Al-Haaqqa 69:34

Al-Haaqqa · from ayah 34

69:34

وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْكِیْنِ ۟ؕوَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِؕ

اور نہ فقیر کے کھانا کھلانے پر آمادہ کرتا تھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Nor did he encourage the feeding of the poor.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa

All translations of 69:34

اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور نہ فقیر کے کھانا کھلانے پر آمادہ کرتا تھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور مسکین کے کھلانے پر رغبت نہ دﻻتا تھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور نہ غریب کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور مسکین کو کھانے دینے کی رغبت نہ دیتا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور نہ محتاج کو کھانا کھلانے پر رغبت دلاتا تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور نہ مسکینوں کو کھلانے پر لوگوں کو ابھارتا تھا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب بھی نہیں دیتا تھا

— مولانا اسحاق مدنی

اور نہ یہ غریب آدمی کے کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور نہ فقیر کے کھانا کھلانے پر آمادہ کرتا تھا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

nor would he urge the feeding of the poor.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and did not persuade (others) to feed the needy.

— Muhammad Taqi Usmani

and did not persuade (others) to feed the needy.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And urged not the feeding of the poor.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And urged not on the feeding of the wretched.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Nor did he encourage the feeding of the poor.

— Saheeh International

nor were they concerned with feeding the destitute.

— Muhammad Sarwar

Nor did he urge the feeding of the poor.

— Muhammad Habib Shakir

Nor he urged on others the feeding of the poor.

— Abdul Majid Daryabadi

"And would not encourage the feeding of the indigent!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 69:34

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 25–37

بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کردیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے، یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا حکم دے گا کہ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 34–37

سورة الْحَآقَّة 20 یعنی خود کسی غریب کو کھانا کھلانا تو درکنار، کسی سے یہ کہنا بھی پسند نہ کرتا تھا کہ خدا کے بھوکے بندوں کو روٹی دے دو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–34

(آیت) ثُمَّ فِيْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُ یعنی پھر اس کو ایک زنجیر میں پرو دو جس کی مقدار ستر گز ہے۔ زنجیر میں پرونے کا وہ مفہوم بھی مجازاً لیا جاسکتا ہے جو خلاصہ تفسیر میں لکھا گیا ہے کہ زنجیر میں جکڑ دو لیکن اس کے حقیقی معنے یہ ہیں کہ زنجیر ان کے بدن کے اندر ڈال کر دوسری طرف نکال لو جیسے موتی یا تسبیح کے دانے پروئے جاتے ہیں بعض روایات حدیث سے اسی حقیقی معنی کی تائید بھی ہوتی ہے۔ (از مظہری)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ‘۔ یعنی نہ خود مسکینوں پر خرچ کرتا تھا اور نہ دوسروں کو اس نیکی کی راہ پر ابھارتا تھا۔ جو لوگ بخیل ہوتے ہیں وہ صرف یہی نہیں کہ خود اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے بلکہ ان کی خواہش اور کوشش یہ بھی ہوتی ہے کہ دوسرے بھی خرچ نہ کریں تاکہ ان کی بخالت کا راز افشاء نہ ہو۔ سورۂ ماعون میں یہی بات یوں فرمائی گئی ہے: ’فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ ۵ وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ‘ (۲-۳) (پس وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھلانے پر لوگوں کو نہیں ابھارتا)۔ البتہ آیت زیربحث میں یہ حقیقت بھی واضح فرما دی گئی ہے کہ جو لوگ دولت رکھتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 34–35

34۔ 1 یعنی عبادت و اطاعت کے ذریعے سے اللہ کا حق ادا کرتا تھا اور نہ وہ حقوق ادا کرتا تھا جو بندوں کے بندوں پر ہیں۔ گویا اہل ایمان میں یہ جامعیت ہوتی ہے کہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–35

6: نیک لوگوں کو ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اور برے لوگوں کو بائیں ہاتھ میں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 33–34

