Explained with ayahs 25–37
بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال
یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کردیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے، یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا حکم دے گا کہ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
سورة الْحَآقَّة 19
اصل الفاظ ہیں ھلک عنی سلطٰنیہ سلطان کا لفظ دلیل و حجت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اقتدار کے لیے بھی۔ اگر اسے دلیل و حجت کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جو دلیل بازیاں میں کیا کرتا تھا وہ یہاں نہیں چل سکتیں، میرے پاس اپنی صفائی میں پیش کرنے کے لیے اب کوئی حجت نہیں رہی۔ اور اقتدار کے معنی میں لیا جائے تو مراد یہ ہوگی کہ دنیا میں جس طاقت کے بل بوتے پر میں اکڑتا تھا وہ یہاں ختم ہوچکی ہے۔ اب یہاں کوئی میرا لشکر نہیں، کوئی میرا حکم ماننے والا نہیں، میں ایک بےبس اور لاچار بندے کی حیثیت سے کھڑا ہوں جو اپنے دفاع کے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
(آیت) ثُمَّ فِيْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُ یعنی پھر اس کو ایک زنجیر میں پرو دو جس کی مقدار ستر گز ہے۔ زنجیر میں پرونے کا وہ مفہوم بھی مجازاً لیا جاسکتا ہے جو خلاصہ تفسیر میں لکھا گیا ہے کہ زنجیر میں جکڑ دو لیکن اس کے حقیقی معنے یہ ہیں کہ زنجیر ان کے بدن کے اندر ڈال کر دوسری طرف نکال لو جیسے موتی یا تسبیح کے دانے پروئے جاتے ہیں بعض روایات حدیث سے اسی حقیقی معنی کی تائید بھی ہوتی ہے۔ (از مظہری)
Read the full tafseer →فرد جرم:
یہ اس کے اس جرم کا بیان ہے جس کے سبب سے وہ اس غضب اور اس سزا کا مستحق ٹھہرے گا۔ فرمایا کہ یہ خدائے عظیم پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔ یہ اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ اس کا یہ رویہ کہ یہ دولت کا پجاری بن کر بیٹھا رہا اور آج حسرت کر رہا ہے کہ ’مَآ أَغْنٰی عَنِّیْ مَالِیَہْ‘ (میری دولت میرے کیا کام آئی!) اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ خدا پر اس کا ایمان نہیں تھا۔ اگر خدائے عظیم پر اس کا ایمان ہوتا تو اس کو اس کی عظمت سے ڈرنا تھا کہ ایک دن اس کے حضور میں پیش ہونا اور اس کے بخشے ہوئے مال کا حساب دینا ہے اور وہ ایسی عظیم ہستی ہے کہ اس کی پکڑ سے کوئی چھڑا نہیں سکتا۔
Read the full tafseer →33۔ 1 یہ مذکورہ سزا کی علت یا مجرم کے جرم کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–35
6: نیک لوگوں کو ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اور برے لوگوں کو بائیں ہاتھ میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
اس کا دل ایمان اللہ سے خالی تھا۔ یہ محض انسانی لحاظ سے بھی کوئی اچھا انسان نہ تھا۔ لوگوں پر رحم نہ کرتا تھا۔ لہٰذا اس آگ کے سوا اس کے لئے کوئی اور مناسب جگہ ہی نہ تھی۔
جس آدمی کا دل ایمان سے خالی ہو ، وہ مرجاتا ہے۔ اس کا دل کھنڈر بن جاتا ہے ، برباد ہوجاتا ہے۔ اس کے اندر کوئی روشنی نہیں ہوتی ، وہ مسخ ہوگیا ہے۔ وہ حیوانوں سے کم تر مخلوق جمادات سے بھی کم تر ہوگیا ہے۔ کیونکہ ہر چیز مومن ہے۔ ہر چیز تسبیح کرتی ہے۔ ہر چیز اپنے وجود کے اصل مصدر سے پیوستہ ہوتی ہے۔ رہا یہ عقلمند انسان تو اپنے اصل اور سرچشمے سے یہ اپنے آپ کو کاٹ دیتا ہے۔
پھر اس کا دل انسانوں پر ترس نہیں کھاتا۔ اللہ کے بندوں میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
3 یعنی اس نے دنیا میں رہ کر نہ اللہ کو جانا نہ بندوں کے حقوق پہچانے، فقیر محتاج کی خود تو کیا خدمت کرتا دوسروں کو بھی ادھر ترغیب نہ دی۔ پھر جب اللہ پر جس طرح چاہیے ایمان نہ لایا تو نجات کہاں ؟ اور جب کوئی بھلائی کا چھوٹا بڑا کام بن نہ پڑا تو عذاب میں تخفیف کی بھی کوئی صورت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
آیت 29 { ہَلَکَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَہْ۔ } ”میرا اقتدار بھی مجھ سے چھن گیا۔“
