Al-Haaqqa 69:28

Al-Haaqqa · from ayah 28

69:28

مَاۤ اَغْنٰی عَنِّیْ مَالِیَهْ ۟ۚمَاۤ اَغۡنٰى عَنِّىۡ مَالِيَهۡۚ

آج) میرا مال میرے کچھ بھی کام بھی نہ آیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

My wealth has not availed me.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa

All translations of 69:28

آج میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

آج) میرا مال میرے کچھ بھی کام بھی نہ آیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

میرے مال نے بھی مجھے کچھ نفع نہ دیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

میرے کچھ کام نہ آیا میرا مال

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(آج) میرا مال مجھ سے (عذاب کو) کچھ بھی دور نہ کر سکا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

میرا مال میرے کسی کام نہ آیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

میرا مال (بھی) میرے کسی کام نہ آیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

میرا مال میرے کیا کام آیا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کچھ کام نہ آسکا مجھے میرا مال

— مولانا اسحاق مدنی

میرا مال میرے کچھ بھی کام نہ آیا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

میرا مال و اسباب کچھ بھی میرے کام نہ آیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

آج میرا مال میرے کچھ بھی کام نہ آیا

— محترمہ رفعت اعجاز

My riches have not availed me,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

My wealth has not been of any use to me.

— Muhammad Taqi Usmani

My wealth has not been of any use to me.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"My wealth has not availed me;"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

My wealth has not availed me.

— Saheeh International

Our wealth is of no benefit to us

— Muhammad Sarwar

My wealth has availed me nothing:

— Muhammad Habib Shakir

My riches have: availed me not;

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 69:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 25–37

بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کردیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے، یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا حکم دے گا کہ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 27–28

سورة الْحَآقَّة 18 یعنی دنیا میں مرنے کے بعد ہمیشہ کے لیے معدوم ہوگیا ہوتا اور کوئی دوسری زندگی نہ ہوتی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–28

(آیت) هَاۗؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَهْ۔ لفظ ھاؤم، خذو کے معنے میں ہے جمع کے لئے بولا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں آئے گا وہ خوشی کے مارے آس پاس کے لوگوں سے کہنے لگا گا کہ لو یہ میرا جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں آئے گا وہ خوشی کے مارے آس پاس کے لوگوں سے کہنے لگے گا کہ لو یہ میرا اعمال نامہ پڑھو۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی وہ نہایت حسرت سے کہیں گے کہ جو مال اس اہتمام سے جمع کیا اور اس کو گن گن کر رکھا، بھلا کس کام آیا! ’مَا‘ یہاں نافیہ بھی ہو سکتا ہے لیکن اظہار حسرت کے پہلو سے اس کا استفہامیہ ہونا میرے نزدیک زیادہ موزوں ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 27–28

27۔ 1 یعنی موت ہی فیصلہ کن ہوتی اور دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا تاکہ یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–35

6: نیک لوگوں کو ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اور برے لوگوں کو بائیں ہاتھ میں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 28–29

ما اغنی عنی مالیہ (06 : 82) ” آج یہاں میرا مال میرے کچھ کام نہیں آیا “۔ بلکہ میرا سب کا سب اقتدار جاتا رہا ہے ، نہ مال مفید ہے اور نہ میرا اقتدار مفید رہا ہے۔ بات کی ٹون نہایت ہی حسرت اور یاس سے بھری ہوئی ہے۔ اور قرآن کریم نے اس کے لئے جو قافے چنے ہیں وہ اسے نہایت طویل کردیتے ہیں (جس طرح کوئی میت پر روتا ہے) یوں کہ آخر میں ہا۔ اور اس سے قبل یا۔ اور اس سے قبل الف۔ کتابیہ ، حسابیہ ، قاضیہ ، مالیہ اور سلطانیہ۔ الفاظ بھی ایک قسم کا مد ہے اور حسرت آمیز ہے۔ اور نہایت ہی فصیح وبلیغ انداز میں۔ یہ نہایت ہی حسرت ناک ٹون اس وقت ختم ہوتی ہے ، جب عدالت خداوندی سے ایک زور دار ڈگری کے ساتھ تعمیل کے احکام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 25–29

