Al-Haaqqa 69:40

Al-Haaqqa · from ayah 40

69:40

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍ ۟ۚۙاِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍۚ

کہ یہ (قرآن) فرشتہٴ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[That] indeed, the Qur'an is the word of a noble Messenger.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa

All translations of 69:40

کہ یہ (قرآن) فرشتہٴ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہ بیشک یہ (قرآن) بزرگ رسول کا قول ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہ یہ (قرآن) ایک معزز پیغام لانے والے کا کلام ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک یہ قرآن ایک کرم والے رسول سے باتیں ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بے شک یہ (قرآن) بزرگی و عظمت والے رسول ﷺ کا (منزّل من اللہ) فرمان ہے، (جسے وہ رسالۃً اور نیابۃً بیان فرماتے ہیں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلاشبہ یہ (قرآن) یقینا ایک معزز پیغام لانے والے کا قول ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہ بلاشبہ یہ (قرآن) ایک معزز رسول کی زبان سے نکلا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہ یہ ایک با عزت رسول کا لایا ہوا کلام ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ یہ (قرآن) قطعی طور پر ایک بڑے ہی معزز پیغمبر کا پیش کیا ہوا کلام ہے

— مولانا اسحاق مدنی

یہ (قرآن) کلام (الہی) ہے ایک معزز فرشتہ کا (لایا ہوا)۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ قول ہے ایک رسول کریم کا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہ یہ قرآن فرشتہ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

that this is the speech of an honourable Messenger,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

it is surely the speech of a noble Messenger, (that he conveys from Allah) .

— Muhammad Taqi Usmani

it is surely the speech of a noble Messenger, (that he conveys from Allah) .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That this is verily the word of an honored Messenger.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That it is indeed the speech of an illustrious messenger.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[That] indeed, the Qur'an is the word of a noble Messenger.

— Saheeh International

because the Quran is certainly the word of a reverent messenger.

— Muhammad Sarwar

Most surely, it is the Word brought by an honored Apostle,

— Muhammad Habib Shakir

That it is surely the speech brought by messenger honourable.

— Abdul Majid Daryabadi

That this is verily the word of an honoured messenger;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 69:40

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–43

ظاہر و باطن آیات الٰہی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول ﷺ پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لئے پسند فرما لیا ہے۔ رسول کریم سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں، اس کی اضافت حضور ﷺ کی طرف سے اس لئے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ ﷺ ہی ہیں۔ اسی لئے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَآقَّة 22 یہاں رسول کریم سے مراد محمد ﷺ ہیں اور سورة تکویر (آیت 19) میں اس سے مراد جبریل ؑ ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ یہاں قرآن کو رسول کریم کا قول کہنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ یہ کسی شاعر یا کاہن کا قول نہیں ہے، اور ظاہر ہے کہ کفار مکہ جبریل کو نہیں بلکہ محمد ﷺ کو شاعر اور کاہن کہتے تھے۔ بخلاف اس کے سورة تکویر میں قرآن کو رسول کریم کا قول کہنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ وہ رسول بڑی قوت والا ہے، صاحب عرش کے ہاں بلند مرتبہ رکھتا ہے، وہاں اس کی بات مانی جاتی ہے، وہ امانت دار ہے اور محمد ﷺ نے اس کو روشن افق پر دیکھا ہے۔ قریب قریب یہی مضمون سورة نجم آیات نمبر 5 تا 10 میں جبریل ؑ کے متعلق بیان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–43