اس کا دل ایمان اللہ سے خالی تھا۔ یہ محض انسانی لحاظ سے بھی کوئی اچھا انسان نہ تھا۔ لوگوں پر رحم نہ کرتا تھا۔ لہٰذا اس آگ کے سوا اس کے لئے کوئی اور مناسب جگہ ہی نہ تھی۔ جس آدمی کا دل ایمان سے خالی ہو ، وہ مرجاتا ہے۔ اس کا دل کھنڈر بن جاتا ہے ، برباد ہوجاتا ہے۔ اس کے اندر کوئی روشنی نہیں ہوتی ، وہ مسخ ہوگیا ہے۔ وہ حیوانوں سے کم تر مخلوق جمادات سے بھی کم تر ہوگیا ہے۔ کیونکہ ہر چیز مومن ہے۔ ہر چیز تسبیح کرتی ہے۔ ہر چیز اپنے وجود کے اصل مصدر سے پیوستہ ہوتی ہے۔ رہا یہ عقلمند انسان تو اپنے اصل اور سرچشمے سے یہ اپنے آپ کو کاٹ دیتا ہے۔ پھر اس کا دل انسانوں پر ترس نہیں کھاتا۔ اللہ کے بندوں میں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 33–34

3 یعنی اس نے دنیا میں رہ کر نہ اللہ کو جانا نہ بندوں کے حقوق پہچانے، فقیر محتاج کی خود تو کیا خدمت کرتا دوسروں کو بھی ادھر ترغیب نہ دی۔ پھر جب اللہ پر جس طرح چاہیے ایمان نہ لایا تو نجات کہاں ؟ اور جب کوئی بھلائی کا چھوٹا بڑا کام بن نہ پڑا تو عذاب میں تخفیف کی بھی کوئی صورت نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 34–37

آیت 34{ وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ۔ } ”اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔“ اسے خود تو کسی مسکین کو کھانا کھلانے کی کبھی توفیق نہیں ہوئی ‘ کسی دوسرے شخص کو بھی اس نے بھلائی کے اس کام کی کبھی ترغیب نہیں دی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 34–36

20 دو بنیادی گناہ ہیں جن سے باقی گناہ پھوٹتے ہیں :۔ اس کے اعمال نامہ یا فرد جرم میں دونوں بڑی قسموں کے جرائم پائے جاتے تھے۔ نہ وہ اللہ پر ایمان لایا اور نہ اس کے اوامرونواہی کی پروا کی۔ واضح رہے کہ اگر کوئی شخص زبانی طور پر اللہ کی ہستی کا قائل تو ہو مگر آخرت پر اور اس کے سامنے باز پرس پر ایمان نہ رکھتا ہو۔ تو اس کا زبانی اللہ کی ہستی کا اقرار کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔ کفار مکہ اللہ کی ہستی کے قائل تھے مگر آخرت کے قائل نہ تھے تو اللہ نے انہیں کافر ہی قرار دیا ہے اور یہ جرم عذاب جہنم کے مستحق ہونے کے لئے کافی ہے۔ دوسری نوعیت کے جرائم وہ ہیں جن کا بظاہر حقوق العباد سے تعلق ہوتا ہے۔ اگرچہ ان میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 33–34

13۔ (مرتبہ واجبہ میں) (آیت) ” انہ ..... العظیم “۔ یعنی یہ حق تعالیٰ کی ذات وصفات پر اس طرح ایمان نہ لایا، جس طرح کی تعلیم حضرات انبیاء ومرسلین دے گئے تھے۔ (آیت) ” ولا .... المسکین “۔ یعنی یہ خود تو غریبوں، مسکینوں، کی خدمت کیا کرتا، دوسروں تک کو اس کی صلاح وترغیب نہیں دیتا تھا۔ خلاصہ یہ کہ اللہ کے حق اور بندوں کے حق دونوں کو بھولا ہوا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 17–37