میرے دنیوی اختیار و اقتدار اور میری شان و شوکت میں سے کچھ بھی باقی نہ بچا ‘ سب کچھ نیست و نابود ہوگیا۔ ایسے ہر شخص کے لیے فرشتوں کو حکم دیا جائے گا :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
19 اس کافر کی اس قسم کی سوچ بچار اور اس کے متعلق الٰہی فیصلہ کے اعلان کے درمیان کتنی مدت ہوگی ؟ یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ تاہم یہ اعلان اس کے متعلق عدالت الٰہی سے باقاعدہ شہادتوں کی بنا پر کیے ہوئے فیصلہ کے بعد فرشتوں کو یہ حکم دیا جائے گا کہ اس بدبخت کو پکڑ لو اور اس کو طوق پہنا کر جہنم میں پھینک دو ۔ پھر ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں اس کو پرو دو تاکہ جہنم کے عذاب کے درمیان یہ حرکت تک بھی نہ کرسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
13۔ (مرتبہ واجبہ میں) (آیت) ” انہ ..... العظیم “۔ یعنی یہ حق تعالیٰ کی ذات وصفات پر اس طرح ایمان نہ لایا، جس طرح کی تعلیم حضرات انبیاء ومرسلین دے گئے تھے۔ (آیت) ” ولا .... المسکین “۔ یعنی یہ خود تو غریبوں، مسکینوں، کی خدمت کیا کرتا، دوسروں تک کو اس کی صلاح وترغیب نہیں دیتا تھا۔ خلاصہ یہ کہ اللہ کے حق اور بندوں کے حق دونوں کو بھولا ہوا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–37
ویحمل عرش رب فوقھم یومئذ ثمنیۃ اس رکوع کی اکثر آیات کی تشریح، تسہیل و تحقیق کے زیر عنوان گزر چکی ہے، زیر نظر آیت متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین کرنا مشکل ہیں ہم نہ یہ جان سکتے ہیں کہ عرش کی حقیقت کیا ہے اور نہ یہ جان سکتے ہیں کہ قیامت کے روز عرش کو آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کی کیا کیفیت ہوگی ؟ لیکن یہ بات بہرحال قابل تصور نہیں، کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھے ہوئے ہونگے، اور ذات باری کا جو تصور قرآن پیش کرتا ہے وہ بھی اس خیال کے کرنے سے مانع ہے کہ وہ جسم، جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اسے اٹھائے، اس لئے کھوج کر ید کر کے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →انہ کان لا یومن باللہ العظیم . اس لیے کہ وہ عظمت والے اللہ پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔ عذاب مذکور کی علت کا
بیان ہے۔ لفظ عظیم کے ذکر سے اس امر کی طرف ایماء ہے کہ اللہ ہی مستحق عظمت ہے اگر اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو مستحق عظمت قرار دے گا تو وہ عذاب کا مستحق ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بزرگی میری چادر ہے اور عظمت میری ازار (یعنی میں بزرگی اور بڑائی کے پردوں میں پوشیدہ ہوں) اب جو شخص میرا کوئی لباس مجھ سے کھینچے گا میں اس کو آگ میں داخل کروں گا۔ (مسلم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
(33۔ 34) یہ دنیا میں جب موجود تھا تو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتا تھا اور دوسروں کو بھی غریب آدمی کے کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا تھا۔
Read the full tafseer →انہ کان لایومن باللہ …: عذاب کا باعث یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ اس کا معاملہ یہ تھا کہ اس پر ایمان ہی نہیں رکھتا تھا، یعنی اسے مانتا ہی نہیں تھا، یا اس کے ساتھ کچھ شریک بنا رکھے تھے اور بندوں کیساتھ معاملہ یہ تھا کہ مسکین کو خود کھلانا تو دور کیب ات ہے، کسید وسرے کو اسے کھلانے کی ترغیب بھی نہیں دیتا تھا۔ اس نے اللہ کا حق پہچانا نہ بندوں کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
ھلک عنی سلطنیہ۔ حضرت ابن عباس نے یہ تفسیر بیان کی ہے : مجھ سے میری محبت ہلاک ہوگئی (1) ، یہ مجاہد، عکرمہ، سعدی اور ضحاک کا قول ہے۔ ابن زید نے کہا : یہاں سلطان سے مراد دنیا میں جو حکومت و بادشاہت تھی۔ یہ آدمی ایسا تھا جس کے ساتھی اطاعت کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : خذوہ فغلوہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایک لاکھ فرشتے اس کی طرف جلدی کریں گے پھر اس کے ہاتھ کو اس کی گردن کے ساتھ جمع کردیا جائے گا اللہ تعالیٰ کے فرمان فغلوہ کا یہی مفوہم ہے اسے طوق کے ساتھ جکڑ دو ثم الجحیم صلوۃ۔ اسے یوں بنا دو کہ وہ جہنم کی آگ کو تاپتا رہے۔ ثم فی سلسلۃ ذرعھا سبعون ذراعاً اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ یہاں کون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
