ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُ ۟ۙثُمَّ الۡجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ ۙ
پھر دوزخ کی آگ میں جھونک دو
— Fateh Muhammad Jalandhari
Then into Hellfire drive him.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُ ۟ۙثُمَّ الۡجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ ۙ
پھر دوزخ کی آگ میں جھونک دو
— Fateh Muhammad Jalandhari
Then into Hellfire drive him.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa
پھر اِسے جہنم میں جھونک دو
پھر دوزخ کی آگ میں جھونک دو
پھر اسے دوزخ میں ڈال دو
پھر اسے دوزخ میں جھونک دو۔
پھر اسے بھڑکتی آگ میں دھنساؤ،
پھر اسے دوزخ میں جھونک دو،
پھر اسے بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دو۔
پھر اسے جہنم میں جھونک دو
پھر اس کو جہنم میں جھونک دو۔
پھر جھونک دو اس کو (دوزخ کی) دہکتی آگ میں
پھر اس کو دوزخ میں داخل کرو
پھر اسے جہنم کے اندر جھونک دو !
پھر دوزخ کی آگ میں جھونک دو۔
then cast him in the Fire,
and then, let him burn in the blazing fire.
and then, let him burn in the blazing fire.
"Then throw him in the blazing Fire."
And then expose him to hell-fire
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Then into Hellfire drive him.
then throw them into hell to be heated up therein.
Then cast him into the burning fire,
Then in the Scorch roast him
"And burn ye him in the Blazing Fire.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 25–37
بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کردیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے، یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا حکم دے گا کہ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
سورة الْحَآقَّة 19 اصل الفاظ ہیں ھلک عنی سلطٰنیہ سلطان کا لفظ دلیل و حجت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اقتدار کے لیے بھی۔ اگر اسے دلیل و حجت کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جو دلیل بازیاں میں کیا کرتا تھا وہ یہاں نہیں چل سکتیں، میرے پاس اپنی صفائی میں پیش کرنے کے لیے اب کوئی حجت نہیں رہی۔ اور اقتدار کے معنی میں لیا جائے تو مراد یہ ہوگی کہ دنیا میں جس طاقت کے بل بوتے پر میں اکڑتا تھا وہ یہاں ختم ہوچکی ہے۔ اب یہاں کوئی میرا لشکر نہیں، کوئی میرا حکم ماننے والا نہیں، میں ایک بےبس اور لاچار بندے کی حیثیت سے کھڑا ہوں جو اپنے دفاع کے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُ ، یہ حکم فرشتوں کو ہوگا کہ اس مجرم کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو لیکن الفاظ آیت میں اس کا ذکر نہیں کہ کون پکڑے اور طوق ڈالے، اسی لئے بعض روایات میں ہے کہ یہ حکم صادر ہوگا تو ہر در و دیوار اور ہر چیز مطیع و فرمانبرار نوکروں کی طرح ہے اس کے پکڑنے کو دوڑے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
یعنی یہ نالہ و شیون وہ کرتے ہی ہوں گے کہ حکم ہو گا کہ اس کو پکڑو، اس کی گردن میں طوق ڈالو، پھر اس کو جہنم میں جھونک دو، پھر ایک زنجیر میں جس کا طول ستر ہاتھ ہو گا، اس کو جکڑ دو۔۔۔ قرآن مجید کے بعض مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ دولت کو گن گن کر جمع رکھنے والے سرمایہ دار دوزخ میں ڈال کر بھاری زنجیروں میں ستونوں کے ساتھ باندھ دیے جائیں گے تاکہ جس دولت پر مارگنج بن کر بیٹھے رہے اس کی تپش کا مزا اچھی طرح چکھیں۔ سورۂ ہمزہ میں اس کی تفصیل، ان شاء اللہ، آئے گی۔