ویحمل عرش رب فوقھم یومئذ ثمنیۃ اس رکوع کی اکثر آیات کی تشریح، تسہیل و تحقیق کے زیر عنوان گزر چکی ہے، زیر نظر آیت متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین کرنا مشکل ہیں ہم نہ یہ جان سکتے ہیں کہ عرش کی حقیقت کیا ہے اور نہ یہ جان سکتے ہیں کہ قیامت کے روز عرش کو آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کی کیا کیفیت ہوگی ؟ لیکن یہ بات بہرحال قابل تصور نہیں، کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھے ہوئے ہونگے، اور ذات باری کا جو تصور قرآن پیش کرتا ہے وہ بھی اس خیال کے کرنے سے مانع ہے کہ وہ جسم، جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اسے اٹھائے، اس لئے کھوج کر ید کر کے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولا یحض عی طعام المسکین . یعنی مسکینوں کو خود دینا تو درکنار دوسروں کو بھی مسکین کو کھانا کھلانے پر نہیں ابھارتا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ برانگیختہ کرنے کا تذکرہ کر کے یہ بات بتانی مقصود ہو کہ برانگیختہ نہ کرنے (اور ترغیب نہ دینے والے) کا جب یہ برا درجہ ہوگا تو خود نہ کرنے (اور مسکین کو نہ دینے والے) کا کیا درجہ ہوگا۔ آیت سے ثابت ہے کہ فروع اعمال پر بھی کافروں کا مواخذہ ہوگا۔ عدم ایمان اور عدم ترغیب کا خصوصیت کے ساتھ اس جگہ ذکر شاید اس لیے کیا گیا کہ بدترین (عقیدہ) کفر ہے اور بدترین (عمل) بخل۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 33–34

(33۔ 34) یہ دنیا میں جب موجود تھا تو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتا تھا اور دوسروں کو بھی غریب آدمی کے کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 34–35

فلیس لہ الیوم ھھنا حمیم :”حمیم“ دوست یا رشتہ دار، جسے اس کی خاطر گریم آئے۔”حمۃ“ چشمے سے نکلنے والا گرم پانی۔”حمیم“ گرم پانی کو بھی کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 29–34

ھلک عنی سلطنیہ۔ حضرت ابن عباس نے یہ تفسیر بیان کی ہے : مجھ سے میری محبت ہلاک ہوگئی (1) ، یہ مجاہد، عکرمہ، سعدی اور ضحاک کا قول ہے۔ ابن زید نے کہا : یہاں سلطان سے مراد دنیا میں جو حکومت و بادشاہت تھی۔ یہ آدمی ایسا تھا جس کے ساتھی اطاعت کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : خذوہ فغلوہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایک لاکھ فرشتے اس کی طرف جلدی کریں گے پھر اس کے ہاتھ کو اس کی گردن کے ساتھ جمع کردیا جائے گا اللہ تعالیٰ کے فرمان فغلوہ کا یہی مفوہم ہے اسے طوق کے ساتھ جکڑ دو ثم الجحیم صلوۃ۔ اسے یوں بنا دو کہ وہ جہنم کی آگ کو تاپتا رہے۔ ثم فی سلسلۃ ذرعھا سبعون ذراعاً اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ یہاں کون…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 34–35

مسکینوں کے کھانے پر ابھارنا 13۔ ابو عبید وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ایک زنجیر ہے اور اس میں دوزخ کی آگ کی ہنڈیا اس وقت سے مسلسل ابل رہی ہ۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے دوزخ کو پیدا فرمایا اور یہ قیامت کے دن تک جاری رہے گا۔ یہاں تک کہ وہ لوگوں کی گردنوں میں پڑجائے گا۔ اور تحقیق اللہ تعالیٰ جو عظمت وشان والا ہے اس پر ایمان لانے کی وجہ سے ہمیں اس کے آدھے سے نجات عطا فرمادی۔ پس اے ام درداء مسکینوں کو کھانا کھلانے پر آمادہ کیا کر۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَا يَحُضُّ : اور ترغیب نہیں دیتا تھا (کسی کو)][ عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ : مسکین کے کھانا (کھلانے) پر ] ح ض ض (ن) حَضًّا کسی کام پر اکسانا۔ ترغیب دینا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 34 ۔ (تفاعل) تَحَاضًّا ایک دوسرے کو ترغیب دینا۔ وَلَاتَحٰفُّوْنَ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنَ (اور تم لوگ باہم ترغیب نہیں دیتے مسکین کے کھانا (کھلانے) پر۔ 89:18 ۔ تَحٰضُّوْنَ دراصل تَتَحٰضُّوْنَ ہے جس کی ایک تا گری ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 30–34

