Al-Haaqqa 69:37

Al-Haaqqa · from ayah 37

69:37

لَّا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِـُٔوْنَ ۟۠لَّا يَاۡكُلُهٗۤ اِلَّا الۡخٰطِئُوْنَ

جس کو گنہگاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

None will eat it except the sinners.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa

All translations of 69:37

جسے خطا کاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس کو گنہگاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

جسے گناه گاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

جسے گنہگاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اسے نہ کھائیں گے مگر خطاکار

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جسے گنہگاروں کے سوا کوئی نہ کھائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جسے گناہ گاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جسے گنہگاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ کھانا صرف گناہ گار ہی کھائیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس کو کوئی نہ کھائے گا بجز ایسے ہی بڑے (بدبخت) گنہگاروں کے

— مولانا اسحاق مدنی

نہیں کھائیں گے اس کو مگر وہی جو خطاکار تھے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس کو گنہگاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

which only the sinners will eat.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

which is eaten by none but the sinners.

— Muhammad Taqi Usmani

which is eaten by none but the sinners.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

None will eat it except the Khati'un.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

None will eat it except the sinners.

— Saheeh International

which only the sinners eat".

— Muhammad Sarwar

Which none but the wrongdoers eat.

— Muhammad Habib Shakir

None shall eat it but the sinners.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 69:37

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 25–37

بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کردیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے، یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا حکم دے گا کہ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 34–37

سورة الْحَآقَّة 20 یعنی خود کسی غریب کو کھانا کھلانا تو درکنار، کسی سے یہ کہنا بھی پسند نہ کرتا تھا کہ خدا کے بھوکے بندوں کو روٹی دے دو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 35–37

فَلَيْسَ لَهُ الْيَوْمَ هٰهُنَا حَمِيْمٌ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِيْن، حمیم مخلص اور گہرے دوست کو کہا جاتا ہے اور غسلین بکسر غین وہ پانی ہے جس میں جہنمیوں کے زخموں کی پیپ وغیرہ دھوئی جاوے گی۔ مطلب آیات کا یہ ہے کہ آج اس کا کوئی دوست عزیز اس کی حمایت نہ کرسکے گا اور اس کو عذاب سے نہ بچا سکے گا اور اس کے کھانے کے لئے سوائے اس گندے پانی کے جس میں اہل جہنم کی پیپ اور پس پڑی ہوگی اور کچھ نہ ہوگا اور کچھ نہ ہونے کا مفہوم اوپر خلاصہ تفسیر میں یہ بتلایا گیا ہے کہ مرغوب کھانوں میں سے کچھ نہ ہوگا غسلین کی طرح کی کوئی اور مکروہ بد ذائقہ چیز کی نفی نہیں ہے اس لئے دوسری آیت میں جو اہل جہنم کا زقوم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی یہ غذا ان مجرموں ہی کے لیے خاص ہو گی دوسرے اس کو نہیں کھا سکیں گے۔ اس کی وجہ غالباً وہی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا کہ ان کا جرم چونکہ خاص نوعیت کا ہے اس وجہ سے ان کی غذا بھی خاص ہو گی۔ جرم اور سزا میں مشابہت کے پہلو پر پیچھے بھی اس کتاب میں اشارات گزر چکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 37–38

37۔ 1 خاطئون سے مراد اہل جہنم ہیں جو کفر و شرک کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوں گے اس لیے کہ یہ گناہ ایسے ہیں جو خلود فی النار کا سبب ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 36–38

7:”غسلین“ اصل میں تو اس پانی کو کہتے ہیں جو زخموں کو دھوتے وقت زخموں سے گرتا ہے، بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ جہنمیوں کی کوئی غذا ہے جو اس زخموں کے پانی کے مشابہ ہوگی۔ واللہ سبحانہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لا یا ................ الخاطﺅن (96 : 73) ” جسے خطاکاروں کے سوا اور کوئی نہیں کھاتا “۔ گنہگار ، جن کی فطرت میں یہ گناہ رچے بسے ہوں۔ یہ ہیں وہ وجوہات جن کی وجہ سے یہ شخص پکڑے جانے ، طوق پہنائے جانے ، آگ میں جلائے جانے کا مستحق ہو اور اسے اس قدر طویل بیڑیاں پہنائی گئیں۔ جہنم اور اس کے اندر بیڑیاں ، یہ جہنم کے عذاب کے درجات میں سے شدید درجہ ہے۔ یہ تو اس شخص کی حالت ہے جو مساکین کے طعام پر لوگوں کو ابھارتا نہیں ، لیکن اس ” شخص “ کا عذاب تم خود سوچو جو بچوں ، عورتوں اور بوڑھوں کو زندہ رکھتا ہے اور ان کے سر پرستوں کو ناحق سرکشوں اور جباروں کی طرح پکڑتا ہے اور جو ان کے ہاتھ سے لقمے اور کپڑے بھی چھین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 36–37