1 یعنی پیٹھ کی طرف سے بائیں ہاتھ میں جس کا اعمالنامہ دیا جائے گا، سمجھ لے گا کہ کم بختی آئی، اس وقت نہایت حسرت سے تمنا کرے گا کہ کاش میرے ہاتھ میں اعمالنامہ نہ دیا جاتا اور مجھے کچھ خبر نہ ہوتی کہ حساب کتاب کیا چیز ہے کاش موت میرا قصہ ہمیشہ کے لیے تمام کردیتی۔ مرنے کے بعد پھر اٹھنا نصیب نہ ہوتا۔ یا اٹھا تو اب موت آکر میرا لقمہ کرلیتی۔ افسوس وہ مال دولت اور جاہ و حکومت کچھ کام نہ آئی۔ آج ان میں سے کسی چیز کا پتہ نہیں۔ نہ میری کوئی حجت اور دلیل چلتی ہے نہ معذرت کی گنجائش ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 27–28

آیت 27{ یٰـلَیْتَہَا کَانَتِ الْقَاضِیَۃَ۔ } ”اے کاش کہ وہی موت قصہ پاک کردینے والی ہوتی !“ کاش کہ وہی موت جو مجھے دنیا میں آئی تھی فیصلہ کن ہوتی ‘ اس موت کے بعد میں معدوم ہوگیا ہوتا اور میرے دوبارہ زندہ ہونے کی نوبت نہ آتی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 26–28

17 بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملنے والے کی حسرت ویاس :۔ جس طرح مومن کو مرنے کے ساتھ ہی ایسے واضح اشارات ملنے لگتے ہیں کہ اس کا انجام کیسا ہونے والا ہے اسی طرح اللہ کے منکروں کو بھی موت کے ساتھ ہی اپنا انجام معلوم ہونے لگتا ہے۔ جب اسے اس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ نہایت حسرت و یاس سے کہے گا کہ کاش مجھے میرے عملوں کی سزا اعمال نامہ دیئے بغیر ہی دے دی جاتی۔ اور اس طرح سب لوگوں کے سامنے میری رسوائی نہ ہوتی۔ اور حقیقت یہ ہے کہ مجھے یہ یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ میرا نامہ اعمال اس قدر احتیاط کے ساتھ محفوظ کیا جارہا ہے کیا اچھا تھا کہ مرنے کے ساتھ ہی میرا سارا قصہ پاک ہوجاتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 28–29

11۔ یعنی دنیا کا مال وجاہ لینے میں پڑا ہوا میں مست وغافل اور آخرت کی طرف سے بھولا ہوا رہتا تھا۔ ان کی بےحقیقتی آج عیاں ہورہی ہے۔ دنیا میں غفلت پیدا کرنے والی چیزیں یہی دو ہوتی ہیں۔ ایک مال دوسرے جاہ، اس لئے صراحت سے ذکر انہیں دونوں کا کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 17–37

ویحمل عرش رب فوقھم یومئذ ثمنیۃ اس رکوع کی اکثر آیات کی تشریح، تسہیل و تحقیق کے زیر عنوان گزر چکی ہے، زیر نظر آیت متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین کرنا مشکل ہیں ہم نہ یہ جان سکتے ہیں کہ عرش کی حقیقت کیا ہے اور نہ یہ جان سکتے ہیں کہ قیامت کے روز عرش کو آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کی کیا کیفیت ہوگی ؟ لیکن یہ بات بہرحال قابل تصور نہیں، کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھے ہوئے ہونگے، اور ذات باری کا جو تصور قرآن پیش کرتا ہے وہ بھی اس خیال کے کرنے سے مانع ہے کہ وہ جسم، جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اسے اٹھائے، اس لئے کھوج کر ید کر کے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ما اغنی عنی . ما نفی کے لیے ہے یا استفہام انکاری کے لیے میرے لیے کارآمد نہیں ہوا ‘ کیا مجھے کچھ مفید ہوا۔ مالیہ . وہ جو میرا تھا یعنی مال ‘ اولاد ‘ خدام۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 27–28

(27۔ 28) اور موت کی تمنا کر کے کہے گا کہ کیا اچھا ہوتا پہلی موت ہی میرا خاتمہ کرچکی ہوئی میرا دنیا میں جمع کیا ہوا مال عذاب خداوندی کے سامنے کچھ کام نہ آیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 25–29