کافروں کی ذلت : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا ﴿ خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ0030 ثُمَّ الْجَحِيْمَ صَلُّوْهُۙ0031 ثُمَّ فِيْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ0032﴾ (اس کو پکڑ لو پھر اس کو طوق پہنا دو پھر اس کو دوزخ میں داخل کرو پھر ایک ایسی زنجیر میں اس کو جکڑ دو جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے) ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤْمِنُ باللّٰهِ الْعَظِيْمِۙ0033﴾ (بلاشبہ یہ اللہ پر ایمان نہیں لاتا تھا جو عظیم ہے) ۔ ﴿ وَ لَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِؕ0034﴾ (اور وہ مسکین کے کھانے کی ترغیب نہیں دیتا تھا) داہنے ہاتھ اعمال دیئے جانے والوں کی خوشی اور خوش بختی اور بائیں ہاتھ میں اعمال نامے دیئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–37

ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔ ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 33–37

12:۔ ” انہ کان لا یؤمن “ یہ مقابل کی علت ہے۔ کافر اور مشرک کی یہ سزا اس لیے ہوگی کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے تھے، بلکہ اس کے سوا اپنے خود ساختہ معبودوں کی بھی عبادت کرتے اور ان کو برکات دہندہ سمجھتے تھے نیز وہ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی نہ دوسروں کو ترغیب دیتے تھے نہ اپنے مال سے مسکینوں کو خود کھلاتے اور نہ اپنے خادموں کو اس کا حکم دیتے۔ ” فلیس لہ الیوم “ اس لیے آج یہاں ان کا کوئی دوست اور غمخوار نہیں۔ نہ آج ان کے لیے کوئی عمدہ خوراک ہے البتہ پیپ ہے جو جہنمیوں کے زخموں سے بہتی ہوگی یہی ان کی خوراک ہوگی اور ان مجرموں کے سوا کوئی اسے نہیں کھائیگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 25–37

گذشتہ سے پیوستہ : قیامت واقع ہونے پر انسانوں کے دو گروہ ہوجائیں گے۔ پہلی آیتوں میں صور پھونکنے کا ذکر ہوا۔ نظام کے درہم برہم ہوجانے اور زمین و آسمان کے تغیر و تبدل کا بیان ہوا۔ اس روز عرش الہٰی اور ملائکہ کی کیفیت کا حال بھی ذکر کیا گیا پچھلے درس میں اس گروہ کا ذکر ہوا جس کو اعمالنامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ۔ وہ بڑا خوش ہوگا۔ اپنا اعمالنامہ لوگوں کو دکھاتاپھرے گا۔ اس گروہ کو ملنے والے انعام و اکرام کا ذکر بھی پچھلے درس میں ہوچکا ہے۔ بائیں ہاتھ والے : اب ناکام ہونے والے گروہ کا بیان ہوتا ہے بہرحال وہ انسان جس کو اس کا اعمالنامہ بائیں ہاتھ میں دیا گیا۔ ہوہ کہے گا کاش کہ یہ اعمالنامہ مجھے نہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا يَحُضُّ عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ۝ 34 ۭ حضَ الحضّ : التحریض کالحثّ ، إلا أنّ الحثّ يكون بسوق وسیر، والحضّ لا يكون بذلک وأصله من الحثّ علی الحضیض، وهو قرار الأرض، قال اللہ تعالی: وَلا يَحُضُّ عَلى طَعامِ الْمِسْكِينِ [ الحاقة/ 34] . ( ح ض ض ) الحض ( ن ) کے معنی حث کی طرح کسی کام پرا بھانے اور برا نگیختہ کرنے کے ہیں ۔ مگر حث کا لفظ سواری وغیرہ کو تیز چلانے کے لئے آتا ہے ۔ اور حض کا لفظ سواری ہانکنے کے علاوہ دوسرے کاموں پر برانگیختہ کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اصل میں حض کے معنی جانور کو الحضیض یعنی نشیب زمین کی طرف ہانکنے ہیں ( پھر ابھاز کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے قرآن میں ہے :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–37

