وَمَا لَا تُبْصِرُوْنَ ۟ۙوَمَا لَا تُبۡصِرُوۡنَۙ
اور ان کی جو نظر میں نہیں آتیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And what you do not see
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz
وَمَا لَا تُبْصِرُوْنَ ۟ۙوَمَا لَا تُبۡصِرُوۡنَۙ
اور ان کی جو نظر میں نہیں آتیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And what you do not see
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa
اور اُن کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے
اور ان کی جو نظر میں نہیں آتیں
اور ان چیزوں کی جنہیں تم نہیں دیکھتے
اور اس کی بھی جسے تم نہیں دیکھتے۔
اور جنہیں تم نہیں دیکھتے
اور ان چیزوں کی (بھی) جنہیں تم نہیں دیکھتے،
اور جسے تم نہیں دیکھتے !
اور ان کی بھی جو تم نہیں دیکھتے
اور ان چیزوں کی بھی جن کو تم نہیں دیکھتے
اور ان کی بھی جن کو تم نہیں دیکھتے
اور جنہیں تم نہیں دیکھتے
اور اس کی بھی جو تم نہیں دیکھتے ہو۔
اور ان کی جو نظر نہیں آتیں۔
and by what you do not see,
and what you do not see,
and what you do not see,
And by whatsoever you see not,
And all that ye see not
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And what you do not see
and what you do not see
And that which you do not see.
And that which ye see not.
And what ye see not,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 38–43
ظاہر و باطن آیات الٰہی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول ﷺ پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لئے پسند فرما لیا ہے۔ رسول کریم سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں، اس کی اضافت حضور ﷺ کی طرف سے اس لئے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ ﷺ ہی ہیں۔ اسی لئے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
سورة الْحَآقَّة 21 یعنی تم لوگوں نے جو کچھ سمجھ رکھا ہے بات وہ نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
ۧفَلَآ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَ وَمَا لَا تُبْصِرُوْنَ یعنی قسم ہے ان تمام چیزوں کی جن کو تم دیکھتے ہو یا دیکھ سکتے ہو اور جن کو تم نہ دیکھتے ہو نہ دیکھ سکتے ہو اس میں تمام مخلوقات آگئیں۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ نہ دیکھنے کی چیزوں سے مراد حق تعالیٰ کی ذات وصفات ہیں۔ بعض نے فرمایا کہ دیکھنے کی چیزوں سے مراد دنیا کی چیزیں ہیں اور نہ دیکھنے کی چیزوں سے مراد آخرت کی اشیاء (مظہری) واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
قَسم سے پہلے ’لا‘ کا موقع استعمال: قسم سے پہلے جو اس طرح ’لَا‘ آیا کرتا ہے اس پر اس کے محل میں ہم بحث کر چکے ہیں کہ یہ نہ تو زائد ہوتا ہے اور نہ قَسم کی نفی کے لیے بلکہ یہ قَسم سے پہلے مخاطب کے اس خیال کی تردید کے لیے آتا ہے جس کی تردید کے لیے قَسم کھائی گئی ہے۔ جس طرح عام بول چال میں کہتے ہیں: ’نہیں، خدا کی قسم، یہ بات نہیں ہے بلکہ یہ بات ہے‘ اسی طرح یہاں بھی ’نہیں‘ سے کلام کا آغاز کیا ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ مخاطب کا خیال اتنا غلط ہے کہ متکلم اس کی تردید میں ایک لمحہ کا توقف بھی کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ مکذبین کے ایک بے ہودہ خیال کی تردید: قسم سے متعلق ہم یہ حقیقت بھی واضح کر چکے ہیں…