Read the full tafseer →31۔ 1 یہ اللہ ملائکہ جہنم کو حکم دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–35
6: نیک لوگوں کو ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اور برے لوگوں کو بائیں ہاتھ میں۔
Read the full tafseer →ثم ................ صلوہ (96 : 13) ” پھو اسے جہنم میں جھونک دو “۔ قریب ہے کہ جہنم میں اس کے بھی جلنے کی آواز ہم سن لیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
2 فرشتوں کو حکم ہوگا کہ اسے پکڑو، طوق گلے میں ڈالو، پھر دوزخ کی آگ میں غوطہ دو اور اس زنجیر میں جس کا طول ستر گز ہے اس کو جکڑ دو ، تاکہ جلنے کی حالت میں ذرا بھی حرکت نہ کرسکے، کہ ادھر ادھر حرکت کرنے سے بھی جلنے والا قدرے تخفیف محسوس کیا کرتا ہے (تنبیہ) گز سے وہاں کا گز مراد ہے جس کی مقدار اللہ ہی جانے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
آیت 29 { ہَلَکَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَہْ۔ } ”میرا اقتدار بھی مجھ سے چھن گیا۔“ میرے دنیوی اختیار و اقتدار اور میری شان و شوکت میں سے کچھ بھی باقی نہ بچا ‘ سب کچھ نیست و نابود ہوگیا۔ ایسے ہر شخص کے لیے فرشتوں کو حکم دیا جائے گا :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
18 سلطانیۃ سلطان کا لفظ بادشاہی اور اقتدار کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اس صورت میں اس سے مراد وہ علاقہ ہے جو کسی شخص یا ادارہ یا سلطان کے زیرنگین ہو اور اس پر اس کا تسلط ہو۔ سلطان کا دوسرا معنی حجت، دلیل اور برہان ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جتنی دلیلیں آخرت کے انکار پر دیا کرتا تھا۔ آج ان میں سے کوئی دلیل بھی مجھے یاد نہیں آرہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
12۔ دوزخی ابھی حسرت ومذامت میں مبتلا ہوں گے، اور پھر بھی ضرور نہیں کہ اس سے کوئی متعین پیمائش ہی مقصود ہو، بلکہ ہوسکتا ہے کہ زنجیر کا محض طویل ہونا مقصود ہو۔ لیس الغرض التقدیر بھذا المقدار بل الوصف بالطول کماقال ان تستغفرلھم سبعین مرۃ یرید مرات کثیرۃ (کبیر) یجوز ان یراد المبالغۃ فی طولھا وان لم یبلغ ھذا العدد (بحر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–37
ویحمل عرش رب فوقھم یومئذ ثمنیۃ اس رکوع کی اکثر آیات کی تشریح، تسہیل و تحقیق کے زیر عنوان گزر چکی ہے، زیر نظر آیت متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین کرنا مشکل ہیں ہم نہ یہ جان سکتے ہیں کہ عرش کی حقیقت کیا ہے اور نہ یہ جان سکتے ہیں کہ قیامت کے روز عرش کو آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کی کیا کیفیت ہوگی ؟ لیکن یہ بات بہرحال قابل تصور نہیں، کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھے ہوئے ہونگے، اور ذات باری کا جو تصور قرآن پیش کرتا ہے وہ بھی اس خیال کے کرنے سے مانع ہے کہ وہ جسم، جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اسے اٹھائے، اس لئے کھوج کر ید کر کے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →ثم الجحیم صلوۃ . پھر بڑی دہکتی ہوئی آگ کے اندر اس کو جھونک دو ۔ الجحیم (مفعول) کو فعل سے پہلے لانا مفید حصر ہے ‘ جحیم کا معنی ہے بڑی (دہکتی) آگ۔ اس جگہ اور اس کے بعد لفظ ثم سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ ہر آئندہ مصیبت پچھلی مصیبت سے بہت زیادہ سخت ہوگی (اوّل گرفتاری اس کے بعد گردن سے ہاتھوں کی بندش ہوگی ‘ اس کے بعد جہنم میں داخلہ بہت سخت ہوگا ‘ اس کے بعد ایک زنجیر میں پرو دیا جانا اور بھی شدید ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