5 کھانے سے بھی انسان کو قوت پہنچتی ہے مگر دوزخیوں کو کوئی ایسا مرغوب کھانہ نہ ملے گا جو راحت و قوت کا سبب ہو ہاں دوزخیوں کے زخموں کی پیپ دی جائے گی جسے ان گنہگاروں کے سوا کوئی نہیں کھا سکتا اور وہ بھی بھوک پیاس کی شدت میں غلطی سے یہ سمجھ کر کھائیں گے کہ اس سے کچھ کام چلے گا۔ بعد کو ظاہر ہوگا کہ اس کا کھانا بھوک کے عذاب سے بڑا عذاب ہے (اعاذنا اللہ من سائر انواع العذاب فی الدنیا والاخرۃ)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 34–37

آیت 34{ وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ۔ } ”اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔“ اسے خود تو کسی مسکین کو کھانا کھلانے کی کبھی توفیق نہیں ہوئی ‘ کسی دوسرے شخص کو بھی اس نے بھلائی کے اس کام کی کبھی ترغیب نہیں دی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 37–38

21 اس نے دنیا میں خود غرضی کا رویہ اختیار کیا، نہ کسی کی مدد کی، نہ ہمدردی کی، نہ ہی کبھی اسے ایسا خیال تک آیا تھا۔ لہذا آج اسے بھی غم خوار اور ہمدرد میسر نہ آئے گا۔ اور جب وہ بھوک سے بےتاب ہوجائے گا تو اسے اپنے جیسے دوزخیوں کے زخموں کا دھو ون دیا جائے گا یہی اس کی خوراک ہوگی اور یہی اس کا مشروب ہوگا۔ اور یہ بات تو واضح ہے کہ زخموں کا دھو ون نہ کوئی خوراک ہے اور نہ مشروب ہے۔ مگر ایسے مجرموں کو یہی کچھ کھانا پڑے گا۔ کوئی اور چیز انہیں مہیا نہیں کی جائے گی۔ پھر مجرموں کی بھی کئی اقسام ہیں کچھ دوزخی ایسے ہوں گے جنہیں کھانے کو تھوہر دیا جائے گا اور پینے کو کھولتا ہوا پانی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 35–37

14۔ یعنی ان کافروں مجرموں کو دوزخ میں غذائیں بھی ملیں گی، تو اتنی نفرت انگیز اور گندی کہ کوئی اور انسان تو ادھر رخ بھی نہیں کرسکتا ! (آیت) ” الخاطؤن “۔ مراد خطا پیشہ یعنی منکرین وکافرین ہیں۔ الکافرون (مدارک۔ معالم) وھم المشرکون (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 17–37

ویحمل عرش رب فوقھم یومئذ ثمنیۃ اس رکوع کی اکثر آیات کی تشریح، تسہیل و تحقیق کے زیر عنوان گزر چکی ہے، زیر نظر آیت متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین کرنا مشکل ہیں ہم نہ یہ جان سکتے ہیں کہ عرش کی حقیقت کیا ہے اور نہ یہ جان سکتے ہیں کہ قیامت کے روز عرش کو آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کی کیا کیفیت ہوگی ؟ لیکن یہ بات بہرحال قابل تصور نہیں، کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھے ہوئے ہونگے، اور ذات باری کا جو تصور قرآن پیش کرتا ہے وہ بھی اس خیال کے کرنے سے مانع ہے کہ وہ جسم، جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اسے اٹھائے، اس لئے کھوج کر ید کر کے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا یاکلہ الا الخاطؤن . استثناء مضرغ ہے یعنی خطا کاروں کے سوا اس کو کوئی نہیں کھائے گا۔ لفظ الخاطؤن اس خطا (نادانستہ غلطی) سے ماخوذ نہیں جو صحت (درستی) کی ضد ہے بلکہ خطی الرجل (اس شخص نے قصداً گناہ کیا) سے ماخوذ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 35–37

