Al-Haaqqa 69:36

Al-Haaqqa · from ayah 36

69:36

وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍ ۟ۙوَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍۙ

اور نہ پیپ کے سوا (اس کے لئے) کھانا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Nor any food except from the discharge of wounds;

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa

All translations of 69:36

اور نہ زخموں کے دھوون کے سوا اِس کے لیے کوئی کھانا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور نہ پیپ کے سوا (اس کے لئے) کھانا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور نہ سوائے پیﭗ کے اس کی کوئی غذا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور نہ اس کو کوئی کھانے کی چیز میسر ہے۔ سوائے غسلین کے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور نہ کچھ کھانے کو مگر دوزخیوں کا پیپ،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور نہ پیپ کے سوا (اُس کے لئے) کوئی کھانا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور نہ اس کے لیے زخموں کے دھو ون کے سوا کوئی کھانا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور زخموں کے دھوؤن کے سوا اسے کچھ کھانے کو بھی نہ ملے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور غسالہ کے سوا اس کے لیے کوئی کھانا نہیں ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور نہ ہی اس کے لئے کھانے کی کوئی چیز ہوگی بجز (دوزخیوں کے) زخموں کی اس دھو ون کے

— مولانا اسحاق مدنی

بجز زخموں کے دھوؤن کے جسے کوئی بھی نہ کھائے گا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نہ ہی کچھ کھانے کو ہے سوائے زخموں کے دھو ون کے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور نہ پیپ کے سوا اس کے لیے کھانا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and has no food except the filth from the washing of wounds,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

nor any food except that which comes out from wounds when washing,

— Muhammad Taqi Usmani

nor any food except that which comes out from wounds when washing,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nor any food except filth from Ghislin.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nor any food except from the discharge of wounds;

— Saheeh International

and no food except pus

— Muhammad Sarwar

Nor any food except refuse,

— Muhammad Habib Shakir

Nor any food save filthy corruption.

— Abdul Majid Daryabadi

"Nor hath he any food except the corruption from the washing of wounds,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 69:36

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 25–37

بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کردیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے، یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا حکم دے گا کہ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 34–37

سورة الْحَآقَّة 20 یعنی خود کسی غریب کو کھانا کھلانا تو درکنار، کسی سے یہ کہنا بھی پسند نہ کرتا تھا کہ خدا کے بھوکے بندوں کو روٹی دے دو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 35–37

فَلَيْسَ لَهُ الْيَوْمَ هٰهُنَا حَمِيْمٌ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِيْن، حمیم مخلص اور گہرے دوست کو کہا جاتا ہے اور غسلین بکسر غین وہ پانی ہے جس میں جہنمیوں کے زخموں کی پیپ وغیرہ دھوئی جاوے گی۔ مطلب آیات کا یہ ہے کہ آج اس کا کوئی دوست عزیز اس کی حمایت نہ کرسکے گا اور اس کو عذاب سے نہ بچا سکے گا اور اس کے کھانے کے لئے سوائے اس گندے پانی کے جس میں اہل جہنم کی پیپ اور پس پڑی ہوگی اور کچھ نہ ہوگا اور کچھ نہ ہونے کا مفہوم اوپر خلاصہ تفسیر میں یہ بتلایا گیا ہے کہ مرغوب کھانوں میں سے کچھ نہ ہوگا غسلین کی طرح کی کوئی اور مکروہ بد ذائقہ چیز کی نفی نہیں ہے اس لئے دوسری آیت میں جو اہل جہنم کا زقوم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’غسلین‘ ناپاک اور گندی چیزوں کے غسالہ کو کہتے ہیں۔ چونکہ انہوں نے اپنی دولت کا مصرف صرف اپنی تن پروری اور اپنے کام و دہن کی لذت ہی کو سمجھا اور اس حرص میں غرباء مساکین کے حقوق ہڑپ کر کے اپنے سارے مال کو نجس بنایا اس وجہ سے قیامت کے دن ان کو ناپاک چیزوں کا دھوون ہی کھانے پینے کو ملے گا۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ آدمی کا مال اللہ کی راہ میں انفاق سے پاک ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص انفاق نہیں کرتا تو اس کا سارا مال نجاست کا ڈھیر بن جاتا ہے جس کی اصل حقیقت قیامت میں اس کے سامنے اس شکل میں ظاہر ہو گی جو بیان ہوئی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