(29۔ 32) اور میرا عذر بھی مجھ سے گیا گزرا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ اس کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دو پھر ایک ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش فرشتوں کے گزوں کے حساب سے ستر گز ہے جکڑ دو۔ یعنی اس کی شرم گاہ میں اسے داخل کر کے اس کے منہ سے نکال دو اور بقیہ زنجیر کو اس کی گردن پر لپیٹ دو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
(خذوہ فغلوہ…: حکم ہوگا اسے پکڑو اور اس کی گردن میں طوق ڈال دو ، پھر اسے بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دو ، پھر اسے ایک زنجیر میں جکڑ دو جو ستر (70) ہاتھ لمبی ہے۔ جہنیموں کو جہنم میں طوقوں اور زنجیروں سے جکڑ کر لمبے لمبے ستونوں سے باندھ دیا جائے گا تاکہ وہ حرکت نہ کرسکیں، کیونکہ حرکت سے بھی عذاب میں کچھ تخفیف ہوتی ہے، فرمایا :(انھا علیھم موصدۃ، فی عمد ممددۃ) (الھمزۃ : 8، 9)”یقیناً وہ ان پر (ہر طرف سے) بند کی ہوئی ہے۔ لمبے لمبے ستونوں میں“ ستر ہاتھ سے مراد یہ پیمئاش بھی ہوسکتی ہے اور بہت زیادہ لمبائی بھی، کیونکہ عربوں کے ہاں ستر کا عدد کثرت کے لئے بھی آتا ہے۔ پھر ہوسکتا ہے کہ یہ زنجیر ہر مجرم کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
ھلک عنی سلطنیہ۔ حضرت ابن عباس نے یہ تفسیر بیان کی ہے : مجھ سے میری محبت ہلاک ہوگئی (1) ، یہ مجاہد، عکرمہ، سعدی اور ضحاک کا قول ہے۔ ابن زید نے کہا : یہاں سلطان سے مراد دنیا میں جو حکومت و بادشاہت تھی۔ یہ آدمی ایسا تھا جس کے ساتھی اطاعت کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : خذوہ فغلوہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایک لاکھ فرشتے اس کی طرف جلدی کریں گے پھر اس کے ہاتھ کو اس کی گردن کے ساتھ جمع کردیا جائے گا اللہ تعالیٰ کے فرمان فغلوہ کا یہی مفوہم ہے اسے طوق کے ساتھ جکڑ دو ثم الجحیم صلوۃ۔ اسے یوں بنا دو کہ وہ جہنم کی آگ کو تاپتا رہے۔ ثم فی سلسلۃ ذرعھا سبعون ذراعاً اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ یہاں کون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
7۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت خذوہ فغلوہ اسے پکڑو اور اسے طوق پہنادو۔ یعنی مجھے خبر دی گئی کہ اس سے مراد ابو جہل ہے۔ 8۔ ابن المبارک وہناد فی الزہد وعبد بن حمید وابن المنذر نے نوف الشامی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم فی سلسلۃ ذرعہا سبعون ذرا عا پھر ایک زنجیر میں جس کا طول ستر گز ہے اس جکڑ دو ۔ اک ذراع ستر باع ہے۔ اور ایک باع کی مقدار اتنی ہے جتناتیرے اور مکہ کے درمیان فاصلہ اور وہ اس وقت کوفہ میں تھے۔ 9۔ ابن المبارک وعبد الرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ زنجیر میں سے ایک حلقہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا دنیا کے سارے لوحوں کی طرح ہے۔
