Al-Haaqqa 69:32

Al-Haaqqa · from ayah 32

69:32

ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُ ۟ؕثُمَّ فِىۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا فَاسۡلُكُوۡهُ ؕ‏

پھر زنجیر سے جس کی ناپ ستر گز ہے جکڑ دو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then into a chain whose length is seventy cubits insert him."

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa

All translations of 69:32

پھر اِس کو ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر زنجیر سے جس کی ناپ ستر گز ہے جکڑ دو

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر اسے ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش ستر ہاتھ کی ہے جکڑ دو

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر اسے ایسی زنجیر میں پرو دو جس کی پیمائش ستر ہاتھ کے برابر ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر ایسی زنجیر میں جس کا ناپ ستر ہاتھ ہے اسے پُرو دو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر ایک زنجیر میں جس کی لمبائی ستر گز ہے اسے جکڑ دو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر ایک زنجیر میں، جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے، پس اسے داخل کردو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اسے ایک ستر گز لمبی زنجیر میں جکڑ دو۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر ایک زنجیر میں جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے، اس کو جکڑ دو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر جکڑ دو اس کو ایک ایسی ہولناک زنجیر میں جس کی لمبائی ستر ہاتھ ہے

— مولانا اسحاق مدنی

پھر ایک ایسی زنجیر میں اسے جکڑو جس کی پیمائش ستر گز ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر ایک زنجیر میں اس کو باندھ دو جس کا طول ستر ّگز ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر زنجیر سے جس کی لمبائی ستر گز ہے جکڑ دو

— محترمہ رفعت اعجاز

then fasten him with a chain, seventy cubits long.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Thereafter, fasten him with a chain the measure of which is seventy hands.

— Muhammad Taqi Usmani

Thereafter, fasten him with a chain the measure of which is seventy hands.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Then fasten him on a chain whereof the length is seventy cubits!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And then insert him in a chain whereof the length is seventy cubits.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then into a chain whose length is seventy cubits insert him."

— Saheeh International

Fasten a chain to them - seventy cubits long -

— Muhammad Sarwar

Then thrust him into a chain the length of which is seventy cubits.

— Muhammad Habib Shakir

Then, in a chain whereof the length is seventy Cubits, bind him.

— Abdul Majid Daryabadi

"Further, make him march in a chain, whereof the length is seventy cubits!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 69:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 25–37

بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کردیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے، یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا حکم دے گا کہ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 29–33

سورة الْحَآقَّة 19 اصل الفاظ ہیں ھلک عنی سلطٰنیہ سلطان کا لفظ دلیل و حجت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اقتدار کے لیے بھی۔ اگر اسے دلیل و حجت کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جو دلیل بازیاں میں کیا کرتا تھا وہ یہاں نہیں چل سکتیں، میرے پاس اپنی صفائی میں پیش کرنے کے لیے اب کوئی حجت نہیں رہی۔ اور اقتدار کے معنی میں لیا جائے تو مراد یہ ہوگی کہ دنیا میں جس طاقت کے بل بوتے پر میں اکڑتا تھا وہ یہاں ختم ہوچکی ہے۔ اب یہاں کوئی میرا لشکر نہیں، کوئی میرا حکم ماننے والا نہیں، میں ایک بےبس اور لاچار بندے کی حیثیت سے کھڑا ہوں جو اپنے دفاع کے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–34

(آیت) ثُمَّ فِيْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُ یعنی پھر اس کو ایک زنجیر میں پرو دو جس کی مقدار ستر گز ہے۔ زنجیر میں پرونے کا وہ مفہوم بھی مجازاً لیا جاسکتا ہے جو خلاصہ تفسیر میں لکھا گیا ہے کہ زنجیر میں جکڑ دو لیکن اس کے حقیقی معنے یہ ہیں کہ زنجیر ان کے بدن کے اندر ڈال کر دوسری طرف نکال لو جیسے موتی یا تسبیح کے دانے پروئے جاتے ہیں بعض روایات حدیث سے اسی حقیقی معنی کی تائید بھی ہوتی ہے۔ (از مظہری)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 30–32

