سے مراد دنیا کی چیزیں ہیں اور نہ دیکھنے کی چیزوں سے مراد آخرت کی اشیاء (مظہری) واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
یہ وہی اوپر والی بات منفی اسلوب سے فرمائی ہے کہ نہ یہ کسی شاعر کا کلام ہے اور نہ کسی کاہن کا۔ اگر تم لوگ ایمان لانے والے اور یاددہانی کی قدر کرنے والے ہوتے تو تم پر ازخود یہ حقیقت واضح ہو جاتی کہ یہ کسی شاعر یا کاہن کا کلام نہیں ہو سکتا۔ لیکن خرابی یہ ہے کہ تمہارے اندر ایمان کی خواہش اور بات کو سننے سمجھنے کی طلب ہی بہت کم پیدا ہوتی ہے اور جن کے اندر یہ طلب ہی نہ ہو وہ اسی طرح فرار کے بہانے تلاش کر لیتے ہیں۔
قرآن کو کسی شاعر یا کاہن کا کلام کیوں نہیں قرار دیا جا سکتا؟ اس کا مفصل جواب سورۂ شعراء میں دیا گیا ہے اور ہم نے اس کے تمام پہلوؤں کی وہاں وضاحت کی ہے۔ اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
مکذبین کے…
Read the full tafseer →41۔ 1 جیسا کہ تم سمجھتے ہو اور کہتے ہو اس لیے کہ یہ اصناف شعر سے نہ اس کے مشابہ ہے پھر یہی کسی شاعر کا کلام کس طرح ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
9: یہ ان کافروں کی تردید ہے جو کبھی آنحضرت ﷺ کو شاعر اور کبھی کاہن کہا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
فلا اقسم۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔ رب العالمین۔
یہ معاملہ بہت ہی واضح ہے اور اس پر کسی قسم کی ضرورت نہیں ہے اور عقلی لحاظ سے ثابت ہے اور ایک واقعہ ہے اور اس پر کوئی قسم اٹھانے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ یہ حق ہے ، حق کی طرف سے نازل شدہ ہے ، نہ شعروشاعری ہے نہ کسی کاہن کی کہانت اور بڑ ہے نہ کسی افتراء پرداز کی افتراء ہے۔ لہٰذا قسم کی ضرورت نہیں ہے۔
فلا ................ تبصرون (96 : 83) وما لا تبصرون (96 : 93) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔
یہ قسم بہت عظیم ہے۔ اس کائنات ، عظیم کائنات کی قسم ہے جو تم دیکھتے ہو اور اس عظیم کائنات کی قسم ہے…
Read the full tafseer →7 یعنی قرآن کے کلام اللہ ہونے کی نسبت کبھی کبھی یقین کی کچھ جھلک تمہارے دلوں میں آتی ہے، مگر بہت کم جو نجات کے لیے کافی نہیں۔ آخر اس کو شاعری وغیرہ کہہ کر اڑا دیتے ہو۔ کیا واقعی انصاف سے کہہ سکتے ہو کہ یہ کسی شاعر کا کلام ہوسکتا ہے اور شعر کی قسم سے ہے۔ شعر میں وزن و بحر وغیرہ ہونا لازم ہے۔ قرآن میں اس کا پتہ نہیں۔ شاعروں کا کلام اکثر بےاصل ہوتا ہے اور اس کے اکثر مضامین محض وہمی اور خیالی ہوتے ہیں، حالانکہ قرآن کریم میں تمام تر حقائق ثابتہ اور اصول محکمہ کو قطعی دلیلوں اور یقینی حجتوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
آیت 40{ اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ۔ } ”یہ قول ہے ایک رسول کریم کا۔“
اصل میں تو یہ اللہ کا کلام ہے۔ اللہ تعالیٰ سے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے سنا۔ پھر حضرت جبرائیل سے حضرت محمد ﷺ نے سنا اور اب وہ لوگوں کو سنا رہے تھے۔ چناچہ ایک لحاظ سے یہ جبرائیل علیہ السلام کا قول تھا اور دوسرے لحاظ سے حضور ﷺ کا قول۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