Read the full tafseer →39۔ 1 یعنی اللہ کی پیدا کردہ وہ چیزیں، جو اللہ کی ذات اور اس کی قدرت و طاقت پر دلالت کرتی ہیں، جنہیں تم دیکھتے ہو یا نہیں دیکھتے، ان سب کی قسم ہے۔ آگے جواب قسم ہے۔
Read the full tafseer →8: اس سے مراد کائنات کی تمام مخلوقات ہیں جن میں سے کچھ انسانوں کو نظر آتی ہیں، اور کچھ نظر نہیں آتیں، جیسے عالم بالا کی مخلوقات۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ ”جسے تم دیکھتے ہو“ سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں اور ”جسے نہیں دیکھتے“ سے مراد حضرت جبرئیل ؑ ہیں جو آپ پر وحی لے کر آتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
فلا اقسم۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔ رب العالمین۔ یہ معاملہ بہت ہی واضح ہے اور اس پر کسی قسم کی ضرورت نہیں ہے اور عقلی لحاظ سے ثابت ہے اور ایک واقعہ ہے اور اس پر کوئی قسم اٹھانے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ یہ حق ہے ، حق کی طرف سے نازل شدہ ہے ، نہ شعروشاعری ہے نہ کسی کاہن کی کہانت اور بڑ ہے نہ کسی افتراء پرداز کی افتراء ہے۔ لہٰذا قسم کی ضرورت نہیں ہے۔ فلا ................ تبصرون (96 : 83) وما لا تبصرون (96 : 93) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔ یہ قسم بہت عظیم ہے۔ اس کائنات ، عظیم کائنات کی قسم ہے جو تم دیکھتے ہو اور اس عظیم کائنات کی قسم ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
6 یعنی جو کچھ جنت و دوزخ وغیرہ کا بیان ہوا، یہ کوئی شاعری نہیں نہ کاہنوں کی اٹکل پچو باتیں ہیں، بلکہ یہ قرآن ہے اللہ کا کلام جس کو آسمان سے ایک بزرگ فرشتہ لے کر ایک بزرگ ترین پیغمبر پر اترا، جو آسمان سے لایا وہ، اور جس نے زمین والوں کو پہنچایا، دونوں رسول کریم ہیں ایک کا کریم ہونا تو تم آنکھوں سے دیکھتے ہو۔ اور دوسرے کی کرامت و بزرگی پہلے کریم کے بیان سے ثابت ہے۔ (تنبیہ) عالم میں دو قسم کی چیزیں ہیں۔ ایک جس کو آدمی آنکھوں سے دیکھتا ہے دوسری جو آنکھوں سے نظر نہیں آتی، عقل وغیرہ کے ذریعہ سے ان کے تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔ مثلاً ہم کتنا ہی آنکھیں پھاڑ کر زمین کو دیکھیں، وہ چلتی ہوئی نظر نہ آئے گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
سورة الحاقہ کے دوسرے رکوع کی سورة الواقعہ کے آخری رکوع سے گہری مشابہت ہے۔ چناچہ اگلی آیات کو پڑھتے ہوئے سورة الواقعہ کی ان آیات کو بھی ذہن میں تازہ کر لیجیے : { فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ - وَاِنَّہٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ - اِنَّہٗ لَقُرْاٰنٌ کَرِیْمٌ۔ } ”تو نہیں ! قسم ہے مجھے ان مقامات کی جہاں ستارے ڈوبتے ہیں۔ اور یقینا یہ بہت بڑی قسم ہے اگر تم جانو ! یقینا یہ بہت عزت والا قرآن ہے۔“
Read the full tafseer →22 وہ چیزیں جو کافروں کو نظر آتی تھیں اور وہ جو نظر نہیں آتی تھیں وہ کیا ہیں ؟ تم یہ دیکھ رہے ہو، تمہارا یہ صاحب (رسول اللہ) ایک پاکیزہ سیرت انسان ہے۔ اور اس بات کے تم گواہ ہو کہ اس نے زندگی بھر کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ وہ ایک راست باز اور امین آدمی ہے۔ وہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتا۔ اس کا کوئی استاد بھی نہیں۔ پھر چالیس سال کی عمر میں یک لخت ایسا معجزہ نما کلام پیش کرنے لگا ہے جس نے تم سب کو چونکا دیا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اور اللہ نے ایک فرشتہ جبریل کے ذریعہ مجھ پر اتارا ہے اور میں اس کا رسول ہوں۔ تم نے انکار کیا تو اس نے تمہیں چیلنج کردیا کہ اگر یہ اللہ کا کلام نہیں تو تم اس جیسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
