Al-Haaqqa 69:35

Al-Haaqqa · from ayah 35

69:35

فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌ ۟ۙفَلَيۡسَ لَـهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا حَمِيۡمٌۙ

سو آج اس کا بھی یہاں کوئی دوستدار نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

So there is not for him here this Day any devoted friend

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa

All translations of 69:35

لہٰذا آج نہ یہاں اِس کا کوئی یار غم خوار ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

سو آج اس کا بھی یہاں کوئی دوستدار نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس آج اس کا نہ کوئی دوست ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا آج یہاں نہ اس کا کوئی یارو مددگار ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو آج یہاں اس کا کوئی دوست نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو آج کے دن نہ اس کا کوئی گرم جوش دوست ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سو آج یہاں نہ اس کا کوئی دلی دوست ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لہٰذا آج اس کا کوئی غمخوار دوست نہ ہوگا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بس آج اس کا بیان کوئی ہی رہ نہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس اب نہ تو یہاں اس کا کوئی دوست ہے

— مولانا اسحاق مدنی

سو آج اس کا نہ کوئی دوست ہے اور نہ اسے کوئی کھانا نصیب ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو اس کے لیے یہاں کوئی گرم جوش دوست نہیں ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

سو آج اس کا بھی یہاں کوئی دوست دار نہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Today he has been left here friendless;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, he has no friend here today,

— Muhammad Taqi Usmani

So, he has no friend here today,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So, no friend has he here this Day,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Therefor hath he no lover here this day,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So there is not for him here this Day any devoted friend

— Saheeh International

On this day, they will have no friends

— Muhammad Sarwar

Therefore he has not here today a true friend,

— Muhammad Habib Shakir

Wherefore for him here this Day there is no friend.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 69:35

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 25–37

بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کردیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے، یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا حکم دے گا کہ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 34–37

سورة الْحَآقَّة 20 یعنی خود کسی غریب کو کھانا کھلانا تو درکنار، کسی سے یہ کہنا بھی پسند نہ کرتا تھا کہ خدا کے بھوکے بندوں کو روٹی دے دو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 35–37

فَلَيْسَ لَهُ الْيَوْمَ هٰهُنَا حَمِيْمٌ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِيْن، حمیم مخلص اور گہرے دوست کو کہا جاتا ہے اور غسلین بکسر غین وہ پانی ہے جس میں جہنمیوں کے زخموں کی پیپ وغیرہ دھوئی جاوے گی۔ مطلب آیات کا یہ ہے کہ آج اس کا کوئی دوست عزیز اس کی حمایت نہ کرسکے گا اور اس کو عذاب سے نہ بچا سکے گا اور اس کے کھانے کے لئے سوائے اس گندے پانی کے جس میں اہل جہنم کی پیپ اور پس پڑی ہوگی اور کچھ نہ ہوگا اور کچھ نہ ہونے کا مفہوم اوپر خلاصہ تفسیر میں یہ بتلایا گیا ہے کہ مرغوب کھانوں میں سے کچھ نہ ہوگا غسلین کی طرح کی کوئی اور مکروہ بد ذائقہ چیز کی نفی نہیں ہے اس لئے دوسری آیت میں جو اہل جہنم کا زقوم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی اس کی اس خست و بخالت کی سزا اس کو یہ ملی کہ یہاں کوئی اس کا ہمدرد و مددگار نہیں۔ جس نے نہ خدا کا حق پہچانا اور نہ اس کی مخلوق کا، قیامت کے دن بھلا کون اس کے ساتھ ہمدردی کرنے والا ہو گا؟ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جو لوگ مال رکھتے ہوئے بخیل ہوتے ہیں ان کے ساتھ اس دنیا میں بھی کسی کو ہمدردی نہیں ہوتی تو جزائے اعمال کی دنیا میں ان کے ساتھ بھلا کون ہمدردی کرنے والا اٹھے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 34–35

34۔ 1 یعنی عبادت و اطاعت کے ذریعے سے اللہ کا حق ادا کرتا تھا اور نہ وہ حقوق ادا کرتا تھا جو بندوں کے بندوں پر ہیں۔ گویا اہل ایمان میں یہ جامعیت ہوتی ہے کہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–35

6: نیک لوگوں کو ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اور برے لوگوں کو بائیں ہاتھ میں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 35–36