یعنی یہ نالہ و شیون وہ کرتے ہی ہوں گے کہ حکم ہو گا کہ اس کو پکڑو، اس کی گردن میں طوق ڈالو، پھر اس کو جہنم میں جھونک دو، پھر ایک زنجیر میں جس کا طول ستر ہاتھ ہو گا، اس کو جکڑ دو۔۔۔ قرآن مجید کے بعض مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ دولت کو گن گن کر جمع رکھنے والے سرمایہ دار دوزخ میں ڈال کر بھاری زنجیروں میں ستونوں کے ساتھ باندھ دیے جائیں گے تاکہ جس دولت پر مارگنج بن کر بیٹھے رہے اس کی تپش کا مزا اچھی طرح چکھیں۔ سورۂ ہمزہ میں اس کی تفصیل، ان شاء اللہ، آئے گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

32۔ 1 ذراع (ہاتھ) یہ کتنا ہوگا اس کی وضاحت ممکن نہیں تاہم اس سے اتنا معلوم ہوا کہ زنجیر کی لمبائی ستر ذراع ہوگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–35

6: نیک لوگوں کو ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اور برے لوگوں کو بائیں ہاتھ میں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ثم فی .................... فاسلکوہ (96 : 32) ” پھر اس کو ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو “۔ آگ کی زنجیروں میں سے ایک گز زنجیر بھی اس کیڑے کے لئے کافی ہے ، لیکن مزید لمبی زنجیر اسے ذلیل کرنے کے لئے اور لفظ سبعین کے استعمال کے لئے ہے۔ یوں انسانوں کو ڈرانا مقصود ہے۔ اب یہ حکم اور ڈگری صادر ہوگئی ہے۔ اس کا اجراء ہوگیا ہے اور مجرم جہنم رسید ہوگیا ہے ، تو آپ اس حکم پر دلائل دیئے جاتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا۔ اس قدر سخت سزا کا یہ مستوجب کیوں ہوا ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 30–32

2 فرشتوں کو حکم ہوگا کہ اسے پکڑو، طوق گلے میں ڈالو، پھر دوزخ کی آگ میں غوطہ دو اور اس زنجیر میں جس کا طول ستر گز ہے اس کو جکڑ دو ، تاکہ جلنے کی حالت میں ذرا بھی حرکت نہ کرسکے، کہ ادھر ادھر حرکت کرنے سے بھی جلنے والا قدرے تخفیف محسوس کیا کرتا ہے (تنبیہ) گز سے وہاں کا گز مراد ہے جس کی مقدار اللہ ہی جانے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 29–33

آیت 29 { ہَلَکَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَہْ۔ } ”میرا اقتدار بھی مجھ سے چھن گیا۔“ میرے دنیوی اختیار و اقتدار اور میری شان و شوکت میں سے کچھ بھی باقی نہ بچا ‘ سب کچھ نیست و نابود ہوگیا۔ ایسے ہر شخص کے لیے فرشتوں کو حکم دیا جائے گا :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 32–33

19 اس کافر کی اس قسم کی سوچ بچار اور اس کے متعلق الٰہی فیصلہ کے اعلان کے درمیان کتنی مدت ہوگی ؟ یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ تاہم یہ اعلان اس کے متعلق عدالت الٰہی سے باقاعدہ شہادتوں کی بنا پر کیے ہوئے فیصلہ کے بعد فرشتوں کو یہ حکم دیا جائے گا کہ اس بدبخت کو پکڑ لو اور اس کو طوق پہنا کر جہنم میں پھینک دو ۔ پھر ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں اس کو پرو دو تاکہ جہنم کے عذاب کے درمیان یہ حرکت تک بھی نہ کرسکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 30–32

12۔ دوزخی ابھی حسرت ومذامت میں مبتلا ہوں گے، اور پھر بھی ضرور نہیں کہ اس سے کوئی متعین پیمائش ہی مقصود ہو، بلکہ ہوسکتا ہے کہ زنجیر کا محض طویل ہونا مقصود ہو۔ لیس الغرض التقدیر بھذا المقدار بل الوصف بالطول کماقال ان تستغفرلھم سبعین مرۃ یرید مرات کثیرۃ (کبیر) یجوز ان یراد المبالغۃ فی طولھا وان لم یبلغ ھذا العدد (بحر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 17–37