ۧفَلَآ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَ وَمَا لَا تُبْصِرُوْنَ یعنی قسم ہے ان تمام چیزوں کی جن کو تم دیکھتے ہو یا دیکھ سکتے ہو اور جن کو تم نہ دیکھتے ہو نہ دیکھ سکتے ہو اس میں تمام مخلوقات آگئیں۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ نہ دیکھنے کی چیزوں سے مراد حق تعالیٰ کی ذات وصفات ہیں۔ بعض نے فرمایا کہ دیکھنے کی چیزوں سے مراد دنیا کی چیزیں ہیں اور نہ دیکھنے کی چیزوں سے مراد آخرت کی اشیاء (مظہری) واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قرآن کے لانے والے کی صفات: ’اِنَّہُ لَقَوْلُ رَسُولٍ کَرِیْمٍ‘ سے جبریل امینؑ مراد ہیں۔ صفت ’کریم‘ کے لانے سے یہاں مقصود مخالفوں کے اس وہم کی تردید ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ فرمایا کہ جو یہ کلام لاتا ہے وہ کوئی جن یا شیطان نہیں ہے، جیسا کہ تم کہتے ہو، بلکہ اللہ کا باعزت رسول ہے۔ بعینہٖ اسی طرح کے سیاق و سباق میں یہی بات سورۂ تکویر میں بھی فرمائی گئی جس سے اس رائے کی تائید ہوتی ہے: إِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ ۵ ذِیْ قُوَّۃٍ عِنۡدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ ۵ مُطَاعٍ ثَمَّ أَمِیْنٍ (التکویر ۸۱: ۱۹-۲۱) ’’بے شک یہ ایک رسول گرامی کا لایا ہوا کلام ہے۔ وہ قوت والا اور عرش والے کے نزدیک معتمد ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

40۔ 1 بزرگ رسول سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں۔ اور قول سے مراد تلاوت ہے یعنی رسول کریم سے مراد ایسا قول ہے جو یہ رسول کریم ﷺ کی طرف سے تمہیں پہنچاتا ہے۔ کیونکہ قرآن، رسول یا جبرائیل ؑ کا قول نہیں ہے، بلکہ اللہ کا قول ہے جو اس نے فرشتے کے ذریعے سے پیغمبر پر نازل فرمایا ہے، پھر پیغمبر اسے لوگوں تک پہنچاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 40–46

9: یہ ان کافروں کی تردید ہے جو کبھی آنحضرت ﷺ کو شاعر اور کبھی کاہن کہا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 38–43

فلا اقسم۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔ رب العالمین۔ یہ معاملہ بہت ہی واضح ہے اور اس پر کسی قسم کی ضرورت نہیں ہے اور عقلی لحاظ سے ثابت ہے اور ایک واقعہ ہے اور اس پر کوئی قسم اٹھانے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ یہ حق ہے ، حق کی طرف سے نازل شدہ ہے ، نہ شعروشاعری ہے نہ کسی کاہن کی کہانت اور بڑ ہے نہ کسی افتراء پرداز کی افتراء ہے۔ لہٰذا قسم کی ضرورت نہیں ہے۔ فلا ................ تبصرون (96 : 83) وما لا تبصرون (96 : 93) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔ یہ قسم بہت عظیم ہے۔ اس کائنات ، عظیم کائنات کی قسم ہے جو تم دیکھتے ہو اور اس عظیم کائنات کی قسم ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 38–40

6 یعنی جو کچھ جنت و دوزخ وغیرہ کا بیان ہوا، یہ کوئی شاعری نہیں نہ کاہنوں کی اٹکل پچو باتیں ہیں، بلکہ یہ قرآن ہے اللہ کا کلام جس کو آسمان سے ایک بزرگ فرشتہ لے کر ایک بزرگ ترین پیغمبر پر اترا، جو آسمان سے لایا وہ، اور جس نے زمین والوں کو پہنچایا، دونوں رسول کریم ہیں ایک کا کریم ہونا تو تم آنکھوں سے دیکھتے ہو۔ اور دوسرے کی کرامت و بزرگی پہلے کریم کے بیان سے ثابت ہے۔ (تنبیہ) عالم میں دو قسم کی چیزیں ہیں۔ ایک جس کو آدمی آنکھوں سے دیکھتا ہے دوسری جو آنکھوں سے نظر نہیں آتی، عقل وغیرہ کے ذریعہ سے ان کے تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔ مثلاً ہم کتنا ہی آنکھیں پھاڑ کر زمین کو دیکھیں، وہ چلتی ہوئی نظر نہ آئے گی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 40–42

آیت 40{ اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ۔ } ”یہ قول ہے ایک رسول کریم کا۔“ اصل میں تو یہ اللہ کا کلام ہے۔ اللہ تعالیٰ سے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے سنا۔ پھر حضرت جبرائیل سے حضرت محمد ﷺ نے سنا اور اب وہ لوگوں کو سنا رہے تھے۔ چناچہ ایک لحاظ سے یہ جبرائیل علیہ السلام کا قول تھا اور دوسرے لحاظ سے حضور ﷺ کا قول۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 40–42