واما من اوتی کتبہ بشمالہ…: جن لوگوں کو بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا وہ نہایت پریشانی میں یہ باتیں کہیں گے جو ان آیات میں ذکر ہوئی ہیں۔ یہ بائیں ہاتھ میں اعمال نامے والے لوگ کافر ہوں گے، اس کی دلیل ایمان والوں کو دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، البتہ وہ ایمان والے جو کچھ عرصہ آگ میں رہیں گے ان کے بارے میں اختلاف ہے کہ انہیں اعمال نامہ آگ میں جانے سے پہلے ملے گا یا آگ سے نکلنے کے بعد، راجح یہی ہے کہ آگ سے نکلنے کے بعد ملے گا، کیونکہ اعمال نامہ ملنے کے بعد اگر انہیں آگ میں بھیجا جا رہا ہو تو ان کے منہ سے ”ھآوم اقرء و کتبۃ“ کے خوشی کے الفاظ نہیں نکل سکتے۔ (التسہیل) ”یلیتھا کانت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 24–28

کلووا شربوا انہیں یہ کہا جائے گا : کھائو اور پیو۔ ھنیا مبارک ہو اس میں کوئی تکرار اور بدمزگی نہ ہوگ ی۔ بما اسلفتم کے بعد کلوا فرمایا کیونکہ پہلے فرمایا، فاما من اوتی من اپنے ضمن میں جمع کا معنی لئے ہوئے ہے۔ ضحاک نے یہ ذکر کیا ہے کہ یہ آیت ابو سلمہ عبداللہ بن عبدالسلاد مخزوی کے حق میں نازل ہوئی، یہ مقاتل کا قول ہے۔ وہ آیت جو اس کے بعد آرہی ہے وہ اس کے بھائی اسود بن عبدالاسد کے حق میں نازل ہوئی، یہ حضرت ابن عباس اور ضحاک کا قول ہے۔ یہ ثعلبی نے کہا ہے : یہ اور اس کا بھائی ان آیات کے نزول کا سبب ہوگا معنی تمام اہل شقاوت اور اہل سعادت کو عام ہوگا جس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کلوا واشربوا دلالت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 27–28

1۔ عبد بن حمید قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یلیتہا کانت القاضیۃ کاش وہ موت خاتمہ کرنے والی ہوتی یعنی وہ موت کی تمنا کریں گے۔ حالانکہ ان کے نزدیک دنیا میں موت سے بڑھ کوئی چیز زیادہ ناپسندیدہ نہ تھی۔ ہلک عنی سلطنیہ۔ مجھ سے میری حکومت بھی جاتی رہی اللہ کی قسم ہر کوئی جو جہنم میں داخل ہو وہ بستی کا امیر تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا اور ان کو مسلط کیا ان کے بدنوں پر اور ان کو اپنی اطاعت کا حکم دیا اور ان کو منع کیا اپنی نافرمانی سے۔ 2۔ ہناد نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت یلیتہا کانت القاضیۃ یعنی اے کاش موت ہوتی اور اس کے بعد زندگی نہ ہوتی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 28–29

﴿ مَاۤ اَغْنٰى عَنِّيْ مَالِيَهْۚ0028﴾ (میرے مال نے مجھے فائدہ نہ دیا) ﴿ هَلَكَ عَنِّيْ سُلْطٰنِيَهْۚ0029﴾ (دنیا میں جو اقتدار اور اختیار اور عہدہ اور منصب تھا وہ سب ختم ہوگیا اس نے بھی کوئی فائدہ نہیں دیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–37

ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔ ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 25–29

10:۔ ” واما من اوتی کتبہ بشمالہ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ کافر اور مشرک کو جب اعمالنامہ بائیں میں دیا جائے گا تو وہ حسرت و یاس سے کہے گا کاش ! مجھے اعمالنامہ دیا ہی نہ جاتا اور نہ میں اپنا حساب کتاب ہی جانتا ! اے کاش ! موت ہی فیصلہ کن ہوتی اور اس کے بعد مجھے دوبارہ نہ اٹھایا جاتا اور میں اپنے اعمالنامے کو نہ دیکھتا۔ آج نہ مال میرے کسی کام آیا اور نہ سلطنت ہی باقی رہی۔ الغرض اس پر مکمل مایوسی اور ناامیدی چھائی ہوگی۔ یہ معاملہ جزاء وسزا کے فیصلہ سے پہلے کا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 25–37