3 6 ۔ 1 بعض کہتے ہیں کہ یہ جہنم میں کوئی درخت ہے بعض کہتے ہیں کہ زقوم ہی کو غسلین کہا گیا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ جہنمیوں کی پیپ یا ان کے جسموں سے نکلنے والا خون اور بدبودار ہوگا۔ اللہ ہمیں اس سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 36–38

7:”غسلین“ اصل میں تو اس پانی کو کہتے ہیں جو زخموں کو دھوتے وقت زخموں سے گرتا ہے، بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ جہنمیوں کی کوئی غذا ہے جو اس زخموں کے پانی کے مشابہ ہوگی۔ واللہ سبحانہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 35–36

فلیس لہ ............ الخاطون اس بدبخت شخص کے انجام بد کا یہ تکمیلی بیان ہے۔ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ لاتا تھا۔ مساکین کی ضروریات بھی فراہم نہ کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اب قیامت میں اس کا کوئی دوست نہیں ہے۔ فلیس ................ حمیم (96 : 53) ” لہٰذا آج یہاں اس کا کوئی غم خوار نہیں ہے “ اور اس کے وہاں کھانے کا انتظام مساکین سے بھی بدتر ہے۔ ولا طعام ............ غسلین (96 : 63) ” زخموں کے دھو ون کے سوا اس کے لئے کوئی کھانا نہیں ہے “۔ غسلین سے مراد اہل جہنم کی پیپ اور زخموں کے پانی اور اس پانی کو کہتے ہیں جو زخموں کے دھونے سے نکلتا ہے۔ ایسے گندہ لوگوں کے لئے ، اب ایسی ہی گندی خوراک موزوں ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 36–37

5 کھانے سے بھی انسان کو قوت پہنچتی ہے مگر دوزخیوں کو کوئی ایسا مرغوب کھانہ نہ ملے گا جو راحت و قوت کا سبب ہو ہاں دوزخیوں کے زخموں کی پیپ دی جائے گی جسے ان گنہگاروں کے سوا کوئی نہیں کھا سکتا اور وہ بھی بھوک پیاس کی شدت میں غلطی سے یہ سمجھ کر کھائیں گے کہ اس سے کچھ کام چلے گا۔ بعد کو ظاہر ہوگا کہ اس کا کھانا بھوک کے عذاب سے بڑا عذاب ہے (اعاذنا اللہ من سائر انواع العذاب فی الدنیا والاخرۃ)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 34–37

آیت 34{ وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ۔ } ”اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔“ اسے خود تو کسی مسکین کو کھانا کھلانے کی کبھی توفیق نہیں ہوئی ‘ کسی دوسرے شخص کو بھی اس نے بھلائی کے اس کام کی کبھی ترغیب نہیں دی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 34–36

20 دو بنیادی گناہ ہیں جن سے باقی گناہ پھوٹتے ہیں :۔ اس کے اعمال نامہ یا فرد جرم میں دونوں بڑی قسموں کے جرائم پائے جاتے تھے۔ نہ وہ اللہ پر ایمان لایا اور نہ اس کے اوامرونواہی کی پروا کی۔ واضح رہے کہ اگر کوئی شخص زبانی طور پر اللہ کی ہستی کا قائل تو ہو مگر آخرت پر اور اس کے سامنے باز پرس پر ایمان نہ رکھتا ہو۔ تو اس کا زبانی اللہ کی ہستی کا اقرار کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔ کفار مکہ اللہ کی ہستی کے قائل تھے مگر آخرت کے قائل نہ تھے تو اللہ نے انہیں کافر ہی قرار دیا ہے اور یہ جرم عذاب جہنم کے مستحق ہونے کے لئے کافی ہے۔ دوسری نوعیت کے جرائم وہ ہیں جن کا بظاہر حقوق العباد سے تعلق ہوتا ہے۔ اگرچہ ان میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 35–37