23 قرآن چونکہ اللہ کا کلام ہے جو جبریل کی زبان سے ادا ہوتا ہے۔ لہذا یہاں معزز رسول سے جبریل (علیہ السلام) بھی مراد لیے جاسکتے ہیں۔ اور اس لحاظ سے کہ بعینہ وہی الفاظ آپ کی زبان سے ادا ہوتے ہیں۔ معزز رسول سے آپ کی ذات بھی مراد لی جاسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 38–40

15۔ یعنی موجودات مرئی وغیر مرئی سب اس پر شاہد ہیں کہ قرآن جس پر آیا وہ حق تعالیٰ کا معزز قاصد ہے۔ قسم کے متعلق بار بار بیان ہوچکا ہے کہ عربی اسلوب بیان میں اس سے مقصود محض تاکید کلام ہوتی ہے۔ (آیت) ” بما ...... لا تبصرون “۔ قرآن مجید کو دنیا میں لانے والا ایک غیر مرئی مخلوق یعنی فرشتہ تھا، اور دنیا کے سامنے اس کا پیش کرنے والا ایک مرائی مخلوق یعنی پیغمبر۔ اس لئے حقانیت قرآن کے سلسلہ سیاق میں موجودات کی ان دو قسموں کی طرف توجہ دلانا بہت پر معنی ہے۔ (آیت) ” رسول کریم “۔ رسول کا استعمال اس سیاق میں فرشتہ جبرئیل کے لئے ہے۔ والاکثرون ھناک علی ان المراد بہ جبریل (علیہ السلام) (کبیر) قال ابن السائب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 38–43

ترجمہ : مجھے قسم ہے ان چیزوں کی جنہیں تم مخلوقات میں دیکھتے ہو، فلا میں لا زائدہ ہے اور مخلوقات میں سے جن کو تم نہیں دیکھتے ہو یعنی تمام مخلوقات کی کہ بیشک یہ (قرآن) بزرگ رسول کا قول ہے یعنی اس نے اللہ کی جانب سے ایک پیغام رساں کی حیثیت سے نقل کیا اور یہ کسی کا قول نہیں (افسوس) تمہیں بہت کم یقین ہے اور نہ کسی کاہن کا قول ہے (افسوس) تم بہت کم نصیحت لے رہے ہو دونوں فعلوں میں تا اور یا کے ساتھ ہے، اور، ما زائدہ ہے اور معنی یہ ہیں کہ وہ باتوں پر بہت کم یقین رکھتے ہیں، اور ان کا آپ ﷺ کی لائی ہوئی چیزوں میں سے بعض پر ایمان لانا مثلاً صدقہ و خیرات پر اور صلہ رحمی پر زنا وغیرہ سے باز رہنے پر، تو اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انہ لقول رسول کریم . کہ بلاشک یہ قرآن اللہ کی طرف سے ایک باعزت پیغامبر کا (زبانی) قول ہے اس کا خود ساختہ نہیں۔ رسول کریم ﷺ سے مراد رسول اللہ ﷺ یا جبرئیل ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 38–40

(38۔ 40) پھر اے اہل مکہ میں قسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی بھی جن کو تم دیکھتے ہو یعنی آسمان و زمین اور ان چیزوں کی بھی جن کو تم نہیں دیکھتے مثلا جنت و دوزخ یا یہ کہ چاند و سورج اور عرش و کرسی یا یہ کہ رسول اکرم اور جبریل امین کی کہ یہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ جس کو جبریل امین رسول اکرم پر لائے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 40–43

(1) انہ لقول رسول کریم …: یہ چار آیات جواب قسم ہیں، پہلی یہ کہ یہ قرآن ایک معزز پیغام لانے والے کا قول ہے، دوسری یہ کہ یہ کسی شاعر کا قول نہیں، تیسری یہ کہ یہ کسی کا ہن کا قول بھی نہیں اور چوتھی یہ کہ یہ رب العالمین کی طرف سے اتارا گیا ہے۔ اس قسم اور جواب قسم میں مناسب یہ ہے کہ جو کچھ تم دیکھ رہے ہو وہ انچ اورں چیزوں کے حق ہونے کی شہادت دے رہا ہے اور جو کچھ تم نہیں دیکھ رہے اس کی شہادت بھی یہی ہے۔ جو کچھ وہ دیکھ رہے تھے وہ یہ بات جاننے کے لئے کافی تھا کہ یہ قرآن جس شخص کی زبان سے ادا ہو رہا ہے وہ نہ شاعر ہے نہ کاہن، نہ جھوٹا ہے نہ اپنے پاس سے بات گھڑنے والا اور نہ کسی ذاتی مفاد یا عہدے کا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 38–40