گذشتہ سے پیوستہ : قیامت واقع ہونے پر انسانوں کے دو گروہ ہوجائیں گے۔ پہلی آیتوں میں صور پھونکنے کا ذکر ہوا۔ نظام کے درہم برہم ہوجانے اور زمین و آسمان کے تغیر و تبدل کا بیان ہوا۔ اس روز عرش الہٰی اور ملائکہ کی کیفیت کا حال بھی ذکر کیا گیا پچھلے درس میں اس گروہ کا ذکر ہوا جس کو اعمالنامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ۔ وہ بڑا خوش ہوگا۔ اپنا اعمالنامہ لوگوں کو دکھاتاپھرے گا۔ اس گروہ کو ملنے والے انعام و اکرام کا ذکر بھی پچھلے درس میں ہوچکا ہے۔ بائیں ہاتھ والے : اب ناکام ہونے والے گروہ کا بیان ہوتا ہے بہرحال وہ انسان جس کو اس کا اعمالنامہ بائیں ہاتھ میں دیا گیا۔ ہوہ کہے گا کاش کہ یہ اعمالنامہ مجھے نہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَآ اَغْنٰى عَنِّيْ مَالِيَہْ۝ 28 ۚ غنی( فایدة) أَغْنَانِي كذا، وأغْنَى عنه كذا : إذا کفاه . قال تعالی: ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] ، ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] ، لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً [ آل عمران/ 10] ، ( غ ن ی ) الغنیٰ اور اغنانی کذا اور اغنی کذا عنہ کذا کسی چیز کا کا فی ہونا اور فائدہ بخشنا ۔ قر آں میں ہے : ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] تو اس کا مال ہی اس کے کچھ کام آیا ۔۔۔۔ لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–37

ترکیب : نفتحہ واحدۃ بالرفع علی انھا مفعول مالم یسم فاعلہ من نفخ المجھول وانما حسن تذکیرا لفعل للفصل اوان التانیث غیرحقیقی و قریٔ بالنصب ان فی الصور مفعول مالم یسم فاعلہ ثم نصب نفتحہ علی انھا مفعول مطلق واحدۃ تاکید لھا۔ وحملت الارض الخ بالتخفیف و قریٔ 1 ؎ والقطوف قطف وھوالمقطوع ای الثمر ما اسلفتم ای قدتم من اعمالکم الصالحۃ الاسلاف تقدیم ما ترجوا ان یعود علیک بخیر فھو کالا قراض و منہ یقال اسلف فی کذا اذا قدم فیہ مالہ ذرعھا الخ صفۃ لسلسلۃ غسلین فعلین من الغسل ھو وماء یسیل من الجروح بعد الغسل من صدید قیح دوم 12 منہ 2 ؎ یالیتھا الضمیر یعودالی الموتۃ الاولی فانھا کالمذکورا والی الحالۃ التی شاھدھا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 28–29

مَـآ اَغْنٰی عَنِّیْ مَالِیَہْ ۔ ھَلَکَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَہْ ۔ (الحآقۃ : 28، 29) (میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا۔ میرا اقتدار مجھ سے چھن گیا۔ ) ہر مجرم نہایت حسرت سے کہے گا کہ جس مال کو میں نے نہایت اہتمام سے جمع کیا اور گن گن کر رکھا اور میرا گمان یہ تھا کہ مال کی قوت سے ہر کام کرایا جاسکتا اور ہر شخص کو خریدا جاسکتا ہے، لیکن آج وہ میرا مال بھی میرے کسی کام نہ آیا۔ اور پھر مجھے اپنے اقتدار پر کس قدر بھروسہ تھا، میں کسی کو خاطر میں لانے کے لیے تیار نہ تھا، میں اپنے لشکر کی قوت کو فیصلہ کن سمجھتا تھا اور اسی اقتدار کے بل بوتے پر اکڑتا پھرتا اور ظلم توڑتا تھا لیکن آج وہ سب کچھ مجھ سے چھن گیا۔ آج…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 25–37

فہم القرآن ربط کلام : جنتی کے مقابلے میں جہنمی کا حال اور ان کی بدنصیبی۔ رب ذوالجلال کے حکم سے نیک لوگوں کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں پہنچ چکے ہوں گے اور انہیں جنت میں داخلہ دیا جائے گا۔ ان کے مقابلے میں برے لوگوں کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے، جونہی برے شخص کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ چیخ اٹھے گا اور کہے گا ہائے افسوس ! کاش کہ مجھے میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا اور مجھے یہ علم ہی نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے، کاش ! دنیا کی موت ہی آخری موت ثابت ہوتی۔ آج نہ میرا مال میرے کام آیا اور نہ ہی میرے اقتدار اور اختیار نے مجھے فائدہ دیا یہاں اختصار سے کام…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