Read the full tafseer →[ثُمَّ الْجَحِيْمَ : پھر دہکتی آگ میں ][ صَلُّوْهُ : تم لوگ بھونو اس کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
کافروں کی ذلت : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا ﴿ خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ0030 ثُمَّ الْجَحِيْمَ صَلُّوْهُۙ0031 ثُمَّ فِيْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ0032﴾ (اس کو پکڑ لو پھر اس کو طوق پہنا دو پھر اس کو دوزخ میں داخل کرو پھر ایک ایسی زنجیر میں اس کو جکڑ دو جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے) ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤْمِنُ باللّٰهِ الْعَظِيْمِۙ0033﴾ (بلاشبہ یہ اللہ پر ایمان نہیں لاتا تھا جو عظیم ہے) ۔ ﴿ وَ لَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِؕ0034﴾ (اور وہ مسکین کے کھانے کی ترغیب نہیں دیتا تھا) داہنے ہاتھ اعمال دیئے جانے والوں کی خوشی اور خوش بختی اور بائیں ہاتھ میں اعمال نامے دیئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔ ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
11:۔ ” خذوہ “ جزاء و سزا کا فیصلہ ہوجانے کے بعد فرشتوں کو حکم ہوگا کہ اس کی گردن میں طوق ڈال دو اور اسے ستر گز لمبے زنجیر میں باندھ کر اس کو لٹکاؤ اور اسے جہنم میں پھینک دو اس صورت میں ثم تعقیب ذکری کے لیے ہوگا۔ یا مطلب یہ ہے کہ اسے زنجیروں میں جکڑو اور پھر ستر گز لمبے زنجیر میں اسے جہنم کے اندر جکڑ دو تاکہ وہ ہل جل نہ سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
گذشتہ سے پیوستہ : قیامت واقع ہونے پر انسانوں کے دو گروہ ہوجائیں گے۔ پہلی آیتوں میں صور پھونکنے کا ذکر ہوا۔ نظام کے درہم برہم ہوجانے اور زمین و آسمان کے تغیر و تبدل کا بیان ہوا۔ اس روز عرش الہٰی اور ملائکہ کی کیفیت کا حال بھی ذکر کیا گیا پچھلے درس میں اس گروہ کا ذکر ہوا جس کو اعمالنامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ۔ وہ بڑا خوش ہوگا۔ اپنا اعمالنامہ لوگوں کو دکھاتاپھرے گا۔ اس گروہ کو ملنے والے انعام و اکرام کا ذکر بھی پچھلے درس میں ہوچکا ہے۔ بائیں ہاتھ والے : اب ناکام ہونے والے گروہ کا بیان ہوتا ہے بہرحال وہ انسان جس کو اس کا اعمالنامہ بائیں ہاتھ میں دیا گیا۔ ہوہ کہے گا کاش کہ یہ اعمالنامہ مجھے نہ…
Read the full tafseer →ثُمَّ الْجَحِيْمَ صَلُّوْہُ 31 ۙ جحم الجُحْمَة : شدة تأجج النار، ومنه : الجحیم، وجَحَمَ وجهه من شدة الغضب، استعارة من جحمة النار، وذلک من ثوران حرارة القلب، وجَحْمَتَا الأسد : عيناه لتوقدهما . ( ج ح م ) الجحمۃ آگ بھڑکنے کی شدت اسی سے الجحیم ( فعیل ہے جس کے معنی ( دوزخ یا دہکتی ہوئی آگ کے ہیں ۔ اور جحمۃ النار سے بطور استعارہ جحم استعار ہوتا ہے جس کے معنی غصہ سے چہرہ جل بھن جانے کے ہیں کیونکہ غصہ کے وقت بھی حرارت قلب بھڑک اٹھتی ہے کہا جاتا ہے : ۔ جحم الا سد بعینیۃ شیر نے آنکھیں پھاڑ کر دیکھا کیونکہ شیر کی آنکھیں بھی آگ کی طرح روشن ہوتی ہیں ۔ صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–37