فلیس لہ ............ الخاطون اس بدبخت شخص کے انجام بد کا یہ تکمیلی بیان ہے۔ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ لاتا تھا۔ مساکین کی ضروریات بھی فراہم نہ کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اب قیامت میں اس کا کوئی دوست نہیں ہے۔ فلیس ................ حمیم (96 : 53) ” لہٰذا آج یہاں اس کا کوئی غم خوار نہیں ہے “ اور اس کے وہاں کھانے کا انتظام مساکین سے بھی بدتر ہے۔ ولا طعام ............ غسلین (96 : 63) ” زخموں کے دھو ون کے سوا اس کے لئے کوئی کھانا نہیں ہے “۔ غسلین سے مراد اہل جہنم کی پیپ اور زخموں کے پانی اور اس پانی کو کہتے ہیں جو زخموں کے دھونے سے نکلتا ہے۔ ایسے گندہ لوگوں کے لئے ، اب ایسی ہی گندی خوراک موزوں ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی جب اللہ کو دوست نہ بنایا تو آج اس کا دوست کون بن سکتا ہے جو حمایت کرکے عذاب سے بچا دے یا مصیبت کے وقت کچھ تسلی کی بات کرے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 34–37

آیت 34{ وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ۔ } ”اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔“ اسے خود تو کسی مسکین کو کھانا کھلانے کی کبھی توفیق نہیں ہوئی ‘ کسی دوسرے شخص کو بھی اس نے بھلائی کے اس کام کی کبھی ترغیب نہیں دی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 34–36

20 دو بنیادی گناہ ہیں جن سے باقی گناہ پھوٹتے ہیں :۔ اس کے اعمال نامہ یا فرد جرم میں دونوں بڑی قسموں کے جرائم پائے جاتے تھے۔ نہ وہ اللہ پر ایمان لایا اور نہ اس کے اوامرونواہی کی پروا کی۔ واضح رہے کہ اگر کوئی شخص زبانی طور پر اللہ کی ہستی کا قائل تو ہو مگر آخرت پر اور اس کے سامنے باز پرس پر ایمان نہ رکھتا ہو۔ تو اس کا زبانی اللہ کی ہستی کا اقرار کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔ کفار مکہ اللہ کی ہستی کے قائل تھے مگر آخرت کے قائل نہ تھے تو اللہ نے انہیں کافر ہی قرار دیا ہے اور یہ جرم عذاب جہنم کے مستحق ہونے کے لئے کافی ہے۔ دوسری نوعیت کے جرائم وہ ہیں جن کا بظاہر حقوق العباد سے تعلق ہوتا ہے۔ اگرچہ ان میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 35–37

14۔ یعنی ان کافروں مجرموں کو دوزخ میں غذائیں بھی ملیں گی، تو اتنی نفرت انگیز اور گندی کہ کوئی اور انسان تو ادھر رخ بھی نہیں کرسکتا ! (آیت) ” الخاطؤن “۔ مراد خطا پیشہ یعنی منکرین وکافرین ہیں۔ الکافرون (مدارک۔ معالم) وھم المشرکون (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 17–37

ویحمل عرش رب فوقھم یومئذ ثمنیۃ اس رکوع کی اکثر آیات کی تشریح، تسہیل و تحقیق کے زیر عنوان گزر چکی ہے، زیر نظر آیت متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین کرنا مشکل ہیں ہم نہ یہ جان سکتے ہیں کہ عرش کی حقیقت کیا ہے اور نہ یہ جان سکتے ہیں کہ قیامت کے روز عرش کو آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کی کیا کیفیت ہوگی ؟ لیکن یہ بات بہرحال قابل تصور نہیں، کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھے ہوئے ہونگے، اور ذات باری کا جو تصور قرآن پیش کرتا ہے وہ بھی اس خیال کے کرنے سے مانع ہے کہ وہ جسم، جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اسے اٹھائے، اس لئے کھوج کر ید کر کے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلیس لہ الیوم ھھنا حمیم . فاء سببی ہے۔ اسی لیے آج یہاں (یعنی اس روز وہاں) اس کا کوئی رشتہ دار دل دکھانے والا نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 35–37

(35۔ 37) سو اس شخص کو فائدہ پہنچانے کے لیے نہ آج اس کا کوئی قریبی رشتہ دار ہے اور نہ دوزخ میں اس کو کھانے کی کوئی چیز نصیب ہے ماسوا دوزخیوں کے زخموں کی پیپ اور خون کے جس کو مشرکین کے علاوہ اور کوئی نہ کھائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 34–35