28 : مَآ اَغْنٰی عَنِّیْ مَالِیَہْ (میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا) جو مال میں نے دنیا میں جمع کیا اس نے مجھے کچھ فائدہ نہیں دیا۔ نحو : ماؔ نافیہ ہے اور شیئا مفعول محذوف ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

27 ۔” یالیتھا کانت القاضیۃ “ کہے گا کاش وہ موت آجائے جو دنیا میں ہوت تھی ہر بعد والی چیز کا فیصلہ کرنے والی اور زندگی کو ختم کرنے والی۔ پس میں اس کے بعد زندہ نہ رہوں اور ” قاضیۃ “ موت ہے اس کے بعد زندگی نہ ہو تمنا کرے گا کہ وہ حساب کے لئے نہ اٹھایا گیا ہوتا۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں موت کی تمنا کرے گا۔ اگرچہ اس کے ہاں دنیا میں موت سے زیادہ ناپسندید چیز کوئی نہ تھی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 25–37

25۔ 37۔ جن لوگوں کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے جب وہ لوگ اس میں اول سے آخر تک بدیاں لکھی ہوئی دیکھیں گے تو نہایت پریشانی سے وہ باتیں کہیں گے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے اسی وقت خدا تعالیٰ فرمائے گا ایسے لوگوں کو گرفتار کرکے ان کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں اور ان کو دوزخ میں جھونک دیا جائے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے نہ اللہ کی عبادت کی نہ اللہ کی مخلوقات کو کچھ فائدہ پہنچایا پھر ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر ستر گز کی زنجیر میں ان کی جماعت کی جماعت کو پرو دیا جائے گا اور دوزخ میں جھونک دیا جائے گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ 2 ؎ کا قول ہے کہ یہ ستر گزر فرشتوں کے ہاتھوں کی ناپ کے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کیطرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے اس نے اسمیں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا اب یہ مال خواہ اسے فدیے میں دے دے اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا پس وہ کہے گا (ما اغنی عنی مالیہ) یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھبھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

24 ان کا مال بھی ان کے کچھ کام نہیں آسکے گا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ کہے گا کہ میرے کچھ کام نہ آسکا میرا مال۔ یعنی میرا وہ مال جس کو میں دنیا میں سب کچھ سمجھتا اور اس کو سینت سینت کر رکھا کرتا تھا اور جس کو میں بہت کچھ بلکہ سب کچھ سمجھتا تھا۔ اور میں اسی کے کمانے اور جوڑنے و جمع کرنے میں لگا رہتا تھا یہاں تک کہ حیات دنیا کی وہ فرصت محدود میرے ہاتھ سے نکل گئی ‘ جو کہ اصل میں آخرت کی اسی حقیقی اور ابدی زندگی کی کمائی اور اس کی تیاری کیلئے عطا فرمائی گئی تھی ‘ اور مجھے دنیا سے خالی ہاتھ رخصت ہونا پڑا ‘ مگر بےوقت کے اس پچھتاوے سے اس کو کچھ حاصل نہ ہوگا ‘ بجز حسرت و یاس میں اضافے کے ‘ والعیاذ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–37

برُے اور اچھے لوگوں کا حال تشریح : یہ سب غیب کی خبریں ہیں۔ جن کی وضاحت کوئی حکیم ” سائنسدان ” مفکر ” منجم اور عالم دین اس سے زیادہ نہیں کرسکتا جو وضاحت قرآن پاک میں یہاں بڑی آسان اور واضح آیات کی صورت میں کردی گئی ہے۔ ان پر پوری طرح سے ایمان و یقین لانا اس لیے ضروری ہے کہ یہ اللہ کا پیغام نبی ﷺ کے ذریعہ دیا گیا ہے اور اس کی اہمیت اور سچ کو یوں بیان کیا گیا ہے ملاحظہ ہو۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–37

سورة الحاقہ۔ آیات 1 تا 37۔ اسرار ومعارف۔ دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔ کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(69:28) ما اغنی عنی مالیہ : ما نافیہ بھی ہوسکتا ہے اور استفہامیہ انکاریہ بھی کیا کام آیا مال۔ یعنی کام نہ آیا۔ اغنی ماضی واحد مذکر غائب ۔ اغناء (افعال) مصدر۔ وہ کام آیا۔ اس نے غنی بنادیا۔ اس نے دولت دی۔ مالیہ میں ۃ سکنہ کی ہے۔ دیکھو 69:19 متذکرہ بالا) ۔ مالی مضاف مضاف الیہ۔ میرا مال۔ میرا مال میرے کسی کام نہ آیا۔ مال میرے کسی کام آیا (یعنی نہیں آیا)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–52