14۔ یعنی ان کافروں مجرموں کو دوزخ میں غذائیں بھی ملیں گی، تو اتنی نفرت انگیز اور گندی کہ کوئی اور انسان تو ادھر رخ بھی نہیں کرسکتا ! (آیت) ” الخاطؤن “۔ مراد خطا پیشہ یعنی منکرین وکافرین ہیں۔ الکافرون (مدارک۔ معالم) وھم المشرکون (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 17–37

ویحمل عرش رب فوقھم یومئذ ثمنیۃ اس رکوع کی اکثر آیات کی تشریح، تسہیل و تحقیق کے زیر عنوان گزر چکی ہے، زیر نظر آیت متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین کرنا مشکل ہیں ہم نہ یہ جان سکتے ہیں کہ عرش کی حقیقت کیا ہے اور نہ یہ جان سکتے ہیں کہ قیامت کے روز عرش کو آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کی کیا کیفیت ہوگی ؟ لیکن یہ بات بہرحال قابل تصور نہیں، کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھے ہوئے ہونگے، اور ذات باری کا جو تصور قرآن پیش کرتا ہے وہ بھی اس خیال کے کرنے سے مانع ہے کہ وہ جسم، جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اسے اٹھائے، اس لئے کھوج کر ید کر کے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولا طعام الا من غسلین . اور سوائے غسلین کے اس کے لیے کوئی کھانے کی چیز نہ ہوگی۔ لفظ لا زائد (برائے تاکید) ہے اور استثناء مضرغ ہے۔ غسلین دوزخیوں کا کچ لہو ہوگا (دھو ون) غسلین بروزن فعلین غسل (دھونا) سے ماخوذ ہے۔ ابن ابن حاتم نے بطریق عکرمہ حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ غسلین دوزخیوں کا کچ لہو ہوگا۔ ضحاک اور ربیع کا قول ہے کہ غسلین ایک درخت ہوگا جس کو دوزخی کھائیں گے۔ ابن ابی حاتم نے بطریق مجاہد بیان کیا کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا مجھے نہیں معلوم کہ غسلین کیا چیز ہوگی مگر میرا خیال ہے کہ غسلین ہی زقوم (تو ہر کا درخت) ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 35–37

(35۔ 37) سو اس شخص کو فائدہ پہنچانے کے لیے نہ آج اس کا کوئی قریبی رشتہ دار ہے اور نہ دوزخ میں اس کو کھانے کی کوئی چیز نصیب ہے ماسوا دوزخیوں کے زخموں کی پیپ اور خون کے جس کو مشرکین کے علاوہ اور کوئی نہ کھائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ولا طعام الامن غسلین :”غسلین“”غسل یعسل“ (ض) سے ”فعلین“ کا وزن ہے، زخم یا کوئی گندی چیز دھونے سے نکلنے والا پانی، ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا :”اس سے مراد جہنمیوں کے زخموں سے نکلنے والا لہو اور پیپ ہے۔“ (طبری بسند حسن)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 35–37

فلیس لہ الیوم ھھنا حمیم۔ لہ، لیس کی خبر ہے ھاھنا اس کی خبر نہیں کیونکہ اسے خبر بنایا جائے تو معنی یہ بنتا ہے وہاں کھانا نہیں مگر غسلین۔ یہ صحیح نہیں کیونکہ وہاں غسلین کے علاوہ بھی کھانا ہے ھاھنا اس فعل کے متعلق ہے جو لہ کے معنی میں پایا جاتا ہے۔ یہاں حمیم سے مراد قریبی ہے یعنی اس کا کوئی قریبی نہیں جو اس کے لئے نرمی کرے اور اس کا دفاع کرے۔ یہ حمیم سے ماخوذ ہے جس کا معین گرم پانی ہے کیونکہ دوست وہ ہوتا ہے جو اس کے لئے نرمی کرتا ہے اور اس کا دل اس کے لئے جلتا ہے۔ غسلین، یہ غسل سے فعلین کا وزن ہے گویا یہ ان کے بدنوں سے نچڑتا ہے، یہ جہنمیوں کی پیپ ہے جو ان کے زخموں اور شرمگاہوں سے بہتی ہے، حضرت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن ابی حاتم وابو القاسم الزجاجی النحوی فی امالیہ مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نہیں جانتا کہ غسلین کیا ہے۔ لیکن میں اس کو زقوم کا درخت گمان کرتا ہوں۔ 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت غسلین سے مراد ہے خون اور پانی جو دوزخ والوں کے گوشت سے بہے گا۔ 3۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی بن ابی طلیحہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت غسلین سے مراد ہے دوزخ والوں کی پیپ غسلین سخت بدبو دار ہے 4۔ الحاکم وصححہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اگر غسلین میں سے ایک ڈول دنیا میں بہادیا جائے گا تو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّلَا طَعَامٌ: اور نہ چکھنے کی کوئی چیز ][ اِلَّا مِنْ غِسْلِيْنٍ : سوائے زخموں کے میل کچیل میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 35–37