(35۔ 37) سو اس شخص کو فائدہ پہنچانے کے لیے نہ آج اس کا کوئی قریبی رشتہ دار ہے اور نہ دوزخ میں اس کو کھانے کی کوئی چیز نصیب ہے ماسوا دوزخیوں کے زخموں کی پیپ اور خون کے جس کو مشرکین کے علاوہ اور کوئی نہ کھائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لایاکلمہ الا الخاطون :”الخاطون“ ”خاطی“ کی جمع ہے، جو جان بوجھ کر نا درست کام کرے، جیسے فرمایا :(ان قتلھم کان خطاً کبیراً) (بنی اسرائیل : 31)”بیشک ان کا قتل ہمیشہ سے بہت بڑا گناہ ہے۔“ اگر کسی سے قصد وار ارادہ کے بغیر نادرست کام ہوجائے تو وہ ”مخطی“ ہے۔ (المفردات و التسہیل)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 35–37

فلیس لہ الیوم ھھنا حمیم۔ لہ، لیس کی خبر ہے ھاھنا اس کی خبر نہیں کیونکہ اسے خبر بنایا جائے تو معنی یہ بنتا ہے وہاں کھانا نہیں مگر غسلین۔ یہ صحیح نہیں کیونکہ وہاں غسلین کے علاوہ بھی کھانا ہے ھاھنا اس فعل کے متعلق ہے جو لہ کے معنی میں پایا جاتا ہے۔ یہاں حمیم سے مراد قریبی ہے یعنی اس کا کوئی قریبی نہیں جو اس کے لئے نرمی کرے اور اس کا دفاع کرے۔ یہ حمیم سے ماخوذ ہے جس کا معین گرم پانی ہے کیونکہ دوست وہ ہوتا ہے جو اس کے لئے نرمی کرتا ہے اور اس کا دل اس کے لئے جلتا ہے۔ غسلین، یہ غسل سے فعلین کا وزن ہے گویا یہ ان کے بدنوں سے نچڑتا ہے، یہ جہنمیوں کی پیپ ہے جو ان کے زخموں اور شرمگاہوں سے بہتی ہے، حضرت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

8۔ عبد بن حمید والبخاری فی تاریخہ ابوالدہقان کے طریق سے عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت لا یاکلہ الا الخاطؤن ہمزہ کے ساتھ۔ 9۔ سعید بن منصور نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے آیت لا یاکلہ الا الخاطؤن بغیر ہمزہ کے۔ 10۔ الحاکم وصححہ نے ابو الاسود الدوئلی اور یحییٰ بن یعمر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الخاطؤن کیا ہے ؟ بیشک وہ تو الخاطؤان ہے اور الصابون کیا ہے بیشک وہ تو الصائبون ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَّا يَاْكُلُهٗٓ: نہیں کھاتے اس کو مگر ][ اِلَّا الْخَاطِـــُٔوْنَ : خطا (گناہ) کرنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 35–37

مجرمین غِسْلِيْنٍ كھائیں گے : ﴿فَلَيْسَ لَهُ الْيَوْمَ هٰهُنَا حَمِيْمٌۙ0035 وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِيْنٍۙ0036 لَّا يَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِـُٔوْنَ (رح) 0037﴾ (سو آج اس کے لیے یہاں کوئی دوست نہیں اور نہ غِسْلِيْنٍ کے علاوہ اس کے لیے کوئی کھانا ہے جسے صرف خطاکار ہی کھائیں گے) ۔ لفظ غِسْلِيْنٍ فعلین کے وزن پر ہے جو لفظ غسل سے ماخوذ ہے غسل دھونے کو کہتے ہیں۔ علماء تفسیر نے اس کا ترجمہ زخموں کے دھو ون سے کیا ہے غِسْلِيْنٍ کا معنی اگرچہ زخموں کا دھو ون ہے اور زخموں کو اس وقت دھویا جاتا ہے جب مرہم پٹی کی جائے اور صاف کر کے مرہم لگایا جائے لیکن دوزخیوں کے زخموں کا دھو ون خود ان کے جسموں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–37

ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔ ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 33–37

12:۔ ” انہ کان لا یؤمن “ یہ مقابل کی علت ہے۔ کافر اور مشرک کی یہ سزا اس لیے ہوگی کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے تھے، بلکہ اس کے سوا اپنے خود ساختہ معبودوں کی بھی عبادت کرتے اور ان کو برکات دہندہ سمجھتے تھے نیز وہ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی نہ دوسروں کو ترغیب دیتے تھے نہ اپنے مال سے مسکینوں کو خود کھلاتے اور نہ اپنے خادموں کو اس کا حکم دیتے۔ ” فلیس لہ الیوم “ اس لیے آج یہاں ان کا کوئی دوست اور غمخوار نہیں۔ نہ آج ان کے لیے کوئی عمدہ خوراک ہے البتہ پیپ ہے جو جہنمیوں کے زخموں سے بہتی ہوگی یہی ان کی خوراک ہوگی اور ان مجرموں کے سوا کوئی اسے نہیں کھائیگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 25–37

گذشتہ سے پیوستہ : قیامت واقع ہونے پر انسانوں کے دو گروہ ہوجائیں گے۔ پہلی آیتوں میں صور پھونکنے کا ذکر ہوا۔ نظام کے درہم برہم ہوجانے اور زمین و آسمان کے تغیر و تبدل کا بیان ہوا۔ اس روز عرش الہٰی اور ملائکہ کی کیفیت کا حال بھی ذکر کیا گیا پچھلے درس میں اس گروہ کا ذکر ہوا جس کو اعمالنامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ۔ وہ بڑا خوش ہوگا۔ اپنا اعمالنامہ لوگوں کو دکھاتاپھرے گا۔ اس گروہ کو ملنے والے انعام و اکرام کا ذکر بھی پچھلے درس میں ہوچکا ہے۔ بائیں ہاتھ والے : اب ناکام ہونے والے گروہ کا بیان ہوتا ہے بہرحال وہ انسان جس کو اس کا اعمالنامہ بائیں ہاتھ میں دیا گیا۔ ہوہ کہے گا کاش کہ یہ اعمالنامہ مجھے نہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَّا يَاْكُلُہٗٓ اِلَّا الْخَاطِـــُٔوْنَ۝ 37 ۧ أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔ خطأ الخَطَأ : العدول عن الجهة، وذلک أضرب : أحدها : أن ترید غير ما تحسن إرادته فتفعله، وهذا هو الخطأ التامّ المأخوذ به…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–37

ترکیب : نفتحہ واحدۃ بالرفع علی انھا مفعول مالم یسم فاعلہ من نفخ المجھول وانما حسن تذکیرا لفعل للفصل اوان التانیث غیرحقیقی و قریٔ بالنصب ان فی الصور مفعول مالم یسم فاعلہ ثم نصب نفتحہ علی انھا مفعول مطلق واحدۃ تاکید لھا۔ وحملت الارض الخ بالتخفیف و قریٔ 1 ؎ والقطوف قطف وھوالمقطوع ای الثمر ما اسلفتم ای قدتم من اعمالکم الصالحۃ الاسلاف تقدیم ما ترجوا ان یعود علیک بخیر فھو کالا قراض و منہ یقال اسلف فی کذا اذا قدم فیہ مالہ ذرعھا الخ صفۃ لسلسلۃ غسلین فعلین من الغسل ھو وماء یسیل من الجروح بعد الغسل من صدید قیح دوم 12 منہ 2 ؎ یالیتھا الضمیر یعودالی الموتۃ الاولی فانھا کالمذکورا والی الحالۃ التی شاھدھا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 35–37