15۔ یعنی موجودات مرئی وغیر مرئی سب اس پر شاہد ہیں کہ قرآن جس پر آیا وہ حق تعالیٰ کا معزز قاصد ہے۔ قسم کے متعلق بار بار بیان ہوچکا ہے کہ عربی اسلوب بیان میں اس سے مقصود محض تاکید کلام ہوتی ہے۔ (آیت) ” بما ...... لا تبصرون “۔ قرآن مجید کو دنیا میں لانے والا ایک غیر مرئی مخلوق یعنی فرشتہ تھا، اور دنیا کے سامنے اس کا پیش کرنے والا ایک مرائی مخلوق یعنی پیغمبر۔ اس لئے حقانیت قرآن کے سلسلہ سیاق میں موجودات کی ان دو قسموں کی طرف توجہ دلانا بہت پر معنی ہے۔ (آیت) ” رسول کریم “۔ رسول کا استعمال اس سیاق میں فرشتہ جبرئیل کے لئے ہے۔ والاکثرون ھناک علی ان المراد بہ جبریل (علیہ السلام) (کبیر) قال ابن السائب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
ترجمہ : مجھے قسم ہے ان چیزوں کی جنہیں تم مخلوقات میں دیکھتے ہو، فلا میں لا زائدہ ہے اور مخلوقات میں سے جن کو تم نہیں دیکھتے ہو یعنی تمام مخلوقات کی کہ بیشک یہ (قرآن) بزرگ رسول کا قول ہے یعنی اس نے اللہ کی جانب سے ایک پیغام رساں کی حیثیت سے نقل کیا اور یہ کسی کا قول نہیں (افسوس) تمہیں بہت کم یقین ہے اور نہ کسی کاہن کا قول ہے (افسوس) تم بہت کم نصیحت لے رہے ہو دونوں فعلوں میں تا اور یا کے ساتھ ہے، اور، ما زائدہ ہے اور معنی یہ ہیں کہ وہ باتوں پر بہت کم یقین رکھتے ہیں، اور ان کا آپ ﷺ کی لائی ہوئی چیزوں میں سے بعض پر ایمان لانا مثلاً صدقہ و خیرات پر اور صلہ رحمی پر زنا وغیرہ سے باز رہنے پر، تو اس…
Read the full tafseer →وما لا تبصرون . اور ان صفات و ذوات جن کی حقیقت نہ تم کو دانش و فہم سے نظر آتی ہے ‘ نہ آنکھوں سے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اوّل سے مراد ہیں اجسام اور دوسرے سے ارواح یا اوّل سے انسان اور دوسرے سے جن و ملائکہ یا اوّل سے ظاہری اور دو سرے سے باطنی نعمتیں یا اوّل سے وہ علم مراد ہے جس کو اللہ نے ملائکہ اور جن و انس پر ظاہر کردیا ہے اور دوسرے سے مراد وہ خصوصی علم ہے جس سے اور کوئی واقف نہیں) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
(38۔ 40) پھر اے اہل مکہ میں قسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی بھی جن کو تم دیکھتے ہو یعنی آسمان و زمین اور ان چیزوں کی بھی جن کو تم نہیں دیکھتے مثلا جنت و دوزخ یا یہ کہ چاند و سورج اور عرش و کرسی یا یہ کہ رسول اکرم اور جبریل امین کی کہ یہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ جس کو جبریل امین رسول اکرم پر لائے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(فلا اقسم بما تبصرون…: کفار رسول اللہ ﷺ کو کبھی شاعر کہتے، کبھی کاہن، کبھی یہ کہتے کہ اس نے یہ کالم اپنے پاس سے بنا کر اللہ تعالیٰ کے ذمے لگا دیا ہے، کبھی کہتے کسی دوسرے آدمی نے اسے بنا کردیا ہے، کبھی کہتے ہیں پریشان خواب و خیال ہیں، کبھی آپ کو دیوانہ قرار دیتے۔ دیکھیے سورة انبیاء (5) ، صافات (36) ، طور (29) اور سورة نحل (103) ان تمام باتوں کا اللہ تعالیٰ نے الگ الگ جواب بھی دیا ہے، مگر ان آیات میں ایک ہی جگہ دلیل کے ساتھ سب باتوں کی تردید فرما دی ہے، چناچہ فرمایا :(فلا اقسم بما تبصرون، وما لا تبصرون)”پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں اس کی جسے تم دیکھتے ہو ! اور جسے تم نہیں دیکھتے !“ قسم سے پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