فلیس لہ الیوم ھھنا حمیم :”حمیم“ دوست یا رشتہ دار، جسے اس کی خاطر گریم آئے۔”حمۃ“ چشمے سے نکلنے والا گرم پانی۔”حمیم“ گرم پانی کو بھی کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 35–37

فلیس لہ الیوم ھھنا حمیم۔ لہ، لیس کی خبر ہے ھاھنا اس کی خبر نہیں کیونکہ اسے خبر بنایا جائے تو معنی یہ بنتا ہے وہاں کھانا نہیں مگر غسلین۔ یہ صحیح نہیں کیونکہ وہاں غسلین کے علاوہ بھی کھانا ہے ھاھنا اس فعل کے متعلق ہے جو لہ کے معنی میں پایا جاتا ہے۔ یہاں حمیم سے مراد قریبی ہے یعنی اس کا کوئی قریبی نہیں جو اس کے لئے نرمی کرے اور اس کا دفاع کرے۔ یہ حمیم سے ماخوذ ہے جس کا معین گرم پانی ہے کیونکہ دوست وہ ہوتا ہے جو اس کے لئے نرمی کرتا ہے اور اس کا دل اس کے لئے جلتا ہے۔ غسلین، یہ غسل سے فعلین کا وزن ہے گویا یہ ان کے بدنوں سے نچڑتا ہے، یہ جہنمیوں کی پیپ ہے جو ان کے زخموں اور شرمگاہوں سے بہتی ہے، حضرت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 34–35

مسکینوں کے کھانے پر ابھارنا 13۔ ابو عبید وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ایک زنجیر ہے اور اس میں دوزخ کی آگ کی ہنڈیا اس وقت سے مسلسل ابل رہی ہ۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے دوزخ کو پیدا فرمایا اور یہ قیامت کے دن تک جاری رہے گا۔ یہاں تک کہ وہ لوگوں کی گردنوں میں پڑجائے گا۔ اور تحقیق اللہ تعالیٰ جو عظمت وشان والا ہے اس پر ایمان لانے کی وجہ سے ہمیں اس کے آدھے سے نجات عطا فرمادی۔ پس اے ام درداء مسکینوں کو کھانا کھلانے پر آمادہ کیا کر۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَلَيْسَ لَهُ : تو نہیں ہے اس کے لیے ][ الْيَوْمَ هٰهُنَا : آج یہاں ][ حَمِيْمٌ: کوئی گرم جوش (دوست)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 35–37

مجرمین غِسْلِيْنٍ كھائیں گے : ﴿فَلَيْسَ لَهُ الْيَوْمَ هٰهُنَا حَمِيْمٌۙ0035 وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِيْنٍۙ0036 لَّا يَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِـُٔوْنَ (رح) 0037﴾ (سو آج اس کے لیے یہاں کوئی دوست نہیں اور نہ غِسْلِيْنٍ کے علاوہ اس کے لیے کوئی کھانا ہے جسے صرف خطاکار ہی کھائیں گے) ۔ لفظ غِسْلِيْنٍ فعلین کے وزن پر ہے جو لفظ غسل سے ماخوذ ہے غسل دھونے کو کہتے ہیں۔ علماء تفسیر نے اس کا ترجمہ زخموں کے دھو ون سے کیا ہے غِسْلِيْنٍ کا معنی اگرچہ زخموں کا دھو ون ہے اور زخموں کو اس وقت دھویا جاتا ہے جب مرہم پٹی کی جائے اور صاف کر کے مرہم لگایا جائے لیکن دوزخیوں کے زخموں کا دھو ون خود ان کے جسموں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–37

ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔ ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 33–37

12:۔ ” انہ کان لا یؤمن “ یہ مقابل کی علت ہے۔ کافر اور مشرک کی یہ سزا اس لیے ہوگی کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے تھے، بلکہ اس کے سوا اپنے خود ساختہ معبودوں کی بھی عبادت کرتے اور ان کو برکات دہندہ سمجھتے تھے نیز وہ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی نہ دوسروں کو ترغیب دیتے تھے نہ اپنے مال سے مسکینوں کو خود کھلاتے اور نہ اپنے خادموں کو اس کا حکم دیتے۔ ” فلیس لہ الیوم “ اس لیے آج یہاں ان کا کوئی دوست اور غمخوار نہیں۔ نہ آج ان کے لیے کوئی عمدہ خوراک ہے البتہ پیپ ہے جو جہنمیوں کے زخموں سے بہتی ہوگی یہی ان کی خوراک ہوگی اور ان مجرموں کے سوا کوئی اسے نہیں کھائیگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 25–37