فَلَیْسَ لَـہُ الْیَوْمَ ھٰھُنَا حَمِیْمٌ۔ وَّلاَ طَعَامٌ اِلاَّ مِنْ غِسْلِیْنٍ ۔ لاَّیَاْ کُلُـہٗٓ اِلاَّ الْخَاطِؤُنَ ۔ (الحآقۃ : 35 تا 37) (پس آج اس کا یہاں کوئی یارِغمخوار نہیں۔ اور زخم کے غسالہ کے سوا اس کے لیے کوئی کھانا نہیں۔ جسے خطاکاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا۔ ) مشکل الفاظ کی تشریح : حَمِیْمٌ … مخلص اور گہرے دوست کو کہتے ہیں۔ غِسْلِیْنٍ … زخمیوں کے دھو ون یعنی غسالہ کو کہتے ہیں۔ ان جرائم کی سزا ان کو یہ ملے گی کہ قیامت کے دن ان کا کوئی مخلص دوست اور کوئی ہمدرد و غمخوار نہیں ہوگا جو انہیں عذاب سے بچا سکے۔ ظاہر ہے کہ جو شخص اپنی دولت کا مصرف اپنی تن پروری، لذتِ کام و دہن یا دولت میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 25–37

فہم القرآن ربط کلام : جنتی کے مقابلے میں جہنمی کا حال اور ان کی بدنصیبی۔ رب ذوالجلال کے حکم سے نیک لوگوں کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں پہنچ چکے ہوں گے اور انہیں جنت میں داخلہ دیا جائے گا۔ ان کے مقابلے میں برے لوگوں کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے، جونہی برے شخص کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ چیخ اٹھے گا اور کہے گا ہائے افسوس ! کاش کہ مجھے میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا اور مجھے یہ علم ہی نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے، کاش ! دنیا کی موت ہی آخری موت ثابت ہوتی۔ آج نہ میرا مال میرے کام آیا اور نہ ہی میرے اقتدار اور اختیار نے مجھے فائدہ دیا یہاں اختصار سے کام…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

37 : لَّا یَاْ کُلُہٗ اِلَّا الْخَاطِئُوْنَ (جس کو بجز بڑے گناہ گاروں کے اور کوئی نہ کھائے گا) الخاطئون کافر خطا ٔ کار مراد ہیں۔ یہ خطِیٔ الرجل سے لیا گیا جبکہ جان بوجھ کر وہ گناہ کرے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

36 ۔” ولا طعام الا من غسلین “ اور وہ اہل جہنم کی پیپ ہے۔ یہ غسل سے ماخوذ ہے۔ گویا کہ یہ ان کے زخموں اور پھنسیوں کا نچوڑ (دھو ون) ہے۔ ضحاک اور ربیع رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ درخت ہے جس کو جہنمی لوگ کھائیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 25–37

25۔ 37۔ جن لوگوں کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے جب وہ لوگ اس میں اول سے آخر تک بدیاں لکھی ہوئی دیکھیں گے تو نہایت پریشانی سے وہ باتیں کہیں گے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے اسی وقت خدا تعالیٰ فرمائے گا ایسے لوگوں کو گرفتار کرکے ان کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں اور ان کو دوزخ میں جھونک دیا جائے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے نہ اللہ کی عبادت کی نہ اللہ کی مخلوقات کو کچھ فائدہ پہنچایا پھر ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر ستر گز کی زنجیر میں ان کی جماعت کی جماعت کو پرو دیا جائے گا اور دوزخ میں جھونک دیا جائے گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ 2 ؎ کا قول ہے کہ یہ ستر گزر فرشتوں کے ہاتھوں کی ناپ کے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 36–37

(ولا طعام الا غسلین) اور نہ غسلین کے سوا اور ان کا کوئی کھانا ہے۔ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ، بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہاء کو پہنچی ہوئی ہوگی، نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا (الا الخاطئون) مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انہیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ دردناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

31 غسلین مجرموں ہی کی غذا ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے الفاظ و کلمات کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ اس کو کوئی نہیں کھ اس کے گا بجز ان خطاکاروں کے : جن کے گناہوں کی میل نے ان کے ظاہر و باطن کو سیاہ کردیا ہوگا ‘ اور وہ واحاطت بہ خطئتہ کے مصداق بن چکے ہوں گے سو کشف حقائق حقیقی عدل و انصاف اور جزا و سزا کے اس ابدی اور حقیقی جہاں میں وہ اپنے کئے کرائے کا بھگتان بھگت کر رہیں گے والعیاذ باللہ ‘ سو غسلین یعنی زخموں کے دھو ون کی یہ خوراک انہی مجرموں اور خطا کاروں کیلئے خاص ہوگی ‘ ان کے سوا دوسرا کوئی اس کو نہیں کھ اس کے گا ‘ سو یہ سزا ان کے جرم کے عین مناسب ہوگی۔ سو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–37