فلا اقسم بما تبصرون۔ ومالا تبصرون۔ معنی ہے میں تمام اشیاء کی قسم اٹھاتا ہوں جنہیں تم دیکھتے ہو اور جنہیں تم نہیں دیکھتے اور زائد ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کے ساتھ سابقہ کلام کا رد کیا یا ہے (1) یعنی معاملہ اس طرح نہیں جس طرح مشرک کہتے ہیں : مقاتل نے کہا : اس کا سبب یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ نے کہا، بیشک حضرت محمد ﷺ جادوگر ہیں (2) ابوجہل نے کہا : وہ شاعر ہیں۔ عقب نے کہا : وہ کا ہغن ہیں۔ نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فلا اقسم یعنی میں قسم اٹھاتا ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہاں لا قسم کی نفی کے لئے ہے کیونکہ حق واضح ہے اس لئے قسم اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس تعبیر کی بنا پر اس کا جواب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 38–40

11۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلا اقسم بما تبصرون وما لا تبصرو۔ سو میں ان چیزوں کی قسم کھاتا ہوں جو تم دیکھتے ہو اور ان کی جس کو تم نہیں دیکھتے یعنی جو تم دیکھتے ہو اور جو تم نہیں دیکھتے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِنَّهٗ : بیشک یہ (قرآن)][ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ : یقینا ایک بزرگ رسول کا کہا ہوا ہے ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 40 میں رسول کریم سے مراد محمد ﷺ ہیں اور سورة تکویر (آیت۔ 19) میں اس سے مراد حضرت جبریل ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ یہاں قرآن کو رسول کریم کا قول کہنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ یہ کسی شاعر یا کاہن کا قول نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ کفار مکہ جبریل کو نہیں بلکہ محمد ﷺ کو شاعر اور کاہن کہتے تھے جبکہ سورة تکویر میں قرآن کو رسول کریم کا قول کہنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ وہ رسول بڑی قوت والا ہے، صاحب عرش کے ہاں بلند مرتبہ ہے، وہاں اس کی بات مانی جاتی ہے، وہ امانت دار ہے اور محمد ﷺ نے اس کو روشن افق پر دیکھا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 40–42

﴿ اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍۚۙ0040﴾ رسول کریم ﷺ سے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) مراد ہیں اور مطلب یہ ہے یہ کلام جس کے واسطہ سے تم لوگوں تک پہنچ رہا ہے وہ اللہ کا بھیجا ہوا قاصد ہے جو اللہ کے یہاں گرامی قدر ہے جس کا مرتبہ ہے وہ اس کلام کو لے کر اللہ کی زمین والے رسول کے پاس آیا ہے یعنی بواسطہ جبرائیل (علیہ السلام) حضرت سیدنا محمد ﷺ پر نازل ہوا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ رسول کریم ﷺ سے خود رسول کریم ﷺ کی ذات گرامی مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہمارا یہ کلام تمہیں ہمارا رسول سناتا ہے جسے اللہ تعالیٰ شرف رسالت سے نواز دے وہ سچا ہی ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–52

بیان عظمت کلام الہی وحقانیت وصداقت قرآن کریم : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فلا اقسم بما تبصرون ....... الی ....... فسبح باسم ربک العظیم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں اہل سعادت وشقاوت اور انکے احوال کا ذکر تھا اور بالخصوص مجرمین کی سزا اور قیامت کی شدت اور عرش الہی سے تمام فیصلوں کے نفاذ کا بیان تھا تو ممکن تھا کہ کوئی ملحد اور منکر ان باتوں کو سن کر یہ کہنے لگے کہ یہ تو شاعرانہ مبالغہ آرائی یا کاہنوں کی باتیں ہیں تو اس کے ازالہ اور رد کے لیے اب ان آیات میں قرآنی عظمت کا بیان ہے اور یہ کہ جو کچھ وحی الہی سے کہا گیا وہ رسول کریم ﷺ کا قول اور اللہ کا پیغام ہے اس میں ذرہ برابر مبالغہ یا استعارہ ومجاز کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 38–43