ترکیب : نفتحہ واحدۃ بالرفع علی انھا مفعول مالم یسم فاعلہ من نفخ المجھول وانما حسن تذکیرا لفعل للفصل اوان التانیث غیرحقیقی و قریٔ بالنصب ان فی الصور مفعول مالم یسم فاعلہ ثم نصب نفتحہ علی انھا مفعول مطلق واحدۃ تاکید لھا۔ وحملت الارض الخ بالتخفیف و قریٔ 1 ؎ والقطوف قطف وھوالمقطوع ای الثمر ما اسلفتم ای قدتم من اعمالکم الصالحۃ الاسلاف تقدیم ما ترجوا ان یعود علیک بخیر فھو کالا قراض و منہ یقال اسلف فی کذا اذا قدم فیہ مالہ ذرعھا الخ صفۃ لسلسلۃ غسلین فعلین من الغسل ھو وماء یسیل من الجروح بعد الغسل من صدید قیح دوم 12 منہ 2 ؎ یالیتھا الضمیر یعودالی الموتۃ الاولی فانھا کالمذکورا والی الحالۃ التی شاھدھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
خُذُوْہُ فَغُلُّوْہُ ۔ ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْہُ ۔ ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَۃٍ ذَرْعُھَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فُاسْلُـکُوْہُ ۔ (الحآقۃ : 30 تا 32) (اس کو پکڑو، پھر اس کی گردن میں طوق ڈالو۔ پھر اس کو جہنم میں جھونک دو ۔ پھر ایک زنجیر میں جس کا طول ستر ہاتھ ہے، اس کو جکڑ دو ۔ ) مجرموں کا رونا دھونا اور نالہ و شیون جاری ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آئے گا کہ ان مجرموں میں سے ایک ایک کو پکڑو، یہ اب کسی رعایت کے مستحق نہیں، ان میں سے ہر ایک کی گردن میں طوق ڈال دو ۔ پھر ایک ایک مجرم کو جہنم میں جھونک دو ۔ پھر ان میں سے ہر مجرم کو ایک ایسی زنجیر میں جکڑ دو جس کا طول ستر ہاتھ ہوگا۔ فُاسْلُـکُوْہُ ……
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
فہم القرآن ربط کلام : جنتی کے مقابلے میں جہنمی کا حال اور ان کی بدنصیبی۔ رب ذوالجلال کے حکم سے نیک لوگوں کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں پہنچ چکے ہوں گے اور انہیں جنت میں داخلہ دیا جائے گا۔ ان کے مقابلے میں برے لوگوں کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے، جونہی برے شخص کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ چیخ اٹھے گا اور کہے گا ہائے افسوس ! کاش کہ مجھے میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا اور مجھے یہ علم ہی نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے، کاش ! دنیا کی موت ہی آخری موت ثابت ہوتی۔ آج نہ میرا مال میرے کام آیا اور نہ ہی میرے اقتدار اور اختیار نے مجھے فائدہ دیا یہاں اختصار سے کام…
Read the full tafseer →31 : ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْہُ (پھر دوزخ میں اس کو داخل کردو) پھر اس کو بھڑکتی آگ میں داخل کردو۔ نمبر 2۔ الجحیم اس فعل سے منصوب ہے جس کی تفسیر صلوہ کر رہا ہے۔
Read the full tafseer →30 ۔” خذوہ فغلوہ “ تم اس کے ہاتھ گردن پر جمع کردو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
25۔ 37۔ جن لوگوں کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے جب وہ لوگ اس میں اول سے آخر تک بدیاں لکھی ہوئی دیکھیں گے تو نہایت پریشانی سے وہ باتیں کہیں گے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے اسی وقت خدا تعالیٰ فرمائے گا ایسے لوگوں کو گرفتار کرکے ان کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں اور ان کو دوزخ میں جھونک دیا جائے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے نہ اللہ کی عبادت کی نہ اللہ کی مخلوقات کو کچھ فائدہ پہنچایا پھر ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر ستر گز کی زنجیر میں ان کی جماعت کی جماعت کو پرو دیا جائے گا اور دوزخ میں جھونک دیا جائے گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ 2 ؎ کا قول ہے کہ یہ ستر گزر فرشتوں کے ہاتھوں کی ناپ کے ہیں…