ویحمل عرش رب فوقھم یومئذ ثمنیۃ اس رکوع کی اکثر آیات کی تشریح، تسہیل و تحقیق کے زیر عنوان گزر چکی ہے، زیر نظر آیت متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین کرنا مشکل ہیں ہم نہ یہ جان سکتے ہیں کہ عرش کی حقیقت کیا ہے اور نہ یہ جان سکتے ہیں کہ قیامت کے روز عرش کو آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کی کیا کیفیت ہوگی ؟ لیکن یہ بات بہرحال قابل تصور نہیں، کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھے ہوئے ہونگے، اور ذات باری کا جو تصور قرآن پیش کرتا ہے وہ بھی اس خیال کے کرنے سے مانع ہے کہ وہ جسم، جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اسے اٹھائے، اس لئے کھوج کر ید کر کے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم فی سلسلۃ ذرعھا سبعون ذراعا فاسلکوہ . فاسلکوہ میں تحسین کلام کے لیے فاء کو زائد کیا گیا ہے عاطفہ نہیں ورنہ دو حروف عطف کا اجتماع لازم آئے گا۔ (ثم اور فاء ) ۔ ابن ابی حاتم اور بیہقی نے عوفی کے حوالہ سے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ زنجیر کافر کے مقعد سے داخل کر کے ناک کے نتھنوں میں سے نکالی جائے گی (اس طرح اس کو زنجیر میں پرو دیا جائے گا) تاکہ وہ پاؤں پر کھڑا نہ ہو سکے۔ ابن ابی حاتم نے ابن جریر کے طریقہ سے حضرت ابن عباس کا قول بیان کیا ہے کہ زنجیر سرین سے داخل کی جائے گی اور منہ سے نکالی جائے گی اور جس طرح ٹڈی کو لکڑی میں پروتے ہیں ‘ اسی طرح زنجیر میں کافر کو پرو دیا جائے گا۔ اس کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 29–32

(29۔ 32) اور میرا عذر بھی مجھ سے گیا گزرا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ اس کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دو پھر ایک ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش فرشتوں کے گزوں کے حساب سے ستر گز ہے جکڑ دو۔ یعنی اس کی شرم گاہ میں اسے داخل کر کے اس کے منہ سے نکال دو اور بقیہ زنجیر کو اس کی گردن پر لپیٹ دو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 30–32

(خذوہ فغلوہ…: حکم ہوگا اسے پکڑو اور اس کی گردن میں طوق ڈال دو ، پھر اسے بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دو ، پھر اسے ایک زنجیر میں جکڑ دو جو ستر (70) ہاتھ لمبی ہے۔ جہنیموں کو جہنم میں طوقوں اور زنجیروں سے جکڑ کر لمبے لمبے ستونوں سے باندھ دیا جائے گا تاکہ وہ حرکت نہ کرسکیں، کیونکہ حرکت سے بھی عذاب میں کچھ تخفیف ہوتی ہے، فرمایا :(انھا علیھم موصدۃ، فی عمد ممددۃ) (الھمزۃ : 8، 9)”یقیناً وہ ان پر (ہر طرف سے) بند کی ہوئی ہے۔ لمبے لمبے ستونوں میں“ ستر ہاتھ سے مراد یہ پیمئاش بھی ہوسکتی ہے اور بہت زیادہ لمبائی بھی، کیونکہ عربوں کے ہاں ستر کا عدد کثرت کے لئے بھی آتا ہے۔ پھر ہوسکتا ہے کہ یہ زنجیر ہر مجرم کے لئے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 29–34

ھلک عنی سلطنیہ۔ حضرت ابن عباس نے یہ تفسیر بیان کی ہے : مجھ سے میری محبت ہلاک ہوگئی (1) ، یہ مجاہد، عکرمہ، سعدی اور ضحاک کا قول ہے۔ ابن زید نے کہا : یہاں سلطان سے مراد دنیا میں جو حکومت و بادشاہت تھی۔ یہ آدمی ایسا تھا جس کے ساتھی اطاعت کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : خذوہ فغلوہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایک لاکھ فرشتے اس کی طرف جلدی کریں گے پھر اس کے ہاتھ کو اس کی گردن کے ساتھ جمع کردیا جائے گا اللہ تعالیٰ کے فرمان فغلوہ کا یہی مفوہم ہے اسے طوق کے ساتھ جکڑ دو ثم الجحیم صلوۃ۔ اسے یوں بنا دو کہ وہ جہنم کی آگ کو تاپتا رہے۔ ثم فی سلسلۃ ذرعھا سبعون ذراعاً اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ یہاں کون…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–33