ترکیب : نفتحہ واحدۃ بالرفع علی انھا مفعول مالم یسم فاعلہ من نفخ المجھول وانما حسن تذکیرا لفعل للفصل اوان التانیث غیرحقیقی و قریٔ بالنصب ان فی الصور مفعول مالم یسم فاعلہ ثم نصب نفتحہ علی انھا مفعول مطلق واحدۃ تاکید لھا۔ وحملت الارض الخ بالتخفیف و قریٔ 1 ؎ والقطوف قطف وھوالمقطوع ای الثمر ما اسلفتم ای قدتم من اعمالکم الصالحۃ الاسلاف تقدیم ما ترجوا ان یعود علیک بخیر فھو کالا قراض و منہ یقال اسلف فی کذا اذا قدم فیہ مالہ ذرعھا الخ صفۃ لسلسلۃ غسلین فعلین من الغسل ھو وماء یسیل من الجروح بعد الغسل من صدید قیح دوم 12 منہ 2 ؎ یالیتھا الضمیر یعودالی الموتۃ الاولی فانھا کالمذکورا والی الحالۃ التی شاھدھا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 33–34

اِنَّـہٗ کَانَ لاَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ ۔ وَلاَ یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ ۔ (الحآقۃ : 33، 34) (یہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔ اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔ ) اصحابُ الشمال کے بنیادی جرائم جن لوگوں کو یہ سزا دی جائے گی کہ وہ جہنم میں بھی زنجیروں میں بندھے ہوئے ہوں گے ان کے بنیادی جرائم یہ ہیں کہ ان میں کا ہر شخص نہ تو خدائے بزرگ و برتر پر ایمان رکھتا تھا۔ ایمان کا ایک معنی تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو ویسے نہیں مانتا تھا جیسے ماننا چاہیے۔ اس کی ذات اور اس کی صفات میں شریک ٹھہراتا تھا اور اللہ تعالیٰ کے رسول کو ماننے اور آخرت کو تسلیم کرنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 25–37

فہم القرآن ربط کلام : جنتی کے مقابلے میں جہنمی کا حال اور ان کی بدنصیبی۔ رب ذوالجلال کے حکم سے نیک لوگوں کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں پہنچ چکے ہوں گے اور انہیں جنت میں داخلہ دیا جائے گا۔ ان کے مقابلے میں برے لوگوں کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے، جونہی برے شخص کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ چیخ اٹھے گا اور کہے گا ہائے افسوس ! کاش کہ مجھے میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا اور مجھے یہ علم ہی نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے، کاش ! دنیا کی موت ہی آخری موت ثابت ہوتی۔ آج نہ میرا مال میرے کام آیا اور نہ ہی میرے اقتدار اور اختیار نے مجھے فائدہ دیا یہاں اختصار سے کام…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

34 : وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ (اور غریب آدمی کے کھلانے کی ترغیب نہ دیتا تھا) کہ مسکین کو کھانا دے۔ اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اس کا بعث بعدالموت پر ایمان نہ تھا۔ کیونکہ عام لوگ مساکین کو کھانا کھلانے پر ان سے جزاء طلب نہیں کرتے ان کو رضائے الٰہی کیلئے فقط کھلاتے ہیں۔ اور آخرت کے ثواب کی طلب میں ان کو کھانادیتے ہیں۔ پس جب اس کو قیامت پر یقین نہیں تو اس کے سامنے کوئی ایسی وجہ نہیں جس سے وہ مساکین کو کھانا دے۔ اب مطلب یہ ہوا کہ وہ کفر کے ساتھ ساتھ محتاجوں کو کھانا کھلانے کیلئے دوسروں کو بھی نہیں کہتا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ مسکین کو محروم کرنا بڑا جرم ہے۔ کیونکہ اس کو اللہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 25–37