23 قرآن چونکہ اللہ کا کلام ہے جو جبریل کی زبان سے ادا ہوتا ہے۔ لہذا یہاں معزز رسول سے جبریل (علیہ السلام) بھی مراد لیے جاسکتے ہیں۔ اور اس لحاظ سے کہ بعینہ وہی الفاظ آپ کی زبان سے ادا ہوتے ہیں۔ معزز رسول سے آپ کی ذات بھی مراد لی جاسکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
16۔ غرض یہ کہ یہ پر حکمت و عظمت کتاب نہ شعر ہے، نہ کہانت، اور تم لوگ جو ایسی بیہودہ رائے زنی کررہے ہو، ایمان وعقل دونوں سے خالی ہو۔ (آیت) ” قلیلا۔ قلیلا “۔ یہ قلت دونوں جگہ عدم کے معنی میں ہے۔ وقلیل یعبر بہ عن النفی (راغب) القلۃ فی معنی العدم (کشاف) والعرب یقولون قلما یاتینا یریدون لایاتینا (کبیر) (آیت) ” بقول شاعر “۔ مشرکین مکہ کے ایک ” روشن خیال “ گروہ کی تشخیص یہی تھی، (آیت) ” بقول کا ھن “۔ مشرکین مکہ کے ایک دوسرے ” روشن خیال “ گروہ نے یہی فتوی دے رکھا تھا۔ قرآن مجید کی معجزانہ تاثیر سے تو اہل عرب کو بھی مجال انکار نہ تھی، جیسا کہ محمد ﷺ کی معجزانہ شخصیت کے اثرات سے آج فرنگیوں کو بھی مجال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
ترجمہ : مجھے قسم ہے ان چیزوں کی جنہیں تم مخلوقات میں دیکھتے ہو، فلا میں لا زائدہ ہے اور مخلوقات میں سے جن کو تم نہیں دیکھتے ہو یعنی تمام مخلوقات کی کہ بیشک یہ (قرآن) بزرگ رسول کا قول ہے یعنی اس نے اللہ کی جانب سے ایک پیغام رساں کی حیثیت سے نقل کیا اور یہ کسی کا قول نہیں (افسوس) تمہیں بہت کم یقین ہے اور نہ کسی کاہن کا قول ہے (افسوس) تم بہت کم نصیحت لے رہے ہو دونوں فعلوں میں تا اور یا کے ساتھ ہے، اور، ما زائدہ ہے اور معنی یہ ہیں کہ وہ باتوں پر بہت کم یقین رکھتے ہیں، اور ان کا آپ ﷺ کی لائی ہوئی چیزوں میں سے بعض پر ایمان لانا مثلاً صدقہ و خیرات پر اور صلہ رحمی پر زنا وغیرہ سے باز رہنے پر، تو اس…
Read the full tafseer →وما ھو بقول شاعر . کسی شاعر کا قول نہیں جیسا کہ تم کبھی کبھی دعویٰ کرتے ہو۔
قلیلا ما تو منون . قلیلا میں نصب مصدریت (یعنی مفعول مطلق) کی بناء پر ہے یا ظرفیت
(مفعول فیہ) کی بناء پر اور ما سے تاکید قلت ہو رہی ہے۔ بہت ہی کم یا بہت تھوڑے وقت میں ایمان لاتے ہو کیونکہ اس کی سچائی جب تم پر نمایاں ہوجاتی ہے تو مجبوراً کسی قدر یا تھوڑے وقت کے لیے اس کو سچا مان لیتے ہیں (لیکن پھر عناد اور دشمنی کی وجہ سے انکار کرنے لگتے ہیں) قلت ایمان چاہتی ہے کہ کثرت ایمان منفی ہو کیونکہ کثرت ایمان کی نفی۔ عناد اور ضد پر مبنی ہے اور وہ لوگ عناد و ضد کی وجہ سے پورے مؤمن ہی نہ تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ قلیل ایمان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
(41۔ 44) اور یہ قرآن کریم کسی شاعر کا کلام نہیں ہے تم نہ اس کے کم حصہ پر ایمان لاتے ہو اور نہ زیادہ پر اور نہ یہ کسی کاہن کا کلام ہے تم نہ اس کے کم حصہ سے نصیحت حاصل کرتے ہو اور نہ زائد سے یہ قرآن کریم رسول اکرم پر رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا کلام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