13:۔ ” فلا اقسم “ جواب قسم محذوف ہے۔ ” لاتبصرون “ میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو نظر نہیں آتیں مثلاً جن، اور فرشتے، یہ قیامت کے ثبوت پر استدلال ہے یعنی جس طرح دنیا میں بہت سی چیزیں تمہیں نظر نہیں آتیں مگر اس کے باوجود تم ان کا وجود تسلیم کرتے ہو۔ اس لیے آخرت جو نظر نہیں آتی اس کا بھی انکار نہ کرو بلکہ یہ دیکھو کہ آخرت کی خبر دینے والا کون ہے ؟ ” انہ لقول رسول کریم “ یہ علیحدہ جملہ ہے۔ یہ ایک مکرم و محترم رسول (محمد ﷺ کی زبان سے نکلی ہوئی بات ہے جسے وہ اپنے پروردگار کی طرف سے تم تک پہنچا رہا ہے یہ اس کی اپنی بنائی ہوئی بات نہیں، نہ کسی شاعر کا قول ہے نہ کاہن کا۔ یعنی محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 38–52

گذشتہ سے پیوستہ : سورۃ الحاقہ کے پہلے رکوع میں قیامت کا ذکر ہے۔ آخری آیتوں میں بنیادی عقائد کا بیان ہے منجملہ ان کے رسالت اور نبوت کا ذکر ہے۔ جس طرح کفار قیامت کا انکار کرتے تھے۔ اسی طرح حضور ﷺ السلام کی نبوت اور رسالت کے منکر تھے۔ پہلے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ بھی اسی قسم کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جب کہ لوگ ان کی تکازیب کرتے تھے۔ یہ لوگ نہ صرف پیغمبر کا انکار کرتے تھے۔ بلکہ وحی الہٰی اور اس کے لانے والے فرشتے کا بھی انکار کرتے تھے۔ کہتے تھے کہ یہ اپنے پاس سے باتیں گھڑ کر لایا ہے۔ خدا کا پیغام نہیں ہے۔ بعض شاعر اور کاہن کا خطاب دیتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ یہ غیب کی خبریں بتاتے ہیں۔ اور سچ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ۝ 40 لام اللَّامُ التي هي للأداة علی أوجه : الأول : الجارّة، وذلک أضرب : ضرب لتعدية الفعل ولا يجوز حذفه . نحو : وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ [ الصافات/ 103] . وضرب للتّعدية لکن قدیحذف . کقوله : يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ [ النساء/ 26] ، فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً [ الأنعام/ 125] فأثبت في موضع وحذف في موضع . الثاني : للملک والاستحقاق، ولیس نعني بالملک ملک العین بل قد يكون ملکا لبعض المنافع، أو لضرب من التّصرّف . فملک العین نحو : وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّماواتِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 38–52

ترکیب : فلا اقسم قیل لامزیدۃ اوفلار ولانکارھم البعث ثم اقسم وقیل نافیۃ للقسم کانہ قال لا اقسم علی ان القرآن قول رسول کریم لظہورالامر واستغنائـہ عن التحقیق بالقسم انہ لقول الخ جواب القسم مؤکد بان واللام والا سمیّہ۔ وماھوالخ الجملۃ تاکید لقولہ انہ لقول رسول کریم قلیلا ما زائدۃ للتاکید ولابقول کا ھن عطف علیٰ قولہ بقول شاعر۔ تنزیل خبر متبدء ھو تنزیل تقول قرء الجمہور مبیناً للفاعل والتقول تکلف القول والافتراء والاقاویل جمع اقوال جمع قول کا بابیت جمع ابیات جمع بیت والاقوال المفتراۃ اقاویل تحقیر الھا لاخذنا جواب لوحاجزین وصف لاحد فانہ عام لکونہ نکرۃ واقعۃ فی سیاق النفی۔ حق الیقین من اضافۃ الصفۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 40–41