10۔ ابن ابی حاتم اور بیہقی نے البعث والنشور میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فاسلکوہ اس کو جکڑ دو ۔ یعنی اس زنجیر کو۔ اس کی دبر میں داخل کی جائے گی۔ یہاں تک کہ وہ اس کے نتھنوں سے باہر نکلے گی یہاں تک کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑ انہیں ہوسکے گا۔
11۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) نے آیت فاسلکوہ کے بارے میں روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ زنجیر اس کی دبر میں داخل ہوگی پھر اس کے منہ سے باہر نکلے گی۔ پھر ان کو اس طرح پرو دیا جائے گا جیسے مچھلی کو سلاخ میں پرو دیا جاتا ہے پھر بھونا جاتا ہے۔
12۔ ابن المنذر نے ابن جریج کے طریق سے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ زنجیر…
Read the full tafseer →[اِنَّهٗ : بیشک وہ ][كَانَ لَا يُؤْمِنُ : ایمان نہیں لاتا تھا ][ بِاللّٰهِ الْعَظِيْمِ : اس عظیم اللہ پر ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
کافروں کی ذلت :
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا ﴿ خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ0030 ثُمَّ الْجَحِيْمَ صَلُّوْهُۙ0031 ثُمَّ فِيْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ0032﴾ (اس کو پکڑ لو پھر اس کو طوق پہنا دو پھر اس کو دوزخ میں داخل کرو پھر ایک ایسی زنجیر میں اس کو جکڑ دو جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے) ۔
﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤْمِنُ باللّٰهِ الْعَظِيْمِۙ0033﴾ (بلاشبہ یہ اللہ پر ایمان نہیں لاتا تھا جو عظیم ہے) ۔
﴿ وَ لَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِؕ0034﴾ (اور وہ مسکین کے کھانے کی ترغیب نہیں دیتا تھا) داہنے ہاتھ اعمال دیئے جانے والوں کی خوشی اور خوش بختی اور بائیں ہاتھ میں اعمال نامے دیئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔
ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
12:۔ ” انہ کان لا یؤمن “ یہ مقابل کی علت ہے۔ کافر اور مشرک کی یہ سزا اس لیے ہوگی کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے تھے، بلکہ اس کے سوا اپنے خود ساختہ معبودوں کی بھی عبادت کرتے اور ان کو برکات دہندہ سمجھتے تھے نیز وہ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی نہ دوسروں کو ترغیب دیتے تھے نہ اپنے مال سے مسکینوں کو خود کھلاتے اور نہ اپنے خادموں کو اس کا حکم دیتے۔ ” فلیس لہ الیوم “ اس لیے آج یہاں ان کا کوئی دوست اور غمخوار نہیں۔ نہ آج ان کے لیے کوئی عمدہ خوراک ہے البتہ پیپ ہے جو جہنمیوں کے زخموں سے بہتی ہوگی یہی ان کی خوراک ہوگی اور ان مجرموں کے سوا کوئی اسے نہیں کھائیگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
گذشتہ سے پیوستہ :
قیامت واقع ہونے پر انسانوں کے دو گروہ ہوجائیں گے۔ پہلی آیتوں میں صور پھونکنے کا ذکر ہوا۔ نظام کے درہم برہم ہوجانے اور زمین و آسمان کے تغیر و تبدل کا بیان ہوا۔ اس روز عرش الہٰی اور ملائکہ کی کیفیت کا حال بھی ذکر کیا گیا پچھلے درس میں اس گروہ کا ذکر ہوا جس کو اعمالنامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ۔ وہ بڑا خوش ہوگا۔ اپنا اعمالنامہ لوگوں کو دکھاتاپھرے گا۔ اس گروہ کو ملنے والے انعام و اکرام کا ذکر بھی پچھلے درس میں ہوچکا ہے۔
بائیں ہاتھ والے :
اب ناکام ہونے والے گروہ کا بیان ہوتا ہے بہرحال وہ انسان جس کو اس کا اعمالنامہ بائیں ہاتھ میں دیا گیا۔ ہوہ کہے گا کاش کہ یہ اعمالنامہ مجھے نہ…
Read the full tafseer →اِنَّہٗ كَانَ لَا يُؤْمِنُ بِاللہِ الْعَظِيْمِ 33
لا
«لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت .
ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–37
ترکیب : نفتحہ واحدۃ بالرفع علی انھا مفعول مالم یسم فاعلہ من نفخ المجھول وانما حسن تذکیرا لفعل للفصل اوان التانیث غیرحقیقی و قریٔ بالنصب ان فی الصور مفعول مالم یسم فاعلہ ثم نصب نفتحہ علی انھا مفعول مطلق واحدۃ تاکید لھا۔ وحملت الارض الخ بالتخفیف و قریٔ
1 ؎ والقطوف قطف وھوالمقطوع ای الثمر ما اسلفتم ای قدتم من اعمالکم الصالحۃ الاسلاف تقدیم ما ترجوا ان یعود علیک بخیر فھو کالا قراض و منہ یقال اسلف فی کذا اذا قدم فیہ مالہ ذرعھا الخ صفۃ لسلسلۃ غسلین فعلین من الغسل ھو وماء یسیل من الجروح بعد الغسل من صدید قیح دوم 12 منہ
2 ؎ یالیتھا الضمیر یعودالی الموتۃ الاولی فانھا کالمذکورا والی الحالۃ التی شاھدھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
اِنَّـہٗ کَانَ لاَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ ۔ وَلاَ یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ ۔ (الحآقۃ : 33، 34)
(یہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔ اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔ )
اصحابُ الشمال کے بنیادی جرائم
جن لوگوں کو یہ سزا دی جائے گی کہ وہ جہنم میں بھی زنجیروں میں بندھے ہوئے ہوں گے ان کے بنیادی جرائم یہ ہیں کہ ان میں کا ہر شخص نہ تو خدائے بزرگ و برتر پر ایمان رکھتا تھا۔ ایمان کا ایک معنی تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو ویسے نہیں مانتا تھا جیسے ماننا چاہیے۔ اس کی ذات اور اس کی صفات میں شریک ٹھہراتا تھا اور اللہ تعالیٰ کے رسول کو ماننے اور آخرت کو تسلیم کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
فہم القرآن
ربط کلام : جنتی کے مقابلے میں جہنمی کا حال اور ان کی بدنصیبی۔
رب ذوالجلال کے حکم سے نیک لوگوں کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں پہنچ چکے ہوں گے اور انہیں جنت میں داخلہ دیا جائے گا۔ ان کے مقابلے میں برے لوگوں کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے، جونہی برے شخص کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ چیخ اٹھے گا اور کہے گا ہائے افسوس ! کاش کہ مجھے میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا اور مجھے یہ علم ہی نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے، کاش ! دنیا کی موت ہی آخری موت ثابت ہوتی۔ آج نہ میرا مال میرے کام آیا اور نہ ہی میرے اقتدار اور اختیار نے مجھے فائدہ دیا یہاں اختصار سے کام…
Read the full tafseer →33 : اِنَّہٗ کَانَ لَایُؤْمِنُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ (یہ شخص عظمت والے اللہ پر ایمان نہیں رکھتا تھا) انہ یہ تعلیل کیلئے آیا ہے گویا اس طرح کہا گیا مالہ یعذب ھذا العذاب الشدید ؟ اس کو اتنا سخت عذاب کیوں دیا جارہا ہے تو جواب دیا گیا بانہٗ کان الاٰیۃ کہ یہ عظمت والے اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ رکھتا تھا۔
Read the full tafseer →32 ۔” ثم فی سلسلۃ زرعھا سبعون ذراعا فاسلکوہ “ پس تم اس کو اس میں داخل کردو۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ستر گز فرشتے کے گز کے ہوں گے ۔ پس اس کی دبر میں داخل ہوں اور نتھنوں سے نکلیں گے اور کہا گیا ہے اس کے منہ میں داخل ہوں اور دبر سے نکلیں گے اور نوف بکالی فرماتے ہیں سترگز، ہرگز ستر باع کا، ہر باع تیرے اور مکہ کے درمیان فاصلہ سے زیادہ ہے اور وہ اس وقت کوفہ کے صحن میں تھے اور سفیان (رح) فرماتے ہیں ہرگز ستر گز کا۔ حسن (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں کہ یہ کون سا گز ہے۔ عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر اس کی مثل اضافہ اور لکڑی کے پیالہ کی طرف اشارہ کیا آسمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