(1) انہ لقول رسول کریم …: یہ چار آیات جواب قسم ہیں، پہلی یہ کہ یہ قرآن ایک معزز پیغام لانے والے کا قول ہے، دوسری یہ کہ یہ کسی شاعر کا قول نہیں، تیسری یہ کہ یہ کسی کا ہن کا قول بھی نہیں اور چوتھی یہ کہ یہ رب العالمین کی طرف سے اتارا گیا ہے۔ اس قسم اور جواب قسم میں مناسب یہ ہے کہ جو کچھ تم دیکھ رہے ہو وہ انچ اورں چیزوں کے حق ہونے کی شہادت دے رہا ہے اور جو کچھ تم نہیں دیکھ رہے اس کی شہادت بھی یہی ہے۔ جو کچھ وہ دیکھ رہے تھے وہ یہ بات جاننے کے لئے کافی تھا کہ یہ قرآن جس شخص کی زبان سے ادا ہو رہا ہے وہ نہ شاعر ہے نہ کاہن، نہ جھوٹا ہے نہ اپنے پاس سے بات گھڑنے والا اور نہ کسی ذاتی مفاد یا عہدے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
وما ھو بقول شاعر یہ شعر کی تمام اقسام سے جدا ہے ولابقول کا ھن یہ قرآن شیاطین کو سب و شتم کرتا ہے تو جو انہیں سب وشتم کرے اس پر وہ کوئی چیز کیا نازل کریں گے۔ قلیلاً ماتومنون۔ اور قلیلاً ماتذکرون۔ میں مازائدہ ہے معنی ہے تم بہت کم ایمان لاتے ہو اور بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔ ان کے قلیل ایمان سے مراد یہ ہے کہ جب ان سے پوچھا جاتا ہے، انہیں کس نے پیدا کیا ؟ وہ کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے یہ جائز نہیں کہ مافعل کے ساتھ مل کر مصدر کے حکم میں ہوا اور ما کا مابعد قلیلاً کو صنب دے کیونکہ اس صورت میں صلہ کا موصول پر مقدم ہونا لازم آتا ہے کیونکہ مصدر جس میں عمل کرتا ہے وہ اس کا صلہ ہوتا ہے۔ ابن محیصن، ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
12۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما ہوبقول شاعر یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اسے شاعر کا کلام ہونے سے پاک رکھا اور اس کو بچایا ہے۔ ولا بقول کاہن اور اللہ تعالیٰ نے اس کو کہانت سے پاک رکھا ہے اور اس سے اس کلام کو بچایا ہے۔
Read the full tafseer →[وَمَا هُوَ : اور یہ (قرآن)][ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ۭ: کسی شاعر کا کہا ہوا نہیں ہے ][ قَلِيْلًا مَّا : بہت ہی تھوڑاسا ][ تُؤْمِنُوْنَ : تم لوگ ایمان لاتے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
﴿ اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍۚۙ0040﴾ رسول کریم ﷺ سے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) مراد ہیں اور مطلب یہ ہے یہ کلام جس کے واسطہ سے تم لوگوں تک پہنچ رہا ہے وہ اللہ کا بھیجا ہوا قاصد ہے جو اللہ کے یہاں گرامی قدر ہے جس کا مرتبہ ہے وہ اس کلام کو لے کر اللہ کی زمین والے رسول کے پاس آیا ہے یعنی بواسطہ جبرائیل (علیہ السلام) حضرت سیدنا محمد ﷺ پر نازل ہوا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ رسول کریم ﷺ سے خود رسول کریم ﷺ کی ذات گرامی مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہمارا یہ کلام تمہیں ہمارا رسول سناتا ہے جسے اللہ تعالیٰ شرف رسالت سے نواز دے وہ سچا ہی ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–52