گذشتہ سے پیوستہ : قیامت واقع ہونے پر انسانوں کے دو گروہ ہوجائیں گے۔ پہلی آیتوں میں صور پھونکنے کا ذکر ہوا۔ نظام کے درہم برہم ہوجانے اور زمین و آسمان کے تغیر و تبدل کا بیان ہوا۔ اس روز عرش الہٰی اور ملائکہ کی کیفیت کا حال بھی ذکر کیا گیا پچھلے درس میں اس گروہ کا ذکر ہوا جس کو اعمالنامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ۔ وہ بڑا خوش ہوگا۔ اپنا اعمالنامہ لوگوں کو دکھاتاپھرے گا۔ اس گروہ کو ملنے والے انعام و اکرام کا ذکر بھی پچھلے درس میں ہوچکا ہے۔ بائیں ہاتھ والے : اب ناکام ہونے والے گروہ کا بیان ہوتا ہے بہرحال وہ انسان جس کو اس کا اعمالنامہ بائیں ہاتھ میں دیا گیا۔ ہوہ کہے گا کاش کہ یہ اعمالنامہ مجھے نہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَيْسَ لَہُ الْيَوْمَ ہٰہُنَا حَمِيْمٌ۝ 35 ۙ حم الحمیم : الماء الشدید الحرارة، قال تعالی: وَسُقُوا ماءً حَمِيماً [ محمد/ 15] ، إِلَّا حَمِيماً وَغَسَّاقاً [ عمّ/ 25] ، وقال تعالی: وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ شَرابٌ مِنْ حَمِيمٍ [ الأنعام/ 70] ، وقال عزّ وجل : يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُؤُسِهِمُ الْحَمِيمُ [ الحج/ 19] ، ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْها لَشَوْباً مِنْ حَمِيمٍ [ الصافات/ 67] ، هذا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ [ ص/ 57] ، وقیل للماء الحارّ في خروجه من منبعه : حَمَّة، وروي : «العالم کالحمّة يأتيها البعداء ويزهد فيها القرباء» «6» ، وسمي العَرَق حمیما علی التشبيه، واستحمّ الفرس : عرق،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–37

ترکیب : نفتحہ واحدۃ بالرفع علی انھا مفعول مالم یسم فاعلہ من نفخ المجھول وانما حسن تذکیرا لفعل للفصل اوان التانیث غیرحقیقی و قریٔ بالنصب ان فی الصور مفعول مالم یسم فاعلہ ثم نصب نفتحہ علی انھا مفعول مطلق واحدۃ تاکید لھا۔ وحملت الارض الخ بالتخفیف و قریٔ 1 ؎ والقطوف قطف وھوالمقطوع ای الثمر ما اسلفتم ای قدتم من اعمالکم الصالحۃ الاسلاف تقدیم ما ترجوا ان یعود علیک بخیر فھو کالا قراض و منہ یقال اسلف فی کذا اذا قدم فیہ مالہ ذرعھا الخ صفۃ لسلسلۃ غسلین فعلین من الغسل ھو وماء یسیل من الجروح بعد الغسل من صدید قیح دوم 12 منہ 2 ؎ یالیتھا الضمیر یعودالی الموتۃ الاولی فانھا کالمذکورا والی الحالۃ التی شاھدھا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 35–37

فَلَیْسَ لَـہُ الْیَوْمَ ھٰھُنَا حَمِیْمٌ۔ وَّلاَ طَعَامٌ اِلاَّ مِنْ غِسْلِیْنٍ ۔ لاَّیَاْ کُلُـہٗٓ اِلاَّ الْخَاطِؤُنَ ۔ (الحآقۃ : 35 تا 37) (پس آج اس کا یہاں کوئی یارِغمخوار نہیں۔ اور زخم کے غسالہ کے سوا اس کے لیے کوئی کھانا نہیں۔ جسے خطاکاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا۔ ) مشکل الفاظ کی تشریح : حَمِیْمٌ … مخلص اور گہرے دوست کو کہتے ہیں۔ غِسْلِیْنٍ … زخمیوں کے دھو ون یعنی غسالہ کو کہتے ہیں۔ ان جرائم کی سزا ان کو یہ ملے گی کہ قیامت کے دن ان کا کوئی مخلص دوست اور کوئی ہمدرد و غمخوار نہیں ہوگا جو انہیں عذاب سے بچا سکے۔ ظاہر ہے کہ جو شخص اپنی دولت کا مصرف اپنی تن پروری، لذتِ کام و دہن یا دولت میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 25–37