10۔ ابن ابی حاتم اور بیہقی نے البعث والنشور میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فاسلکوہ اس کو جکڑ دو ۔ یعنی اس زنجیر کو۔ اس کی دبر میں داخل کی جائے گی۔ یہاں تک کہ وہ اس کے نتھنوں سے باہر نکلے گی یہاں تک کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑ انہیں ہوسکے گا۔ 11۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) نے آیت فاسلکوہ کے بارے میں روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ زنجیر اس کی دبر میں داخل ہوگی پھر اس کے منہ سے باہر نکلے گی۔ پھر ان کو اس طرح پرو دیا جائے گا جیسے مچھلی کو سلاخ میں پرو دیا جاتا ہے پھر بھونا جاتا ہے۔ 12۔ ابن المنذر نے ابن جریج کے طریق سے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ زنجیر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ثُمَّ فِيْ سِلْسِلَةٍ : پھر ایک ایسی زنجیر میں ][ ذَرْعُهَا : جس کی لمبائی ][ سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا : ستر ہاتھ ہے ][ فَاسْلُكُوْهُ : تم لوگ ڈالو (جکڑو) اس کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 30–34

کافروں کی ذلت : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا ﴿ خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ0030 ثُمَّ الْجَحِيْمَ صَلُّوْهُۙ0031 ثُمَّ فِيْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ0032﴾ (اس کو پکڑ لو پھر اس کو طوق پہنا دو پھر اس کو دوزخ میں داخل کرو پھر ایک ایسی زنجیر میں اس کو جکڑ دو جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے) ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤْمِنُ باللّٰهِ الْعَظِيْمِۙ0033﴾ (بلاشبہ یہ اللہ پر ایمان نہیں لاتا تھا جو عظیم ہے) ۔ ﴿ وَ لَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِؕ0034﴾ (اور وہ مسکین کے کھانے کی ترغیب نہیں دیتا تھا) داہنے ہاتھ اعمال دیئے جانے والوں کی خوشی اور خوش بختی اور بائیں ہاتھ میں اعمال نامے دیئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–37

ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔ ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 30–32

11:۔ ” خذوہ “ جزاء و سزا کا فیصلہ ہوجانے کے بعد فرشتوں کو حکم ہوگا کہ اس کی گردن میں طوق ڈال دو اور اسے ستر گز لمبے زنجیر میں باندھ کر اس کو لٹکاؤ اور اسے جہنم میں پھینک دو اس صورت میں ثم تعقیب ذکری کے لیے ہوگا۔ یا مطلب یہ ہے کہ اسے زنجیروں میں جکڑو اور پھر ستر گز لمبے زنجیر میں اسے جہنم کے اندر جکڑ دو تاکہ وہ ہل جل نہ سکے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 25–37

گذشتہ سے پیوستہ : قیامت واقع ہونے پر انسانوں کے دو گروہ ہوجائیں گے۔ پہلی آیتوں میں صور پھونکنے کا ذکر ہوا۔ نظام کے درہم برہم ہوجانے اور زمین و آسمان کے تغیر و تبدل کا بیان ہوا۔ اس روز عرش الہٰی اور ملائکہ کی کیفیت کا حال بھی ذکر کیا گیا پچھلے درس میں اس گروہ کا ذکر ہوا جس کو اعمالنامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ۔ وہ بڑا خوش ہوگا۔ اپنا اعمالنامہ لوگوں کو دکھاتاپھرے گا۔ اس گروہ کو ملنے والے انعام و اکرام کا ذکر بھی پچھلے درس میں ہوچکا ہے۔ بائیں ہاتھ والے : اب ناکام ہونے والے گروہ کا بیان ہوتا ہے بہرحال وہ انسان جس کو اس کا اعمالنامہ بائیں ہاتھ میں دیا گیا۔ ہوہ کہے گا کاش کہ یہ اعمالنامہ مجھے نہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ فِيْ سِلْسِلَۃٍ ذَرْعُہَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْہُ۝ 32 ۭ سل سَلُّ الشیء من الشیء : نزعه، كسلّ السّيف من الغمد، وسَلُّ الشیء من البیت علی سبیل السّرقة، وسَلُّ الولد من الأب، ومنه قيل للولد : سَلِيلٌ. قال تعالی: يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، وقوله تعالی: مِنْ سُلالَةٍ مِنْ طِينٍ [ المؤمنون/ 12] ، أي : من الصّفو الذي يُسَلُّ من الأرض، وقیل : السُّلَالَةُ كناية عن النطفة تصوّر دونه صفو ما يحصل منه . والسُّلُّ «1» : مرض ينزع به اللّحم والقوّة، وقد أَسَلَّهُ الله، وقوله عليه السلام : «لا إِسْلَالَ ولا إغلال» «2» . وتَسَلْسَلَ الشیء اضطرب، كأنه تصوّر منه تَسَلُّلٌ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–37