اِنَّـہٗ لَـقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ ۔ وَّمَا ھُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ط قَلِیْلاً مَّا تُؤْمِنُوْنَ ۔ (الحآقۃ : 40، 41) (یہ ایک بزرگ رسول کا قول ہے۔ یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے، تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔ ) حضرت عمر فاروق ( رض) کہتے ہیں میں نے … اپنے جی میں … کہا : (اوہو) ” یہ تو کاہن ہے۔ “ لیکن اتنے میں آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 38–48

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی تعلیمات میں اس کی سر فہرست تعلیم یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لایا جائے اور یہ یقین رکھا جائے کہ قیامت ہر صورت آنے والی ہے۔ نافرمان لوگ اللہ اور اس کے رسول اور قیامت پر ایمان لانے کی بجائے قرآن مجید کا ہی انکار کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ یہ شاعرانہ کلام ہے جس کی تردید کی جا رہی ہے۔ قسم ہے ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے بلاشک یہ قرآن رسول کریم ﷺ کی زبان سے پڑھا جاتا ہے یہ کسی شاعر کا کلام نہیں اگرچہ تم بہت کم لوگ ایمان لاتے ہو اور نہ قرآن کسی کاہن کا کلام ہے یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے لیکن تم بہت ہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

عظمت قرآن : 40 : اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ (بیشک یہ قرآن کلام ہے۔ ایک معزز فرشتہ کا لایا ہوا) ہٗ سے قرآن مراد ہے۔ رسول کریم سے محمد ﷺ ، نمبر 2۔ جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں۔ یعنی آپ اس کو کہتے ہیں اور زبان سے بولتے ہیں اس طور پر کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام دے کر بھیجا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

39 ۔” وما لا تبصرون “ یعنی جو تم دیکھتے ہو اور جو تم نہیں دیکھتے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں میں تمام اشیاء کی قسم کھاتا ہوں۔ پس اس میں تمام تکوینی اور موجود چیز میں داخل ہوجائیں گی اور کہا میں دنیا اور آخرت کی قسم کھاتا ہوں اور کہا گیا ہے جو تم دیکھتے زمین کے اوپر جو کچھ ہے اور جو تم نہیں دیکھتے جو زمین کے اندر ہے اور کہا گیا ہے جو تم جسموں میں سے دیکھتے ہو اور جو تم روحوں کو نہیں دیکھتے اور کہا گیا ہے ” ماتبصرون “ انسانوں کو۔ ” ومالاتبصرون “ فرشتوں اور جنوں کو اورکہا گیا ہے ظاہری اور باطنی نعمتیں۔ اور کہا گیا ہے ” ماتبصرون “ جو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں اور لوح وقلم کے لئے ظاہر کیا ہے۔ ” ومالا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–43

38۔ 43۔ تفسیر مقاتل و ابن جریر وغیرہ میں قتادہ سے روایت ہے کہ مشرکین مکہ میں سے کچھ لوگ آنحضرت ﷺ کو شاعر اور کچھ کاہن کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں یہ آیتیں نازل فرمائیں اور دونوں جہان کی تمام مخلوقات کی قسم کھا کر فرمایا کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس کو اپنے رسول پر اس نے نازل فرمایا ہے جن لوگوں کو عقبیٰ کی باتوں پر پورا یقین نہیں ہے وہ اس قرآن کو شاعر کا اور جو لوگ قرآن کی شان پر پورا غور نہیں کرتے وہ کاہن کا کلام کہتے ہیں یہ نادان اتنا خیال نہیں کرتے کہ ان میں بعض لوگ ایسے ہیں جو خود بھی شاعر ہیں اور ایسے جنات کے ان کو بہت سے شعر بھی یاد ہیں جو چوری سے کچھ غیب کی باتیں اڑا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 38–44

اللہ تبار وتعالی نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنہیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنہیں نہیں دیکھ سکتی ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے یہ قسم رسول اللہ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ نے اپنے رسول کو کفار کی تمام بہتان طرازیوں سے ، ، مثلا یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں منزہ قرار دیا ہے ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چناچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انہوں نے غور و فکر کیا ہوتا تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ کیا چیز انہیں فائدہ دیتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