25۔ 37۔ جن لوگوں کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے جب وہ لوگ اس میں اول سے آخر تک بدیاں لکھی ہوئی دیکھیں گے تو نہایت پریشانی سے وہ باتیں کہیں گے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے اسی وقت خدا تعالیٰ فرمائے گا ایسے لوگوں کو گرفتار کرکے ان کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں اور ان کو دوزخ میں جھونک دیا جائے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے نہ اللہ کی عبادت کی نہ اللہ کی مخلوقات کو کچھ فائدہ پہنچایا پھر ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر ستر گز کی زنجیر میں ان کی جماعت کی جماعت کو پرو دیا جائے گا اور دوزخ میں جھونک دیا جائے گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ 2 ؎ کا قول ہے کہ یہ ستر گزر فرشتوں کے ہاتھوں کی ناپ کے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(ولا یحض علی طعام المسکین) یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقرا اور مساکین پر رحم کرتا وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا سعادت اور اس کے مادے کا دارومدار امور پر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ 2۔ احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجروں کو کھانا کھلاکر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے۔ مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان۔ اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انہوں نے ثابت کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

28 مسکینوں کے کھانے کی ترغیب نہ دینا بھی دوزخ کا باعث ہے۔ والعیاذ باللہ۔ مسکینوں پر خرچ کی ترغیب نہ دینا دوزخ میں داخلے کا دوسرا بڑا سبب ہے۔ والعیاذ باللہ۔ چناچہ فرد جرم کے سلسلے میں مزید ارشاد فرمایا گیا اور یہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب بھی نہیں دیتا تھا۔ یعنی خود کھلانا تو درکنار یہ دوسروں کو اس کی ترغیب بھی نہیں دیتا تھا ‘ یہ اس کے اخلاقی روگ کا ذکر ہے جو کہ اس کے بخل اور اس کی بےرحمی اور سنگ دلی کی غمازی کرتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور بخیل لوگوں کا حال یہی ہوتا ہے کہ وہ نہ خود خرچ کرتے ہیں اور نہ کسی دوسرے کو خرچ کرنے کی تعلیم و تلقین ہی کرتے ہیں ‘ بلکہ ان کی خواہش اور کوشش بھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–37

برُے اور اچھے لوگوں کا حال تشریح : یہ سب غیب کی خبریں ہیں۔ جن کی وضاحت کوئی حکیم ” سائنسدان ” مفکر ” منجم اور عالم دین اس سے زیادہ نہیں کرسکتا جو وضاحت قرآن پاک میں یہاں بڑی آسان اور واضح آیات کی صورت میں کردی گئی ہے۔ ان پر پوری طرح سے ایمان و یقین لانا اس لیے ضروری ہے کہ یہ اللہ کا پیغام نبی ﷺ کے ذریعہ دیا گیا ہے اور اس کی اہمیت اور سچ کو یوں بیان کیا گیا ہے ملاحظہ ہو۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–37

سورة الحاقہ۔ آیات 1 تا 37۔ اسرار ومعارف۔ دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔ کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 34–35

ف 5 یعنی اتنا کنجوس تھا کہ نہ اپنے آپ کو اور نہ اپنے علاوہ دسروں کو غرباء اور محتاجوں کو کھانا کھلانے پر ترغیب دیتا تھا گویا نہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرتا تھا اور نہ اس کے بندوں کے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(69:34) ولا یحض علی طعام المسکین اس کا عطف آیت سابقہ پر ہے۔ لا یحض مضارع منفی واحد مذکر غائب ۔ حض (باب نصر) مصدر سے جس کا معنی ہے کسی کو کسی کام کے لئے آمادہ کرنا ہے۔ ترغیب دینا یا ابھارنا ہے۔ علی حروف جر میں سے ہے۔ کثیر المعانی ہے۔ یہاں اس کے معنی ” کیلئے “ ہیں۔ طعام المسکین مضاف مضاف الیہ (مجرور ترجمہ ہوگا :۔ اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی (کسی دوسرے کو) ترغیب دیتا تھا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–52

لغات القرآن۔ الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں) رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔ دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 33–34