ترکیب : نفتحہ واحدۃ بالرفع علی انھا مفعول مالم یسم فاعلہ من نفخ المجھول وانما حسن تذکیرا لفعل للفصل اوان التانیث غیرحقیقی و قریٔ بالنصب ان فی الصور مفعول مالم یسم فاعلہ ثم نصب نفتحہ علی انھا مفعول مطلق واحدۃ تاکید لھا۔ وحملت الارض الخ بالتخفیف و قریٔ 1 ؎ والقطوف قطف وھوالمقطوع ای الثمر ما اسلفتم ای قدتم من اعمالکم الصالحۃ الاسلاف تقدیم ما ترجوا ان یعود علیک بخیر فھو کالا قراض و منہ یقال اسلف فی کذا اذا قدم فیہ مالہ ذرعھا الخ صفۃ لسلسلۃ غسلین فعلین من الغسل ھو وماء یسیل من الجروح بعد الغسل من صدید قیح دوم 12 منہ 2 ؎ یالیتھا الضمیر یعودالی الموتۃ الاولی فانھا کالمذکورا والی الحالۃ التی شاھدھا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 30–32

خُذُوْہُ فَغُلُّوْہُ ۔ ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْہُ ۔ ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَۃٍ ذَرْعُھَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فُاسْلُـکُوْہُ ۔ (الحآقۃ : 30 تا 32) (اس کو پکڑو، پھر اس کی گردن میں طوق ڈالو۔ پھر اس کو جہنم میں جھونک دو ۔ پھر ایک زنجیر میں جس کا طول ستر ہاتھ ہے، اس کو جکڑ دو ۔ ) مجرموں کا رونا دھونا اور نالہ و شیون جاری ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آئے گا کہ ان مجرموں میں سے ایک ایک کو پکڑو، یہ اب کسی رعایت کے مستحق نہیں، ان میں سے ہر ایک کی گردن میں طوق ڈال دو ۔ پھر ایک ایک مجرم کو جہنم میں جھونک دو ۔ پھر ان میں سے ہر مجرم کو ایک ایسی زنجیر میں جکڑ دو جس کا طول ستر ہاتھ ہوگا۔ فُاسْلُـکُوْہُ ……

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 25–37

فہم القرآن ربط کلام : جنتی کے مقابلے میں جہنمی کا حال اور ان کی بدنصیبی۔ رب ذوالجلال کے حکم سے نیک لوگوں کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں پہنچ چکے ہوں گے اور انہیں جنت میں داخلہ دیا جائے گا۔ ان کے مقابلے میں برے لوگوں کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے، جونہی برے شخص کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ چیخ اٹھے گا اور کہے گا ہائے افسوس ! کاش کہ مجھے میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا اور مجھے یہ علم ہی نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے، کاش ! دنیا کی موت ہی آخری موت ثابت ہوتی۔ آج نہ میرا مال میرے کام آیا اور نہ ہی میرے اقتدار اور اختیار نے مجھے فائدہ دیا یہاں اختصار سے کام…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

32 : ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَۃٍ ذَرْعُھَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا (پھر ایک ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش ستر گز ہے) ذرعٌ : لمبائی۔ سبعون ؔ ذراعًا فرشتے کے ستّر ہاتھ۔ یہ ابن جریج کا قول ہے۔ ایک قول یہ ہے اس کی پیمائش اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ فَاسْلُکُوْہُ (اس کو جکڑ دو ) اس میں داخل کردو۔ نکتہ : سلسلہ کو سلک پر مقدم کرنے سے حصرمقصود ہے جیسا کہ الجحیم کو تصلیہ سے پہلے لا کر حصر پید ا کیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 25–37