بیان عظمت کلام الہی وحقانیت وصداقت قرآن کریم :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فلا اقسم بما تبصرون ....... الی ....... فسبح باسم ربک العظیم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں اہل سعادت وشقاوت اور انکے احوال کا ذکر تھا اور بالخصوص مجرمین کی سزا اور قیامت کی شدت اور عرش الہی سے تمام فیصلوں کے نفاذ کا بیان تھا تو ممکن تھا کہ کوئی ملحد اور منکر ان باتوں کو سن کر یہ کہنے لگے کہ یہ تو شاعرانہ مبالغہ آرائی یا کاہنوں کی باتیں ہیں تو اس کے ازالہ اور رد کے لیے اب ان آیات میں قرآنی عظمت کا بیان ہے اور یہ کہ جو کچھ وحی الہی سے کہا گیا وہ رسول کریم ﷺ کا قول اور اللہ کا پیغام ہے اس میں ذرہ برابر مبالغہ یا استعارہ ومجاز کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
13:۔ ” فلا اقسم “ جواب قسم محذوف ہے۔ ” لاتبصرون “ میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو نظر نہیں آتیں مثلاً جن، اور فرشتے، یہ قیامت کے ثبوت پر استدلال ہے یعنی جس طرح دنیا میں بہت سی چیزیں تمہیں نظر نہیں آتیں مگر اس کے باوجود تم ان کا وجود تسلیم کرتے ہو۔ اس لیے آخرت جو نظر نہیں آتی اس کا بھی انکار نہ کرو بلکہ یہ دیکھو کہ آخرت کی خبر دینے والا کون ہے ؟ ” انہ لقول رسول کریم “ یہ علیحدہ جملہ ہے۔ یہ ایک مکرم و محترم رسول (محمد ﷺ کی زبان سے نکلی ہوئی بات ہے جسے وہ اپنے پروردگار کی طرف سے تم تک پہنچا رہا ہے یہ اس کی اپنی بنائی ہوئی بات نہیں، نہ کسی شاعر کا قول ہے نہ کاہن کا۔ یعنی محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–52
گذشتہ سے پیوستہ :
سورۃ الحاقہ کے پہلے رکوع میں قیامت کا ذکر ہے۔ آخری آیتوں میں بنیادی عقائد کا بیان ہے منجملہ ان کے رسالت اور نبوت کا ذکر ہے۔ جس طرح کفار قیامت کا انکار کرتے تھے۔ اسی طرح حضور ﷺ السلام کی نبوت اور رسالت کے منکر تھے۔ پہلے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ بھی اسی قسم کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جب کہ لوگ ان کی تکازیب کرتے تھے۔ یہ لوگ نہ صرف پیغمبر کا انکار کرتے تھے۔ بلکہ وحی الہٰی اور اس کے لانے والے فرشتے کا بھی انکار کرتے تھے۔ کہتے تھے کہ یہ اپنے پاس سے باتیں گھڑ کر لایا ہے۔ خدا کا پیغام نہیں ہے۔ بعض شاعر اور کاہن کا خطاب دیتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ یہ غیب کی خبریں بتاتے ہیں۔ اور سچ…
Read the full tafseer →وَّمَا ہُوَبِقَوْلِ شَاعِرٍ 0 ۭ قَلِيْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَ 41 ۙ
شعر ( شاعر)
الشَّعْرُ معروف، وجمعه أَشْعَارٌ قال اللہ تعالی: وَمِنْ أَصْوافِها وَأَوْبارِها وَأَشْعارِها [ النحل/ 80] ، وشَعَرْتُ : أصبت الشَّعْرَ ، ومنه استعیر : شَعَرْتُ كذا، أي علمت علما في الدّقّة كإصابة الشَّعر،
وسمّي الشَّاعِرُ شاعرا لفطنته ودقّة معرفته، فَالشِّعْرُ في الأصل اسم للعلم الدّقيق في قولهم : ليت شعري، وصار في التّعارف اسما للموزون المقفّى من الکلام، والشَّاعِرُ للمختصّ بصناعته، وقوله تعالیٰ حكاية عن الکفّار : بَلِ افْتَراهُ بَلْ هُوَ شاعِرٌ [ الأنبیاء/ 5] ، وقوله : لِشاعِرٍ مَجْنُونٍ [ الصافات/ 36] ، شاعِرٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–52