فلا اقسم بما تبصرون۔ ومالا تبصرون۔ معنی ہے میں تمام اشیاء کی قسم اٹھاتا ہوں جنہیں تم دیکھتے ہو اور جنہیں تم نہیں دیکھتے اور زائد ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کے ساتھ سابقہ کلام کا رد کیا یا ہے (1) یعنی معاملہ اس طرح نہیں جس طرح مشرک کہتے ہیں : مقاتل نے کہا : اس کا سبب یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ نے کہا، بیشک حضرت محمد ﷺ جادوگر ہیں (2) ابوجہل نے کہا : وہ شاعر ہیں۔ عقب نے کہا : وہ کا ہغن ہیں۔ نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فلا اقسم یعنی میں قسم اٹھاتا ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہاں لا قسم کی نفی کے لئے ہے کیونکہ حق واضح ہے اس لئے قسم اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس تعبیر کی بنا پر اس کا جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
11۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلا اقسم بما تبصرون وما لا تبصرو۔ سو میں ان چیزوں کی قسم کھاتا ہوں جو تم دیکھتے ہو اور ان کی جس کو تم نہیں دیکھتے یعنی جو تم دیکھتے ہو اور جو تم نہیں دیکھتے۔
Read the full tafseer →[وَمَا لَا تُبْصِرُوْنَ : اور اس کی جو تم لوگ نہیں دیکھتے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے متقیوں کے لیے نصیحت ہے ان آیات میں قرآن کریم اور صاحب قرآن کریم کی صفات جلیلہ بیان فرمائی ہیں اور دشمنوں کی باتوں کی تردید فرمائی ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کا کلام ماننے کو تیار نہ تھے۔ اولاً ارشاد فرمایا کہ تم جن چیزوں کو دیکھتے ہو اور جن چیزوں کو نہیں دیکھتے میں ان کی قسم کھاتا ہوں کہ یہ قرآن ایک معزز فرشتہ کا لایا ہوا کلام ہے اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں اور نہ ہی یہ کسی کاہن کا کلام ہے۔ شاعر لوگ شاعرانہ باتیں کرتے تھے وہ عام لوگوں کی باتوں سے مختلف ہوتی تھیں اور کاہن لوگ شیاطین سے سن کر آئندہ ہونے والی کوئی بات بتا دیتے تھے۔ (جس کا ذکر سورة ٴ جن میں آ رہا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–52
بیان عظمت کلام الہی وحقانیت وصداقت قرآن کریم : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فلا اقسم بما تبصرون ....... الی ....... فسبح باسم ربک العظیم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں اہل سعادت وشقاوت اور انکے احوال کا ذکر تھا اور بالخصوص مجرمین کی سزا اور قیامت کی شدت اور عرش الہی سے تمام فیصلوں کے نفاذ کا بیان تھا تو ممکن تھا کہ کوئی ملحد اور منکر ان باتوں کو سن کر یہ کہنے لگے کہ یہ تو شاعرانہ مبالغہ آرائی یا کاہنوں کی باتیں ہیں تو اس کے ازالہ اور رد کے لیے اب ان آیات میں قرآنی عظمت کا بیان ہے اور یہ کہ جو کچھ وحی الہی سے کہا گیا وہ رسول کریم ﷺ کا قول اور اللہ کا پیغام ہے اس میں ذرہ برابر مبالغہ یا استعارہ ومجاز کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
13:۔ ” فلا اقسم “ جواب قسم محذوف ہے۔ ” لاتبصرون “ میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو نظر نہیں آتیں مثلاً جن، اور فرشتے، یہ قیامت کے ثبوت پر استدلال ہے یعنی جس طرح دنیا میں بہت سی چیزیں تمہیں نظر نہیں آتیں مگر اس کے باوجود تم ان کا وجود تسلیم کرتے ہو۔ اس لیے آخرت جو نظر نہیں آتی اس کا بھی انکار نہ کرو بلکہ یہ دیکھو کہ آخرت کی خبر دینے والا کون ہے ؟ ” انہ لقول رسول کریم “ یہ علیحدہ جملہ ہے۔ یہ ایک مکرم و محترم رسول (محمد ﷺ کی زبان سے نکلی ہوئی بات ہے جسے وہ اپنے پروردگار کی طرف سے تم تک پہنچا رہا ہے یہ اس کی اپنی بنائی ہوئی بات نہیں، نہ کسی شاعر کا قول ہے نہ کاہن کا۔ یعنی محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–52