25۔ 37۔ جن لوگوں کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے جب وہ لوگ اس میں اول سے آخر تک بدیاں لکھی ہوئی دیکھیں گے تو نہایت پریشانی سے وہ باتیں کہیں گے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے اسی وقت خدا تعالیٰ فرمائے گا ایسے لوگوں کو گرفتار کرکے ان کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں اور ان کو دوزخ میں جھونک دیا جائے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے نہ اللہ کی عبادت کی نہ اللہ کی مخلوقات کو کچھ فائدہ پہنچایا پھر ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر ستر گز کی زنجیر میں ان کی جماعت کی جماعت کو پرو دیا جائے گا اور دوزخ میں جھونک دیا جائے گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ 2 ؎ کا قول ہے کہ یہ ستر گزر فرشتوں کے ہاتھوں کی ناپ کے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 32–33

(ثم فی سلسلۃ ذرعا سبعون ذراعا) ۔ پھر زنجیر سے، جس کی ناپ ستر گز ہے یعنی انتہائی حرارت میں جہنم کی زنجیروں کے ساتھ (فاسلکوہ) اسے جکڑ دو ۔ یعنی ان زنجیروں میں پرودو وہ اس طرح کی زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کرکے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہوا اور پھر ان زنجیروں میں لٹکا دیا گیا ہو پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر وتوبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے اس مقام پر پہنچایا یہ ہے (انہ کان لایومن باللہ العظیم) وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اور اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرادینے والا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 30–32

26 مجرموں کو پکڑنے اور طوق ڈالنے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حکم ہوگا کہ پکڑو اس کو اور طوق ڈال دو اس کے گلے میں۔ روایات میں ہے کہ یہ حکم ملتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی تعمیل میں دوڑ پڑینگے ‘ اور جو بھی چیز وہاں موجود ہوگی وہ اس کو مارنے میں شریک ہوجائے گی ‘ یہ ان سے کہے گا تمہیں کیا ہوگیا ؟ تم سب مجھے بلاوجہ کیوں مارتے ہو ؟ تو ان سب کی طرف سے جواب ملے گا کہ چونکہ رب تعالیٰ تجھ پر ناراض اور غضبناک ہے ‘ اس لئے ہم سب بھی تجھ پر ناراض اور غضبناک ہیں ‘ اور بعض روایات میں ان فرشتوں کی تعداد ستر ہزار کی بجائے ایک لاکھ بیان فرمائی گئی ہے اور بعض میں چار لاکھ ‘ (روح ‘ قرطبی ‘ ابن کثیر ‘…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–37

برُے اور اچھے لوگوں کا حال تشریح : یہ سب غیب کی خبریں ہیں۔ جن کی وضاحت کوئی حکیم ” سائنسدان ” مفکر ” منجم اور عالم دین اس سے زیادہ نہیں کرسکتا جو وضاحت قرآن پاک میں یہاں بڑی آسان اور واضح آیات کی صورت میں کردی گئی ہے۔ ان پر پوری طرح سے ایمان و یقین لانا اس لیے ضروری ہے کہ یہ اللہ کا پیغام نبی ﷺ کے ذریعہ دیا گیا ہے اور اس کی اہمیت اور سچ کو یوں بیان کیا گیا ہے ملاحظہ ہو۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–37

سورة الحاقہ۔ آیات 1 تا 37۔ اسرار ومعارف۔ دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔ کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 32–33

ف 4 حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ وہ ” زنجیریں اس کے پیچھے سے داخل کر کے منہ سے نکالی جائیں گی۔ “ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(69:32) ثم پھر (نیز ملاحظہ ہو 69:31 متذکرۃ الصدر) ۔ سلسلۃ زنجیر، واحد، سلاسل جمع زنجیریں۔ ذرعھا : مضاف مضاف الیہ۔ اس کا طول، اس کی درازی، اس کا ناپ۔ ذرع (باب فتح) مصدر سے جس کے معنی پیمائش کرنے اور ناپنے کے آتے ہیں۔ ذراعا : ذراع واحد۔ اذرع (جمع) بازو، ہاتھ سمیت کہنی تک کا حصہ (اردو میں بھی اس اس ماپ کو ہاتھ بھی کہتے ہیں مثلا دو ہاتھ لمبا) ۔ فاسلکوہ :زائدہ ہے اسلکوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ سلوک (باب نصر) مصدر سے سلک یسلک چلنا۔ داخل ہونا۔ داخل کرنا۔ اسی سے سنلک لڑی، تار، اور لاسلکی (بلاتار) ہے اور اسی سے مسلک طریقہ دین ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ ترجمہ ہوگا :۔ پھر ستر ہاتھ لمبے زنجیر میں اس کو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–52