ترکیب : فلا اقسم قیل لامزیدۃ اوفلار ولانکارھم البعث ثم اقسم وقیل نافیۃ للقسم کانہ قال لا اقسم علی ان القرآن قول رسول کریم لظہورالامر واستغنائـہ عن التحقیق بالقسم انہ لقول الخ جواب القسم مؤکد بان واللام والا سمیّہ۔ وماھوالخ الجملۃ تاکید لقولہ انہ لقول رسول کریم قلیلا ما زائدۃ للتاکید ولابقول کا ھن عطف علیٰ قولہ بقول شاعر۔ تنزیل خبر متبدء ھو تنزیل تقول قرء الجمہور مبیناً للفاعل والتقول تکلف القول والافتراء والاقاویل جمع اقوال جمع قول کا بابیت جمع ابیات جمع بیت والاقوال المفتراۃ اقاویل تحقیر الھا لاخذنا جواب لوحاجزین وصف لاحد فانہ عام لکونہ نکرۃ واقعۃ فی سیاق النفی۔ حق الیقین من اضافۃ الصفۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
اِنَّـہٗ لَـقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ ۔ وَّمَا ھُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ط قَلِیْلاً مَّا تُؤْمِنُوْنَ ۔ (الحآقۃ : 40، 41)
(یہ ایک بزرگ رسول کا قول ہے۔ یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے، تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔ )
حضرت عمر فاروق ( رض) کہتے ہیں میں نے … اپنے جی میں … کہا : (اوہو) ” یہ تو کاہن ہے۔ “ لیکن اتنے میں آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–48
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کی تعلیمات میں اس کی سر فہرست تعلیم یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لایا جائے اور یہ یقین رکھا جائے کہ قیامت ہر صورت آنے والی ہے۔ نافرمان لوگ اللہ اور اس کے رسول اور قیامت پر ایمان لانے کی بجائے قرآن مجید کا ہی انکار کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ یہ شاعرانہ کلام ہے جس کی تردید کی جا رہی ہے۔
قسم ہے ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے بلاشک یہ قرآن رسول کریم ﷺ کی زبان سے پڑھا جاتا ہے یہ کسی شاعر کا کلام نہیں اگرچہ تم بہت کم لوگ ایمان لاتے ہو اور نہ قرآن کسی کاہن کا کلام ہے یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے لیکن تم بہت ہی…
Read the full tafseer →41 : وَّ مَاھُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ (اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں) جیسا کہ تم دعویٰ کرتے ہو۔ قَلِیْلًا مَّاتُؤْمِنُوْنَ (تم بہت کم ایمان لاتے ہو)
Read the full tafseer →40 ۔” انہ “ یعنی قرآن۔ ” لقول رسول کریم “ یعنی معززرسول کی تلاوت ہے یعنی محمد ﷺ کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
38۔ 43۔ تفسیر مقاتل و ابن جریر وغیرہ میں قتادہ سے روایت ہے کہ مشرکین مکہ میں سے کچھ لوگ آنحضرت ﷺ کو شاعر اور کچھ کاہن کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں یہ آیتیں نازل فرمائیں اور دونوں جہان کی تمام مخلوقات کی قسم کھا کر فرمایا کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس کو اپنے رسول پر اس نے نازل فرمایا ہے جن لوگوں کو عقبیٰ کی باتوں پر پورا یقین نہیں ہے وہ اس قرآن کو شاعر کا اور جو لوگ قرآن کی شان پر پورا غور نہیں کرتے وہ کاہن کا کلام کہتے ہیں یہ نادان اتنا خیال نہیں کرتے کہ ان میں بعض لوگ ایسے ہیں جو خود بھی شاعر ہیں اور ایسے جنات کے ان کو بہت سے شعر بھی یاد ہیں جو چوری سے کچھ غیب کی باتیں اڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