مجرمین غِسْلِيْنٍ كھائیں گے : ﴿فَلَيْسَ لَهُ الْيَوْمَ هٰهُنَا حَمِيْمٌۙ0035 وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِيْنٍۙ0036 لَّا يَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِـُٔوْنَ (رح) 0037﴾ (سو آج اس کے لیے یہاں کوئی دوست نہیں اور نہ غِسْلِيْنٍ کے علاوہ اس کے لیے کوئی کھانا ہے جسے صرف خطاکار ہی کھائیں گے) ۔ لفظ غِسْلِيْنٍ فعلین کے وزن پر ہے جو لفظ غسل سے ماخوذ ہے غسل دھونے کو کہتے ہیں۔ علماء تفسیر نے اس کا ترجمہ زخموں کے دھو ون سے کیا ہے غِسْلِيْنٍ کا معنی اگرچہ زخموں کا دھو ون ہے اور زخموں کو اس وقت دھویا جاتا ہے جب مرہم پٹی کی جائے اور صاف کر کے مرہم لگایا جائے لیکن دوزخیوں کے زخموں کا دھو ون خود ان کے جسموں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–37

ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔ ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 33–37

12:۔ ” انہ کان لا یؤمن “ یہ مقابل کی علت ہے۔ کافر اور مشرک کی یہ سزا اس لیے ہوگی کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے تھے، بلکہ اس کے سوا اپنے خود ساختہ معبودوں کی بھی عبادت کرتے اور ان کو برکات دہندہ سمجھتے تھے نیز وہ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی نہ دوسروں کو ترغیب دیتے تھے نہ اپنے مال سے مسکینوں کو خود کھلاتے اور نہ اپنے خادموں کو اس کا حکم دیتے۔ ” فلیس لہ الیوم “ اس لیے آج یہاں ان کا کوئی دوست اور غمخوار نہیں۔ نہ آج ان کے لیے کوئی عمدہ خوراک ہے البتہ پیپ ہے جو جہنمیوں کے زخموں سے بہتی ہوگی یہی ان کی خوراک ہوگی اور ان مجرموں کے سوا کوئی اسے نہیں کھائیگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 25–37

گذشتہ سے پیوستہ : قیامت واقع ہونے پر انسانوں کے دو گروہ ہوجائیں گے۔ پہلی آیتوں میں صور پھونکنے کا ذکر ہوا۔ نظام کے درہم برہم ہوجانے اور زمین و آسمان کے تغیر و تبدل کا بیان ہوا۔ اس روز عرش الہٰی اور ملائکہ کی کیفیت کا حال بھی ذکر کیا گیا پچھلے درس میں اس گروہ کا ذکر ہوا جس کو اعمالنامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ۔ وہ بڑا خوش ہوگا۔ اپنا اعمالنامہ لوگوں کو دکھاتاپھرے گا۔ اس گروہ کو ملنے والے انعام و اکرام کا ذکر بھی پچھلے درس میں ہوچکا ہے۔ بائیں ہاتھ والے : اب ناکام ہونے والے گروہ کا بیان ہوتا ہے بہرحال وہ انسان جس کو اس کا اعمالنامہ بائیں ہاتھ میں دیا گیا۔ ہوہ کہے گا کاش کہ یہ اعمالنامہ مجھے نہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِيْنٍ۝ 36 ۙ غسل غَسَلْتُ الشیء غَسْلًا : أَسَلْتُ عليه الماءَ فأَزَلْتُ دَرَنَهُ ، والْغَسْلُ الاسم، والْغِسْلُ : ما يُغْسَلُ به . قال تعالی: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ ... الآية [ المائدة/ 6] ، والِاغْتِسَالُ : غَسْلُ البدنِ ، قال : حَتَّى تَغْتَسِلُوا[ النساء/ 43] ، والمُغْتَسَلُ : الموضعُ الذي يُغْتَسَلُ منه، والماء الذي يُغْتَسَلُ به، قال : هذا مُغْتَسَلٌ بارِدٌ وَشَرابٌ [ ص/ 42] . والْغِسْلِينُ : غُسَالَةُ أبدانِ الكفّار في النار قال تعالی: وَلا طَعامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ [ الحاقة/ 36] . غ س ل ) غسلت الشئی غسلا کے معنی کسی چیز پر پانی بہا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–37