لغات القرآن۔ الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں) رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔ دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 30–32

(ف 1) فرشتوں کو حکم ہوگا کہ اسے پکڑو۔ طوق گلے میں ڈالو پھر دوزخ کی آگ میں غوطہ دو ، اس زنجیر میں جس طول ستر گز ہے اس کو جکڑ دو تاکہ جلنے کی حالت میں ذرا بھی حرکت نہ کرسکے، کہ ادھر ادھر حرکت کرنے سے بھی جلنے والاقدرے تخفیف محسوس کیا کرتا ہے گز سے وہاں کا گز مراد ہے جس کی مقدار اللہ ہی جانے، حضرت عبداللہ بن عباس کا قول ہے کہ یہ سترگز فرشتوں کے ہاتھوں کی ناپ کے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 32–37

[13] یعنی زنجیر اس کے جسم میں ایک طرف سے ڈال کر دوسری طرف سے نکالو جیسے موتی یا تسبیح کے دانے پروئے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–41

ف 1: ہم دنیا میں اپنے مال و دولت پر مفرور تھے ۔ اور سمجھتے تھے ۔ کہ یہ ثروت ۔ یہ کنوز اور خزائن ۔ ہمیں عاقبت میں بھی عزت وافتخار تخشیں گے ۔ اور جس طرح دنیا میں ہم تمول کی وجہ سے ہر نوع کی آسودگی حاصل کرلیتے ہیں ۔ شاید آخرت میں بھی اس کی بدولت جنت اور اس کی آسائشوں کو خریدا جاسکے گا ۔ مگر آہ کہ یہ خیال درست ثابت نہیں ہوا ۔ ان لوگوں کے متعلق یہ فیصلہ ہوگا ۔ کہ ان کو پکڑلو ۔ اور طوق وسلاسل پہنادو ۔ اور پھر ایک طویل زنجیر میں جکڑ کر جہنم میں پھینک دو ۔ کیونکہ ان لوگوں کا اللہ پر ایمان نہ تھا ۔ ان کے دلوں میں بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی نہ تھی ۔ ان کے دل غریبوں کو دیکھ کر پسیجتے نہ تھے ۔ یہ اپنے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس زنجیر میں اس کو جکڑ دیں جس کی لمبائی ستر گز ہے 32 ؎ ستر بار کہنا۔ ستر ہاتھ کی زنجیریں جکڑنے کا حکم دینا ایسے ہی سو بار کہنا اور سو ہاتھ کا رسا لینا اور سات سو بار سات سو گزر کی زنجیریں پکڑنا۔ ہزار بار کہنا ہزار ہاتھ کی زنجیروں میں جکڑنا۔ یہ سب الفاظ بہتات کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور ہر زبان میں ان کو بولا جاتا ہے مراد اس سے محض تاکید و تائید ہے نہ کہ گنتی گن کر تعداد کو پورا کرنا مراد ہے اور اس طرح اس کی بےبسی کا ذکر کرنا مقصود ہے کہ کہاں اس کا اترانا اور اپنے کندھوں پر تھوکنا اور کسی کو گھاس ڈالنے کے لئے تیار نہ ہونا اور کہاں اس طرح کی بےکسی و بےبسی کہ اس کو پکڑا جا رہا ہے ، جکڑا جا رہا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–34

ثُمَّ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْ‌عُهَا سَبْعُونَ ذِرَ‌اعًا فَاسْلُكُوهُ (Thereafter, make him enter into a chain, the measure of which is seventy hands....69:32). The phrase 'make him enter into a chain' could be interpreted metaphorically as 'bind him in a chain' but it could be taken in its primary sense, that is, to pierce the chain through one side of the body, so that it could come out from the other side of it like a string is passed through a pearl or the bead of a rosary. Traditional narratives seem to support the primary sense. [ Mazhari ]

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–33

19 The word sultan of the Text is used both for an argument and for power and authority. If it is taken in the sense of an argument, the meaning would be: "The arguments that I used to give would not work here: here, I have no argument which 1 can present in self-defence." And if it is taken in the sense of power, it would imply: "The power of which I was so proud in the world is no more: I have no army here and there is none to obey me: 1 stand as a miserable, helpless creature, who can do nothing to defend himself."

Read the full tafseer →