گذشتہ سے پیوستہ : سورۃ الحاقہ کے پہلے رکوع میں قیامت کا ذکر ہے۔ آخری آیتوں میں بنیادی عقائد کا بیان ہے منجملہ ان کے رسالت اور نبوت کا ذکر ہے۔ جس طرح کفار قیامت کا انکار کرتے تھے۔ اسی طرح حضور ﷺ السلام کی نبوت اور رسالت کے منکر تھے۔ پہلے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ بھی اسی قسم کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جب کہ لوگ ان کی تکازیب کرتے تھے۔ یہ لوگ نہ صرف پیغمبر کا انکار کرتے تھے۔ بلکہ وحی الہٰی اور اس کے لانے والے فرشتے کا بھی انکار کرتے تھے۔ کہتے تھے کہ یہ اپنے پاس سے باتیں گھڑ کر لایا ہے۔ خدا کا پیغام نہیں ہے۔ بعض شاعر اور کاہن کا خطاب دیتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ یہ غیب کی خبریں بتاتے ہیں۔ اور سچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
فَلَآ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَ 38 ۙ وَمَا لَا تُبْصِرُوْنَ 39 ۙ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–52
ترکیب : فلا اقسم قیل لامزیدۃ اوفلار ولانکارھم البعث ثم اقسم وقیل نافیۃ للقسم کانہ قال لا اقسم علی ان القرآن قول رسول کریم لظہورالامر واستغنائـہ عن التحقیق بالقسم انہ لقول الخ جواب القسم مؤکد بان واللام والا سمیّہ۔ وماھوالخ الجملۃ تاکید لقولہ انہ لقول رسول کریم قلیلا ما زائدۃ للتاکید ولابقول کا ھن عطف علیٰ قولہ بقول شاعر۔ تنزیل خبر متبدء ھو تنزیل تقول قرء الجمہور مبیناً للفاعل والتقول تکلف القول والافتراء والاقاویل جمع اقوال جمع قول کا بابیت جمع ابیات جمع بیت والاقوال المفتراۃ اقاویل تحقیر الھا لاخذنا جواب لوحاجزین وصف لاحد فانہ عام لکونہ نکرۃ واقعۃ فی سیاق النفی۔ حق الیقین من اضافۃ الصفۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
فَـلَآ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَ ۔ وَمَا لاَ تُبْصِرُوْنَ ۔ اِنَّـہٗ لَـقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ ۔ وَّمَا ھُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍط قَلِیْلاً مَّا تُؤْمِنُوْنَ ۔ وَلاَ بِقَوْلِ کَاھِنٍط قَلِیْلاً مَّا تَذَکَّرُوْنَ ۔ تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (الحآقۃ : 38 تا 43) (پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی جن کو تم دیکھتے ہو۔ اور ان چیزوں کی جن کو تم نہیں دیکھتے۔ یہ ایک رسول کریم کا قول ہے۔ اور یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے، تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔ اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے، تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو۔ یہ خداوندِعالم کی طرف سے اتارا ہوا ہے۔ ) ” لا “ کا مفہوم آیت کے شروع میں ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–48
فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی تعلیمات میں اس کی سر فہرست تعلیم یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لایا جائے اور یہ یقین رکھا جائے کہ قیامت ہر صورت آنے والی ہے۔ نافرمان لوگ اللہ اور اس کے رسول اور قیامت پر ایمان لانے کی بجائے قرآن مجید کا ہی انکار کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ یہ شاعرانہ کلام ہے جس کی تردید کی جا رہی ہے۔ قسم ہے ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے بلاشک یہ قرآن رسول کریم ﷺ کی زبان سے پڑھا جاتا ہے یہ کسی شاعر کا کلام نہیں اگرچہ تم بہت کم لوگ ایمان لاتے ہو اور نہ قرآن کسی کاہن کا کلام ہے یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے لیکن تم بہت ہی…
Read the full tafseer →39 : وَمَا لَاتُبْصِرُوْنَ (اور جن کو تم نہیں دیکھتے ہو) یعنی ملائکہ ارواح وغیرہ پس حاصل یہ ہوا کہ تمام اشیاء کی قسم اٹھائی۔
Read the full tafseer →38 ۔” فلا اقسم “ لا مشرکین کے کلام کی تردید ہے۔ گویا کہ کہا کہ معاملہ ویسے نہیں ہے جیسے مشرکین کہتے ہیں میں قسم کھاتا ہوں۔ ” بما تبصرون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
38۔ 43۔ تفسیر مقاتل و ابن جریر وغیرہ میں قتادہ سے روایت ہے کہ مشرکین مکہ میں سے کچھ لوگ آنحضرت ﷺ کو شاعر اور کچھ کاہن کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں یہ آیتیں نازل فرمائیں اور دونوں جہان کی تمام مخلوقات کی قسم کھا کر فرمایا کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس کو اپنے رسول پر اس نے نازل فرمایا ہے جن لوگوں کو عقبیٰ کی باتوں پر پورا یقین نہیں ہے وہ اس قرآن کو شاعر کا اور جو لوگ قرآن کی شان پر پورا غور نہیں کرتے وہ کاہن کا کلام کہتے ہیں یہ نادان اتنا خیال نہیں کرتے کہ ان میں بعض لوگ ایسے ہیں جو خود بھی شاعر ہیں اور ایسے جنات کے ان کو بہت سے شعر بھی یاد ہیں جو چوری سے کچھ غیب کی باتیں اڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
اللہ تبار وتعالی نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنہیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنہیں نہیں دیکھ سکتی ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے یہ قسم رسول اللہ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ نے اپنے رسول کو کفار کی تمام بہتان طرازیوں سے ، ، مثلا یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں منزہ قرار دیا ہے ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چناچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انہوں نے غور و فکر کیا ہوتا تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ کیا چیز انہیں فائدہ دیتی…
Read the full tafseer →33 ایک اہم اور جامع قسم کا ذکر وبیان : سو اس سے منکرین کے زعم باطل کی تکذیب و تردید کیلئے ایک اہم اور جامع قسم کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ میں قسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی جن کو تم لوگ دیکھتے ہو اور ان کی بھی جن کو تم لوگ نہیں دیکھتے۔ پس اس میں سب ہی چیزوں کی قسم آگئی ‘ خالق و مخلوق ‘ دنیا و آخرت ‘ ظواہر و بواطن ‘ اجسام و ارواح ‘ انس و جن ‘ آثار و اسرار وغیرہ سب کی کہ " ماتبصرون وما لا تبصرون " کا عموم ان سب کو شامل ہے ‘ سو اس جامع قسم کے ساتھ ارشاد فمرایا گیا کہ تم لوگ جو پیغمبر کو ساحر اور شاعر وغیرہ قرار دیتے ہو سب غلط اور باطل ہے۔ بات ایسے نہیں ہے بلکہ ان کا کہنا اللہ کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–52