ترکیب : نفتحہ واحدۃ بالرفع علی انھا مفعول مالم یسم فاعلہ من نفخ المجھول وانما حسن تذکیرا لفعل للفصل اوان التانیث غیرحقیقی و قریٔ بالنصب ان فی الصور مفعول مالم یسم فاعلہ ثم نصب نفتحہ علی انھا مفعول مطلق واحدۃ تاکید لھا۔ وحملت الارض الخ بالتخفیف و قریٔ 1 ؎ والقطوف قطف وھوالمقطوع ای الثمر ما اسلفتم ای قدتم من اعمالکم الصالحۃ الاسلاف تقدیم ما ترجوا ان یعود علیک بخیر فھو کالا قراض و منہ یقال اسلف فی کذا اذا قدم فیہ مالہ ذرعھا الخ صفۃ لسلسلۃ غسلین فعلین من الغسل ھو وماء یسیل من الجروح بعد الغسل من صدید قیح دوم 12 منہ 2 ؎ یالیتھا الضمیر یعودالی الموتۃ الاولی فانھا کالمذکورا والی الحالۃ التی شاھدھا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 35–37

فَلَیْسَ لَـہُ الْیَوْمَ ھٰھُنَا حَمِیْمٌ۔ وَّلاَ طَعَامٌ اِلاَّ مِنْ غِسْلِیْنٍ ۔ لاَّیَاْ کُلُـہٗٓ اِلاَّ الْخَاطِؤُنَ ۔ (الحآقۃ : 35 تا 37) (پس آج اس کا یہاں کوئی یارِغمخوار نہیں۔ اور زخم کے غسالہ کے سوا اس کے لیے کوئی کھانا نہیں۔ جسے خطاکاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا۔ ) مشکل الفاظ کی تشریح : حَمِیْمٌ … مخلص اور گہرے دوست کو کہتے ہیں۔ غِسْلِیْنٍ … زخمیوں کے دھو ون یعنی غسالہ کو کہتے ہیں۔ ان جرائم کی سزا ان کو یہ ملے گی کہ قیامت کے دن ان کا کوئی مخلص دوست اور کوئی ہمدرد و غمخوار نہیں ہوگا جو انہیں عذاب سے بچا سکے۔ ظاہر ہے کہ جو شخص اپنی دولت کا مصرف اپنی تن پروری، لذتِ کام و دہن یا دولت میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 25–37

فہم القرآن ربط کلام : جنتی کے مقابلے میں جہنمی کا حال اور ان کی بدنصیبی۔ رب ذوالجلال کے حکم سے نیک لوگوں کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں پہنچ چکے ہوں گے اور انہیں جنت میں داخلہ دیا جائے گا۔ ان کے مقابلے میں برے لوگوں کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے، جونہی برے شخص کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ چیخ اٹھے گا اور کہے گا ہائے افسوس ! کاش کہ مجھے میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا اور مجھے یہ علم ہی نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے، کاش ! دنیا کی موت ہی آخری موت ثابت ہوتی۔ آج نہ میرا مال میرے کام آیا اور نہ ہی میرے اقتدار اور اختیار نے مجھے فائدہ دیا یہاں اختصار سے کام…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

36 : وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍ (اور نہ اس کو کوئی کھانے کی چیز نصیب ہے۔ بجز زخموں کے دھون کے) غسلینؔ اہل نار کے زخموں کا دھون۔ یہ فعلین کا وزن ہے۔ یہ الغسل سے بنا ہے نون اس کی زائدہ ہے۔ یہاں اس سے مراد جہنمیوں کے بدنوں سے بہنے والی پیپ اور خون ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 25–37