برُے اور اچھے لوگوں کا حال تشریح : یہ سب غیب کی خبریں ہیں۔ جن کی وضاحت کوئی حکیم ” سائنسدان ” مفکر ” منجم اور عالم دین اس سے زیادہ نہیں کرسکتا جو وضاحت قرآن پاک میں یہاں بڑی آسان اور واضح آیات کی صورت میں کردی گئی ہے۔ ان پر پوری طرح سے ایمان و یقین لانا اس لیے ضروری ہے کہ یہ اللہ کا پیغام نبی ﷺ کے ذریعہ دیا گیا ہے اور اس کی اہمیت اور سچ کو یوں بیان کیا گیا ہے ملاحظہ ہو۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–37

سورة الحاقہ۔ آیات 1 تا 37۔ اسرار ومعارف۔ دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔ کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 36–37

ف 6 یا ” زخموں کا دھوئوں “ عموماً مفسرین نے غسلین کے یہی معنی بیا نکئے ہیں۔ ضحاک اور ربیع کہتے ہیں کہ وہ ایک درخت ہے جسے دوزخی کھائیں گے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ وہ بدترین قسم کا ایک کھانا ہے۔ ابن زید کہتے ہیں کہ اس کی اور زقوم کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ دوسری آیت میں ہے۔ لیس لھم طعام الامن ضریع “ ان کو ضریع کے سوا کوئی کھانا نصیب نہ ہوگا۔ اس لئے ممکن ہے غسلین سے مراد ” ضریع “ ہی ہو۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(69:37) لایاکلہ میں ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع غسلین ہے۔ لایاکلہ الا الخاطئون استثناء مفرغ ہے (یعنی وہ استثناء جس کا مستثنی منہ مذکور نہ ہو) یعنی خطا کاروں کے سوا اس کو کوئی نہ کھائے گا۔ خاطئون : گنہگار، خطا (باب سمع) مصدر۔ (خ ط ء مادہ) بمعنی چوک جانا۔ گناہ کرنا الخطاء کے معنی صحیح جہت سے عدول کرنے کے ہیں۔ اس کی مختلف صورتیں ہیں :۔ (1) کوئی ایسا کام بالا رادہ کرے جس کا ارادہ بھی مناسب نہ ہو۔ یہ خطاء تام ہے جس پر مؤاخذہ ہوگا۔ اس معنی میں فعل خطی یخطأ خطأ بولا جاتا ہے۔ جیسے قرآن مجید میں ہے :۔ ان قتلہم کان کبیرا۔ (17:31) کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت جرم ہے (2) امادہ تو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–52

لغات القرآن۔ الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں) رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔ دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 36–37

(ف 2) کھانے سے بھی انسان کو قوت پہنچتی ہے مگر دوزخیوں کو کوئی ایسا مرغوب کھانانہ ملے گا جو راحت وقوت کا سبب ہو ہاں دوزخیوں کے زخموں کی پیپ دی جائے گی جسے ان گناہ گاروں کے سوا کوئی نہیں کھاسکتا۔ اور وہ بھی بھوک پیاس کی شدت میں غلطی سے یہ سمجھ کر کھائیں گے کہ اس سے کچھ کام چلے گا بعد کو ظاہر ہوگا کہ اس کا کھانا بھوک کے عذاب سے بڑا عذاب ہے ۔ (اعاذنا اللہ من سائرا نواع العذاب فی ال دنیا والاخرۃ) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 32–37

[13] یعنی زنجیر اس کے جسم میں ایک طرف سے ڈال کر دوسری طرف سے نکالو جیسے موتی یا تسبیح کے دانے پروئے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–41