اللہ تبار وتعالی نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنہیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنہیں نہیں دیکھ سکتی ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے یہ قسم رسول اللہ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ نے اپنے رسول کو کفار کی تمام بہتان طرازیوں سے ، ، مثلا یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں منزہ قرار دیا ہے ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چناچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انہوں نے غور و فکر کیا ہوتا تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ کیا چیز انہیں فائدہ دیتی…
Read the full tafseer →35 قرآن کسی شاعر کا کلام نہیں ہوسکتا : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں۔ جیسا کہ دشمنان اسلام اور منکرین حق کا کہنا ہے اور اس کو شعر کہنے سے مراد ان لوگوں کی یہ تھی کہ یہ کلام شاعر نہ کلام کی طرح محض خیالی باتوں پر مشتمل ہے ورنہ شعر کے معروف معنی کے اعتبار سے تو وہ بھی اس کو شعر نہیں کہہ سکتے تھے ‘ سو اس پر ایسے لوگوں سے فرمایا گیا کہ یہ کلام کلام حق ہے کوئی شاعرانہ کلام یا خیالی باتوں کا مجوعہ نہیں ‘ اور ہرگز نہیں ‘ اے لوگو ‘ بلکہ یہ تو اٹل اور ابدی حقائق پر مشتمل اور دائمی اور اٹل حقائق کی خبر دینے والا ایک عظیم الشان اور بےمثل کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–52
قرآن مجید کے کلام الٰہی ہونے کا ثبوت
تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ قرآن کی سچائی معقولیت اور لاجواب کتاب ہونے پر قسم اٹھاتا ہے یہ قسم بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اٹھائی جا رہی ہے۔ یہاں کائنات میں موجود ہر اس چیز کی قسم کھائی گئی ہے جو ہماری نظروں کے سامنے واضح صورت میں موجود ہیں اور ان چیزوں کی بھی جو بیشمار مختلف صورتوں میں کائنات میں ہر طرف موجود ہیں اور ابھی تک کوئی محقق ان کو نہ دیکھ سکا ہے نہ ان کی وضاحت ہی کرسکا ہے۔ کہ قرآن پاک الہ العٰلمین کا کلام ہے معزز ترین فرشتے سیدناجبرائیل (علیہ السلام) کی زبان سے رسول کریم ﷺ تک پہنچایا گیا ہے۔ اور اس میں کوئی شک و شبہ یا تحریف و ترمیم ہرگز نہیں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–52
آیات 38 تا 52۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے ان چیزوں کی جو تمہیں دکھائی دیتی ہیں اور ان کی جو تم نہیں دیکھ سکتے کہ کائنات کی ہر شے اور ہر طاقت اس پر گواہ ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے جو ایک معزز فرشتے کے ذریعہ سے اللہ کے برحق رسول پہ نازل ہوا یعنی قرآن نے دیکھے ان دیکھے نتائج کے لیے بھی ایساجامع نظام حیات دیا کہ عقیدے عبادت سے لے کر عمل تک دنیا کے ہر خطے ہرموسم اور ہر قوم کے لیے بہترین نتائج پیدا کرتا ہے ظاہر ابھی جو نظر آتے ہیں اور باطلا بھی جو حقائق فی الحال نگاہ سے اوجھل ہیں اور آخرت میں سامنے آئیں گے بھلا ایسا کامل ومکمل نظام بجز اللہ کے کون دے سکتا ہے۔ یہ سب اس بات پر گواہ ہے کہ فرشتے کا لایا ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