(ف 2) یعنی اس نے دنیا میں رہ کر نہ اللہ کو جانا نہ بندوں کے حقوق پہچانے فقیر محتاج کی خود تو کیا خدمت کرتا، دوسروں کو بھی ادھر ترغیب نہ دی پھر جب اللہ پر جس طرح چاہے ایمان نہ لایا تو نجات کہاں، اور جب کوئی بھلائی کا چھوٹا بڑا کام بن نہ پڑا تو عذاب میں تخفیف کی بھی کوئی صورت نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 32–37

[13] یعنی زنجیر اس کے جسم میں ایک طرف سے ڈال کر دوسری طرف سے نکالو جیسے موتی یا تسبیح کے دانے پروئے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–41

ف 1: ہم دنیا میں اپنے مال و دولت پر مفرور تھے ۔ اور سمجھتے تھے ۔ کہ یہ ثروت ۔ یہ کنوز اور خزائن ۔ ہمیں عاقبت میں بھی عزت وافتخار تخشیں گے ۔ اور جس طرح دنیا میں ہم تمول کی وجہ سے ہر نوع کی آسودگی حاصل کرلیتے ہیں ۔ شاید آخرت میں بھی اس کی بدولت جنت اور اس کی آسائشوں کو خریدا جاسکے گا ۔ مگر آہ کہ یہ خیال درست ثابت نہیں ہوا ۔ ان لوگوں کے متعلق یہ فیصلہ ہوگا ۔ کہ ان کو پکڑلو ۔ اور طوق وسلاسل پہنادو ۔ اور پھر ایک طویل زنجیر میں جکڑ کر جہنم میں پھینک دو ۔ کیونکہ ان لوگوں کا اللہ پر ایمان نہ تھا ۔ ان کے دلوں میں بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی نہ تھی ۔ ان کے دل غریبوں کو دیکھ کر پسیجتے نہ تھے ۔ یہ اپنے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 34–35

ف 5۔ یہاں اطعام اور حض سے مراد مرتبہ واجبہ ہے اور اس کے ترک سے مراد وہ ترک ہے جس کا سبب عدم ایمان ہو، حاصل یہ کہ خدا کی عظمت اور مخلوق کی شفقت جو اصل عبادات متعلقہ حقوق اللہ و حقوق العباد ہیں یہ دونوں کا تارک اور منکر تھا اس لئے مستحق عذاب ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس نے محتاجوں کو کھانا کھلانے کی کبھی ترغیب نہیں دی تھی 34 ؎ (لایحض) کی اصل ح ض ض ہے۔ واحد مذکر غائب مضارع منفی حض مصدر۔ وہ آمادہ نہیں کرتا۔ وہ ترغیب نہیں دیتا۔ وہ نہیں ابھارتا تھا۔ فرمایا وہ غریبوں ، مسکینوں ، یتیموں کو کھانا کھلانے کی نہ تو کبھی خود ہمت کرتا تھا اور نہ ہی دوسروں کو اس کی ترغیب دیتا تھا بلکہ جہاں تک اس کا بس چلتا کھانا کھلانا تو درکنار کھلانے والوں کو بھی روکنے کی سرتوڑ کوشش کرتا تھا۔ پیچھے سورة المنافقوں میں آپ پڑھ آئے ہیں کہ وہ اس کردار کے لوگ تھے جو برملا کہتے تھے کہ جو اللہ کے رسول کے اردگرد چمٹے ہوئے ہیں ان پر اگر آپ لوگ خرچ کرنا چھوڑ دیں تو وہ رسول کا ساتھ چھوڑ کر بھاگ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–34

ثُمَّ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْ‌عُهَا سَبْعُونَ ذِرَ‌اعًا فَاسْلُكُوهُ (Thereafter, make him enter into a chain, the measure of which is seventy hands....69:32). The phrase 'make him enter into a chain' could be interpreted metaphorically as 'bind him in a chain' but it could be taken in its primary sense, that is, to pierce the chain through one side of the body, so that it could come out from the other side of it like a string is passed through a pearl or the bead of a rosary. Traditional narratives seem to support the primary sense. [ Mazhari ]

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–37

20 That is, not to speak of feeding a poor man himself, he did not even like to say others that they should feed the hungry."

Read the full tafseer →