34 قرآن حکیم کی عظمت شان کے ایک خاص پہلو کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ لاشبہ یہ قرآن ایک معزز پیغمبر کا پیش کردہ کلام ہے۔ اتنے بڑے کرم والے کہ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق میں اتنی کرم والی دوسری کوئی ہستی نہ ہوئی ہے ‘ نہ ہوگی ‘ اس سے مراد ہیں نبی اکرم رحمت مجسم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ جن کی بعثت و تشریف آوری نے پوری انسانیت کو قعر مذلت سے نکال کر اوج ثریا سے ہمکنار ہونے بلکہ اس سے بھی آگے پرواز کر جانے کی راہ بتائی اور اس کو دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور ہونے کی تعلیم سے نوازا ‘ صلوات اللہ وسلامہ علیہ آگے یہ انسان کی اپنی شقاوت اور بدبختی ہے کہ وہ اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 38–52

قرآن مجید کے کلام الٰہی ہونے کا ثبوت تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ قرآن کی سچائی معقولیت اور لاجواب کتاب ہونے پر قسم اٹھاتا ہے یہ قسم بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اٹھائی جا رہی ہے۔ یہاں کائنات میں موجود ہر اس چیز کی قسم کھائی گئی ہے جو ہماری نظروں کے سامنے واضح صورت میں موجود ہیں اور ان چیزوں کی بھی جو بیشمار مختلف صورتوں میں کائنات میں ہر طرف موجود ہیں اور ابھی تک کوئی محقق ان کو نہ دیکھ سکا ہے نہ ان کی وضاحت ہی کرسکا ہے۔ کہ قرآن پاک الہ العٰلمین کا کلام ہے معزز ترین فرشتے سیدناجبرائیل (علیہ السلام) کی زبان سے رسول کریم ﷺ تک پہنچایا گیا ہے۔ اور اس میں کوئی شک و شبہ یا تحریف و ترمیم ہرگز نہیں کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 38–52

آیات 38 تا 52۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان چیزوں کی جو تمہیں دکھائی دیتی ہیں اور ان کی جو تم نہیں دیکھ سکتے کہ کائنات کی ہر شے اور ہر طاقت اس پر گواہ ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے جو ایک معزز فرشتے کے ذریعہ سے اللہ کے برحق رسول پہ نازل ہوا یعنی قرآن نے دیکھے ان دیکھے نتائج کے لیے بھی ایساجامع نظام حیات دیا کہ عقیدے عبادت سے لے کر عمل تک دنیا کے ہر خطے ہرموسم اور ہر قوم کے لیے بہترین نتائج پیدا کرتا ہے ظاہر ابھی جو نظر آتے ہیں اور باطلا بھی جو حقائق فی الحال نگاہ سے اوجھل ہیں اور آخرت میں سامنے آئیں گے بھلا ایسا کامل ومکمل نظام بجز اللہ کے کون دے سکتا ہے۔ یہ سب اس بات پر گواہ ہے کہ فرشتے کا لایا ہوا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 40–41

ف 8 مراد حضرت جبریل ہیں مگر “ رسول کریم “ سے مراد آنحضرت ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ قرآن ایک عزت والے پیغمبر کے پڑھ کر سنانے کی چیز ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(69:40) انہ لقول رسول کریم جملہ جواب قسم ہے ان (حرف تحقیق) حروف مشبہ بالفعل میں سے ہے) لام تاکید کی۔ اور جملہ اسمیہ، تینوں جواب قسم کی تاکید میں آئے ہیں۔ قول بات ۔ کہنا (مصدر یا مفعول) مضاف رسول کریم موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ۔ بیشک یہ (قرآن) معزز رسول کا قول (کلام) ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–52

لغات القرآن۔ الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں) رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔ دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–43

(ف 3) شان نزول : تفسیر مقاتل میں ابن جریروغیرہ میں قتادہ سے روایت ہے کہ مشرکین مکہ میں سے کچھ لوگ نبی ﷺ کو شاعر اور کاہن کہتے تھے اللہ نے ان کے جواب میں یہ آیتیں نازل فرمائیں اور دونوں جہان کی تمام مخلوقات کی قسم کھاکریہ فرمایا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے جس کو اپنے رسول پر اس نے نازل فرمایا ہے جن لوگوں کو عقبی کی باتوں پر پورا یقین نہیں ہے وہ اس قرآن کو شاعر کا اور جو لوگ قرآن کی شان پر پوراغور نہیں کرتے، وہ کاہن کا کلام کہتے ہیں، یہ نادان اتنا خیال نہیں کرتے کہ ان میں بعض لوگ ایسے ہیں جو خود بھی شاعر ہیں پھر قران بھی اگر کسی شاعر کا یا کاہن کا کلام ہوتا تو ان لوگوں سے تو گھڑی گھڑی کہا جاتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 40–45