ف 8 مراد حضرت جبریل ہیں مگر “ رسول کریم “ سے مراد آنحضرت ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ قرآن ایک عزت والے پیغمبر کے پڑھ کر سنانے کی چیز ہے۔
Read the full tafseer →(69:41) وما ھو بقول شاعر : یہ جملہ، جملہ سابقہ انہ لقول رسول کریم کی تاکید کے لئے آیا ہے۔ اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے
قلیلا ما تؤمنون ۔ قیلا میں نصب مصدریت (مفعول مطلق) کی بناء پر ہے یا ظرفیت (مفعول فیہ) کی بناء پر اور ما رائدہ تاکید قلت کے لئے ہے یعنی بہت ہی کم نہ ہونے کے برابر۔
تفسیر ماجدی میں ہے :۔ قلیلا۔ یہ قلت دونوں جگہ عدم کے معنی میں ہے وقلیل یعبربہ عن النفی (اور قلیل نفی سے تعبیر کی گئی ہے) (راغب) القلۃ فی معنی العدم قلت عدم کے معنی میں آیا ہے (الکشاف)
والعرب یقولون قلما یاتینا یریدون لایاتینا۔ عرب قلما یاتینا (وہ بہت ہی کم ہمارے پاس آتا ہے) کہہ کر مراد یہ لیتے ہیں کہ وہ ہمارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
لغات القرآن۔
الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں)
رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔
دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
(ف 3) شان نزول : تفسیر مقاتل میں ابن جریروغیرہ میں قتادہ سے روایت ہے کہ مشرکین مکہ میں سے کچھ لوگ نبی ﷺ کو شاعر اور کاہن کہتے تھے اللہ نے ان کے جواب میں یہ آیتیں نازل فرمائیں اور دونوں جہان کی تمام مخلوقات کی قسم کھاکریہ فرمایا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے جس کو اپنے رسول پر اس نے نازل فرمایا ہے جن لوگوں کو عقبی کی باتوں پر پورا یقین نہیں ہے وہ اس قرآن کو شاعر کا اور جو لوگ قرآن کی شان پر پوراغور نہیں کرتے، وہ کاہن کا کلام کہتے ہیں، یہ نادان اتنا خیال نہیں کرتے کہ ان میں بعض لوگ ایسے ہیں جو خود بھی شاعر ہیں پھر قران بھی اگر کسی شاعر کا یا کاہن کا کلام ہوتا تو ان لوگوں سے تو گھڑی گھڑی کہا جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
[15] یعنی قرآن اللہ کا کلام ہے جس کو آسمان سے ایک بزرگ فرشتہ (یعنی جبریل) لے کر ایک بزرگ ترین پیغمبر پر اترا۔ جو آسمان سے لایا وہ اور جس نے زمین والوں کو پہنچایا دونوں رسول کریم ہیں۔ ایک کا کریم ہونا تو تم آنکھوں سے دیکھتے ہو اور دوسرے کی کرامت اور بزرگی پہلے کریم کے بیان سے ثابت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–41