Read the full tafseer →(ثم الجحیم صلوہ) ۔ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
26 مجرموں کو پکڑنے اور طوق ڈالنے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حکم ہوگا کہ پکڑو اس کو اور طوق ڈال دو اس کے گلے میں۔ روایات میں ہے کہ یہ حکم ملتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی تعمیل میں دوڑ پڑینگے ‘ اور جو بھی چیز وہاں موجود ہوگی وہ اس کو مارنے میں شریک ہوجائے گی ‘ یہ ان سے کہے گا تمہیں کیا ہوگیا ؟ تم سب مجھے بلاوجہ کیوں مارتے ہو ؟ تو ان سب کی طرف سے جواب ملے گا کہ چونکہ رب تعالیٰ تجھ پر ناراض اور غضبناک ہے ‘ اس لئے ہم سب بھی تجھ پر ناراض اور غضبناک ہیں ‘ اور بعض روایات میں ان فرشتوں کی تعداد ستر ہزار کی بجائے ایک لاکھ بیان فرمائی گئی ہے اور بعض میں چار لاکھ ‘ (روح ‘ قرطبی ‘ ابن کثیر ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–37
برُے اور اچھے لوگوں کا حال تشریح : یہ سب غیب کی خبریں ہیں۔ جن کی وضاحت کوئی حکیم ” سائنسدان ” مفکر ” منجم اور عالم دین اس سے زیادہ نہیں کرسکتا جو وضاحت قرآن پاک میں یہاں بڑی آسان اور واضح آیات کی صورت میں کردی گئی ہے۔ ان پر پوری طرح سے ایمان و یقین لانا اس لیے ضروری ہے کہ یہ اللہ کا پیغام نبی ﷺ کے ذریعہ دیا گیا ہے اور اس کی اہمیت اور سچ کو یوں بیان کیا گیا ہے ملاحظہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
سورة الحاقہ۔ آیات 1 تا 37۔ اسرار ومعارف۔ دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔ کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
ف 3 ” سلطان “ سے مراد دلیل و حجت اور دولت و حکومت چیز ہوسکتی ہے۔ مقاتل کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ اقتدار ہے جو ہر شخص کو اپنے ہاتھ پائوں پر ہوتا ہے چناچہ قیامت کے روز جب کافر کے ہاتھ پائوں اس کے خلاف گواہی دینگے تو وہ کہے گا ” ھلک عنی سلطانیہ “ آج میرا اقتدار مجھ سے جاتا رہا۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(69:31) ثم تراخی وقت کے لئے ہے یعنی پھر۔ اس کے بعد۔ صاحب تفسیر مظہری تحریر فرماتے ہیں :۔ اس جگہ اور اس کے بعد ثم کے لفظ سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ ہر آئندہ مصیبت پچھلی مصیبت سے بہت زیادہ سخت ہوگی۔ (اول گرفتاری، اس کے بعد ہاتھ پاؤں کی گردن سے بندش اس کے بعد جہنم میں داخلہ بہت سخت ہوگا الجحیم : دوزخ، دیکتی ہوئی آگ۔ جحم (باب فتح) مصدر۔ بمعنی آگ کا (سخت) بھڑکنا یہ فعل صلوۃ کا مفعول ہے مفعول کو فعل سے پہلے حصر کے لئے لایا گیا ہے۔ صلوہ : صلوا فعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تصلیۃ (تفعیل) مصدر سے ۔ جس کے معنی آگ میں داخل کرنے کے ہیں ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ پھر اس کو سخت بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
لغات القرآن۔ الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں) رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔ دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