ف 1: ہم دنیا میں اپنے مال و دولت پر مفرور تھے ۔ اور سمجھتے تھے ۔ کہ یہ ثروت ۔ یہ کنوز اور خزائن ۔ ہمیں عاقبت میں بھی عزت وافتخار تخشیں گے ۔ اور جس طرح دنیا میں ہم تمول کی وجہ سے ہر نوع کی آسودگی حاصل کرلیتے ہیں ۔ شاید آخرت میں بھی اس کی بدولت جنت اور اس کی آسائشوں کو خریدا جاسکے گا ۔ مگر آہ کہ یہ خیال درست ثابت نہیں ہوا ۔ ان لوگوں کے متعلق یہ فیصلہ ہوگا ۔ کہ ان کو پکڑلو ۔ اور طوق وسلاسل پہنادو ۔ اور پھر ایک طویل زنجیر میں جکڑ کر جہنم میں پھینک دو ۔ کیونکہ ان لوگوں کا اللہ پر ایمان نہ تھا ۔ ان کے دلوں میں بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی نہ تھی ۔ ان کے دل غریبوں کو دیکھ کر پسیجتے نہ تھے ۔ یہ اپنے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(37) کہ اس کھانے کو سوائے گناہ گاروں کے اور کوئی نہیں کھائے گا۔ ان آیتوں میں دین حق کے منکروں کا انجام بیان فرمایا، قیامت میں جب نامہ اعمال اڑائے اور بکھیرے جائیں گے اس وقت منکروں کے بائیں ہاتھوں میں نامہ اعمال دیا جائے گا اور چونکہ نامہ عمل کا بائیں ہاتھ میں آنا علامت ہے تباہی اور بربادی کی اس لئے یہ شخص چیخنا اور پیٹنا شروع کرے گا ہائے میری کتاب اور میرا لکھا میرے ہاتھ میں نہ دیا جاتا اور میرے حساب کی مجھ کو خبر نہ ہوتی اور دنیا میں جو موت آئی تھی بس وہی موت فیصلہ کن ہوتی اور اس کے بعد کوئی قصہ نہ رہتا یا یہ مطلب کہ یہ موجودحالت ہی موجب موت ہوتی یعنی قیامت ہی میری موت کا سبب ہوجاتی اور آگے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 36–38

ف 6۔ یعنی بجز ایک ایسی چیز کے جو کراہت و صورت میں مثل غسلین کے ہوگا، اور یہ حصر اضافی ہے اور مقصود اس سے نفی ہے اطعمہ مرغوبہ کی، ورنہ زقوم وغیرہ کا ہونا خود آیات سے ثابت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس کو سوائے گنہگاروں کے اور کوئی نہیں کھائے گا 37 ؎ اس طرح کی گندی چیز ان کو پینے کے لئے کیوں پیش کی جائے گی ؟ فرمایا اس لئے کہ یہ لوگ دنیا میں جائز و ناجائز ، حلال و حرام میں تحقیق نہیں کرتے تھے بلکہ حلال کی بجائے حرام کو بڑی رغیبت سے کھاتے ، پیتے اور اکٹھا کرتے تھے پھر جس طرح کی ان کی خطائوں کی نوعیت تھی اسی طرح ان کے ساتھ سلوک کیا جانا ضروری تھا۔ یہ زخموں کی دھو ون کیا ہے ؟ ایک ناپاک اور حرام چیز ہی تو ہے اور ذرا غور کرو کہ شراب کیا ہے ؟ سود کیا ہے ؟ کسی کا ناجائز طریقوں سے غصب کیا ہوا مال کیا ہے ؟ یہ رشوتیں کیا ہیں جو ملک کے صدر ، وزیراعظم ، وزیراعلیٰ اور دوسرے تمام وزیروں کے منہ کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 35–37

فَلَيْسَ لَهُ الْيَوْمَ هَاهُنَا حَمِيمٌ وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ (So, he has no friend here today, nor any food except from that which flows from wounds when washing...69:35-36]. The word hamim means 'a sincere or bosom friend'. The word ghislin with 'gh' bearing the kasrah [= i ] refers to the water with which the pus and blood of the wounds of the inmates of Hell will be washed. The verses signify that on the Day of Resurrection he will have no friend that will support him or save him from punishment, nor will he have anything to eat except the filthy water with which pus…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–37

20 That is, not to speak of feeding a poor man himself, he did not even like to say others that they should feed the hungry."

Read the full tafseer →