قرآن مجید کے کلام الٰہی ہونے کا ثبوت تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ قرآن کی سچائی معقولیت اور لاجواب کتاب ہونے پر قسم اٹھاتا ہے یہ قسم بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اٹھائی جا رہی ہے۔ یہاں کائنات میں موجود ہر اس چیز کی قسم کھائی گئی ہے جو ہماری نظروں کے سامنے واضح صورت میں موجود ہیں اور ان چیزوں کی بھی جو بیشمار مختلف صورتوں میں کائنات میں ہر طرف موجود ہیں اور ابھی تک کوئی محقق ان کو نہ دیکھ سکا ہے نہ ان کی وضاحت ہی کرسکا ہے۔ کہ قرآن پاک الہ العٰلمین کا کلام ہے معزز ترین فرشتے سیدناجبرائیل (علیہ السلام) کی زبان سے رسول کریم ﷺ تک پہنچایا گیا ہے۔ اور اس میں کوئی شک و شبہ یا تحریف و ترمیم ہرگز نہیں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–52
آیات 38 تا 52۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان چیزوں کی جو تمہیں دکھائی دیتی ہیں اور ان کی جو تم نہیں دیکھ سکتے کہ کائنات کی ہر شے اور ہر طاقت اس پر گواہ ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے جو ایک معزز فرشتے کے ذریعہ سے اللہ کے برحق رسول پہ نازل ہوا یعنی قرآن نے دیکھے ان دیکھے نتائج کے لیے بھی ایساجامع نظام حیات دیا کہ عقیدے عبادت سے لے کر عمل تک دنیا کے ہر خطے ہرموسم اور ہر قوم کے لیے بہترین نتائج پیدا کرتا ہے ظاہر ابھی جو نظر آتے ہیں اور باطلا بھی جو حقائق فی الحال نگاہ سے اوجھل ہیں اور آخرت میں سامنے آئیں گے بھلا ایسا کامل ومکمل نظام بجز اللہ کے کون دے سکتا ہے۔ یہ سب اس بات پر گواہ ہے کہ فرشتے کا لایا ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
ف 7 جیسے زمین و آسمان، آدمی اور جانور وغیرہ … آیت کا یہ مطلب اس صورت میں ہے جب فلا میں لا کو زائد مانا جائے جیسا کہ اکثر مفسرین کا خیال ہے ورنہ مطلب یہ ہوگا کہ ” مجھے ان چیزوں کی قسم کھانے کی ضرورت نہیں جنہیں تم دیکھتے ہو
Read the full tafseer →(69:39) وما لا تبصرون : اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اور (ان چیزوں کی) جن کو تم نہیں دیکھ سکتے۔ آیات 38:39 میں اول الذکر سے مراد وہ چیزیں ہیں جو صفات خداوندی کی مظہر ہیں۔ اور جن کو عقل یا چہرہ کی آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ مؤخر الذکر سے مراد وہ صفات و ذوات مراد ہیں جن کی حقیقت نہ دانش و فہم سے نظر آتی ہیں نہ آنکھوں سے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اول سے مراد اجسام اور دوسرے سے ارواح۔ یا اول سے مراد انسان اور دوسرے سے مراد جن و ملائکہ۔ یا اول سے مراد وہ علم ہے جس کو اللہ نے ملائکہ، جن و انس پر ظاہر کردیا ہے اور دوسرے سے مراد وہ خصوصی علم ہے جس سے اور کوئی واقف نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
لغات القرآن۔ الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں) رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔ دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
(ف 3) شان نزول : تفسیر مقاتل میں ابن جریروغیرہ میں قتادہ سے روایت ہے کہ مشرکین مکہ میں سے کچھ لوگ نبی ﷺ کو شاعر اور کاہن کہتے تھے اللہ نے ان کے جواب میں یہ آیتیں نازل فرمائیں اور دونوں جہان کی تمام مخلوقات کی قسم کھاکریہ فرمایا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے جس کو اپنے رسول پر اس نے نازل فرمایا ہے جن لوگوں کو عقبی کی باتوں پر پورا یقین نہیں ہے وہ اس قرآن کو شاعر کا اور جو لوگ قرآن کی شان پر پوراغور نہیں کرتے، وہ کاہن کا کلام کہتے ہیں، یہ نادان اتنا خیال نہیں کرتے کہ ان میں بعض لوگ ایسے ہیں جو خود بھی شاعر ہیں پھر قران بھی اگر کسی شاعر کا یا کاہن کا کلام ہوتا تو ان لوگوں سے تو گھڑی گھڑی کہا جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