25۔ 37۔ جن لوگوں کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے جب وہ لوگ اس میں اول سے آخر تک بدیاں لکھی ہوئی دیکھیں گے تو نہایت پریشانی سے وہ باتیں کہیں گے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے اسی وقت خدا تعالیٰ فرمائے گا ایسے لوگوں کو گرفتار کرکے ان کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں اور ان کو دوزخ میں جھونک دیا جائے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے نہ اللہ کی عبادت کی نہ اللہ کی مخلوقات کو کچھ فائدہ پہنچایا پھر ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر ستر گز کی زنجیر میں ان کی جماعت کی جماعت کو پرو دیا جائے گا اور دوزخ میں جھونک دیا جائے گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ 2 ؎ کا قول ہے کہ یہ ستر گزر فرشتوں کے ہاتھوں کی ناپ کے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 36–37

(ولا طعام الا غسلین) اور نہ غسلین کے سوا اور ان کا کوئی کھانا ہے۔ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ، بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہاء کو پہنچی ہوئی ہوگی، نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا (الا الخاطئون) مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انہیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ دردناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 35–36

30 دوزخیوں کا کھانا زخموں کی دھو ون۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے الفاظ و کلمات کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا اور نہ ہی اس کیلئے کوئی کھانا ہوگا سوائے زخموں کی دھون کے۔ جو کہ دوزخیوں کے جسموں سے پیپ ‘ لہو اور کچ لہو وغیرہ کی صورت میں بہہ رہی ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ واضح رہے کہ یہ حصر اضافی ہے یعنی کوئی مرغوب اور مفید غذا ان کو بہرحال نہیں ملے گی بلکہ غسلین ‘ زقوم ‘ اور حمیم جیسی سخت بری اور تکلیف دہ چیزیں ہی کھانے کو ملیں گی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ غسلین ناپاک اور گندی چیزوں کے غسالہ یعنی دھو ون کو کہا جاتا ہے۔ سو ایسے لوگوں نے چونکہ اپنے مال و دولت کا مصرف اپنی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–37

برُے اور اچھے لوگوں کا حال تشریح : یہ سب غیب کی خبریں ہیں۔ جن کی وضاحت کوئی حکیم ” سائنسدان ” مفکر ” منجم اور عالم دین اس سے زیادہ نہیں کرسکتا جو وضاحت قرآن پاک میں یہاں بڑی آسان اور واضح آیات کی صورت میں کردی گئی ہے۔ ان پر پوری طرح سے ایمان و یقین لانا اس لیے ضروری ہے کہ یہ اللہ کا پیغام نبی ﷺ کے ذریعہ دیا گیا ہے اور اس کی اہمیت اور سچ کو یوں بیان کیا گیا ہے ملاحظہ ہو۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–37

سورة الحاقہ۔ آیات 1 تا 37۔ اسرار ومعارف۔ دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔ کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 36–37

ف 6 یا ” زخموں کا دھوئوں “ عموماً مفسرین نے غسلین کے یہی معنی بیا نکئے ہیں۔ ضحاک اور ربیع کہتے ہیں کہ وہ ایک درخت ہے جسے دوزخی کھائیں گے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ وہ بدترین قسم کا ایک کھانا ہے۔ ابن زید کہتے ہیں کہ اس کی اور زقوم کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ دوسری آیت میں ہے۔ لیس لھم طعام الامن ضریع “ ان کو ضریع کے سوا کوئی کھانا نصیب نہ ہوگا۔ اس لئے ممکن ہے غسلین سے مراد ” ضریع “ ہی ہو۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(69:36) ولا طعام الا من غسلین۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اور نہ ہی (اس کے لئے یہاں) کھانا ہوگا سوائے غسلین کے۔ غسلین : غسل مصدر سے (باب ضرب) (1) زخموں کا دھو ون یعنی کافر دوزخیوں کے زخموں سے نکلنے والا پانی۔ پیپ۔ (2) دوزخ کے ایک درخت کا نام ہے۔ (3) ای صدید اہل النار الخارج من بطونھم لاکلہم شجرۃ الغسلین۔ غسلین کا درخت کھانے پر دوزخیوں کے پیٹ سے نکلنے والی پیپ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–52