ف 1: ہم دنیا میں اپنے مال و دولت پر مفرور تھے ۔ اور سمجھتے تھے ۔ کہ یہ ثروت ۔ یہ کنوز اور خزائن ۔ ہمیں عاقبت میں بھی عزت وافتخار تخشیں گے ۔ اور جس طرح دنیا میں ہم تمول کی وجہ سے ہر نوع کی آسودگی حاصل کرلیتے ہیں ۔ شاید آخرت میں بھی اس کی بدولت جنت اور اس کی آسائشوں کو خریدا جاسکے گا ۔ مگر آہ کہ یہ خیال درست ثابت نہیں ہوا ۔ ان لوگوں کے متعلق یہ فیصلہ ہوگا ۔ کہ ان کو پکڑلو ۔ اور طوق وسلاسل پہنادو ۔ اور پھر ایک طویل زنجیر میں جکڑ کر جہنم میں پھینک دو ۔ کیونکہ ان لوگوں کا اللہ پر ایمان نہ تھا ۔ ان کے دلوں میں بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی نہ تھی ۔ ان کے دل غریبوں کو دیکھ کر پسیجتے نہ تھے ۔ یہ اپنے…
Read the full tafseer →(41) اور یہ قرآن کسی شاعر کا کلام نہیں مگر تم بہت ہی کم یقین کرتے ہو۔ یعنی ایک بزرگ فرشتہ اس قرآن کی قراءت کرتا ہے وہ فرشتہ بھی بزرگ ہے اور جن کے پاس یہ کلام لے کر آتا ہے وہ بھی کریم اور بزرگ ۔ خلاصہ، یہ کہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو جبرئیل امین (علیہ السلام) کی معرفت رسول کریم ﷺ کے پاس بھیجاجاتا ہے یہ کلام کسی شاعر کا نہیں ہے۔
ہم سورة یٰسین میں عرض کرچکے ہیں کہ شعر اور زان اور سجور وغیرہ کی قیود کا پابند ہوتا ہے اور شاعر اس کی رعایت رکھتا ہے اور وہ محض وہمی خیالات ہوتے ہیں یہ بلند خیالات اور اونچے مضامین اس کلام کو شاعری سے کیا نسبت یہ ابوجہل جو اس کلام کو شاعر کا کلام بتاتا ہے اور پیغمبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
ف 8۔ یہاں قلت سے مراد عدم ہے۔
Read the full tafseer →یہ کسی شاعر کا کلام نہیں تم لوگ بہت کم ایمان لاتے ہو
41 ؎ جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے کہ کفار مکہ کی طرف سے جو الزامات آپ ﷺ پر عائد کئے گئے تھے وہ یہی تھے کہ ان میں سے کوئی اٹھتا تو آپ ﷺ کا گھڑا ہوا کلام کہہ دیتا اور کوئی آپ ﷺ کو کاہن قرار دیتا اور کوئی شاعر اور کوئی مجنون اور پھر کوئی ساحر ، کوئی سحر زدہ پھر جب ان کی باتیں مختلف تھیں تو ان کو جواب بھی مختلف دیئے گئے لیکن ان کے ہر اعتراض کا رد ضرور پیش کردیا گیا کہیں ایک بات کا اور کہیں دو کا ، کہیں سب کا۔ زیر نظر آیت میں آپ ﷺ کے شاعر ہونے کی نفی کی گئی ہے اور اس بات کی تردید ان کے اپنے بیان سے بھی ہوتی ہے اور وہ مانتے اور تسلیم کرتے ہیں کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
فَلَا أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُونَ وَمَا لَا تُبْصِرُونَ (I swear by what you see, and what you do not see….69:38-39). This comprehends the entire body of creation. Some say 'what you do not see' refers to the Being of Allah Ta` ala and His attributes. Others say 'what you see' refers to things of the mortal world, and 'what you do not see,' refers to things of the Hereafter. [ Mazhari ] And Allah, the Pure and Exalted, Knows best!
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
23 One meaning of "little it is that you believe", according to Arabic idiom, can be: "You do not believe it at all." Another meaning also can be: "Hearing the Qur'an your heart sometimes itself cries out: 'This cannot be mortal word'. Yet you behave stubbornly and refuse to believe in it.
Read the full tafseer →