[14] یعنی وہ بات نہیں جو تم لوگ سمجھ رہے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–41
ف 1: ہم دنیا میں اپنے مال و دولت پر مفرور تھے ۔ اور سمجھتے تھے ۔ کہ یہ ثروت ۔ یہ کنوز اور خزائن ۔ ہمیں عاقبت میں بھی عزت وافتخار تخشیں گے ۔ اور جس طرح دنیا میں ہم تمول کی وجہ سے ہر نوع کی آسودگی حاصل کرلیتے ہیں ۔ شاید آخرت میں بھی اس کی بدولت جنت اور اس کی آسائشوں کو خریدا جاسکے گا ۔ مگر آہ کہ یہ خیال درست ثابت نہیں ہوا ۔ ان لوگوں کے متعلق یہ فیصلہ ہوگا ۔ کہ ان کو پکڑلو ۔ اور طوق وسلاسل پہنادو ۔ اور پھر ایک طویل زنجیر میں جکڑ کر جہنم میں پھینک دو ۔ کیونکہ ان لوگوں کا اللہ پر ایمان نہ تھا ۔ ان کے دلوں میں بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی نہ تھی ۔ ان کے دل غریبوں کو دیکھ کر پسیجتے نہ تھے ۔ یہ اپنے…
Read the full tafseer →(39) اور ان چیزوں کی بھی جن کو تم نہیں دیکھتے۔ دنیا کی بعض چیزیں مدرک بالبصر ہیں اوراقرب الی الفہم ہیں اور بعض نہیں اسی وجہ سے مفسرین نے بہت سی باتیں بیان کی ہیں مثلاً قرآن کے وہ لطائف جن کو سمجھ سکتے ہوں اور وہ لطائف جن کو بدون تعلیم اور تنبیہہ کے نہیں سمجھ سکتے یعنی عقل کی آنکھ بعض خوبیوں کو دیکھ لیتی ہے اور بعض پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم کی محتاج ہوتی ہیں۔ یا ماتبصرون سے جو زمین کے اوپر ہے اور مالا تبصرون سے وہ جو زمین کے نیچے پوشیدہ ہے یا عالم اجسام اور عالم ارواح یا مکہ معظمہ اور بیت المعمور غرض معنی کے اعتبار سے آیت کا مفہوم بہت عام ہے اور بعض نے فرمایا ہے کہ ماتبصرون سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
ف 7۔ اس قسم کو مقصود سے ایک خاص مناسبت ہے کہ قرآن مجید کا لانے والا تو نظر نہ آتا تھا اور جن پر قرآن آتا تھا وہ نظر آتے تھے، یعنی تمام مخلوق کی قسم ہے۔
Read the full tafseer →اور ان چیزوں کی جو تم نہیں دیکھتے 39 ؎ اگر ان چیزوں کو شمار کرنے لگیں جن کو انسان کی یہ مرئی آنکھ نہیں دیکھ سکتی تو وہ بھی ان گنت اور بیشمار ہیں۔ پھر ان ان دیکھی اور ان سمجھی باتوں پر ایمان لانے کی دلیل کیا دی جاسکتی ہے۔ اور ان چیزوں کی شہادت کو ان کے سامنے کیونکر پیش کیا جاسکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں نظر آتی ہیں ان کی گواہی پیش کرو یا ان چیزوں کی گواہی پیش کرو جو نظر نہیں آتیں اور ان کو یہ ظاہری آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں لیکن ان میں سے بھی ایک ایک کر کے ان کو بطور شہادت پیش کرنا شروع کردیں تو بھی جن لوگوں نے حق کو حق تسلیم نہیں کرنا ہے وہ کبھی تسلیم نہیں کریں گے اور اسی طرح قرآن کریم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
فَلَا أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُونَ وَمَا لَا تُبْصِرُونَ (I swear by what you see, and what you do not see….69:38-39). This comprehends the entire body of creation. Some say 'what you do not see' refers to the Being of Allah Ta` ala and His attributes. Others say 'what you see' refers to things of the mortal world, and 'what you do not see,' refers to things of the Hereafter. [ Mazhari ] And Allah, the Pure and Exalted, Knows best!
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
21 That is, the truth is not as you think it to be.
Read the full tafseer →