[15] یعنی قرآن اللہ کا کلام ہے جس کو آسمان سے ایک بزرگ فرشتہ (یعنی جبریل) لے کر ایک بزرگ ترین پیغمبر پر اترا۔ جو آسمان سے لایا وہ اور جس نے زمین والوں کو پہنچایا دونوں رسول کریم ہیں۔ ایک کا کریم ہونا تو تم آنکھوں سے دیکھتے ہو اور دوسرے کی کرامت اور بزرگی پہلے کریم کے بیان سے ثابت ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–41

ف 1: ہم دنیا میں اپنے مال و دولت پر مفرور تھے ۔ اور سمجھتے تھے ۔ کہ یہ ثروت ۔ یہ کنوز اور خزائن ۔ ہمیں عاقبت میں بھی عزت وافتخار تخشیں گے ۔ اور جس طرح دنیا میں ہم تمول کی وجہ سے ہر نوع کی آسودگی حاصل کرلیتے ہیں ۔ شاید آخرت میں بھی اس کی بدولت جنت اور اس کی آسائشوں کو خریدا جاسکے گا ۔ مگر آہ کہ یہ خیال درست ثابت نہیں ہوا ۔ ان لوگوں کے متعلق یہ فیصلہ ہوگا ۔ کہ ان کو پکڑلو ۔ اور طوق وسلاسل پہنادو ۔ اور پھر ایک طویل زنجیر میں جکڑ کر جہنم میں پھینک دو ۔ کیونکہ ان لوگوں کا اللہ پر ایمان نہ تھا ۔ ان کے دلوں میں بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی نہ تھی ۔ ان کے دل غریبوں کو دیکھ کر پسیجتے نہ تھے ۔ یہ اپنے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 39–40

ف 7۔ اس قسم کو مقصود سے ایک خاص مناسبت ہے کہ قرآن مجید کا لانے والا تو نظر نہ آتا تھا اور جن پر قرآن آتا تھا وہ نظر آتے تھے، یعنی تمام مخلوق کی قسم ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ یہ کلام اللہ تعالیٰ کے رسول کا لایا ہوا ہے 40 ؎ رسول کریم ﷺ سے مراد بعض نے جبریل (علیہ السلام) کو لیا ہے اور بعض نے محمد رسول اللہ ﷺ کو اور آیت کا مطلب یہی ہے کہ یہ کلام اللہ کریم کا پیش کیا ہوا ہے گویا اس کلام کے لانے والا جبریل ہے یا براہ راست محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ لوگوں کے سامنے آپ ﷺ ہی نے اس کو پیش کیا ہے لیکن دوسرے مقامات کو بھی اگر سامنے رکھا جائے تو اس سے مراد جبریل امین کو لینا زیادہ قرین قیاس ہے اور اس کی وضاحت آگے سورة التکویر میں مزید آرہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کو فرشتہ کا کلام قرار دینا چہ معنی دارد ؟ پیغام بھجنے والے اور بھجوانے والے دونوں کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–43

فَلَا أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُ‌ونَ وَمَا لَا تُبْصِرُ‌ونَ (I swear by what you see, and what you do not see….69:38-39). This comprehends the entire body of creation. Some say 'what you do not see' refers to the Being of Allah Ta` ala and His attributes. Others say 'what you see' refers to things of the mortal world, and 'what you do not see,' refers to things of the Hereafter. [ Mazhari ] And Allah, the Pure and Exalted, Knows best!

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

22 Here, "an honourable Messenger" implies the Holy Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) and in Surah At-Takvir: 19. the angel Gabriel (peace be on him) , the argument being that after describing the Qur'an as the Word of an honourable Messenger, it has been said: "It is not the word of a poet ... nor of a soothsayer," and obviously the disbelievers of Makkah branded the Holy Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) and not Gabriel as a poet and soothsayer. On the contrary, in Surah At-Takvir, after describing the Qur'an as the word of "a noble…

Read the full tafseer →