فہم القرآن ربط کلام : جنتی کے مقابلے میں جہنمی کا حال اور ان کی بدنصیبی۔ رب ذوالجلال کے حکم سے نیک لوگوں کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں پہنچ چکے ہوں گے اور انہیں جنت میں داخلہ دیا جائے گا۔ ان کے مقابلے میں برے لوگوں کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے، جونہی برے شخص کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ چیخ اٹھے گا اور کہے گا ہائے افسوس ! کاش کہ مجھے میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا اور مجھے یہ علم ہی نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے، کاش ! دنیا کی موت ہی آخری موت ثابت ہوتی۔ آج نہ میرا مال میرے کام آیا اور نہ ہی میرے اقتدار اور اختیار نے مجھے فائدہ دیا یہاں اختصار سے کام…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

35 : فَلَیْسَ لَہُ الْیَوْمَ ھٰھُنَا حَمِیْمٌ (پس آج اس شخص کا نہ کوئی دوستدار ہے) حمیم سے مراد ایسا قریبی جو اس سے عذاب کو ہٹائے اور نہ کوئی ایسا ہوگا جس کا دل اس کی خاطر جلے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

34 ۔” ولا یحض علی طعام المسکین “ مسکین کو دنیامیں کھانا نہ کھلاتا تھا اور نہ اپنے گھر والوں کو اس کا حکم کرتا تھا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 25–37

25۔ 37۔ جن لوگوں کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے جب وہ لوگ اس میں اول سے آخر تک بدیاں لکھی ہوئی دیکھیں گے تو نہایت پریشانی سے وہ باتیں کہیں گے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے اسی وقت خدا تعالیٰ فرمائے گا ایسے لوگوں کو گرفتار کرکے ان کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں اور ان کو دوزخ میں جھونک دیا جائے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے نہ اللہ کی عبادت کی نہ اللہ کی مخلوقات کو کچھ فائدہ پہنچایا پھر ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر ستر گز کی زنجیر میں ان کی جماعت کی جماعت کو پرو دیا جائے گا اور دوزخ میں جھونک دیا جائے گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ 2 ؎ کا قول ہے کہ یہ ستر گزر فرشتوں کے ہاتھوں کی ناپ کے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فلیس لہ الیوم ھھنا حمیم) ۔ پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے، یعنی قیامت کے دن (حمیم) کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کیسفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (ولا تنفع الشفاعۃ عندہ الا لمن اذن لہ۔ سبا 23) ۔ اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔ نیز فرمایا (ما للظلمین من حمیم ولا شفیع یطاع۔ المومن 18) ۔ ظالموں کا کوئی جگری دوست ہوگا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 35–36

30 دوزخیوں کا کھانا زخموں کی دھو ون۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے الفاظ و کلمات کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا اور نہ ہی اس کیلئے کوئی کھانا ہوگا سوائے زخموں کی دھون کے۔ جو کہ دوزخیوں کے جسموں سے پیپ ‘ لہو اور کچ لہو وغیرہ کی صورت میں بہہ رہی ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ واضح رہے کہ یہ حصر اضافی ہے یعنی کوئی مرغوب اور مفید غذا ان کو بہرحال نہیں ملے گی بلکہ غسلین ‘ زقوم ‘ اور حمیم جیسی سخت بری اور تکلیف دہ چیزیں ہی کھانے کو ملیں گی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ غسلین ناپاک اور گندی چیزوں کے غسالہ یعنی دھو ون کو کہا جاتا ہے۔ سو ایسے لوگوں نے چونکہ اپنے مال و دولت کا مصرف اپنی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–37

برُے اور اچھے لوگوں کا حال تشریح : یہ سب غیب کی خبریں ہیں۔ جن کی وضاحت کوئی حکیم ” سائنسدان ” مفکر ” منجم اور عالم دین اس سے زیادہ نہیں کرسکتا جو وضاحت قرآن پاک میں یہاں بڑی آسان اور واضح آیات کی صورت میں کردی گئی ہے۔ ان پر پوری طرح سے ایمان و یقین لانا اس لیے ضروری ہے کہ یہ اللہ کا پیغام نبی ﷺ کے ذریعہ دیا گیا ہے اور اس کی اہمیت اور سچ کو یوں بیان کیا گیا ہے ملاحظہ ہو۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–37

سورة الحاقہ۔ آیات 1 تا 37۔ اسرار ومعارف۔ دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔ کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 34–35