25۔ 37۔ جن لوگوں کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے جب وہ لوگ اس میں اول سے آخر تک بدیاں لکھی ہوئی دیکھیں گے تو نہایت پریشانی سے وہ باتیں کہیں گے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے اسی وقت خدا تعالیٰ فرمائے گا ایسے لوگوں کو گرفتار کرکے ان کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں اور ان کو دوزخ میں جھونک دیا جائے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے نہ اللہ کی عبادت کی نہ اللہ کی مخلوقات کو کچھ فائدہ پہنچایا پھر ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر ستر گز کی زنجیر میں ان کی جماعت کی جماعت کو پرو دیا جائے گا اور دوزخ میں جھونک دیا جائے گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ 2 ؎ کا قول ہے کہ یہ ستر گزر فرشتوں کے ہاتھوں کی ناپ کے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
(ثم فی سلسلۃ ذرعا سبعون ذراعا) ۔ پھر زنجیر سے، جس کی ناپ ستر گز ہے یعنی انتہائی حرارت میں جہنم کی زنجیروں کے ساتھ (فاسلکوہ) اسے جکڑ دو ۔ یعنی ان زنجیروں میں پرودو وہ اس طرح کی زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کرکے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہوا اور پھر ان زنجیروں میں لٹکا دیا گیا ہو پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر وتوبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے اس مقام پر پہنچایا یہ ہے (انہ کان لایومن باللہ العظیم) وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اور اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرادینے والا…
Read the full tafseer →27 دولت ایمان سے محرومی کا نتیجہ و انجام عذاب دوزخ والعیاذ باللہ جل و علائ۔ سو اس سے اس حقیقت کو اضح فرما دیا گیا کہ دولت ایمان سے محرومی کا نتیجہ و انجام بہرحال دوزخ ہے چناچہ ان مجرموں کے فرد جرم کی اظحار وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ایمان نہیں رکھتا تھا خدائے عظیم پر جس کی عظمتوں کے آثار اس کی کائنات میں ہر طرف پھیلے ہوئیت ہے اور جو اپنی زبان حال سے پکار پکار کر اس کو دعوت فکر و ایمان دے رہے تھے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یہ اس شخص کی فرد جرم کے پہلے حصے یعنی اس کے کفر اور اس کی بےایمانی کا ذکر ہوا۔ پس یہاں سے یہ بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کافر کو اگر دنیا کی ساری دولت اور عمر بھر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–37
برُے اور اچھے لوگوں کا حال
تشریح : یہ سب غیب کی خبریں ہیں۔ جن کی وضاحت کوئی حکیم ” سائنسدان ” مفکر ” منجم اور عالم دین اس سے زیادہ نہیں کرسکتا جو وضاحت قرآن پاک میں یہاں بڑی آسان اور واضح آیات کی صورت میں کردی گئی ہے۔ ان پر پوری طرح سے ایمان و یقین لانا اس لیے ضروری ہے کہ یہ اللہ کا پیغام نبی ﷺ کے ذریعہ دیا گیا ہے اور اس کی اہمیت اور سچ کو یوں بیان کیا گیا ہے ملاحظہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
سورة الحاقہ۔
آیات 1 تا 37۔
اسرار ومعارف۔
دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔
کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
ف 4 حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ وہ ” زنجیریں اس کے پیچھے سے داخل کر کے منہ سے نکالی جائیں گی۔ “ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(69:33) انہ کان لا یؤمن باللہ العظیم۔ یہ جملہ عذاب مذکور کی علت ہے۔ یہ عذاب اسے اس لئے دیا جائے گا کیونکہ وہ عطمت والے اللہ پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
لغات القرآن۔
الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں)
رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔
دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