(ف 1) فرشتوں کو حکم ہوگا کہ اسے پکڑو۔ طوق گلے میں ڈالو پھر دوزخ کی آگ میں غوطہ دو ، اس زنجیر میں جس طول ستر گز ہے اس کو جکڑ دو تاکہ جلنے کی حالت میں ذرا بھی حرکت نہ کرسکے، کہ ادھر ادھر حرکت کرنے سے بھی جلنے والاقدرے تخفیف محسوس کیا کرتا ہے گز سے وہاں کا گز مراد ہے جس کی مقدار اللہ ہی جانے، حضرت عبداللہ بن عباس کا قول ہے کہ یہ سترگز فرشتوں کے ہاتھوں کی ناپ کے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–31
[12] یعنی دنیا میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–41
ف 1: ہم دنیا میں اپنے مال و دولت پر مفرور تھے ۔ اور سمجھتے تھے ۔ کہ یہ ثروت ۔ یہ کنوز اور خزائن ۔ ہمیں عاقبت میں بھی عزت وافتخار تخشیں گے ۔ اور جس طرح دنیا میں ہم تمول کی وجہ سے ہر نوع کی آسودگی حاصل کرلیتے ہیں ۔ شاید آخرت میں بھی اس کی بدولت جنت اور اس کی آسائشوں کو خریدا جاسکے گا ۔ مگر آہ کہ یہ خیال درست ثابت نہیں ہوا ۔ ان لوگوں کے متعلق یہ فیصلہ ہوگا ۔ کہ ان کو پکڑلو ۔ اور طوق وسلاسل پہنادو ۔ اور پھر ایک طویل زنجیر میں جکڑ کر جہنم میں پھینک دو ۔ کیونکہ ان لوگوں کا اللہ پر ایمان نہ تھا ۔ ان کے دلوں میں بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی نہ تھی ۔ ان کے دل غریبوں کو دیکھ کر پسیجتے نہ تھے ۔ یہ اپنے…
Read the full tafseer →(31) پھر اس کو دوزخ میں داخل کردو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
ف 2۔ یعنی مال و جاہ سب بےسود ٹھہرا۔
Read the full tafseer →پھر دوزخ میں اس کو جھونک دو 31 ؎ زیر نظر آیت میں مفعول کو فعل سے پہلے لا کر مفید حصر بنا دیا ہے۔ (الجھیم) بہت بڑی دھکتی ہوئی آگ کو کہتے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ ذرا اٹھو اور اس کو ایک خاص طریقہ سے پکڑ کر دوزخ میں ڈال دو ۔ (صلوہ) اس کو داخل کر دو ۔ صلوا لعیبۃ سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ ذرا غور کرو اس کو بھی دیکھو اور اس کے فعل کو بھی دیکھو اور اس کے فعل کی سزا کا بھی ذرا اندازہ لگائو کہ وہ کیا ہے ؟ اور کس طرح اس کو زنجیروں میں جکڑ کر دوزخ میں جھونک دینے کا دوزخ کے فرشتوں کو حکم دیا جا رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
خُذُوهُ فَغُلُّوهُ (Seize him, then put a collar around his neck... 69:30). This instruction will be given to the angels to seize the guilty one and truss him up by putting a collar around his neck - though, however, the wordings of the verse do not mention who will seize and who will truss him up. Narratives indicate that when this order will be issued, everything, like submissive and obedient servants, will rush to apprehend him.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
19 The word sultan of the Text is used both for an argument and for power and authority. If it is taken in the sense of an argument, the meaning would be: "The arguments that I used to give would not work here: here, I have no argument which 1 can present in self-defence." And if it is taken in the sense of power, it would imply: "The power of which I was so proud in the world is no more: I have no army here and there is none to obey me: 1 stand as a miserable, helpless creature, who can do nothing to defend himself."
Read the full tafseer →