ف 5 یعنی اتنا کنجوس تھا کہ نہ اپنے آپ کو اور نہ اپنے علاوہ دسروں کو غرباء اور محتاجوں کو کھانا کھلانے پر ترغیب دیتا تھا گویا نہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرتا تھا اور نہ اس کے بندوں کے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(69:35) فلیس لہ الیوم ھھنا حمیم :سببیہ ہے یعنی بہ سبب اس بات کے کہ وہ نہ عظمت والے اللہ پر ایمان رکھتا تھا اور نہ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی کسی کو ترغیب دیتا تھا۔ (از خود کھانا تو درکنا) آج کے دن اس کا کوئی یارو مددگار نہ ہوگا۔ الیوم بوجہ ظرفیت منصوب ہے۔ ھھنا حرف ھا حرف تنبیہ ہے۔ ھنا اسم ظرف یہاں۔ اس جگہ۔ حمیم دوست : مددگار۔ یار۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–52

لغات القرآن۔ الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں) رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔ دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) یعنی جب اللہ کو دوست نہ بنایا تو آج اس کا دوست کون بن سکتا ہے جو حمایت کرکے عذاب سے بچاوے یا مصیبت کے وقت کچھ تسلی کی بات کرے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 32–37

[13] یعنی زنجیر اس کے جسم میں ایک طرف سے ڈال کر دوسری طرف سے نکالو جیسے موتی یا تسبیح کے دانے پروئے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–41

ف 1: ہم دنیا میں اپنے مال و دولت پر مفرور تھے ۔ اور سمجھتے تھے ۔ کہ یہ ثروت ۔ یہ کنوز اور خزائن ۔ ہمیں عاقبت میں بھی عزت وافتخار تخشیں گے ۔ اور جس طرح دنیا میں ہم تمول کی وجہ سے ہر نوع کی آسودگی حاصل کرلیتے ہیں ۔ شاید آخرت میں بھی اس کی بدولت جنت اور اس کی آسائشوں کو خریدا جاسکے گا ۔ مگر آہ کہ یہ خیال درست ثابت نہیں ہوا ۔ ان لوگوں کے متعلق یہ فیصلہ ہوگا ۔ کہ ان کو پکڑلو ۔ اور طوق وسلاسل پہنادو ۔ اور پھر ایک طویل زنجیر میں جکڑ کر جہنم میں پھینک دو ۔ کیونکہ ان لوگوں کا اللہ پر ایمان نہ تھا ۔ ان کے دلوں میں بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی نہ تھی ۔ ان کے دل غریبوں کو دیکھ کر پسیجتے نہ تھے ۔ یہ اپنے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 34–35

ف 5۔ یہاں اطعام اور حض سے مراد مرتبہ واجبہ ہے اور اس کے ترک سے مراد وہ ترک ہے جس کا سبب عدم ایمان ہو، حاصل یہ کہ خدا کی عظمت اور مخلوق کی شفقت جو اصل عبادات متعلقہ حقوق اللہ و حقوق العباد ہیں یہ دونوں کا تارک اور منکر تھا اس لئے مستحق عذاب ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پس آج اس کا بھی یہاں کوئی ہمدرد نہیں ہے 35 ؎ اس کو بتایا جا رہا ہے کہ وہ سارے آسرے اور سہارے جو تو نے دنیا میں بنا رکھے تھے اور جن دوستوں ، یاروں کے تعلقات کے باعث یہ ساری بداعتدالیاں کرتا تھا آج تیری حمایت کے لئے ہم کو ایک بھی یہاں نظر نہیں آ رہا اور نہ ہی تیری مدد کے لئے کوئی یہاں پہنچے گا کو ان کہ اصل سہارے اور آسرے کو تو تو نے خود توڑنے کی کوشش کی اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی پرواہ نہ کرتے ہوئے غیروں پر سہارے اور آسرے لگائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 35–37

فَلَيْسَ لَهُ الْيَوْمَ هَاهُنَا حَمِيمٌ وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ (So, he has no friend here today, nor any food except from that which flows from wounds when washing...69:35-36]. The word hamim means 'a sincere or bosom friend'. The word ghislin with 'gh' bearing the kasrah [= i ] refers to the water with which the pus and blood of the wounds of the inmates of Hell will be washed. The verses signify that on the Day of Resurrection he will have no friend that will support him or save him from punishment, nor will he have anything to eat except the filthy water with which pus…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–37

20 That is, not to speak of feeding a poor man himself, he did not even like to say others that they should feed the hungry."

Read the full tafseer →