(ف 2) یعنی اس نے دنیا میں رہ کر نہ اللہ کو جانا نہ بندوں کے حقوق پہچانے فقیر محتاج کی خود تو کیا خدمت کرتا، دوسروں کو بھی ادھر ترغیب نہ دی پھر جب اللہ پر جس طرح چاہے ایمان نہ لایا تو نجات کہاں، اور جب کوئی بھلائی کا چھوٹا بڑا کام بن نہ پڑا تو عذاب میں تخفیف کی بھی کوئی صورت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
[13] یعنی زنجیر اس کے جسم میں ایک طرف سے ڈال کر دوسری طرف سے نکالو جیسے موتی یا تسبیح کے دانے پروئے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–41
ف 1: ہم دنیا میں اپنے مال و دولت پر مفرور تھے ۔ اور سمجھتے تھے ۔ کہ یہ ثروت ۔ یہ کنوز اور خزائن ۔ ہمیں عاقبت میں بھی عزت وافتخار تخشیں گے ۔ اور جس طرح دنیا میں ہم تمول کی وجہ سے ہر نوع کی آسودگی حاصل کرلیتے ہیں ۔ شاید آخرت میں بھی اس کی بدولت جنت اور اس کی آسائشوں کو خریدا جاسکے گا ۔ مگر آہ کہ یہ خیال درست ثابت نہیں ہوا ۔ ان لوگوں کے متعلق یہ فیصلہ ہوگا ۔ کہ ان کو پکڑلو ۔ اور طوق وسلاسل پہنادو ۔ اور پھر ایک طویل زنجیر میں جکڑ کر جہنم میں پھینک دو ۔ کیونکہ ان لوگوں کا اللہ پر ایمان نہ تھا ۔ ان کے دلوں میں بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی نہ تھی ۔ ان کے دل غریبوں کو دیکھ کر پسیجتے نہ تھے ۔ یہ اپنے…
Read the full tafseer →(33) کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ پر جو سب سے بڑا ہے ایمان نہ رکھتا تھا۔
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی جس طرح ایمان لانا حسب تعلیم انبیاء ضروری تھا وہ ایمان نہ رکھتا تھا۔
Read the full tafseer →اس لئے کہ یہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان نہیں رکھتا تھا
33 ؎ اب بتایا جا رہا ہے کہ اس کے ساتھ جو کچھ کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے یہ کیوں دیا جا رہا ہے کہ اس نے آخر کیا کیا ہے ؟ اس کے جرم کی نوعیت بتائی جا رہی ہے کہ اس طرح پکڑنے ، جکڑنے اور دوزخ میں ذلیل و خوار کر کے ڈالنے کی اصل علت کیا ہے ؟ فرمایا یہ ہم اس سے کوئی زیادتی نہیں کر رہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کو اپنی برائی کا اور اپنے غرور کا اس قدر گھمنڈ تھا کہ وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی پروا کرنے کے لئے تیار ہی نہ تھا اور اللہ پر اور اس کی باتوں پر اس کو قطعاً کوئی یقین نہیں تھا گویا یہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اپنی توہین سمجھتا تھا اور اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
ثُمَّ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوهُ (Thereafter, make him enter into a chain, the measure of which is seventy hands....69:32). The phrase 'make him enter into a chain' could be interpreted metaphorically as 'bind him in a chain' but it could be taken in its primary sense, that is, to pierce the chain through one side of the body, so that it could come out from the other side of it like a string is passed through a pearl or the bead of a rosary. Traditional narratives seem to support the primary sense. [ Mazhari ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
19 The word sultan of the Text is used both for an argument and for power and authority. If it is taken in the sense of an argument, the meaning would be: "The arguments that I used to give would not work here: here, I have no argument which 1 can present in self-defence." And if it is taken in the sense of power, it would imply: "The power of which I was so proud in the world is no more: I have no army here and there is none to obey me: 1 stand as a miserable, helpless creature, who can do nothing to defend himself."
Read the full tafseer →