لغات القرآن۔ الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں) رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔ دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 25–29

(ف 2) جن لوگوں کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے وہ لوگ اس میں اول سے آخرت کی بدیاں لکھی ہوئیں دیکھیں گے تو اس وقت نہایت حسرت سے تمنا کریں گے کہ کاش ہمار ہاتھ میں اعمال نامہ نہ دیاجاتا اورہ میں کچھ خبر نہ ہوتی کہ حساب کتاب کا کیا چیز ہے کاش موت ہمارا قصہ ہمیشہ کے لیے تمام کردیتی مرنے کے بعد پھر اٹھنانصیب نہ ہوتا ، یا اٹھا تھا تو اب موت آکر ہمارا لقمہ لیتی۔ افسوس وہ مال و دولت اور جاہ و حکومت کچھ کام نہ آئی، آج ان میں سے کسی چیز کا پتہ نہیں نہ ہماری حجت اور دلیل چلتی ہے نہ معذرت کی گنجائش ہے اس کے بعد ان دوزخیوں کا انجام بیان فرمایا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–41

ف 1: ہم دنیا میں اپنے مال و دولت پر مفرور تھے ۔ اور سمجھتے تھے ۔ کہ یہ ثروت ۔ یہ کنوز اور خزائن ۔ ہمیں عاقبت میں بھی عزت وافتخار تخشیں گے ۔ اور جس طرح دنیا میں ہم تمول کی وجہ سے ہر نوع کی آسودگی حاصل کرلیتے ہیں ۔ شاید آخرت میں بھی اس کی بدولت جنت اور اس کی آسائشوں کو خریدا جاسکے گا ۔ مگر آہ کہ یہ خیال درست ثابت نہیں ہوا ۔ ان لوگوں کے متعلق یہ فیصلہ ہوگا ۔ کہ ان کو پکڑلو ۔ اور طوق وسلاسل پہنادو ۔ اور پھر ایک طویل زنجیر میں جکڑ کر جہنم میں پھینک دو ۔ کیونکہ ان لوگوں کا اللہ پر ایمان نہ تھا ۔ ان کے دلوں میں بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی نہ تھی ۔ ان کے دل غریبوں کو دیکھ کر پسیجتے نہ تھے ۔ یہ اپنے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 20–28

ف 1۔ یعنی میں قیامت و حساب کا معتقد تھا، مطلب یہ کہ میں ایمان و تصدیق رکھتا تھا، خدا نے اس کی برکت سے آج مجھ کو نوازا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

افسوس کہ میرا مال بھی میرے کچھ کام نہ آیا 28 ؎ اب افسوس کرتا ہے اور کتنی سچی بات کہتا ہے کہ کاش آج تو وہ اربوں کھربوں روپیہ جو دیار غیر کے بنکوں میں رکھا تھا وہ بھی میرے کچھ کام نہ آیا اور مجھ سے میرے مال نے کچھ بھی کفایت نہ کی۔ وہ کفایت کیا کرتا اسی کے باعث تو آج تجھے یہ وقت دیکھنا پڑا کہ تو نے مال جمع کرنے میں حق ناحق ، جائز و ناجائز اور حلال و حرام کی پروا نہ کی۔ ایک ہی دھن میں مبتلا رہا کہ مال جمع ہوجائے اور اس حالت کا ذکر دوسری جگہ اس طرح کیا گیا کہ (جمع مالا وعددہ) (104 : 2) ” اس نے مال کو جمع کیا اور گن گن کر رکھا “ اور اب برملا کہہ رہا ہے کہ افسوس ! میرے مال نے مجھ سے ذرا بید کفایت نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–28

هَاؤُمُ اقْرَ‌ءُوا كِتَابِيَهْ (Come here, read my book… 69:19). The word ha'umu, literally means, "come" but, idiomatically, it is used in the sense of the plural imperative verb khudhu "take'. In other words, one who is given his record book in his right hand, he will be elated and, looking at the people around him, will say 'Here, take my account book and read it!'

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 27–28

18 That is, "I should have become extinct after death in the world and should have experienced no other life after death."

Read the full tafseer →