لغات القرآن۔ الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں) رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔ دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 36–37

(ف 2) کھانے سے بھی انسان کو قوت پہنچتی ہے مگر دوزخیوں کو کوئی ایسا مرغوب کھانانہ ملے گا جو راحت وقوت کا سبب ہو ہاں دوزخیوں کے زخموں کی پیپ دی جائے گی جسے ان گناہ گاروں کے سوا کوئی نہیں کھاسکتا۔ اور وہ بھی بھوک پیاس کی شدت میں غلطی سے یہ سمجھ کر کھائیں گے کہ اس سے کچھ کام چلے گا بعد کو ظاہر ہوگا کہ اس کا کھانا بھوک کے عذاب سے بڑا عذاب ہے ۔ (اعاذنا اللہ من سائرا نواع العذاب فی ال دنیا والاخرۃ) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 32–37

[13] یعنی زنجیر اس کے جسم میں ایک طرف سے ڈال کر دوسری طرف سے نکالو جیسے موتی یا تسبیح کے دانے پروئے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–41

ف 1: ہم دنیا میں اپنے مال و دولت پر مفرور تھے ۔ اور سمجھتے تھے ۔ کہ یہ ثروت ۔ یہ کنوز اور خزائن ۔ ہمیں عاقبت میں بھی عزت وافتخار تخشیں گے ۔ اور جس طرح دنیا میں ہم تمول کی وجہ سے ہر نوع کی آسودگی حاصل کرلیتے ہیں ۔ شاید آخرت میں بھی اس کی بدولت جنت اور اس کی آسائشوں کو خریدا جاسکے گا ۔ مگر آہ کہ یہ خیال درست ثابت نہیں ہوا ۔ ان لوگوں کے متعلق یہ فیصلہ ہوگا ۔ کہ ان کو پکڑلو ۔ اور طوق وسلاسل پہنادو ۔ اور پھر ایک طویل زنجیر میں جکڑ کر جہنم میں پھینک دو ۔ کیونکہ ان لوگوں کا اللہ پر ایمان نہ تھا ۔ ان کے دلوں میں بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی نہ تھی ۔ ان کے دل غریبوں کو دیکھ کر پسیجتے نہ تھے ۔ یہ اپنے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 36–38

ف 6۔ یعنی بجز ایک ایسی چیز کے جو کراہت و صورت میں مثل غسلین کے ہوگا، اور یہ حصر اضافی ہے اور مقصود اس سے نفی ہے اطعمہ مرغوبہ کی، ورنہ زقوم وغیرہ کا ہونا خود آیات سے ثابت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور کوئی غذا سوائے زخموں کے دھو ون کے ان کے لئے نہیں ہو گی 36 ؎ دوزخیوں کو پیاس بجھانے کے لئے جو کچھ دیا جائے گا اس کا بیان کیا جا رہا ہے کہ وہ دوزخیوں ہی کے زخموں کا دھو ون ہوگا یہ اس کی ناپاکی اور برائی کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانیاں کیں۔ اوپر ان کی دو طرح کی نافرمانیوں کا ذکر کیا گیا تھا ایک یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے اور دوسرا یہ کہ وہ نہایت ہی کنجوسی اور سنگدلی سے کام لیتے ہیں کہ اپنے گھر سے کسی غریب و مسکین کو کھانا کھلانا تو درکنار وہ کسی کو رغیبت دلانے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں بلکہ ان کا بس چلے تو وہ اس طرح کی نیکیوں سے خود رکتے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 35–37

فَلَيْسَ لَهُ الْيَوْمَ هَاهُنَا حَمِيمٌ وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ (So, he has no friend here today, nor any food except from that which flows from wounds when washing...69:35-36]. The word hamim means 'a sincere or bosom friend'. The word ghislin with 'gh' bearing the kasrah [= i ] refers to the water with which the pus and blood of the wounds of the inmates of Hell will be washed. The verses signify that on the Day of Resurrection he will have no friend that will support him or save him from punishment, nor will he have anything to eat except the filthy water with which pus…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–37

20 That is, not to speak of feeding a poor man himself, he did not even like to say others that they should feed the hungry."

Read the full tafseer →